تحریر

المائدة

آیات ۵۷ تا ۸۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

57-60

دینِ اسلام کا مذاق اڑانے والوں کو دوست مت بناؤ

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾ وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾ قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾ قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾

آیت 57

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ الۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ

’’اے اہل ایمان‘ ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بنائو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی تھی تم سے پہلے اور دوسرے کافروں میں سے بھی۔‘‘

پھر وہی بات فرمائی گئی کہ مشرکین اور اہلِ کتاب میں سے کسی کو اپنا ولی اور دوست نہ بناؤ۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اگر تم مؤمن ہو۔‘‘

آیت 58

وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ

’’اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہوتو یہ لوگ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔‘‘

یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں اور تمسخر کرتے ہیں۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ عقل سے عاری ہیں۔‘‘

آیت 59

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ

’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے کہ اے کتاب والو‘‘

ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ

’’تم کس بات کا انتقام لے رہے ہو ہم سے؟‘‘

اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ

’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر‘‘

وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا

’’اور(اس پر) جو ہم پر نازل کیا گیا‘‘

وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ

’’اور(اس پر بھی) جو پہلے نازل کیا گیا‘‘

وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾

’’اور حقیقت یہ ہے کہ تمہاری اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے۔‘‘

آیت 60

قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ

’’ آپ (ﷺ) کہیے کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں اس سے بھی بد تر سزا پانے والے کون ہیں؟‘‘

مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ

’’(وہ لوگ ہیں) جن پر اللہ نے لعنت کی‘‘

وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ

’’ اور جن پر وہ غضب ناک ہوا‘‘

وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ

’’اورجن میں سے اُس نے بندر اور خنزیر بنا دیے‘‘

وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ

’’اور جنہوں نے شیطان کی بندگی کی۔‘‘

اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾

’’یہ سب کے سب بہت برے مقام میں ہیں اور بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے۔‘‘

61-64

یہود کے شرمناک جرائم

ویڈیو

وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾ وَ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۲﴾ لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾ وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ؕ وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾

آیت 61

وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا

’’اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے‘‘

وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ

’’حالانکہ وہ داخل بھی ہوئے تھے کفر کے ساتھ اور نکلے بھی ہیں کفر کے ساتھ۔‘‘

میرے نزدیک یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر سورۂ آل عمران (آیت۷۲) میں آیاہے‘ جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ۔ ان کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں‘ ایک لمحہ کے لیے بھی انہیں ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔وہ شعوری طور پر فیصلہ کر چکے تھے کہ رہنا تو ہمیں اپنے دین پر ہے‘ لیکن اسلام کی جو ساکھ بن گئی ہے اس کو نقصان پہنچانے کی خاطر ہم یہ دھوکہ اور سازش کرر ہے ہیں۔

وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾

’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپائے ہوئے تھے۔‘‘

آیت 62

وَ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ

’’اور تم دیکھو گے ان میں سے اکثر کو کہ بہت بھاگ دوڑ کرتے ہیں گناہ اور ظلم و زیادتی(کے کاموں) میں‘‘

وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ

’’اور حرام کے مال کھانے میں۔‘‘

لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۲﴾

’’ بہت ہی برا عمل ہے جو وہ کر رہے ہیں!‘‘

آیت 63

لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ

’’کیوں نہیں منع کرتے انہیں ان کے درویش(صوفی اورپیرو مرشد) اور علماء و فقہاء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام خوری سے؟‘‘

آج ہمارے ہاں بھی اکثر و بیشتر پیر اپنے مریدوں کو حرام خوری سے منع نہیں کرتے۔ انہیں اس میں سے نذرانے مل جانے چاہئیں‘اللہ اللہ خیر سلا۔ کہاں سے کمایا؟ کیسے کمایا؟اس سے کوئی بحث نہیں۔حالانکہ اللہ والوں کا کام تو برائی سے روکنا ہے‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینا ہے۔

لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾

’’بہت برا ہے وہ کام جو وہ کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 64

وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ یَدُ اللّٰہِ مَغۡلُوۡلَۃٌ ؕ

’’ اور یہودنے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا۔‘‘

ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کی رحمت جو ہمارے لیے تھی وہ بند ہو گئی ہے‘نبوت کی رحمت ہمارے لیے مختص تھی اور اب یہ دستِ رحمت ہماری طرف سے بند ہو گیا ہے۔ یا اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے جو منافقین کہا کرتے تھے کہ اللہ ہم سے قرضِ حسنہ مانگتا ہے تو گویا اللہ فقیر ہو گیا ہے(نعوذ باللہ) اور ہم اغنیاء ہیں۔ جواب میں فرمایا گیا:

غُلَّتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ

’’ ان کے ہاتھ بندھ گئے ہیں‘‘ یا ’’بندھ جائیں ان کے ہاتھ‘‘

وَ لُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا ۘ

’’اور ان پر لعنت ہے اس کے سبب جو انہوں نے کہا‘‘

بَلۡ یَدٰہُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ

’’بلکہ اللہ کے دونوں ہاتھ تو کھلے ہوئے ہیں‘‘

یُنۡفِقُ کَیۡفَ یَشَآءُ ؕ

’’وہ جیسے چاہے خرچ کرتا ہے۔‘‘

وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ؕ

’’اور یقینااضافہ کرے‘گاان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر میں جو کچھ (اے نبیﷺ! )نازل کیا گیا ہے آپ پر آپ کے ربّ کی طرف سے۔‘‘

یعنی ضد میں آ کر انہوں نے حق و صداقت پر مبنی اس کلام کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسے جیسے جو جو احسانات بھی آپؐ پر اور آپؐ کے ساتھیوں پر ہو رہے ہیں‘ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو غنیمتیں دے رہا ہے‘ دین کو رفتہ رفتہ جو غلبہ حاصل ہو رہا ہے‘ اس کے حسد کے نتیجے میں ان کی ضد اور ہٹ دھرمی بڑھتی جا رہی ہے۔صلح حدیبیہ کے بعد تو خاص طور پر عرب کے اندر بہت تیزی کے ساتھ صورتحال بدلنی شروع ہوگئی تھی۔اس کے نتیجے میں بجائے اس کے کہ یہ لوگ سمجھ جاتے کہ واقعی یہ اللہ کی طرف سے حق ہے اور یک سو ہو کر اس کا ساتھ دیتے ‘ان کے اندر کی جلن اور حسد کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔

وَ اَلۡقَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’اور ہم نے ان کے مابین قیامت تک کے لیے دشمنی اور بغض ڈال دیا ہے۔‘‘

کُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَہَا اللّٰہُ ۙ

’’جب کبھی یہ آگ بھڑکاتے ہیں جنگ کے لیے اللہ اُس کو بجھا دیتا ہے‘‘

جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے یہودی اکثر سازشیں کرتے رہتے تھے۔خاص طور پر غزوئہ احزاب تو ان ہی کی سازشوں کے نتیجے میں برپا ہوا تھا ۔مدینے کے یہودی قبائلِ عرب کے پاس جا جا کر‘ اِدھر اُدھر وفد بھیج کر لوگوں کو جمع کرتے تھے کہ آئو تم باہر سے حملہ کرو‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ ان کی انہی سازشوں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جب بھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔

وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا ؕ

’’ اور( پھر بھی )یہ زمین میں فساد مچانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں۔‘‘

وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۴﴾

’’ اور اللہ ایسے مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

65-66

نفاذِ شریعت کی برکات

ویڈیو

وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ ؕ مِنۡہُمۡ اُمَّۃٌ مُّقۡتَصِدَۃٌ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ سَآءَ مَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾

آیت 65

وَ لَوۡ اَنَّ اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا

’’اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے‘‘

لَکَفَّرۡنَا عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ

’’تو ہم اُن سے اُن کی برائیوں کو دور کر دیتے‘‘

وَ لَاَدۡخَلۡنٰہُمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾

’’اور ہم لازماً انہیں داخل کرتے نعمتوں والے باغوں میں۔‘‘

جو آیت آگے آ رہی ہے اس پر غور کیجیے اور اسے خود پر بھی منطبق کر کے ذرا سوچئے۔

آیت 66

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ

’’اور اگر انہوں نے قائم کیا ہوتا تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل کیا گیا تھا ان پر اِن کے رب کی طرف سے‘‘

لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ ؕ

’’تو یہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی۔‘‘

یعنی ہم نے انہیں تورات اس لیے دی تھی کہ اس کے احکامات کو نافذ کیا جائے۔ اسی سورت کے ساتویں رکوع (آیات۴۴تا۵۰) میں اس کا مفصّل ذکر ہم پڑھ آئے ہیں کہ کس طرح انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنے فیصلے تورات کے احکامات کے مطابق کرو۔ اس سے اگلا مرحلہ اس پورے نظام کے نفاذ کا تھا جو تورات نے دیا تھا ۔ اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے‘ کہ اگر انہوں نے اللہ کا وہ نظام قائم کیا ہوتا تو ان کے اوپر سے بھی ان کے رب کی طرف سے نعمتوں کی بارش ہوتی اور ان کے قدموں کے نیچے سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دھارے پھوٹتے۔اسی طرح ہم پربھی فرض ہے کہ ہم بھی قرآن کے نظام کو قائم کریں۔

مِنۡہُمۡ اُمَّۃٌ مُّقۡتَصِدَۃٌ ؕ

’’ان میں کچھ لوگ ہیں جو درمیانی (یعنی سیدھی) راہ پر ہیں۔‘‘

وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ سَآءَ مَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾

’’لیکن ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں۔‘‘

ان کا عمل اور رویہ نہایت غلط ہے۔

67

قرآن کی تبلیغ رسول اللہ ﷺ کا فرضِ منصبی ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾

آیت 67

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ

’’اے رسول(ﷺ) پہنچا دیجیے جو کچھ نازل کیا گیاہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے۔‘‘

وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ

’’اور اگر (بالفرض) آپؐ نے ایسا نہ کیاتو گویاآپؐ نے اُس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔‘‘

اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ بہت سخت آیت ہے۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اگر وحی میں کہیں رسول اللہﷺ پر تنقید نازل ہوئی ہے تووہ بھی قرآن میں جوں کی توں موجود ہے۔ ایسا ہرگزنہیں کہ ایسی چیزوں کو چھپا لیا گیا ہو۔ تیسویں پارے میں سورۃ عبس کی ابتدائی آیات {عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾} بھی ویسے ہی موجود ہیں جیسے نازل ہوئی تھیں۔ سورۂ آل عمران میں بھی ہم پڑھ کر آئے ہیں کہ حضورﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا: {لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ …} (آیت ۱۲۸) ۔ظاہرہے اَلْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی‘ وَالرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَـنَزَّل!’ ’بندہ بندہ ہی رہتا ہے چاہے کتنا ہی بلند ہو جائے اور رب رب ہی ہے چاہے کتنا ہی نزول فرما لے‘‘۔اس طرح کی آیات اپنی جگہ پرمن وعن موجود ہیں‘ اوریہ قرآن کے محفوظ من اللہ ہونے پر حجت ہیں۔ آیت زیر نظر میں تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ وحیٔ الٰہی میں سے کوئی چیز کسی وجہ سے پہنچنے سے رہ نہ جائے ۔ لوگوں کے خوف سے یا اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے بالفرض اگر ایسا ہواتو گویا آپﷺ فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی کا ثبوت دیں گے۔

وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ

’’اوراللہ آپؐ کی حفاظت کرے گا لوگوں سے۔‘‘

آپ کو لوگوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۷﴾

’’ یقینا اللہ کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘

68

شریعت نافذ نہ کرنے والوں کی اللہ کی نگاہ میں کوئی عزّت نہیں

ویڈیو

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾

آیت 68

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ

’’(اے نبی ﷺ!) کہہ دیجیے: اے کتاب والو تم کسی چیز پر نہیں ہو‘‘

تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ کوئی مقام نہیں ہے‘کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے‘ تم ہم سے ہم‘کلام ہونے کے مستحق نہیں ہو۔

حَتّٰی تُقِیۡمُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ

’’جب تک تم قائم نہ کرو تورات اور انجیل کواور جو کچھ نازل کیا گیا ہے تم پرتمہارے رب کی طرف سے۔‘‘

اب اُمت مسلمہ کے حوالے سے اس آیت کو آپ اس طرح پڑ ھ لیجیے : یٰٓــاَہْلَ الْقُرآنِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا الْـقُرْآنَ وَمَــآ اُنْزِلَ اِلَــیْـکُمْ مِّنْ رَّبِّـکُمْ ’’اے قرآن کے ماننے والو! تمہاری کوئی حیثیت نہیں…‘‘ تم سمجھتے ہو کہ ہم اُمتِ مسلمہ ہیں‘ اللہ والے ہیں‘ اللہ کے لاڈلے اور پیارے ہیں‘اللہ کے آخری رسولﷺ کے اُمتی ہیں۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ذلت و خواری تمہارا مقدر بنی ہوئی ہے ‘ہر طرف سے تم پر یلغار ہے ‘ عزت و وقار نام کی کوئی شے تمہارے پاس نہیں رہی۔ تم کتنی ہی تعداد میں کیوں نہ ہو‘ دنیا میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں‘ بلکہ تم اس سے زیادہ بے توقیری کے لیے بھی تیار رہو ۔یاد رکھو! ’’تمہاری کوئی اصل نہیں جب تک تم قائم نہ کروقرآن کو اور اس کے ساتھ جو کچھ مزید تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘‘۔قرآن وحی جلی ہے۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ کو وحی خفی کے ذریعے سے بھی تو احکامات ملتے تھے اور سنت رسولؐ وحی خفی کا ظہور ہی تو ہے ۔تو جب تک تم کتاب و سنت کا نظام قائم نہیں کرتے ‘ تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ’’یَا اَہْلَ الْقُرْآنِ‘‘ کاخطاب خود حضورﷺنے ہمیں دیا ہے ۔ میرے کتابچے ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ میں وہ حدیث موجود ہے جس میں حضور ﷺ سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:

حدیث((یَا اَھْلَ الْقُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ‘ وَاتْلُوْہُ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ مِنْ آنَائِ اللَّــیْلِ وَالنَّھَارِ‘ وَأَفْشُوْہُ وَتَغَنَّوْہُ وَتَدَبَّرُوْا ما فِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ)) ۱

