تحریر

المائدة

آیات ۱۰۹ تا ۱۲۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

109

رسولوں کی اللہ کے حضور عاجزی

ویڈیو

یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۰۹﴾

آیت 109

یَوۡمَ یَجۡمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوۡلُ مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ

’’ (اُس دن کا تصور کرو) جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کرے گااور پوچھے گا آپ لوگوں کو کیا جواب ملا تھا؟‘‘

آپ لوگوں کی دعوت کے جواب میں آپ کی قوموں نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا؟

قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۰۹﴾

’’وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں‘ تو ہی بہتر جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔‘‘

وہ اللہ تعالیٰ کے جناب میں زبان کھولنے سے گریز کریں گے اور کہیں گے کہ تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے ‘ہر حقیقت تجھ پر منکشف ہے۔

110-111

حضرت عیسی پر اللہ کے احسانات کا بیان

ویڈیو

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۚ وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۱۰﴾ وَ اِذۡ اَوۡحَیۡتُ اِلَی الۡحَوَارِیّٖنَ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِیۡ وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّنَا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

آیت 110

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ

’’ جب کہے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ؑابن مریم‘‘

اب روزِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خاص پیشی کا منظر ہے ۔دنیا میں ان کی پرستش کی گئی‘ان کو اللہ کا بیٹا بنایا گیا‘ ثالثُ ثلاثۃ قرار دیا گیا۔ لہٰذااب آنجنابؑ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جو شرمندگی اٹھانا پڑے گی ‘اس کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے جب اللہ ان کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے عیسٰی ؑ ابنِ مریم:

اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ

’’ذرا میرے ان انعامات کو یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوئے۔ ‘‘

اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟

’’ جبکہ میں نے تمہاری مدد کی روح القدس سے‘‘

جبرائیل ؑ کے ذریعے سے تمہاری تائید کی۔

تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ

’’تم گفتگو کرتے تھے لوگوں کے ساتھ پنگھوڑے میں بھی اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔‘‘

تم شیر خوارگی کی عمر میں بھی لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور ادھیڑ عمر کو پہنچ کر بھی۔ آگے وہی سورۂ آل عمران (آیت ۴۸) والے الفاظ دہرائے جا رہے ہیں۔

وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۚ

’’اور(یاد کرو میرے اس احسان کو) جب کہ میں نے تمہیں سکھائی کتاب اور حکمت ‘ یعنی تورات اور انجیل۔‘‘

درمیان کا واؤتفسیریہ ہے‘ لہٰذا ’’یعنی ‘‘کے مفہوم میں آئے گا۔

وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ

’’اور (یاد کرو) جب تم بناتے تھے گارے سے پرندے کی ایک شکل‘ میرے حکم سے‘‘

فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ

’’پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ ایک اُڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے‘‘

وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ

’’اور تم اچھا کر دیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کومیرے حکم سے۔‘‘

وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ

’’اور جب تم مردوں کو نکال کھڑا کرتے تھے میرے حکم سے۔‘‘

وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ

’’اور(یاد کرو میرے اس احسان کو بھی) جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ روک دیے تم سے‘‘

ان کے ہاتھ تم تک نہیں پہنچنے دیے اور تمہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ یہ اُسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورۂ آل عمران آیت ۵۴ کے تحت ہوا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار نہیں ہوئے‘ اور عین اُس وقت جب پولیس والے آپؑ کو گرفتار کرنے کے لیے باغ میں داخل ہوئے تو چار فرشتے اترے‘ جو آپؑ کو لے کر آسمان پر چلے گئے۔

اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۱۰﴾

’’جب کہ تم آئے ان کے پاس کھلے معجزات کے ساتھ تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘

آیت 111

وَ اِذۡ اَوۡحَیۡتُ اِلَی الۡحَوَارِیّٖنَ

’’اور(یاد کرو میرے احسان کو) جب میں نے اشارہ کیا حواریوں کو‘‘

اَنۡ اٰمِنُوۡا بِیۡ وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ

’’کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر ۔‘‘

ان کے دل میں ڈال دیا‘ الہام کر دیا‘ ان کی طرف وحی کر دی۔ یہ وحی خفی ہے۔ ظاہر ہے حواریوں کی طرف وحی جلی تو نہیں آ سکتی تھی جو خاصۂ نبوت ہے۔ لیکن جیسا کہ شہد کی مکھی کے لیے وحی کا لفظ آیا ہے(النحل:۶۸) یا جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو وحی کی(فصلت:۱۲) یہ وحی خفی کی مثالیں ہیں۔

قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّنَا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾

’’تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے عیسٰی ؑ آپ بھی ) گواہ رہیے کہ ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں۔‘‘

112-115

فرمائشی معجزہ کا مطالبہ

ویڈیو

اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾ قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۱۱۳﴾ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۱۵﴾

آیت 112

اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ

’’ اور (ذرایاد کرو اس واقعے کو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابنِ مریم ‘‘

ہَلۡ یَسۡتَطِیۡعُ رَبُّکَ اَنۡ یُّنَزِّلَ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ

’’کیا آپ کے رب کو یہ قدرت حاصل ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دستر خوان اتارے؟

قَالَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾

’’(جواب میں عیسیٰ ؑ نے) کہا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔‘‘

مؤمنین کو ایسی دعائیں نہیں کرنی چاہئیں۔ ایسے مطالبات آپ لوگوں کو زیب نہیں دیتے۔

آیت 113

قَالُوۡا نُرِیۡدُ اَنۡ نَّاۡکُلَ مِنۡہَا وَ تَطۡمَئِنَّ قُلُوۡبُنَا

’’انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس (خوان) میں سے کھائیں اور ہمارے دل بالکل مطمئن ہو جائیں‘‘

یہ اس طرح کی بات ہے جیسی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہی تھی: {رَبِّ اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ ؕ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنۡ لِّیَطۡمَئِنَّ قَلۡبِیۡ ؕ} (البقرۃ:۲۶۰) ’’پروردگار! ذرا مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے؟کہا: کیوں نہیں! (ایمان تو رکھتا ہوں) لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن ہوجائے‘‘ ۔اسی طرح کا مشاہدہ وہ بھی طلب کر رہے تھے۔

وَ نَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَ نَکُوۡنَ عَلَیۡہَا مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۱۱۳﴾

’’اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپؑ نے جو کچھ ہم سے کہا وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ بن جائیں۔‘‘

تا کہ ہمیں یقین کامل حاصل ہو جائے اور ہمارے اپنے دلوں میں کہیں شک وشبہ کا کوئی کانٹا چبھا ہو انہ رہ جائے۔

آیت 114

قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ

’’اس پر عیسٰی ؑ ابنِ مریم نے دعا کی: اے اللہ‘ اے ہمارے رب‘ اتارد ے ہم پر ایک دسترخوان آسمان سے‘‘

تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ

’’جو عید بن جائے ہمارے لیے اور ہمارے اگلوںاور پچھلوں کے لیے‘ اور ایک نشانی ہو تیری طرف سے۔‘‘

آسمان سے ‘خاص تیرے ہاں سے کھانے سے بھرے ہوئے دستر خوان کا نازل ہونا یقیناًہمارے اگلوںاور پچھلوں کے لیے ایک یادگار واقعہ اور تیری طرف سے ایک خاص نشانی ہو گا۔اس واقعہ پر یقینا ہم جشن منائیں گے ۔

وَ ارۡزُقۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾

’’ اور ہمیں رزق عطافرمااور یقینا تو بہترین رزق دینے والا ہے۔‘‘

آیت 115

قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمۡ ۚ

’’اللہ نے ارشاد فرمایا(ٹھیک ہے) میں نازل کر دوں گا اس کو تم پر۔‘‘

فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡکُمۡ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۱۵﴾

’’لیکن پھر اس کے بعد تم میں سے جو کوئی کفر کی روش اختیار کرے گا تو پھر اس کو میں عذاب بھی وہ دوں گا جو تمام جہانوں میں سے کسی اور کو نہیں دوں گا۔‘‘

یعنی جب اس طرح کی کوئی خرقِ عادت چیز دکھا دی جائے گی‘ کھلا معجزہ سامنے آ جائے گا تو پھر رعایت نہیں ہو گی۔ گزشتہ قوموں کے ساتھ ایسے ہی ہوا تھا۔قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے مطالبہ کیاکہ اس چٹان میں سے ہمارے سامنے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو جانی چاہیے۔ اللہ کے حکم سے وہ اونٹنی تو برآمد ہو گئی‘ لیکن ساتھ ہی رعایت بھی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد ان سے واضح طور پر کہہ دیا گیا کہ اب تمہارے لیے مہلت کے صرف چند د ن ہیں‘ اگر ان دنوں میں ایمان نہیں لاؤ گے تو نیست و نابود کر دیے جائو گے۔ یہ بات سورۃ الشعراء میں بہت تفصیل سے آئے گی کہ اے نبی ﷺ!مشرکین مکہ جو نشانیاں مانگ رہے ہیں تو ہم ان کی خیر خواہی میں انہیں ایسی کوئی نشانی نہیں دکھا رہے ہیں۔ اگر ان کے کہنے پر ایسی نشانیاں ہم دکھا دیں تو پھر ان کو مزید رعایت نہیں دی جائے گی اور ان کی مہلت ختم ہو جائے گی۔اس قسم کے معجزے دیکھ کرنہ کوئی پہلے ایمان لایا ‘نہ اب یہ لوگ لائیں گے۔ان کے اندر جو نیت کا فساد ہے وہ کہاں انہیں ماننے دے گا؟ جیسے قومِ صالحؑ نے نہیں مانا‘حالانکہ اپنی نگاہوں کے سامنے انہوں نے کھلامعجزہ دیکھ لیا تھا۔اسی طرح یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کو نہیں مانا‘ اُلٹا انہیں جادو قرار دے دیا۔تو اس قدر واضح معجزات دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ سوائے ان جادُوگروں کے جن کافرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ ہو اتھا۔ لیکن جادوگروں کی تصدیق کے بعد بھی نہ توخود فرعون ایمان لایا تھا نہ اس کے درباری اور نہ ہی عوام الناس ۔ چنانچہ معجزے کا ظہور در اصل متعلقہ قوم کے خلاف جاتا ہے۔ معجزے کے ظہور سے پہلے تو اُمید ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ شاید اس قوم کو کچھ ڈھیل دے دے‘ شاید کچھ اور لوگوں کو ایمان کی توفیق مل جائے‘ لیکن معجزے کے ظہور کے بعد مہلت کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔

116-118

عیسائیوں کے شرک سےحضرت عیسی کا اعلان براءت

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۱۶﴾ مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۱۷﴾ اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾

تمہید

اب یہ اس پیشی کا آخری منظر ہے اور اس کا انداز بہت سخت ہے۔

آیت 116

وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’اورجب اللہ کہے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تم نے کہا تھا لوگوں سے کہ مجھے اور میری ماں دونوں کو معبود بنا لینا‘ اللہ کے سوا؟‘‘

قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃

’’وہ (جواب میں) عرض کریں‘گے (اے اللہ) تو پاک ہے‘ میرے لیے کیسے روا تھا کہ میں وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔‘‘

اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ

’’اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تووہ تیرے علم میں ہوتی۔‘‘

تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۱۱۶﴾

’’ توتو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے ۔یقینا تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا تو بس تو ہی ہے۔‘‘

آیت 117

مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ

’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہامگر وہی کچھ جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا‘‘

اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ

’’(اور وہ یہی بات تھی)کہ بندگی کرو اللہ کی جو میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے۔‘‘

وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ

’’اور میں ان پر نگران رہا جب تک اُن میں موجودرہا۔‘‘

ان کی راہنمائی کرتا رہا‘نگرانی کرتا رہا۔ یہاں لفظ ’’شہید‘‘ نگران کے معنوں میں آیا ہے۔

فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’پھرجب تو نے مجھے اٹھا لیا تو (اس کے بعد) تو ہی نگران تھا ان پر‘‘

واضح رہے کہ یہاں بھی تَوَفَّـیْتَنِیْ موت کے معنوں میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ آل عمران آیت۵۵ (اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ) کی تشریح مدنظر رہے۔

وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۱۱۷﴾

’’اور یقینا تو ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘

تو ہر چیز پر نگران ہے‘ ہر چیز سے باخبر ہے۔

آیت 118

اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ

’’اب اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں۔‘‘

تجھے ان پر پورا اختیار حاصل ہے‘ وہ تیری مخلوق ہیں۔

وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾

’’اور اگر تو انہیں بخش دے تو تو زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘

معافی کی درخواست کا یہ انداز بہت خوبصورت ہے۔ اس میں اس شفقت و رأفت کا اظہار توہے ‘ جو نوعِ انسانی کے لیے انبیاء کی شخصیت کا خاصہ ہے‘ لیکن اس سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کہا گیا۔ اور یہی مقام عبدیت ہے کہ اے اللہ! تو صاحب اختیار ہے‘تو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔اگر تو انہیں معاف فرمانا چاہے تو تجھ سے کوئی بازپرس نہیں کر سکتا‘کوئی جواب طلبی نہیں کر سکتا کہ تو نے کیسے معاف کر دیا!اب آخر میں اس پیشی کا ڈراپ سین اور آخری نقشہ دکھایاجا رہا ہے۔

119-120

سچائی کا صلہ روز قیامت ہی ملے گا

ویڈیو

قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۹﴾ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿٪۱۲۰﴾

آیت 119

قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ

’’اللہ فرمائے گایہ آج کا دن وہ ہے جس دن سچوں کو ان کی سچائی فائدہ پہنچائے گی۔‘‘

ان کا سچ اور صدق ان کے حق میں مفید ہو گا۔

لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ

’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘ وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۹﴾

’’اللہ ان سے راضی ہو گیااور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘

یہ ہے باہمی رضا مندی کا آخری مقام ‘ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔

آیت 120

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ

’’ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے‘ سب کی بادشاہی ۔‘‘

وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿٪۱۲۰﴾

’’اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

یہاں پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے سورۃ المائدۃ کے اختتام کے ساتھ ہی مکی اور مدنی سورتوں کے گروپس (groups) میں سے پہلے گروپ کا مطالعہ مکمل ہو گیا ہے‘ اس گروپ میں ایک مکی سورۃ یعنی سورۃ الفاتحہ اور چارمدنی سورتیں شامل ہیں۔ سورۃ الفاتحہ اگرچہ حجم میں بہت چھوٹی ہے لیکن یہ اپنی معنوی عظمت کے لحاظ سے پورے قرآن کے ہم وزن ہے۔ سورۃ الحجر کی آیت: {وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾} ’’اور ہم نے آپؐ کو دی ہیں سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن‘‘۔ مفسرین کی رائے کے مطابق سورۃ الفاتحہ ہی کے بارے میں ہے۔ اس گروپ کی چار مدنی سورتیں (البقرۃ ‘ آل عمران‘ النساء اور المائدۃ) دو دو کے جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ ان تمام سورتوں کے مضامین کاخلاصہ یہاں ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کر لیں۔ مکمل شریعتِ آسمانی‘اہلِ کتاب سے خطاب ‘ان پر الزامات کا تذکرہ‘ ان کے غلط عقائد کی نفی‘انہیں ایمان کی دعوت‘ ان کی تاریخ کے اہم واقعات کی تفصیلات‘ ان کا اُمتِ مسلمہ کے منصب سے معزول کیا جانا‘ جس پر وہ دو ہزار برس سے فائز تھے اور اُمتِ محمدﷺ کا اس منصب پر فائز کیا جانا۔ یہ موضوعات آخری درجے میں اس گروپ کی سورتوں میں مکمل ہو گئے ہیں۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے