تحریر

الأنعام

آیات ۱۰۲ تا ۱۲۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

102-105

توحید کا بیان اور شرک کی نفی

ویڈیو

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ فَاعۡبُدُوۡہُ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۱۰۲﴾ لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾ قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۱۰۴﴾ وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ وَ لِیَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ وَ لِنُبَیِّنَہٗ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

آیت 102

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ

’’وہ ہے اللہ تمہار ا رب!‘‘

اس اندازِ خطاب کو اس طرح سمجھیں کہ مشرکین مکہ اور اہلِ عرب اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ اللہ کو مانتے تو تھے لیکن اللہ کی صفات ‘اُس کی قدرت اور اُس کی عظمت کے بارے میں ان کا ذہن کچھ محدود تھا ۔اس لیے یہاں اس انداز سے انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ دیکھو جس اللہ کو تم مانتے ہو وہی تو تمہارا ربّ اورپروردگار ہے۔ وہ اللہ بہت بلند شان والاہے ۔ تم نے اس کی حقیقی شان کو نہیں پہچانا۔ تم نے اس کو کوئی ایسی شخصیت سمجھ لیا ہے جس کے اوپر کوئی دباؤ ڈال کر بھی اپنی بات منوائی جا سکتی ہے۔ تم فرشتوں کو اس کی بیٹیاں سمجھتے ہو۔ تمہارے خیال میں فرشتے جس کی سفارش کریں گے اُس کو بخش دیا جائے گا۔ اس طرح تم نے اللہ کو بھی انسانوں کے اوپر ہی قیاس کرلیا ہے کہ جس طرح کوئی انسان اپنی بیٹی کی بات ردّ نہیں کرتا ‘ اسی طرح تم سمجھتے ہو کہ اللہ بھی فرشتوں کی بات نہیں ٹالے گا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی حقیقی قدرت ‘ اُس کی عظمت ‘ اُس کاوراء الورا ء ہونا‘ اُس کا بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْم ہونا‘ اُس کا عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر ہونا‘ اُس کا ہر جگہ پر ہر وقت موجود ہونا ‘اُس کی ایسی صفات ہیں جن کا تصور تم لوگ نہیں کر پا رہے ہو۔ لہٰذا اگر تم سمجھنا چاہو تو سمجھ لو: {ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ } وہ ہے اللہ تمہارا رب جس کی یہ شان اور قدرت بیان ہو رہی ہے۔

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ فَاعۡبُدُوۡہُ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۱۰۲﴾

’’ اُس کے سواکوئی معبود نہیں ہے ‘ وہ ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے ‘ پس تم اُسی کی بندگی کرو ‘اور وہ ہر شے کا کارسازہے۔‘‘

اُس کے سوا کوئی تمہارے لیے کارساز نہیں۔ خود اُس کا حکم ہے: {اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾} (بنی اسرائیل ) کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا کار ساز نہ سمجھا کرو۔

آیت 103

لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾

’’اُسے نگاہیں نہیں پا سکتیں‘جبکہ وہ (تمہاری) نگاہوں کو پا لیتا ہے ‘اور وہ لطیف بھی ہے اور ہر چیز سے با خبر بھی۔‘‘

اُس کی شانِ لطافت کے باعث انسانی نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں۔اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ معراج میں کیارسول اللہﷺنے اللہ تعالیٰ کو دیکھا یا نہیں دیکھا؟ اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آراء کچھ مختلف ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے یہ ہے کہ حضورﷺ نے اللہ کو دیکھا تھا ‘لیکن حضرت عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہماکی رائے ہے کہ نہیں دیکھا تھا۔ اس ضمن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے : نُورٌ اَنّٰی یُرٰی یعنی وہ تو نور ہے اُسے دیکھا کیسے جائے گا؟ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب کوہِ طور پر استدعا کی تھی : {رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ } (الاعراف :۱۴۳) ’’پروردگار‘ مجھے یارائے نظر دے کہ میں تیرا دیدار کروں!‘‘تو صاف کہہ دیا گیا تھا : {لَنْ تَرٰنِی} ’’تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے‘‘۔ اللہ اتنی لطیف ہستی ہے کہ اس کا دیکھناہماری نگاہوں سے ممکن نہیں۔ ہاں دل کی آنکھ سے اس کا دیدار ضرور کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ محمد رسول اللہﷺ دنیا میں رہ کر بھی دل کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکتے تھے۔

آیت 104

قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ

’’(دیکھو) تمہارے پاس آ چکی ہیں بصیرت افروز باتیں تمہارے ربّ کی طرف سے۔‘‘

فَمَنۡ اَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ عَمِیَ فَعَلَیۡہَا ؕ

’’تو اب جو کوئی بینائی سے کام لے گا تو اپنے ہی بھلے کے لیے‘ اور جو کوئی اندھا بن جائے گا تو اس کا وبال اُسی پر ہو گا۔‘‘

اب جو کوئی ان بصائر کو آنکھیں کھول کر دیکھے گااور چشم بصیرت سے حقائق کا مواجہہ کرے گاتو وہ خود اپنا ہی بھلا کر ے گا اور جو ان حقائق کی طرف سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کرلے گا‘ یعنی وہ کسی تعصب‘ ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے حقیقت کو نہیں دیکھنا چاہے گا تو اس کا سارا وبال اُسی پر آئے گا ۔

وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۱۰۴﴾

’’اور میں تمہارے اوپر کوئی نگران نہیں ہوں۔‘‘

یہ بات نبی اکرمﷺ کی طرف سے ادا ہو رہی ہے کہ ہر کوئی اپنے اچھے برے اعمال کا خود ذمہ دار ہے‘ میری ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے ‘میں تمہاری طرف سے جوابدہ نہیں ہوں۔

آیت 105

وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ وَ لِیَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ

’’اور اسی طرح ہم اپنی آیات کو گردش دلاتے ہیں تا کہ یہ پکار اُٹھیں کہ (اے نبیﷺ) آپ نے سمجھا دیا‘‘

ہم اپنی آیات بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں‘ مختلف اسالیب سے دلائل پیش کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں پر حجت قائم ہو اور یہ تسلیم کریں کہ آپؐ نے سمجھانے کا حق ادا کر دیا ہے ۔ دَرَسَ ‘ یَدْرُسُ کے معنی ہیں لکھنا اور لکھنے کے بعد مٹانا ‘ پھر لکھنا‘ پھر مٹانا۔ جیسے بچے ابتدا میں جب لکھنا سیکھتے ہیں تو مشق کے لیے بار بار لکھتے ہیں۔(اس مقصد کے لیے ہمارے ہاں تختی استعمال ہوتی تھی جو اب متروک ہو گئی ہے۔)یہاں تدریجاً بار بار پڑھانے کے معنی میں یہ لفظ (دَرَسْتَ) استعمال ہوا ہے۔

وَ لِنُبَیِّنَہٗ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

’’اورتا کہ ہم واضح کر دیں اس کو ہر طرح سے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں ( یا جو علم حاصل کرنا چاہتے ہیں)۔‘‘

106-108

اہم ہدایات

ویڈیو

اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا ؕ وَ مَا جَعَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۷﴾ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾

آیت 106

اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ۚ

’’آپؐ پیروی کیے جائیں اُس کی جو وحی کیا جا رہا ہے آپ ؐ پر آپ ؐ کے رب کی طرف سے۔‘‘

اس سورۃ میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نبی اکرمﷺکو بار بار مخاطب کیا جا رہا ہے۔لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے‘یہ خطاب دراصل حضورﷺ کی وساطت سے اُمت کے لیے بھی ہے۔مکی سورتوں ( دو تہائی قرآن) میں مسلمانوں سے براہِ راست خطاب بہت کم ملتاہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمان باقاعدہ ایک اُمت نہیں تھے۔اُمت کی تشکیل تو تحویل قبلہ کے بعد ہوئی ہے ۔ اسی لیے تحویل قبلہ کے حکم کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ} (البقرۃ :۱۴۳) اب جبکہ مسلمانوں کو باقاعدہ امت کا درجہ دے دیا گیا تو پھر اُن سے خطاب بھی براہِ راست ہونے لگا۔ چنانچہ سورۃ الحجرات جو۱۸ آیات پر مشتمل مدنی سورۃ ہے ‘ اس میں پانچ دفعہ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا} کے الفاظ سے اہلِ ایمان کوبراہِ راست مخاطب فرمایا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف مکی سورتوں میں اہل ایمان سے جو بھی کہا گیا ہے وہ حضورﷺ کو مخاطب کر کے واحد کے صیغے میں کہا گیاہے۔ چنانچہ آیت زیر نظر میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ پیروی کرو اُس کی جو آپؐ پر وحی کیا جا رہا ہے آپؐ کے رب کی طرف سے ‘ تو یہ حکم صرف حضورﷺ کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے ۔

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

’’اُس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اور آپؐ ان مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجیے۔‘‘

آیت 107

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَاۤ اَشۡرَکُوۡا ؕ وَ مَا جَعَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ۚ

’’اوراگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کرتے۔اور ( اے نبیﷺ) ہم نے آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا ہے۔‘‘

اگرا للہ تعالیٰ کو با لجبر ان سب کو ایمان پر لانا ہوتا تو اُس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا۔ اس سلسلے میں آپﷺ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ آپؐ کو ان پر داروغہ یا نگران مقرر نہیں کیا گیا۔آپؐ کا کام ہے حق کو واضح کر دینا۔ چنانچہ آپؐ اس قرآن کے ذریعے انہیں خبردار کرتے رہیے‘ اس کے ذریعے انہیں تذکیرکرتے رہیے‘ اس کے ذریعے انہیں خوشخبریاں دیتے رہیے۔ آپؐ کی بس یہ ذمہ داری ہے: {فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾} ( الغاشیہ) ’’پس آپؐ انہیں یاد دہانی کرایئے ‘ اس لیے کہ آپؐ تویاد دہانی ہی کرانے والے ہیں۔آپؐ ان کے اوپر نگران نہیں ہیں۔‘‘

وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۱۰۷﴾

’’اور نہ ہی آپؐ ان کے ضامن ہیں۔‘‘

آیت 108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ

’’ اور مت گالیاں دو ( یا مت برا بھلا کہو) ان کو جنہیں یہ پکارتے ہیں اللہ کے سوا ‘ تو وہ اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے زیادتی کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے۔‘‘

یعنی تم لوگ کہیں جوش میں آ کر ان کے بتوں کوبرابھلا مت کہنا ‘ کیونکہ وہ ان کو اپنے معبود سمجھتے ہیں‘ ان کے ذہنوں میں ان کی عظمت اور دلوں میں ان کی عقیدت ہے‘ اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ غصے میں آ کر جواباًاللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ لہٰذا تم کبھی ایسا اشتعال آمیز انداز اختیار نہ کرنا۔ یہاں ایک دفعہ پھر نوٹ کیجیے کہ یہ خطاب مسلمانوں سے ہے‘لیکن انہیں ’’یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ سے مخاطب نہیں کیا گیا۔

کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪

’’اسی طرح ہم نے ہر قوم کے لیے اس کے عمل کو مزین کردیاہے‘‘

جس طرح ہر کوئی اپنے عقیدے میں خوش ہے اسی طرح یہ مشرکین بھی اپنے بتوں کی عقیدت میں مگن ہیں۔ ظاہر بات ہے وہ اُن کو اپنے معبود سمجھتے ہیں تو اُن کے بارے میں اُن کے جذبات بھی بہت حساس ہیں۔ اس لیے اے نبیﷺ آپ انہیں مناسب انداز سے سمجھائیں‘ انذار‘ تبشیر‘ تذکیر اور تبلیغ وغیرہ سب طریقے آزمائیں ‘ لیکن ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔

ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾

’’پھراپنے ربّ ہی کی طرف ان سب کو لوٹنا ہے تو وہ ان کو جتلا دے گا جو کچھ وہ کرتے رہے تھے۔‘‘

109

اہلِ ایمان کے لیے تسلّی

ویڈیو

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ لَّیُؤۡمِنُنَّ بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ مَا یُشۡعِرُکُمۡ ۙ اَنَّہَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

آیت 109

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ لَّیُؤۡمِنُنَّ بِہَا ؕ

’’اور وہ اللہ کی قسمیں کھا رہے ہیں شدو مد کے ساتھ کہ اگران کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وہ لازماً اُس پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘

پھر ان کے اسی مطالبے کا ذکر آ گیا کہ وہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ لازماً ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا گیا ہے یہ مضمون اس سورۂ مبارکہ کا عمود ہے۔ مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ جب آپ(ﷺ) نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر معجزہ کیوں نہیں دکھاتے؟ اس سے پہلے تمام انبیاء اپنی نبوت کے ثبوت کے طور پر معجزات دکھاتے رہے ہیں۔ آپ (ﷺ) خود کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو معجزات دکھائے‘ حضرت عیسیٰ ؑنے بھی معجزات دکھائے‘ حضرت صالحؑ نے بھی اپنی قوم کو معجزہ دکھایا ‘ تو پھر آپ (ﷺ) معجزہ دکھا کر کیوں ہمیں مطمئن نہیں کرتے؟ اُن کے سردار اپنے عوام کو متاثر کرنے کے لیے بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ آپ(ﷺ)دکھائیے تو سہی ایک دفعہ معجزہ ‘اسے دیکھتے ہی ہم لازماً ایمان لے آئیں گے۔

قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ

’’کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو سب اللہ کے اختیار میں ہیں‘‘

آپ(ﷺ) انہیں صاف طور پر بتادیجیے کہ معجزہ دکھانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ تمہارے مطالبے پر کوئی معجزہ نہیں دکھائے گا۔ ان کی اس طرح کی باتوں کا چونکہ مسلمانوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان تھا ‘اس لیے آگے فرمایا :

وَ مَا یُشۡعِرُکُمۡ ۙ اَنَّہَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾

’’اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا معلوم کہ جب وہ نشانی آ جائے گی تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

یہ لوگ ایمان تو معجزہ دیکھ کر بھی نہیں لائیں گے‘ لیکن معجزہ دیکھ لینے کے بعدان کی مہلت ختم ہو جائے گی اور وہ فوری طور پر عذاب کی گرفت میں آ جائیں گے۔ اس لیے ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں معجزہ نہ دکھایا جائے۔ چنانچہ ان کی باتیں سن سن کر جو تنگی اور گھٹن تم لوگ اپنے دلو ں میں محسوس کر رہے ہو اس کو برداشت کر و اور ان کے اس مطالبے کو نظر انداز کردو۔

110

حق قبول کرنے کی توفیق سلب کر لی جاتی ہے

ویڈیو

وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ نَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿٪۱۱۰﴾

آیت 110

وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ

’’اورہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو اُلٹ دیں گے جس طرح وہ ایمان نہیں لائے تھے پہلی مرتبہ‘‘

اس قاعدے اور قانون کواچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو صلاحیتیں دی ہیں اگر وہ ان کو استعمال کرتا رہتا ہے تو ان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اگر آپ دوسروں کو علم سکھائیں گے تو آپ کے علم میں اضافہ ہو گا۔ اگر آپ معمول کے مطابق آنکھ کا استعمال کرتے رہیں گے تو آنکھ صحت مند رہے گی‘ اس کی بصارت برقرار رہے گی۔ لیکن اگر آپ اپنی آنکھ پر پٹی باندھ دیں گے تو دو چار مہینے کے بعد اس کی بصارت زائل ہو جائے گی ۔ انسانی جوڑوں کو حرکت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے‘ اگر آپ کسی جوڑ پر پلاسٹر چڑھا دیں گے تو کچھ مہینوں کے بعد اس کی حرکت ختم ہو جائے گی۔ چنانچہ جو صلاحیت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اگر وہ اس کا استعمال نہیں کرے گا تو وہ صلاحیت تدریجاً زائل ہو جائے گی۔ اسی طرح حق کو پہچاننے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو باطنی طور پر صلاحیت ودیعت کی ہے۔ اب اگر ایک شخص پر حق منکشف ہوگیا ہے‘ اس کے اندر حق کو پہچاننے کی صلاحیت موجود ہے‘اس کے دل نے گواہی بھی دے دی ہے کہ یہ حق ہے ‘ لیکن اگر کسی تعصب کی وجہ سے‘ کسی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب اس نے اُس حق کو دیکھنے‘ سمجھنے اور ماننے سے انکار کر دیا‘ تو اس کی حق شناسی کی صلاحیت قدرے کم ہو جائے گی۔ اس کے بعد پھر دوبارہ کبھی حق کی کوئی چنگاری اس کے دل میں روشن ہوئی تواُس کا اثر اس پر پہلے سے کم ہو گا ۔اور اگر وہ شخص جان بوجھ کر حق کا مسلسل انکار کرتا رہا تو تدریجاً وہ نوبت آجائے گی کہ حق کو پہچاننے کی اُس کی باطنی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔یہ فلسفہ سورۃ البقرۃ‘ آیت ۷ میں اس طرح بیان ہوا ہے : {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ٪﴿۷﴾} ’’اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پراور ان کی سماعت پر ‘اور ان کی آنکھوں کے آگے پردے ڈال دیے ہیں‘ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے‘‘۔ اس لیے کہ جب ضد اور تعصب کی بنا پر وہ لوگ سمجھتے بوجھتے حق کا مسلسل انکار کرتے رہے تو اُن کی حق کو پہچاننے کی صلاحیتیں سلب کر لی گئیں۔ اس کے بعد وہ اس انتہا کو پہنچ گئے جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ ایسی انتہا کو ’’ point of no return‘‘ کہتے ہیں۔ ہر معاملے میں واپسی کا ایک وقت ہوتا ہے ‘لیکن وہ وقت گزر جانے کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں رہتا۔

آیت زیر مطالعہ میں یہی فلسفہ ذرا مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جب پہلی مرتبہ ان لوگوں پر حق منکشف ہوا‘ اللہ نے حجت قائم کر دی ‘ انہوں نے حق کو پہچان لیا‘ ان کے دلوں‘ ان کی روحوں اور باطنی بصیرت نے گواہی دے دی کہ یہ حق ہے‘ اس کے بعد اگر وہ اس حق کو فوراً مان لیتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ لیکن چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اس کی سزا کے طور پر ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے‘ اب وہ سو معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

وَّ نَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿٪۱۱۰﴾

’’اور ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سر کشی کے اندر بھٹکتے رہیں۔‘‘

ہم چھوڑ دیں گے اُن کو ان کی باطنی‘ ذہنی‘ نفسیاتی اور اخلاقی گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے۔اسی مفہوم میں لفظ ’’یَعْمَھُوْنَ‘‘ ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۵ میں بھی پڑھ چکے ہیں‘ بلکہ وہاں آیت ۱۸ میں اس سے ملتے جلتے مفہوم کا حامل لفظ ’’عُمْیٌ‘‘ بھی آیا ہے۔ عَمِہَ یَعْمَہُ بصیرت سے محرومی یعنی باطنی اندھے پن کے لیے آتا ہے اور ’’عَمِیَ یَعْمٰی‘‘ بصارت سے محرومی یعنی آنکھوں سے اندھا ہونے کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ یہاں فرمایا کہ ہم چھوڑ دیں گے اُن کو ان کی باطنی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹکنے کی لیے۔

111

کافر معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے

ویڈیو

وَ لَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَہُمُ الۡمَوۡتٰی وَ حَشَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

آیت 111

وَ لَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ

’’اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے ‘‘

یعنی ہم ان کے مطالبے کے مطابق ایک فرشتہ تو کیا فرشتوں کی فوجیں اتار سکتے ہیں‘ ان فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دکھا سکتے ہیں‘ لیکن اگر ہم واقعتاً فرشتے اُتار بھی دیتے اور ان کو دکھا بھی دیتے …

وَ کَلَّمَہُمُ الۡمَوۡتٰی وَ حَشَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا

’’اور مردے بھی ان سے گفتگو کرتے اور ہم تما م چیزیں لا کر ان کے رو برو جمع کردیتے‘‘

مَّا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ

’’تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘

اگر اللہ چاہے اور اگر کسی کے اندر حق کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ معجزوں کے بغیر بھی ایسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ جیسے اس نے بہت سے طالبانِ حق کی راہنمائی فرمائی اور وہ کوئی معجزہ دیکھے بغیر ہی حضرت محمدرسول اللہﷺ پر ایمان لے آئے ۔

وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

’’لیکن ان کی اکثریت جاہلوں پر مشتمل ہے۔‘‘

یہاں’’جاہلوں‘‘ سے مراد جذباتی لوگ ہیں ‘جو عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے جذبات کے آلہ کار بن جاتے ہیں ---- اگلی آیت فلسفۂ دعوت و تحریک کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔

112-113

شیاطین خوشنما باتیں دھوکہ دینے کے لیے سجھاتے ہیں

ویڈیو

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ وَ لِتَصۡغٰۤی اِلَیۡہِ اَفۡـِٕدَۃُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ وَ لِیَرۡضَوۡہُ وَ لِیَقۡتَرِفُوۡا مَا ہُمۡ مُّقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

آیت 112

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ

’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین ‘‘

سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے‘ انبیاء کرام علیہم السلام کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کی ضرورت تھی‘ پھر اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوںکھڑا کر دیا؟ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا بہت اہم قانون ہے جس کے بارے میں راہِ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ مقصود اس سے سچائی اور خلوص کاامتحان ہے۔ ظاہر ہے اگر حق و باطل میں باہم کشاکش نہیں ہو گی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار؟ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے؟یہ دنیا تو بنی ہی آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں اگرشر کا وجود ہی نہ ہو‘ اور ہر جگہ خیر ہی خیر ہو تو خیر کے طلبگاروں کی آزمائش کیسے ہو گی؟ لہٰذا یہاں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ کشمکش کی فضا ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ ہم خود حق پر چلنے والوں کو تلاطم خیز موجوں کے سپرد کر کے ان کی استقامت کو پرکھتے ہیں اور پھر ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتے ہیں۔ لہٰذا اس بارگاہ میں جو جتنا قریب ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ آزمایا جاتا ہے ‘ پھر جو جتنی استقامت دکھاتا ہے اور جو جتنا ایثار کرتا ہے ‘ اتنا ہی اُس کا مرتبہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ راہِ حق کے مسافروں کو آزمائشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے: ؎

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !

یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ

’’وہ ایک دوسرے کو اشاروں کنایوں میں پرفریب باتیں پہنچاتے رہتے ہیں گمراہ کرنے کے لیے۔‘‘

مثلاً ایک جن شیطان آ کر اپنے ساتھی انسان شیطان کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ شاباش اپنے موقف پر ڈٹے رہو‘ اسی کا نام استقامت ہے۔ دیکھو کہیں پھسل نہ جانااور اپنے مخالف کے موقف کو قبول نہ کر لینا… ان کا آپس میں اس طرح کا گٹھ جوڑ یونہی چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اُن کو ایسا کرنے کے لیے چھوٹ دے رکھی ہے۔

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ

’’اور اگر آپ کا ربّ چاہتا تو وہ یہ نہ کر سکتے‘‘

ظاہر بات ہے کہ اس کائنات میں کوئی ایک پتا بھی اللہ تعالیٰ کے اِذن کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ ابو جہل کی کیا مجال تھی کہ وہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہاکو شہید کرتا۔ وہ برچھا اٹھاتا بھی تو اُس کا ہاتھ شل ہو جاتا۔ لیکن یہ تو اللہ کی طرف سے چھوٹ تھی کہ ٹھیک ہے ‘تم ہماری اس بندی کو جتنا آزمانا چاہتے ہو آزمالو۔ ان آزمائشوں سے ہمارے ہاں اس کے مراتب بلند سے بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ یٰس میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے پر انعامات کا ذکر ہوا ہے: {قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿۲۷﴾} ’’اُس نے کہا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہو جائے کہ کس طرح میرے ربّ نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں سے بنادیا ‘‘۔ یعنی اُدھر دنیا میں تومیری شہادت کے بعد صفِ ماتم بچھی ہو گی‘ سب گھر والے میری جدائی میں نڈھال ہوں گے‘ بچے رو رو کر ہلکان ہو رہے ہوں گے‘ لیکن کاش وہ جان سکتے کہ مجھے میرے ربّ نے کس کس طرح سے نوازا ہے‘ کیسے کیسے انعامات کی یہاں مجھ پر بارش کی گئی ہے اور میں یہاں کس عیش و آرام میں ہوں! اگر انہیں میرے اس اعزاز و اکرام کی کچھ بھی خبر ہوجاتی تو رونے دھونے کی بجائے وہ خوشیاں منا رہے ہوتے۔

فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾

’’تو چھوڑیے آپؐ ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو ۔‘‘

یہ ہماری سنت ہے‘ ہمارا طریقہ ہے ‘ ہم نے خود ان کو یہ سب کچھ کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے‘ لہٰذا آپؐ ان سے اعراض فرمائیے اور ان کو ان کی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دیجیے۔

آیت 113

وَ لِتَصۡغٰۤی اِلَیۡہِ اَفۡـِٕدَۃُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ

’’اور(ایسا اس لیے ہے) تا کہ مائل ہو جائیں اس کی طرف ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے‘‘

وَ لِیَرۡضَوۡہُ وَ لِیَقۡتَرِفُوۡا مَا ہُمۡ مُّقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾

’’اور تا کہ وہ اس کو پسند بھی کریں اور پھر وہ اپنے برے اعمال کا جو بھی انبار جمع کرنا چاہتے ہیں جمع کر لیں۔‘‘

اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ اگر پانی کا برقی رو کے ذریعے تجزیہ) (electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز (ions) الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کے ذریعے کھرے اور کھوٹے کی ionization کرتا ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہلِ باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز واضح ہو جاتی ہے۔ سورئہ آلِ عمران (آیت۱۷۹) میں اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا ذکر بایں الفاظ ہوا ہے : {حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ} ’’تا کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے‘‘۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک اور ناپاک عناصرگڈ مڈ ہوئے ہوتے ہیں‘ لیکن جب آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں‘ امتحانات آتے ہیں تو یہ خبیث اور طیب عناصر واضح طور پر الگ الگ ہو جاتے ہیں‘ یعنی منافق علیحدہ اور اہلِ ایمان علیحدہ ہو جاتے ہیں ۔ آیت زیرنظر کے مطابق شیاطینِ انس و جن کو کھل کھیلنے کی مہلت اسی حکمت کے تحت فراہم کی جاتی ہے اورمنکرینِ آخرت کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اُن شیاطین کی طرف سے پھیلائے ہوئے بے سروپا نظریات کی طرف مائل ہونا چاہیں تو بے شک ہو جائیں۔

114-115

صرف معبود برحق ہی نے عادلانہ احکامات عطا فرمائے

ویڈیو

اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾

آیت 114

اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا

’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حَکم ڈھونڈوں؟‘‘

اس متجسسانہ سوال (searching question) کے مخاطب خصوصی طور پر مشرکینِ مکہ ہیں۔ وہ لوگ اللہ کو مانتے تھے‘ چنانچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو‘ میں نے بھی اُسی کو اپنا رب مانا ہے ۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اُ س معبودِ حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حَکم تسلیم کر لوں‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورۃ الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے : {قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾} ’’آپؐ کہیے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے اُس کو میں پوجتا‘‘۔ یعنی جب میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں تو اگراللہ کا کوئی بیٹا ہوتاتو کیامیں اس کی پرستش نہ کرتا؟ چنانچہ میں جو اللہ کو اپنا معبود مانتا ہوں اور یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے تو جان لو کہ اس کی واقعی کوئی اولاد نہیں ہے۔ سمجھانے کا یہ انداز جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے بالکل فطری ہے۔ اس میں منطق کے بجائے جذبات سے براہِ راست اپیل ہے۔ دروں بینی (introspection) کی طرف دعوت ہے کہ اپنے دل میں جھانکو‘ گریبان میں منہ ڈالو اور سوچو ‘ حقیقت تمہیں خود ہی نظر آ جائے گی۔

وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا ؕ

’’اور وہی تو ہے جس نے تمہاری طرف ایک بڑی مفصل کتاب نازل کی ہے۔ ‘‘

وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾

’’اور(اے نبیﷺ!) جنہیں ہم نے (پہلے)کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ نازل کی گئی ہے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ‘ تو ہر گز نہ ہو جانا شک کرنے والوں میں سے۔‘‘

اہلِ کتاب زبان سے اقرار کریں نہ کریں ‘ اپنے دلوں میں ضروریقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔

آیت 115

وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ

’’اور آپؐ کے رب کی بات تو سچائی اور عدل پر مبنی ہونے کے اعتبار سے درجہ کمال تک پہنچ چکی ہے۔‘‘

آپ کے ربّ کی بات اُس کی مشیت کے مطابق مکمل ہو چکی ہے‘ جیسے سورۃ المائدۃ ‘آیت ۳میں واضح فرمایاگیا: {اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ } ’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیاہے اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا اور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے۔ ‘‘

لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۱۵﴾

’’اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں‘ اوروہ سب کچھ سننے والا ‘جاننے والا ہے۔‘‘

116-117

اکثریت کی پیروی گمراہ کر دے گی

ویڈیو

وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ یَّضِلُّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾

آیت 116

وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ

’’اور اگر تم پیروی کرو گے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے لازماً گمراہ کر دیں گے۔‘‘

جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے ۔ بقولِ اقبالؔ: ؎

جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں‘ تولا نہیں کرتے!

اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تووہ تمہیں لازماًگمراہ کر دیں گے۔ دنیا میں باطل پرستوں کی ہمیشہ اکثریت رہی ہے ۔ دورِ صحا بہؓ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگراللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land marks کے طور پر مان لیا جائے تو پھر اُن کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہو سکتی‘ وہ تو اللہ اور رسولﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا‘ کوکا کولا‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اختیارِ مطلق ( Absolute Authority) اور اقتدارِ اعلیٰ (sovereignty) اکثریت کے پاس ہوتو اس صورتِ حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔چنانچہ اس حوالے سے دین اسلام کا اصول یہ ہے کہ کلی اختیار اور اقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ تعالیٰ کے پاس رہے گا‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہر چیز کا خالق اور مالک ہے ۔ البتہ اُس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔

اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾

’’یہ نہیں پیروی کر رہے مگرظن و تخمین کی اور یہ نہیں کچھ کر رہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ اندازے مقرر کر رکھے ہیں۔‘‘

یعنی یہ لوگ محض گمان کی پیروی کر تے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلا کر قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

آیت 117

اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ یَّضِلُّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۷﴾

’’یقینا آپؐکا ربّ خو ب جانتا ہے ان کو جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں‘ اور وہ خوب واقف ہے ان سے بھی جو ہدایت کی راہ پر ہیں۔‘‘

118-121

معیار حقِ شریعت ہے،موروثی تصّورات نہیں

ویڈیو

فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ بِاٰیٰتِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾ وَ ذَرُوۡا ظَاہِرَ الۡاِثۡمِ وَ بَاطِنَہٗ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡسِبُوۡنَ الۡاِثۡمَ سَیُجۡزَوۡنَ بِمَا کَانُوۡا یَقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۲۰﴾ وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۱۲۱﴾

آیت 118

فَکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ بِاٰیٰتِہٖ مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾

’’پس کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اگر تم اُس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں مشرکینِ عرب کے جاہلانہ نظریات اور توہمات کا رد کیا گیا ہے۔

آیت 119

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ

’’اور تمہیں کیا ہے کہ تم نہیں کھاتے وہ چیزیں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو‘‘

یہ بحیرہ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام وغیرہ (بحوالہ المائدۃ :۱۰۳) کے بارے میں تمہارے تمام عقیدے من گھڑت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی پابندیاں اپنے بندوں پرنہیں لگائیں۔ لہٰذا حلال جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا کرو اور بلا کراہت ان کا گوشت کھایا کرو۔

وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ

’’جب کہ اللہ تفصیل بیان کر چکا ہے تمہارے لیے ان چیزوں کی جو حرام کی گئی ہیں تم پر‘‘

یہ تفصیل سورۃ النحل ‘آیت ۱۱۵ میں آئی ہے ۔ سورۃ النحل چونکہ سورۃالانعام سے پہلے نازل ہوئی تھی اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ حلال چیزوں کی تفصیل تمہارے لیے پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔

اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ

’’سوائے اُس چیز کے کہ تم مجبور ہو جاؤ اُس (کے کھانے) کے لیے۔‘‘

اس قانون میں بھی تمہارے لیے گنجائش ہے کہ اگر اضطرار ہے‘ جان پر بنی ہوئی ہے‘ بھوک سے جان نکل رہی ہے تو ان حرام چیزوں میں سے بھی کچھ کھا کر جان بچائی جا سکتی ہے۔

وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

’’اور یقینا بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں۔ یقینا آپؐ کا ربّ خوب جانتا ہے حد سے تجاوز کرنے والوں کو۔‘‘

آیت 120

وَ ذَرُوۡا ظَاہِرَ الۡاِثۡمِ وَ بَاطِنَہٗ ؕ

’’اورچھوڑ دو (ہر طرح کے ) گناہ کو‘ وہ کھلا ہو یا چھپا ہوا۔‘‘

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡسِبُوۡنَ الۡاِثۡمَ سَیُجۡزَوۡنَ بِمَا کَانُوۡا یَقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۲۰﴾

’’ یقینا جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں جلد ہی بدلہ ملے گا اس کا جو وہ جمع کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 121

وَ لَا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا لَمۡ یُذۡکَرِ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسۡقٌ ؕ

’’اور مت کھاؤ اُس میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو‘ اور یقینا یہ (اس کا کھانا) گناہ ہے۔‘‘

اس آیت کا تعلق بھی مشرکینِ عر ب کے خود ساختہ اعتقادات اور توہمات سے ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام سرے سے لینا ہی نہیں چاہیے۔ یہ حکم ایک خاص مسئلے کے حوالے سے ہے‘ جس کی وضاحت آگے آیت ۱۳۸ کے تحت آئے گی۔

وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۱۲۱﴾

’’ اور یقینا یہ شیاطین اپنے ساتھیوں کو وحی کرتے رہتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑا کریں‘ اور اگر تم ان کا کہنا مانو گے تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔‘‘

مشرکینِ مکہ اپنے غلط اعتقادات کی حمایت میں طرح طرح کی حجت بازی کرتے رہتے تھے‘ مثلاً یہ کیا بات ہوئی کہ جو جانور اللہ نے مارا ہے یعنی ازخود مر گیا ہے اسے کیوں حرام قرار دے دیاجائے اور جس کو تم خود مارتے ہو یعنی ذبح کرتے ہو اس کو آخر کس دلیل کے تحت حلال مان لیا جائے ؟ اسی طرح وہ سود کے بارے میں بھی یہ دلیل دیتے تھے کہ {اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ} (البقرۃ :۲۷۵) ’’ کہ یہ بیع بھی تو ربا (سود)ہی کی طرح ہے‘‘۔ جیسے تجارت میں نفع ہوتا ہے ایسے ہی سودی لین دین میں بھی نفع ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دس لاکھ کسی کو قرض دیے‘ اس سے چار ہزار روپے ماہانہ منافع لے لیا تو وہ ناجائز اور دس لاکھ کا مکان کسی کو کرائے پر دے کر چار ہزار روپے ماہانہ اس سے کرایہ لیا جائے تو وہ جائز!ایسے اشکالات کے بارے میں یہاں بتایا جا رہا ہے کہ اس طرح کی باتیں ان کے شیاطین انہیں سکھاتے رہتے ہیں تا کہ وہ تم سے مجادلہ کریں‘ تاکہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گمراہی کے راستے پر لے چلیں ۔ لہٰذا تم ان کی اس طرح کی باتوں کو نظر انداز کرتے رہا کرو۔

122

غفلت کی زندگی بسر کرنے والا مردہ ہے

ویڈیو

اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ وَ جَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمۡشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

آیت 122

اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ

’’ بھلا جو کوئی تھا مردہ ‘ پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا‘‘

اس سے معنوی حیات و ممات مراد ہے۔ یعنی ایک شخص جو اللہ سے واقف نہیں تھا‘ صرف دُنیا کا بندہ بنا ہوا تھا‘ اس کی انسانیت در حقیقت مردہ تھی‘ وہ حیوان کی حیثیت سے تو زندہ تھا لیکن بحیثیت انسان وہ مردہ تھا‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی ہدایت دی تواس کے بعد گویا وہ زندہ ہو گیا۔

وَ جَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمۡشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡہَا ؕ

’’اور ہم نے اُس کے لیے روشنی کر دی‘ اب ا س کے ساتھ وہ چل رہا ہے لوگوں کے مابین‘ کیا وہ اُس شخص کی طرح ہو جائے گا جو اندھیروں میں (بھٹک رہا) ہو اور اس سے وہ نکلنے والا بھی نہ ہو۔ ‘‘

کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

’’اسی طرح مزین کر دیا گیا ہے ان کافروں کے لیے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔‘‘

مثال کے طور پر ایک وہ شخص تھا جس نے نظریاتی معاملات کی پیچیدگیوں کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں کی تھی‘ لیکن پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی‘ نورِ قرآن سے اس کے سینے کو منور کر دیا‘ اب وہ اس نور میں آگے بڑھا اور بڑھتا چلا گیا۔جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حق کی طرف متوجہ ہونے میں چھ سال لگ گئے ۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی چھ سال بعد ایمان لائے‘لیکن ایمان لانے کے بعد انہوں نے قرآن کو مشعلِ راہ بنایا اور اللہ کے راستے میں سرفروشی کی لازوال مثالیں پیش کیں۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی تھے جو ساری عمر جہالت کے اندھیروں میں ہی بھٹکتے رہے اور اسی حالت میں انہیں موت آگئی۔تو کیا یہ دونوں طرح کے لوگ برابر ہو سکتے ہیں؟

یوٹیوب پر دیکھیے