تحریر

المائدة

آیات ۴۴ تا ۵۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

44

شریعت کے مطابق فیصلےنہ کرنے والے کافر ہیں

ویڈیو

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ الَّذِیۡنَ اَسۡلَمُوۡا لِلَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ کِتٰبِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا عَلَیۡہِ شُہَدَآءَ ۚ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَ اخۡشَوۡنِ وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾

تمہید

سورۃ المائدۃ کا یہ ساتواں رکوع حسن اتفاق سے سات ہی آیات پرمشتمل ہے۔اس میں بہت سخت تہدید‘ تنبیہہ اور دھمکی ہے ان لوگوں کے لیے جو کسی آسمانی شریعت پر ایمان کے دعوے دار ہوں اور پھر اس کے بجائے کسی اور قانوں کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہوں۔ قرآن حکیم کی طویل سورتوں میں کہیں کہیں تین تین آ یتوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ ملتے ہیں جو معانی و مفہوم کے لحاظ سے بہت جامع ہوتے ہیں‘ جیسا کہ سورئہ آلِ عمران کی آیات ۱۰۲‘۱۰۳ اور ۱۰۴ ہیں۔ ابھی سورۃ المائدۃ میں بھی تین آیات پر مشتمل نہایت جامع احکامات کا حامل ایک مقام آئے گا۔ اسی طرح کہیں کہیں سات سات آیات کا مجموعہ بھی ملتا ہے ۔جیسے سورۃ البقرۃ کے پانچویں رکوع کی سات آیات (۴۰ تا۴۶) بنی اسرائیل سے خطاب کے ضمن میں نہایت جامع ہیں۔ یہ دعوت کے ابتدائی انداز پر مشتمل ہیں اور دعوت کے باب میں بمنزلہ فاتحہ ہیں۔ اسی طرح قانونِ شریعت کی تنفیذ‘ اس کی اہمیت اور اس سے پہلو تہی پر وعید کے ضمن میں زیر مطالعہ رکوع کی سات آیات نہایت تاکیدی اور جامع ہیں‘بلکہ یہ مقام اس موضوع پر قرآن حکیم کا ذروۂ سنام (climax) ہے۔

آیت 44

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ

’’یقیناہم نے ہی نازل فرمائی تھی تورات‘‘

فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ

’’اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا۔‘‘

یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ

’’اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے انبیا ؑء‘‘

الَّذِیۡنَ اَسۡلَمُوۡا

’’جو کہ سب فرمانبردار تھے(اللہ کے)‘‘

ظاہر ہے کہ تمام انبیا کرام علیہم السلام خود بھی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔

لِلَّذِیۡنَ ہَادُوۡا

’’(اور وہ فیصلے کرتے تھے) یہودیوںکے لیے‘‘

یعنی انبیا کرام علیہم السلام یہودیوں کے تمام فیصلے تورات ( شریعتِ موسویؑ)کے مطابق کرتے تھے‘ جیسا کہ حدیث میں ہے حدیث((کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَائُ))۱ یعنی بنی اسرائیل کی سیاست اور حکومت کے معاملات‘ انبیا ء کے ہاتھ میں ہوتے تھے ۔ اس لیے وہی ان کے مابین نزاعات کے فیصلے کرتے تھے۔

وَ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ

’’اور درویش اور علمائ‘‘

ان کے ہاں اللہ والے صوفیاء اور علماء و فقہاء بھی تورات ہی کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔

بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ کِتٰبِ اللّٰہِ

’’ بسبب اس کے کہ وہ کتاب اللہ کے نگران بنائے گئے تھے‘‘

انہیں ذمہ داری دی گئی تھی کہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کرنی ہے۔

وَ کَانُوۡا عَلَیۡہِ شُہَدَآءَ ۚ

’’اور وہ اس پر گواہ تھے۔‘‘

فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَ اخۡشَوۡنِ

’’(تو ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ) تم لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو‘‘

وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ

’’اور میری آیات کو حقیر سی قیمت پر فروخت نہ کرو۔‘‘

یعنی اللہ کا طے کردہ قانون موجود ہے ‘اس کے مطابق فیصلے کرو۔ لوگوں کو پسند ہو یا ناپسند‘اس سے تمہارا بالکل کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ اب آ رہی ہے وہ کانٹے والی بات:

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’اور جو اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘

بقولِ علامہ اقبالؔ ؎

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں‘ خدا سے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب ما ذکر عن بنی اسراء یل۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلفاء الاول فالاول۔

