وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا
’’اور چھوڑدو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے‘‘
آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دین کے معاملے میں کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے اور دین کی ہر بات کو استہزا اور تمسخر میں اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔
وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا
’’اور ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا ہے دنیا کی زندگی نے‘‘
ایسے لوگوں کی ساری توجہ ‘تمام بھاگ دوڑ دنیا کے لیے ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمانا‘ مال جمع کرنا اور جائیدادیں بنانا ہی ان کا مقصدِ حیات ہے‘ خواہ حلال سے ہو یا حرام سے ‘ اس بارے میں انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی۔
وَ ذَکِّرۡ بِہٖۤ اَنۡ تُبۡسَلَ نَفۡسٌۢ بِمَا کَسَبَتۡ ٭ۖ
’’اور آپؐ تذکیر کیجیے اسی (قرآن) کے ذریعے سے‘ مبادا کوئی جان اپنے کرتوتوں کے سبب گرفتار ہو جائے۔‘‘
سورۂ قٓ کی آخری آیت میں حکم دیا گیا ہے : {فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾} کہ آپؐ قرآن کے ذریعے سے تذکیر کیجیے اُس شخص کو جس کے اندر اللہ کی وعید کاکچھ خوف ہے۔ اسی طرح یہاں بھی حضورﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ دنیا کے ان پرستاروں کو بھی قرآن کے ذریعے سے تذکیر کرتے رہیے ‘ انہیں یاد دہانی کراتے رہیے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے کرتوتوں اور بد اعمالیوں کے وبال میں گرفتار ہو جائے۔
لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ ۚ
’’پھر اُس کے لیے نہیں ہو گا اللہ کے مقابلے میں کوئی کارساز اور نہ کوئی سفارشی۔‘‘
شفاعت کے بارے میں دو ٹوک انکار (categorical denial) یہاں دوسری دفعہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت ۵۱ میں بھی یہ مضمون آ چکا ہے ۔سورۃ البقرۃ (آیت ۲۵۴)میں {یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ} کے دو ٹوک الفاظ کے بعد اگلی آیت (آیت الکرسی) میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: {مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ} ۔ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ شفاعت کی کچھ شرائط اور کچھ حدود (limits) بھی ہیں۔ ظاہر ہے یہ شرائط و حدود شفاعت حقہ کی نفی نہیں کرتیں لیکن ان شرائط اور حدود و قیود کے بغیر مطلق شفاعت کاتصور گویا ایمان بالآخرت کی نفی کے مترادف ہے ۔یعنی جب آ پ کو چھڑانے والے موجود ہیں تو پھر ڈر کاہے کا؟ جو دل چاہے کریں‘ جس ڈھب سے چاہیں زندگی بسر کریں۔ بس گاہے بگاہے اللہ تعالیٰ کو یاد کراتے رہیں کہ ہم شرابی ہیں‘ زانی ہیں‘ چور ہیں‘ ڈاکو ہیں‘ حرام خور ہیں‘ غبن کرتے ہیں‘جو کچھ بھی ہیں‘ لیکن اے اللہ! تیرے محبوبﷺ کی اُمت میں ہیں! تو اگر آخرت کے معاملات اسی طرح سے طے ہونے ہیں تو خواہ مخواہ کا ہے کو کوئی اپنا ہاتھ روکے‘ جی بھر کر عیش کیوں نہ کر ے؟ اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!‘‘
وَ اِنۡ تَعۡدِلۡ کُلَّ عَدۡلٍ لَّا یُؤۡخَذۡ مِنۡہَا ؕ
’’اور اگر وہ فدیہ دینا چاہے کل کا کل فدیہ تو بھی اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یہ مضمون بھی سورۃ البقرۃ میں دو مرتبہ (آیت ۴۸ اور ۱۲۳ میں) آ چکا ہے۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اُبۡسِلُوۡا بِمَا کَسَبُوۡا ۚ لَہُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾
’’یہی لوگ ہیں جو گرفتار ہو چکے ہیں اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔ ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگاپینے کو اوردرد ناک عذاب ہو گا ان کے کفر کی پاداش میں۔‘‘