’’اے اہل قرآن‘ قرآن کو اپنا تکیہ نہ بنا لینا‘ بلکہ اسے پڑھا کرو رات کے اوقات میں بھی اور دن کے اوقات میں بھی‘ جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے‘ اور اسے عام کرو اور خوش الحانی سے پڑھو اور اس میں تدبر کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

وَ لَیَزِیۡدَنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ۚ

’’لیکن (اے نبیﷺ!) جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے یہ ان کے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں یقینا اضافہ کرے گا۔‘‘

ان کی سرکشی اور طغیانی میں اور اضافہ ہو گا‘ ان کی مخالفت اور بڑھتی چلی جائے گی‘ حسد کی آگ میں وہ مزید جلتے چلے جائیں گے۔

فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾

’’تو آپؐ ان کافروں کے بارے میں افسوس نہ کریں ۔‘‘

نبی چونکہ اپنی اُمت کے حق میں نہایت رحیم و شفیق ہوتا ہے لہٰذا قوم پر عذاب کے تصور سے اسے صدمہ ہوتا ہے۔ پھرخصوصاً جب وہ لوگ اپنی برادری بھی ہوں‘ جیسا کہ بنی اسماعیل ؑ تھے‘ تو یہ رنج و صدمہ دوچند ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جب قریش مکہ کے بارے میں سورۂ یونس ؑ اور سورۂ ہودؑ میں عذاب کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو حضورﷺ بہت فکرمند اور غمگین رہتے۔ اس فکر اور تشویش کی وجہ سے آپؐ کے بالوں میں یک دم سفیدی آ گئی۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا‘ حضورﷺ کیا ہوا؟ آپ ؐپر بڑھاپا طاری ہو گیا؟تو آپﷺ نے فرمایا : حدیث((شَیَّــبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَاَخَوَاتُـھَا))۲’’مجھے سورۂ ہود اور اس کی بہنوں(ہم مضمون سورتوں) نے بوڑھا کر دیا ہے‘‘۔ ان سورتوں کا انداز ایسا ہے کہ جیسے اب مہلت ختم ہوئی چاہتی ہے اور عذاب کا دھارا چھوٹنے ہی والا ہے۔

(۱) رواہ البیھقی فی شعب الایمان‘ عن عبیدۃ المُلَیکی۔ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب آداب التلاوۃ ودروس القرآن۔

(۲) مشکاۃ المصابیح‘ کتاب الرقاق‘ باب البکاء والخوف‘ بحوالہ الترمذی ۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ۶۴۱۲ و ۶۴۲۔

69-70

کسی گروہ سے نسبت آخرت میں نجات کے لیے کافی نہیں

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِـُٔوۡنَ وَ النَّصٰرٰی مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۹﴾ لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ رُسُلًا ؕ کُلَّمَا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُہُمۡ ۙ فَرِیۡقًا کَذَّبُوۡا وَ فَرِیۡقًا یَّقۡتُلُوۡنَ ﴿٭۷۰﴾

آیت 69

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الصّٰبِـُٔوۡنَ وَ النَّصٰرٰی

’’بے شک وہ لوگ جوایمان لائے ‘اور وہ لوگ جو یہودی ‘ صابی ‘ اور نصاریٰ (عیسائی) ہوئے ‘‘

اس آیت میں تقریباً وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے سورۃ البقرۃ کے آٹھویں رکوع (آیت ۶۲) میں آچکاہے‘ جس سے بعض لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے کہ شاید نجات کے لیے ایمان بالرسالت کی ضرورت نہیں ہے ‘ حالانکہ سورۃ النساء (آیات۵۰‘۵۱ اور ۵۲) میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے مابین تفریق کرنے والوں کے لیے بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے: {اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ} ’’وہی لوگ تو پکے کافر ہیں۔‘‘دوسری بات یہاں ذہن میں یہ رکھیے کہ ان تما م سورتوں میں محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کی دعوت قدم قدم پر ہے‘ بار بار ہے‘ لہٰذا اس سے استغناء کا کوئی جواز رہتا ہی نہیں ‘ سوائے اس کے کہ کسی کی نیت میں فسا د ہو اور دل میں کجی پیدا ہوچکی ہو۔

مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۹﴾

’’(اپنے اپنے زمانے میں جس قوم او ر جس گروہ سے ) جو کوئی ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اُس نے اچھے عمل کیے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم سے دوچار ہوں گے۔‘‘

یہاں وہ تمام لوگ مراد ہیں جواپنے اپنے دور میں اللہ اور آخرت پر ایمان و یقین رکھتے تھے اور اپنے وقت کے نبی اور گزشتہ انبیاء پر ایمان رکھتے تھے ۔ جیسے حضرت مسیح علیہ السلام سے ماقبل زمانہ میں یہودی تھے‘ جو کتاب اللہ تورات پر یقین رکھتے تھے ‘ حضرت موسٰی علیہ السلام کو مانتے تھے‘ دوسرے نبیوں کو مانتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے۔ لیکن عمل کے معاملے میں اصل چیز اور اصل بنیاد اللہ کی رضا جوئی اور آخرت کی جزا طلبی ہے‘ جس سے کوئی عمل‘ عملِ صالح بنتا ہے۔

آیت 70

لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ رُسُلًا ؕ

’’ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔‘‘

یہاں بہت سے رسول بھیجنے سے مراد ہے بہت سے انبیاء بھیجے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں‘ قرآن مجید میں رسول کا لفظ نبی کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے‘ البتہ جہاں تک لفظ رسول کے اصطلاحی مفہوم کا تعلق ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں رسول صرف ایک آئے ہیں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ‘باقی سب نبی تھے۔

کُلَّمَا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُہُمۡ ۙ

’’(لیکن) جب بھی کبھی ان کے پاس کوئی رسول لے کر آیا وہ چیز جو ان کی خواہشاتِ نفس کے خلاف تھی ‘‘

فَرِیۡقًا کَذَّبُوۡا وَ فَرِیۡقًا یَّقۡتُلُوۡنَ ﴿٭۷۰﴾

’’ تو ایک گروہ کو انہوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو وہ قتل کرتے‘رہے ۔‘‘

71

شریعت کے بجائےخواہشاتِ نفس کی پیروی

ویڈیو

وَ حَسِبُوۡۤا اَلَّا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾

آیت 71

وَ حَسِبُوۡۤا اَلَّا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ

’’ اور انہوں نے سمجھا کہ ان پر کوئی پکڑ نہیں آئے گی‘‘

ہم پر کوئی عقوبت نہیں ہو گی‘ کوئی سرزنش نہیں ہو گی۔

فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا

’’تو وہ بہرے بھی ہو گئے اور اندھے بھی ہو گئے‘‘

ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ

’’ پھر اللہ نے انہیں معاف کر دیا‘‘

اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں فوراً نہیں پکڑا ۔ انہیں توبہ کی مہلت دی ‘ موقع دیا۔

ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ ؕ

’’(نتیجہ یہ ہوا کہ) پھر ان میں سے اکثر لوگ اورزیادہ اندھے اور بہرے ہو گئے ۔‘‘

بجائے اللہ کے دامنِ رحمت میں آنے کے اپنی گمراہی میں اور بڑھتے چلے گئے۔

وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾

’’ اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے دیکھ رہاہے۔‘‘

72-77

شرک کرنے والے پر جنّت حرام ہے

ویڈیو

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾ لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾ اَفَلَا یَتُوۡبُوۡنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۴﴾ مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۷۵﴾ قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾ قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾

آیت 72

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ

’’یقینا کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابنِ مریم ہی ہے۔‘‘

یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورۃکی آیت ۱۷میں آ چکی ہے‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح علیہ السلام کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔

وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ

’’ جبکہ مسیحؑ نے تو کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل ‘بندگی اور پرستش کرو اللہ کی جو میرابھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ر بّ ہے ۔‘‘

اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ

’’ یقینا جو بھی اللہ کے ساتھ شرک کرے گاتو اللہ نے اُس پر جنت کو حرام کر دیا ہے‘‘

وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾

’’ اور اُس کا ٹھکانہ آگ ہے‘ اورایسے ظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہیں ہو گا ۔‘‘

اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ توخدا کی تجسیم (God incarnate) کاتھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسٰی ؑ کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے‘ لیکن عیسائیوں کے ہاں ایک عقیدہ ’’تثلیث‘‘ کا بھی ہے‘ اور اس عقیدہ کی بھی ان کے ہاں دو شکلیں ہیں۔ ابتدا میں جو تثلیث تھی اس میں اللہ‘ حضرت مریم ؑاور حضرت مسیحؑ شامل تھے۔ یعنی ’’ God the Father, God the Mother and God the Son.‘‘ دراصل یہ تثلیث مصر میں فراعنہ کے زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ اسی کے اندر انہوں نے عیسائیت کو ڈھال دیا‘ تاکہ مصر کے لوگ آسانی سے عیسائیت قبول کر لیں۔ اس کے بعد حضرت مریم ؑکو اس تثلیث میں سے نکال دیا گیا اور Holy Ghost یا Holy Spirit (روح القدس)کو ان کی جگہ شامل کر لیا گیا اور اس طرح "God the father, God the Son and God the Holy Ghost" پر مشتمل تثلیث وجود میں آئی۔

آیت 73

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ ۘ

’’ یقینا کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔‘‘

وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّاۤ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ

’’ جبکہ حقیقتاًنہیں ہے کوئی الٰہ سوائے ایک ہی الٰہ‘کے۔‘‘

وَ اِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہُوۡا عَمَّا یَقُوۡلُوۡنَ

’’ اور اگر یہ باز نہ آئے اس سے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں ‘‘

لَیَمَسَّنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۳﴾

’’ تو ان میں سے جو کافر ہیں ان پر بہت دردناک عذاب آ کر رہے گا۔‘‘

آیت 74

اَفَلَا یَتُوۡبُوۡنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَہٗ ؕ

’’ تو کیا یہ لوگ اللہ کی جناب میں توبہ اور اُس سے استغفار نہیں کرتے؟ ‘‘

وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۴﴾

’’اور اللہ تو غفور اور رحیم ہے۔‘‘

آیت 75

مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ

’’مسیح ابنِ مریم اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ایک رسول تھے۔‘‘

قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ

’’ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔‘‘

یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو سورۂ آل عمران (آیت۱۴۴) میں حضرت محمد رسول اللہﷺکے بارے میں آئے ہیں: {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ } ’’محمد(ﷺ) اس کے سوا کیا ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں ‘اورآپؐ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں‘‘۔ تو اسی طرح فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی حیثیت اللہ کے ایک رسول کی ہے‘ جس طرح ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔

وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ

’’ اور ان کی والدہ صد یقہ تھیں۔‘‘

قبل ازیں ہم سورۃ النساء(آیت۶۹) میں پڑھ چکے ہیں کہ نبیوں کے بعد سب سے اونچا درجہ صدیقین کا ہے ۔خواتین کو اگرچہ نبوت تو نہیں ملی ہے لیکن انبیاء کے بعد کا جو دوسرا درجہ ہے اس میں بہت چوٹی کی حیثیتیں انہیں ملی ہیں۔ ہماری امت کی صدیقہ الکبریٰ یعنی سب سے بڑی صدیقہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاہیں( صدیق اکبر کی حیثیت اس اُمت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملی ہے)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابھی صدیقہ ہیں۔ اسی طرح حضرت مریمؑ بھی صدیقہ تھیں۔

کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ ؕ

’’ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔‘‘

وہ ماں بیٹا دونوں انسان تھے‘ بشر تھے اور سارے بشری تقاضے ان کے ساتھ تھے۔

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الۡاٰیٰتِ ثُمَّ انۡظُرۡ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۷۵﴾

’’دیکھو ‘کس طرح ہم ان کے لیے اپنی آیات واضح کرتے ہیں‘ پھر دیکھو کہ وہ کہاں سے اُلٹا دیے جاتے ہیں۔‘‘

آیت 76

قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ

’’آپؐ کہیے کیا تم پوجتے ہو اللہ کے سوا انہیں جو تمہارے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نفع کا؟‘‘

وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾

’’جبکہ اللہ ہی سبب کچھ سننے والااور جاننے والاہے۔‘‘

آیت 77

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ

’’ کہہ دیجیے اے اہل کتاب ‘اپنے دین میں نا حق غلو نہ کرو‘‘

یہ تم نے حضرت عیسٰی ؑکو محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو کچھ بنا دیا ہے ‘ وہ سراسر مبالغہ ہے ۔ حضور ﷺ کی شان میں بھی مبالغہ آرائی اگر لوگ کرتے ہیں تو محبت کی وجہ سے کرتے ہیں‘عشق رسول ﷺ کے نام پر کرتے ہیں‘ عقیدت کے غلو کی وجہ سے کرتے ہیں۔ تو غلو(مبالغہ) درحقیقت انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

چنانچہ اس سے منع کیا جا رہا ہے۔

وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ

’’ اور مت پیروی کرو اُن لوگوں کی بدعات کی جو تم سے پہلے (خود بھی) گمراہ ہوئے‘‘

جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے‘ یہ تثلیث مصر میں زمانۂ قدیم سے موجود تھی‘ اُسی کو انہوں نے اختیار کیا ۔

وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾

’’اور انہوں نے بہت سے دوسرے لوگوں کوبھی گمراہ کیا اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘

78-81

بنی اسرائیل کے نافرمانوں پر پیغمبروں کی لعنت

ویڈیو

لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾ کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ فِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾ وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۱﴾

آیت 78

لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ

’’لعنت کی گئی اُن لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے‘ داؤدؑ کی زبان سے اور عیسیٰ ؑابنِ مریم کی زبان سے بھی۔‘‘

بنی اسرائیل کا جوکردار رہا ہے اس پر ان کے انبیاء ان کو مسلسل لعن طعن کرتے رہے ہیں۔ عہد نامہ قدیم (Old Testament) میں حضرت داؤد علیہ السلام کے حوالے سے اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ گوسپلز/عہد نامہ جدید (New Testament) میں حضرت مسیح علیہ السلام کے تنقیدی فرمودات بار بار ملتے ہیں‘ جن میں اکثر ان کے علماء ‘احباراور صوفیاء مخاطب ہیں کہ تم سانپوں کے سنپولیے ہو۔ تمہار ا حال ان قبروں جیسا ہے جن کے اوپر تو سفیدی پھری ہو ئی ہے ‘ مگر اندر گلی سڑی ہڈیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم نے اپنے اوپر صرف مذہبی لبادے اوڑھے ہوئے ہیں ‘ لیکن تمہارے اندر خیانت بھری ہوئی ہے۔ تم مچھر چھانتے ہو اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو‘ یعنی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر تو زور دار بحثیں ہوتی ہیں جبکہ بڑے بڑے گناہ کھلے بندوں کرتے ہو۔ یہ تو یہودی قوم اور ان کے علماء کے کردار کی جھلک ہے ان کے اپنے نبی کی زبان سے ‘مگر دوسری طرف یہی نقشہ بعینہٖ آج ہمیں اپنے ہاں علماءِ سوء میں بھی نظر آتا ہے۔

ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾

’’یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی‘ اوروہ حدود سے تجاوزکر جاتے تھے۔‘‘

آیت 79

کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ

’’یہ لوگ ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے اُن منکرات سے جو وہ کرتے تھے۔‘‘

جس معاشرے سے نہی عن المنکر ختم ہو جائے گا‘ وہ پورا معاشرہ سنڈاس بن جائے گا۔ یہ تو گویا انتظامِ صفائی ہے۔اس لیے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد نگاہ رکھے‘ ایک دوسرے کو روکتا رہے کہ یہ کام غلط ہے‘یہ مت کرو! جس معاشرے سے یہ تنقید اور احتساب ختم ہو جائے گا‘اس کے اندر لازماً خرابی پیدا ہو جائے گی ۔

لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾

’’بہت ہی برا طرزِ عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔‘‘

آیت 80

تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ

’’تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔‘‘

خود کافروں کے حمایتی بنتے ہیں اور اپنے لیے ان کی حمایت تلاش کرتے ہیں۔

لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ

’’بہت ہی بری کمائی ہے جو انہوں نے اپنے لیے آگے بھیجی`ہے‘‘

یہ ان کے جو کرتوت ہیں وہ سب آگے اللہ کے ہاں جمع ہو رہے ہیں اوران کا وبال ان پر آئے گا۔

اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ

’’یہ کہ اللہ تعالیٰ کا غضب ہو گا ان پر‘‘

وَ فِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾

’’اور وہ عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

آیت 81

وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ

’’ اور اگر یہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی(ﷺ) پر اور اُس پر جو نبیؐ پر نازل کیا گیا (یعنی قرآن حکیم)‘‘

مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ

’’تو پھر انہوں نے اِن (کافروں)کو اپنا ولی نہ بنایا ہوتا‘‘

وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۱﴾

’’لیکن ان کی اکثریت نا فرمانوں پر مشتمل‘ہے۔‘‘

82-86

مسلمانوں کے دوست اور دشمن

ویڈیو

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ وَ رُہۡبَانًا وَّ اَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۸۲﴾ وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾ وَ مَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ نَطۡمَعُ اَنۡ یُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۴﴾ فَاَثَابَہُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۸۵﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۸۶﴾

آیت 82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ

’’تم لازماًپائو گے اہلِ ایمان کے حق میں شدید ترین دشمن یہود کو اور ان کو جو مشرک ہیں۔‘‘

یہ بہت اہم آیت ہے۔مکہ کے بت پرست مشرکین مسلمانوں کے کھلے دشمن تھے‘ وہ سامنے سے حملہ کرتے تھے۔ لیکن مسلمانوں سے بد ترین دشمنی یہود کی تھی‘ وہ آستین کے سانپ تھے اور سازشی انداز میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں مشرکینِ مکہ سے کہیں آگے تھے۔ آج بھی یہود اور بت پرست ہندو مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے آگے ہیں۔ بت پرستی کا شرک اب تو صرف ہندوستان میں رہ گیا ہے ‘ اور کہیں نہیں رہا۔ ہندوستان کے بھی اب یہ صرف نچلے طبقے میں ہے جبکہ عام طور پر اوپر کے طبقے میں نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اب بھی مسلمانوں کے خلاف یہود اور ہنود (مشرکین) کا گٹھ جوڑ ہے۔

وَ لَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰی ؕ

’’اور تم لازماًپاؤ گے مودّت کے اعتبار سے قریب ترین اہلِ ایمان کے حق میں اُن لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔‘‘

یہ تاریخی حقیقت ہے اور سیرتِ محمد ﷺ سے ثابت ہے کہ جس طرح کی شدید دشمنی اُس وقت یہود نے آپﷺ سے کی ویسی نصاریٰ نے نہیں کی۔حضرت نجاشیؒ (شاہِ حبشہ) نے اُس وقت کے مسلمان مہاجروں کو پناہ دی‘ مقوقس (شاہِ مصر)نے بھی حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیے بھیجے۔ ہرقل نے بھی حضورﷺکے نامہ مبارک کا احترام کیا۔وہ چاہتا بھی تھا کہ اگر میری پوری قوم مان لے تو ہم اسلام قبول کر لیں۔نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جس کاذکر سورۂ آل عمران (آیت۶۱)میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہ لوگ اگرچہ مسلمان تو نہیں ہوئے مگر ان کارویہ انتہائی محتاط رہا۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ حضورﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مخالفت میں وہ شدت نہ تھی جو یہودیوں کی مخالفت میں تھی۔

ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنۡہُمۡ قِسِّیۡسِیۡنَ وَ رُہۡبَانًا وَّ اَنَّہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۸۲﴾

’’یہ اس لیے کہ ان (عیسائیوں) میں عالم بھی موجود ہیں اور درویش بھی اور(اس لیے بھی کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘

یعنی عیسائیوں میں اُس وقت تک علمائے حق بھی موجود تھے اور درویش راہب بھی جو واقعی اللہ والے تھے۔ بحیرہ راہب عیسائی تھا جس نے حضورﷺ کو بچپن میں پہچانا تھا۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل نے حضور ﷺ کی سب سے پہلے تصدیق کی تھی اور آپؐ کو بتا یا تھا کہ آپ پر وہی ناموس نازل ہوا ہے جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہما السلام) پر نازل ہوا تھا۔ ورقہ بن نوفل تھے تو عرب کے رہنے والے‘ لیکن وہ حق کی تلاش میں شام گئے اور عیسائیت اختیار کی۔وہ عبرانی زبان میں تورات لکھا کرتے تھے۔یہ اُس دور کے چند عیسائی علماء اور راہبوں کی مثالیں ہیں ۔لیکن وہ قِسِّیسِین اور رُہْبان اب آپ کو عیسائیوں میں نہیں ملیں گے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب قرآن نازل ہو رہا تھا۔اس کے بعد صورتِ حال بدل گئی۔ بعد میں صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف جو وحشت و بربر یت دکھائی ‘اور ان کے مذہبی پیشوائوں نے جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی یہ ایسے حقائق ہیں جو تاریخ کے چہرے پر بہت ہی بد نما داغ ہے۔

آیت 83

وَ اِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَی الرَّسُوۡلِ

’’ اور جب انہوں نے سنی وہ چیز جو کہ رسول(ﷺ) پر نازل کی گئی تھی ‘‘

تَرٰۤی اَعۡیُنَہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُوۡا مِنَ الۡحَقِّ ۚ

’’توتم دیکھتے ہوکہ حق کی جو پہچان انہیں حاصل ہوئی اس کے زیر اثر ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔‘‘

یہ ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے ۔مکی دَورمیں جب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے تو ان کے ذریعے سے وہاں کچھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔پھر جب مدینہ منورہ میں اسلام کاغلبہ ہو گیا اور عرب میں امن قائم ہو گیا تو حبشہ سے ایک وفد مدینہ آیاجوستر (۷۰)افراد پر مشتمل تھا ۔ان میں کچھ نو مسلم بھی شامل تھے۔ آیت زیر نظر میں اس وفد کے ارکان کا ذکر ہے کہ جب انہوں نے قرآن سناتو حق کو پہچان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوگئیں۔

یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۳﴾

’’ (اور) وہ کہہ رہے ہیں‘ اے ہمارے ربّ ہم ایمان لے آئے‘ پس تو ہمیں لکھ لے گواہی دینے والوں میں سے۔‘‘

آیت 84

وَ مَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الۡحَقِّ ۙ

’’اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اُس حق پر جو ہم تک پہنچ گیا ہے‘‘

وَ نَطۡمَعُ اَنۡ یُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۴﴾

’’ اورہمیں تو بڑی خواہش ہے کہ داخل کرے ہمیں ہمارا ربّ نیکو کار لوگوں کے ساتھ۔‘‘

آیت 85

فَاَثَابَہُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوۡا جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’تو اللہ نے ان کے اس قول کے بدلے انہیں وہ باغات عطا کیے جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہیں‘ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۸۵﴾

’’ اور یہی بدلہ ہے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کا۔‘‘

جو خوش قسمت نفوس اسلام قبول کریں ‘ اور اسلام کے بعد ایمان اور پھر ایمان سے آگے بڑھ کراحسان کے درجے تک پہنچ جائیں ان کا بدلہ یہی ہے۔

آیت 86

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۸۶﴾

’’رہے وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور جھٹلا دیا ہماری آیات کو ‘ تووہی لوگ ہیں جو جہنمی‘ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے