وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ
’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین ‘‘
سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے‘ انبیاء کرام علیہم السلام کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کی ضرورت تھی‘ پھر اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوںکھڑا کر دیا؟ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا بہت اہم قانون ہے جس کے بارے میں راہِ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ مقصود اس سے سچائی اور خلوص کاامتحان ہے۔ ظاہر ہے اگر حق و باطل میں باہم کشاکش نہیں ہو گی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار؟ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے؟یہ دنیا تو بنی ہی آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں اگرشر کا وجود ہی نہ ہو‘ اور ہر جگہ خیر ہی خیر ہو تو خیر کے طلبگاروں کی آزمائش کیسے ہو گی؟ لہٰذا یہاں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ کشمکش کی فضا ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ ہم خود حق پر چلنے والوں کو تلاطم خیز موجوں کے سپرد کر کے ان کی استقامت کو پرکھتے ہیں اور پھر ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتے ہیں۔ لہٰذا اس بارگاہ میں جو جتنا قریب ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ آزمایا جاتا ہے ‘ پھر جو جتنی استقامت دکھاتا ہے اور جو جتنا ایثار کرتا ہے ‘ اتنا ہی اُس کا مرتبہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ راہِ حق کے مسافروں کو آزمائشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے: ؎
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !
یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ
’’وہ ایک دوسرے کو اشاروں کنایوں میں پرفریب باتیں پہنچاتے رہتے ہیں گمراہ کرنے کے لیے۔‘‘
مثلاً ایک جن شیطان آ کر اپنے ساتھی انسان شیطان کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ شاباش اپنے موقف پر ڈٹے رہو‘ اسی کا نام استقامت ہے۔ دیکھو کہیں پھسل نہ جانااور اپنے مخالف کے موقف کو قبول نہ کر لینا… ان کا آپس میں اس طرح کا گٹھ جوڑ یونہی چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اُن کو ایسا کرنے کے لیے چھوٹ دے رکھی ہے۔
وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ
’’اور اگر آپ کا ربّ چاہتا تو وہ یہ نہ کر سکتے‘‘
ظاہر بات ہے کہ اس کائنات میں کوئی ایک پتا بھی اللہ تعالیٰ کے اِذن کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ ابو جہل کی کیا مجال تھی کہ وہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہاکو شہید کرتا۔ وہ برچھا اٹھاتا بھی تو اُس کا ہاتھ شل ہو جاتا۔ لیکن یہ تو اللہ کی طرف سے چھوٹ تھی کہ ٹھیک ہے ‘تم ہماری اس بندی کو جتنا آزمانا چاہتے ہو آزمالو۔ ان آزمائشوں سے ہمارے ہاں اس کے مراتب بلند سے بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ یٰس میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے پر انعامات کا ذکر ہوا ہے: {قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿۲۷﴾} ’’اُس نے کہا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہو جائے کہ کس طرح میرے ربّ نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں سے بنادیا ‘‘۔ یعنی اُدھر دنیا میں تومیری شہادت کے بعد صفِ ماتم بچھی ہو گی‘ سب گھر والے میری جدائی میں نڈھال ہوں گے‘ بچے رو رو کر ہلکان ہو رہے ہوں گے‘ لیکن کاش وہ جان سکتے کہ مجھے میرے ربّ نے کس کس طرح سے نوازا ہے‘ کیسے کیسے انعامات کی یہاں مجھ پر بارش کی گئی ہے اور میں یہاں کس عیش و آرام میں ہوں! اگر انہیں میرے اس اعزاز و اکرام کی کچھ بھی خبر ہوجاتی تو رونے دھونے کی بجائے وہ خوشیاں منا رہے ہوتے۔
فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
’’تو چھوڑیے آپؐ ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو ۔‘‘
یہ ہماری سنت ہے‘ ہمارا طریقہ ہے ‘ ہم نے خود ان کو یہ سب کچھ کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے‘ لہٰذا آپؐ ان سے اعراض فرمائیے اور ان کو ان کی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دیجیے۔
وَ لِتَصۡغٰۤی اِلَیۡہِ اَفۡـِٕدَۃُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ
’’اور(ایسا اس لیے ہے) تا کہ مائل ہو جائیں اس کی طرف ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے‘‘
وَ لِیَرۡضَوۡہُ وَ لِیَقۡتَرِفُوۡا مَا ہُمۡ مُّقۡتَرِفُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
’’اور تا کہ وہ اس کو پسند بھی کریں اور پھر وہ اپنے برے اعمال کا جو بھی انبار جمع کرنا چاہتے ہیں جمع کر لیں۔‘‘
اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ اگر پانی کا برقی رو کے ذریعے تجزیہ) (electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز (ions) الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کے ذریعے کھرے اور کھوٹے کی ionization کرتا ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہلِ باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز واضح ہو جاتی ہے۔ سورئہ آلِ عمران (آیت۱۷۹) میں اللہ تعالیٰ کے اس قانون کا ذکر بایں الفاظ ہوا ہے : {حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ} ’’تا کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے‘‘۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک اور ناپاک عناصرگڈ مڈ ہوئے ہوتے ہیں‘ لیکن جب آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں‘ امتحانات آتے ہیں تو یہ خبیث اور طیب عناصر واضح طور پر الگ الگ ہو جاتے ہیں‘ یعنی منافق علیحدہ اور اہلِ ایمان علیحدہ ہو جاتے ہیں ۔ آیت زیرنظر کے مطابق شیاطینِ انس و جن کو کھل کھیلنے کی مہلت اسی حکمت کے تحت فراہم کی جاتی ہے اورمنکرینِ آخرت کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اُن شیاطین کی طرف سے پھیلائے ہوئے بے سروپا نظریات کی طرف مائل ہونا چاہیں تو بے شک ہو جائیں۔