تحریر

الأنعام

آیات ۵۶ تا ۷۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

56-58

مشرکین کی طرف سے سمجھوتے کی پیشکش

ویڈیو

قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَہۡوَآءَکُمۡ ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾ قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ کَذَّبۡتُمۡ بِہٖ ؕ مَا عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ یَقُصُّ الۡحَقَّ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡفٰصِلِیۡنَ ﴿۵۷﴾ قُلۡ لَّوۡ اَنَّ عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ لَقُضِیَ الۡاَمۡرُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۸﴾

آیت 56

قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ مجھے تومنع کردیا گیا ہے ان کو پوجنے سے جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا۔‘‘

یہ لات‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ جن کو تم لوگ اللہ کے علاوہ معبود مانتے ہو ‘ان کو میں نہیں پکار سکتا۔ مجھے اس سے منع کر دیا گیا ہے۔ مجھے تو حکم دیا گیا ہے: {لَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾} ( الجن ) کہ اللہ کے ساتھ کسی او ر کو مت پکارو۔

قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَہۡوَآءَکُمۡ ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾

’’کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کر سکتا‘ اگر ایسا کروں گا تو میں گمراہ ہو جائوں گا اور پھر نہ رہوں گا میں ہدایت پانے والوں میں۔‘‘

آیت 57

قُلۡ اِنِّیۡ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ

’’کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب کی طرف سے ایک بڑی بَـیِّنَہ پر ہوں‘‘

یہ بیّنہ کیاہے؟اس کی وضاحت سورۂ ہود میں آئے گی ۔یہاں اس بارے میں مختصراً یہ سمجھ لیجیے کہ ایک عام انسان کے لیے بَیِّنَہ دو چیزوں سے مل کر بنتی ہے‘ انسان کی فطرتِ سلیمہ اور وحی الٰہی۔ فطرتِ سلیمہ اور عقل سلیم ہر انسان کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کر دی گئی ہے جس کی بنا پر اس کو نیکی بدی اور اچھے برے کی تمیز فطری طور پر عطا ہو چکی ہے ۔ اس کے بعد اگر کسی انسان تک نبی یا رسول کے ذریعے سے اللہ کی وحی بھی پہنچ گئی اور اس وحی نے بھی اُن حقائق کی تصدیق کر دی جن تک وہ اپنی فطرتِ سلیمہ اور عقل سلیم کی راہنمائی میں پہنچ چکا تھا ‘تو اس پر حجت تمام ہو گئی۔ اس طرح یہ دونوں چیزیں یعنی فطرتِ سلیمہ اور وحی الٰہی مل کراس شخص کے لیے بیّنہ بن گئیں۔ پھر اللہ کا رسول اور وحی الٰہی دونوں مل کر بھی لوگوں کے حق میں بَـیِّنَہ بن جاتے ہیں۔ خود رسولؐ کے حق میں بَـیِّنَہ یہ ہے کہ آپؐ اپنی فطرتِ سلیمہ اور عقل سلیم کی راہنمائی میں جن حقائق تک پہنچ چکے تھے وحی الٰہی نے آ کر ان حقائق کو اجاگر کر دیا۔ چنانچہ یہاںحضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ آپؐ ان کو بتائیں کہ میں کوئی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہیں مار رہا‘ میں تو اپنے ربّ کی طرف سے بیّنہ پر ہوں۔ میں جس راستے پر چل رہا ہوں وہ بہت واضح اورروشن راستہ ہے ‘اور مجھ پر اس راستہ کی باطنی حقیقت بھی منکشف کر دی گئی ہے۔

وَ کَذَّبۡتُمۡ بِہٖ ؕ مَا عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ ؕ

’’اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔میرے پاس وہ شے موجود نہیں ہے جس کی تم جلدی مچا رہے ہو۔‘‘

وہ لوگ جلدی مچا رہے تھے کہ لے آئیے ہمارے اوپر عذاب۔ دس برس سے آپ ہمیں عذاب کی دھمکیاں دے رہے ہیں‘ اب جب کہ ہم نے آپ کوماننے سے انکار کر دیا ہے تو وہ عذاب ہم پر آکیوں نہیں جاتا؟ جواب کے طور پر حضورﷺسے فرمایا جا رہا ہے کہ آپؐ انہیں صاف الفاظ میں بتا دیجیے کہ عذاب کا فیصلہ میرے اختیار میں نہیں ہے ‘وہ عذاب جب آئے گا ‘ جیسے آئے گا ‘اللہ کے فیصلے سے آئے گا اور جب وہ چاہے گا ضرور آئے گا۔

اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ یَقُصُّ الۡحَقَّ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡفٰصِلِیۡنَ ﴿۵۷﴾

’’فیصلے کا اختیار کسی کو نہیں سوائے اللہ کے۔ وہ حق کو کھول کر بیان کر دیتا ہے اور وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے و الا ہے۔‘‘

آیت 58

قُلۡ لَّوۡ اَنَّ عِنۡدِیۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِہٖ لَقُضِیَ الۡاَمۡرُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۸﴾

’’کہہ دیجیے اگر میرے پاس وہ ہوتا جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان (کبھی کا) فیصلہ طے ہو چکا ہوتا۔اور اللہ خوب واقف ہے ظالموں سے۔‘‘

ان الفاظ سے ایک حد تک تلخی اور بیزاری ظاہر ہو رہی ہے کہ اگر یہ فیصلہ کرنا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تم لوگوں کو مزید مہلت نہ دیتا۔ اب میں بھی تمہارے رویے سے تنگ آ چکا ہوں‘ میرے صبر کا پیمانہ آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔

59

اللہ کے علم کی وسعت کا بیان

ویڈیو

وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾

آیت 59

وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ

’’اوراُسی کے پاس غیب کے سارے خزانے ہیں‘ کوئی نہیں جانتا اُن (خزانوں ) کو سوائے اُس کے ‘ اور وہ جانتا ہے جو کچھ ہے خشکی میں اور سمندر میں ۔‘‘

وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا

’’ اور نہیں گرتا کوئی ایک پتا بھی (کسی درخت سے)مگر وہ اُس کے علم میں ہوتا ہے‘‘

وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾

’’اورنہیں (گرتا) کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں ‘ اورنہ کوئی ترو تازہ اور نہ کوئی سوکھی چیز ‘ مگرایک کتابِ مبین میں (سب کی سب) موجود ہیں۔‘‘

یہ کتابِ مبین اللہ کا علمِ قدیم ہے‘ جس میں ہر شے ( مَا کَانَ وَ مَایَکُوْن) آنِ واحد کی طرح موجود ہے۔

60

وفات کا اطلاق نیند پر بھی ہوتا ہے

ویڈیو

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبۡعَثُکُمۡ فِیۡہِ لِیُقۡضٰۤی اَجَلٌ مُّسَمًّی ۚ ثُمَّ اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾

آیت 60

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ

’’ اوروہی ہے جو تمہیں وفات دیتا ہے رات کے وقت‘‘

سورۂ آلِ عمران کی آیت ۵۵ کی تشریح کے سلسلے میں یُـوَفِّیْ ‘ یَتَوَفّٰی اور مُتَوَفِّی وغیرہ الفاظ کی وضاحت چکی ہے‘ جس سے قادیانیوں کی ساری خباثت کا توڑ ہو جاتا ہے۔ذرا غور کیجئے! یہاں وفات دینے کے کیا معنی ہیں؟ کیا نیند کے دوران انسان مر جاتا ہے ؟ نہیں‘ جان تو بدن میں رہتی ہے ‘البتہ شعور نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں تین چیزیں الگ الگ ہیں ‘جسم ‘ جان اور شعور ۔فارسی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے ؎

جاں نہاں در جسم‘ اُو در جاں نہاں

اے نہاں ‘ اندر نہاں ‘اے جانِ جاں!

’’جان جسم کے اندر پنہاں ہے اور جان میں وہ پنہاں ہے۔اے کہ جو پنہاں شے کے اندر پنہاں ہے‘ تو ہی تو جانِ جاں ہے!‘‘

اس شعر میں ’’اُو‘‘(وہ) سے مراد کچھ اور ہے ‘جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔ یہاں موضوع کے حوالے سے صرف یہ سمجھ لیجیے کہ انسانی شخصیت کی مذکورہ تین چیزوں (یعنی جسم‘ جان اور شعور )میں سے نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے ‘جبکہ موت میں شعور بھی جاتا ہے اور جان بھی چلی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’تَوَفِّی‘‘ مکمل صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا ‘یعنی جسم‘ جان اور شعور تینوں چیزوں کے ساتھ ۔ عام آدمی کی موت کی صورت میں یہ ’’تَوَفِّی‘‘ ادھورا ہوتا ہے‘ یعنی جسم یہیں رہ جاتا ہے‘ جان اور شعور چلے جاتے ہیں‘ جب کہ نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے۔

وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبۡعَثُکُمۡ فِیۡہِ لِیُقۡضٰۤی اَجَلٌ مُّسَمًّی ۚ

’’اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو دن کے وقت‘ پھر وہ اس میں(اگلی صبح کو ) تمہیں اُٹھاتا ہے‘ تاکہ (تمہاری) مدتِ معین پوری ہو جائے۔‘‘

یعنی انسان جب سوتا ہے تو ایک طرح سے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے ‘کیونکہ نیند آدھی موت ہے۔ جیسے کہ صبح کے وقت اٹھنے کی مسنون دعا میں مذکور ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَـیْہِ النُّشُوْرِ (کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا‘ اس کے بعد کہ اس نے مجھ پر موت وارد کر دی تھی اور اُسی کی طرف جی اُٹھنا ہے)۔ اس دعا سے ایک بڑاعجیب نکتہ ذہن میں آتا ہے ۔وہ یہ کہ ہر روز صبح اٹھتے ہی جس شخص کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہوں: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَـیْہِ النُّشُوْرِ‘‘ قیامت کے دن جب وہ قبر سے اٹھے گا تو دنیا میں اپنی عادت کے سبب اُس کی زبان پر‘ ان شاء اللہ‘ خودبخود یہی ترانہ جاری ہو جائے گا‘ جواُس وقت لفظی اعتبار سے صد فی صد درست ہو گا‘کیونکہ وہ اٹھنا حقیقی موت کے بعد کا اٹھنا ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں روزانہ اس کی ریہرسل کی جائے تا کہ یہ عادت پختہ ہو جائے۔

ثُمَّ اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾

’’پھر اُسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے‘ پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔‘‘

61-64

انسان سراپا اللہ کے اختیار میں ہے

ویڈیو

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ ﴿۶۱﴾ ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ ؕ اَلَا لَہُ الۡحُکۡمُ ۟ وَ ہُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰسِبِیۡنَ ﴿۶۲﴾ قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ۚ لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۳﴾ قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۴﴾

آیت 61

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ

’’ اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی مشیت سے انسان کو اپنی اجل معین تک بہر صورت زندہ رہناہے ‘اس لیے ہر انسا ن کے ساتھ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے اس کے باڈی گارڈز کی حیثیت سے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اس غیر مرئی حفاظتی حصار کی موجودگی کو بعض اوقات انسان خود بھی محسوس کرتا ہے جب انسان کو کوئی ایسا حادثہ پیش آتا ہے جس سے زندہ بچ جانے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا‘ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی غیبی ہاتھ نے اسے بچالیا ہو۔ اس طرح جب تک انسان کی موت کا وقت نہیں آتا ‘اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ محافظ اُس کی حفاظت کر تے رہتے ہیں۔

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡہُ رُسُلُنَا وَ ہُمۡ لَا یُفَرِّطُوۡنَ ﴿۶۱﴾

’’یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آ تی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کو قبضے میں لے لیتے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘

اب یہاں پھرلفظ تَوَفّٰی شعور اور جان دونوں کے جانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے جان نکالنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ۔ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے ‘ جب دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

آیت 62

ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ ؕ

’’پھر وہ لوٹا دیے جاتے ہیں اللہ کی طرف جو اُن کا مولیٰ ہے بر حق۔‘‘

اَلَا لَہُ الۡحُکۡمُ ۟ وَ ہُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰسِبِیۡنَ ﴿۶۲﴾

’’آگاہ ہو جاؤ فیصلے کا اختیار اُسی کے ہاتھ میں ہے ‘اور وہ حساب کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر تیز ہے۔‘‘

حقیقی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ یہ بات یہاں دوسری دفعہ آئی ہے۔ اس سے پہلے آیت ۵۷ میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں : {اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ } کہ فیصلے کا اختیار کلیتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں مزید فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ تیز حساب چکانے والا ہے۔ اُسے حساب چکانے میں کچھ دیر نہیں لگے گی‘ صرف حرفِ کن کہنے سے آنِ واحد میں وہ سب کچھ ہوجائے گا جو وہ چاہے گا۔

آیت 63

قُلۡ مَنۡ یُّنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ۚ

’’ان سے پوچھئے کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندروں کے اندھیروں سے جبکہ تم اُسی کو پکارتے ہو بہت ہی گڑگڑاتے ہوئے اور (دل ہی دل میں) چپکے چپکے۔‘‘

کبھی تم نے غور کیا کہ جب تم سمندر میں سفر کرتے ہوئے کسی خوفناک طوفان میں گھر جاتے ہو ‘ وہاں گھپ اندھیرے میں جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتااور سمندر کی خوفناک طوفانی لہریں ہر لمحہ موت کا پیغام دے رہی ہوتی ہیں توایسے میں اللہ کے سوا تمہیں کون بچاتا ہے؟ کون ہے جو ایسے جان لیوا حالات میں تمہاری دستگیری کرتا ہے اور تمہارے لیے عافیت کا راستہ نکالتا ہے ۔اسی طرح ع ’’اندھیری شب ہے جدااپنے قافلے سے ہے تو !‘‘ کے مصداق جب کوئی قافلہ صحرا میں بھٹک جاتا ہے ‘ اندھیری رات میں نہ دائیں کا پتا ہوتا ہے نہ بائیں کی خبر‘ ہر درخت اندھیرے میں ایک آسیب معلوم ہوتا ہے‘ ایسے خوفناک ماحول اور انتہائی مایوسی کے عالم میں بھی سب خدائوں کو بھلا کر تم لوگ ایک اللہ ہی کو پکارتے ہو۔

لَئِنۡ اَنۡجٰىنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۳﴾

’’(اور کہتے ہو ) اگر اللہ نے ہمیں اس سے بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار بن کر رہیں گے۔‘‘

آیت 64

قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیۡکُمۡ مِّنۡہَا وَ مِنۡ کُلِّ کَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۴﴾

’’کہیے اللہ ہی نجات دیتا ہے تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے‘ پھر تم شرک کرنے لگتے ہو!‘‘

مصیبت سے نجات کے بعد پھرسے تمہیں دیویاں‘ دیوتا‘جھوٹے معبود اور اپنے سردار یاد آجاتے ہیں۔ اب اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں عذابِ الٰہی کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔

65-67

اللہ کے عذاب کی تین صورتیں

ویڈیو

قُلۡ ہُوَ الۡقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾ وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوۡمُکَ وَ ہُوَ الۡحَقُّ ؕ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿ؕ۶۶﴾ لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾

آیت 65

قُلۡ ہُوَ الۡقَادِرُ عَلٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ

’’کہہ دیجیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر بھیج دے کوئی عذاب تمہارے اوپر سے‘‘

مثلاًآسمان کا کوئی ٹکڑا یا کوئی شہابِ ثاقب (meteorite) گر جائے۔ آج کل ایسی خبریں اکثر سننے کو ملتی ہیں کہ اس طرح کی کوئی چیز زمین پر گرنے والی ہے‘ لیکن پھر اللہ کے حکم سے وہ خلا میں ہی تحلیل ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح ozone کی تہہ بھی اللہ تعالیٰ نے زمین اور زمین والوں کے بچائو کے لیے پیدا کر رکھی ہے‘ وہ چاہے تو اس حفاظتی چھتری کو ہٹا دے۔ بہرحال آسمانوں سے عذاب نازل ہونے کی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے اور اللہ جب چاہے یہ عذاب نازل ہو سکتا ہے۔

اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ

’’یا تمہارے قدموں کے نیچے سے‘‘

اللہ کا کوئی عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے بھی آ سکتا ہے۔ زمین پھٹ سکتی ہے ‘زلزلے کے باعث شہروں کے شہر زمین میں دھنس سکتے ہیں ۔ جیسا کہ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ قیامت سے پہلے تین بڑے بڑے ’’خسف‘‘ ہوں گے‘ یعنی زمین وسیع پیمانے پر تین مختلف جگہوں سے دھنس جائے گی۔ عذاب کی دو شکلیں تو یہ ہیں‘اُوپر سے یا قدموں کے نیچے سے۔

اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ؕ

’’یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے اور ایک کی طاقت کا مزا دوسرے کو چکھادے۔‘‘

خانہ جنگی کی صورت میں یہ عذاب کی تیسری قسم کا ذکر ہے کہ کسی ملک کے عوام کے مختلف گروہ آپس میں لڑپڑیں۔جیسے پنجابی اور اردو بولنے والے آپس میں الجھ جائیں‘ بلوچ اور پختون ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں‘ شیعہ سنی کو مارے اور سنی شیعہ کو قتل کرے۔ اللہ تعالیٰ کو آسمان سے کچھ گرانے کی ضرورت ہے نہ زمین کو دھنسانے کی۔ یہ گروہ بندی اور اس کی بنیاد پر باہمی خون ریزی عذابِ الٰہی کی بد ترین شکل ہے ‘جو آج بدقسمتی سے مسلمانانِ پاکستان پر مسلط ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب ہندو سے مقابلہ تھا تو مسلمان ایک قوم تھے ۔ پاکستان بنا تو اُس کے تمام باسی پاکستانی تھے ۔اب یہی پاکستانی قوم چھوٹی چھوٹی قومیتوں اور عصبیتوں میں تحلیل ہو چکی ہے اور ہر گروہ دوسرے گروہ کے خلاف سرگرمِ عمل ہے۔

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾

’’دیکھو کس کس طرح ہم اپنی آیات کی تصریف کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔‘‘

تصریف کے معنی ہیں گھمانا۔ ع ’’اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘‘ کے مصداق ایک ہی بات کو اسلوب بدل بدل کر ‘مختلف انداز میں ‘ نئی ترتیب اور نئی ترکیب کے ساتھ بیان کرنا۔

آیت 66

وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوۡمُکَ وَ ہُوَ الۡحَقُّ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) آپ کی قوم نے اسے جھٹلا دیا حالانکہ وہ حق ہے۔‘‘

یہاں بِہٖ سے مرادقرآن ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ‘اس سورۃ کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا‘اور یہ کہ محمد رسول اللہﷺ کا اصل معجزہ قرآن ہے۔ اسی لیے اس مضمون کی تفصیل کے بیان میں ’’بِہٖ‘‘ کی تکرار کثرت سے ملے گی۔

قُلۡ لَّسۡتُ عَلَیۡکُمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿ؕ۶۶﴾

’’(ان سے) کہہ دیجیے کہ(اب) میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘

اب میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اللہ کے عذاب کا دروازہ کھل جائے اور عذابِ ہلاکت تم پر ٹوٹ پڑے۔

آیت 67

لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ۫ وَّ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۷﴾

’’ہربڑی بات کے لیے ایک وقت مقرر ہے‘ اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘

جیسا کہ سورۃ الانبیاء میں فرمایا گیا : {وَ اِنۡ اَدۡرِیۡۤ اَقَرِیۡبٌ اَمۡ بَعِیۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾} ’ ’میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آ چکا ہے یا دُور ہے‘‘۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔

اب وہ آیت آ رہی ہے جس کا حوالہ سورۃ النساء کی آیت ۱۴۰ میں آیا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کر چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو…‘‘۔یعنی ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے احتجاج کے طور پر واک آؤٹ تو ضرور کیا جائے۔

68-69

غیرتِ ایمانی کا تقاضا

ویڈیو

وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾ وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾

آیت 68

وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ

’’اور جب تم دیکھو لوگوں کو کہ وہ ہماری آیات میں مین میخ نکال رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ‘‘

اردو میں ’’غور وخوض ‘‘کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ ’’غور ‘‘اور’’ خوض‘‘ دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اورمعانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’غور‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’خوض‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اُتارنے کے معنی دیتا ہے ۔اس جملے میں لفظ یَخُوْضُوْنَ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔

حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ

’’یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ۔‘‘

جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اُس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہو ںتو ان سے کنارہ کشی کر لو‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر تم ان کے پاس جا سکتے ہو۔

ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾

’’ اور اگر تمہیں شیطان بھلا دے تو یاد آ جانے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو ۔‘‘

یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اورکچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کررہے ہیں‘لیکن جونہی احساس ہو جائے کہ ان کی گفتگو اور اندازِ گفتگو قابلِ اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فوراً وہاں سے واک آئوٹ کر جاؤ۔ لیکن چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا لوگوں کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہٰذاایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہترصورتِ حال کے منتظر رہو‘ اورجب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہوتو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں۔یعنی وہی ’’قَا لُــوْا سَلٰـمًا ‘‘ والا انداز ہونا چاہیے کہ علیحدہ بھی ہونا پڑے تو لٹھ مار کر نہ ہوا جائے بلکہ چپکے سے ‘ متانت کے ساتھ کنارہ کر لیا جائے ۔

آیت 69

وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکۡرٰی لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾

’’اور یقینا جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے‘ لیکن یہ یاد دہانی ہے تا کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔‘‘

70

دین کو کھیل تماشا بنانے والوں کا انجام

ویڈیو

وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ ذَکِّرۡ بِہٖۤ اَنۡ تُبۡسَلَ نَفۡسٌۢ بِمَا کَسَبَتۡ ٭ۖ لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ ۚ وَ اِنۡ تَعۡدِلۡ کُلَّ عَدۡلٍ لَّا یُؤۡخَذۡ مِنۡہَا ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اُبۡسِلُوۡا بِمَا کَسَبُوۡا ۚ لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾

آیت 70

وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا

’’اور چھوڑدو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے‘‘

آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دین کے معاملے میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے اور دین کی ہر بات کو استہزا اور تمسخر میں اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔

وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا

’’اور ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا ہے دنیا کی زندگی نے‘‘

ایسے لوگوں کی ساری توجہ ‘تمام بھاگ دوڑ دنیا کے لیے ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمانا‘ مال جمع کرنا اور جائیدادیں بنانا ہی ان کا مقصدِ حیات ہے‘ خواہ حلال سے ہو یا حرام سے ‘ اس بارے میں انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔

وَ ذَکِّرۡ بِہٖۤ اَنۡ تُبۡسَلَ نَفۡسٌۢ بِمَا کَسَبَتۡ ٭ۖ

’’اور آپؐ تذکیر کیجیے اسی (قرآن) کے ذریعے سے‘ مبادا کوئی جان اپنے کرتوتوں کے سبب گرفتار ہو جائے۔‘‘

سورۂ قٓ کی آخری آیت میں حکم دیا گیا ہے : {فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾} کہ آپؐ قرآن کے ذریعے سے تذکیر کیجیے اُس شخص کو جس کے اندر اللہ کی وعید کاکچھ خوف ہے۔ اسی طرح یہاں بھی حضورﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ دنیا کے ان پرستاروں کو بھی قرآن کے ذریعے سے تذکیر کرتے رہیے ‘ انہیں یاد دہانی کراتے رہیے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے کرتوتوں اور بد اعمالیوں کے وبال میں گرفتار ہو جائے۔

لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ ۚ

’’پھر اُس کے لیے نہیں ہو گا اللہ کے مقابلے میں کوئی کارساز اور نہ کوئی سفارشی۔‘‘

شفاعت کے بارے میں دو ٹوک انکار (categorical denial) یہاں دوسری دفعہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت ۵۱ میں بھی یہ مضمون آ چکا ہے ۔سورۃ البقرۃ (آیت ۲۵۴)میں {یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ} کے دو ٹوک الفاظ کے بعد اگلی آیت (آیت الکرسی) میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: {مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ} ۔ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ شفاعت کی کچھ شرائط اور کچھ حدود (limits) بھی ہیں۔ ظاہر ہے یہ شرائط و حدود شفاعت حقہ کی نفی نہیں کرتیں لیکن ان شرائط اور حدود و قیود کے بغیر مطلق شفاعت کاتصور گویا ایمان بالآخرت کی نفی کے مترادف ہے ۔یعنی جب آ پ کو چھڑانے والے موجود ہیں تو پھر ڈر کاہے کا؟ جو دل چاہے کریں‘ جس ڈھب سے چاہیں زندگی بسر کریں۔ بس گاہے بگاہے اللہ تعالیٰ کو یاد کراتے رہیں کہ ہم شرابی ہیں‘ زانی ہیں‘ چور ہیں‘ ڈاکو ہیں‘ حرام خور ہیں‘ غبن کرتے ہیں‘جو کچھ بھی ہیں‘ لیکن اے اللہ! تیرے محبوبﷺ کی اُمت میں ہیں! تو اگر آخرت کے معاملات اسی طرح سے طے ہونے ہیں تو خواہ مخواہ کا ہے کو کوئی اپنا ہاتھ روکے‘ جی بھر کر عیش کیوں نہ کر ے؟ اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!‘‘

وَ اِنۡ تَعۡدِلۡ کُلَّ عَدۡلٍ لَّا یُؤۡخَذۡ مِنۡہَا ؕ

’’اور اگر وہ فدیہ دینا چاہے کل کا کل فدیہ تو بھی اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘

یہ مضمون بھی سورۃ البقرۃ میں دو مرتبہ (آیت ۴۸ اور ۱۲۳ میں) آ چکا ہے۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اُبۡسِلُوۡا بِمَا کَسَبُوۡا ۚ لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾

’’یہی لوگ ہیں جو گرفتار ہو چکے ہیں اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔ ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگاپینے کو اوردرد ناک عذاب ہو گا ان کے کفر کی پاداش میں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے