’’اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم کھڑے کیے تا کہ وہ ان میں خوب سازشیں کریں۔‘‘
یہ وہی فلسفہ ہے جو قبل ازیں آیت ۱۱۲ میں بھی بیان ہوا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا کہ شیاطینِ انس و جن کو ہم خودہی انبیاء کی دشمنی کے لیے مقرر کرتے ہیں۔ یہاں پر اس سے ملتی جلتی بات کہی گئی کہ ہم ہر بستی کے اندر وہاں کے سرداروں اور بڑے بڑے چودھریوں کو ڈھیل دیتے ہیں کہ اگر وہ حق کے مقابلے میں کھڑے ہونا چاہیں تو علی الاعلان کھڑے ہوں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے سے روکیں‘ اپنی چالبازیوں اور مکاریوں سے حق پرستوں کو آزمائش میں ڈالیں۔اس سے جہاں دشمنانِ حق کی آزمائش ہو جاتی ہے وہاں مؤمنین صادقین کی صلاحیتیں مزید اُجاگر ہوتی ہیں ‘ان کے جوہر کھلتے ہیں اور ان کی غیرتِ ایمانی کو جلا ملتی ہے۔
’’حالانکہ وہ مکر نہیں کرتے مگر اپنی جانوں کے ساتھ‘ لیکن انہیں ا س کا شعور نہیں ہے۔‘‘
انہیں یہ شعور ہی نہیں کہ ان کی چالبازیوں کا سارا وبال تو بالآخر خود انہی پر پڑے گا۔ حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ ابو جہل نے جو کچھ کیا تھا اس کا وبال جب اس کے سامنے آئے گا تب اُس کی آنکھ کھلے گی اور اُس وقت تو یہ عالم ہو گا کہ ؏ ’’جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا!‘‘
’’اور جب ان کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی چیز نہ دے دی جائے جو اللہ کے (دوسرے) رسولوں کو دی گئی تھی۔‘‘
آیاتِ قرآنیہ مختلف انداز سے منکرینِ حق کے سامنے حقائق و رموز پیش کرتی ہیں مگر ان دلائل و براہین کا تجزیہ کرنے اور انہیں مان لینے کے بجائے یہ لوگ پھر وہی بات دہراتے ہیں کہ جیسے پہلے انبیاء کی قوموں کو معجزے دکھائے گئے تھے ہمیں بھی ویسے ہی معجزات دکھائے جائیں تو تب ہم ایمان لائیں گے۔ اس معاملے کو یوں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق جیسے مناسب سمجھا ہر قوم اور ہر امت کے ساتھ ویسا معاملہ فرمایا۔ پرانی اُمتوں کو حسی معجزے دکھائے گئے تھے‘ اس لیے کہ وہ نوعِ انسانیت کا دورِ طفولیت تھا۔ جب تک انسانیت کا اجتماعی شعور حدِ بلوغت کو نہیں پہنچا تھا تب تک حسی معجزات کا ظہور ہی مناسب تھا ۔ جیسے بچے کو بہلانے کے لیے کھلونے دیے جاتے ہیں‘ لیکن شعور کی عمر کو پہنچ کر اس کے لیے عقل اور حکمت کی تعلیم ضروری ہوتی ہے۔لہٰذا حضورﷺ کی بعثت کے وقت جبکہ بنی نوعِ انسان بحیثیت مجموعی سنجیدگی اور شعور کی عمر کو پہنچ چکی تھی ‘ اس کو حسی اور وقتی معجزوں کے بجائے ایک ایسا معجزہ دیا گیا جو دائمی بھی ہے اور علم و حکمت کا منبع و شاہکار بھی۔
اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ
’’اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے ور کس طرح لے!‘‘
’’تو اللہ جس کسی کو ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اُس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔‘‘
یہ ایک غور طلب معنوی حقیقت ہے ۔’’شرح صدر‘‘ اللہ کی وہ نعمت اور خاص عنایت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانشراح کی پہلی آیت میں حضور ﷺ کے لیے ایک بہت بڑے احسان کے طور پر کیا ہے: {اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾} لہٰذا ہر مسلمان کو اس شرحِ صدر کے لیے دعا کرنی چاہیے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بِالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسلَامِ ’’ اے اللہ‘ اے ہمارے ربّ! تو ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرما دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسی باطنی بصیرت مانگنی چاہیے جس کی وجہ سے اسلام کی ہر چیز ہمیں درست نظر آئے ۔ جب ایک بندۂ مؤمن میں ایسی بصیرت پیدا ہو جاتی ہے تو ہر قدم اور ہر موڑ پر اُس کو اپنے اندر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اُس کے ہر عمل پر اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ انسان کی ایسی اندرونی کیفیت ہے جس میں اس کی فطرتِ سلیمہ اور نیکی کے جذبے کی آپس میں خوشگوار مطابقت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر اسے دین کے کسی حکم سے کسی قسم کی کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بقولِ غالبؔ: ؎
’’اور جس کو وہ گمراہ کرنا چاہتا ہے اُس کے سینے کو بالکل تنگ کر دیتا ہے ‘گھٹا ہوا (وہ ایسے محسوس کرتا ہے ) گویا اُسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہے۔‘‘
جیسے اونچائی پر چڑھتے ہوئے انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا دل شاید دھڑک دھڑک کر باہر ہی نکل آئے گا‘ ایسے ہی اگر اللہ کی طرف سے انسان کو ہدایت کی توفیق عطا نہ ہوئی ہو تو اس کے لیے راہِ حق پر چلنا دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔ اگر کہیں ذرا سی آزمائش آ جائے تو گویا اس کے لیے قیامت ٹوٹ پڑتی ہے اور ایک ایک قدم اٹھانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص جس کو اللہ نے شرح صدر کی نعمت سے نوازا ہو اس کے لیے نہ صرف حق کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے بلکہ اس راہ کی ہر تکلیف اور ہر مشکل کو وہ شوق اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔
’’اُن کے لیے سلامتی والا گھر ہے اُن کے رب کے پاس اور وہی ان کا مدد گار (دوست) ہے ‘ بسبب ان کے (نیک) اعمال کے۔‘‘
’’دار السلام‘‘ جنت کا دوسرا نام ہے۔ جن لوگوں نے اپنی محنتوں‘ قربانیوں‘ مشقتوں اور اپنے ایثار کے سبب اللہ کی دوستی کمائی ہے وہ ہمیشہ کے لیے دار السلام کے مستحق ٹھہریں گے۔
’’اور جس دن وہ جمع کرے گا اُن سب کو (اور فرمائے گا) اے جنوں کی جماعت! واقعتا تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو ہتھیا لیا۔‘‘
وہ جوتمہارے بڑے جن عزازیل نے کہا تھا : {ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾} (الاعراف ) ’’اور تو ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا‘‘۔ تو تم نے تو واقعی بہت سے انسانوں کو ہتھیا لیا ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی شاباش ہو گی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں دی جائے گی۔
وَ قَالَ اَوۡلِیٰٓؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ
’’اورانسانوں میں سے جو ان کے ساتھی ہوں گے وہ کہیں گے‘‘
اس پر جنوں کے ساتھی انسانوں کی غیرت ذرا جاگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہہ دیا ہے کہ جنات نے ہمیں ہتھیا لیا ہے‘ شکار کر لیا ہے۔ اس پر وہ بول اٹھیں گے:
رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ
’’اے ہمارے پروردگار !ہم آپس میں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے‘‘
ہم ان سے اپنے کام نکلواتے رہے اور یہ ہم سے مفادات حاصل کرتے رہے۔ ہم نے جنات کو اپنا مؤکل بنایا‘ ان کے ذریعے سے اپنی کہانت کی دکانیں چمکائیں۔
’’اور انہیں دھوکے میں ڈالے رکھا دُنیوی زندگی نے ‘اور وہ خود گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ وہ یقینا کفر کی روش پر چلتے رہے تھے۔‘‘
