’’اور وہی ہے(اللہ) جس نے پیدا کیے باغات وہ بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو نہیں چڑھائے جاتے‘‘
’ ’معروشات ‘‘کے زمرے میں بیل نما پودے آتے ہیں ‘ جن کا ایسا تنا نہیں ہوتاجس پر وہ خود کھڑے ہوسکیں۔اس لیے ایسے پودوں کوسہارا دے کر کھڑا کرنا پڑتا ہے‘ جیسے انگور وغیرہ کی بیل ۔ دوسری طرف ’’غیرمعروشات ‘‘میں عام درخت شامل ہیں جو خود اپنے مضبوط تنے پر کھڑے ہوتے ہیں‘ جیسے انار یا آم کا درخت ہے۔
’’اور کھجور اور کھیتی ‘ جس کے ذائقے مختلف ہیں‘ اور زیتون اور انار‘ ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی اور مختلف بھی۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کی مثالیں ہیں کہ اُس نے مختلف النوع درخت‘ کھیتیاں اور پھل پیدا کیے‘ جو آپس میں ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی۔ جیسے Citrus Family کے پھلوں میں کینو ‘ فروٹر ‘مالٹا وغیرہ شامل ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سب پھل ایک ہی قسم یا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور شکل ‘ ذائقہ وغیرہ میں ایک دوسرے کے مشابہ ہونے کے باوجود سب کی اپنی اپنی الگ پہچان ہے۔
’’کھایا کرو ان کے پھلوں میں سے جبکہ وہ پھل دیں اور اللہ کا حق ادا کرو ان کے کاٹنے (اور توڑنے) کے دن‘‘
یعنی جیسے زمین کی پیداوار میں سے عشرکا ادا کرنا فرض ہے‘ ایسے ہی ان پھلوں پربھی زکوٰۃ دینے کا حکم ہے۔ لہٰذا کھیتی اور پھلوں کی پیدوار میں سے اللہ تعالیٰ کا حق نکال دیا کرو۔
’’اور بے جا خرچ نہ کرو ‘ یقینا اللہ کو بے جا خرچ کرنے والے پسند نہیں ہیں۔‘‘
آیت 142
وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَۃً وَّ فَرۡشًا ؕ
’’اور چوپایوں میں سے (اُس نے پیدا کیے ہیں) کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے۔‘‘
حَمُوْلَۃ وہ جانور ہیں جو قد کاٹھ اور ڈیل ڈول میں بڑے بڑے ہیں اور جن سے باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے‘ مثلاًگھوڑا‘ خچر ‘ اونٹ وغیرہ۔ ان کے برعکس کچھ ایسے جانور ہیں جو اس طرح کی خدمت کے اہل نہیں ہیں۔ایسے جانوروں کو چھوٹی جسامت کی وجہ سے استعارۃً فرش (زمین ) سے منسوب کیا گیا ہے‘ گویا وہ زمین سے لگے ہوئے ہیں‘ مثلاً بھیڑ‘ بکری وغیرہ۔ یہ ہر طرح کے جانور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں۔
’’ (اے نبی ﷺ) ان سے پوچھئے کہ اللہ نے ان دونوں مذکروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مؤنثوں کو؟ یا جو کچھ ان دونوں مؤنثوں کے رحموں میں ہے( اسے حرام کیا ہے)؟‘‘
یہ اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے حاملہ ماداؤں کے بارے میں کہی تھی کہ ان کے پیٹوں میں جو بچے ہیں ان کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں‘ جب کہ عورتوں پر یہ حرام ہے۔ ہاں اگر مرا ہوا بچہ پیدا ہو تو اس کا گوشت مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔ ان کے اس عقیدے کا ذکر قبل ازیں آیت ۱۳۹ میں آ چکا ہے۔
غور طلب نکتہ ہے کہ کسی حلال جانور (مادہ) کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس میں حرمت آخر کہاں سے آئی ؟ اللہ نے ان میں سے کس کو حرام کیا ہے؟ نر کو ‘ مادہ کو‘ یا بچے کو؟ پھر یہ کہ اگر کوئی شے حرام ہے تو سب کے لیے ہے اور اگر حرام نہیں ہے تو کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔ یہ تم نے جو نئے نئے قوانین بنا لیے ہیں وہ کہاں سے لے آئے ہو؟
’’اور (اسی طرح) اونٹ میں سے دو (نر اور مادہ)‘ اور گائے میں سے دو (نراور مادہ)۔ ان سے پوچھئے کیا اُس نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماداؤں کو؟ یا جو کچھ ان ماداؤں کے رحموں میں ہے (اسے حرام کیا ہے )؟‘‘
’’کہہ دیجیے میں تو نہیں پاتا اس (قرآن) میں جو میری طرف وحی کیا گیا ہے‘ کوئی چیز حرام کسی کھانے والے پر کہ وہ اسے کھاتا ہو‘‘
یہاں پھر سے وضاحت کی جا رہی ہے کہ شریعت میں کن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔
اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً
’’سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو‘‘
اس مردار کی قسمیں (الْمُنْخَنِقَۃ ، الْمَوْقُوْذَۃ، الْمُتَرَدِّیَۃ) اور تفصیل سورۃ المائدۃ کی آیت ۳ میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ یعنی جانور کسی بھی طرح سے مر گیا ہو وہ مردار کے زمرے میں شمار ہو گا۔ لیکن اگر مرنے سے پہلے اسے ذبح کر لیا جائے اور ذبح کرنے سے اس کے جسم سے خون نکل جائے تو اس کا کھانا جائز ہو گا۔
اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا
’’یا خون ہو بہتا ہوا‘‘
واضح رہے کہ اس حرمت کا اطلاق اس خون پر نہیں ہوتا جو مذبوح جانورکے جسم کے سکیڑ اور کھچاؤ (rigormortis) کی انتہائی کیفیت کے باوجود بھی کسی نہ کسی مقدار میں گوشت کے اندر رہ جاتا ہے ۔ ایسا ہی معاملہ تلی کے خون کا بھی ہے ۔لیکن جو خون بہایا جا سکتا ہو اور جوذبح کرنے کے بعد جانور کے جسم سے نکل کر بہہ گیا ہو وہ خون حرام ہے۔
’’یا خنزیر کا گوشت کہ وہ تو ہے ہی ناپاک‘ یا کوئی ناجائز (گناہ کی) شے ‘ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کانام پکارا گیا ہو۔‘‘
یعنی سور کے گوشت کی وجہحرمت تو یہ ہے کہ وہ اصلاً ناپاک ہے۔ اس کے علاوہ کچھ چیزوں کی حرمت حکمی ہے ‘ جو فسق (اللہ کی نافرمانی) کے سبب لازم آتی ہے۔ چنانچہ { اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۚ} اسی وجہ سے حرام قرار پایا‘ یعنی وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس حکم میں وہ قربانی بھی شامل ہے جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے تقرب کی نیت سے دی گئی ہو۔ مثلاً ایسا جانور جو کسی قبر یا کسی خاص استھان پر جا کر ذبح کیا جائے‘ اگرچہ اسے ذبح کرتے وقت اللہ ہی کا نام لیا جاتا ہے مگر دل کے اندر کسی غیر اللہ کے تقرب کی خواہش کا چور موجود ہوتا ہے۔
’’لیکن (ان صورتوں میں بھی اگر) کوئی مجبور ہو جائے ‘نہ تو اس کے اندر ان کی طلب ہو اور نہ حد سے بڑھے ‘ تو یقینا آپ کا رب بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
کسی غیر معمولی صورتِ حال میں ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھا کر اگر جان بچائی جا سکے تو مشروط طور پر اس کی اجازت دی گئی ہے۔
’’اور ہم نے ان پر جو یہودی ہوئے تھے حرام کر دیے تھے ایک ناخن (کھر) والے تمام جانور۔‘‘
کچھ جانوروں کے پاؤں پھٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘جیسے گائے‘ بکری وغیرہ‘ جب کہ کچھ جانوروں کا ایک ہی پاؤں (کھر) ہوتاہے۔ ایسے ایک کھر والے جانور مثلاً گھوڑا‘ گدھاوغیرہ یہودیوں پر حرام کر دیے گئے تھے ۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں‘ یہودیوں پر جوچیزیں حرام کی گئیں تھیں‘ ان میں سے بعض تو اصلاً حرام تھیں مگر کچھ چیزیں ان کی شرارتوں اور نا فرمانیوں کی وجہ سے بطور سزا ان کے لیے حرام کر دی گئی تھیں۔
’’ اور گائے اور بکری (وغیرہ )میں سے ہم نے حرام کر دی تھی اُن پر ان کی چربی سوائے اس کے کہ جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں یا ہڈیوں کے ساتھ لگی ہوئی ہو۔ ‘‘
ؕ ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِبَغۡیِہِمۡ ۫ۖ
’’یہ ہم نے انہیں سزا دی تھی ان کی سرکشی کی وجہ سے‘‘
یعنی مذکورہ جانوروں کی عام کھلی چربی ان کے لیے حرام کر دی گئی تھی۔ لیکن یہ حکم آسمانی شریعت کا مستقل حصہ نہیں تھا‘ بلکہ ان کی شرارتوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے یہ تنگی اُن پر بطور سزا کی گئی تھی۔
’’تو اگر یہ لوگ آپ ؐکو جھٹلا دیں تو کہہ دیجیے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے۔‘‘
یعنی یہ اللہ کی رحمت کا مظہر ہے کہ اس جرم کی پاداش میں وہ تمہیں فوراً نہیں پکڑ رہا اور نہ ہی فوراً معجزہ دکھا کر تمہاری مہلتِ عمل ختم کرنے جا رہا ہے‘ بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ابھی تمہیں مزید مہلت دی جائے ۔
’’اور اُس کا عذاب ٹالا نہیں جا سکے گا مجرموں کی قوم‘سے۔‘‘
جب اُس کی طرف سے گرفت ہو گی تو {اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾} (البروج ) کے مصداق یقینا بہت سخت ہو گی اور پھر کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس گرفت کی سختی کو ٹال سکے۔
’’عنقریب کہیں گے یہ مشرک لوگ کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اورنہ ہمار ے آباء و اَجداد اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔‘‘
مشرکینِ مکہ اس طرح کے دلائل اکثر دیا کرتے تھے کہ آخر اللہ تو عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر ہے‘ اُس کا ہمارے ارادے اور عمل پر کلی اختیار ہے۔ تو اگر ہماے عقائد غلط ہیں تو اللہ نے کیوں نہ ہمیں ایسے عقائد اختیار کرنے سے روک دیا۔ اس طرح کی کٹ حجتیاں کرنا انسان کی فطرت ہے۔
’’(اے نبیﷺ! آپ ان سے )کہیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے جسے تم ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان کی پیروی کر رہے ہو اور صرف اندازوں اور اٹکل کی باتیں کرتے ہو۔‘‘
آیت 149
قُلۡ فَلِلّٰہِ الۡحُجَّۃُ الۡبَالِغَۃُ ۚ
’’کہہ دیجیے کہ بس اللہ کے حق میں ثابت ہو چکی ہے پوری پوری پہنچ جانے والی حجت۔‘‘
تمہاری اس کٹ حجتی کے مقابلے میں حقیقت تک پہنچی ہوئی حجت صرف اللہ کی ہے۔ اُس نے ہر طرح سے تم پر اِتمامِ حجت کر دیا ہے‘ تمہاری ہر نامعقول بات کومعقول طریقے سے رد کر دیا ہے ‘ مختلف انداز سے تمہیں ہر بات سمجھا دی ہے۔ امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کانام اسی آیت سے اخذ کیا ہے۔
فَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
’’پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لے آتا۔‘‘
اگر اللہ کے پیشِ نظر سب کو نیک بنانا ہی مقصود ہوتا توآنِ واحد میں تم سب کو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا نیک بنادیتا‘ لیکن اس نے دُنیا کا یہ معاملہ عمل اور اختیار کے تحت رکھا ہے: {الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ} (الملک:۲) ’’اُس نے موت و حیات کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تمہیں آزمائے اور جانچے کہ تم میں سے کون ہے جو نیک عمل اختیار کرتا ہے۔‘‘
’’کہیے ذرا لائو تو سہی اپنے وہ گواہ جو یہ گواہی دے سکیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔‘‘
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب یا علمی سند موجود ہے جسے تم اپنے موقف کے حق میں بطورِ گواہی پیش کر سکو؟ اگر اس طرح کی کوئی ٹھوس شہادت ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔
فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَلَا تَشۡہَدۡ مَعَہُمۡ ۚ
’’پس اگر یہ لوگ (کٹ حجتی میں) گواہی دے بھی دیں تو آپؐ ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے ۔‘‘
’’اور مت پیروی کیجیے ان لوگوں کی خواہشات کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ‘اور وہی ہیں جو دوسروں کو اپنے رب کے برابر ٹھہرا تے ہیں۔‘‘
اس سورۂ مبارکہ کی پہلی آیت {ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾} کے الفاظ پر ختم ہوئی تھی اور اب یہ آیت بھی {وَ ہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿٪۱۵۰﴾} کے الفاظ پر ختم ہوئی ہے۔ ان الفاظ کے تکرار میں گویا منکرینِ آخرت کی دیدہ دلیری کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ اتنا کچھ سننے کے باوجود بھی بدستور شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں اللہ کے برابر کر دیتے ہیں۔ انہیں اللہ کے حضور حاضری کا کچھ بھی خوف محسوس نہیں ہو رہا۔
تم لوگ جب چاہتے ہو کسی بکری کو حرام قرار دے دیتے ہو‘ کبھی کسی اونٹ کو محترم ٹھہرا لیتے ہو‘ اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنی ان خرافات کو اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہو۔ آئو میں تمہیں واضح طور پر بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے اصل میں کن چیزوں کو محترم ٹھہرایا ہے‘ اور اس بارے میں اس نے کیا حدود وقیود مقرر کی ہیں۔ یہ مضمون سورئہ بنی اسرائیل میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ وہاں ان احکام کی تفصیل میں پورے دو رکوع(تیسرا اور چوتھا) نازل ہوئے ہیں۔ ایک طرح سے انہی احکام کا خلاصہ یہاں اِن آیات میں بیان ہوا ہے۔ شریعت کے بنیادی احکام دراصل ضرورت اور حکمتِ الٰہی کے مطابق قرآن حکیم میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سورۃ البقرۃ (دسویں رکوع) میں جہاں بنی اسرائیل سے میثاق لینے کا ذکر آیا ہے وہاں دین کے چند اساسی نکات بھی بیان ہوئے ہیں۔ پھر شرعی احکام کی کچھ تفصیل ہمیں سورۃ النساء میں ملتی ہے۔ اس کے بعد کچھ احکام یہاں اس سورۃ میں اور سورۂ بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں آئے ہیں۔
’’یہ کہ کسی شے کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔‘‘
یعنی سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ شرک کو حرام ٹھہرایا ہے اور دوسرے نمبر پر والدین کے حقوق میں کوتاہی حرام قرار دی ہے۔ قرآن حکیم میں یہ تیسرا مقام ہے جہاں حقوق اللہ کے فوراً بعد حقوقِ والدین کا تذکرہ آیا ہے۔ اس سے پہلے سورۃ البقرۃ‘ آیت ۸۳ اور سورۃ النساء ‘آیت ۳۶ میں والدین کے حقوق کا ذکر اللہ تعالیٰ کے حقوق کے فوراً بعد کیا گیا ہے۔
’’ اور مت قتل کرو اُس جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ۔‘‘
بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے ہر انسانی جان کو محترم ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا کسی اصول‘ حق اور قانون کے تحت ہی انسانی جان کا قتل ہو سکتا ہے۔ قتلِ عمد کے بدلے میں قتل ‘ قتلِ مرتد ‘ مسلمان زانی یا زانیہ (اگر شادی شدہ ہوں )کا قتل ‘ حربی کافر وغیرہ کا قتل۔ یہ انسانی قتل کی چند جائز اور قانونی صورتیں ہیں۔
