تحریر

الأعراف

آیات ۱۸۰ تا ۱۸۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

180

اللہ کو پکارو اس کے اسماءالحسنی کے ساتھ

ویڈیو

وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪ وَ ذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾

آیت 180

وَ لِلّٰہِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی فَادۡعُوۡہُ بِہَا ۪

’’اور تمام اچھے نام اللہ ہی کے ہیں ‘ تو پکارو اُسے اُن (اچھے ناموں) سے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی صفات کے اعتبار سے اُس کے بے شمار نا م ہیں۔ ان میں سے کچھ اسمائے حسنیٰ قرآن میں آئے ہیں اور کچھ احادیث میں۔ ایک حدیث جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ‘ اس میں حضوراکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام گنوائے ہیں۔ ان ناموں میں ’’اللہ‘‘ سب سے بڑا اور اہم ترین نام ہے۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب نام اچھے ہیں ‘ان ناموں کے حوالے سے اُس کو پکارا کرو‘ ان ناموں کے ذریعے سے دعاکیا کرو۔جیسے یاسَتَّارُ‘ یَا غَفَّارُ‘ یَا کَرِیْمُ‘ یَا عَلِیْمُ۔ ضمنی طور یہ یہاں پر نکتہ بھی نوٹ کر لیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ’’صفت‘‘ کہیں استعمال نہیں ہوا‘ البتہ حدیث میں یہ لفظ آیا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے ’’اَسْمَائ‘‘ (نام) کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔

وَ ذَرُوا الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اَسۡمَآئِہٖ ؕ

’’اور چھوڑ دو اُن لوگوں کوجو اُس کے ناموں میں کجی نکالتے ہیں۔‘‘

’لحد‘ کے معنی ٹیڑھ کے ہیں ۔’ لحد‘بمعنی قبر بھی اسی سے مشتق ہے۔ قبر کے لیے ایک سیدھا گڑھا کھود کر اس کے اندر ایک بغلی گڑھا کھودا جاتا ہے۔ دوسرے گڑھے کو سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے ’’لحد‘‘ کہتے ہیں۔ اسمائے الٰہی کے سلسلے میں ’’الحاد‘‘ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اسمائے حسنیٰ کا غلط استعمال کیا جائے۔ مثلاًاللہ تعالیٰ کے ہر نام کی ایک خاص تاثیر ہے‘ اس لحاظ سے مراقبوں وغیرہ کے ذریعے سے اسمائے حسنیٰ کی تاثیر سے کسی کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے بعض نام جوڑوں کی شکل میں ہیں ‘کسی صفت کے اگر دو رُخ ہیں تو اس صفت سے نام بھی دو ہوں گے‘ جیسے اَلْمُعِزُّ اور اَلْمُذِلُّ‘ اَلرَّافِـعُ اور اَلْخَافِضُ‘ اَلْـحَیُّ اور اَلْمُمِیْتُ وغیرہ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے جواسماء جوڑوں کی شکل میں ہیں ان میں سے اگر ایک ہی نام بار بار پکارا جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے تو یہ بھی الحاد ہو گا۔ مثلاً اَلْمُعِزُّ اور اَلْمُذِلُّ دو نام ایک جوڑے میں ہیں‘یعنی وہی عزت دینے والا اوروہی ذلت دینے والا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یَا مُذِلُّ‘ یَا مُذِلُّ ‘ یَا مُذِلُّ کا ورد شروع کر دے تو یہ اس نام کے حوالے سے الحاد ہوگا۔ کیونکہ ’’اے ذلیل کرنے والے! اے ذلیل کرنے والے!‘‘ مناسب ورد نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے تمام نام جب پکارے جائیں تو ہمیشہ جوڑوں ہی کی صورت میں پکارے جائیں۔

سَیُجۡزَوۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾

’’عنقریب وہ بدلہ پائیں گے اپنے اعمال کا۔‘‘

181-186

درس عبرت

ویڈیو

وَ مِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿٪۱۸۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۚۖ۱۸۲﴾ وَ اُمۡلِیۡ لَہُمۡ ؕ۟ اِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿۱۸۳﴾ اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾ اَوَ لَمۡ یَنۡظُرُوۡا فِیۡ مَلَکُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ وَّ اَنۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُہُمۡ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ ؕ وَ یَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾

آیت 181

وَ مِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿٪۱۸۱﴾

’’اور جو انسان ہم نے پیدا کیے ہیں ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جو حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔‘‘

یقینا ہر دور میں کچھ لوگ حق کے علمبردار رہے ہیں اور دنیا میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ جیسے کہ حضورﷺ نے ضمانت دی ہے:

