بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الأنعام

آیات ۱ تا ۳۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

جیساکہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ‘حجم کے اعتبار سے قرآن مجید کا دو تہائی حصہ مکی ہے‘ جبکہ لگ بھگ ایک تہائی حصہ مدنی سورتوں پر مشتمل ہے۔ البتہ قرآن حکیم میں مکی اور مدنی سورتوں کے جو سات گروپ ہیں‘ ان میںسے پہلے گروپ میںمکی سورت صرف ایک ہے یعنی سورۃ الفاتحہ ۔یہ سورۃ اگرچہ حجم کے اعتبار سے بہت ہی چھوٹی (کل سات آیات پر مشتمل) ہے‘ مگر معنوی اعتبار سے بہت عظمت اور فضیلت کی حامل ہے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ سورۃ مکی اور مدنی تقسیم سے بہت اعلیٰ و ارفع اور بلند ترہے ۔بہر حال مکی اور مدنی سورتوں کے پہلے گروپ میں تومکی قرآن گویا بہت ہی تھوڑا ہے (سورۃ الفاتحہ کی صورت میں)‘ البتہ دوسرے گروپ میں دو بڑی مکی سورتوں یعنی سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف کا جوڑا شامل ہے۔ اب ہم اس جوڑے کی پہلی سورۃ یعنی سورۃ الانعام کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں۔

ایک روایت کے مطابق سورۃ الانعام پوری کی پوری بیک وقت ‘ ایک ہی تنزیل میں نازل ہوئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں اس سورۃ کو لے کر اُترے۔اس سورت سے مکی اور مدنی سورتوں کا دوسرا گروپ شروع ہو رہا ہے جوچار سورتوں پر مشتمل ہے ۔ یہ گروپ اس لحاظ سے بہت متوازن ہے کہ اس میں دو مکی سورتیں(الانعام اور الاعراف) اور دوہی مدنی سورتیں(الانفال اور التوبہ) ہیں۔ مضامین کی مناسبت سے یہ چاروں سورتیں بھی دو دو کے جوڑوں میں ہیں‘ یعنی ایک جوڑا مکی سورتوں کا جب کہ دوسرا جوڑا مدنی سورتوں کا۔

اس سے پہلے ہم مدنی قرآن پڑھ رہے تھے (سوائے سورۃ الفاتحہ کے )‘ لیکن اب مکی قرآن کا ایک حصہ ہمارے زیر مطالعہ آ رہا ہے ۔سورۃ البقرۃ‘ سورۂ آلِ عمران‘ سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ (مدنیات) میں منافقین اور یہود ونصاریٰ سے براہِ راست خطاب تھا‘لیکن اب مکی سورتوں(سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف )میں مشرکینِ عرب سے گفتگو ہے۔ ان سورتوں میں اہل کتاب کا ذکر تو ہے‘ لیکن ان سے براہِ راست کوئی خطاب یا گفتگونہیں ہے۔

مکی اور مدنی سورتیں اپنے ماحول اور پس منظر کے اعتبار سے مضامین و موضوعات کے دو الگ الگ گلدستے پیش کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے میں نے مکی اور مدنی قرآن کو د و الگ الگ جنتوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے --- قرآن حکیم میں ارشاد ہے : {وَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾} (الرحمٰن) ’’اور جو کوئی اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اُس کے لیے دو جنتیں ہوں گی‘‘ ---- قرآن مجید کی ایک مکی جنت ہے اور دوسری مدنی جنت ۔ گویا قبل ازیں ہم مدنی جنت کی سیر کر رہے تھے‘اب ہم مکی جنت میں داخل ہورہے ہیں۔ لہٰذا سورۃ الانعام پڑھتے ہوئے آپ بالکل ایک نیا ماحول محسوس کریں گے ۔یہ دونوں سورتیں (سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف) چونکہ رسول اللہﷺ کے قیا مِ مکہ کے تقریباً آخری دور میں نازل ہوئی تھیں اس لیے ان میں مشرکینِ عرب (بنی اسماعیل) پر بالکل اسی انداز سے اتمامِ حجت کیا گیا ہے جیسے مدنی سورتوں میں اہلِ کتاب پر کیا گیا تھا۔ پھر ان سورتوں کے موضوعات کے اندر بڑی پیاری تقسیم ملتی ہے ۔ مکی سورتوں کا اہم ترین مضمون’ایمان‘ ہے یعنی ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرۃ‘وغیرہ۔ایمان کی طرف بلانے کے لیے شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی اصطلاحات کے مطابق قرآن حکیم میں دو طرح سے استدلال کیا جاتا ہے: التّذکیربآلَائِ اللّٰہ اور التّذکیر بِاَیَّامِ اللّٰہ۔

التذکیربآلَائِ اللّٰہ سے مراد اللہ تعالیٰ کے احسانات ‘ اس کی نعمتوں‘ اس کی عظمت وقدرت ‘ اس کی آیاتِ آفاقیہ و آیاتِ انفسیہ وغیرہ کے حوالے سے یاد دہانی اور تذکیر ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان ہمارے اندر پہلے سے بالقوۃ (potentially) توموجود ہے ‘مگر یہ فعال نہیں ہے‘ سویا ہوا (dormant) ہے۔ اسے فعال (active) کرنے اورجگانے کے لیے اللہ کی قدرت‘ ا س کی نعمتوں اور انفس و آفاق میں اس کی نشانیوں سے استدلال کر کے یاد دہانی کرائی جاتی ہے‘ جس کو شاہ ولی اللہؒ نے ا لتّذکیر بِآلَائِ اللّٰہ کا نام دیا ہے۔

دعوت اِلی الا یمان کے قرآنی استدلال کا دوسرا پہلو یا طریقہ شاہ ولی اللہؒ کے مطابق التّذکیر بِاَیَّامِ اللّٰہ ہے ‘ یعنی اللہ کے دِنوں کے حوالے سے استدلال ۔ اللہ تعالیٰ کے دنوں کے اعتبار سے سب سے اہم اور عبرت ناک وہ دِن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی قوموں کو تہس نہس کر دیا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا گیااور اُس رسول نے اپنی امکانی حد تک قوم کے افراد کو حق کی دعوت پہنچا دی‘ حق کو مبرہن کرکے ان پر اتمامِ حجت کر دیا‘لیکن اس کے باوجود بھی اگر وہ قوم کفرپر اَڑی رہی اور اُس نے رسول کی دعوت کو ردّ کر دیا تو پھر اُس قوم کے ساتھ رعایت نہیں برتی گئی ‘یعنی ایسی صورت میں وہ قوم ختم کر دی گئی۔جیسے قومِ نوحؑ کے ساتھ ہوا تھا‘ حضرت نوح علیہ السلام اورآپؑ کے معدودے چند اہلِ ایمان ساتھی ایک کشتی پر محفوظ رہے‘ باقی پوری نوعِ انسانی (جو اُس وقت تک اسی قوم کے افراد تک محدود تھی )نیست و نابود کر دی گئی۔ قومِ عاد پوری ختم کر کے نسیاً مّنسیا کر دی گئی‘ صرف حضرت ہود علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے چند لوگوں کو بچایا گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام اورمٹھی بھر اہل ایمان کے علاوہ قومِ ثمود کو بھی برباد کر دیا گیا۔اسی طرح قومِ شعیب ؑکو بھی صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں کو بھی ملیا میٹ کر دیا گیا‘ صرف حضرت لوط علیہ السلام اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہاں سے نکل سکے ‘باقی پوری قوم ختم ہو گئی۔اسی طرح آلِ فرعون کو بھی غرق کر دیا گیا۔

یہاں پر رسول اور نبی کی دعوت کے فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ رسول کی دعوت کا انکار کرنے کی صورت میں متعلقہ قوم تباہ و برباد کر دی جاتی ہے۔ ان کے اس انکار سے گویا ثابت ہو گیا کہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے، ان کی حیثیت محض اُس جھاڑ جھنکار کی ہے جسے جمع کرکے آگ لگا دی جاتی ہے۔ اللہ کی طرف سے رسول کے آجانے کے بعد بھی اگر کسی قوم کی آنکھیں نہیں کھلتیں تو وہ گویا زمین کا بوجھ ہے، جس کا صفایا ضروری ہے۔ جب کہ نبی کا معاملہ یہ نہیں ہوتا۔ نبی کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسے اولیا؍ء اللہ ہیں۔ جس نے ان کی بات مان لی اس کو فائدہ ہو گیا، جس نے نہیں مانی اس کو ذاتی طور پر نقصان ہو جائے گا، لیکن نبی کے انکار سے پوری قوم کی تباہی اور ہلاکت نہیں ہوا کرتی۔ عام اولیاء اللہ اور انبیاء میں فرق یہ ہے کہ عام اولیاء اللہ پر وحی نہیں آتی، جبکہ انبیاء پر وحی آتی تھی۔

اس کے علاوہ ازلی و ابدی حقائق بھی اَیَّامِ اللّٰہ میں شامل ہیں‘ یعنی ازل میں کیا واقعات پیش آئے‘ ابدمیں کیا ہو گا‘ بعث بعد الموت کی تفصیلات‘ عالمِ برزخ اور عالم آخرت کے احوال‘ اصحابِ جنت‘ اصحابِ جہنم اور اصحابِ اعراف کی کیفیات وغیرہ۔اس لحاظ سے سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف میں موضوعات کی جو ایک خوبصورت اور متوازن تقسیم ملتی ہے وہ اس طرح ہے کہ سورۃ الانعام میں جگہ جگہ التذکیر بِآلَائِ اللّٰہ کی تفصیلات ہیں ‘ جبکہ سورۃ الاعراف کا بڑا حصہ التذکیربِاَیَّامِ اللّٰہ پر مشتمل ہے۔

مکی اور مدنی سورتوں کے مضامین میں جو بنیادی فرق ہے اسے ایک دفعہ پھر سمجھ لیجیے۔ مکی سورتوں میں خطاب اور دعوت کا رخ زیادہ تر مشرکین عرب کی طرف ہے‘ لہٰذا ان سورتوں کا اصل مضمون توحید ہے ‘ یعنی توحید کا اثبات‘شرک کی نفی اور ایمانیات کا تذکرہ ہے ۔ ان سورتوں میں اہل ایمان سے خطاب بہت کم ہے‘ اور ہے بھی تو براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ سے واحد کے صیغے میں خطاب کیا جاتا ہے اور آپؐ کے ذریعے سے مسلمان مخاطب ہوتے ہیں۔ ان سورتوں میں نفاق کا ذکر شاید ہی کہیں ملے‘ کیونکہ مکی دور میں نفاق کا مرض موجود ہی نہیں تھا۔ اہلِ مکہ کے اندر کردار کی پختگی تھی‘ وہ وعدے کے پکے تھے‘ جس چیزکو مانتے تھے پورے خلوص و اخلاص کے ساتھ مانتے تھے اور نہ ماننے کی صورت میں اُس کی مخالفت بھی بہت شدومد سے کرتے تھے۔ ان میں چال بازیاں اور ریشہ دوانیاں نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ مکی سورتوں میں انسانی اخلاقیات پر بڑا زور دیا گیا ہے‘مثلاً سچ بولنے کی تاکید ‘ جھوٹ کی حوصلہ شکنی‘ بخل کی مذمت ‘ سخاوت کی تعریف‘ مساکین کو کھانا کھلانے پر زور اور ان لوگوں پر تنقید جو دولت مند ہونے کے باوجود کٹھور دل ہیں۔ اِن سورتوں کا ایک خاص اور اہم مضمون سابقہ قوموں اور رسولوں کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے ۔ان سورتوں میں اس سلسلے میں جو فلسفہ بار بار بیان ہوا ہے اس کا ذکر ان سطور میں ’’التذکیربِاَیَّامِ اللّٰہ‘‘ کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے۔ اس فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول کا انکار کرنے والی قوم کو ہمیشہ عذابِ استیصال سے دوچار ہونا پڑتا رہا ہے۔ جیسے ارشاد ہوا: {فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ} ( الانعام :۴۵) ’’پس جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ظالم قوم کی۔‘‘

دوسری طرف مدنی سورتوں میں زیادہ تر خطاب یا تو مسلمانوں سے بحیثیت اُمتِ مسلمہ ہے یا پھر اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) سے بحیثیت سابقہ اُمتِ مسلمہ ‘ دعوت کے انداز میں بھی اور ملامت کے طور پر بھی‘ ترغیب سے بھی اور ترہیب سے بھی۔ان سورتوں میں نفاق اور منافقین کا ذکر کثرت سے ہے۔اوس اور خزرج کے جولوگ مدینہ میں آباد تھے وہ اگرچہ تھے تو عرب ہی ‘ لیکن یہودیوں کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے اُن کا مزاج اور کردار بدل چکا تھا۔ جو اخلاقی خرابیاں کسی بگڑی ہوئی مسلمان اُمت میں ہوتی ہیں ‘وہ یہودِ مدینہ میں بتمام و کمال موجود تھیں۔چنانچہ ان کے زیر اثر اوس و خزرج کے لوگوں میں بھی اخلاق و کردار کی ویسی ہی کمزوریاں کسی نہ کسی درجے میں پائی جاتی تھیں اور اسی وجہ سے مدینہ میں منافقین کا باقاعدہ ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا ۔چنانچہ منافقین اور منافقت کا ذکر مدنی سورتوں میں ایک مستقل مضمون کے طور پر آیا ہے۔مدنی سورتوں کا اہم ترین مضمون احکامِ شریعت یعنی جائز و ناجائز ‘ فرائض ‘ واجبات ‘ اوامر و نواہی وغیرہ کی تفاصیل پر مبنی ہے۔

موضوع کی مناسبت سے مکی سورتوں کے مضامین کی ایک اور تقسیم کا ذکر کرنا بھی یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے۔ مکی اور مدنی سورتوں کے جن سات گروپوں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ان کے دوسرے اور تیسرے گروپ میں جو مکی سورتیں (سورۃ الانعام‘ سورۃ الاعراف اور سورۂ یونس سے لے کر سورۃ المؤمنون تک مسلسل چودہ سورتیں) شامل ہیں ان میں ایمانیات میں سے زیادہ زور رسالت پر ہے‘ درمیانی دوگروپس کی سورتوں میں زیادہ زور توحید پر ہے‘ جبکہ آخری دو گروپوں میں شامل مکی سورتوں میں زیادہ زور آخرت(بعث بعدا لموت‘ جزا و سزا‘ جنت اور جہنم)پر ہے۔

اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

1-3

صفاتِ باری تعالیٰ کا بیان

ویڈیو

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۲﴾ وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۳﴾

آیت 1

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ

’’کل تعریف اور تمام شکر اُس اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی اور بنایا اندھیروں اور اُجالے کو۔‘‘

اس سورت کی ابتدائی آیت کے حوالے سے ایک خاص نکتہ یہ نوٹ کرلیجیے کہ قرآن مجید میں تقریباً سات سات پاروں کے وقفے سے ایک سورۃ ’’اَلْحَمْدُ‘‘ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن کا آغاز {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾} سے ہوا ہے‘ پھر ساتویں پارے میں سورۃ الانعام {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ } سے شروع ہو رہی ہے‘ اس کے بعد پندرھویں پارے میں سورۃ الکہف کا آغاز {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾} سے ہو رہا ہے‘پھربائیسویں پارے میں اکٹھی دو سورتیں (سورۂ سبااور سورۂ فاطر) {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ } سے شروع ہوتی ہیں۔ اس طرح تقریباً ایک جیسے وقفوں سے سورتوں کا آغازاللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف سے ہوتا ہے۔

یہاں دوسرا نکتہ نوٹ کرنے کا یہ ہے کہ اس آیت میں خَلَقَ اور جَعَلَ دو ایک جیسے اَفعال مادّی اور غیرمادّی تخلیق کا فرق واضح کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں ۔ آسمان اور زمین چونکہ مادّی حقیقتیں ہیں لہٰذا ان کے لیے لفظ خَلَقَ آیا ہے‘ لیکن اندھیرا اوراُجالا اس طرح کی مادّی چیزیں نہیں ہیں (بلکہ اندھیر ا تو کوئی چیز یا حقیقت ہے ہی نہیں‘ کسی جگہ یا کسی وقت میں نور کے نہ ہونے کا نام اندھیرا ہے)‘ اس لیے ان کے لیے الگ فعل جَعَلَااستعمال ہواہے کہ اُس نے ان دونوں کو ٹھہرا دیا‘ بنا دیا‘ نمایاں کر دیا ‘جس سے معلوم ہوگیا کہ یہ اُجالا ہے اور یہ اندھیرا ہے۔

ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱﴾

’’پھر بھی وہ لوگ جواپنے ربّ کا کفر کرتے ہیں اُس کے برابر کیے دیتے ہیں (جھوٹے معبودوں کو) ۔‘‘

یعنی یَعْدِلُوْنَ بِہٖ شُرَکَائَ ھُمْ کہ وہ ان نام نہاد معبودوں کو اللہ کے برابر کر دیتے ہیں‘جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات ‘صفات یا حقوق میں شریک سمجھا ہوا ہے‘ حالانکہ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے‘ظلمات اور نور کا بنانے والا بھی تنہا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘ لیکن پھر بھی ان لوگوں کے حال پر تعجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہراتے ہیں۔

شرک کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی مورتی ہی سامنے رکھ کر اس کو سجدہ کیا جائے‘ بلکہ اور بہت سی باتیں اور بہت سے نظریات بھی شرک کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر دور میں بھیس بدل بدل کر آتی ہے‘ چنانچہ اسے پہچاننے کے لیے بہت وسعتِ نظری کی ضرورت ہے۔ مثلاً آج کے دور کا ایک بہت بڑا شرک نظریۂ وطنیت ہے ‘جسے علامہ اقبال نے سب سے بڑا بت قرار دیا ہے ؏

’’اِن تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے!‘‘

یہ شرک کی وہ قسم ہے جس سے ہمارے پرانے دور کے علماء بھی واقف نہیں تھے۔ اس لیے کہ اس انداز میں وطنیت کا نظریہ پہلے دنیامیں تھا ہی نہیں۔

شرک کے بارے میں ایک بہت سخت آیت ہم دو دفعہ سورۃ النسائ(آیت ۴۸ اور ۱۱۶) میں پڑھ چکے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ} ’’اللہ تعالیٰ اِسے ہر گز معاف نہیں فرمائے گا کہ اُس کے ساتھ شرک کیا جائے‘ البتہ اس سے کمتر گناہ جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ شرک سے کمتر گناہوں میں سے جو چاہے گا ‘جس کے لیے چاہے گا‘ بغیر توبہ کے بھی بخش دے گا‘البتہ شرک سے بھی اگر انسان تائب ہو جائے تو یہ بھی معاف ہو سکتا ہے۔ شرک اور توحید کے یہ مضامین حوا میم (وہ سورتیں جن کا آغاز حٰمٓ سے ہوتا ہے) میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوں گے۔ ان سورتوں کے مطالعے کے دوران ‘ان شاء اللہ ‘ توحید عملی اور توحید نظری کے بارے میں بھی بات ہوگی۔ حوامیم سورۃ الفرقان سے سورۃ الاحقاف تک مکی سورتوں کے اس طویل سلسلے کا حصہ ہیں جس میں شامل تمام سورتوں کا مرکزی مضمون توحید ہے۔ سورۂ یٰسٓاس سلسلے کے اندر مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔بہرحال یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ جو حضرات شرک کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ’’حقیقت و اقسامِ شرک‘‘ کے موضوع پر میری تقاریر سماعت فرمائیں۔ (یہ چھ گھنٹوں کی تقاریر ہیں ‘جواسی عنوان کے تحت اب کتابی شکل میں بھی دستیاب ہیں۔)بڑے بڑے جید علماء نے ان تقاریر کو پسند کیا ہے۔

آیت 2

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ قَضٰۤی اَجَلًا ؕ

’’وہی ہے جس نے تمہیں بنایا ہے گارے سے ‘ پھرا یک وقت مقرر کر دیاہے۔‘‘

یعنی ہر شخص جس کو اللہ نے دنیا میں بھیجا ہے اُس کا اِس دنیا میں رہنے کا ایک وقت معین ہے۔ ’’ اجل‘‘ سے مراد ہر انسان کی موت کا وقت ہے۔

وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۲﴾

’’اور ایک اور معین وقت اُس کے پاس موجود ہے‘ پھر بھی تم شک کرتے ہو!‘‘

یعنی ایک تو ہے انفرادی موت کا وقت‘ جیسے حضورﷺ نے فرمایا: حدیث((مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ))۱’’جس کو موت آ گئی اُس کی قیامت تو قائم ہو گئی‘‘۔ جبکہ ایک اس دنیا کی اجتماعی موت کا مقررہ وقت ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے پاس رکھا ہے‘ کسی اور کو نہیں دیا۔

(۱) تخریج الکشاف للزیلعی : ۱/۴۳۶۔ وتخریج الاحیاء للعراقی : ۴/۷۹۔ وسلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی:۱۱۶۶۔ راوی : انس بن مالکص۔اسنادہٗ ضعیف۔

آیت 3

وَ ہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الۡاَرۡضِ

’’ اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔‘‘

ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں کا خدا کوئی اور ہو‘ زمین کا کوئی اور۔ ہاں فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں ۔ جیسے زمین کے فرشتے‘ فضا کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے معین ہیں۔ پھر ہر آسمان کے الگ فرشتے ہیں۔ پھر ملائکہ مقربین ہیں۔ لیکن ذاتِ باری تعالیٰ تو ظاہر ہے ایک ہی ہے ۔

یَعۡلَمُ سِرَّکُمۡ وَ جَہۡرَکُمۡ وَ یَعۡلَمُ مَا تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۳﴾

’’ وہ جانتا ہے تمہارا چھپا بھی اورتمہارا ظاہر بھی‘ اور وہ جانتا ہے جو کچھ (نیکی یا بدی )تم کماتے ہو۔‘‘

4-6

مشرکینِ مکہ کے لئے عذاب کی دھمکی

ویڈیو

وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴﴾ فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ؕ فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۵﴾ اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا ۪ وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۶﴾

آیت 4

وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴﴾

’’اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے‘ مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔‘‘

ہم نئی سے نئی سورتیں بھیج رہے ہیں‘ نئی سے نئی آیات نازل کر رہے ہیں ‘لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض پر تلے ہوئے ہیں۔

آیت 5

فَقَدۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ؕ

’’ تو اب انہوں نے جھٹلا دیا ہے حق کو جبکہ ان کے پاس آچکا ہے۔‘‘

یہاں ’’فَقَدْ کَذَّبُوْا‘‘ کا انداز ملاحظہ کیجیے اور یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورت ہے جبکہ حضورﷺ کو دعوت دیتے ہوئے تقریباً بارہ برس ہو چکے تھے ۔ مطلب یہ کہ اب تک بھی جو لوگ ایمان نہیں لائے ‘وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر پورے طور سے جم چکے ہیں۔

فَسَوۡفَ یَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۵﴾

’’تو اب جلد ہی ان کے پاس آ جائیں گی اُس چیز کی خبریں جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘

مشرکین مکہ مذاق اڑاتے تھے کہ عذاب کی دھمکیاں سنتے سنتے ہمیں بارہ سال ہو گئے ہیں‘لیکن اب تک کوئی عذاب نہیں آیا‘لہٰذایہ خالی دھونس ہے ‘ صرف دھمکی ہے۔ اس طرح وہ لوگ اللہ کی آیات کا استہزا کرتے تھے۔ یہاں دو ٹوک انداز میں واضح کیا جا رہا ہے کہ جن چیزوں کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ان کی حقیقت عنقریب ان پر کھلنا شروع ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ اس گروپ کی پہلی دو مکی سورتیں (الانعام اور الاعراف ) مشرکینِ عرب پر اتمامِ حجت کی سورتیں ہیں اور ان کے بعد دومدنی سورتوں( الانفال او ر التوبہ) میں ان لوگوں پر عذابِ موعود کا بیان ہے۔ یعنی ان لوگوںپر عذاب کی پہلی قسط غزوئہ بدر میں آئی تھی‘ جس کا ذکر سورۃ الانفال میں آیا ہے اور اس عذاب کی آخری قسط کے بارے میں تفصیل سورۃ التوبہ میں بیان ہوئی ہے۔ اسی مناسبت سے دومکی اور دو مدنی سورتوں پر مشتمل یہ ایک گروپ بن گیا ہے۔

آیت 6

اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّکُمۡ

’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا جنہیں ہم نے زمین میں ایسا تمکن عطا فرمایا تھا جیسا تمہیں عطا نہیں کیا ہے‘‘

اے قومِ قریش! ذرا قومِ عاد کی شان و شوکت کا تصور کرو! وہ لوگ اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھے۔ اُس قوم کی عظمت کے قصے ابھی تک تمہیں یاد ہیں۔ قومِ ثمود بھی بڑی طاقتور قوم تھی‘اپنے علاقے میں ان کابڑا رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ لو گ پہاڑوں کو تراش کر ایسے عالی شا ن محل بناتے تھے کہ تم لوگ آج اس اہلیت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہو۔ ہم نے ان قوموںکو زمین میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جوتمہیں نہیں دی ہے۔ تو جب ہم نے ایسی عظیم الشان اقوام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تو تمہاری کیا حیثیت ہے؟

وَ اَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَیۡہِمۡ مِّدۡرَارًا ۪ وَّ جَعَلۡنَا الۡاَنۡہٰرَ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ

’’اور ہم نے ان پر آسمان (سے مینہ) برسایا موسلا دھار اور ہم نے نہریں بہا دیں ان کے نیچے‘‘

ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور انہیں خوشحالی عطا کی۔بارش کا پانی برکت والا (مَآ ئً مُبَارَکًا) ہوتا ہے جس سے زمین کی روئیدگی خوب بڑھتی ہے اور پھلوں‘ اناج وغیرہ کی بہتات ہوتی ہے۔

فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۶﴾

’’پھران کو بھی ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور ہم نے ان کے بعد ایک اور قوم کو اُٹھا کھڑا کیا۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق بڑی بڑی طاقتور اقوام تباہ کر دی گئیں تو تم کس کھیت کی مولی ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بدل جائے گا؟

اگلی آیت سے اس سورئہ مبارکہ کے مرکزی مضمون کا آغاز ہو رہا ہے۔ جس دور میں یہ سورتیں (الانعام اور الاعراف) نازل ہوئی تھیں اُس دور میں حضورﷺ پر قریش مکہ کا شدید دبائو تھا کہ اگر آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور ہم سے اپنی رسالت منواناچاہتے ہیں تو ہمیں کوئی حسی معجزہ دکھایئے ‘مردوں کو زندہ کیجیے‘ آسمان پر چڑھ کر دکھایئے‘ مکہ میں کوئی باغ بنا دیجیے‘ کوئی نیا چشمہ نکال دیجیے‘ سونے چاندی کا کوئی محل بنا دیجیے‘ آسمان سے کتاب لے کر آپؐ کو اترتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں‘ وغیرہ۔ ان کی طرف سے اس طرح کے تقاضے روز بروز زور پکڑتے جا رہے تھے اور عوام الناس میں یہ سوچ پختہ ہوتی جا رہی تھی کہ ہمارے سرداروں کے یہ مطالبات ٹھیک ہی تو ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم کو کیسے کیسے معجزے دکھائے تھے! اگر محمد (ﷺ) بھی نبوت کے دعوے دارہیں تو آپؐ ویسے معجزات کیوں نہیں دکھاتے؟ جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ اب کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ سب سے بڑا معجزہ قرآن نازل کر دیا گیاہے۔ جو شخص حق کا طالب ہے اس کے لیے اس میں ہدایت موجود ہے ---- ان حالات میں حضورﷺ کی جانِ مبارک گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئی تھی۔ یہ اس سورۃ کا مرکزی مضمون ہے۔ آگے چل کر جب یہ موضوع اپنے نقطۂ عروج (climax) کو پہنچتاہے تواسے پڑھتے ہوئے واقعتارونگٹے کھڑے ہو جانے والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔

7-11

نبی اکرم ﷺ کی دل جوئی

ویڈیو

وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾ وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸﴾ وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ ﴿۹﴾ وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾ قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۱﴾

آیت 7

وَ لَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ کِتٰبًا فِیۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡہُ بِاَیۡدِیۡہِمۡ

’’اور اگر ہم نے اُتار (بھی)دی ان پر کوئی کتاب جو کاغذوں میں لکھی ہوئی ہو‘ پھر وہ اسے چھو بھی لیںاپنے ہاتھوں سے ‘‘

لَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾

’’تب بھی یہ کافریہی کہیں گے کہ یہ تو ایک کھلا جادو ہے۔‘‘

یہ لوگ ایسے معجزات کودیکھ کر بھی یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کااثر ہو گیا ہے ‘ یا یہ کہ ہماری نظر بند کر دی گئی ہے۔ جو نہ ماننے کا تہیہ کر چکا ہو وہ صریح معجزات کو دیکھ کر بھی نہیں مانے گا۔ البتہ اگر ہم ان کے مطالبے پر کوئی ایسا معجزہ دکھا دیں گے تو ان کی مہلت ختم ہو جائے گی اور پھر اس کے بعد ان پر فوراً عذاب آجائے گا۔ ابھی ہماری رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں مزید مہلت دی جائے۔ گویا ابھی اس دودھ کو مزید بلویاجانامقصودہے‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزیدمکھن نکل آئے۔ اس لیے حسی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا۔

آیت 8

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸﴾

’’اور وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اُترا ان پر (علانیہ) کوئی فرشتہ؟ اور اگر ہم نے فرشتہ اتاردیا ہوتا تو پھر فیصلہ ہی چکا دیا جاتا‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ ملتی۔‘‘

یعنی اس دنیا کی زندگی میں انسان کو جو امتحان درپیش ہے اس کا تعلق پردۂ غیب سے ہے۔ اگر غیب کا پردہ اٹھ جائے تو پھر امتحان ختم ہو جاتا ہے ۔اس کے بعد تو پھرنتیجے کا اعلان کرنا ہی باقی ر ہ جاتا ہے ۔

آیت 9

وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ ﴿۹﴾

’’اور اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے اور انہیں ہم اُسی شبہ میں ڈال دیتے جس شبہ میں یہ اب مبتلا ہیں۔‘‘

اگر محمدرسول اللہ(ﷺ )کے بجائے کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجا جاتا تو ظاہر ہے انسانوں کے درمیان اسے بھی ہم انسانی شکل میں ہی بھیجتے ۔اس طرح جو التباس انہیں اس وقت ہو رہا ہے وہی التباس انہیں فرشتے کی صورت میں بھی ہوجاتا۔ہاں اگر فرشتوں میں ہمیں رسول بھیجنا ہوتا تو ضرور ہم کوئی فرشتہ ہی بھیجتے۔ حدیثِ جبریل ؑ کے حوالے سے ہمیں معلوم ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرمﷺ کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے ‘ اور یوں پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی پتا نہ چلا کہ یہ جبرائیل ؑہیں ‘ وہ انہیں انسان ہی سمجھتے رہے۔

آیت 10

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ

’’اور (اے نبیﷺ!) آپ سے پہلے بھی رسولوں کا (اسی طریقے سے) مذاق اڑایا گیا‘‘

ان الفاظ میں نبی اکرم ﷺ کو گویا تسلی دی جا رہی ہے کہ آپؐ دل گرفتہ نہ ہوں‘ یہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ آپؐ سے پہلے بھی انبیاء و رُسل علیہم السلام کی دعوت کے جواب میں ان کی قومیں اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سوبرس تک ایسا سب کچھ جھیلتے رہے۔ سورۃ الاحقاف (آیت۹) میں یہی بات حضورﷺ کی زبان سے کہلوائی گئی ہے : {قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ} یعنی اے نبیﷺ !آپ انہیں کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھارسول نہیں ہوں‘مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں ۔

فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾

’’پھر گھیر لیا ان لوگوں میں سے ان کو جومزاق اڑاتے تھے اُسی چیز نے جس کا وہ مزاق اُڑاتے تھے۔‘‘

(اے نبیﷺ)اگرچہ آپ کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تا کہ ان کی زبانیں بند ہو جائیں‘ لیکن ہم ابھی ایسا نہیں چاہتے‘ اس لیے کہ ابھی ان کی مہلت کا وقت ختم نہیں ہوا۔ یعنی یہ سارا معاملہ وقت کے تعین کا ہے‘ یہاں time factor ہی اہم ہے‘ جس کا فیصلہ ہماری مشیت کے مطابق ہونا ہے ۔

آیت 11

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۱﴾

’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے کہ گھومو پھرو زمین میں پھر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا!‘‘

تمہارے اس جزیرہ نمائے عرب میں ہی قومِ عاد اور قومِ ثمود آباد تھیں۔ اور جب تم شام کی طرف سفر کرتے ہو تو وہاں راستے میں قومِ مدین کے مسکن بھی دیکھتے ہو اور قومِ لوط کے شہر وں کے آثار بھی ۔ یہ سب کچھ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو‘پھرتم ان قوموں کے انجام سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟

12-14

اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان

ویڈیو

قُلۡ لِّمَنۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ ؕ کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾ وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳﴾ قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ ہُوَ یُطۡعِمُ وَ لَا یُطۡعَمُ ؕ قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۴﴾

آیت 12

قُلۡ لِّمَنۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلۡ لِّلّٰہِ ؕ

’’ان سے پوچھئے کس کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں؟ کہہ دیجیے اللہ ہی کا ہے!‘‘

دراصل یہ کہنا اس اعتبار سے ہے کہ مشرکینِ مکہ بھی اس کائنات کا مالک اور خالق اللہ ہی کو مانتے تھے ۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ لات‘ منات‘ عزیٰ اور ہبل نے دنیا کوپیدا کیا ہے۔ وہ ایسے احمق نہیں تھے‘ بلکہ اپنے ان معبودوں کے بارے میں اُن کا ایمان یہ تھا: {ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ } ( یونس: ۱۸) کہ یہ اللہ کی جناب میں ہماری شفاعت کریں گے۔ آیت زیر مطالعہ کا یہ مضمون سورۃ العنکبوت (آیت ۶۱) میں بایں الفاظ آیا ہے : {وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ } ’’(اے نبی ﷺ) اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں اور سورج اورچاند کو کس نے مسخر کیا ہے؟ تو یہ لازماًکہیں گے کہ اللہ نے!‘‘ چنانچہ وہ لوگ کائنات کی تخلیق کو اللہ ہی کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس کا مالک بھی اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ البتہ ان کا شرکیہ عقیدہ یہ تھا کہ ہمارے یہ معبود اللہ کے بڑے چہیتے اورلاڈلے ہیں‘ اللہ کے ہاں ان کے بڑے اونچے مراتب ہیں‘ یہ ہمیں اللہ کی پکڑ سے چھڑوا لیں گے۔

کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ؕ

’’ اُس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔‘‘

یہ لزوم اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر کیا ہے ‘ ہم اُس پر کوئی شے لازم قرار نہیں دے سکتے۔

لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ

’’وہ تمہیں لازماً جمع کرکے لے جائے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘

اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’ جو لوگ اپنے آپ کو خسارے میں ڈالنے کا فیصلہ کر چکے ہیں وہی ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

یہاں ایک غور طلب نکتہ یہ ہے کہ قیامت کا دن تو بڑا سخت ہوگا‘جس میں احتساب ہوگا‘ سزا ملے گی۔پھر یہاں پر رحمت کے لزوم کا ذکر کس حوالے سے آیاہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ رحمت کا ظہور قیامت کے دن خاص اہل ایمان کے لیے ہو گا۔ اس لحاظ سے ان الفاظ میں دراصل خوشخبری ہے انبیاء و رُسل علیہم السلام کے لیے‘ صدیقین ‘شہداء اور صالحین کے لیے‘ اور جملہ مخلص اہل ایمان کے لیے‘ کہ جو سختیاں اور مصیبتیں تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں برداشت کر رہے ہو‘ ان کا بدلہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت تمہاری منتظر ہے۔ بلاشبہ قیامت کے دن تمہاری خدمات کا تمہیں بھر پور صلہ ملے گا‘ تمہاری سر فروشیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سرمحشر قدرافزائی کا اعلان ہو گا۔ اس لیے تمہیں یہ خیال نہ آنے پائے کہ ہم تو اپنا سب کچھ اللہ کے لیے لٹا بیٹھے ہیں‘ پتا نہیں وہ دن آئے گا بھی یا نہیں‘پتا نہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری ملاقات ہوگی بھی یا نہیں‘ معلوم نہیں یہ سب کچھ واقعی حق ہے بھی یا نہیں! تو اے میرے بندو! ان وسوسوں کو اپنے دل و دماغ سے دور رکھو‘ اور خوشخبری سنو: {کَتَبَ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ}

آیت 13

وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۳﴾

’’اور اُسی کا ہے جو کچھ ساکن ہوجاتا ہے رات میں اور (متحرک ہو جاتا ہے )دن کے وقت ۔ اور وہ سب کچھ سننے والا ‘جاننے والا ہے۔‘‘

یہاں سَکَنَ کے مقابل لفظ تَحَرَّکَ محذوف ہے ۔ ایسے مقابل کے الفاظ کو عام طور پر قرآن مجید میں حذف کر دیا جاتا ہے تا کہ پڑھنے یا سننے والا خودسمجھے۔ جیسے یہاں رات کے ساتھ سکون کا لفظ آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دن کا ذکر کر دیا گیا ہے ‘ جبکہ دِن کا وقت سکون کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا آیت کا اصل مفہوم یوں واضح ہوتا ہے : وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّـیْلِ وَمَا تَحَرَّ کَ فِی النَّھَارِ ’’ اور اُسی کا ہے جو کچھ رات کے وقت سکون پکڑتا ہے اور دن کے وقت متحرک ہو جاتا ہے۔‘‘

آیت 14

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ

’’ان سے کہیے: کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا ولی اور حمایتی بنا لوں؟ یہ تو بڑی حماقت کی بات ہے ‘ بڑے گھاٹے کا سوداہے۔

وَ ہُوَ یُطۡعِمُ وَ لَا یُطۡعَمُ ؕ

’’ اوروہ کھانا کھلاتا ہے ‘ اُسے کھلایا نہیں جاتا۔‘‘

تم بتوں کے سامنے نذریں اور حلوے مانڈے پیش کرتے ہو‘ لیکن اللہ کو تو ایسی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ تو پوری مخلوق کا ربّ ہے‘سب کو کھلاتا ہے‘سب کا رازق ہے۔

قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ

’’(اے نبیﷺ !ڈنکے کی چوٹ ) کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرمانبردار میں خود بنوں‘‘

وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۴﴾

’’اور تم ہر گز نہ ہونا مشرکین میں سے۔‘‘

15-18

نبی اکرم ﷺ کی عاجزی کا بیان

ویڈیو

قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾ مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾ وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۸﴾

آیت 15

قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾

’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے خوف ہے ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا ۔‘‘

میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔ جیسے میں آپ لوگوں کو اللہ کی بندگی کی ترغیب دے رہا ہوں ‘ ویسے ہی مجھے بھی اللہ کی بندگی کرنی ہے۔مجھے کوئی استثناء حاصل نہیں ہے۔ جیسے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی فرمانبرداری کرو‘ ویسے ہی مجھ پر اس کی فرمانبرداری فرض ہے۔ اور جیسے میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ اگرا للہ کی نافرمانی کرو گے تو پکڑے جاؤ گے ‘ ایسے ہی میں بھی اگر بالفرض اس کی نافرمانی کروں گا تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ ان آیات میں بہت اہم نکات بیان ہوئے ہیں‘ ان پر بہت غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

آیت 16

مَنۡ یُّصۡرَفۡ عَنۡہُ یَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمَہٗ ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾

’’جو شخص اُس دن اس (عذاب) سے دُور رکھا گیا تو اُس پر اللہ کی بڑی رحمت ہو گئی ‘اور یہی ہو گی واضح کامیابی۔‘‘

دُنیا کی بڑی سے بڑی کامیابیاں اُس دن کی کامیابی کے سامنے ہیچ ہیں ۔اس کامیابی کے سامنے دُنیوی دولت‘ وجاہت‘ عزت‘ شہرت ‘ اقتدار وغیرہ ساری چیزیں عارضی اورفانی ہیں۔ اصل الْفَوْزُ الْمُبِیْن تو آخرت کی کامیابی ہی ہے۔

آیت 17

وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ

’’اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے پہنچا دی جائے کوئی تکلیف تو کوئی نہیں ہے اس کا دور کرنے والا سوائے اُس کے۔‘‘

یہ توحید کا بیان ہے ۔ تکلیف میں پکارو تو اُسی کو پکارو ‘کسی اور کو نہ پکارو۔ {وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ} (القصص: ۸۸)۔ وہی مشکل کشا ہے ‘ وہی حاجت روا ہے اور وہی تمہاری تکلیفوں کو رفع کرنے والا ہے۔

وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾

’’ اور اگر اُس کی طرف سے کوئی خیر تمہیں پہنچا دی جائے تو یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

کوئی اُس کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ اسے اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے کسی اور سے منظوری لینے کی حاجت نہیں ۔ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے

آیت 18

وَ ہُوَ الۡقَاہِرُ فَوۡقَ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۸﴾

’’ اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح سے غالب ہے ‘ اور وہ ہے کمال حکمت والا اور ہر شے کی خبر رکھنے والا۔‘‘

وہ زور آور ہے ‘اس کا اقتدار پوری کائنات پر محیط ہے‘ اس کی مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے قابو سے باہر نہیں ہے۔

19-20

نبی اکرم ﷺ کی صداقت کی گواہی

ویڈیو

قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ۘ اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾

آیت 19

قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟

’’(اے نبیﷺ !ان سے) کہیے کونسی چیز ہے جو گواہی میں سب سے بڑی ہے؟(پھر خود ہی ) کہیے کہ اللہ (کی گواہی سب سے بڑی ہے) !وہ میرے اور تمہارے مابین گواہ ہے۔‘‘

وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ

’’اور میری جانب یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں بھی خبردار کر دوں اس کے ذریعے سے اور اُس کو بھی جس تک یہ پہنچ جائے۔‘‘

یہ گویا اس سورۃ کے عمود یعنی مرکزی مضمون کا عکس ہے ۔ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس سورۃ کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کسی قسم کا حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا ۔ اے نبی(ﷺ) ہم نے آپ پر جو قرآن نازل کیا ہے آپ کا اصل معجزہ یہی ہے ۔آپ تبشیر‘ انذار اور تذکیر کے فرائض اسی قرآن کے ذریعے سے سرانجام دیں۔ جس کے اندر صلاحیت ہے اور جو ہدایت چاہتا ہے ‘ وہ ہدایت پا لے گا۔ لیکن جس کے دل میں کجی ‘ تعصب ‘ ہٹ دھرمی ‘ حسد اور تکبر ہے ‘ آپؐ اس کودس لاکھ معجزے دکھا دیجیے وہ نہیں مانے گا۔ کیا علماءِ یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزے دیکھ کر آپؑ پر ایمان لے آئے تھے؟ آپؑ گارے سے پرندے کی شکل بنا کر پھونک مارتے اور وہ اڑتا ہوا پرندہ بن جاتا۔ یہ احیائے موتیٰ اور خلقِ حیات تو وہ چیزیں ہیں جوبالخصوص اللہ تعالیٰ کے اپنے (exclusive) اَفعال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایسی نشانیاں بھی ظاہر کر دیں‘ لیکن ایسے عظیم الشان معجزات دیکھ کر بھی علماءِ یہود ایمان نہ لائے‘ لہٰذاہم ان کے مطالبے پر ایساکوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے۔ البتہ آپ(ﷺ) محنت اور کوشش جاری رکھئے ‘دعوت و تبلیغ کرتے جایئے۔

یہاں لفظ بِہٖ خاص طور پر لائق توجہ ہے ۔فرمایا کہ یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کردوںتمہیں اس کے ذریعے سے ( بِہٖ )۔ یعنی میرا انذار قرآن کے ذریعے سے ہے ۔ مزید فرمایا: {وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ } ’’اور جس تک یہ پہنچ جائے ‘‘۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میں قرآن کو تم لوگوں تک پہنچا رہا ہوں‘ اس کے بعد جو اُمت بنے گی وہ آگے پہنچائے گی۔ جس تک یہ قرآ ن پہنچ گیااُس تک گویا رسول اللہﷺ کا انذار پہنچ گیا‘اس طرح یہ سلسلہ تا قیامت چلے گا‘کیونکہ حضورﷺ صرف اپنے زمانے کے لیے رسول بن کر نہیں آئے تھے۔یہ آپﷺ ہی کی رسالت کا دور چل رہا ہے۔ جو انسان بھی قیامت تک دنیامیں آئے گاوہ آپﷺ کی اُمتِ دعوت میں شامل ہوگا‘ اُس تک قرآن کا پیغام پہنچانا اُمتِ محمدﷺ کے ذمہ ہے۔ ۔

اب اگلی آیت میں آ رہا ہے ایک متجسسانہ سوال (searching question)۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا ‘ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا مخالف جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اپنے دل کے یقین سے نہیں کہہ رہا ہےبلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہہ رہا ہے‘ تو پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر متجسسانہ (searching) انداز میں اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ یہی انداز یہاں اختیار کیا گیا ہے۔ فرمایا:

اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ

’’کیا واقعی تم لوگ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کچھ اور بھی الٰہ ہیں؟‘‘

قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ

’’کہہ دیجیے ( اگر تم یہ گواہی دیتے بھی ہو تو) میں اس کی گواہی نہیں دے سکتا۔‘‘

تم ایسا کہو تو کہو‘ لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسی خلافِ عقل اور خلافِ فطرت بات کہوں۔

قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۘ۱۹﴾

’’کہہ دیجیے وہ تو بس ایک ہی الٰہ ہے اور میں بری ہوں ان تمام چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو۔‘‘

اب اگلی آیت میں یہودیوں کی ہٹ دھرمی کا ذکر ہے ۔ واضح رہے کہ یہ سورۃ مکی دور کے آخری سالوں میں نازل ہوئی ۔ اس وقت تک مدینہ میں یہ خبریں پہنچ چکی تھیں کہ مکہ کے اندر ایک نئی دعوت بڑے زور و شور اور شدو مد کے ساتھ اُٹھ رہی ہے ۔ چنانچہ مدینہ کے یہودیوں کی طرف سے سکھائے ہوئے سوالات مکہ کے لوگ حضورﷺ سے اکثر امتحاناً پوچھا کرتے تھے ۔مثلاً آپ بتائیے کہ ذو القرنین کون تھا؟ اگر آپ نبی ہیں تو بتائیے کہ اصحابِ کہف کا قصہ کیا تھا؟اور یہ کہ روح کی حقیقت کیا ہے؟ ان سوالات اور ان کے جوابات کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف میں آئے گا۔ مدینہ کے یہودیوں تک اُن کے سوالات کے جوابات سے متعلق بھی تمام خبریں پہنچ چکی تھیں اور ان کے سمجھ دار اور اہل علم لوگ سمجھ چکے تھے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کے ہم منتظر تھے۔ مگر یہ لوگ یہ سب کچھ سمجھنے اور جان لینے کے باوجود بھی ایمان سے محروم رہ گئے۔

آیت 20

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ۘ

’’ وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی تھی پہچانتے ہیں اس کو جیسا کہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹو ں کو۔‘‘

یَعْرِفُوْنَہٗ کی ضمیر مفعولی دونوں طرف جا سکتی ہے‘ قرآن کی طرف بھی اور حضورﷺ کی طرف بھی۔ البتہ اس سے قبل یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ قرآن اور رسولﷺ مل کر ہی ’’بَـیِّنہ‘ ‘ بنتے ہیں‘ یہ دونوں ایک وحدت اورایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ حضورﷺ خود قرآنِ مجسم ہیں۔ قرآن اگر ایک انسانی شخصیت اور سیرت و کردار کا جامہ پہن لے تو وہ محمدﷺ کی شخصیت ہو گی ۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا تھا: ’’ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرآنَ‘‘ ۲ یعنی حضورﷺ کی سیرت قرآ ن ہی تو ہے۔

اَلَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۲۰﴾

’’(البتہ) جو لوگ اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تل گئے ہیں تو وہی ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

(۲) مسند احمد‘ ح ۲۳۴۶۰‘ ۲۴۱۳۹۔ ۲۴۶۲۹ ۔

21-24

شرک کرنے والا سب سے بڑا ظالم ہے

ویڈیو

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۱﴾ وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَیۡنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۲۲﴾ ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ کَذَبُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

آیت 21

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’اوراُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر کوئی جھوٹی تہمت لگائی یا اُس کی آیات کو جھٹلایا۔ یقینا ایسے ظالم (کبھی)فلاح نہیں پا سکتے۔‘‘

یعنی یہ دو عظیم ترین جرائم شناعت میں باہم برابر ہیں‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانا یا کوئی جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دینا۔

آیت 22

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَیۡنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’ اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے ان سے جنہوں نے شرک کیا تھا: کہاں ہیں تمہارے وہ شرکاء جن کا تمہیں گھمنڈ ہو گیا تھا؟‘‘

تمہارا گمان تھاکہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے۔اب وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے؟

آیت 23

ثُمَّ لَمۡ تَکُنۡ فِتۡنَتُہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾

’’پھر نہیں ہو گی ان کی کوئی اور چال سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے کہ اللہ کی قسم جو ہمارا ربّ ہے ہم مشرک نہیں تھے۔‘‘

آیت 24

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ کَذَبُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’دیکھو کیسے وہ جھوٹ بولیں گے اپنے اوپر اور جو افترا انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سب ان سے گم ہو جائے گا۔‘‘

عذاب کو دیکھ کر اس وقت ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جائیں گے اور ان کے یہ دعوے کہ فلاں دیوی انہیں بچالے گی اور فلاں دیوتا ان کی سفارش کرے گا‘ سب نسیاً منسیاً ہو جائیں گے۔

25-31

سردارانِ قریش کا عبرتناک انجام

ویڈیو

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ وَ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡکَ یُجَادِلُوۡنَکَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۲۵﴾ وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَی النَّارِ فَقَالُوۡا یٰلَیۡتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷﴾ بَلۡ بَدَا لَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ لَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۲۸﴾ وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ؕ قَالَ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾ قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً قَالُوۡا یٰحَسۡرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطۡنَا فِیۡہَا ۙ وَ ہُمۡ یَحۡمِلُوۡنَ اَوۡزَارَہُمۡ عَلٰی ظُہُوۡرِہِمۡ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿۳۱﴾

آیت 25

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ اِلَیۡکَ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ!) ا ن میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔‘‘

مکہ میں قریش کے سرداروں کے لیے جب عوام کو ایمان لانے سے روکنا مشکل ہو گیا تو انہوں نے بھی علماءِ یہود کی طرح ایک ترکیب نکالی۔وہ بڑے اہتمام کے ساتھ آکر حضورﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور بڑے انہماک سے کان لگا کر آپؐ کی باتیں سنتے۔ وہ یہ ظاہر کرتے کہ ہم سب کچھ بڑی توجہ سے سن رہے ہیں‘تا کہ عام لوگ دیکھ کر یہ سمجھیں کہ واقعی ہمارے ذی فہم سردار یہ باتیں سننے‘ سمجھنے اور ماننے میں سنجیدہ ہیں‘ مگر پھر بعد میں عوام میں آ کر ان باتوں کو ردّ کردیتے۔ عام لوگو ں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ ان کی ایک چال تھی‘ تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ ہمارے یہ سردار سمجھدار اورذہین ہیں‘ یہ لوگ شو ق سے محمد (ﷺ )کی محفل میں جاتے ہیں اورپورے انہماک سے ان کی باتیں سنتے ہیں ‘پھر اگر یہ لوگ اس دعوت کو سننے اور سمجھنے کے بعد ردّ کر ر ہے ہیں توآخراس کی کوئی علمی اور عقلی وجوہات توہوں گی۔ لہٰذا آیت زیرِ نظرمیں ان کی اس سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی(ﷺ) ان میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کی باتیں بظاہر بڑی توجہ سے کان لگا کرسنتے ہیں۔

وَ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ؕ

’’حالانکہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ ان کو سمجھ نہیں سکتے اور ان کے کانوں کے اندر ہم نے ثقل پیدا کر دیا ہے۔ اور اگر یہ ساری نشانیاں (جو یہ مانگ رہے ہیں) بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

اللہ نے ان کے دلوں اور دماغوں پر یہ پردے کیوں ڈال دیے ؟ یہ سب کچھ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جب نبی کے مخاطبین اس کی دعوت کے مقابلے میں حسد‘تکبر اور تعصب دکھاتے ہوئے اپنی ضد پر اَڑے رہتے ہیں تو ان کی سوچنے اورسمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلی جاتی ہیں ۔ جیسے سورۃ البقرۃ (آیت ۷) میں فرمایا گیا: {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫} ’’اللہ نے مہر کر دی ہے اُن کے دلوں پر اور اُن کے کانوں پر۔اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے‘‘۔لہٰذا ان کا بظاہرتوجہ سے نبیﷺ کی باتوں کو سننا ان کے لیے مفید نہیں ہو گا۔

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡکَ یُجَادِلُوۡنَکَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۲۵﴾

’’یہاں تک کہ(اے نبیﷺ) جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا (اورمناظرہ) کرتے ہیں(اور) کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن جو آپ سنا رہے ہیں) کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔‘‘

یعنی یہ جو کچھ آپ(ﷺ )ہمیں سنا رہے ہیں یہ پرانی باتیں اور پرانے قصے ہیں‘جو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہودیوں اور نصرانیوں سے سن رکھے ہیں۔

آیت 26

وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ

’’ اور وہ اس سے روکتے بھی ہیں اور خود بھی رُک جاتے ہیں۔‘‘

اس جملے میں لفظی اور معنوی اعتبار سے آپس میں ملتے جلتے دو افعال استعمال ہوئے ہیں ‘ایک کا مادہ ’ن ہـ ی‘ ہے اور دوسرے کا ’ن ء ی ‘ ہے ۔ نَھٰی یَنْھٰی (روکنا) تو معروف فعل ہے اور ’’نہی‘‘ کا لفظ اردو میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا {یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ} کے معنی ہیں ’’وہ روکتے ہیں اس سے‘‘۔ کس کوروکتے ہیں؟ اپنے عوام کو۔ ان کی لیڈری اور سرداری عوام کے بل پر ہی تو ہے۔ عوام برگشتہ ہو جائیں گے تو اُن کی لیڈری کہاں رہے گی۔ عوام کواپنے قابو میں کرنا اور ان کی عقل اور سمجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ایسے نام نہادلیڈر وں کے لیے انتہائی ضروری ہوتاہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وہ اپنے عوام کو راہِ ہدایت اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف وہ خوداس سے گریز اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ نَاٰی یَنْاٰی نَأْیًا کا مفہوم ہے دور ہونا‘ کنی کترانا‘جیسے سورۂ بنی اسرائیل (آیت ۸۳)میں فرمایا: {وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ} ’’اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیرلیتا اور پہلوتہی کرتا ہے‘‘۔ چنانچہ {یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ} کے معنی ہیں ’’وہ اس سے گریز کرتے ہیں‘ کنی کتراتے ہیں۔‘‘

وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’اور وہ نہیں ہلاک کر رہے کسی کو سوائے اپنے آپ کے ‘لیکن انہیں اس کا احساس نہیں ہے۔‘‘

آیت 27

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَی النَّارِ فَقَالُوۡا یٰلَیۡتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا

’’ اور کاش تم دیکھ پاتے جب یہ کھڑے کیے جائیں گے آگ کے کنارے پر تو یہ کہیں گے ہائے کاش !کسی طرح ہمیں لوٹا دیا جائے (تو ہم تصدیق کریں گے) اور ہم اپنے رب کی آیات کو نہیں جھٹلائیں گے‘‘

یہاں پر نُرَدُّ کے بعد فَنُصَدِّقُ مخذوف مانا جائے گا‘ کہ اگر ہمیں لوٹا دیا جائے تو ہم تصدیق کریں گے اور اپنے ربّ کی آیات کو جھٹلائیں گے نہیں۔ کاش کسی نہ کسی طرح ایک دفعہ پھر ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔

وَ نَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اورہم (پکے اور سچے) مؤمن بن جائیں گے۔‘‘

آیت 28

بَلۡ بَدَا لَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ

’’بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے تھے۔‘‘

ایسا نہیں تھا کہ انہیں حقیقت کا علم نہیں تھا ۔حق پہلے ہی ان پر واضح تھا‘ بات ان پر پوری طرح کھل چکی تھی‘لیکن اس وقت ان پر حسد‘ بغض اور تکبر کے پردے پڑے ہوئے تھے۔

وَ لَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’اور اگر (بالفرض) انہیں لوٹا بھی دیا جائے تو پھر وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں روکا جا رہا تھا اور یقینا وہ جھوٹے ہیں۔‘‘

دنیا میں جا کر پھر وہاں کے تقاضے سامنے آ جائیں گے‘ دنیا کے مال و دولت اور اولاد کی محبت اور دوسری نفسانی خواہشات پھر انہیں گمراہی کے راستے پر ڈال دیں گی۔

آیت 29

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنۡیَا وَ مَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے مگر بس ہماری دنیا ہی کی زندگی اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے۔‘‘

جیسے آج کل کفر و الحاد کے مختلف shades ہیں‘ نزولِ قرآن کے زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔ آج ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں‘ آخرت کو نہیں مانتے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں ‘لیکن رسالت کو نہیں مانتے ۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مر جاتے ہیں‘ اور ہماری زندگی صرف یہی ہے‘ مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں۔ اسی طرح حضورﷺ کے دور میں بھی کفر و شرک کے مختلف shades موجود تھے۔قریش کے اکثر لو گ اور عرب کے بیشتر مشرکین اللہ کو مانتے تھے‘ آخرت کو مانتے تھے ‘بعث بعد الموت کو بھی مانتے تھے‘ لیکن اس کے ساتھ وہ دیوی دیوتائوں کی سفارش اور شفاعت کے قائل تھے کہ قیامت کے دن ہمیں فلاں چھڑا لے گا‘ فلاں بچا لے گا‘ فلاں ہمارا حمایتی اور مدد گار ہو گا۔ لیکن ایک طبقہ ان میں بھی ایسا تھا جو کہتا تھا کہ ہماری زندگی بس اسی دنیا کی حد تک ہے ‘ اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے ۔ یہاں اس آیت میں انہی لوگوں کا تذکرہ ہے۔

آیت 30

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ؕ قَالَ اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ

’’اور کاش کہ تم دیکھ سکتے جبکہ یہ کھڑے کیے جائیں گے اپنے ربّ کے سامنے۔ (اُس وقت) وہ پوچھے گا: کیا یہ حق نہیں ہے؟‘‘

قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

’’وہ کہیں گے: کیوں نہیں‘ ہمارے ربّ کی قسم ( یہ حق ہے)! تو وہ کہے گا کہ اب مزا چکھو عذاب کا اپنے کفر کی پاداش میں۔‘‘

آیت 31

قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ ؕ

’’بڑے گھاٹے میں پڑ گئے وہ لوگ جو اللہ سے ملاقات کے انکاری ہیں ۔‘‘

وہ اس بات کو جھٹلا رہے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی پیشی ‘حاضری یا اللہ سے ملاقات ہوگی۔

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً

’’ یہاں تک کہ جب آ جائے گا ان پر وہ وقت اچانک‘‘

ایک شخص کے لیے انفرادی طور پر تو السَّاعَۃ (گھڑی) سے مراد اُس کی موت کا وقت ہے‘ لیکن عام طور پر اس سے قیامت ہی مراد لی گئی ہے۔ چنانچہ اس کا مطلب ہے کہ جب قیامت اچانک آ جائے گی ۔

قَالُوۡا یٰحَسۡرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطۡنَا فِیۡہَا ۙ وَ ہُمۡ یَحۡمِلُوۡنَ اَوۡزَارَہُمۡ عَلٰی ظُہُوۡرِہِمۡ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ ﴿۳۱﴾

’’تو وہ کہیں گے ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جواس (قیامت) کے بارے میں ہم سے ہوئی‘ اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر ۔ آگاہ ہو جائو‘ بہت بُرا بوجھ ہو گا جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔‘‘

جب قیامت حق بن کر سامنے آجائے گی تو ان کی حسرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔وہ اپنی پیٹھوں پر کفر‘ شرک اور گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہوئے میدانِ حشر میں پیش ہوں گے۔

یوٹیوب پر دیکھیے