قرآن مجید کی مختلف آیات میں میدانِ حشر کے حوالے سے مختلف مکالمات آئے ہیں ۔ مثلاً یہاں تو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بے شک ہم کفر کرتے رہے ہیں ۔ مگر اسی سورۃ میں پیچھے ہم نے پڑھا ہے : {ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾} ’’اُس وقت اُن کی کوئی چال نہیں چل سکے گی سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم تو مشرک نہیں تھے‘‘۔چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں بہت سے مراحل ہوں گے اور بے شمار گروہ مواخذے کے لیے پیش ہوں گے۔ یہ مختلف مراحل میں ‘ مختلف مواقع پر ‘ مختلف جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ ہونے والے مختلف مکالمات نقل ہوئے ہیں۔
’’ یہ اس لیے کہ آپ کے ربّ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ بستیوں کو برباد کر دے ظلم کے ساتھ جب کہ ان کے رہنے والے بے خبر ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے مطابق گمراہ قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا جاتا تھا۔اللہ کے رسول اپنی قوموں میں رہ کر انذار ‘ تذکیر اور تبشیر کا فرض ادا کرتے۔ پھر بھی اگر کوئی قوم قبولِ حق سے انکار کرتی تو وہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجاتی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اچانک کسی بستی یا قوم پر عذاب ٹوٹ پڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورئہ بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ ‘ کلیہ اس طرح بیان فرمایا ہے : {ؕ وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۵﴾} یعنی وہ عذابِ استیصال جس سے کسی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے اور اسے تباہ کر کے نسیاً منسیّا کر دیا جاتا ہے ‘ وہ کسی رسول کی بعثت کے بغیر نہیں بھیجا جاتا‘ بلکہ رسول آکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا بالکل مبرہن کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی جو لوگ کفر پر اڑے رہتے ہیں انہیں تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔
آیت 132
وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ؕ
’’اور ہر ایک کے لیے درجات ہیں اُن کے عمل کے اعتبار سے۔‘‘
ظاہر بات ہے کہ سب نیکو کار بھی ایک جیسے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی سب بد کار ایک جیسے ہو سکتے ہیں‘ بلکہ اعمال کے لحاظ سے مختلف افراد کے مختلف مقامات اور مراتب ہوتے ہیں۔
’’اور آپ کا رب بے خبر نہیں ہے اُس سے جو یہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘
آیت 133
وَ رَبُّکَ الۡغَنِیُّ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ
’’اور آپ کا رب تو غنی ہے ‘رحمت والا ہے۔‘‘ کسی کو عذاب دے کر اُسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور کسی کی بندگی اور اطاعت سے اُ س کا کوئی رُکا ہوا کام چل نہیں پڑتا۔ وہ ان سب چیزوں سے بے نیاز ہے۔
’’اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے (ختم کر دے) اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے لے آئے‘‘
وہ اس پر قادر ہے کہ ایک نئی مخلوق کو تمہارا جانشین بنا دے‘ یعنی کوئی نئی species لے آئے ۔ اللہ کا اختیار مطلق ہے ‘وہ چاہے توایک نئی نسل آدم پیدا کر دے۔
’’جس طرح اُس نے تمہیں اٹھایا ہے کسی اور قوم کی نسل میں سے۔‘‘
جیسے قومِ عاد عرب کی بڑی زبردست اور طاقتور قوم تھی‘ لیکن کفر وسرکشی کے باعث اسے تباہ کر دیا گیا۔ صرف حضرت ہود علیہ السلام اور آپؑ کے کچھ اہل ایمان ساتھی عذاب سے محفوظ رہے جو وہاں سے ہجرت کر کے چلے گئے۔ ان لوگوں کی اولاد سے بعد میں قومِ ثمودوجود میں آئی۔ پھر قومِ ثمود کو بھی ہلاک کر دیا گیا اور اُن میں سے بچ رہنے والے اہل ایمان سے نوعِ انسانی کی آگے نسل چلی اور مختلف علاقوں میں مختلف قومیں آباد ہوئیں۔ چنانچہ جیسے تمہیں اللہ نے اٹھایا ہے کسی دوسری قوم کی نسل سے‘ اسی طریقے سے وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا۔
’’کہہ دیجیے :اے میری قوم کے لوگو! کر لو جو کچھ کر سکتے ہو اپنی جگہ پر ‘ میں بھی کر رہاہوں(جو مجھے کرنا ہے)۔‘‘
یہ گویا چیلنج کرنے کا انداز ہے کہ مجھے تم لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے بارہ برس ہو گئے ہیں۔ تم نے اس دعوت کو ناکام کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے‘ ہر ہر طرح سے مجھے ستایا ہے‘ تین سال تک شعبِ بنی ہاشم میں محصور رکھا ہے‘ میرے ساتھیوں پر تم لوگوں نے تشدد کا ہر ممکن حربہ آزمایا ہے۔ غرض تم میرے خلاف جو کچھ کرسکتے تھے کرتے رہے ہو‘ ابھی مزید بھی جو کچھ تم کر سکتے ہو کر لو‘ جو میرا فرضِ منصبی ہے وہ میں ادا کرتا رہوں گا۔
’’اورانہوں نے اللہ کے لیے رکھا ہے خود اُسی کی پیداکی ہوئی کھیتی اور مویشیوں میں سے ایک حصہ‘‘
ایک بڑے خدا کو مان کر چھوٹے خدائوں کو اس کی الوہیت میں شریک کردینا ہی در اصل شرک ہے ۔ اس میں بڑے خدا کا انکار نہیں ہوتا۔ جیسے ہندوؤں میں ’’مہا دیو‘‘ تو ایک ہی ہے جب کہ چھوٹی سطح پر دیوی دیوتا بے شمار ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں بھی بڑے G سے لکھے جانے والا God ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ۔وہ Omnipotent ہے ‘ Omniscient ہے‘ Omnipresent ہے‘وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے‘ وہ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ہے‘وہ ہر جگہ موجود ہے۔یہ اس کی صفات ہیں‘ یہ اس کے Attributes ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے تو G بڑا (capital) ہی آئے گا‘ لیکن چھوٹے g سے لکھے جانے والے gods اور goddesses بے شمار ہیں۔ اسی طرح اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ اللہ تو ایک ہی ہے‘ کائنات کا خالق بھی وہی ہے‘ لیکن دیویوں اور دیوتاؤں کا بھی اُس کی خدائی میں کچھ دخل اوراختیار ہے‘ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات میں سے کچھ حصہ ان کو بھی سونپ رکھا ہے‘ لہٰذا اگر ان کی کوئی ڈنڈوت کی جائے‘ انہیں نذرانے دے کر خوش رکھا جائے ‘تو ا س سے ہمارے دنیوی کام بہتر انداز میں چلتے رہتے ہیں۔
اہلِ عرب کے معروف ذرائع معاش دو ہی تھے ۔ وہ بکریاں پالتے تھے یا کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اپنے عقیدے کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ مویشیوں اور فصل میں سے ایک حصہ وہ اللہ کے نام پر صدقہ کرتے تھے‘ جب کہ ایک حصہ الگ کر کے بتوں کے نام پر دیتے تھے۔یہاں تک تو وہ اپنے تئیں انصاف سے کام لیتے تھے کہ کھیتیوں کی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے اللہ کے لیے بھی حصہ نکال لیا اوراپنے چھوٹے خدائوں کے لیے بھی ۔اس کے بعد کیا تماشا ہوتا تھااس کا ذکر آگے آ رہا ہے :
’’پھر کہتے ہیں اپنے خیال سے کہ یہ تو ہے اللہ کے لیے اور یہ ہے ہمارے شریکوں کے لیے ۔ تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچ سکتا ‘اور جو حصہ اللہ کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘
اب اگر کہیں کسی وقت کوئی دقت آ گئی ‘ کوئی ضرورت پڑ گئی تو اللہ کے حصے میں سے کچھ نکال کر کام چلا لیتے تھے مگر اپنے بتوں کے حصے کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ گویابت تو ہر وقت ان کے سروں پر کھڑے ہوتے تھے ۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ بت ناراض ہو گئے تو فوراً ان کی شامت آ جائے گی ‘ لیکن اللہ تو (معاذ اللہ) ذرا دور تھا‘ اس لیے اس کے حصے کو اپنے استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔ ان کی اس سوچ کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں دیہات میں ایک عام کسان پٹواری کو ڈی سی کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ پٹواری سے اسے براہِ راست سابقہ پڑتا ہے‘ جب کہ ڈی سی کی حیثیت کا اُسے کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔بہر حال یہ تھی وہ صورتِ حال جس میں ان کے شریکوں کے لیے مختص کیا گیا حصہ اللہ کو نہیں پہنچ سکتا تھا‘ جب کہ اللہ کا حصہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔
’’اور اسی طرح مزین کر دیا ہے بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے اپنی اولاد کو قتل کرنا‘‘
اس میں اشارہ ہے مشرکین کے اُن اعتقادات کی طرف جن کے تحت وہ اپنے بچوں کو جنوں یا مختلف بتوں کے نام پر قربا ن کر دیتے تھے۔ آج بھی ہندوستان میں اس طرح کے واقعات سننے میں آتے ہیںکہ کسی نے اپنے بچے کو دیوی کی بھینٹ چڑھا دیا۔
’’ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ سب کچھ نہ کرسکتے‘ تو چھوڑد یجیے ان کو بھی اور اس کو بھی جو یہ افترا پردازی کر رہے ہیں۔‘‘
دین کو مشتبہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے عقائد اور ایسی چیزیں بھی دین میں شامل کر دی جائیں جن کا دین سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ قتل اولاد بھی اس کی مثا ل ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ وہ دین اور مذہب کے نام پر ہی کرتے تھے۔فرمایا کہ انہیں چھوڑ دیں وہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں۔
’’اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں‘ اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے ‘ یہ سب کچھ جھوٹ گھڑتے ہیں اُس پر۔‘‘
یعنی اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض جانوروں کو سواری اور بار برداری کے لیے ممنوع قرار دیتے تھے اورکچھ حیوانات کے بارے میں طے کر لیتے تھے کہ ان کو جب ذبح کرنا ہے تو اللہ کا نام ہر گز نہیں لینا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے آیت ۱۲۱ میں جو حکم آیا تھا کہ مت کھائو اس چیز کو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ دراصل ان کے اس عقیدے اور رسم کے بارے میں تھا‘وہ عام حکم نہیں تھا۔
سَیَجۡزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾
’’اللہ عنقریب انہیں سزا دے گا ان کے اس افترا کی۔‘‘
یہ جھوٹی چیزیں جو انہوں نے اللہ کے بارے میں گھڑ لی ہیں‘اللہ ضرور انہیں اس جھوٹ کی سزا د ے گا۔
’’اوراگر وہ مردہ ہو تو پھر وہ سب اس میں حصہ دار ہوں گے ۔ اللہ عنقریب انہیں سزا دے گا ان کی ان باتوں کی جو انہوں نے گھڑ لی ہیں۔ وہ یقینا حکیم اور علیم ہے۔‘‘
ان ساری رسموں اور خود ساختہ عقائد کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ ہماری شریعت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چلی آ رہی ہے اور ہمارے آباء واَجداد بھی اسی پر عمل کرتے تھے۔
’’یقینا نامراد ہوئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا بے وقوفی سے ‘ بغیر علم کے‘ اور انہوں نے حرام کر لیا (اپنے اوپر) وہ رزق جو اللہ نے انہیں دیا تھا اللہ پر افترا کرتے ہوئے ۔‘‘
یعنی ان ساری غلط رسومات کو وہ لوگ اللہ سے منسوب کرتے تھے۔ دوسری طرف وہ بتوں کے نام پر قربانیاں دیتے اور استھانوں پر نذرانے بھی چڑھاتے تھے ۔اسی طرح کے نذرانے وہ اللہ کے نام پر بھی دیتے تھے۔یہ سارے معاملات ان کے ہاں اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لیے مشترکہ طور پر چل رہے تھے ۔ اس طرح انہوں نے سارا دین مشتبہ اور گڈ مڈ کر دیا تھا۔
قَدۡ ضَلُّوۡا وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿٪۱۴۰﴾
’’وہ گمراہ ہو چکے ہیں اور اب ہدایت پر آنے والے نہیں ہیں۔‘‘