’’ اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو ‘ مگر بہترین طریقے سے (اس کے مال کی حفاظت کرو ) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘
یتیم کے مال کو ہڑپ کرنایا اپنا ردّی مال اس کے مال میں ملاکراس کے اچھے مال پر قبضہ کرنے کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ مکی دور کے احکام ہیں‘لیکن یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر مدنی سورتوں میں بھی اس بارے میں احکام آئے ہیں‘ مثلاً سورۃ البقرۃ‘آیت۲۲۰ اور سورۃ النساء‘آیت ۲ میں بھی یتیموںکے اموال کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ‘جو اس سے قبل ہم پڑھ چکے ہیں۔
’’اور پورا کرو ناپ اور تول کو عدل کے ساتھ ۔ ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی بھی جان کو مگر اُس کی وسعت کے مطابق۔‘‘
یعنی بغیر کسی ارادے کے اگر کوئی کمی بیشی ہو جائے تو اس پر گرفت نہیں ۔ جیسے دعا کے لیے ہمیں یہ کلمات سکھائے گئے ہیں: {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ } (البقرۃ :۲۸۶) ’’اے ہمارے ربّ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہو جائے تو ہم سے مؤاخذہ نہ کرنا‘‘۔لیکن اگر جان بوجھ کر ذرا سی بھی ڈنڈی ماری تو وہ قابل گرفت ہے۔ اس لیے کہ عمداً معصیت کا ارتکاب کرنا در حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو تمہیں آخرت کا یقین نہیں ہے یا پھریہ یقین نہیں ہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ گویا عمداً ذرا سی منفی جنبش میں بھی ایمان کی نفی کااحتمال ہے ۔
’’اورجب بھی بات کرو تو عدل (کی با ت )کرو‘ خواہ قرابت دار ہی(کا معاملہ) ہو‘ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔‘‘
تمہاری بات چیت کھری اور انصاف پر مبنی ہو۔ اس میں جانبداری نہیں ہونی چاہیے‘ چاہے قرابت داری ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اللہ کے نا م پر‘ اللہ کے حوالے سے یا اللہ کی قسم کھا کر جو بھی عہد کیا جائے اس کو بھی پورا کرو۔ جیسے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ایک بہت اہم عہد ہے جو ہم اللہ سے تکرار کے ساتھ کرتے ہیں۔ ہر انسان نے دنیا میں آنے سے پہلے بھی اللہ سے ایک عہد کیا تھا ‘ جس کا ذکر سورۃ الاعراف (آیت ۱۷۲) میں ملتا ہے۔ اسی طرح روزمرہ کی زندگی میں بھی بہت سے عہد ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔
’’اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے‘ پس تم اس کی پیروی کرو۔‘‘
دین کے اصل اصول تو وہ ہیں جو ہم نے بتائے ہیں۔ تمہارے خود ساختہ طور طریقے تو گویا ایسی پگڈنڈیاں ہیں جن کا صراطِ مستقیم سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔ صراطِ مستقیم تو صرف وہ ہے جس پر ہمارا رسول ﷺ ہمارے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چل رہا ہے۔
’’پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اپنی نعمت پوری کرنے کے لیے احسان کی روش اختیار کرنے والے پر اور (اس میں تھی) ہرشے کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت‘‘
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک سورۂ بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں جو احکام ہیں وہ تورات کے ’’احکامِ عشرہ‘‘) (Ten Commandments کاہی خلاصہ ہے۔
’’مبادا تم یہ کہو کہ کتاب تو بس اُتاری گئی تھی ہم سے پہلے کے دو گروہوں پر‘‘
یہ بالکل سورۃ المائدۃ کی آیت ۱۹ والا انداز ہے۔ وہاں اہل کتاب کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے: { اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا جَآءَنَا مِنۡۢ بَشِیۡرٍ وَّ لَا نَذِیۡرٍ ۫} ’’مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر اور نذیر آیا ہی نہیں تھا ‘‘۔ اور اس احتمال کو رد کرنے کے لیے فرمایا گیا: {فَقَدۡ جَآءَکُمۡ بَشِیۡرٌ وَّ نَذِیۡرٌ ؕ} ’’پس آ گیا ہے تمہارے پاس بشیر اور نذیر‘‘۔کہ ہم نے اپنے آخری رسول ﷺ کو بھیج دیا ہے آخری کتابِ ہدایت دے کر تاکہ تمہارے اوپر حجت تمام ہو جائے۔ اب وہی بات یہاں مشرکین کو اس انداز میں کہی جا رہی ہے کہ ہم نے یہ کتاب اتار دی ہے جو سراپا خیر و برکت ہے‘ تاکہ تم روزِ قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ اللہ کی طرف سے کتابیں تو یہودیوں اور عیسائیوں پر نازل ہوئی تھیں‘ ہمیں تو کوئی کتاب دی ہی نہیں گئی تھی‘ ہم سے مواخذہ کاہے کا؟
اور وہاں یہ نہ کہہ سکو کہ تورات تو عبرانی زبان میں تھی ‘جب کہ ہماری زبان عربی تھی ۔ آخر ہم اس کتاب کو کیسے سمجھتے؟ لہٰذا نہ تو ہم پر کوئی حجت ہے اور نہ ہی ہمارے محاسبے کا کوئی جواز ہے۔
’’ یا تم یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے۔‘‘
یعنی تم روزِ قیامت یہ دعویٰ لے کر نہ بیٹھ جاؤ کہ ان بے وقوفوں نے تو اللہ کی کتابوں (تورات اور انجیل)کی قدر ہی نہیں کی۔ہمیں اللہ نے کتاب دی ہوتی تو پھر ہم بتاتے کہ کتابُ اللہ کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔
’’تو (اے بنی اسماعیل) تمہارے پاس آگئی ہے بیّنہ تمہارے رب کی طرف سے ‘ اور ہدایت اور رحمت۔‘‘
یعنی تمہارے پاس اللہ کا رسول اُس کی کتاب لے کر آ چکا ہے جس میں واضح اور مستحکم احکام موجود ہیں۔اس بـَــیِّنَۃ کی وضاحت سور ۃ البیّنہ کی آیت ۲ اور ۳ میں اس طرح کی گئی ہے: {رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ﴿۳﴾} ’’اللہ کی طرف سے ایک رسول جو مقدس صحیفے پڑھ کر سناتا ہے‘ جن میں بالکل درست احکام ہیں۔‘‘
’’یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اس کے کہ ان کے پاس فرشتے آ جائیں‘ یا آپؐ کا رب خود آجائے یا پھرآپ ؐ کے رب کی کوئی نشانی آ جائے!‘‘
دراصل یہ ان واقعات یا علامات کا ذکر ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہونا ہے۔ جیسے سورۃ الفجر میں فرمایا: {وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾} ’’قصۂ زمین برسر زمین ‘‘کے مصداق روزِ محشر فیصلہ یہیں اسی زمین پر ہو گا۔ یہیں پر اللہ کا نزول ہوگا‘ یہیں پر فرشتے پر ے باندھے کھڑے ہوں گے اوریہیں پر سارا حساب کتاب ہو گا ۔ چنانچہ اس حوالے سے فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ سب علامات ظہور پذیر ہو جائیں؟ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ :
’’جو پہلے سے ایمان نہیں لا چکا تھا یا اُس نے اپنے ایمان میں کچھ خیر نہیں کما لیا تھا۔‘‘
انسان کے امتحان کا جواز دراصل اسی وقت تک ہے جب تک غیب کا پردہ پڑا ہوا ہے ۔ جب غیب کا پردہ ہٹ جائے گا تو یہ امتحان بھی ختم ہو جائے گا ۔ اس وقت پھر جو صورتِ حال سامنے آئے گی اس میں تو بڑے سے بڑا کافر بھی عابد و زاہد بننے کی کوشش کرے گا۔ لیکن جو شخص یہ نشانیاں ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا اور ایمان کی حالت میں اعمالِ صالحہ کا کچھ توشہ اس نے اپنے لیے جمع نہیں کر لیا تھا ‘ اس کے لیے بعد میں ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہو گا۔
قُلِ انۡتَظِرُوۡۤا اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾
’’(تو اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے تم بھی انتظارکرو‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔‘‘
اب انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
7159
دین کے حصّےنجرےکرنے والوں سے اللہ کے رسول ﷺ کا کوئی تعلق نہیں
’’( اے نبیﷺ!) جن لوگوں نے اپنے دین کے ٹکڑے کر دیے اور وہ گروہوں میں تقسیم ہو گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
یہ وہی ’’وحدتِ ادیان‘‘ کا تصور ہے جو سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۳ میں دیا گیا ہے: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟} کہ پہلے تمام لوگ ایک ہی دین پر تھے ۔ پھر لوگ صراطِ مستقیم سے منحرف ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ مختلف گروہوں نے اپنے اپنے راستے الگ کر لیے۔ چنانچہ یہاں حضورﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر اپنی خود ساختہ پگڈنڈیوں پر چل رہے ہیں وہ سب ضلالت و گمراہی میں پڑے ہیں اورآپ ؐکا ان گمراہ لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔
’’اور جو کوئی بدی کما کر لائے گا تو اُسے سزا نہیں ملے گی مگر اسی کے برابر‘‘
یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ بدی کی سزا بدی کے برابر ہی ملے گی‘ لیکن نیکی کا اجر بڑھا چڑھا کر دیا جائے گا‘ دوگنا‘چارگنا‘ دس گنا‘ سات سو گنا ‘یا اللہ تعالیٰ اس سے بھی جتنا چاہے بڑھا دے: {وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ} (البقرۃ:۲۶۱)
وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾
’’اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘
اُس دن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
اگلی دو آیات جو ’’قُلْ‘‘ سے شروع ہو رہی ہیں ‘بہت اہم نکات کی حامل ہیں۔ یہ آیات ہم میں سے ہر ایک کو زبانی یاد کر لینی چاہئیں۔
’’وہ دین ہے سیدھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں اورملت ہے ابراہیم کی‘ جو یکسو تھا (اللہ کی طرف) اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔‘‘
یہ خطاب صیغۂ واحد میں براہِ راست حضورﷺ سے ہے اور آپﷺ کی وساطت سے پوری اُمت سے ۔ قبل ازیں آیت ۱۰۶کے تحت وضاحت کی جا چکی ہے کہ مکی سورتوں میں مسلمانوں سے براہِ راست خطاب کرنے کے بجائے انہیں حضورؐ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ۲۰ رکوعوں پر مشتمل اس سورت میں ہم نے دیکھا کہ ایک دفعہ بھی یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ساتھ اہلِ ایمان سے خطاب نہیں کیا گیا ۔ بہرحال یہ آیت نبی کریمﷺ کی وساطت سے ہم سب سے مخاطب ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کا اہل ہوسکے کہ مجھے تو میرے رب نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دے دی ہے۔ لیکن یہ تو تبھی ممکن ہوگا جب ہم اللہ کی راہِ ہدایت کو صدقِ دل سے اختیار کریں گے ۔ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین!
