لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا
’’ان لوگو ں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کوئی گناہ نہیں ہے اس میں جو وہ(پہلے) کھا پی چکے‘‘
کسی شے کی حرمت کے قطعی حکم آنے سے پہلے جو کچھ کھایا پیا گیا ‘ اس کا کوئی گناہ ان پر نہیں رہے گا۔ یہ کوئی ہڈیوں میں بیٹھ جانے والی شے نہیں ہے‘ یہ توشرعی اور اخلاقی قانون (Moral Law) کا معاملہ ہے‘ طبعی قانون (Physical Law) کانہیں ہے۔ طبعی (Physical) طور پر تو کچھ چیزوں کے اثرات واقعی دائمی ہو جاتے ہیں‘ لیکن Moral Law کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ گناہ تو اُحد پہاڑ کے برابر بھی ہوں تو سچی توبہ سے بالکل صاف ہو جاتے ہیں۔ ازروئے حدیث نبویؐ: حدیث((اَلـتَّائِبُ مِنَ ا لذَّنْبِ کَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَـہٗ))۱’’گناہ سے حقیقی توبہ کرنے والا بالکل ایسے ہے جیسے اس نے کبھی وہ گناہ کیا ہی نہیں تھا ‘‘ ۔صدقِ دل سے توبہ کی جائے تو نامۂ اعمال بالکل دھل جاتا ہے۔ لہٰذا ا یسی کسی تشویش کو بالکل اپنے قریب مت آنے دو۔
اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
’’ جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘پھر مزید تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں‘ پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور درجۂ احسان پر فائز ہو جائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
یہ دراصل تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ ’اسلام‘ ہے۔ یعنی اللہ کو مان لیا‘ رسولؐ کو مان لیا اور اس کے احکام پر چل پڑے۔ اس سے اوپر کا درجہ ’ایمان‘ ہے ‘یعنی دِل کا کامل یقین‘ جو ایمان کے دل میں اُتر جانے سے حاصل ہوتا ہے۔ {وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ } ( الحجرات:۷) کے مصداق ایمان قلب میں اُتر جائے گا تو اعمال کی کیفیت بدل جائے گی‘ اعمال میں ایک نئی شان پیدا ہو جائے گی‘ زندگی کے اندر ایک نیا رنگ آ جائے گا جوکہ خالص اللہ کا رنگ ہو گا: {صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫} (البقرۃ: ۱۳۸) ’’ہم نے تو اختیار کر لیا ہے اللہ کے رنگ کواور اللہ کے رنگ سے بہتر اورکس کا رنگ ہوگا؟‘‘اور اس سے بھی آگے بڑھ کر جب ایمان ’’عین الیقین ‘‘کا درجہ حاصل کر لے تو یہی درجۂ احسان ہے۔حدیثِ نبویؐ میں اس کی کیفیت یہ بیان ہوئی ہے : حدیث((اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَـکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ))۲ ’’یہ کہ تواللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تواسے دیکھ رہا ہے ‘اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا (یہ کیفیت اگر پیدا نہیں ہو رہی) تو پھر (یہ کیفیت تو پیدا ہونی چاہیے کہ) وہ توتجھے دیکھتا ہے‘‘۔یعنی تم اللہ کی بندگی کرو‘ اللہ کے لیے جہاد کرو‘ اس کی راہ میں بھاگ دوڑ کرو‘ اور اس میں تقویٰ کی کیفیت ایسی ہو جائے کہ جیسے تم اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔
احسان کی یہ تعریف ’’حدیثِ جبریل ؑ‘‘ میں موجود ہے۔ اس حدیث کو اُمّ السُّنَّۃ کہا گیا ہے‘ جیسے سورۃ الفاتحہ کو اُمّ القرآن کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح سورۃ الفاتحہ اساس القرآن ہے‘ اسی طرح حدیثِ جبریل ؑ سنت کی اساس ہے۔ ا س حدیث میں ہمیں یہ تفصیل ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں حضورﷺ کے پاس آئے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مجمع تھا‘ وہاں انہوں نے کچھ سوالات کیے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پہلا سوال اسلام کے بارے میں کیا : یَامُحَمَّدُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ! کہ اے محمد(ﷺ) مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے۔اس کے جواب میں آپﷺ نے فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسولؐ ہیں‘ نماز قائم کرو‘ زکوٰۃ اد اکرو‘ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو‘ اگر تمہیں اس کے لیے سفر کی استطاعت ہو‘‘۔ یعنی اسلام کے ضمن میں اعمال کا ذکر آ گیا ۔ پھر جبرائیل ؑ نے کہا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتلایئے! اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر‘اس کے فرشتوں پر‘ اس کی کتابوں پر‘ اس کے رسولوں پر‘ یومِ آخرت پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر‘‘۔ اب یہاں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ ایمان تو اسلام میں بھی موجود ہے‘ یعنی زبانی اور قانونی ایمان‘ لیکن دوسرے درجے میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کیا گیا ہے اور اعمالِ صالحہ کا تعلق ایمان کے بجائے اسلام سے بتایا گیا ہے۔ اس لیے کہ جب ایمان دل میں اُتر کر یقین کی صورت اختیار کر جائے تو پھر اعمال کا ذکر الگ سے کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ایمان کے اس مرحلے پر اعمال لازماً درست ہوجائیں گے۔پھر ایمان جب دل میں مزید گہرا اور پختہ ہوتا ہے تو اعمال بھی مزید درست ہوں گے۔ جیسے جتنا جتنا درخت اوپر جا تا ہے اسی نسبت سے جڑ نیچے گہرائی میں اترتی جاتی ہے۔ ایمان کی جڑ نے دل کی زمین میں قرار پکڑا تو اسلام سے ایمان بن گیا۔ جب یہ جڑ مزید گہری ہوئی تو تیسری منزل یعنی احسان تک رسائی ہو گئی اور یہاں اعمال میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ چنانچہ جب حضرت جبرائیل ؑ نے احسان کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: ’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو…‘‘ آپؐ کا یہ جواب تین روایتوں میں تین مختلف الفاظ میں نقل ہوا ہے:(۱)اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ …(۲) اَنْ تَخْشَی اللّٰہَ تَعَالٰی کَاَنَّکَ تَرَاہُ … ۱ (۳) اَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ۲ ۔اگلے الفاظ: حدیث((فَاِنْ لَّمْ تَـکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّـہٗ یَرَاکَ)) تینوں روایتوں میں یکساں ہیں۔یعنی ایک بندۂ مؤمن اللہ کی بندگی‘ اللہ کی پرستش‘ اللہ کے لیے بھاگ دوڑ‘ اللہ کے لیے عمل‘ اللہ کے لیے جہاد ایسی کیفیت سے سرشار ہوکر کر رہا ہوگویاوہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو جب اللہ سامنے ہو گا‘ تو پھر کیسے کچھ ہمارے جذباتِ عبدیت ہوں گے‘ کیسی کیسی ہماری قلبی کیفیات ہوں گی۔ یہ کیفیت اس دنیا میں بھی حاصل ہو سکتی ہے ‘ لیکن واقعتا بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو سکے تو احسان کا ایک اس سے نچلا درجہ بھی ہے۔ یعنی کم از کم یہ بات تو ہر وقت مستحضر رہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔ تو یہ ہیں وہ تین درجے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔
’’تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں‘‘ مولانا مودودی مرحوم کی ایک قابل قدر کتاب ہے۔ اس میں مولانا نے اسلام‘ ایمان‘ احسان اور تقویٰ چار مراتب بیان کیے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک تقویٰ علیحدہ سے کوئی مرتبہ ومقام نہیں ہے۔ تقویٰ وہ روح (spirit) اور وہ قوتِ محرکہ (driving force) ہے جو انسان کونیکی کی طرف دھکیلتی اور اُبھارتی ہے۔ چنانچہ آیت زیر نظر میں تقویٰ کی تکرار کا مفہوم یوں ہے کہ تقویٰ نے آپ کو baseline سے اوپر اٹھایا اور اب آپ کے ایمان اور عمل صالح میں ایک امتیازی رنگ پیدا ہو گیا {اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} ۔ پھر تقویٰ میں مزید اضافہ ہوا اور تقویٰ نے آپ کو مزیداوپر اٹھایا تو اب آپ کے دل میں یقین والا ایمان پیدا ہو گیا۔چنانچہ {ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا } میں یقین والے ایمان کی طرف اشارہ ہے۔ اسی لیے یہاں عمل صالح کا علیحدہ ذکر نہیں ہوا ۔ اس لیے کہ جب ایمان دل میں اُتر گیا تو اعما ل خود بخود درست ہوگئے۔ پھر تقویٰ اگر مزید روبہ ترقی ہے {ثُمَّ اتَّقَوۡا} تو اس کے نتیجے میں {وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ } کا درجہ آ جائے گا‘ یعنی انسان درجۂ احسان پر فائز ہو جائے گا۔ (اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین!)
ایمان اور تقویٰ کے ساتھ اعمال کے اس ربط و تعلق کو سمجھنے کے لیے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان پیش نظر رہنا چاہیے :
حدیث((اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً ‘ اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُُ کُلُّہٗ ‘ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُکُلُّہٗ ‘ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ)) ۱
’’آگاہ رہو‘ یقینا جسم کے اندر ایک گوشت کا لوتھڑا ہے‘ جب وہ درست ہو تو سارا جسم‘درست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
’’ اور اللہ ایسے محسن بندوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘
اللہ کے جو بندے درجۂ احسان تک پہنچ جاتے ہیں وہ اس کے محبوب بندے بن جاتے ہیں۔
یہاں تقابل کے لیے اس سورۂ مبارکہ کی آیت ۷۱ بھی ذہن میں تازہ کر لیں۔ اس آیت میں {فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا …ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا …} کے الفاظ میں گمراہی و ضلالت کے مختلف مراحل کا ذکر ہے کہ بنی اسرائیل حق کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اندھے اور بہرے ہو گئے‘ اللہ نے انہیں ڈھیل دی تو اس پروہ اور بھی اندھے اوربہرے ہو گئے‘ اللہ نے مزید ڈھیل دی تو وہ اور زیادہ اندھے اور بہرے ہو گئے۔ یہ اُس راستے کا ذکر ہے جس پر انسان قدم بہ قدم گمراہی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ مگرا یک راستہ یہ ہے جس کا حوالہ اس آیت میں آیا ہے ۔ یعنی ہدایت کا راستہ اسلام ‘ ایمان‘ احسان‘ اور تقویٰ کا راستہ ‘ جس پر چلتے ہوئے انسان کو درجہ بہ درجہ ترقی ملتی چلی جاتی ہے۔
(۱) السنن الکبریٰ للبیھقی ۱۰/۵۴ ۱۔ فتح الباری لابن حجر ۱۳/۴۸۰۔ راوی : عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما۔
(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب سؤال جبریل النبیﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان… وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان الایمان والاسلام والاحسان‘ ح۹و۱۰۔ ودیگر کتب احادیث۔
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘باب بیان الایمان والاسلام والاحسان‘ ح۱۱۔ومسند احمد‘ ح ۲۷۷۵۔
(۲) مسند احمد‘ ح ۱۷۹۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب فضل من اسبترأ لدینہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب المساقاۃ‘ باب اخذ الحلال وترک الشبہات۔