وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا
’’اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے‘‘
وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ
’’حالانکہ وہ داخل بھی ہوئے تھے کفر کے ساتھ اور نکلے بھی ہیں کفر کے ساتھ۔‘‘
میرے نزدیک یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر سورۂ آل عمران (آیت۷۲) میں آیاہے‘ جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ۔ ان کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں‘ ایک لمحہ کے لیے بھی انہیں ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔وہ شعوری طور پر فیصلہ کر چکے تھے کہ رہنا تو ہمیں اپنے دین پر ہے‘ لیکن اسلام کی جو ساکھ بن گئی ہے اس کو نقصان پہنچانے کی خاطر ہم یہ دھوکہ اور سازش کرر ہے ہیں۔
وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپائے ہوئے تھے۔‘‘
وَ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ
’’اور تم دیکھو گے ان میں سے اکثر کو کہ بہت بھاگ دوڑ کرتے ہیں گناہ اور ظلم و زیادتی(کے کاموں) میں‘‘
وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ
’’اور حرام کے مال کھانے میں۔‘‘
لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۲﴾
’’ بہت ہی برا عمل ہے جو وہ کر رہے ہیں!‘‘
لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ
’’کیوں نہیں منع کرتے انہیں ان کے درویش(صوفی اورپیرو مرشد) اور علماء و فقہاء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام خوری سے؟‘‘
آج ہمارے ہاں بھی اکثر و بیشتر پیر اپنے مریدوں کو حرام خوری سے منع نہیں کرتے۔ انہیں اس میں سے نذرانے مل جانے چاہئیں‘اللہ اللہ خیر سلا۔ کہاں سے کمایا؟ کیسے کمایا؟اس سے کوئی بحث نہیں۔حالانکہ اللہ والوں کا کام تو برائی سے روکنا ہے‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینا ہے۔
لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾
’’بہت برا ہے وہ کام جو وہ کر رہے ہیں۔‘‘
وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ
’’ اور یہودنے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا۔‘‘
ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کی رحمت جو ہمارے لیے تھی وہ بند ہو گئی ہے‘نبوت کی رحمت ہمارے لیے مختص تھی اور اب یہ دستِ رحمت ہماری طرف سے بند ہو گیا ہے۔ یا اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے جو منافقین کہا کرتے تھے کہ اللہ ہم سے قرضِ حسنہ مانگتا ہے تو گویا اللہ فقیر ہو گیا ہے(نعوذ باللہ) اور ہم اغنیاء ہیں۔ جواب میں فرمایا گیا:
غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ
’’ ان کے ہاتھ بندھ گئے ہیں‘‘ یا ’’بندھ جائیں ان کے ہاتھ‘‘
وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ
’’اور ان پر لعنت ہے اس کے سبب جو انہوں نے کہا‘‘
بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ
’’بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ تو کھلے ہوئے ہیں‘‘
یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ
’’وہ جیسے چاہے خرچ کرتا ہے۔‘‘
وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ؕ
’’اور یقینااضافہ کرے‘گاان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر میں جو کچھ (اے نبیﷺ! )نازل کیا گیا ہے آپ پر آپ کے ربّ کی طرف سے۔‘‘
یعنی ضد میں آ کر انہوں نے حق و صداقت پر مبنی اس کلام کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسے جیسے جو جو احسانات بھی آپؐ پر اور آپؐ کے ساتھیوں پر ہو رہے ہیں‘ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو غنیمتیں دے رہا ہے‘ دین کو رفتہ رفتہ جو غلبہ حاصل ہو رہا ہے‘ اس کے حسد کے نتیجے میں ان کی ضد اور ہٹ دھرمی بڑھتی جا رہی ہے۔صلح حدیبیہ کے بعد تو خاص طور پر عرب کے اندر بہت تیزی کے ساتھ صورتحال بدلنی شروع ہوگئی تھی۔اس کے نتیجے میں بجائے اس کے کہ یہ لوگ سمجھ جاتے کہ واقعی یہ اللہ کی طرف سے حق ہے اور یک سو ہو کر اس کا ساتھ دیتے ‘ان کے اندر کی جلن اور حسد کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔
وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ
’’اور ہم نے ان کے مابین قیامت تک کے لیے دشمنی اور بغض ڈال دیا ہے۔‘‘
کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ
’’جب کبھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں جنگ کے لیے اللہ اُس کو بجھا دیتا ہے‘‘
جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے یہودی اکثر سازشیں کرتے رہتے تھے۔خاص طور پر غزوئہ احزاب تو ان ہی کی سازشوں کے نتیجے میں برپا ہوا تھا ۔مدینے کے یہودی قبائلِ عرب کے پاس جا جا کر‘ اِدھر اُدھر وفد بھیج کر لوگوں کو جمع کرتے تھے کہ آئو تم باہر سے حملہ کرو‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ ان کی انہی سازشوں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔
وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ
’’ اور( پھر بھی )یہ زمین میں فساد مچانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں۔‘‘
وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾
’’ اور اللہ ایسے مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