’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
یہاں دوبارہ لفظ قُل سے حضورﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپﷺ کو اپنی امت تک یہ پیغام پہنچانے کے لیے کہاگیا ہے‘ لہٰذا آپﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے ۔ کاش ہم میں سے ہر ایک واقعی یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو ربّ العالمین ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی زندگیوں کوواقعۃًاللہ کے لیے وقف کر دیں۔ دُنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں‘ لیکن اس ساری تگ و دَوکواصل مقصودِ زندگی نہ سمجھیں‘ بلکہ اصل مقصودِ زندگی اللہ کی اطاعت اور اقامتِ دین کی جدوجہد ہی کو سمجھیں۔
’’ اور نہیں کماتی کوئی جان (کچھ بھی ) مگر اسی کے اوپر ہو گا اس کا وبال ‘ اور نہیں اٹھائے گی کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسرے کے بوجھ کو ۔‘‘
اُس دن ہر ایک کو اپنی اپنی گٹھڑی خود ہی اٹھانی ہو گی‘ کوئی دوسرا وہاں مدد کونہیں پہنچے گا۔ یہاں پر لفظ نَفْس ’’جان‘‘ کے معنی میں آیا ہے‘ یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گی‘ بلکہ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری اور اپنے حساب کتاب کے لیے بنفسِ نفیس خود جوابدہ ہونا ہو گا۔
’’پھر اپنے رب ہی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے ‘ پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جن چیزوں میں تم اختلاف کر تے رہے تھے۔‘‘
آیت 165
وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ الۡاَرۡضِ
’’اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا‘‘ خلیفہ بنانا ایک تو اس مفہوم میں ہے کہ جو خلافت حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی اس کا حصہ بالقوۃ (potentially) تما م انسانوں کو ملاہے‘ لہٰذا جو بھی شخص اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہو کر اللہ کو اپنا حاکم اور بادشاہ مان لے تو وہ گویا اس کی خلافت کا حقدار ہو گیا۔ ’’خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ‘‘ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایاگیا ہے۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم آتی ہے اور اس طرح انسانی وراثت نسل در نسل اور قوم در قوم منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہی فلسفہ اس سورۃ کی آیت ۱۳۳ میں بھی بیان ہوا ہے۔
وَ رَفَعَ بَعۡضَکُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ
’’ اور اُس نے تم میں سے بعض کے درجوں کو بعض پر بلند کردیا‘‘ اس دُنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے مطابق کسی کو علم دیا ہے‘ کسی کو حکمت سے نوازا ہے‘ کسی کو ذہانت میں فضیلت عطا کی ہے‘ کسی کو جسمانی طاقت میں برتری دی ہے‘ کسی کو صحتِ جسمانی بہتر دی ہے اور کسی کو حسن جسمانی میں دوسروں پر فوقیت دی ہے۔ یعنی مختلف انداز میں اُس نے ہر ایک کو اپنے فضل سے نواز ا ہے اور مختلف انسانوں کے درجات و مراتب میں اپنی حکمت کے تحت فرق و تفاوت بھی برقرار رکھا ہے۔
لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰکُمۡ ؕ
’’تا کہ تمہیں آزمائے اس میں جو کچھ اُس نے تمہیں بخشا ہے۔‘‘
یعنی دنیا کی تمام نعمتیں انسان کو بطور آزمائش دی جاتی ہیں۔ بَلَا ‘ یَبْلُوْ کے معنی ہیں آزمانا اور جانچنا۔ ابتلاء (بمعنی امتحان اور آزمائش) اسی سے باب افتعال ہے ۔