تحریر

الأنعام

آیات ۷۱ تا ۹۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

71-73

جماعتی زندگی کی برکت

ویڈیو

قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ۪ لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾ وَ اَنۡ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۲﴾ وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾

آیت 71

قُلۡ اَنَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا

’’(اے نبیﷺ!ان سے) کہیے: کیا ہم پکاریں اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکتی ہیں نہ نقصان؟‘‘

یہ بت کسی کوکچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ اپنی ناک پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہو جائے تو تب ہی تو حید مکمل ہوتی ہے‘جس کے بعد انسان کسی کے آگے جھک کر کبھی اپنی عزتِ نفس کا سودا نہیں کرتا۔اس نکتے کی وضاحت رسول اللہﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی تھی : ’’ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اگر دنیا کے تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے‘ اور اگر تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے‘‘ ۴۔ لہٰذا ’’یک در گیر و محکم بگیر‘‘ کے مصداق مدد کے لیے پکارو تو اُسی ایک اللہ کو پکارو۔ غیراللہ کو پکارنے ‘ کسی دوسرے سے سوال کرنے ‘ کسی اور سے ڈرنے‘التجائیں کرنے ‘استغاثہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعۡقَابِنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسۡتَہۡوَتۡہُ الشَّیٰطِیۡنُ فِی الۡاَرۡضِ حَیۡرَانَ ۪

’’اور ہم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹا دیے جائیں اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دے دی ہے ‘ اُس شخص کی مانند جسے شیاطین نے بیابان میں بھٹکا کر حیران و سرگرداں چھوڑ دیاہو؟‘‘

لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ

’’اُس کے ساتھی اس کو سیدھے راستے کی طرف پکار رہے ہوں کہ آؤ ہماری طرف !‘‘

یہاں جماعتی زندگی کی برکت اور انفرادی زندگی کی قباحت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اگر آپ اکیلے ہوں ‘ کہیں بھٹک گئے ہوں ‘ تو آ پ کے لیے دوبارہ سیدھے راستے پر آنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن جماعتی زندگی میں دوسرے ساتھیوں کے مشورے اوران کی راہنمائی سے ہر فردکو اپنی سمت کے سیدھا رکھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ جیسے سورۃ التوبہ میں فرمایاگیا: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾} ’’اے اہل ایمان‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اورساتھ رہوصادقین (سچوں) کے‘‘۔ بعض اوقات انسان بڑی آزمائش میں پھنس جاتا ہے۔ وہ حرام کو حرام سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کو اختیار کرنا انتہائی تباہ کن ہے۔ دوسری طرف اس کی مجبوریاں ہیں‘ بچوں کی محرومیاں ہیں‘ اہلِ خانہ کا دباؤ ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لیے درست فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں اس کے حرام میں پڑنے کا امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایسے وقت میں اس کو نیک دوست احباب کی معیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف اس کو صحیح مشورہ دیتے ہیں بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر سہارا بھی دیتے ہیں۔

قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ اُمِرۡنَا لِنُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾

’’کہہ دیجیے یقینا اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے ‘اور ہمیں تو حکم ہوا ہے کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری اختیارکریں۔‘‘

(۴) سنن الترمذی‘ ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع (قال الترمذی ھذا حدیثٌ حسنٌ صحیحٌ) ۔الاربعین للنووی‘ ح ۱۹۔

آیت 72

وَ اَنۡ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۷۲﴾

’’اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں جمع کر دیا جائے گا۔‘‘

آیت 73

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ

’’ اور وہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے ہیں حق کے ساتھ۔‘‘

یعنی یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے خاص مقصدکے تحت پیدا کیے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ آلِ عمران میں فرمایا گیا : {رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ} (آیت۱۹۱) ’’اے رب ہمارے ‘تو نے یہ سب باطل (بے مقصد) پیدا نہیں کیا‘‘۔ گویا ’’حق‘‘ کا لفظ یہاں ’’باطل‘‘ کے مقابلے میں آیا ہے۔

وَ یَوۡمَ یَقُوۡلُ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ۬ؕ

’’ اور جس دن وہ کہے گا ہو جا تو وہ ہو جائے گا۔‘‘

جب وہ چاہے گا اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔ اُسی نے اسے حق کے ساتھ بنایا ہے اور اُسی کے حکم کے ساتھ یہ لپیٹ دی جائے گی۔ ازروئے الفاظ قرآنی: {یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ ؕ} (الانبیائ: ۱۰۴) ’’جس دن ہم (ان تمام خلاؤں‘فضاؤں اور) آسمانوں کو ایسے لپیٹ دیں گے جیسے کتابوں کا طومارلپیٹ دیا جاتا ہے‘‘۔اسی طرح سورۃ الزمر میں ارشاد ہوا: {وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ} (آیت ۶۷) ’ ’اور(اُس روز) آسمان اللہ کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘

قَوۡلُہُ الۡحَقُّ ؕ

’’اُس کا فرمان ہی حق ہے۔‘‘

اُس کا فرمان شدنی ہے۔ اس کا کُنْ کہہ دینا بر حق ہے۔ اسے کسی چیز کو تخلیق کرنے کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں‘ اس کے لیے مادہ (material) یا توانائی (energy) وغیرہ کچھ بھی اسے درکار نہیں۔

وَ لَہُ الۡمُلۡکُ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ ؕ

’’اور اُسی کے لیے ہو گی بادشاہی جس دن صور پھونکا جائے گا۔‘‘

اگرچہ حقیقت میں تو دنیا میں بھی بادشاہی اُسی کی ہے لیکن دنیا میں جھوٹے سچے کئی بادشاہ ڈراموں کے کرداروں کی طرح اِدھر اُدھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سب کے سب نسیاً منسیا ہو جائیں گے اور قیامت کے دن سب کو صرف اللہ ہی کی بادشاہی نظر آئے گی۔ لہٰذا اس وقت تمام جن و انس کو مخاطب کر کے پوچھا جائے گا: {لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ} کہ آج بادشاہی کس کی ہے ؟پھر جواب بھی خود ہی دیا جائے گا : {لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾} (المؤمن) یعنی صرف اللہ کی جو اکیلا اور سب پر غالب ہے۔

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۷۳﴾

’’وہ تمام غیب اور کھلی باتوں کا جاننے والا ہے‘اور وہ کمالِ حکمت والا اور ہر شے سے با خبر ہے۔‘‘

اس سوررۂ مبارکہ میں اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اورپھر ان کی نسل کے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر آ رہا ہے۔ انبیاء کے ناموں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ تو سورۃ النسا ء کے آخر میں ہم دیکھ آئے ہیں‘ وہاں آیات ۱۶۳ اور ۱۶۴ میں ہم نے ۱۳انبیاء و رُسل کے نام پڑھے تھے۔ جبکہ یہاں اس گلدستے میں ۱۷ انبیاء و رسل کے نام شامل ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر یہاں قدرے تفصیل کے ساتھ آیا ہے‘لیکن یہ ذکر قصص النبیین کے انداز میں ہے۔ آپؑ کی قوم پر کسی عذاب کا ذکرقرآن مجید میں نہیں آیا۔ اسی لیے آپؑ کا ذکر یہاں اس سورت میں الگ آیا ہے اور سورۃ الاعراف میں ان پیغمبروں کے ساتھ نہیں آیا جن کی قوموں پر عذاب آیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سورۃ میں التّذکیر بِآلَائِ اللّٰہ کی مثالیں بیان ہوئی ہیں ‘جبکہ سورۃ الاعراف میں التّذکیر بِاَیَّامِ اللّٰہ کا ظہور نظر آتا ہے۔ چنانچہ حضرت نوح‘ حضرت ہود‘ حضرت صالح ‘حضرت شعیب‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کا ذکر سورۃ الاعراف میں انباء الرسل کے انداز میں آیا ہے۔ یعنی ان رسولوں کی قوموں پرعذاب آیا اور اُن کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

74-79

حضرت ابراہیمؑ کا مشرکین پر اِتمامِ حجّت

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾ وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾ فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿۷۶﴾ فَلَمَّا رَاَ الۡقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنۡ لَّمۡ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۷۷﴾ فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکۡبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۷۸﴾ اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾

آیت 74

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ

’’ اور یاد کرو جب کہا تھا ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے کیا تم نے ان بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے؟‘‘

تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کانام ’’تارِخ‘‘ لکھا گیا ہے۔ چنانچہ میرا خیال ہے کہ یہاں پر لفظ ’’آزر‘‘خصوصی طور پر تورات میں مندرج اس نام کی تصحیح کرنے کے لیے آیا ہے۔ ورنہ یہا ں یہ فقرہ لفظ ’’آزر‘‘ کے بغیر بھی مکمل تھا۔ اس واضح نشاندہی کے باوجود بھی بعض لوگ مغالطے میں پڑ گئے ہیں اور تورات میں مذکور نام ہی درست سمجھتے ہیں۔ جیسے اہل تشیع حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام ’’تارخ‘‘ ہی مانتے ہیں اور آزر جس کا ذکر یہاں آیا ہے اس کو وہ لوگ آپؑ کا چچا بتاتے ہیں۔ ان کے یہ موقف اختیار کرنے کی ایک خاص وجہ ہے‘ جس کے بیان کا یہ موقع نہیں۔

اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾

’’میری رائے میں تو آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘

آیت 75

وَ کَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ

’’اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت‘‘

یہاں ملکوت سے مراد وہ پورا نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کائنات کو چلا رہا ہے۔ یعنی وہ تکوینی حکومت (Universal Government) جسے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ کارندے چلا رہے ہیں۔ اس نظام کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو اس لیے کراتا ہے تاکہ اس بارے میں انہیں عین الیقین حاصل ہو جائے ۔

وَ لِیَکُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾

’’ تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔‘‘

اس فقرے میں ’’و‘‘ کی وجہ سے ہم اس سے پہلے یہ فقرہ محذوف مانیں گے: ’’ تا کہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کر سکے‘‘ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ’’اور ہو جائے پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے۔‘‘

اب آگے جو تفصیل آ رہی ہے یہ در حقیقت حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے اپنی قوم پر حجت پیش کرنے کا ایک انداز ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذہنی ارتقاء کے کچھ مراحل کا ذکر ہے کہ ایک مرحلے پر واقعتا آپؑ نے ایک ستارے کے بارے میں یوں سمجھا کہ یہ میرا رب ہے ۔ پھر جب وہ چھپ گیا تو آپؑ نے سمجھا کہ یہ تو ڈوب گیا ہے‘ یہ میرا رب نہیں ہو سکتا۔ پھر چاند کو دیکھ کر آپؑ نے ایسا ہی سمجھا۔ پھر سورج کو دیکھا تو ایسا ہی خیال آپؑ کے دل میں آیا۔ بہرحال بعض حضرات کی رائے ہے کہ آپؑ نے واقعتا ایسا ہی سمجھا‘ اور ان آیات کے الفاظ سے ایسا کچھ متبادر بھی ہوتا ہے‘ لیکن اس سلسلے میں صحیح رائے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ آگے آیت ۸۳ کے ان الفاظ سے اس موقف کی تائید بھی ہوتی ہے : {وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ}۔ اس حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی پیش نظررہنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تواللہ کے نبی تھے اور کوئی نبی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی فطرت اور سرشت اتنی خالص ہوتی ہے کہ وہ کبھی شرک میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتے۔ انبیاء کا مرتبہ تو بہت ہی بلند ہے‘ اللہ تعالیٰ نے توصدیقین کو بھی یہ شان عطا کر رکھی ہے کہ وہ بھی شرک میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما جو صحابہ کرامؓ میں سے صدیقین ہیں‘ انہوں نے رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے بھی کبھی شرک نہیں کیا تھا۔

آیت 76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰ کَوۡکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ

’’پس جب رات نے ان ؑکو (اپنی تاریکی میں)ڈھانپ لیا تو انہوں نے دیکھا ایک (چمکدار) ستارے کو ‘ توکہا یہ میرا رب ہے!‘‘

یہ سوالیہ انداز بھی ہو سکتا ہے‘ گویا کہہ رہے ہوں کہ کیا یہ میرا رب ہے؟ اس کے علاوہ یہ استعجابیہ انداز بھی ہو سکتا ہے۔یعنی ہو سکتا ہے آپؑ نے لوگوں کوچونکانے کے لیے ایسے کہا ہو۔

فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿۷۶﴾

’’پھرجب وہ غروب ہو گیا تو کہنے لگے کہ میں غروب ہوجانے والوں کوپسند نہیں کرتا۔‘‘

حضرت ابراہیمؑ Babilonia (آج کا عراق) کے شہر ’’اُر‘‘ میں پیدا ہوئے۔ موجودہ دور میں اس شہر کے کھنڈرات دریافت ہو چکے ہیں۔ وہاں سے آپؑ ہجرت کر کے فلسطین گئے ‘ وہاں سے حجاز گئے اور اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وہاں آباد کیا۔ جب کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو آپؑ نے فلسطین میں آباد کیا۔ اُس وقت عراق میں شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ وہ لوگ بت پرستی اور ستارہ پرستی کے ساتھ ساتھ نمرود کی پرستش بھی کرتے تھے‘ جس کا دعویٰ تھا کہ میں خدا ہوں۔ نمرود کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو محاجہ(مکالمہ ) ہوا تھا اس کی تفصیل ہم سورۃ البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں‘ اس مکالمے میں اس نے ’’اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ‘‘ کا دعویٰ اسی حوالے سے کیا تھا کہ لوگوں کی زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے‘ میں جس کو چاہوں زندہ رکھوں‘ جس کو چاہوں مار دوں۔

آیت 77

فَلَمَّا رَاَ الۡقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنۡ لَّمۡ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۷۷﴾

’’پھرجب انہوں نے دیکھا چاند چمکتا ہوا توکہا یہ ہے میرا ربّ! پھرجب وہ بھی غائب ہو گیا تو انہوں نے کہا اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی تو میں گمراہوں میں سے ہو جائوں گا۔‘‘

گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ اس وقت تک شاید آپؑ ذہنی اور فکری ارتقاء کے مراحل طے کر رہے تھے ۔ لیکن اس بارے میں درست رائے یہی ہے کہ آپؑ نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔

آیت 78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکۡبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ قَالَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۷۸﴾

’’پھر جب دیکھا سورج کو بہت چمکدار تو کہنے لگے ہاں یہ ہے میرا ربّ‘ یہ سب سے بڑا ہے! پھر جب وہ بھی غائب ہو گیا توانہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو !میں اعلانِ براء ت کرتا ہوں ان سب سے جنہیں تم شریک ٹھہرارہے ہو۔‘‘

آیت 79

اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجۡہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ حَنِیۡفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾

’’ میں نے تو اپنا رُخ کر لیا ہے یکسو ہو کر اُس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘

80-82

جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا

ویڈیو

وَ حَآجَّہٗ قَوۡمُہٗ ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّیۡ فِی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰىنِ ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِکُوۡنَ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ رَبِّیۡ شَیۡئًا ؕ وَسِعَ رَبِّیۡ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۸۰﴾ وَ کَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَ لَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۘ۸۱﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾

آیت 80

وَ حَآجَّہٗ قَوۡمُہٗ ؕ

’’اب ( اس پر) آپؑ کی قوم آپؑ سے بحث کرنے لگی۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس اعلان کے بعد آپؑ کی قوم نے آپؑ سے حجت بازی شروع کر دی کہ یہ آپؑ نے کیا کہہ دیا ‘آپؑ نے تو تمام دیویوں اور دیوتاؤں کی نفی کر دی‘ سارے ستاروں اور چاند سورج کی ربوبیت سے انکار کر دیا!اب ان سارے خداؤں کی نحوست تم پر پڑے گی۔ اب تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔

قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّیۡ فِی اللّٰہِ وَ قَدۡ ہَدٰىنِ ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِکُوۡنَ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ رَبِّیۡ شَیۡئًا ؕ

’’(ابراہیم ؑنے) کہا :کیا تم مجھ سے حجت بازی کر رہے ہو اللہ کے بارے میں ‘جب کہ مجھے تو اُس نے ہدایت دی ہے۔ اور مجھے کوئی خوف نہیں ہے اُن (ہستیوں) کا جنہیں تم اُس کا شریک ٹھہراتے رہے ہو‘ سوائے اس کے کہ میرا رب ہی کوئی بات چاہے۔‘‘

مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں ‘ نہ تمہاری کسی دیوی کا ‘ نہ کسی دیوتا کا‘ نہ کسی ستارے کی نحوست کا اور نہ تمہارے کسی اور خدا کا۔ ہاں اگر اللہ ہی چاہے کہ مجھے کوئی تکلیف پہنچے‘ کوئی آزمائش آ جائے تو اس کی مرضی کے آگے میرا بھی سرتسلیم خم ہے ‘ کیونکہ وہ میرا خالق اور میرا رب ہے

وَسِعَ رَبِّیۡ کُلَّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۸۰﴾

’’میرا رب ہر شے کا علم کے اعتبار سے احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘‘

میرے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے ۔تو کیا تم لوگ سوچتے نہیں ہو‘ عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟

آیت 81

وَ کَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَ لَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا ؕ

’’اور میں کیسے ڈروں اُن سے جنہیں تم نے شریک ٹھہرا رکھا ہے جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیے ہیں جن کے لیے اللہ نے تم پر کوئی سند نہیں اُتاری۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شراکت کی کوئی سند موجود ہی نہیں۔ نہ عقل اور فطرت میں اس کی کوئی بنیاد ہے‘نہ کسی آسمانی کتاب کی تعلیمات میں کسی دوسرے معبود کے لیے کوئی گنجائش ہے۔

فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۘ۸۱﴾

’’تو (ہم دونوں) فریقین میں سے کون امن کا زیادہ حق دار ہے ؟اگر تم علم رکھتے ہو (تو بتاؤ!)‘‘

یعنی ایک شخص موحد ہے‘ وہ ایک اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اللہ ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے مالک ہے ‘ ہر شے اُس کے قبضہ قدرت میں ہے‘جبکہ دوسرا وہ ہے جو اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اس کے اقتدار و اختیار میں بعض دوسری ہستیوں کو بھی شریک سمجھتا ہے‘ کچھ چھوٹے معبودوں اور دیوی دیوتاؤں کو بھی مانتا ہے۔ تو اب ذرا بتاؤ کہ امن‘ چین‘ روحانی اطمینان اور حقیقی سکونِ قلب کا زیادہ حق دار ان دونوں میں سے کون ہوگا؟ سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا:

آیت 82

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ

’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی طرح کے شرک سے آلودہ نہیں کیا‘‘

یہاں لفظ ’’ظلم‘‘ قابل توجہ ہے ۔ظلم کسی چھوٹے گناہ کو بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اس لفظ پر صحابہ کرامj گھبرا گئے تھے کہ حضور ؐکون شخص ہو گا جس نے کبھی کوئی ظلم نہ کیا ہو؟ اگر کسی اور پر نہیں توہر انسان اپنے اوپر تو کسی نہ کسی حد تک ظلم کر ہی لیتا ہے۔ گویااس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کوئی شخص بھی اس شرط پر پورا نہیں اُتر سکتا۔ صحابہؓ کی اس تشویش پر آپﷺنے فرمایا کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ پھر آپﷺ نے سورۂ لقمان کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے: {وَ اِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَ ہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾} ۔ چنانچہ یہاں پر { لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ } کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان ایسا ہو جو شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہو۔ لیکن شرک کو پہچاننا اور اس سے بچنا آسان نہیں‘ یہ طرح طرح کے بھیس بدلتا رہتا ہے۔شرک کیا ہے اورشرک کی قسمیں کون کون سی ہیں اوریہ زمانے اور حالات کے مطابق کیسے کیسے بھیس بدلتا رہتا ہے ‘ یہ سب کچھ جاننا ایک مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے‘ تا کہ جس بھیس اور شکل میں بھی یہ نمودار ہو اسے پہچانا جا سکے۔بقول شاعر: ؎

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش

من اندازِ قدت را می شناسم!

(تم چاہے کسی بھی رنگ کا لباس پہن کر آجاؤ‘ میں تمہیں تمہارے قد سے پہچان لیتا ہوں۔)

’’حقیقت و اقسامِ شرک‘‘ کے موضوع پر میری چھ گھنٹوں پر مشتمل طویل تقاریر آڈیو‘ ویڈیو کے علاوہ کتابی شکل میں بھی موجود ہیں‘ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے اُن سے استفادہ کرنا ‘ ان شاء اللہ‘ بہت مفید ہوگا۔

اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾

’’وہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہی راہ یاب ہوں گے ۔‘‘

امن کا ایمان کے ساتھ اور اسلام کا سلامتی کے ساتھ لفظی اعتبار سے بہت گہرا ربط ہے ۔ یہ ربط اس دعا میں بہت نمایاں ہو جاتا ہے جو رسول اللہﷺ ہر نیا چاند دیکھنے پر مانگا کرتے تھے: حدیث((اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِا لْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْاِسْلَامِ …)) ’’اے اللہ ( یہ مہینہ جو شروع ہو رہا ہے اس نئے چاند کے ساتھ ) اسے ہم پر طلوع فر ما امن اور ایمان ‘ سلامتی اور اسلام کے ساتھ‘‘---- ’’قرآن اور امنِ عالم‘‘ کے نام سے میرا ایک چھوٹا سا کتابچہ اس موضوع پر بڑی مفید معلومات کا حامل ہے۔

83

کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کچھ وقت کے لیے شرک کیا؟

ویڈیو

وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۸۳﴾

آیت 83

وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ

’’یہ ہماری وہ حجت تھی جو ہم نے ابراہیم ؑکو عطا کی تھی اُس کی قوم کے خلاف۔‘‘

اسی آیت کا حوالہ اس موضوع کے آغاز میں آیا تھا۔ گویاپوری سرگزشت بیان کرنے کے بعد اس جملے میں وضاحت فرما دی کہ یہ ہماری وہ حجت تھی جو ہم نے ابراہیم ؑکو اس کی قوم کے خلاف عطا کی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے جس انداز سے محاجہ کر رہے تھے اس کو ’’توریہ‘‘کہتے ہیں۔ ’’توریہ ‘‘سے مراد ایسا اندازِ گفتگو ہے جس میں جھوٹ بولے بغیر مخاطب کو مغالطے میں مبتلا کر دیا جائے۔ مثلاً حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک زمانے میں انگریز حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے تھے ۔ اس زمانے میں وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے ۔ شریف حسین والیٔ مکہ کے سپاہی انہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے کہ ایک سپاہی نے انہیں کہیں کھڑے ہوئے دیکھا۔وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا۔ اُس نے قریب آ کر آپؒ سے پوچھا کہ تم محمود الحسن کو جانتے ہو؟ آپؒ نے کہا :جی ہاں‘ میں جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا :وہ کہاں ہیں؟آپؒ نے دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا کہ ابھی یہیں تھے۔ اس سے اس سپاہی کو مغالطہ ہوا اور وہ یہ سمجھتے ہوئے وہاں سے دوڑ پڑا کہ ابھی ادھر تھے تو میں جلدی سے یہیں کہیں سے انہیں ڈھونڈ لوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس کلام میں توریہ کا یہی انداز پایا جاتا ہے۔ جیسے آپؑ نے بت خانے کے بتوں کو توڑا‘ اور جس تیشے سے اُن کو توڑا تھا وہ اس بڑے بت کی گردن میں لٹکادیا۔پوچھنے پر آپؑ نے جواب دیا کہ اس بڑے بت نے ہی یہ کام دکھایا ہو گا جو صحیح سالم کھڑا ہے اور آلۂ واردات بھی اس کے پاس ہے۔وہاں بھی یہ انداز اختیار کرنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ لوگ سوچنے پر مجبور اور دروں بینی پر آمادہ ہوں۔

نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۸۳﴾

’’ہم بلند کرتے ہیں درجے جن کے چاہتے ہیں ۔ یقینا تیرا رب حکیم اور علیم ہے۔‘‘

یعنی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے درجے بہت بلند کیے ۔ حضرت ابراہیم ؑ کے تفصیلی ذکر کے بعد اب آپؑ کی نسل سے تعلق رکھنے والے چند پیغمبروں کا تذکرہ ہونے جا رہا ہے۔انبیاء و رسل علیہم السلام کے ناموں کا یہی وہ گلدستہ ہے جس کا ذکر قبل ازیں آیت ۷۳ کے مطالعے کے دوران آیا تھا۔

84-87

انبیاء کرام ؑ کے پیارے ناموں کا خوبصورت گلدستہ

ویڈیو

وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾ وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾ وَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ اِخۡوَانِہِمۡ ۚ وَ اجۡتَبَیۡنٰہُمۡ وَ ہَدَیۡنٰہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۸۷﴾

آیت 84

وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَ نُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡسُفَ وَ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾

’’اور ہم نے اسے (ابراہیم ؑکو) عطا فرمایا اسحاق ؑ(جیسا بیٹا) اور یعقوبؑ (جیسا پوتا)‘ ان سب کو ہم نے ہدایت دی۔ اور نوحؑ کو بھی ہم نے ہدایت دی تھی ان سے پہلے ‘اور اس (ابراہیم ؑ) کی اولاد میں سے داؤدؑ‘ سلیمانؑ‘ ایوبؑ ‘یوسف‘ؑموسیٰ ؑ اور ہارونؑ کو بھی (ہدایت بخشی)۔ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔‘‘

یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورۃ المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں: { ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾}

آیت 85

وَ زَکَرِیَّا وَ یَحۡیٰی وَ عِیۡسٰی وَ اِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾

’’اور (اُسی کی اولاد میں سے) زکریاؑ‘ یحییٰ ؑ‘ عیسیٰ ؑ اور الیاس ؑکو بھی۔ یہ سب کے سب نیکوکاروں میں سے تھے۔‘‘

آیت 86

وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ یُوۡنُسَ وَ لُوۡطًا ؕ وَ کُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۸۶﴾

’’اور اسماعیل ؑ اور الیَسَعؑ اور یونس ؑ اور لوط ؑ کو بھی (راہ یاب کیا)‘ اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔‘‘

آیت 87

وَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ وَ اِخۡوَانِہِمۡ ۚ وَ اجۡتَبَیۡنٰہُمۡ وَ ہَدَیۡنٰہُمۡ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۸۷﴾

’’اور ان کے آباء و اَجداد میں سے بھی‘ ان کی نسلوں میں سے بھی اور ان کے بھائیوں میں سے بھی( ہم نے ہدایت یافتہ بنائے)‘ اور ان کو ہم نے چن لیا اور ان کو ہدایت دی سیدھے راستے کی طرف۔‘‘

88

شرک تمام نیکیوں کو برباد کر دیتا ہے

ویڈیو

ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾

آیت 88

ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾

’’یہ اللہ کی وہ ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ راہنمائی فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے۔ اور اگر (بالفرض )وہ بھی شرک کرتے تو ان کے بھی سارے اعمال ضائع ہو جاتے۔‘‘

یہ انداز دراصل ہمیں سمجھانے کی غرض سے اختیار کیا گیا ہے کہ شرک کتنی بری شے ہے۔ ورنہ اس کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ایسے اعلیٰ مراتب پر فائز اللہ کے عظیم الشان انبیاء و رسل علیہم السلام شرک میں مبتلا ہوتے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک ناقابل معافی جرم ہے‘ جس کے بارے میں سورۃ النساء میں دو مرتبہ یہ الفاظ آچکے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ} (آیت ۴۸ و۱۱۶)

89

اہلِ یثرب کے لئے بشارت

ویڈیو

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ۚ فَاِنۡ یَّکۡفُرۡ بِہَا ہٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَکَّلۡنَا بِہَا قَوۡمًا لَّیۡسُوۡا بِہَا بِکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾

آیت 89

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ۚ

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب ‘ حکمت اور نبوت عطا فرمائی۔‘‘

فَاِنۡ یَّکۡفُرۡ بِہَا ہٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَکَّلۡنَا بِہَا قَوۡمًا لَّیۡسُوۡا بِہَا بِکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾

’’ پھر اگر یہ لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں تو (کچھ پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگ اس کام کے لیے مقرر کر دیے ہیں جو اس کی ناقدری نہیں کریں گے۔‘‘

یہ آیت پڑھتے ہوئے حضورﷺ کی دعوت کے مکی دور کا نقشہ ذہن میں لایئے‘ جہاں محمد رسول اللہ ﷺ جیسا مبلغ‘ داعی‘ مربی‘ مزکی اور معلّم مسلسل دن رات محنت کر رہا ہے اوراس کے نتیجے میں بارہ سال کے دوران صرف ڈیڑھ ‘پونے دو سو افراد دائرۂ اسلام میں داخل ہو ئے ہیں۔ اس پس منظر میں آپﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ مکہ کے یہ لوگ اگر اس دعوت کی نا قدری اور قرآن کی ناشکری کر رہے ہیں اور آپؐ کی سالہا سال کی محنت کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں تو آپؐ دل شکستہ نہ ہوں ‘ عنقریب ایک دوسری قوم بڑے ذوق وشوق سے اس دعوت پر لبیک کہنے جا رہی ہے ۔ اس خوش قسمت قوم سے مراد انصارِ مدینہ ہیں۔اور واقعی اس سلسلے میں اہل مکہ پیچھے رہ گئے اور اہل مدینہ بازی لے گئے۔ بقولِ شاعر: گرفتہ چینیا ں احرام و مکی خفتہ در بطحا!

چنانچہ اس آیت میں ہر دور کے داعیانِ حق کے لیے حوصلہ افزائی کا پیغام بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کے کام میں خود اسباب پیدا فرماتاہے اور خود لوگوں کے دلوں کو پھیر کر ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ اسی لیے مجھے اپنی دعوت رجوع الی القرآن کے بارے میں بھی اطمینان ہے کہ اگر پاکستان میں اس کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی تو کیا ہوا‘ یہ دعوت مختلف ذرائع سے پوری دنیا میں پھیل رہی ہے‘ لہٰذا عین ممکن ہے قرآن کی یہ انقلابی دعوت کسی اور زمین میں جڑ پکڑ لے اور اس طرح ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر لے۔

90

تمام انبیاءؑ راہِ حق پر تھے

ویڈیو

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۹۰﴾

آیت 90

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقۡتَدِہۡ ؕ

’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی‘ تو آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘

یعنی گزشتہ آیات میں جن سترہ انبیاء و رسل علیہم السلام کے ناموں کا خوبصورت گلدستہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے‘ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ تھے۔ اس سلسلے میں حضورﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ؐبھی ان کے طریقے کی پیروی کریں۔اس آیت سے ایک بہت اہم نکتہ اور اصول یہ سامنے آتا ہے کہ سابق انبیاء ؑکی شریعت کا ذکر کرتے ہوئے جن احکام کی نفی نہ کی گئی ہو‘ وہ احکام ہمارے لیے بھی لائق اتباع ہیں۔ مثلاًرجم کی سزا قرآن میں مذکور نہیں ہے ‘ یہ سابقہ شریعت کی سزا ہے‘ جس کو حضورﷺ نے برقرار رکھا ہے۔ اسی طرح قتل مرتد کی سزا کا ذکر بھی قرآن میں نہیں ہے‘ یہ بھی سابقہ شریعت کی سزا ہے ‘جس کو برقرار رکھا گیا ہے۔ چنانچہ کسی سابقہ شریعت کا وہ حکم جس کی قرآن و سنت میں نفی نہ کی گئی ہو ‘وہ حکم اسلامی شریعت میں برقرار رہتا ہے ۔

قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٰی لِلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۹۰﴾

’’کہہ دیجیے میں تم سے اس پر کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ یہ نہیں ہے مگر تمام جہان والوں کے لیے یاد دہانی ۔‘‘

یہ قرآن تو بس اہل عالم کے لیے ایک نصیحت ہے ‘یاد دہانی ہے‘ جو چاہے اس سے کسب فیض کرے‘ جو چاہے اس سے نور حاصل کرے‘ جو چاہے اس سے صراطِ مستقیم کی راہنمائی اخذ کر لے۔

یوٹیوب پر دیکھیے