حدیث((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ ظَاھِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ )) ۱۱

’’میری اُمت میں ایک گروہ ضرور حق پر قائم رہے گا۔‘‘

(۱۱) صحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب قولہ لا تزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق…

آیت 182

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۚۖ۱۸۲﴾

’’ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے‘ تو ہم رفتہ رفتہ انہیں ایسے پکڑ یں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا۔‘‘

بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص کفر کے راستے پر بڑھتا جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی دنیاوی کامیابیاں بھی بڑھتی جا تی ہیں‘ جس کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے ‘ ٹھیک کر رہا ہے اور یہ کہ اس کی دُنیوی کامیابیاں اس کی اسی روش کانتیجہ ہیں۔ لہٰذا وہ کفر اور معصیت کے راستے میں مزید آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کیفیت کو ’’استدراج‘‘ کہا جاتا ہے جو کسی انسان کے لیے بہت بڑا فتنہ ہے۔ یعنی کوئی انسان اگر پوری دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض اور اس کے احکام سے سرکشی کرتاہے تو اللہ اس کو ڈھیل دیتا ہے اور اس کی رسی دراز کر دیتا ہے‘ جس کی وجہ سے وہ گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

آیت 183

وَ اُمۡلِیۡ لَہُمۡ ؕ۟ اِنَّ کَیۡدِیۡ مَتِیۡنٌ ﴿۱۸۳﴾

’’اور میں ان کو ڈھیل دوں گا‘ یقینامیری چال بہت مضبوط ہے۔‘‘

ایسے مجر موں کو ڈھیل دینے کی مثال کانٹے کے ذریعے مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ جب کانٹا مچھلی کے حلق میں پھنس جاتا ہے تو اس کے بعد وہ کہیں نہیں جا سکتی۔ چنانچہ ایسی صورت میں شکاری ڈور ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے اور پھر جب مناسب سمجھتا ہے ڈور کھینچ کر مچھلی کو قابو کر لیتا ہے۔

تمہید

آیت 184

اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ

’’کیاانہوں نے غور نہیں کیا کہ ا ن کے ساتھی (محمدﷺ) کو کوئی جنون نہیں ہے۔‘‘

یعنی رسول اللہ ﷺ پرکسی طرح کے جنون کے اثرات یاکسی جن کا سایہ وغیرہ کچھ نہیں ہے۔ یہ ایک متجسسانہ سوال (searching question) کا انداز ہے کہ عقل کے اندھو! ذرا غور توکرو ‘ہمارے یہ رسولﷺ تمہاری نگاہوں کے سامنے پلے بڑھے ہیں۔ آپﷺ کی سیرت‘ شخصیت‘ طہارت ‘نظافت اور آپؐ کا کردار‘ کیا یہ سب کچھ آپ لوگوں کے سامنے نہیں ہے ؟ کیا اس کے باوجود بھی تم لوگ یہ دعویٰ کرتے ہو کہ آپؐ پر جنون کے اثرات ہیں؟ کیا مجنوں لوگوں کا کردار ایسا ہوتا ہے؟ کیا تم نے کبھی اپنے اس دعوے کے بودے پن پر غور نہیں کیا؟

اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾

’’وہ نہیں ہیں مگر واضح طور پر خبردار کر دینے والے۔‘‘

آیت 185

اَوَ لَمۡ یَنۡظُرُوۡا فِیۡ مَلَکُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ

’’اور کیا ان لوگوں نے غور و فکر نہیں کیا آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور اللہ نے جوچیزیں بنائی ہیں (ان میں)‘‘

وَّ اَنۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُہُمۡ ۚ

’’اور یہ (نہیں سوچا) کہ ہو سکتا ہے ان کا مقررہ وقت قریب پہنچ گیا ہو!‘‘

اس سے پہلے اسی سورت میں ہم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ آئے ہیں : {وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ} (آیت ۳۴) ’’اورہر قوم کے لیے ایک وقت معین ہے‘‘۔ اس وقتِ معین کا علم صرف اللہ کو ہے۔ تو عین ممکن ہے ان کے لیے جو وقتِ معین کیا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہو اور انہیں اس کی خبر ہی نہ ہو۔

فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾

’’اور اب اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟‘‘

آیت 186

مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ ؕ

’’جس کو اللہ گمراہ کر دے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔‘‘

جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہو جائے‘ پھرا س کے بعد اسے کوئی راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔

وَ یَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾

’’اور وہ چھوڑ دے گا ان کو اُن کی سر کشی میں ‘ اندھے ہو کر آگے بڑھتے ہوئے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے