تحریر

الأنعام

آیات ۹۱ تا ۱۰۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

91-92

یہود کا ایک اور جھوٹ

ویڈیو

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّ ہُدًی لِّلنَّاسِ تَجۡعَلُوۡنَہٗ قَرَاطِیۡسَ تُبۡدُوۡنَہَا وَ تُخۡفُوۡنَ کَثِیۡرًا ۚ وَ عُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ لَاۤ اٰبَآؤُکُمۡ ؕ قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ فِیۡ خَوۡضِہِمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ﴿۹۱﴾ وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿۹۲﴾

تمہید

اس سورت میں اب تک کی گفتگو کا رخ مشرکین مکہ کی طرف تھا۔ لیکن زیر مطالعہ آیات میں اس ردّو قدح کا ذکر ہو نے جا رہا ہے جو مکہ کے لوگ یہودیوں کے سکھانے پڑھانے پر حضورﷺ سے کر رہے تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ دونوں سورتیں (سورۃ الانعام اور سورۃالاعراف) مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئیں۔اُس وقت تک حضورﷺ کی رسالت ‘نبوت اور دعوت کا چرچا مدینہ منورہ میں بھی پہنچ چکا تھا اوراہلِ کتاب (یہود) نے خطرے کوبھانپ کروہیں بیٹھے بیٹھے آپؐ کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کر دی تھیں۔ ان لوگوں نے تو ضد اور ہٹ دھرمی میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان مسلمانوں سے مشرکین بہتر ہیں جو بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ کہ اللہ کبھی کسی انسان پر اپنا کلام نازل نہیں کرتا۔

آیت 91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ

’’اور انہوں نے ہر گزاللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کا حق تھا جب انہوں نے کہا کہ نہیں اتاری ہے اللہ نے کسی بھی انسان پر کوئی بھی چیز۔‘‘

وحی الٰہی کے بارے میں یہ صاف انکار (categorical denial) ان لوگوں کا تھا جو خود کو الہامی کتاب کے وارث سمجھتے تھے۔ اہل مکہ چونکہ آسمانی کتابوں سے واقف ہی نہیں تھے اس لیے انہوں نے حضورﷺ کی نبوت اور وحی کا ذکر یہود سے کیا اور اُن سے رائے پوچھی۔ اس پر یہودیوں کا جواب یہ تھا کہ یہ سب خیال اوروہم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کبھی کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اہل مکہ نے قرآن مجید کے بارے میں یہ اعتراض چونکہ یہودیوں کے پڑھانے پر کیا تھا اس لیے مشرکین مکہ کو اس کاجواب دینے کے بجائے برا ہِ راست یہود کو مخاطب کیاگیا اور ان سے پوچھا گیا کہ اگر اللہ نے کسی انسان پر کبھی کچھ نازل نہیں کیا تو:

قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ الَّذِیۡ جَآءَ بِہٖ مُوۡسٰی نُوۡرًا وَّ ہُدًی لِّلنَّاسِ

’’آپؐ پوچھئے کہ پھر کس نے اُتاری تھی وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آئے تھے جو خود نور (روشن) تھی ا ور لوگوں کے لیے ہدایت بھی تھی؟‘‘

توکیا تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے من گھڑت تھی؟ کیا انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا؟

تَجۡعَلُوۡنَہٗ قَرَاطِیۡسَ تُبۡدُوۡنَہَا وَ تُخۡفُوۡنَ کَثِیۡرًا ۚ

’’تم نے اسے ورق ورق کر دیا ہے ‘ اس (کے احکام)میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو۔‘‘

یہود اپنی الہامی کتاب کے ساتھ جو سلوک کرتے رہے تھے وہ بھی انہیں جتلا دیا۔ یہودی علماء نے تورات کے احکام کو نہ صرف پسند اور نا پسند کے خانوں میں تقسیم کر رکھا تھا بلکہ اپنے من مانے فتوے فروخت کرنے کی غرض سے وہ تورات کو اس حد تک چھپا کر رکھتے تھے کہ عام لوگوں کی دسترس اس تک نا ممکن ہو کر رہ گئی تھی۔

وَ عُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ لَاۤ اٰبَآؤُکُمۡ ؕ

’’اور تمہیں سکھائی گئی تھیں (تورات کے ذریعے سے )وہ سب باتیں جو نہ تم جانتے تھے اورنہ تمہارے آباء و اَجداد ۔‘‘

قُلِ اللّٰہُ ۙ

’’کہیے (یہ سب نازل کیا تھا ) اللہ نے ‘‘

یعنی انہیں یاد دلایئے کہ تمہاری اپنی الہامی کتابیں تورات اورانجیل بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اب یہ قرآن بھی اللہ ہی نے نازل فرمایا ہے۔

ثُمَّ ذَرۡہُمۡ فِیۡ خَوۡضِہِمۡ یَلۡعَبُوۡنَ ﴿۹۱﴾

’’پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ یہ اپنی کج بحثیوں کے اندر کھیلتے رہیں۔‘‘

آیت 92

وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ لِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا ؕ

’’اور (اسی طرح کی) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے‘ بڑی با برکت ہے ‘ تصدیق کرنے والی ہے اُس کی جواس کے سامنے موجود ہے‘ تا کہ آپؐ خبردار کر دیں اُمّ القریٰ (مکہ) اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو۔‘‘

قُرٰی جمع ہے قریہ کی اور اُمُّ القُرٰی کا مطلب ہے بستیوں کی ماں‘ یعنی کسی علاقے کا سب سے بڑا شہر۔ ہر ملک میں ایک سب سے بڑا اور سب سے اہم شہر ہوتا ہے‘ جسے اس ملک کا دار الخلافہ یا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ وہ بڑا شہر پورے ملک کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ عرب میں نزولِ قرآن کے وقت کوئی مرکزی حکومت تو نہیں تھی جس کا کوئی دارالحکومت ہوتا‘ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر مکہ مکرمہ کو پورے عرب میں ایک مرکزی شہر کی حیثیت ضرور حاصل تھی۔ ظاہر ہے خانہ کعبہ کی وجہ سے یہ شہر مذہبی مرکز تھا۔ عرب کے تمام قبائل ہر سال یہاں حج کے لیے آتے تھے۔ کعبہ ہی کی وجہ سے قریش مکہ کو خطے کی تجارتی سر گرمیوںمیں ایک خاص اجارہ داری (monopoly) حاصل تھی۔ اسی وجہ سے اہل مکہ کے ہاں پیسے کی ریل پیل تھی اور عام لوگ خوشحال تھے۔ یہاں سارا سال تجارتی قافلوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ یمن سے قافلے چلتے تھے جو مکہ سے ہو کر شام جاتے تھے اور شام سے مکہ کے راستے یمن جاتے تھے۔ان وجوہات کی بنا پر شہر مکہ بجا طور پر علاقے میں ’ ’اُمُّ القرٰی‘‘ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ اے نبیﷺ ہم نے آپؐ کی طرف یہ کتاب مبارک نازل کی ہے تاکہ آپ ؐ اُمُّ الْـقرٰی میں بسنے والوں کو خبردار کریں اور پھر اُن کو بھی جو اس کے ارد گرد بستے ہیں۔

یہاں پر وَمَنْ حَوْلَھَا کے الفاظ میں جو فصاحت اور وسعت ہے اسے بھی سمجھ لیں ۔ ’’ماحول ‘‘کا دائرہ بڑھتے بڑھتے لامحدود ہوجاتاہے۔ چنانچہ وَمَنْ حَوْلَھَا کا ایک دائرہ تو مکہ کے حوالے سے بالکل قریبی اور immediate علاقوں تک تصور کیا جائے گا ‘ پھر اس سے باہر قدرے زیادہ فاصلے پر ‘ اور پھر اس سے باہر مزید فاصلے پر۔ اس طرح یہ دائرہ پھیلتے پھیلتے پورے کرۂ ارض پر محیط ہو جائے گا۔ دورِ نبوی ؐمیں کرۂ ارض کی آبادی بظاہر ایشیا‘ یورپ اور افریقہ پر ہی مشتمل تھی۔ امریکہ بہت بعد میں دریافت ہوا‘جبکہ آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا بھی اس وقت تک معلوم دنیا کا حصہ نہ تھے۔ دُنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو ایشیا‘ یورپ اور افریقہ تینوں براعظم جہاں پر ملتے ہیں ‘تقریباً یہ علاقہ وہ ہے جسے اب ’’مڈل ایسٹ‘‘ یا مشرقِ وسطیٰ کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ نام (مڈل ایسٹ) اس علاقے کے لیے misnomer ہے‘ یعنی درست نام نہیں ہے‘ لیکن بہرحال یہ علاقہ ایک نقطۂ اتصال ہے جہاں ایشیا‘ یورپ اور افریقہ آپس میں ملتے ہیں اور اس جنکشن پر جزیرہ نمائے عرب واقع ہے۔ چنانچہ یہ علاقہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بھی پوری دنیا کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔گویا مَنْ حَوْلَـھَا کے دائرے میں پوری دنیا شامل سمجھی جائے گی ۔

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ

’’اوروہ لوگ جو آخرت پرایمان رکھتے ہیں اس (قرآن) پر بھی ایمان لے آئیں گے‘‘

یعنی قرآن کے مخاطب لوگوں میں سے کچھ تو مشرک ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بعث بعد الموت کے سرے سے ہی منکر ہیں‘ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونے کاذرا سا بھی تصور موجود ہے وہ ضروراس پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اشارہ صالحین اہل کتاب کی طرف ہے۔

وَ ہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ ﴿۹۲﴾

’’اور وہی اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘

93

جھوٹوں پر موت کی سختی

ویڈیو

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ وَّ مَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوۡۤا اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ کُنۡتُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہٖ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۹۳﴾

آیت 93

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ وَ لَمۡ یُوۡحَ اِلَیۡہِ شَیۡءٌ

’’اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جس نے کوئی بات گھڑ کر اللہ سے منسوب کر دی یا ( اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا) جو یہ کہے کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے جب کہ اس پر کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو‘‘

کوئی بات خود سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دینا یا یہ جھوٹا دعویٰ کرنا کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی گئی ہے یہ دونوں شناعت کے اعتبار سے برابر کے گناہ ہیں۔ تو اے اہل مکہ! ذرا غورتو کرو کہ محمدﷺ جنہوں نے تمہارے درمیان ایک عمر بسر کی ہے کیا آپؐ کی سیرت اور آپ ؐکے کردار میں تم کوئی ایسا پہلو دیکھتے ہو کہ آپؐ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب بھی ہوسکتے ہیں؟ اور ان دو باتوں کے سا تھ ایک تیسری بات :

وَّ مَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ ؕ

’’اور جو کہے کہ میں بھی اتار سکتا ہوں جیسا کلام اللہ نے اُتار اہے۔‘‘

اگرچہ اہل عرب اچھی طرح سمجھتے تھے کہ قرآن کی نظیر پیش کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں‘ پھر بھی زبان سے الفاظ کہہ دینے کی حد تک کسی نے ایسا کہہ دیا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے زبان دانی کا دعویٰ کرنے والے ماہرین ‘ شعراء اور اُدَباء سمیت اس معاشرے کے تمام لوگوں کو ایک بار نہیں ‘ بار بار یہ چیلنج کیا کہ تم سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھ جاؤ اور اس جیسا کلام بنا کر دکھاؤ‘ لیکن کسی میں بھی اس چیلنج کا جواب دینے کی ہمت نہ ہو سکی۔

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوۡۤا اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ

’’اور کاش تم دیکھ سکتے جبکہ یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہو ں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ آگے بڑھا رہے ہوں گے (اور کہہ رہے ہوں گے) کہ نکالو اپنی جانیں۔ ‘‘

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ کُنۡتُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہٖ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۹۳﴾

’’ آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا بسبب اس کے جو تم کہتے رہے تھے اللہ کی طرف منسوب کر کے نا حق باتیں اور جو تم اللہ کی آیات سے متکبرانہ اعراض کرتے رہے تھے۔‘‘

94

روزِ قیامت تمام انسانوں کا دوسرا اجتماع ہوگا

ویڈیو

وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ ۚ وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا ؕ لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَیۡنَکُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡکُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿٪۹۴﴾

آیت 94

وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ

’’( پھر ان سے کہا جائے گا) اور اب آگئے ہونا! ہمارے پاس اکیلے اکیلے ‘ جیسا کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ‘‘

یعنی آج اپنے تمام لائو لشکر ‘ مال و متاع اور خدم و حشم سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہو‘ آج کوئی بھی ‘ کچھ بھی تمہاری مدد کے لیے تمہارے ساتھ نہیں۔ یہی بات سورئہ مریم میں اس طرح کہی گئی ہے : {وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾} کہ قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ انفرادی حیثیت میں ہو گا۔ اور ظاہر ہے اس کے لیے ہر کوئی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اکیلا کھڑا ہو گا‘نہ کسی کے رشتہ دار ساتھ ہوں گے‘ نہ ماں باپ‘ نہ اولاد ‘ نہ بیوی‘ نہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر‘ نہ سازو سامان نہ خدم و حشم!

یہاں ایک اور اہم نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔ خَلَقْنٰــکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق دو مرتبہ ہوئی ہے۔ ایک تخلیق عالم اَرواح میں ہوئی تھی‘ وہاں بھی ہر انسان اکیلا تھا ‘ نہ کسی کا باپ ساتھ تھا نہ کسی کی ماں ۔ تب ارواح کے مابین کوئی رشتہ داری بھی نہیں تھی۔ یہ رشتہ داریاں تو بعد میں عالمِ خلق میں آ کر وجود میں آتی ہیں۔ آیت زیرنظر میں عالم ارواح کی اِسی تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ عالمِ ارواح کے اُس اجتماع میں بنی نوعِ انسان کے ہر فرد نے وہ عہد کیا تھا جسے ’’عہدِ الست‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب پروردگارِ عالم نے اولادِ آدم کی ارواح سے سوال کیا : {اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ} ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘ تو سب نے جواب دیا : {بَلٰی ۚۛ } (الاعراف:۱۷۲) ’ ’کیوں نہیں!‘‘ عالمِ ارواح کے اجتماع اور روزِ محشر کے اجتماع میں ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مشابہت۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں مجرد اَرواح کی شمولیت ہوئی تھی‘ اُس وقت تک انسانوں کو جسم عطا نہیں ہوئے تھے‘ جب کہ روزِ محشر کے اجتماع میں تمام انسان دُنیوی اجسام کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان دونوں اجتماعات میں مشابہت یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں بھی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپؑ کی نسل کے آخری انسان تک سب کی ارواح موجود تھیں اور قیامت کے دن بھی یہ سب کے سب انسان اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے۔

وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ ۚ

’’اور تم چھوڑ آئے ہو اپنے پیچھے وہ سب کچھ جس میں ہم نے تمہیں لپیٹ دیا تھا۔‘‘

وہ کون سی چیزیں ہیں جن میں یہاں اس دنیا میں ہمیں لپیٹ دیا گیا ہے‘ اس پر غور کی ضرورت ہے۔ انسان کے حوالے سے اصل چیز تو اس کی روح ہے۔ اس روح کے لیے پہلا غلاف انسان کا جسم ہے ‘ پھر اس غلاف کے اوپر کپڑوں کا غلاف ہے‘ کپڑوں کے اوپر پھر مکان کا غلاف اور پھر دیگر اشیائے ضرورت۔ اس طرح روح کے لیے جسم اور جسم کی ضروریات کے لیے تمام مادّی اشیاء یعنی اس دنیا کا سازو سامان وغیرہ سب کچھ اس میں شامل ہے۔ ہماری روح درحقیقت ان مادی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ قیامت کے دن ارشا د ہو گا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے حاضر ہوئے ہو اور دنیا کی تمام مادی چیزیں اپنے پیچھے چھو ڑ آئے ہو۔

وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا ؕ

’’اور ہم نہیں دیکھ رہے تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی بھی جن کے بارے میں تمہیں زعم تھا کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں۔‘‘

ان مجرم لوگوں کو اپنے جن معبودوں کے بارے میں زعم تھا کہ وہ ان کے لیے قیامت کے دِن شفاعت کریں گے وہ سب وہاں اُن سے اعلانِ براء ت کر دیں گے۔ لات‘ منات‘ عزی اور دوسرے معبود انِ باطل تو کسی شمار و قطار ہی میں نہیں ہوں گے‘ اس سلسلے میں انبیاء کرام علیہم السلام‘ملائکہ اور اولیاء اللہ سے لگائی گئی اِن کی امیدیں بھی اُس روز بر نہیں آئیں گی۔

لَقَدۡ تَّقَطَّعَ بَیۡنَکُمۡ

’’اب تمہارے مابین سارے رشتے ٹوٹ چکے‘‘

وَ ضَلَّ عَنۡکُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿٪۹۴﴾

’’اور وہ سب چیزیں تم سے گم ہو گئیں جن کا تم زعم کیا کرتے تھے۔‘‘

آج اُن ہستیوں میں سے کوئی بھی تمہارے ساتھ نظر نہیں آ رہا جن کی سفارش کی امید کے سہارے پر تم حرام خوریاں کیا کرتے تھے ۔

95-99

اللہ کی نعمتوں کا بیان

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی ؕ یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ مُخۡرِجُ الۡمَیِّتِ مِنَ الۡحَیِّ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۹۵﴾ فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ ۚ وَ جَعَلَ الَّیۡلَ سَکَنًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۹۶﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوۡمَ لِتَہۡتَدُوۡا بِہَا فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۷﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسۡتَقَرٌّ وَّ مُسۡتَوۡدَعٌ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّفۡقَہُوۡنَ ﴿۹۸﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡہُ خَضِرًا نُّخۡرِجُ مِنۡہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ وَ مِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِہَا قِنۡوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُشۡتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ یَنۡعِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمۡ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۹۹﴾

آیت 95

اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی ؕ

’’یقینا اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔‘‘

عالمِ خلق کے اندر جو اُمور اور معاملات معمول کے مطابق وقوع پذیر ہو رہے ہیں ‘ یہاں اُن کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی زمین میں دبائی گئی ‘کچھ دیر کے بعد وہ گٹھلی پھٹی اور اس میں سے دو پتے نکلے۔ اسی طرح پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ بظاہر یہ سب کچھ خود بخود ہو تا نظر آتا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ نظام اُن فطری قوانین کے تحت چل رہا ہے جو اللہ نے اس دنیا میں فزیکل اور کیمیکل تبدیلیوں کے لیے وضع کر رکھے ہیں۔ اس لیے اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حقیقت کا ذکر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ نے اپنے وصایا میں بڑے مؤثر انداز سے کیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے میرے بچے اس حقیقت کو ہر وقت مستحضر رکھنا کہ ’’ لَا فاعلَ فی الحقیقۃ ولا مؤثِّر اِلّا اللّٰہ‘‘ یعنی حقیقت میں فاعل اور مؤثر اللہ کے سواکوئی نہیں۔ مختلف اشیا ء میں جو تاثیر ہے وہ اُسی کی عطا کردہ ہے اور اُسی کے اِذن سے ہے ۔ انسان کسی فعل کا ارادہ تو کر سکتا ہے لیکن کسی فعل کا بالفعل انجام پذیر ہونا اس کے اختیار میں نہیں ہے ‘ کیونکہ ہر فعل اللہ کے حکم سے انجام پذیرہو تا ہے ۔

یُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ مُخۡرِجُ الۡمَیِّتِ مِنَ الۡحَیِّ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۹۵﴾

’’وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ میں سے اور وہی نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ میںسے۔یہی تو ہے اللہ ( اس کو پہچانو) لیکن تم کدھر الٹے جا رہے ہو!‘‘

آیت 96

فَالِقُ الۡاِصۡبَاحِ ۚ

’’وہی ہے صبح کو پھاڑنے والا۔‘ ‘

یہ ’’فلق ‘‘کی دوسری قسم ہے کہ اللہ ہی رات کی سیاہی کا پردہ چاک کر کے سپیدئہ سحر کو نمودار کرتا ہے۔ بظاہریہ بھی خود بخود زمین کی گردش کے تحت ہوتا نظر آتا ہے‘ لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ رات دن کا تغیر و تبدل اللہ کے تصرف اوراس کی تدبیر کے بغیر ہو رہا ہے۔ یہ سب بھی انہی قوانین کے تحت وقوع پذیر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے زمین ‘ چاند‘ سورج اور دوسرے اجرامِ فلکی کے بارے میں بنا دیے ہیں۔ چنانچہ اس سب کچھ کا فاعل حقیقی بھی وہی ہے۔

وَ جَعَلَ الَّیۡلَ سَکَنًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ؕ

’’اُس نے بنا دیا رات کو سکون کا وقت اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے۔‘‘

یہ التّذکیر بِآ لَائِ اللّٰہ کی مثالیں ہیں‘ جن کے حوالے سے اللہ کی عظمت‘ اُس کی صفات اور اُس کی قدرت کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک لگا بندھا نظام ہے جس کے تحت سورج ‘ چاند اور دیگر اجرامِ فلکی محو گردش ہیں۔ اسی نظام سے دن اور رات بنتے ہیں اور اسی سے مہینے اور سال وجود میں آتے ہیں۔

ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۹۶﴾

’’یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اُس ہستی کا جو زبر دست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 97

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوۡمَ لِتَہۡتَدُوۡا بِہَا فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ

’’اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم ان سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ پاؤ۔‘‘

پرانے وقتوں میں راتوں کو قافلے ستاروں سے سمت متعین کر کے چلتے تھے۔ اسی طرح سمندر میں جہاز رانی کے لیے بھی ستاروں کی مدد سے ہی رخ متعین کیا جاتا تھا۔

قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۷﴾

’’ہم نے تو اپنی نشانیاں تفصیل سے بیان کر دی ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔‘‘

آیت 98

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ

’’ اور وہی ہے جس نے تمہیں اٹھایا ایک جان سے‘‘

ظاہر ہے کہ تمام نوعِ انسانی ایک ہی جان سے وجود میں آئی ہے۔ اس سے حضرت آدم علیہ السلام بھی مراد ہوسکتے ہیں اور جو لوگ نظریۂ ارتقاء کے حوالے سے بات کرتے ہیں وہ تحقیق کے اس سفر کو امیبا (Amoeba) سے شروع کرتے ہیں کہ اس ایک جان سے مختلف ارتقائی مراحل طے کر تے ہوئے انسان بنا۔ امیبا میں کوئی sex یعنی تذکیر و تانیث کا معاملہ نہیں تھا۔ دورانِ ارتقاء رفتہ رفتہ sex ظاہر ہوا تو {خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا} (النسائ: ۱) والا مرحلہ آیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے اپنی کتاب ’’قرآن اور علم جدید ‘‘ میں بہت عمدہ تحقیق کی ہے اور مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے بھی اس کی تصویب کی ہے ۔ جن حضرات کو اس موضوع سے دلچسپی ہو وہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

فَمُسۡتَقَرٌّ وَّ مُسۡتَوۡدَعٌ ؕ

’’پھر تمہارے لیے ایک تو مستقل ٹھکانہ ہے اور ایک کچھ دیر (امانتاً) رکھے جانے کی جگہ۔‘‘

فَمُسۡتَقَرٌّ وَّ مُسۡتَوۡدَعٌ ؕ

’’پھر تمہارے لیے ایک تو مستقل ٹھکانہ ہے اور ایک کچھ دیر (امانتاً) رکھے جانے کی جگہ۔‘‘

’’ مستقر ‘‘ اور’’مستودع‘‘کے بارے میں مفسرین کے تین اقوال ہیں:

پہلا قول یہ ہے کہ ’’مستقر ‘‘یہ دنیا ہے جہاں ہم رہ رہے ہیں اور ’’مستودع‘‘ سے مراد رحمِ مادر ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ’’مستقر‘‘ آخرت ہے اور ’’مستودع ‘‘قبر ہے۔ قبر میں انسان کو عارضی طور پر امانتاً رکھا جاتا ہے۔ یہ عالم برزخ ہے اور یہاں سے انسان نے بالآخر اپنے ’’مستقر ‘‘(آخرت )کی طرف جانا ہے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ ’’مستقر ‘‘آخرت ہے اور ’’مستودع ‘‘دنیا ہے۔ دنیا میں جو وقت ہم گزار رہے ہیں یہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی عارضی ہے۔

قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّفۡقَہُوۡنَ ﴿۹۸﴾

’’ہم نے تو اپنی آیات کو واضح کر دیا ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ سے کام لیں۔‘‘

آیت 99

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ

’’ اور وہی ہے جس نے اتارا آسمان (یا بلندی) سے پانی۔‘‘

فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیۡءٍ فَاَخۡرَجۡنَا مِنۡہُ خَضِرًا نُّخۡرِجُ مِنۡہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ

’’ پھر ہم نے نکالی اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات‘ پھر ہم نے اُگائے اس سے سرسبز کھیت‘ جن میں سے ہم نکالتے ہیں دانے تہ بر تہ ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے۔‘‘

کسی بھی فصل یا اناج کا سٹہ دیکھیں تو اس کے دانے نہایت خوبصورتی اور سلیقے سے باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وَ مِنَ النَّخۡلِ مِنۡ طَلۡعِہَا قِنۡوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُشۡتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ

’’اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے خوشے ‘اور (ہم نے بنا دیے) باغات انگوروں کے اور زیتون اور انارکے جو (رنگ‘ شکل اور ذائقے کے اعتبار سے) آپس میں مشابہ بھی ہیں اور مختلف بھی۔‘‘

اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ یَنۡعِہٖ ؕ

’’دیکھو اس کے پھل کو جب وہ پھل لاتا ہے اور دیکھو اس کے پکنے کو جب وہ پکتا ہے۔‘‘

یعنی مختلف درختوں کے پھل لانے اورپھر پھل کے پکنے کے عمل کو ذرا غور سے دیکھا کرو۔ یہاں پر وَیَنْعِہٖ کے بعد ’’اِذَا اَیْـنَعَ‘‘ (جب وہ پک جائے)محذوف مانا جائے گا ۔ یعنی اس کے پکنے کو دیکھو کہ کس طرح تدریجاً پکتا ہے۔ پہلے پھل آتا ہے‘ پھر تدریجاً اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں‘ جسامت میں بڑھتا ہے‘ پھر کچی حالت سے آہستہ آہستہ پکنا شروع ہوتا ہے۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمۡ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۹۹﴾

’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

ایسی نشانیوں پر غور کرنے سے کمزور ایمان والوں کاایمان بڑھ جائے گا‘ دل کے یقین میں اضافہ ہو جائے گا(بفحوائے الفاظِ قرآنی : زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا) اور جن کے دلوں میں ہدایت کی طلب ہے انہیں ایسے مشاہدے سے ایمان کی دولت نصیب ہو گی۔

100-101

توحید کا بیان اور شرک کی نفی

ویڈیو

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿٪۱۰۰﴾ بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ ؕ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾

آیت 100

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الۡجِنَّ وَ خَلَقَہُمۡ

’’اور انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرا لیا جنات کو ‘ حالانکہ اُسی نے انہیں پیدا کیا ہے‘‘

جیسے انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ویسے ہی جنات بھی اس کی مخلوق ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور انسان کو مٹی سے ۔ جنات اپنی خداداد طبعی صلاحیتوں کی وجہ سے کائنات میں وسیع پیمانے پر رسائی رکھتے ہیں۔ آج انسان نے اربوں ڈالر خرچ کر کے خلاؤ ں کے جس سفر کو ممکن بنایا ہے ‘ ایک عام جن کے لیے ایسا سفر معمول کی کارروائی ہو سکتی ہے‘ مگرا ن سارے کمالات کے باوجود یہ جنات ہیں تو اللہ ہی کی مخلوق۔ اسی طرح فرشتے اپنی تخلیق اور صلاحیتوں کے لحاظ سے جنات سے بھی بڑھ کر ہیں‘ مگر پیدا تو انہیں بھی اللہ ہی نے کیا ہے۔ لہٰذا انسان‘ جنات اور فرشتے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی الوہیت میں کوئی حصہ نہیں۔

وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ

’’اور اس کے لیے انہوں نے گھڑ لیے ہیں بیٹے اور بیٹیاں بغیر کسی علمی سند کے۔‘‘

حضرت عیسیٰ اورحضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کے بیٹے قرار دیا گیا‘ جب کہ فرشتوں کے بارے میں کہہ دیا گیا کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔

سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿٪۱۰۰﴾

’’وہ بہت پاک ہے اور بہت بلند و بالا ہے ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 101

بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’وہ عدم سے وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔‘‘

لفظ ’’بدیع‘‘ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۱۷میں بھی آ چکا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اوراس کے معنی ہیں عدم محض سے کسی چیز کی تخلیق کرنے والا۔

اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ ؕ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾

’’اُس کے اولاد کیسے ہو سکتی ہے جبکہ اُس کی کوئی بیوی نہیں‘ اور اُس نے تو ہر شے کو پیدا کیا ہے‘ اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب اُس کی کوئی شریکِ حیات ہی نہیں ہے تو اولاد کیسے ہو گی؟ در اصل کائنات اور اس کے اندر ہر چیز کا تعلق اللہ کے ساتھ صرف یہ ہے کہ وہ ایک خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں۔ اور وہ ایسی علیم اور خبیر ہستی ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی شے اس کی نگاہوں سے ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہیں ہو پاتی۔

یوٹیوب پر دیکھیے