45

شریعت کے مطابق فیصلےنہ کرنے والے ظالم ہیں

ویڈیو

وَ کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِ ۙ وَ الۡعَیۡنَ بِالۡعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَ الۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَ الۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾

آیت 45

وَ کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡہَاۤ

’’اور ہم نے لکھ دیا تھا ان پر اس (تورات) میں‘‘

اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِ ۙ

’’ کہ جان کے بدلے جان ‘‘

وَ الۡعَیۡنَ بِالۡعَیۡنِ

’’اورآنکھ کے بدلے آنکھ‘‘

وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ

’’ اور ناک کے بدلے ناک‘‘

وَ الۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ

’’اورکان کے بدلے کان‘‘

وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ

’’اور دانت کے بدلے دانت‘‘

وَ الۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ

’’ اور اس طرح زخموں کا بدلہ بھی ہو گا برابر کا۔‘‘

فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ

’’پھر جو کوئی اس کو معاف کردے تویہ اُس کے لیے ‘(گناہوں کا) کفارہ ہو گا۔‘‘

کسی نے ایک شخص کا کان کاٹ دیا‘ اب وہ جواباً اُس کا کان کاٹنے کا حق دار ہے‘ لیکن اگروہ قصاص نہیں لیتا اور معاف کر دیتا ہے تو اسے اپنے بہت سے گناہوں کا کفارہ بنا لے گا۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجرم کو جب معاف کر دیا گیا تو اس کے ذمے سے وہ گناہ دُھل گیا۔

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾

’’ اور جو فیصلے نہیں کرتے اللہ کی اُتاری ہوئی شریعت کے مطابق وہی تو ظالم ہیں۔‘‘

اور ظالم یہاں بمعنی مشرک ہے ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے: {اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾} (لقمان) اب دیکھئے‘ ایک قانون اللہ کا ہے اور ایک انسانوں کا۔پھر انسانوں کے بھی مختلف قوانین ہیں‘ ایک Roman Law ہے‘ ایک پاکستانی قانون ہے‘ ایک رواج پر مبنی قانون ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ فیصلہ کس قانون کے مطابق کر رہے ہیں ؟اللہ کے قانون کے تحت یا کسی اور قانون کے مطابق؟ اگر آپ نے اللہ کے قانون کے ساتھ ساتھ کسی اور قانون کو بھی مان لیا یا اللہ کے قانون کے مقابلے میں کسی اور قانون کو ترجیح دی تو یہ شرک ہے۔

46-47

شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے فاسق ہیں

ویڈیو

وَ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ فِیۡہِ ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾ وَ لۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾

آیت 46

وَ قَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ بِعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ

’’اور ہم نے ان کے پیچھے انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ؑابن مریم کو بھیجا ‘‘

مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ ۪

’’(وہ آئے) تصدیق کرتے ہوئے اُس کی جو ان کے سامنے موجود تھا تورات میں سے‘‘

وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ فِیۡہِ ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۙ

’’اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی ‘اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا‘‘

وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ

’’اور وہ(انجیل بھی) تصدیق کر رہی تھی اس کی جو تورات میں سے اُس کے سامنے موجود تھا‘‘

وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾

’’اور وہ ہدایت (راہنمائی) اور نصیحت تھی تقویٰ والوں کے‘لیے۔‘‘

آیت 47

وَ لۡیَحۡکُمۡ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ ؕ

’’اور چاہیے کہ انجیل کے ماننے والے فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے۔‘‘

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’اور جو لوگ نہیں فیصلے کرتے اللہ کے اُتارے ہوئے احکامات و قوانین کے مطابق‘ وہی تو فاسق ہیں۔‘‘

وہی تو سرکش ہیں‘ وہی تونافرمان ہیں‘ وہی تو ناہنجار ہیں۔ غور کیجیے ایک رکوع میں تین دفعہ یہ الفاظ دہرائے گئے ہیں:

دوسرے مقام کی آیت

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾

دوسرے مقام کی آیت

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾

وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾

ان آیاتِ قرآنیہ کو سامنے رکھیے اور ملتِ اسلامیہ کی موجودہ کیفیت کا جائزہ لیجیے کہ دنیا میں کتنے ممالک ہیں‘جہاں اللہ کا قانون نافذ ہے؟ آج روئے زمین پر کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہے جہاں شریعتِ اسلامی پورے طور پر نافذ ہو اور اسلام کا مکمل نظام قائم ہو۔ اگرچہ ہم انفرادی اعتبار سے مسلمان ہیں لیکن ہمارے نظام کافرانہ ہیں۔

