تحریر

المائدة

آیات ۸۷ تا ۱۰۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

87-88

حلال کو حرام کر لینا بھی جرم ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾ وَ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

تمہید

کھانے پینے کی چیزوں میں حلت و حرمت اور تحلیل و تحریم الہامی شریعتوں کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ قرآن حکیم میں بھی بار بار ان مسائل پر بحث کی گئی ہے ۔ یہ موضوع سورۃ البقرۃ سے مسلسل چل رہا ہے۔ عربوں کے ہاں نسل در نسل رائج مشرکانہ اوہام کی وجہ سے بہت سی چیزوں کے بار ے میں حلت و حرمت کے غلط تصورات ذہنوں میں پختہ ہو چکے تھے۔ اس قسم کے خیالات ذہنوں‘ دلوں اور مزاجوں سے نکلنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے بار بار ان مسائل کی طرف توجہ دلائی جار ہی ہے ۔

آیت 87

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ

’’ اے ایمان والو‘نہ حرام ٹھہرا لو اُن چیزوں کو جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے‘‘

وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ

’’اور حد سے تجاوز نہ کرو۔‘‘

بعض اوقات لوگ تقویٰ کے جوش میں اور بہت زیادہ نیکی کمانے کے جذبے میں بھی کئی حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر بیٹھتے ہیں‘ اس لیے فرمایا گیا کہ حد سے تجاوز نہ کرو۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾

’’یقینااللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

آیت 88

وَ کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪

’’اور کھاؤ اُن حلال اور پاکیزہ چیزوںمیں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہیں‘‘

یعنی وہ چیزیں جو قانونی طور پر حلال ہوں اور ظاہری طو رپر بھی صاف ستھری ہوں۔

وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

’’ اور اُس اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو جس پر تمہارا ایمان ہے۔‘‘

89

قسم کا کفارہ

ویڈیو

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾

آیت 89

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ

’’اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرے گا تم سے تمہاری ان قسموں میں جو لغو ہوتی ہیں‘‘

قسموں کے سلسلے میں سورۃ البقرۃ (آیت۲۲۵) میں ہدایات گزر چکی ہیں‘ اب یہاں اس ضمن میں آخری حکم آ رہا ہے۔یعنی ایسی قسمیں جو بغیر کسی ارادے کے کھائی جاتی ہیں‘ ان پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ جیسے تکیہ کلام کے طور پر واللہ ‘باللہ وغیرہ کااستعمال عربوں کی خاص عادت تھی اور آج بھی ہے ۔ظاہر ہے ایسی طرز گفتگو کو سن کر کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ شخص باقاعدہ قسم کھارہا ہے ۔ تو ایسی قسم کے بارے میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔

وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ

’’لیکن وہ(ضرور) مؤاخذہ کرے گا تم سے ان قسموں پر جن کو تم نے پختہ کیا ہے۔‘‘

عَقَّدْتُّم عقد سے بابِ تفعیل ہے۔ یعنی پورے اہتمام کے ساتھ ایک بات طے کی گئی اور اس پر کسی نے قسم کھائی ۔اب اگر ایسی قسم ٹوٹ جائے یا اس کو توڑنا مقصودہو تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔

فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ

’’سواس کا کفارہ ہے کھانا کھلانا دس مساکین کو‘ اوسط درجے کا کھانا جیسا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو‘‘

اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ

’’یا اُن کو کپڑے پہنانا ‘‘

اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ

’’یاکسی غلام کو آزاد کرنا ۔‘‘

فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ

’’پھر جو کوئی اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔‘‘

یعنی اگر کسی کے پاس ان تینوں میں سے کوئی صورت بھی موجود نہ ہو ‘ کوئی شخص خود فقیر اور مفلس ہو‘ اس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔

ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ

’’ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب تم قسم کھا (کر توڑ)بیٹھو۔‘‘

وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ

’’ اور اپنی قسموں کی حفاظت کیاکرو۔‘‘

یعنی جب کسی جائز معاملے میں بالارادہ قسم کھائی جائے تو اسے پورا کیا جائے ‘ اور اگر کسی وجہ سے قسم توڑنے کی نوبت آ جائے تو اسے توڑنے کا باقاعدہ کفارہ دیا جائے۔

کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۸۹﴾

’’اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح فرما رہا ہے تا کہ تم شکر کرو۔‘‘

اب شراب اور جوئے کے بارے میں بھی آخری حکم آ رہا ہے۔

90-92

شراب اور جوئے کی حرمت کا حتمی حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾ اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾

آیت 90

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾

’’اے اہل ایمان‘ یقیناشراب اور جوا‘ بت اور پانسے ‘یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے عمل میں سے‘ تو ان سے بچ کر رہو تا کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

شراب اور جوئے کے بارے میں تو پہلے بھی حکم آ چکا ہے ‘لیکن ’’ اَنصاب‘‘ اور ’’اَزلام‘‘ کا یہاں اضافہ کیاگیا ہے۔اَنصاب سے مرادبتوں کے استھان ہیں اور اَزلام جوئے ہی کی ایک قسم تھی جس میں اہلِ عرب تیروں کے ذریعے پانسے ڈالتے تھے‘ یعنی قرعہ اندازی کرتے تھے۔ ان تمام کاموں کویہاں رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ قرار دے دیا گیا ۔

آیت 91

اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ

’’شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے شراب اور جوئے کے ذریعے`سے‘‘

یہ بہت اہم بات ہے۔ شراب کے نشے میں انسان اپنا ہوش اور شعور کھو بیٹھتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو کچھ خبر نہیں رہتی کہ وہ منہ سے کیا بکواس کر رہا ہے اور اس کے اَعضاء و جوارح سے کیا افعال سرزد ہو رہے ہیں‘ لہٰذا کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسی حالت میں کسی بات یا کسی حرکت سے کیا کیا گُل کھلیں گے‘ کیسے کیسے جھگڑے اور فسادات جنم لیں گے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ حکومتی اور ریاستی سطح کے بڑے بڑے رازشراب کے نشے میں چُرالیے جاتے ہیں۔ تو اے مسلمانو!اللہ تعالیٰ تمہیں ان چیزوں سے بچانا چاہتا ہے‘ جبکہ شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے مابین عداوت اور بغض پیدا کرے۔ اسی طرح جوئے سے بھی بغض و عداوت کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔مثلاً ایک آدمی جوئے میں ہار جاتا ہے ‘ پھر پے در پے ہارتا چلا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ غصّے میں آگ بگولا ہو کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اسے نظر آ رہا ہے کہ میرا جوحریف مجھ سے جیت رہا ہے وہ کسی محنت کی وجہ سے نہیں جیت رہا۔ کسی نے محنت اور کوشش سے کچھ کمایا ہوتو اس سے دوسرے کو جلن محسوس نہیں ہوتی‘لیکن جوئے میں بے محنت کی کمائی ہوتی ہے جسے مخالف فریق برداشت نہیں کر سکتا۔اس طرح انسانی تعلقات میں کئی منفی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔

وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ

’’ اور(شیطان یہ بھی چاہتا ہے کہ) تمہیں روکے اللہ کی یاد سے اور نماز سے۔‘‘

اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنے والا معاملہ بھی شراب کا تو بالکل واضح ہے ‘ لیکن جوئے میں بھی یونہی ہوتا ہے کہ آدمی ایک بار اس میں لگ جائے تو پھر وہاں سے نکلنامشکل ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ تاش اور شطر نج وغیرہ بھی ایسے کھیل ہیں کہ ان میں مشغول ہو کر انسان ذکر اور نماز جیسی چیزوں سے بالکل غافل ہو جاتا ہے۔

فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾

’’ تو اب باز آتے ہو یا نہیں؟‘‘

یہ انداز بہت سخت ہے اوراس کا ایک خاص پس منظر ہے ۔ شراب اور جوئے کے بارے میں ایک واضح ہدایت قبل ازیں آ چکی تھی: {فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ } (البقرۃ:۲۱۹) ’’ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں‘ اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں ‘البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے‘‘۔تو اسی وقت تمہیں سمجھ لینا چاہیے تھا اور باز آ جانا چاہیے تھا۔اُس پہلے حکم میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت ‘ مشیت اور شریعت کا رخ تو واضح ہو گیا تھا ۔پھر اگلا قدم اٹھایا گیا اور حکم دیا گیا: ’’جب تم لوگ شراب کے نشے میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ…‘‘(النساء:۴۳) اس سے تو پورے طور سے واضح ہو جانا چاہیے تھا کہ دین کا اہم ترین ستون نماز ہے: حدیث((اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ))۱ اور یہ شراب نماز سے روک رہی ہے‘ توتمہیں یہ چھوڑ دینی چاہیے تھی۔ بہر حال اب آخری بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ گئی ہے ‘ تو اسے سن کر کیا اب بھی تم باز نہیں آؤ گے؟

(۱) رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔ راوی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ-

آیت 92

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ احۡذَرُوۡا ۚ

’’اوراطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ﷺ )کی اور (ان کی نافرمانی سے) بچتے رہو۔‘‘

فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۹۲﴾

’’پھر اگر تم پیٹھ موڑ لو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول (ﷺ)پر تو ذمہ داری ہے بس صاف صاف پہنچا دینے کی۔‘‘

یہ اللہ کا حکم ہے۔ اللہ کا حکم پہنچانا رسولؐ کے ذمے تھا‘ تورسولؐ نے پہنچا کراپنی ذمہ داری ادا کر دی‘ اب معاملہ اللہ کا اور تمہارا ہو گا۔ اللہ تم سے حساب لے لے گا۔

اب جو اگلی آیت آ رہی ہے یہ بھی قرآن مجید کے فلسفہ اورحکمت کے ضمن میں بہت بنیادی آیت ہے ۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب شراب کے بارے میں اتنا سخت انداز آیا کہ شراب اور جوا گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے باز آتے ہو یا نہیں؟ تو بہت سے مسلمانوں کو تشویش لاحق ہو گئی کہ ہم جو اتنے عرصے تک شراب پیتے رہے تویہ گندگی تو ہماری ہڈیوں میں بیٹھ گئی ہو گی۔ آج سائنس کی زبان میں جیسے کوئی شخص کہے کہ میرے جسم کا تو کوئی ایک خلیہ (cell) بھی ایسا نہیں ہو گا جس میں شراب کے اثرات نہ پہنچے ہوں۔ تو اب ہم کیسے پاک ہوں گے؟ اب کس طریقے سے یہ گندگی ہمارے جسموں سے دُھلے گی؟ان کی یہ تشویش بجا تھی۔جیسے تحویلِ قبلہ کے وقت تشویش پیدا ہو گئی تھی کہ اگر اصل قبلہ بیت اللہ تھا اور ہم بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نمازیں پڑھتے رہے تووہ نمازیں تو ضائع ہو گئیں‘ اور نماز ہی تو ایمان ہے۔ تو اس پر مؤمنین کی تسلی کے لیے فرمایاگیا تھا: {وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمۡ ؕ} ’’اللہ تمہارے ایمان کوضائع کرنے والا نہیں ہے‘‘۔ایسے ہی یہاں ان کی دل جوئی کے لیے فرمایا :

93

اللہ کی قربت تقوی سے حاصل ہوتی ہے

ویڈیو

لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾

آیت 93

لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا

’’ان لوگو ں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کوئی گناہ نہیں ہے اس میں جو وہ(پہلے) کھا پی چکے‘‘

کسی شے کی حرمت کے قطعی حکم آنے سے پہلے جو کچھ کھایا پیا گیا ‘ اس کا کوئی گناہ ان پر نہیں رہے گا۔ یہ کوئی ہڈیوں میں بیٹھ جانے والی شے نہیں ہے‘ یہ توشرعی اور اخلاقی قانون (Moral Law) کا معاملہ ہے‘ طبعی قانون (Physical Law) کانہیں ہے۔ طبعی (Physical) طور پر تو کچھ چیزوں کے اثرات واقعی دائمی ہو جاتے ہیں‘ لیکن Moral Law کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ گناہ تو اُحد پہاڑ کے برابر بھی ہوں تو سچی توبہ سے بالکل صاف ہو جاتے ہیں۔ ازروئے حدیث نبویؐ: حدیث((اَلـتَّائِبُ مِنَ ا لذَّنْبِ کَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَـہٗ))۱’’گناہ سے حقیقی توبہ کرنے والا بالکل ایسے ہے جیسے اس نے کبھی وہ گناہ کیا ہی نہیں تھا ‘‘ ۔صدقِ دل سے توبہ کی جائے تو نامۂ اعمال بالکل دھل جاتا ہے۔ لہٰذا ا یسی کسی تشویش کو بالکل اپنے قریب مت آنے دو۔

اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾

’’ جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘پھر مزید تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں‘ پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور درجۂ احسان پر فائز ہو جائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘

یہ دراصل تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ ’اسلام‘ ہے۔ یعنی اللہ کو مان لیا‘ رسولؐ کو مان لیا اور اس کے احکام پر چل پڑے۔ اس سے اوپر کا درجہ ’ایمان‘ ہے ‘یعنی دِل کا کامل یقین‘ جو ایمان کے دل میں اُتر جانے سے حاصل ہوتا ہے۔ {وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ } ( الحجرات:۷) کے مصداق ایمان قلب میں اُتر جائے گا تو اعمال کی کیفیت بدل جائے گی‘ اعمال میں ایک نئی شان پیدا ہو جائے گی‘ زندگی کے اندر ایک نیا رنگ آ جائے گا جوکہ خالص اللہ کا رنگ ہو گا: {صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫} (البقرۃ: ۱۳۸) ’’ہم نے تو اختیار کر لیا ہے اللہ کے رنگ کواور اللہ کے رنگ سے بہتر اورکس کا رنگ ہوگا؟‘‘اور اس سے بھی آگے بڑھ کر جب ایمان ’’عین الیقین ‘‘کا درجہ حاصل کر لے تو یہی درجۂ احسان ہے۔حدیثِ نبویؐ میں اس کی کیفیت یہ بیان ہوئی ہے : حدیث((اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَـکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ))۲ ’’یہ کہ تواللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تواسے دیکھ رہا ہے ‘اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا (یہ کیفیت اگر پیدا نہیں ہو رہی) تو پھر (یہ کیفیت تو پیدا ہونی چاہیے کہ) وہ توتجھے دیکھتا ہے‘‘۔یعنی تم اللہ کی بندگی کرو‘ اللہ کے لیے جہاد کرو‘ اس کی راہ میں بھاگ دوڑ کرو‘ اور اس میں تقویٰ کی کیفیت ایسی ہو جائے کہ جیسے تم اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔

احسان کی یہ تعریف ’’حدیثِ جبریل ؑ‘‘ میں موجود ہے۔ اس حدیث کو اُمّ السُّنَّۃ کہا گیا ہے‘ جیسے سورۃ الفاتحہ کو اُمّ القرآن کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح سورۃ الفاتحہ اساس القرآن ہے‘ اسی طرح حدیثِ جبریل ؑ سنت کی اساس ہے۔ ا س حدیث میں ہمیں یہ تفصیل ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں حضورﷺ کے پاس آئے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مجمع تھا‘ وہاں انہوں نے کچھ سوالات کیے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پہلا سوال اسلام کے بارے میں کیا : یَامُحَمَّدُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ! کہ اے محمد(ﷺ) مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے۔اس کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسولؐ ہیں‘ نماز قائم کرو‘ زکوٰۃ اد اکرو‘ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو‘ اگر تمہیں اس کے لیے سفر کی استطاعت ہو‘‘۔ یعنی اسلام کے ضمن میں اعمال کا ذکر آ گیا ۔ پھر جبرائیل ؑ نے کہا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتلایئے! اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر‘اس کے فرشتوں پر‘ اس کی کتابوں پر‘ اس کے رسولوں پر‘ یومِ آخرت پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر‘‘۔ اب یہاں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ ایمان تو اسلام میں بھی موجود ہے‘ یعنی زبانی اور قانونی ایمان‘ لیکن دوسرے درجے میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کیا گیا ہے اور اعمالِ صالحہ کا تعلق ایمان کے بجائے اسلام سے بتایا گیا ہے۔ اس لیے کہ جب ایمان دل میں اُتر کر یقین کی صورت اختیار کر جائے تو پھر اعمال کا ذکر الگ سے کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ایمان کے اس مرحلے پر اعمال لازماً درست ہوجائیں گے۔پھر ایمان جب دل میں مزید گہرا اور پختہ ہوتا ہے تو اعمال بھی مزید درست ہوں گے۔ جیسے جتنا جتنا درخت اوپر جا تا ہے اسی نسبت سے جڑ نیچے گہرائی میں اترتی جاتی ہے۔ ایمان کی جڑ نے دل کی زمین میں قرار پکڑا تو اسلام سے ایمان بن گیا۔ جب یہ جڑ مزید گہری ہوئی تو تیسری منزل یعنی احسان تک رسائی ہو گئی اور یہاں اعمال میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ چنانچہ جب حضرت جبرائیل ؑ نے احسان کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو…‘‘ آپؐ کا یہ جواب تین روایتوں میں تین مختلف الفاظ میں نقل ہوا ہے:(۱)اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ …(۲) اَنْ تَخْشَی اللّٰہَ تَعَالٰی کَاَنَّکَ تَرَاہُ … ۱ (۳) اَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ۲ ۔اگلے الفاظ: حدیث((فَاِنْ لَّمْ تَـکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّـہٗ یَرَاکَ)) تینوں روایتوں میں یکساں ہیں۔یعنی ایک بندۂ مؤمن اللہ کی بندگی‘ اللہ کی پرستش‘ اللہ کے لیے بھاگ دوڑ‘ اللہ کے لیے عمل‘ اللہ کے لیے جہاد ایسی کیفیت سے سرشار ہوکر کر رہا ہوگویاوہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو جب اللہ سامنے ہو گا‘ تو پھر کیسے کچھ ہمارے جذباتِ عبدیت ہوں گے‘ کیسی کیسی ہماری قلبی کیفیات ہوں گی۔ یہ کیفیت اس دنیا میں بھی حاصل ہو سکتی ہے ‘ لیکن واقعتا بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو سکے تو احسان کا ایک اس سے نچلا درجہ بھی ہے۔ یعنی کم از کم یہ بات تو ہر وقت مستحضر رہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔ تو یہ ہیں وہ تین درجے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔

’’تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں‘‘ مولانا مودودی مرحوم کی ایک قابل قدر کتاب ہے۔ اس میں مولانا نے اسلام‘ ایمان‘ احسان اور تقویٰ چار مراتب بیان کیے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک تقویٰ علیحدہ سے کوئی مرتبہ ومقام نہیں ہے۔ تقویٰ وہ روح (spirit) اور وہ قوتِ محرکہ (driving force) ہے جو انسان کونیکی کی طرف دھکیلتی اور اُبھارتی ہے۔ چنانچہ آیت زیر نظر میں تقویٰ کی تکرار کا مفہوم یوں ہے کہ تقویٰ نے آپ کو baseline سے اوپر اٹھایا اور اب آپ کے ایمان اور عمل صالح میں ایک امتیازی رنگ پیدا ہو گیا {اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} ۔ پھر تقویٰ میں مزید اضافہ ہوا اور تقویٰ نے آپ کو مزیداوپر اٹھایا تو اب آپ کے دل میں یقین والا ایمان پیدا ہو گیا۔چنانچہ {ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا } میں یقین والے ایمان کی طرف اشارہ ہے۔ اسی لیے یہاں عمل صالح کا علیحدہ ذکر نہیں ہوا ۔ اس لیے کہ جب ایمان دل میں اُتر گیا تو اعما ل خود بخود درست ہوگئے۔ پھر تقویٰ اگر مزید روبہ ترقی ہے {ثُمَّ اتَّقَوۡا} تو اس کے نتیجے میں {وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ } کا درجہ آ جائے گا‘ یعنی انسان درجۂ احسان پر فائز ہو جائے گا۔ (اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین!)

ایمان اور تقویٰ کے ساتھ اعمال کے اس ربط و تعلق کو سمجھنے کے لیے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان پیش نظر رہنا چاہیے :

حدیث((اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً ‘ اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُُ کُلُّہٗ ‘ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُکُلُّہٗ ‘ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ)) ۱

’’آگاہ رہو‘ یقینا جسم کے اندر ایک گوشت کا لوتھڑا ہے‘ جب وہ درست ہو تو سارا جسم‘درست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾

’’ اور اللہ ایسے محسن بندوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘

اللہ کے جو بندے درجۂ احسان تک پہنچ جاتے ہیں وہ اس کے محبوب بندے بن جاتے ہیں۔

یہاں تقابل کے لیے اس سورۂ مبارکہ کی آیت ۷۱ بھی ذہن میں تازہ کر لیں۔ اس آیت میں {فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا …ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا …} کے الفاظ میں گمراہی و ضلالت کے مختلف مراحل کا ذکر ہے کہ بنی اسرائیل حق کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اندھے اور بہرے ہو گئے‘ اللہ نے انہیں ڈھیل دی تو اس پروہ اور بھی اندھے اوربہرے ہو گئے‘ اللہ نے مزید ڈھیل دی تو وہ اور زیادہ اندھے اور بہرے ہو گئے۔ یہ اُس راستے کا ذکر ہے جس پر انسان قدم بہ قدم گمراہی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ مگرا یک راستہ یہ ہے جس کا حوالہ اس آیت میں آیا ہے ۔ یعنی ہدایت کا راستہ اسلام ‘ ایمان‘ احسان‘ اور تقویٰ کا راستہ ‘ جس پر چلتے ہوئے انسان کو درجہ بہ درجہ ترقی ملتی چلی جاتی ہے۔

(۱) السنن الکبریٰ للبیھقی ۱۰/۵۴ ۱۔ فتح الباری لابن حجر ۱۳/۴۸۰۔ راوی : عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما۔

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب سؤال جبریل النبیﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان… وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان الایمان والاسلام والاحسان‘ ح۹و۱۰۔ ودیگر کتب احادیث۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘باب بیان الایمان والاسلام والاحسان‘ ح۱۱۔ومسند احمد‘ ح ۲۷۷۵۔

(۲) مسند احمد‘ ح ۱۷۹۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب فضل من اسبترأ لدینہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب المساقاۃ‘ باب اخذ الحلال وترک الشبہات۔

94-96

حالت احرام میں شکار کرنے کا عمل

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّیۡدَ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ وَ مَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحۡکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ ہَدۡیًۢا بٰلِغَ الۡکَعۡبَۃِ اَوۡ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِہٖ ؕ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللّٰہُ مِنۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۹۵﴾ اُحِلَّ لَکُمۡ صَیۡدُ الۡبَحۡرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِلسَّیَّارَۃِ ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ صَیۡدُ الۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹۶﴾

تمہید

اس سورۂ مبارکہ کے شروع میں حالتِ احرام میں شکار کرنے کی ممانعت آ چکی ہے۔ اب اللہ کی اس سنت کا ذکر ہے کہ اللہ اپنے ماننے والوں کو آزماتا ہے اور ان کا سخت ترین امتحان لیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ حاجیوں کا ایک قافلہ جا رہا ہے‘ سب نے احرام باندھا ہوا ہے‘ اتفاق سے ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں ۔ اب ایک ہرن اٹھکیلیاں کرتے ہوئے قریب آ رہا ہے ‘ بھوک بھی ستا رہی ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘چاہیں تو ذرا سا نیزہ ماریں اورشکار کر لیں یا ویسے ہی بھاگ کر پکڑ لیں ‘ لیکن پکڑ نہیں سکتے‘ شکار نہیں کر سکتے ‘کیونکہ احرام میں ہیں اور اس حالت میں اجازت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح آزماتا ہے ۔

آیت 94

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَیَبۡلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیۡءٍ مِّنَ الصَّیۡدِ

’’ اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ تمہیں لازماً آزمائے گا کسی ایسے شکار کے ذریعے‘‘

تَنَالُہٗۤ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ رِمَاحُکُمۡ

’’ جس کو پہنچتے ہوں گے (آسانی سے) تمہارے ہاتھ اور نیزے‘‘

لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ مَنۡ یَّخَافُہٗ بِالۡغَیۡبِ ۚ

’’ تا کہ اللہ دیکھ لے اُن لوگوں کو جو غیب میں ہوتے ہوئے بھی اُس سے ڈرتے رہتے ہیں۔‘‘

شکار پہنچ میں بھی ہے ‘ان کے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہے‘ ضرورت بھی ہے ‘ لیکن مجبور ہیں‘کیونکہ احرام باندھا ہوا ہے ۔ تو جس کے دل میں ایمان ہو گا وہ اپنی بھوک کو برداشت کر ے گا‘ اللہ کے حکم کو نہیں توڑے گا۔

فَمَنِ اعۡتَدٰی بَعۡدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۹۴﴾

’’اب اس کے بعد جس نے زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 95

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّیۡدَ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ

’’ اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو قتل مت کرو۔‘‘

وَ مَنۡ قَتَلَہٗ مِنۡکُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ

’’ تو جو کوئی تم میں سے اسے قتل (شکار )کر بیٹھے جان بوجھ کر‘ تو پھر اس کا کفارہ ہو گا اسی طرح کا ایک چوپایہ جیسا کہ اُس نے قتل کیا‘‘

کفارے کے طور پراللہ کی راہ میں ویسا ہی ایک چوپایہ صدقہ کیا جائے گا۔یعنی اگر آپ نے ہرن مارا تو بکری یا بھیڑ دی جائے گی اور اگر نیل گائے مار دی تو پھر گائے بطور کفارہ دینا ہوگی۔ اس طرح جس قسم اور جس جسامت کا حیوان شکار کیا گیا ہے‘ اس کے برابر کا چوپایہ صدقہ کرنا ہو گا۔

یَحۡکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ

’’ جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے‘‘

یعنی دو متقی اور معتبر اشخاص اس کی گواہی دیں کہ یہ جانور اس شکار کیے جانے والے جانور کے برابر ہے۔

ہَدۡیًۢا بٰلِغَ الۡکَعۡبَۃِ

’’ یہ نذر کی حیثیت سے خانہ کعبہ تک پہنچایا جائے‘‘

یہ جانور ہدی کے طور پر خانہ کعبہ کی نذر کیا جائے گا۔

اَوۡ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیۡنَ

’’ یاپھر اس کا کفارہ ہے کچھ مساکین کو کھانا کھلانا‘‘

اس میں فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر اناج یا رقم دینا ہو تووہ صدقۂ فطر کے حساب سے ہو گی۔

اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِکَ صِیَامًا

’’ یا اتنے ہی روزے رکھنا‘‘

یہ دیکھنا ہو گا کہ جو جانورشکار ہوا ہے اسے کتنے آدمی کھا سکتے تھے۔ اتنے آدمیوں کو کھانا کھلایا جائے یا اتنے دن کے روزے رکھے جائیں۔

لِّیَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِہٖ ؕ

’’ تا کہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے۔‘‘

عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ ؕ

’’ اللہ معاف کر چکا ہے جو پہلے ہو چکا ہے۔‘‘

وَ مَنۡ عَادَ فَیَنۡتَقِمُ اللّٰہُ مِنۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿۹۵﴾

’’لیکن جو کوئی پھرایسا کرے گا تو اللہ اُس سے انتقام لے گا‘ اور یقینا اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ انتقام لینے‘والا۔‘‘

آیت 96

اُحِلَّ لَکُمۡ صَیۡدُ الۡبَحۡرِ وَ طَعَامُہٗ

’’ (البتہ) تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے سمندر کا شکار اور اُس کا کھانا‘‘

سمندر اوردریا کاشکار حالتِ احرام میں بھی حلال ہے۔ حاجی لوگ اگر کشتیوں اوربحری جہازوں کے ذریعے سے سفر کر رہے ہوں تو وہ احرام کی حالت میں بھی مچھلی وغیرہ کا شکار کر سکتے ہیں۔

مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِلسَّیَّارَۃِ ۚ

’’ تمہارے لیے اور مسافروں کے لیے زادِ راہ کے طور پر۔‘‘

سمندر کی خوراک (sea food) تو یوں سمجھ لیجیے کہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے غذا کا ایک بیش بہا خزانہ ہے ۔ یہ غذا انسان کو بہت سی بیماریوں سے بچانے والی بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج کل یہ بہت مقبول ہو رہی ہے۔

وَ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ صَیۡدُ الۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ؕ

’’ لیکن خشکی پر شکار کرنا تمہارے لیے حرام کر دیا گیاہے جب تک کہ تم احرام میں ہو۔‘‘

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹۶﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو جس کی طرف تمہیں جمع کر دیاجائے گا۔‘‘

تم سب اُس کی طرف گھیراؤ کر کے لے جائے جاؤ گے۔

97

شعائر اللہ کا احترام

ویڈیو

جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۹۷﴾

آیت 97

جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ

’’اللہ نے کعبے کو‘ جو کہ بیت الحرام ہے ‘ لوگوں کے قیام کا باعث بنا دیا ہے‘‘

وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ

’’ اور حرمت والا مہینہ ‘ قربانی کے جانور اوروہ جانور بھی جن کے گلوں میں پٹے ڈال دیے گئے ہوں‘‘

یہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور اسی کے معیّن کردہ ہیں۔ سورۃ کے شروع میں بھی ان کا ذکر آ چکا ہے۔یہاں در اصل تو ثیق ہو رہی ہے کہ یہ سب چیزیں زمانہ جاہلیت کی روایات نہیں ہیں بلکہ خانہ کعبہ کی حرمت اور عظمت کی علامت ہیں۔

ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ

’’یہ اس لیے کہ تم اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمین کی ہر شے کا علم ہے‘‘

وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۹۷﴾

’’ اور یہ کہ اللہ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔‘‘

آگے چل کر اِن چیزوں کے مقابلے میں اُن چار چیزوں کا ذکر آئے گا جو اہلِ عرب کے ہاں بغیر کسی سند کے حرام کر لی گئی تھیں۔

98

اللہ کی دو شانیں

ویڈیو

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ؕ۹۸﴾

آیت 98

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ؕ۹۸﴾

’’جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے اور یہ کہ اللہ غفور اور رحیم بھی ہے۔‘‘

یعنی اُس کی تو دونوں شانیں ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔ اب دیکھو کہ تم اپنے آپ کو اُس کی کس شان کے ساتھ متعلق کر رہے ہو اور خود کوکیسے سلوک کا مستحق بنا رہے ہو؟ اس کی عقوبت کا یا اس کی رحمت اور مغفرت کا؟

99

رسول کے ذمہ پہنچانا ہے منوانا نہیں

ویڈیو

مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾

آیت 99

مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ

’’رسول(ﷺ )پر سوائے پہنچا دینے کے اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾

’’اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔‘‘

جب رسول اللہ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا تو باقی ساری ذمہ داری اب تمہاری ہے۔

100

حق کا معیار کثرت نہیں

ویڈیو

قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۱۰۰﴾

آیت 100

قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے‘چاہے ناپاک شے کی کثرت تمہیں اچھی لگے۔‘‘

انسان تو چاہتا ہے کہ اُس کے پاس ہر شے کی بہتات ہو‘ لیکن واضح رہے کہ ناجائز اور حرام طریقے سے کمایا ہوا مال جس قدر بھی ہو خبیث اور ناپاک ہی ہے ۔ بے شک اس کی چکاچوند تمہاری آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہو مگر اس میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ بقول علّامہ اقبالؔ : ؎

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۱۰۰﴾

’’ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘اے ہوش مندو! تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

101-102

غیر ضروری سوالات کی ممانعت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡہَا حِیۡنَ یُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَکُمۡ ؕ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾ قَدۡ سَاَلَہَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِہَا کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾

آیت 101

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡ اَشۡیَآءَ اِنۡ تُبۡدَ لَکُمۡ تَسُؤۡکُمۡ ۚ

’’اے اہل ایمان! اُن چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔‘‘

یہ ایک خاص قسم کی مذہبی ذہنیت کا تذکر ہ ہے۔ بعض لوگ بلا ضرورت ہر بات کو کھودنے‘ کریدنے اور بال کی کھال اُتارنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ اگر کسی چیز کے بارے میں اللہ‘تعالیٰ نے خود خاموشی اختیار فرمائی ہے تو اس بارے میں خواہ مخواہ سوال کرنا اپنی ذمہ داری کو بڑھانے والی بات ہے۔ چنانچہ حج کے بارے میں جب سورۂ آل عمران(آیت ۹۷) میں حکم نازل ہوا تو ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضورکیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپﷺنے سوال سن لیا لیکن رُخِ مبارک دوسری طرف کر لیا۔ اب وہ صاحب اُدھر تشریف لے آئے اور پھر عرض کیا ‘حضور کیاحج ہر سال فرض ہے؟ حضورﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔جب انہوں نے یہی سوال تیسری مرتبہ کیا تو آپﷺ نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایاکہ دیکھو اگر میں ہاں کہہ دوں تو تم لوگوں پر قیامت تک کے لیے ہر سال حج فرض ہو جائے گا۔جس وضاحت سے اللہ تعالیٰ نے اعراض فرمایا ہو اُس میں تمہاری بہتری ہے۔ چنانچہ بے جا سوال کر کے تم اپنے لیے تنگی پیدا نہ کرو۔ جیسے گائے کے معاملے میں بنی اسرائیل نے پے در پے سوالات کیے تھے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟اس کی عمر کیا ہو؟ اور وہ کیسی گائے ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔ وہ جتنے سوالات کرتے گئے اتنی ہی شرائط ان پر لاگو ہوتی گئیں۔ اس نوعیت کے وضاحتی سوالات اسی ضمن میں آتے ہیں۔

وَ اِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡہَا حِیۡنَ یُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَکُمۡ ؕ

’’اوراگر تم سوال کرو گے ایسی چیزوں کے بارے میں جبکہ ابھی قرآن کا نزول جاری ہے تو تمہارے لیے وہ ظاہرکر دی جائیں گی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت کئی چیزوں کو پردے میں رکھا ہے‘ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ان کو ظاہر کرنے میں تمہارے لیے تنگی ہو جائے گی‘بوجھ زیادہ ہو جائے گا‘ اور وہ تم پر گراں گزریں گی۔ لیکن اگر سوال کرو گے تو پھران کو ظاہر کردیا جائے گا۔

عَفَا اللّٰہُ عَنۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۰۱﴾

’’اللہ تعالیٰ نے اس میں درگزر سے کام لیا ہے‘اللہ بخشنے والا اور بردبار ہے۔‘‘

بعض چیزوں کے بارے میں جواللہ نے تم پر نرمی کی ہے اور تمہیں تنگی سے بچایا ہے‘ وہ اس لیے ہے کہ وہ غفور اور حلیم ہے ۔یہ کسی نسیان ‘ بھول یا غلطی کی وجہ سے نہیں ہوا(معاذ اللہ!)

آیت 102

قَدۡ سَاَلَہَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِہَا کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾

’’تم سے پہلے ایک قوم (اہل کتاب) نے اس قسم کے سوالات کیے تھے اور پھر وہ ان کا انکار کرنے والے بن گئے تھے۔‘‘

اب آگے ان چار چیزوں کا ذکر آ رہا ہے جو اہل عرب کے ہاں خواہ مخوا ہ بہت زیادہ مقدس ہو گئی تھیں۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے اُن چار شعائر کے مقابلے کی چار چیزیں ہیں جن کا ذکر پیچھے آیت ۹۷میں بایں الفاظ ہوا ہے: {جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ } وہاں ان چار چیزوںکی توثیق کی گئی تھی کہ وہ واقعتاً اللہ کی شریعت کے اجزاء ہیں‘ ان کا احترام اور ان کی حرمت کو ملحوظ رکھنا اہلِ ایمان پر لازم ہے۔ لیکن یہاں توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کچھ چیزیں تمہارے ہاں ایسی رائج ہیں جو دورِ جاہلیت کے مشرکانہ اوہام کی یادگاریں ہیں۔چنانچہ فرمایا:

103-104

جانوروں کے لیے خود ساختہ تقدس

ویڈیو

مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیۡلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ ۙ وَّ لٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾

آیت 103

مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّ لَا سَآئِبَۃٍ وَّ لَا وَصِیۡلَۃٍ وَّ لَا حَامٍ ۙ

’’ اللہ نے نہ تو بحیرہ کو کچھ چیز بنایا ہے ‘ نہ سائبہ ‘ نہ وسیلہ اور نہ حام کو‘‘

ان چیزوں کے تقدس کی اللہ کے طرف سے کوئی سند نہیں ۔بحیرہ‘ سائبہ‘ وصیلہ اور حام کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں‘ لیکن جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ نے ان الفاظ کی جو تفصیل بیان کی ہے‘ وہ صحیح بخاری (کتاب تفسیر القرآن) میں وارد ہوئی ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے بھی اسے اپنے حواشی میں نقل کیا ہے۔اس کے مطابق :بحیرہ:ایسا جانور تھا جس کا دودھ بتوں کے نام کر دیا جاتا تھا اور کوئی اسے اپنے کام میں نہ لاتا تھا ۔سائبہ: وہ جانورجو بتوں کے نام پر‘ ہمارے زمانے کے سانڈ کی طرح ‘چھوڑ دیا جاتا تھا۔وصیلہ: جو اونٹنی مسلسل مادہ بچوں کو جنم دیتی اور درمیان میں کوئی نر بچہ پیدا نہ ہوتا‘ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔حام: نر اونٹ جو ایک خاص تعداد میں جفتی کر چکا ہوتا‘ اُسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس طرح کے جانوروں کو بتوں کے نام منسوب کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا کہ انہیں کوئی ہاتھ نہ لگائے‘کوئی ان سے استفادہ نہ کرے‘ کوئی ان کا گوشت کھائے نہ صدقہ دے‘ نہ ان سے کوئی خدمت لے‘ بس ان کا احترام کیا جائے۔لہٰذا واضح کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے کوئی احکام نہیں دیے گئے ‘ بلکہ فرمایا:

وَّ لٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾

’’لیکن یہ کافر اللہ پر افترا کرتے ہیں‘ اور ان کی اکثریت عقل سے عاری ہے۔‘‘

یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے رہتے ہیں۔

آیت 104

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ

’’اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور آؤ اللہ کے رسول کی طرف‘‘

اس حکم ( آئو اللہ کے رسولؐ کی طرف) کی ترجمانی علامہ اقبال نے کیاخوبصورت الفاظ میں کی ہے: ؎

بمصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اُوست

اگر بہ اوؐ نرسیدی تمام بولہبی است!

قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ

’’وہ کہتے ہیں ہمارے لیے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا۔‘‘

یعنی ہمارے آباء و اَجداد جو اتنے عرصے سے ان چیزوں پر عمل کرتے چلے آ رہے تھے توکیا وہ جاہل تھے؟ یہی باتیں آج بھی سننے کو ملتی ہیں ۔کسی رسم کے بارے میں آپ کسی کو بتائیں کہ اس کی دین میں کوئی سند نہیں ہے اور صحابہؓ کے ہا ں اس کا کوئی وجود نہیں تھا تو اس کا جواب یہی ہو گا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو یونہی کرتے دیکھاہے۔

اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾

’’خواہ ان کے آباء و اَجداد ایسے رہے ہوں کہ نہ انہیں کوئی علم حاصل ہوا ہو نہ ہی وہ ہدایت پر ہوں(تو کیاپھر بھی)؟‘‘

جیسے تم اللہ کی مخلوق ہو ویسے ہی تمہارے باپ دادا بھی مخلوق تھے۔جیسے تم غلط کام کر سکتے ہو اور غلط آراء قائم کر سکتے ہو‘ ویسے ہی وہ بھی غلط کار ہو سکتے تھے۔

105

کسی کی گمراہی ہماری بے عملی کا جواز نہیں بن سکتی

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

آیت 105

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ

’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘تم پر ذمہ داری ہے صرف اپنی جانوں کی۔‘‘

لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ

’’جو کوئی گمراہ ہو جائے وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا‘ جبکہ تم ہدایت پر ہو۔‘‘

اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾

’’اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے‘اور وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے ۔‘‘

یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس کا ایک غلط مطلب اور مفہوم دورِ صحابہؓ میں ہی بعض لوگوں نے نکال لیا تھا۔وہ یہ کہ دعوت و تبلیغ کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے‘ہر ایک پر اپنی ذات کی ذمہ داری ہے‘ کوئی کیا کرتا ہے اس سے کسی دوسرے کو کچھ غرض نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن جو کہہ رہا ہے کہ ’’تم پر ذمہ داری صرف اپنی جانوں کی ہے۔ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا‘‘۔ لہٰذا ہر کسی کو بس اپنا عمل درست رکھنا چاہیے‘ کوئی دوسرا شخص اگر غلط کام کرتا ہے تو اسے خواہ مخواہ روکنے ٹوکنے ‘ اس کی ناراضگی مول لینے‘ اَمر با لمعروف اور نہی عن المنکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علم میں آئیں تو آپ ؓنے باقاعدہ ایک خطبہ دیا کہ لوگومیں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس آیت کامطلب غلط سمجھ رہے ہو۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہاری ساری تبلیغ ‘کوشش ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باوجود اگر کوئی شخص گمراہ رہتا ہے تو اس کا تم پر کوئی وبال نہیں ----- سورۃ البقرۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں: {وَّ لَا تُسۡئَلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۹﴾} ’’ (اے نبی ﷺ) آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی جہنمیوں کے بارے میں‘‘۔یعنی ہم یہ نہیں پوچھیں گے کہ ہم نے آپؐ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا اور پھر بھی یہ لوگ جہنم میں کیوں چلے گئے؟ بہرحال دعوت و تبلیغ ‘ نصیحت و موعظت ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر توفرائض میں سے ہیں۔ اس آیت کی رو سے یہ فرائض ساقط نہیں ہوتے۔بلکہ اس آیت کا درست مفہوم یہ ہے کہ تمہاری کوشش کے باوجود اگرکوئی شخص نہیں مانتا تو اب تمہاری ذمہ داری پوری ہوگئی۔ فرض کیجیے کہ کسی کا بچہ آوارہ ہو گیا ہے‘والد اپنی امکانی حد تک کوشش کیے جارہا ہے مگر بچہ راہِ راست پر نہیں آرہا‘ تو ظاہر بات ہے کہ اگر اُس نے بچے کی تربیت اور اصلاح میں کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی تو اللہ کی طرف سے اس کی گمراہی کا وبال والد پر نہیں آئے گا۔

106-108

وصیت پر گواہی کیسے دی جائے گی؟

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ حِیۡنَ الۡوَصِیَّۃِ اثۡنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَیۡرِکُمۡ اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ تَحۡبِسُوۡنَہُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوۃِ فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِیۡ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۙ وَ لَا نَکۡتُمُ شَہَادَۃَ ۙ اللّٰہِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤی اَنَّہُمَا اسۡتَحَقَّاۤ اِثۡمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوۡمٰنِ مَقَامَہُمَا مِنَ الَّذِیۡنَ اسۡتَحَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡاَوۡلَیٰنِ فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ لَشَہَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَہَادَتِہِمَا وَ مَا اعۡتَدَیۡنَاۤ ۫ۖ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجۡہِہَاۤ اَوۡ یَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَیۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اسۡمَعُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۱۰۸﴾

آیت 106

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا شَہَادَۃُ بَیۡنِکُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ حِیۡنَ الۡوَصِیَّۃِ اثۡنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ

’’اے اہلِ ایمان‘ تمہارے درمیان شہادت (کا نصاب) ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو‘ تو تم میں سے دو معتبر اشخاص (بطور گواہ) موجود ہوں‘‘

یعنی موت سے قبل وصیت کے وقت اپنے لوگوں میں سے دو گواہ (مرد) مقرر کر لو۔ واضح رہے کہ وصیت کل ترکے کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کی نہیں ہو سکتی۔

اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَیۡرِکُمۡ اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ

’’یادوسرے دو آدمی تمہارے غیروں میں سے اگر تم زمین میں سفر پر(نکلے ہوئے) ہواور(حالت سفر میں) تمہیں موت کی مصیبت پیش آ جائے۔‘‘

یعنی حالتِ سفر میں اگر کسی کی موت کا وقت آ پہنچے اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو توایسی صورت میںگواہان غیر قوم ‘ کسی دوسری بستی‘کسی دوسری برادری اور دوسرے قبیلے سے بھی مقرر کیے جا سکتے ہیں‘مگر عام حالات میں اپنی بستی‘ اپنے خاندان میں رہتے ہوئے کوئی شخص انتقال کر رہا ہو تو اسے وصیت کے وقت اپنے لوگوں ‘ رشتہ داروں اور قرابت داروں میں سے ہی دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنانا چاہیے۔

تَحۡبِسُوۡنَہُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوۃِ

’’تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد (مسجد میں) روک لو‘‘

یعنی جب وصیت کے بارے میں متعلقہ لوگ پوچھیں اور اس میں کچھ شک کا احتمال ہو تو نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے۔

فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ

’’پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں‘ اگرتمہیں شک ہو‘‘

اگر تمہیں ان کے بارے میں کوئی شک ہوکہ کہیں یہ وصیّت کو بدل نہ دیں‘ کہیں ان سے غلطی نہ ہو جائے تو تم ان سے قسم اٹھوا لو۔ وہ نماز کے بعد مسجد میں حلف کی بنیاد پر شہادت دیں‘ اور اس طرح کہیں:

لَا نَشۡتَرِیۡ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ۙ

’’ہم اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کریں گے‘اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو‘‘

یعنی ہم اس شہادت سے نہ تو خود کوئی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے‘ نہ کسی کے حق میں کوئی ناانصافی کریں گے اور نہ ہی کسی رشتہ دار عزیز کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچائیں گے۔

وَ لَا نَکۡتُمُ شَہَادَۃَ ۙ اللّٰہِ

’’اور نہ ہم چھپائیں گے اللہ کی گواہی کو‘‘

غور کریں گواہی اتنی عظیم شے ہے کہ اسے شَھَادَۃَ اللّٰہِ ‘کہا گیا ہے‘یعنی اللہ کی گواہی‘ اللہ کی طرف سے ‘امانت۔

اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

’’اگر ہم ایسا کریں تو یقینا ہم گنہگاروں میں شمار ہوں گے۔‘‘

آیت 107

فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤی اَنَّہُمَا اسۡتَحَقَّاۤ اِثۡمًا

’’پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ کمایا ہے‘‘

حلفیہ بیان بھی غلط دیا ہے اوروصیّت میں ترمیم کی ہے‘ اس کے باوجود کہ نماز کے بعد مسجد کے اندر حلف اٹھا کر بات کر رہے ہیں۔آخر انسان ہیں اور ہر معاشرے میں ہر طرح کے انسان ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

فَاٰخَرٰنِ یَقُوۡمٰنِ مَقَامَہُمَا

’’تو اب دو اور لوگ ان کی جگہ پر کھڑے ہوں ‘‘

مِنَ الَّذِیۡنَ اسۡتَحَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡاَوۡلَیٰنِ

’’ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی کی ہے ان پہلے دو لوگوں نے‘‘

اب وہ کھڑے ہوکر کہیں گے کہ یہ لوگ ہمارا حق تلف کر رہے ہیں‘انہوں نے وصیت کے اندر خیانت کی‘ہے۔

فَیُقۡسِمٰنِ بِاللّٰہِ لَشَہَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَہَادَتِہِمَا

’’پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ برحق ہے ان دونوںکی گواہی سے‘‘

وَ مَا اعۡتَدَیۡنَاۤ ۫ۖ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾

’’اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے‘ اگر ایسا ہو تو یقینا ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔‘‘

آیت 108

ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِالشَّہَادَۃِ عَلٰی وَجۡہِہَاۤ

’’یہ طریقہ کار قریب تر ہے کہ اس سے لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت پیش کریں ‘‘

اَوۡ یَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَیۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ؕ

’’یا(کم از کم)انہیں خوف رہے کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد ردّ کر دی جائیں گی۔‘‘

کیونکہ انہیں معلوم ہو گا کہ اگرہم نے جھوٹی قسم کھا بھی لی‘ اور پھر اگر دوسرا فریق بھی قسم کھا گیا‘تو ہمارا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔لہٰذا وہ اس کی ہمت نہیں کریں گے۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اسۡمَعُوۡا ؕ

’’ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سن رکھو۔‘‘

وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۱۰۸﴾

’’اللہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

اسی طرح کا معاملہ سورۃ النور (آیات۶تا۹)میں بھی مذکور ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو اُس ایک شخص کی گواہی چار گواہوں کے برابر ہو جائے گی ۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی بتایا ہے‘کہ اگر بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ‘ مجھ پر تہمت لگا رہا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر اس کا الزام درست ہو ‘تو شوہر کی گواہی ساقط ہو جائے گی۔ اس طرح دونوں طرف سے اللہ تعالیٰ نے معاملے کو متوازن کیا ہے۔

اب آخری دو رکوع اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کے اس مکالمے کا نقشہ کھینچا گیا ہے‘ جو قیامت کے دن ہوگا۔اور اس کے پس منظر میں گویا ایک پوری داستان ہے‘ جو ایک نئی شان سے سامنے آئی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے