تحریر

الأنعام

آیات ۳۲ تا ۵۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

32

دنیا کی زندگی محض ایک ڈرامہ ہے

ویڈیو

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۲﴾

آیت 32

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ ؕ

’’اور نہیں ہے دُنیا کی زندگی مگر کھیل اور کچھ جی بہلا لینا۔‘‘

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے‘ بلکہ تقابل میں ایسا کہا جاتا ہے کہ آخرت کے مقابلے میںدنیا کی زندگی محض لہو و لعب ہے۔ ایک شے ابدی ہے ‘ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے اور ایک شے عارضی اور فانی ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کیا مقابلہ ؟جیسے دعائے استخارہ میں الفاظ آئے ہیں: فَاِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ (اے اللہ! تو ہی سب کچھ جانتا ہے‘ میں کچھ نہیں جانتا)۔ ظاہر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کچھ بھی نہیں جانتا بلکہ ا س کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم کے مقابلے میں کسی دوسرے کا علم کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح یہاں آخرت کے مقابلے میں دُنیا کی زندگی کو لعب اور لہو قرار دیا گیا ہے۔ ورنہ دنیا تو ایک اعتبار سے آخرت کی کھیتی ہے۔ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ : حدیث((اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الآخِرَۃِ))۳ ‘’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے‘‘۔ یہاں بوئوگے تو وہاں کاٹو گے۔ اگر یہاں بوؤ گے نہیں تو وہاں کاٹو گے کیا؟ یہ تعلق ہے آپس میں دنیا اور آخرت کا۔ اس اعتبار سے دنیا ایک حقیقت ہے اور ایک امتحانی وقفہ ہے۔ لیکن جب آپ تقابل کریں گے دنیا اور آخرت کا تودنیا اور اس کا مال و متاع آخرت کی ابدیت اوراس کی شان و شوکت کے مقابلے میں گویا نہ ہونے کے برابر ہے۔دنیا کی زندگی تو محض تین گھنٹے کے ایک ڈرامہ کی مانند ہے جس میں کسی کو بادشاہ بنا دیا جاتا ہے اور کسی کو فقیر۔ جب ڈرامہ ختم ہوتا ہے تو نہ بادشاہ سلامت بادشاہ ہیں اور نہ فقیر فقیر ہے۔ ڈرامہ ہال سے باہر جا کر کپڑے تبدیل کیے اور سب کردار اپنی اصل حالت میں آ گئے۔ یہ ہے دنیا کی اصل حقیقت۔ اسی مفہوم میں اس آیت میں دنیا کو کھیل تماشا قرار دیا گیا ہے۔

وَ لَلدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’ اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘

اب وہ مقام آ گیا ہے جسے میں نے اس سورۃ کے عمو د کا ذروۂ سنام (climax) قراردیا تھا ۔یہاں ترجمہ کرتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے ‘لیکن ہمیں ترجمانی کی کوشش تو بہر حال کرنی ہے۔

(۳) اسے حافظ زین الدین العراقی نے ’’تخریج الاحیائ‘‘(۴/۲۴) میں‘ علامہ محمد بن عبدالرحمن السخاوی نے ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ح۲۶۰) میں‘ ملا علی قاری نے ’’الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ‘‘(ح۲۰۶) میں اور علامہ زرقانی نے ’’مختصر المقاصد‘‘ (ح۴۶۷) میں نقل کیا ہے۔ اس حدیث کے بارے میں محدثین کی آراء کا خلاصہ یہ ہے : قیل لا اصل لہ او باصلہ موضوع۔ (مرتب)

33-36

اللہ فرمائشی معجزہ نہیں دکھائےگا

ویڈیو

قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾ وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۴﴾ وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۵﴾ اِنَّمَا یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ یَسۡمَعُوۡنَ ؕؔ وَ الۡمَوۡتٰی یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿؃ ۳۶﴾

آیت 33

قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ

’’(اے نبیﷺ!) ہمیں خوب معلوم ہے کہ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیںاس سے آپ غمگین ہوتے ہیں‘‘

ہم جانتے ہیں کہ جو مطالبات یہ لوگ کر رہے ہیں اور آپؐ سے معجزات دکھانے کا تقاضاکر رہے ہیں اس سے آپؐ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ آپﷺ کی ذات گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آگئی ہے۔ایک طرف اللہ کی مشیت ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کے تقاضے۔ اب اس کا پہلا جواب تو یہ ہے:

فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’تو(اے نبیﷺ !آپ صبر کیجیے) یقینا وہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے ‘بلکہ یہ ظالم تواللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں۔‘‘

دراصل یہ لوگ قرآن کا انکار کر رہے ہیں‘ہمارا انکار کر رہے ہیں۔ یہ سمجھانے اور دلجوئی کرنے کا بہت خوبصورت انداز ہے۔ کیاانہوں نے آپ ؐکو کبھی جھوٹا کہا؟نہیں کہا! آپؐ پر کوئی تہمت انہوں نے لگائی؟ نہیں لگائی! لہٰذا یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں ‘ یہ آپ ؐکی تکذیب نہیں ہو رہی‘ یہ ہماری تکذیب ہو رہی ہے‘ غصہ تو ہمیں آنا چاہیے‘ ناراض تو ہمیں ہونا چاہیے ۔ قرآن ہمارا کلام ہے اور یہ لوگ ہمارے کلام کو جھٹلا رہے ہیں ۔ آپؐ کا کام تو ہمارے کلام کو ان تک پہنچا دیناہے ۔ یہ سمجھانے کا ایسا انداز ہے‘ جیسے کوئی شفیق استاد اپنے شاگرد کو سمجھا رہا ہو۔ اب اگلی آیات میں یہ بات درجہ بدرجہ آگے بڑھے گی۔ لہٰذا ان آیات کو پڑھتے ہوئے یہ اصول ذہن میں ضرور رکھئے کہ اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی۔ اب اس ضمن میں دوسرا جواب ملاحظہ ہو:

آیت 34

وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ

’’اور آپ ؐسے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیاتو انہوں نے صبر کیا اس پر جو انہیں جھٹلایا گیا اور جو انہیں ایذائیں پہنچائی گئیں‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اور (اے نبیﷺ!) اللہ کے ان کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں۔‘‘

ہمارا ایک قانون ‘ ایک طریقہ اور ایک ضابطہ ہے‘اس لیے آپ( ﷺ)کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔ آپ کو جس منصب پر فائز کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی بتا دیا تھا : {اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۵﴾} (المزمل) ’’بے شک ہم آپ پر عنقریب ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں۔‘‘

وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۴﴾

’’اور آپؐ کے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔‘‘

آپ (ﷺ) تمام انبیاء و رسل ؑکے حالات و واقعات سے آگاہ ہیں ۔آپ(ﷺ )کے علم میں ہے کہ ہمارے بندے نوح( علیہ السلام ) نے ساڑھے نو سو برس تک صبر کیا۔ اب اس کے بعد سخت ترین بات آ رہی ہے۔

آیت 35

وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ

’’ اور اگر ان کا اعراض آپؐ پر بہت شاق گزر رہا ہے تو اگر آپؐ میں طاقت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ لگا لیں یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا لیں تو لے آئیں کوئی نشانی۔‘‘

ہمارا تو فیصلہ اٹل ہے کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نہیں دکھائیں گے‘ آپ لے آئیں جہاں سے لا سکتے ہیں۔ غور کیجیے کس انداز میں حضورﷺ سے گفتگو ہو رہی ہے۔

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمۡ عَلَی الۡہُدٰی

’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘

اگر اللہ چاہتا تو آنِ واحد میں سب کو صاحبِ ایمان اور نیک بنا دیتا۔ اس کے لیے تو ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔

فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۵﴾

’’ تو آپؐ جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں سے نہ بنیں!‘‘

اس معاملے میں آپ ؐجذباتی نہ ہوں۔ یہی لفظ سورئہ ہود میں حضرت نوح علیہ السلام سے خطاب میں آیا ہے۔ جب حضرت نوحؑ نے عرض کی کہ اے اللہ! میرا بیٹا میری نگاہوں کے سامنے غرق ہو گیاجب کہ تیرا وعدہ تھا کہ میرے اہل کو تو بچا لے گا: {اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ وَ اِنَّ وَعۡدَکَ الۡحَقُّ } (ہود: ۴۵) ’’میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘۔تواس کا جواب بھی بہت سخت تھا: {اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶﴾} ’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ ہو جائو‘‘۔ ذرا غور کریں ‘یہ اللہ کا وہ بندہ ہے جس نے ساڑھے نوسو برس تک اللہ کی چاکری کی‘ اللہ کے دین کی دعوت پھیلائی ‘ اس میں محنت کی ‘ مشقت کی اور ہر طرح کی مشکلات اٹھائیں۔ لیکن اللہ کی شان بہت بلند ہے‘ بہت بلند ہے‘ بہت بلند ہے! ظاہر ہے اگر سب انسانوں کو ہدایت پر لانا مقصود ہو تو اللہ کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ آنِ واحد میں سب کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مانند بنا دے‘ اور اگر وہ سب کو بگاڑنا چاہے تو آنِ واحد میں سب کے سب ابلیس بن جائیں ۔ مگر اصل مقصود تو امتحان اور آزمائش ہے۔ لہٰذا جو حق کا طالب ہو گا اور جو حق پر چلنا چاہے گا ‘ حق صرف اسی کو ملے گا۔

آیت 36

اِنَّمَا یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ یَسۡمَعُوۡنَ ؕؔ وَ الۡمَوۡتٰی یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿؃ ۳۶﴾

’’بات تو وہی قبول کریں گے جو (حقیقتاً)سنتے ہیں ۔رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا ‘ پھر وہ اُسی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘

37-39

قدرت کے معجزات چہار طرف موجود ہیں

ویڈیو

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ ہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۷﴾ وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکۡمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ؕ مَنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضۡلِلۡہُ ؕ وَ مَنۡ یَّشَاۡ یَجۡعَلۡہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۹﴾

آیت 37

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ

’’اوروہ کہتے ہیں کیوں نہیں اُتار دی گئی اس پر کوئی نشانی اُس کے ربّ کی طرف سے؟‘‘

ان کے پاس بس یہی ایک دلیل رہ گئی تھی کہ اگر محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں تو ان پر اللہ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتار دی جاتی؟ اسی ایک حجت پر انہوں نے ڈیرہ لگا لیا تھا۔ باقی ساری دلیلوں میں وہ مات کھا رہے تھے۔اس صورتِ حال میں حضورﷺ کی طبیعت میں تنگی (ضیق) کی جو کیفیت پیدا ہو رہی تھی اس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔ جیسے سورۃ الحجر میں فرمایا گیا : {وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾} ’’ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کاسینہ بھنچتا ہے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں۔‘‘

قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنۡ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ ہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۷﴾

’’کہہ دو ‘اللہ قادر ہے کہ وہ کوئی (بڑی سے بڑی) نشانی اُتار دے ‘لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کا معجزہ دکھانے کانتیجہ کیا نکلے گا۔ اس طرح ان کی مہلت ختم ہو جائے گی۔ یہ بد بخت لوگ جس موقف پر مورچہ لگا کر بیٹھ گئے ہیں اس کی حساسیت کا انہیں علم ہی نہیں۔انہیں معلوم نہیں ہے کہ معجزہ نہ دکھانا ان کے لیے ہماری رحمت کا مظہر ہے‘ اس لیے کہ ہم ابھی انہیں مزید مہلت دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ دودھ ابھی اور بلویا جائے ‘ شاید اس میں سے کچھ اور مکھن نکل آئے۔

آیت 38

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیۡرُ بِجَنَاحَیۡہِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُکُمۡ ؕ

’’ اور نہیں ہے زمین پر چلنے والا کوئی بھی جانور اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں بازوئوں سے اڑتا ہے ‘مگر وہ بھی تمہاری ہی طرح کی اُمتیں ہیں۔‘‘

انسانوں کی طرح جانوروں‘ پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کے بھی رہنے سہنے کے اپنے اپنے طور طریقے اورنظام ہیں‘ ‘ ان کے اپنے leaders ہوتے ہیں جن کے تحت وہ بہت منظم طور پر رہتے ہیں۔ یہ چیزیں آج کی سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ ہیں۔ جیسے چیونٹیوں کی ایک ملکہ ہوتی ہے‘ جس کے ماتحت وہ منظم انداز میں رہتی اور کام وغیرہ کرتی ہیں۔ اسی طرح شہد کی مکھیوں کی بھی ملکہ ہوتی ہے۔

مَا فَرَّطۡنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿۳۸﴾

’’ہم نے تو اپنی کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں رکھی ہے ‘پھر یہ اپنے ربّ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔‘‘

قرآن میں ہم نے ہر طرح کے دلائل دے دیے ہیں‘ ہر طرح کے شواہد پیش کر دیے ہیں‘ ہر طرح سے استشہاد کر دیا ہے۔ ان سب کو آخر کار ہمارے حضور پیش ہونا ہے ۔وہاں پر ہر ایک کواپنے کیے کا پورا بدلہ مل جائے گا۔

آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکۡمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ؕ

’’اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں(اور) اندھیروں میں (بھٹک رہے) ہیں۔‘‘

مَنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضۡلِلۡہُ ؕ وَ مَنۡ یَّشَاۡ یَجۡعَلۡہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۳۹﴾

’’ جس کو اللہ چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر لے آتا ہے۔‘‘

’’اللہ گمراہ کر دیتا ہے‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے‘ اس کی گمراہی کا فیصلہ کر دیتا ہے۔

40-41

مشکل میں صرف اللّٰہ ہی کو پکارو

ویڈیو

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۰﴾ بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾

آیت 40

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۰﴾

’’ان سے کہیے‘ ذرا غور کرو‘ اگر تم پر (کسی وقت )اللہ کا عذاب آ جائے یا تم پر قیامت آجائے تو (اُس وقت)کیا تم سوائے اللہ کے کسی اور کو پکارو گے؟ اگر تم سچے ہو (تو ذرا جواب دو)!‘‘

یہ بھی ایک متجسسانہ (searching) سوال ہے۔ اس حوالے سے حقیقت یہ تھی کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘مثلاً سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو مشرکین کو لات ‘ منات ‘عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا یاد نہ رہتا ۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چنانچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے کہ آخر مصیبت کے وقت اسے ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے؟ کسی شخص میں شرافت کی کچھ بھی رمق موجود ہوتو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ ہاں بات تو ٹھیک ہے ‘ واقعی مشکل وقت میں میری زبان پر بے اختیار ’’اللہ‘‘ ہی کا نام آتا ہے۔ گویا ایک اللہ کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا انسان کی فطرت کا تقاضاہے۔

آیت 41

بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿٪۴۱﴾

’’بلکہ(مصیبت کی گھڑی میں) تم اسی کو پکارتے ہو‘ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو جس تکلیف کے لیے تم اسے پکارتے ہو وہ دُور کر دیتا ہے او ر (ایسے مواقع پر )تم بھول جاتے ہو اُن کو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔‘ ‘

42-45

اللہ آفات جھنجھوڑنے کے لیے بھیجتا ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾ فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَ لٰکِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾ فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾

آیت 42

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’اور ہم نے بھیجا ہے بہت سی اُمتوں کی طرف آپؐ سے قبل (رسولوں کو) ‘پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے ‘ شاید کہ وہ عاجزی کریں۔‘‘

یہاں رسولوں کی بعثت کے بارے میں ایک اہم قانون بیان ہو رہا ہے(واضح رہے کہ یہاں انبیاء نہیں بلکہ صرف رسل مراد ہیں) کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جاتا تھا تو اس قوم کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھوٹے چھوٹے عذاب آتے تھے‘لیکن اگر وہ قوم اس کے باوجود بھی نہ سنبھلتی اوراپنے رسول پر ایمان نہ لاتی ‘تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسّی ڈھیلی چھوڑ دی جاتی تھی‘ تا کہ چند دن کی جومہلت ہے اس میں وہ خوب دل کھول کر من مانیاںکر لیں۔ پھر اچانک اللہ کا بڑا عذاب ان کو آپکڑتا تھا جس سے وہ قوم نیست و نابود کر دی جاتی تھی۔ یہ مضمون اصل میں سورۃ الاعراف کا عمود ہے اور وہاں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

آیت 43

فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَ لٰکِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب ہماری طرف سے کوئی سختی ان پر آئی تو وہ گڑ گڑاتے‘ لیکن ان کے دل تو سخت ہو چکے تھے اور شیطان نے مزین کیے رکھا ان کے لیے ان اعمال کوجو وہ کر رہے تھے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار کی تنبیہات کے باوجودبھی وہ لوگ سوچنے ‘ سمجھنے اور اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔

آیت 44

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ

’’پھر جب انہوں نے بھلا دیا اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر دروازے کھول دیے ہر چیز کے۔‘‘

کہ اب کھاؤ پیو‘ عیش کرو‘ اب دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں تمہیں ملیں گی‘ تا کہ اس دنیا میں جو تمہارا نصیب ہے اس سے خوب فائدہ اٹھا لو۔

حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’یہاں تک کہ جب وہ اِترانے لگے ان چیزوں پر جو انہیں مل گئی تھیں تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا ‘پھر وہ بالکل مایوس ہوکر رہ گئے۔‘‘

آیت 45

فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۵﴾

’’ پھر جڑ کاٹ دی گئی اُس قوم کی جس نے ظلم (اور کفر و شرک) کی روش اختیار کی تھی۔ اور کل شکر اور تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

46-49

مشرکین کے لیے جنجھوڑنے کا اسلوب

ویڈیو

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰہُ سَمۡعَکُمۡ وَ اَبۡصَارَکُمۡ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ مَّنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِہٖ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمۡ یَصۡدِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾ قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ فَمَنۡ اٰمَنَ وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الۡعَذَابُ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۴۹﴾

آیت 46

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰہُ سَمۡعَکُمۡ وَ اَبۡصَارَکُمۡ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ مَّنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِہٖ ؕ

’’(اے نبیﷺ! ان سے )پوچھئے! کیا تم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تمہاری آنکھیں اور تمہارے کان چھین لے اورتمہارے دلوں پر مہر کردے تواللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو دوبارہ تمہیں یہ (ساری صلاحیتیں) دلائے گا؟‘‘

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمۡ یَصۡدِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾

’’دیکھئے ہم کس طرح ان کے لیے اپنی آیات مختلف پہلوؤں سے پیش کرتے ہیں‘پھر بھی وہ کنارہ کشی کرتے ہیں۔‘‘

؏

’’اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘‘

کے مصداق قرآن میں مختلف مضامین پھرا پھرا کر‘مختلف انداز سے کفار و مشرکین کے سامنے لائے گئے ‘مگر اس کے باوجود یہ لوگ مسلسل اعراض کر رہے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔

آیت 47

قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ بَغۡتَۃً اَوۡ جَہۡرَۃً ہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’(ان سے )کہیے دیکھو تو اگر تم پر عذاب آ جائے اچانک یا علی الاعلان ‘توکون ہلاک ہوگا سوائے ظالموں کے؟‘‘

یہ عذاب اچانک آئے یا بتدریج ‘ پیشگی اطلاع کے بغیر وارد ہو جائے یا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر کے آئے‘ ہلاک تو ہر صورت میں وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کے رسول کی دعوت کو ٹھکرا کر‘ اپنی جانوں پر ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اب اگلی آیت میں انبیاء و رُسل علیہم السلام کی بعثت کا وہی بنیادی مقصد بیان ہو رہا ہے جو اس سے پہلے ہم سورۃ النساء(آیت ۱۶۵) میں پڑھ چکے ہیں: {رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ…}

آیت 48

وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ

’’ہم نہیں بھیجتے رہے ہیں اپنے رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر۔‘‘

فَمَنۡ اٰمَنَ وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’ تو جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنی اصلاح کر لی توان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

یعنی تمام انبیاء و رُسل اہلِ حق کے لیے بشارت دینے والے اور اہل باطل کے لیے خبردار کرنے والے تھے۔

آیت 49

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الۡعَذَابُ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۴۹﴾

’’اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاان پرعذاب مسلط ہو کر رہے گا ان کی نافرمانی کے باعث۔‘‘

50

نبی اکرم ﷺ کا اعترافِ عاجزی و بے بسی

ویڈیو

قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾

آیت 50

قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ اِنِّیۡ مَلَکٌ ۚ

’’(اے نبیﷺ !ان سے )کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے اختیار میں ہیں اللہ کے خزانے اور نہ (میں نے دعویٰ کیا ہے کہ) مجھے غیب کا علم حاصل ہے اور نہ میں نے (کبھی) یہ کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔‘‘

تم لوگ مجھ سے معجزات دکھانے کے مطالبات کرتے ہو اورغیب کے احوال پوچھتے ہو‘لیکن کسی شخص سے مطالبہ تو کیا جانا چاہیے اُس کے دعوے کے مطابق۔میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میں غیب جانتا ہوں اور الوہیت میں میرا حصہ ہے۔ میرادعویٰ تو یہ ہے کہ میں اللہ کا ایک بندہ ہوں‘ بشر ہوں ‘ مجھ پر وحی آتی ہے‘مجھے مامور کیا گیا ہے کہ تمہیں خبردارکر دوں اور وہ کام میں کر رہا ہوں۔

اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ؕ

’’میں تو بس اتباع کر رہا ہوں اُس شے کاجو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ ‘‘

قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ؕاَفَلَا تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾

’’کہیے تو کیااب برابر ہو جائیں گے اندھے اور دیکھنے والے ؟تو کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے؟‘‘

51

قرآن سے ہدایت کس کو ملے گی؟

ویڈیو

وَ اَنۡذِرۡ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۱﴾

تمہید

ابھی پچھلے رکوع میں ہم نے پڑھا: {وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ} (آیت ۴۸)کہ تمام رسول تبشیر اور اِنذار کے لیے آتے رہے اور اسی سورت میں ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ حضورﷺ کی زبانِ مبارک سے کہلوایا گیا : {وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ} (آیت ۱۹) ’’یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیاہے تا کہ اس کے ذریعے سے میں خبردار کروں تم لوگوں کو اور اُن تمام لوگوں کو بھی جن تک یہ پہنچے‘‘۔یہاں اب پھرقرآن کے ذریعے سے (بِــہٖ) انذار کا حکم آرہا ہے کہ (اے نبیﷺ) آپ کا کام انذار اورتبشیر ہے جسے آپ اس قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔

آیت 51

وَ اَنۡذِرۡ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ

’’اورخبردار کر دیجیے اِس (قرآن) کے ذریعے سے اُن لوگوں کو جنہیں واقعتا کچھ خوف ہے کہ وہ اپنے ربّ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے‘‘

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ‘مشرکینِ مکہ میں بہت کم لوگ تھے جو بعث بعد الموت کے منکر تھے ۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کا عقیدہ یہی تھا کہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے‘ قیامت آئے گی اور سب انسانوں کی اللہ کے حضور پیشی ہوگی‘ لیکن اپنے باطل معبودوں کے بارے میں اُن کا گمان تھا کہ وہ انہیں چھڑانے کے لیے وہاں موجود ہوں گے اورانہیں سزا سے بچا لیں گے۔

لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیۡعٌ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۱﴾

’’اس حال میں کہ ان کے لیے نہیں ہو گا اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ‘ شاید کہ (اس طرح سمجھانے سے) ان میں کچھ تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘

ان کو خبردار کر دیں کہ اپنے باطل معبودوں کی شفاعت کے بارے میں وہ لوگ اپنی غلط فہمیوں کو دور کر لیں۔ شاید کہ حقیقتِ حال کا ادراک ہونے کے بعد ان کے دلوں میں کچھ خوفِ خدا پیدا ہو جائے۔

52-55

فقراء کی عزت افزائی کا حکم

ویڈیو

وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾ وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لِّیَقُوۡلُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾ وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۴﴾ وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۵۵﴾

آیت 52

وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ ؕ

’’اور مت دھتکاریے آپ ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے ربّ کو صبح شام(اور) وہ اُس کی رضا کے طالب ہیں۔‘‘

دراصل یہ اشارہ ہے اس خاص معاملے کی طرف جو تقریباً تمام رسولوں کے ساتھ پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ عام طور پر رسولوں کی دعوت پر سب سے پہلے مفلس اور نادار لوگ ہی لبیّک کہتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نبی کی محفل میں دیکھ کر صاحبِ ثروت و حیثیت لوگ اس دعوت سے اس لیے بھی بدکتے تھے کہ اگر ہم ایمان لائیں گے تو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا خصوصی طور پر ذکر ہوا ہے ۔ آپ ؑکی قوم کے سردار کہتے تھے کہ اے نوح ہم توآپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ‘آپ کے پیغام کو سمجھنا بھی چاہتے ہیں‘ لیکن جب ہم آپ کے ارد گرد گھٹیا قسم کے لوگوں کوبیٹھے دیکھتے ہیں توہماری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں۔ یہی بات سردارانِ قریش رسول اللہﷺ سے کہتے تھے کہ آپؐ کے پاس ہر وقت جن لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے وہ لوگ ہمارے معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان میں سے اکثر ہمارے غلام ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں آپ ؐکی محفل میں بیٹھنا ہمارے شایانِ شان نہیں ۔ ان کی ایسی باتوں کے جواب میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی(ﷺ) آپ ان کی ایسی باتوں سے کوئی اثر نہ لیں‘اور ان کے لیے آپ ؐخواہ مخواہ اپنے مخلص ساتھیوں کو خود سے دور نہ کریں۔اگروہ غریب ہیں یا ان کا تعلق پست طبقات سے ہے تو کیا ہوا‘ان کی شان تویہ ہے کہ وہ صبح شام اللہ کو پکارتے ہیں‘ اللہ سے مناجات کرتے ہیں‘ اُس کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں ‘اُس کے روئے انور کے طالب ہیں اور اُس کی رضا چاہتے ہیں۔ سورۃ البقر ۃ میں ایسے لوگوں کے بارے میں ہی فرمایا گیا ہے : {مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ} (آیت ۲۰۷) کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنی زندگیاں اللہ کی رضا جوئی کے لیے وقف کر دی ہیں۔

مَا عَلَیۡکَ مِنۡ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ مَا مِنۡ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ

’’آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے او ر نہ آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے‘‘

یعنی ہر شخص اپنے اعمال کے لیے خود جواب دہ ہے اور ہر شخص کو اپنی کمائی خود کرنی ہے۔ آپؐ کے ذمے آپ کا فرض ہے‘ وہ آپؐ ادا کرتے رہیں۔جو لوگ آپ(ﷺ) کی دعوت پر ایمان لا رہے ہیں وہ بھی اللہ کی نظر میں ہیں اورجو اس سے پہلوتہی کر رہے ہیں ان کا حساب بھی وہ لے لے گا۔ ہر ایک کو اُس کے طرزِعمل کے مطابق بدلہ دیاجائے گا۔ نہ آپؐ ان کی طرف سے جواب دہ ہیں اور نہ وہ آپؐ کی طرف سے ۔

فَتَطۡرُدَہُمۡ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾

’’ تو اگر (بالفرض) آپ انہیں اپنے سے دُور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘

آیت 53

وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ

’’اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے آزمایا ہے‘‘

یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے ۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے‘ اگر وہ کسی دولت مند اورصاحبِ منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پرحقارت بھری نظر ڈال کرمسکرادیتا ہے کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحبِ حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کر تے ہیں ۔

لِّیَقُوۡلُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾

’’تا کہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے ہم میں سے؟ تو کیا اللہ زیادہ واقف نہیں ہے ان سے جو واقعتا اس کا شکر کرنے والے ہیں؟‘‘

صاحب حیثیت لوگ تو دعویٰ رکھتے ہیں کہ اللہ کا انعام اور احسان تو ہم پر ہوا ہے‘ دولت مند تو ہم ہیں‘ چودھراہٹیں تو ہماری ہیں۔ یہ جو نچلے طبقات کے لوگ ہیں ان کو ہم پر فضیلت کیسے مل سکتی ہے؟ سردارانِ قریش بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کرنی تھی‘ کسی کو نبوت دینی تھی تو اس کے لیے کوئی ’’رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ‘‘ منتخب کیا جاتا ۔یعنی یہ مکہ اور طائف جو دو بڑے شہر ہیں ان میں بڑے بڑے سردار ہیں‘ سرمایہ دار ہیں‘ بڑی بڑی شخصیات ہیں‘ ان میں سے کسی کو نبوت ملتی تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ کیا ہوا کہ مکہ کا ایک یتیم جس کا بچپن مفلسی میں گزرا ہے‘ جوانی مشقت میں کٹی ہے ‘جس کے پاس دولت ہے نہ کوئی منصب ‘ وہ نبوت کا دعویدار بن گیاہے ۔ اس قسم کے اعتراضات کا ایک اورمسکت جواب اسی سورۃ کی آیت ۱۲۴ میں ان الفاظ میں آئے گا: {اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ } ’ ’اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا منصب کس کو دینا چاہیے‘‘۔ اور کس میں اس منصب کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے ۔ جیسے طالوت کے بارے میں لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ وہ کیسے بادشاہ بن سکتا ہے :{وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ} (البقرۃ : ۲۴۷) ’’ اسے تو مال و دولت کی وسعت بھی نہیں دی گئی۔‘‘ہم دولت مند ہیں‘ ہمارے مقابلے میں اس کی کوئی مالی حیثیت نہیں۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ طالوت کو جسم اور علم کے اندر کشادگی {بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ} عطا فرمائی گئی ہے۔ لہٰذا اس میں بادشاہ بننے کی اہلیت تم لوگوں سے زیادہ ہے۔

اب اگلی آیت میں رسول اللہﷺکو مزید تاکید کی جا رہی ہے کہ ان غریب و نادار مؤمنین کے ساتھ آپ کا برتائوکیسا ہونا چاہیے۔

آیت 54

وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ

’’جب آپ ؐکے پاس آئیں وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان سے کہیں کہ تم پر سلامتی ہو‘ تمہارے ربّ نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے ‘‘

اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۴﴾

’’(اور تمہارے لیے اللہ کی خاص رحمت کا مظہر یہ ہے )کہ تم میں سے جو کوئی کسی برے کام کا ارتکاب کربیٹھے گا جہالت کی بنا پر‘ پھر وہ اس کے بعد توبہ کرے گا اور اصلاح کرلے گا تو یقینا اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔‘‘

آیت 55

وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۵۵﴾

’’اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل بیان کرتے ہیں تا کہ (لوگ ان پر غور و فکر کریں) اور مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے۔‘‘

یہاں پر ’’نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ‘‘ کے بعد ’ ’لِیَتَفَکَّرُوْا بِھَا‘‘ محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ہم آیات کی تفصیل اس لیے بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان پرغور و فکر کریں۔ اگر وہ ان پر غور کریں گے ‘ تفکر کریں گے تو مجرموں کا راستہ ان کے سامنے کھل کر واضح ہوجائے گا۔

یوٹیوب پر دیکھیے