یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ
’’اے ایمان والو ! جو کوئی بھی پھر گیا تم میں سے اپنے دین سے ‘‘
فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ
’’تو اللہ (کو کوئی پرواہ نہیں‘ وہ) عنقریب (تمہیں ہٹا کر) ایک ایسی قوم کو لے آئے گا‘‘
یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
’’جنہیں اللہ محبوب رکھے گا اوروہ اُسے محبوب رکھیں گے‘‘
اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
’’وہ اہلِ ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے‘‘
اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫
’’کافروں پر بہت بھاری ہوں گے‘‘
یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
’’ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے‘‘
وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ
’’ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہیں کریں‘گے۔‘‘
یہاں پر جو لفظ یَرْتَدَّ آیا ہے اس کے مفہوم میں ایک تو قانونی اور ظاہری ارتداد ہے۔ جیسے ایک شخص اسلام کو چھوڑ کر کافر ہو جائے‘ یہودی یا نصرانی ہو جائے۔یہ تو بہت واضح قانونی ارتداد ہے ‘لیکن ایک باطنی ارتداد بھی ہے ‘یعنی اُلٹے پاؤں پھرنے لگنا‘پسپائی اختیار کر لینا۔ اوپر اسلام کا لبادہ تو جوں کا توں ہے‘ لیکن فرق یہ واقع ہو گیا ہے کہ پہلے غلبۂ دین کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے‘ محنتیں کر رہے تھے‘ وقت لگا رہے تھے‘ ایثار کر رہے تھے‘ انفاق کر رہے تھے‘ بھاگ دوڑ کر رہے تھے‘ اور اب کوئی آزمائش آئی ہے تو ٹھٹک کر کھڑے رہ گئے ہیں۔جیسے سورۃ البقرۃ (آیت۲۰) میں ارشاد ہے: {کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا ؕ} ’’جب ذرا روشنی ہوتی ہے ان پر تو اس میں کچھ چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘۔اب کیفیت یہ ہے کہ نہ صرف کھڑے رہ گئے ہیں بلکہ کچھ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تمہارا محتاج ہے‘ بلکہ تم اللہ کے محتاج ہو۔ تمہیں اپنی نجات کے لیے اپنے اس فرض کو ادا کرنا ہے۔ اگر تم نے پسپائی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہٹائے گا اور کسی دوسری قوم کو لے آئے گا‘کسی اور کے ہاتھ میں اپنے دین کا جھنڈا تھما دے گا۔
یہاں پر مؤمنین صادقین کے اوصاف کے ضمن میں جو تین جوڑے آئے ہیں ان پر ذرا دوبارہ غور کریں:
(۱) {یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ} ’’اللہ ان سے محبت کرے گا اوروہ اللہ سے محبت کریں گے۔‘‘ (اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُم!)
(۲) {اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫} ’’وہ اہلِ ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے‘ کافروں پر بہت سخت ہوں گے‘‘۔ یہی مضمون سورۃ الفتح (آیت۲۹) میں دوسرے انداز سے آیاہے: {اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ } ’’آپس میں بہت رحیم و شفیق‘ کفار پر بہت سخت‘‘۔ بقولِ اقبالؔ : ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن!
(۳) {یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ} ’’اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہیں کریں گے‘‘۔ ان کے رشتہ داراُن کو سمجھائیں گے‘ دوست احباب نصیحتیں کریں گے کہ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟تم fanatic ہو گئے ہو؟ تمہیں اولاد کا خیال نہیں‘ اپنے مستقبل کی فکر نہیں! مگر یہ لوگ کسی کی کوئی پروانہیں کریں گے‘بس اپنی ہی دھن میں مگن ہوں گے۔اور ان کی کیفیت یہ ہو گی : ؎
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
خیریتِ جاں ‘ راحتِ تن ‘ صحتِ داماں سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی
اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے سو گزری تنہا پسِ زنداں‘ کبھی رسوا سرِ بازار
کڑکے ہیں بہت شیخ سر گوشہ منبر گرجے ہیں بہت اہلِ حکم بر سرِ دربار
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اِس عشق‘ نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت!
یہ ایک کردار ہے جس کو واضح کرنے کے لیے دو دو اوصاف کے یہ تین جوڑے آئے ہیں۔ ان کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمیں اس کردار کو عملاً اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔
ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾
’’یہ اللہ کا فضل ہے‘ جس کو چاہے عطا کرتا ہے‘ اور اللہ بہت وسعت رکھنے والا‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘
اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ہے۔اگرتم اپنے بھائیوں‘ عزیزوں ‘ دوستوں‘ ساتھیوں اور رفیقوں کو دیکھتے ہو کہ ان پر اللہ کا بڑا فضل ہوا ہے‘ انہوں نے کیسے کیسے مرحلے سر کر لیے ہیں‘ کیسی کیسی بازیاں جیت لیں ہیں‘تو تم بھی اللہ سے اس کا فضل طلب کرو۔اللہ تمہیں بھی ہمت دے گا۔اس لیے کہ اس دین کے کام میں اس قسم کا رشک بہت پسندیدہ ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ‘رشک آیاحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر۔جب غزوۂ تبوک کے لیے رسول اللہﷺ نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا تو آپؓ نے سوچا کہ آج تومیں ابو بکرؓ سے بازی لے جاؤں گا‘کیونکہ اتفاق سے اِس وقت میرے پاس خاصا مال ہے۔چنانچہ انہوں ؓنے اپنے پورے مال کے دو برابر حصے کیے‘اور پورا ایک حصہ یعنی آدھا مال لا کر حضورﷺ کے قدموں میں ڈال دیا۔لیکن حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے گھر میں جو کچھ تھا وہ سب لے آئے ۔یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے کہا میں نے جان لیا کہ ابوبکرؓ سے آگے کوئی نہیں بڑھ سکتا۔تودین کے معاملے میں اللہ کا حکم ہے : {فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ} (المائدۃ:۴۸) یعنی نیکیوںمیں‘ خیر میں‘ بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہو!
اب پھر اہلِ ایمان کو دوستانہ تعلقات کے معیار کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے۔ اہل ایمان کی دلی دوستی کفار سے ‘ یہود ہنود اور نصاریٰ سے ممکن ہی نہیں‘ اس لیے کہ یہ ایمان کے منافی ہے۔اگر دین کی غیرت و حمیت ہو گی‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دل میں ہو گی تو ان کے دشمنوں سے دلی دوستی ہو ہی نہیں سکتی۔