اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ
’’ جب کہے گا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ؑابن مریم‘‘
اب روزِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خاص پیشی کا منظر ہے ۔دنیا میں ان کی پرستش کی گئی‘ان کو اللہ کا بیٹا بنایا گیا‘ ثالثُ ثلاثۃ قرار دیا گیا۔ لہٰذااب آنجنابؑ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جو شرمندگی اٹھانا پڑے گی ‘اس کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے جب اللہ ان کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے عیسٰی ؑ ابنِ مریم:
اذۡکُرۡ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ ۘ
’’ذرا میرے ان انعامات کو یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوئے۔ ‘‘
اِذۡ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ۟
’’ جبکہ میں نے تمہاری مدد کی روح القدس سے‘‘
جبرائیل ؑ کے ذریعے سے تمہاری تائید کی۔
تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا ۚ
’’تم گفتگو کرتے تھے لوگوں کے ساتھ پنگھوڑے میں بھی اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔‘‘
تم شیر خوارگی کی عمر میں بھی لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور ادھیڑ عمر کو پہنچ کر بھی۔ آگے وہی سورۂ آل عمران (آیت ۴۸) والے الفاظ دہرائے جا رہے ہیں۔
وَ اِذۡ عَلَّمۡتُکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ۚ
’’اور(یاد کرو میرے اس احسان کو) جب کہ میں نے تمہیں سکھائی کتاب اور حکمت ‘ یعنی تورات اور انجیل۔‘‘
درمیان کا واؤتفسیریہ ہے‘ لہٰذا ’’یعنی ‘‘کے مفہوم میں آئے گا۔
وَ اِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ بِاِذۡنِیۡ
’’اور (یاد کرو) جب تم بناتے تھے گارے سے پرندے کی ایک شکل‘ میرے حکم سے‘‘
فَتَنۡفُخُ فِیۡہَا فَتَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِیۡ
’’پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ ایک اُڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے‘‘
وَ تُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡ ۚ
’’اور تم اچھا کر دیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کومیرے حکم سے۔‘‘
وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ
’’اور جب تم مردوں کو نکال کھڑا کرتے تھے میرے حکم سے۔‘‘
وَ اِذۡ کَفَفۡتُ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَنۡکَ
’’اور(یاد کرو میرے اس احسان کو بھی) جب میں نے بنی اسرائیل کے ہاتھ روک دیے تم سے‘‘
ان کے ہاتھ تم تک نہیں پہنچنے دیے اور تمہیں ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ یہ اُسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورۂ آل عمران آیت ۵۴ کے تحت ہوا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار نہیں ہوئے‘ اور عین اُس وقت جب پولیس والے آپؑ کو گرفتار کرنے کے لیے باغ میں داخل ہوئے تو چار فرشتے اترے‘ جو آپؑ کو لے کر آسمان پر چلے گئے۔
اِذۡ جِئۡتَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۱۰﴾
’’جب کہ تم آئے ان کے پاس کھلے معجزات کے ساتھ تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے کہ یہ تو صریح جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘
وَ اِذۡ اَوۡحَیۡتُ اِلَی الۡحَوَارِیّٖنَ
’’اور(یاد کرو میرے احسان کو) جب میں نے اشارہ کیا حواریوں کو‘‘
اَنۡ اٰمِنُوۡا بِیۡ وَ بِرَسُوۡلِیۡ ۚ
’’کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر ۔‘‘
ان کے دل میں ڈال دیا‘ الہام کر دیا‘ ان کی طرف وحی کر دی۔ یہ وحی خفی ہے۔ ظاہر ہے حواریوں کی طرف وحی جلی تو نہیں آ سکتی تھی جو خاصۂ نبوت ہے۔ لیکن جیسا کہ شہد کی مکھی کے لیے وحی کا لفظ آیا ہے(النحل:۶۸) یا جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو وحی کی(فصلت:۱۲) یہ وحی خفی کی مثالیں ہیں۔
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّنَا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
’’تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور (اے عیسٰی ؑ آپ بھی ) گواہ رہیے کہ ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں۔‘‘