قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا
’’(اے نبیﷺ!ان سے) کہیے: کیا ہم پکاریں اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکتی ہیں نہ نقصان؟‘‘
یہ بت کسی کوکچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ اپنی ناک پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہو جائے تو تب ہی تو حید مکمل ہوتی ہے‘جس کے بعد انسان کسی کے آگے جھک کر کبھی اپنی عزتِ نفس کا سودا نہیں کرتا۔اس نکتے کی وضاحت رسول اللہﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی تھی : ’’ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اگر دنیا کے تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے‘ اور اگر تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے‘‘ ۴۔ لہٰذا ’’یک در گیر و محکم بگیر‘‘ کے مصداق مدد کے لیے پکارو تو اُسی ایک اللہ کو پکارو۔ غیراللہ کو پکارنے ‘ کسی دوسرے سے سوال کرنے ‘ کسی اور سے ڈرنے‘التجائیں کرنے ‘استغاثہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ۪
’’اور ہم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹا دیے جائیں اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دے دی ہے ‘ اُس شخص کی مانند جسے شیاطین نے بیابان میں بھٹکا کر حیران و سرگرداں چھوڑ دیاہو؟‘‘
لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ
’’اُس کے ساتھی اس کو سیدھے راستے کی طرف پکار رہے ہوں کہ آؤ ہماری طرف !‘‘
یہاں جماعتی زندگی کی برکت اور انفرادی زندگی کی قباحت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اگر آپ اکیلے ہوں ‘ کہیں بھٹک گئے ہوں ‘ تو آ پ کے لیے دوبارہ سیدھے راستے پر آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن جماعتی زندگی میں دوسرے ساتھیوں کے مشورے اوران کی راہنمائی سے ہر فردکو اپنی سمت کے سیدھا رکھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ جیسے سورۃ التوبہ میں فرمایاگیا: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾} ’’اے اہل ایمان‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اورساتھ رہوصادقین (سچوں) کے‘‘۔ بعض اوقات انسان بڑی آزمائش میں پھنس جاتا ہے۔ وہ حرام کو حرام سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کو اختیار کرنا انتہائی تباہ کن ہے۔ دوسری طرف اس کی مجبوریاں ہیں‘ بچوں کی محرومیاں ہیں‘ اہلِ خانہ کا دباؤ ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لیے درست فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں اس کے حرام میں پڑنے کا امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایسے وقت میں اس کو نیک دوست احباب کی معیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف اس کو صحیح مشورہ دیتے ہیں بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر سہارا بھی دیتے ہیں۔
قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾
’’کہہ دیجیے یقینا اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے ‘اور ہمیں تو حکم ہوا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری اختیارکریں۔‘‘
(۴) سنن الترمذی‘ ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع (قال الترمذی ھذا حدیثٌ حسنٌ صحیحٌ) ۔الاربعین للنووی‘ ح ۱۹۔
وَ اَنۡ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۲﴾
’’اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں جمع کر دیا جائے گا۔‘‘
وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ
’’ اور وہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے ہیں حق کے ساتھ۔‘‘
یعنی یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے خاص مقصدکے تحت پیدا کیے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ آلِ عمران میں فرمایا گیا : {رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ} (آیت۱۹۱) ’’اے رب ہمارے ‘تو نے یہ سب باطل (بے مقصد) پیدا نہیں کیا‘‘۔ گویا ’’حق‘‘ کا لفظ یہاں ’’باطل‘‘ کے مقابلے میں آیا ہے۔
وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ
’’ اور جس دن وہ کہے گا ہو جا تو وہ ہو جائے گا۔‘‘
جب وہ چاہے گا اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔ اُسی نے اسے حق کے ساتھ بنایا ہے اور اُسی کے حکم کے ساتھ یہ لپیٹ دی جائے گی۔ ازروئے الفاظ قرآنی: {یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ ؕ} (الانبیائ: ۱۰۴) ’’جس دن ہم (ان تمام خلاؤں‘فضاؤں اور) آسمانوں کو ایسے لپیٹ دیں گے جیسے کتابوں کا طومارلپیٹ دیا جاتا ہے‘‘۔اسی طرح سورۃ الزمر میں ارشاد ہوا: {وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ} (آیت ۶۷) ’ ’اور(اُس روز) آسمان اللہ کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘
قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ
’’اُس کا فرمان ہی حق ہے۔‘‘
اُس کا فرمان شدنی ہے۔ اس کا کُنْ کہہ دینا بر حق ہے۔ اسے کسی چیز کو تخلیق کرنے کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں‘ اس کے لیے مادہ (material) یا توانائی (energy) وغیرہ کچھ بھی اسے درکار نہیں۔
وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ
’’اور اُسی کے لیے ہو گی بادشاہی جس دن صور پھونکا جائے گا۔‘‘
اگرچہ حقیقت میں تو دنیا میں بھی بادشاہی اُسی کی ہے لیکن دنیا میں جھوٹے سچے کئی بادشاہ ڈراموں کے کرداروں کی طرح اِدھر اُدھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سب کے سب نسیاً منسیا ہو جائیں گے اور قیامت کے دن سب کو صرف اللہ ہی کی بادشاہی نظر آئے گی۔ لہٰذا اس وقت تمام جن و انس کو مخاطب کر کے پوچھا جائے گا: {لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ} کہ آج بادشاہی کس کی ہے ؟پھر جواب بھی خود ہی دیا جائے گا : {لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾} (المؤمن) یعنی صرف اللہ کی جو اکیلا اور سب پر غالب ہے۔
عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾
’’وہ تمام غیب اور کھلی باتوں کا جاننے والا ہے‘اور وہ کمالِ حکمت والا اور ہر شے سے با خبر ہے۔‘‘
اس سوررۂ مبارکہ میں اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اورپھر ان کی نسل کے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر آ رہا ہے۔ انبیاء کے ناموں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ تو سورۃ النسا ء کے آخر میں ہم دیکھ آئے ہیں‘ وہاں آیات ۱۶۳ اور ۱۶۴ میں ہم نے ۱۳انبیاء و رُسل کے نام پڑھے تھے۔ جبکہ یہاں اس گلدستے میں ۱۷ انبیاء و رسل کے نام شامل ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر یہاں قدرے تفصیل کے ساتھ آیا ہے‘لیکن یہ ذکر قصص النبیین کے انداز میں ہے۔ آپؑ کی قوم پر کسی عذاب کا ذکرقرآن مجید میں نہیں آیا۔ اسی لیے آپؑ کا ذکر یہاں اس سورت میں الگ آیا ہے اور سورۃ الاعراف میں ان پیغمبروں کے ساتھ نہیں آیا جن کی قوموں پر عذاب آیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سورۃ میں التّذکیر بِآلَائِ اللّٰہ کی مثالیں بیان ہوئی ہیں ‘جبکہ سورۃ الاعراف میں التّذکیر بِاَیَّامِ اللّٰہ کا ظہور نظر آتا ہے۔ چنانچہ حضرت نوح‘ حضرت ہود‘ حضرت صالح ‘حضرت شعیب‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کا ذکر سورۃ الاعراف میں انباء الرسل کے انداز میں آیا ہے۔ یعنی ان رسولوں کی قوموں پرعذاب آیا اور اُن کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