48-49

خواہشات کی پیروی نہ کرو، شریعت نافذ کرو

ویڈیو

وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مُہَیۡمِنًا عَلَیۡہِ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ عَمَّا جَآءَکَ مِنَ الۡحَقِّ ؕ لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰىکُمۡ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿ۙ۴۸﴾ وَ اَنِ احۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ وَ احۡذَرۡہُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾

آیت 48

وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ

’’اور(اب اے نبیﷺ) ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی حق کے ساتھ ‘‘

مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مُہَیۡمِنًا عَلَیۡہِ

’’جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان پر نگران ہے‘‘ یہ کتاب تورات اور انجیل کی مصداق بھی ہے اور مصدق بھی ۔ اور اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہو گئی تھیں اب ان کی تصحیح اس کے ذریعے سے ہو گی۔

فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ

’’تو (آپؐ بھی) فیصلہ کریں ان کے درمیان اس(قانون) کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے‘‘

وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ عَمَّا جَآءَکَ مِنَ الۡحَقِّ ؕ

’’اور مت پیروی کریں ان کی خواہشات کی‘اس حق کو چھوڑکر جو آ چکا ہے آپ (ﷺ)کے پاس۔‘‘

لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ

’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل طے کر دی ہے۔‘‘

جہاں تک شریعت کا تعلق ہے سب کو معلوم ہے کہ شریعتِ موسویؑ شریعتِ محمدیؐ سے مختلف تھی۔ مزید برآں رسولوں کے منہاج(طریق کار) میں بھی فرق تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے منہاج میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپؑ ایک مسلمان اُمت (بنی اسرائیل) کے لیے بھیجے گئے تھے۔ وہ اُمت جو کہ دبی ہوئی تھی‘ پسی ہوئی تھی‘ غلام تھی۔اس میں اخلاقی خرابیاں بھی تھیں ‘ دینی اعتبار سے ضعف بھی تھا‘وہ آلِ فرعون کے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنی ہوئی تھی۔چنانچہ حضرت موسٰی ؑ کے مقصدِ بعثت میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک بگڑی ہوئی مسلمان امت کو کافروں کے تسلط اور غلبے سے نجات دلائیں۔اس کا ایک خاص طریقہ کار اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بتایا گیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک مسلمان اُمت کے لیے مبعوث کیے گئے‘ یعنی یہودیوں ہی کی طرف۔ اس قوم میں نظریاتی فتور آچکا تھا‘ ان کے معاشرے میں اخلاقی و روحانی گراوٹ انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اُن کے علماء کی توجہ بھی دین کے صرف ظاہری احکام اور قانونی پہلوئوں پر رہ گئی تھی اور وہ اصل مقاصدِ دین کو بھول چکے تھے ۔دین کی اصل رُوح نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تھی۔ اس سارے بگاڑ کی اصلاح کے لیے حضرت مسیحؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص منہج‘ ایک خاص طریقہ کار عطا فرمایا۔ محمدرٌسول اللہﷺ کو ان لوگوں میں مبعوث کیا گیا جو مشرک تھے‘ اَن پڑھ تھے‘ کسی نبی کے نام سے نا واقف تھے سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔ ان کا احترام بھی وہ اپنے جدِ امجدکے طور پر کرتے تھے ‘ ایک نبی کے طور پر نہیں۔ کوئی شریعت ان میں موجود نہیں تھی‘کوئی کتاب ان کے پاس نہیں تھی۔گویا ’’ضَلَّ ضَلَالاً بَعِیْدًا‘‘ کی مجسم تصویر!آپﷺ نے اپنی دعوت و تبلیغ کے ذریعے ان میں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک عظیم جماعت پیدا کی‘ انہیں حزب اللہ بنایا‘ اور پھر اس جماعت کو ساتھ لے کر آپﷺ نے کفر ‘شرک اور ائمہ کفر کے خلاف جہاد و قتال کیا‘ اور بالآخر اللہ کے دین کو اس معاشرے میں قائم کر دیا۔ یہ منہاج ہے محمدرسول اللہﷺ کا۔ تو یہ مفہوم ہے اس آیت کا {لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ } ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک منہاج (طریقہ کار‘منہج عمل) مقرر کیا ہے‘‘۔ اس لحاظ سے یہ آیت بہت اہم ہے۔

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً

’’اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی اُمت بنا دیتا‘‘

وَّ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰىکُمۡ

’’مگر اُس نے چاہا کہ وہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اُس نے تم کو عطا کی‘‘

یعنی اللہ کی حکمت اس کی متقاضی ہوئی کہ جس کو جو جو کچھ دیا گیا ہے اس کے حوالے سے اس کو آزمائے۔چنانچہ اب ہمارے لیے اصل اُسوہ نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور نہ ہی حضرت‘عیسیٰ علیہ السلام ‘ بلکہ {لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب:۲۱) کے مصداق ہمارے لیے اُسوہ ہے تو صرف محمد رسول اللہﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اگر شادی نہیں کی تو یہ ہمارے لیے اُسوہ نہیں ہے۔ ہمیں تو حضورﷺ کے فرمان کو پیش نظر رکھنا ہے‘ جنہوں نے فرمایا : حدیث((اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِی))۱’’نکاح میری سنت میں سے ہے ‘‘۔اور مزید فرمایا: حدیث((فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی))۲’’پس جس نے میری سنت کو لائق التفات نہ سمجھا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔تو واقعہ یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اللہ ہی کی طرف سے مبعوث تھے‘اور ہر ایک کے لیے جو بھی طریقہ اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھاوہ ان کو عطا کیا‘البتہ ہمارے لیے قابلِ تقلید منہاجِ محمدیﷺ ہے۔ اب ہم پر فرض ہے کہ اس منہج انقلابِ نبوی ؐ کا گہرا شعور حاصل کریں‘پھر اس راستے پر اُسی طرح چلیں جس طرح حضورﷺ چلے۔ جس طرح آپؐ نے دین کو قائم کیا‘ غالب کیا‘ایک نظام برپا کیا‘پھر اُس نظام کے تحت اللہ کا قانون نافذ کیا‘اُسی طرح ہم بھی اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔

فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ

’’تو تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔‘‘

اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ جَمِیۡعًا

’’اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے ‘‘

فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿ۙ۴۸﴾

’’تو وہ تمہیں جتلا دے گا ان چیزوں کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے۔‘‘

(۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب النکاح‘ باب ما جاء فی فضل النکاح۔

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب النکاح‘ باب الترغیب فی النکاح۔ وصحیح مسلم‘ کتاب النکاح‘ باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ الیہ …

آیت 49

وَ اَنِ احۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ

’’اور فیصلے کیجیے ان کے مابین اس (شریعت) کے مطابق جو کہ اللہ نے اُتاری ہے‘‘

وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ

’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے‘‘

آج ہمارا کیا حال ہے ؟ ہم کن لوگوں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں؟ آج ہم احکامِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی پیشوائوں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔وہ جو چاہتے ہیں قانون بنا دیتے ہیں‘جو چاہتے ہیں فیصلہ کر دیتے ہیں اور پوری قوم اس کی پابند ہوتی ہے۔ ہم اس جال سے اسی صورت میں نکل سکتے ہیں کہ ایک زبردست جماعت بنائیں‘ طاقت پیدا کریں‘ ایک بھر پور تحریک اٹھائیں‘ قربانیاں دیں‘ جانیں لڑائیں تا کہ یہ موجودہ نظام تبدیل ہو‘ اللہ کا دین قائم ہو‘ اور پھر اس دین کے مطابق ہمارے فیصلے ہوں۔ یہاں حضورﷺکو ایک بارپھر سے تاکید کی جا رہی ہے کہ آپؐ ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے اور اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کیجیے۔

وَ احۡذَرۡہُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ ؕ

’’اور ان سے ہوشیار رہیے‘ ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ان میں سے کسی چیز سے بچلا دیں جو اللہ نے آپ پر نازل کی ہیں۔‘‘

یعنی ہر طرف سے دبائو آئے گا ‘لیکن آپؐ کو ثابت قدمی سے کھڑے رہنا ہے اُس شریعت پر جو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ پر نازل فرمائی ہے۔

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا

’’ پھر اگر وہ رو گردانی کریں‘‘

فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِہِمۡ ؕ

’’ تو جان لیجیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔‘‘

یہ دراصل لرزا دینے والا مقام ہے۔ اگر ہم اپنے اس ملک کے اندر اسلام کو قائم نہیں کرتے اور ہماری ساری کوششوں کے باوجود دین نافذ نہیں ہو رہا تواس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کا کوئی کوڑا مقدر ہو چکا ہے۔ واضح الفاظ میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر وہ اللہ کے احکامات سے منہ موڑیں‘ شریعت کے فیصلوں کا انکار کریں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ در حقیقت ان کے گناہوں کی پاداش میں ان پر عذاب نازل کرنا چاہتا ہے اور {اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾} (البروج) کے مصداق ا نہیں کوئی سزادینا چاہتا ہے۔

وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾

’’اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ لوگوں میں سے اکثر فاسق (نا فرمان )ہیں۔‘‘

50

کیا چاہتے ہو،عادلانہ شریعت، یاظالمانہ جاہلیت؟

ویڈیو

اَفَحُکۡمَ الۡجَاہِلِیَّۃِ یَبۡغُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکۡمًا لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾

آیت 50

اَفَحُکۡمَ الۡجَاہِلِیَّۃِ یَبۡغُوۡنَ ؕ

’’ تو کیا یہ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟‘‘

جاہلیت سے مراد حضورﷺ کی بعثت سے پہلے کا دور ہے۔یعنی کیا قانونِ الٰہی نازل ہو جانے کے بعد بھی یہ لوگ جاہلیت کے دستور‘ اپنی روایات اور اپنی رسومات پر عمل کرنا چاہتے ہیں؟جیسا کہ ہندوستان میں مسلمان زمیندارانگریز کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ دیتے تھے کہ ہمیں اپنی وراثت کے مقدمات میں شریعت کا فیصلہ نہیں چاہیے بلکہ رواج کا فیصلہ چاہیے۔

وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکۡمًا لِّقَوۡمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾

’’ اور اللہ کے حکم (اور فیصلے) سے بہتر کس کا حکم ہو سکتا ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھنے والے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہمیں اس یقین اور ایمانِ حقیقی کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ (آمین!)

51-53

یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست مت بناؤ

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾ فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوۡنَ فِیۡہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰۤی اَنۡ تُصِیۡبَنَا دَآئِرَۃٌ ؕ فَعَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَیُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَاۤ اَسَرُّوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿ؕ۵۲﴾ وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ اِنَّہُمۡ لَمَعَکُمۡ ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾

آیت 51

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ

’’اے ایمان والو!یہودو نصاریٰ کو اپنادلی دوست(حمایتی اور پشت پناہ) نہ بنا ؤ۔‘‘

بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ

’’ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔‘‘

ان میں سے بعض بعض کے پشت پناہ اور مددگار ہیں۔ یہ درحقیقت ایک پیشین گوئی تھی جو اِس دور میں آکر پوری ہوئی ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو صورت حال وہ تھی جو ہم قبل ازیں (اس سورۃ کی آیت ۱۴ میں) پڑھ آئے ہیں: {فَاَغۡرَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ } ’’پس ہم نے ان کے مابین عداوت اور بغض کی آگ بھڑکا دی روزِ قیامت تک کے لیے‘‘۔چنانچہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین ہمیشہ شدید دشمنی رہی ہے اور آپس میں کشت و خون ہوتا رہا ہے‘ لیکن زیر نظر الفاظ { بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ} میں جو پیشین گوئی تھی وہ بیسویں صدی میں آ کر پوری ہوئی ہے۔ بالفور ڈیکلریشن (۱۹۱۷ء)کے بعد کی صورتِ حال میں ان کا باہمی گٹھ جوڑ شروع ہوا‘ جس کے نتیجے میں برطانیہ اور امریکہ کے زیراثر اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی‘ اور اب بھی اگر وہ قائم ہے تو اصل میں انہی عیسائی ملکوں کی پشت پناہی کی وجہ سے قائم ہے۔ عیسائی اب یہودیوں کی اس لیے پشت پناہی کر رہے ہیں کہ اُن کی ساری معیشت یہودی بینکاروں کے زیر تسلط ہے۔ عیسائیوں کی معیشت پر یہودیوں کے قبضہ کی وجہ سے یہود و نصاریٰ کا یہ گٹھ جوڑ اس درجہ مستحکم ہو چکا ہے کہ آج عیسائیوں کی پوری عسکری طاقت یہودیوں کی پشت پر ہے۔

وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ

’’اور تم میں سے جو کوئی ان سے دلی دوستی رکھے گاتو وہ ان ہی میں سے ہو گا۔‘‘

یعنی جوکوئی ان سے دوستی کے معاہدے کرے گا‘ ان سے نصرت و حمایت کا طلب گار ہوگا‘ ہماری نگاہوں میں وہ یہودی یا نصرانی شمار ہو گا۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾

’’ یقینااللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

آج ہمارے اکثر مسلمان ممالک کی پالیسیاں کیا ہیں اور اس سلسلے میں قرآن کا فتویٰ کیا ہے‘ وہ آپ کے سامنے ہے۔

آیت 52

فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ

’’تو تم دیکھتے ہو ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ‘ہے‘‘

یُّسَارِعُوۡنَ فِیۡہِمۡ

’’وہ انہی کے اندر گھسنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں‘‘

فلاں ملک سے دوستی کا معاہدہ‘ فلاں سے مدد کی درخواست ‘ فلاں سے حمایت کی توقع‘ ان کی ساری بھاگ دوڑ‘ تگ و دو‘ خارجہ پالیسی ’’یُسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ‘‘ کی عملی تصویر ہے۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں روگ یعنی نفاق ہے۔ اگر اللہ پر ایمان ہو‘ اعتماد اور یقین ہو‘ اس سے خلوص اور اخلاص کا رشتہ ہو تو پھر اُسی سے نصرت و حمایت کی امید ہو اور {اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ} (محمد:۷) کے وعدے پر یقین ہو!

یَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰۤی اَنۡ تُصِیۡبَنَا دَآئِرَۃٌ ؕ

’’وہ کہتے ہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم گردشِ زمانہ(اور کسی مصیبت کے چکر) میں نہ پھنس جائیں۔‘‘

یعنی ہم یہود ونصاریٰ سے اس لیے تعلقات استوار کر رہے ہیں کہ کل کلاں کسی نا گہانی آفت سے بچ سکیں۔

فَعَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِہٖ

’’ توبہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ جلد ہی فتح لے آئے یا اپنے پاس سے کوئی اور فیصلہ صادر فرما دے‘‘

فَیُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَاۤ اَسَرُّوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿ؕ۵۲﴾

’’ تو پھر جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اس پر انہیں نادم ہونا پڑے۔‘‘

انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جن کی دوستی کا سہارا انہوں نے اپنے زعم میں لے رکھا تھا وہی انہیں دھوکا دے رہے ہیں‘ ؏

’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے!‘‘

آیت 53

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ اِنَّہُمۡ لَمَعَکُمۡ ؕ

’’اور(اُس وقت) اہلِ ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ وہ توتمہارے ساتھ ہیں۔‘‘

حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾

’’ان کے تمام اعمال اکارت ہو جائیں گے اور وہ خسارے والے بن کر رہ جائیں گے۔‘‘

اب جو تین آیتیں آ رہی ہیں ان میں اُن اہلِ ایمان کا ذکر ہے جو پورے خلوص و اخلاص کے ساتھ اللہ کے راستے میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی توفیق دے کہ کمر ہمت کس کر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں یہ احساس پیدا فرما دے کہ اُس کی شریعت کو نافذ کرنا ہے اور الکافِرون‘ الظالِمُون اور الفاسِقون (المائدۃ :۴۴‘۴۵ اور۴۷) کی صفوں سے باہر نکلنا ہے۔ اس طرح کی جدوجہد میں محنت کرنا پڑتی ہے‘ مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں‘تکالیف سہنا پڑتی ہیں۔ایسے حالات میں بعض اوقات انسان کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں اورعزم و ہمت میں کچھ کمزوری آنے لگتی ہے۔ایسے موقع پر اس راہ کے مسافروں کی ایک خاص ذہنی اور نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے ۔اس حوالے سے یہ تین آیات نہایت اہم اور جامع ہیں۔

54

اللہ کے محبوب بندوں کی صفات

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾

آیت 54

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ

’’اے ایمان والو ! جو کوئی بھی پھر گیا تم میں سے اپنے دین سے ‘‘

فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ

’’تو اللہ (کو کوئی پرواہ نہیں‘ وہ) عنقریب (تمہیں ہٹا کر) ایک ایسی قوم کو لے آئے گا‘‘

یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ

’’جنہیں اللہ محبوب رکھے گا اوروہ اُسے محبوب رکھیں گے‘‘

اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

’’وہ اہلِ ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے‘‘

اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫

’’کافروں پر بہت بھاری ہوں گے‘‘

یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ

’’ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے‘‘

وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ

’’ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہیں کریں‘گے۔‘‘

یہاں پر جو لفظ یَرْتَدَّ آیا ہے اس کے مفہوم میں ایک تو قانونی اور ظاہری ارتداد ہے۔ جیسے ایک شخص اسلام کو چھوڑ کر کافر ہو جائے‘ یہودی یا نصرانی ہو جائے۔یہ تو بہت واضح قانونی ارتداد ہے ‘لیکن ایک باطنی ارتداد بھی ہے ‘یعنی اُلٹے پاؤں پھرنے لگنا‘پسپائی اختیار کر لینا۔ اوپر اسلام کا لبادہ تو جوں کا توں ہے‘ لیکن فرق یہ واقع ہو گیا ہے کہ پہلے غلبۂ دین کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے‘ محنتیں کر رہے تھے‘ وقت لگا رہے تھے‘ ایثار کر رہے تھے‘ انفاق کر رہے تھے‘ بھاگ دوڑ کر رہے تھے‘ اور اب کوئی آزمائش آئی ہے تو ٹھٹک کر کھڑے رہ گئے ہیں۔جیسے سورۃ البقرۃ (آیت۲۰) میں ارشاد ہے: {کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا ؕ} ’’جب ذرا روشنی ہوتی ہے ان پر تو اس میں کچھ چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘۔اب کیفیت یہ ہے کہ نہ صرف کھڑے رہ گئے ہیں بلکہ کچھ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تمہارا محتاج ہے‘ بلکہ تم اللہ کے محتاج ہو۔ تمہیں اپنی نجات کے لیے اپنے اس فرض کو ادا کرنا ہے۔ اگر تم نے پسپائی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہٹائے گا اور کسی دوسری قوم کو لے آئے گا‘کسی اور کے ہاتھ میں اپنے دین کا جھنڈا تھما دے گا۔

یہاں پر مؤمنین صادقین کے اوصاف کے ضمن میں جو تین جوڑے آئے ہیں ان پر ذرا دوبارہ غور کریں:

(۱) {یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ} ’’اللہ ان سے محبت کرے گا اوروہ اللہ سے محبت کریں گے۔‘‘ (اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُم!)

(۲) {اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫} ’’وہ اہلِ ایمان کے حق میں بہت نرم ہوں گے‘ کافروں پر بہت سخت ہوں گے‘‘۔ یہی مضمون سورۃ الفتح (آیت۲۹) میں دوسرے انداز سے آیاہے: {اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ } ’’آپس میں بہت رحیم و شفیق‘ کفار پر بہت سخت‘‘۔ بقولِ اقبالؔ : ؎

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن!

(۳) {یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ} ’’اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی خوف نہیں کریں گے‘‘۔ ان کے رشتہ داراُن کو سمجھائیں گے‘ دوست احباب نصیحتیں کریں گے کہ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟تم fanatic ہو گئے ہو؟ تمہیں اولاد کا خیال نہیں‘ اپنے مستقبل کی فکر نہیں! مگر یہ لوگ کسی کی کوئی پروانہیں کریں گے‘بس اپنی ہی دھن میں مگن ہوں گے۔اور ان کی کیفیت یہ ہو گی : ؎

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں ‘ راحتِ تن ‘ صحتِ داماں سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے سو گزری تنہا پسِ زنداں‘ کبھی رسوا سرِ بازار

کڑکے ہیں بہت شیخ سر گوشہ منبر گرجے ہیں بہت اہلِ حکم بر سرِ دربار

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت

اِس عشق‘ نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت!

یہ ایک کردار ہے جس کو واضح کرنے کے لیے دو دو اوصاف کے یہ تین جوڑے آئے ہیں۔ ان کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمیں اس کردار کو عملاً اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔

ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۴﴾

’’یہ اللہ کا فضل ہے‘ جس کو چاہے عطا کرتا ہے‘ اور اللہ بہت وسعت رکھنے والا‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ہے۔اگرتم اپنے بھائیوں‘ عزیزوں ‘ دوستوں‘ ساتھیوں اور رفیقوں کو دیکھتے ہو کہ ان پر اللہ کا بڑا فضل ہوا ہے‘ انہوں نے کیسے کیسے مرحلے سر کر لیے ہیں‘ کیسی کیسی بازیاں جیت لیں ہیں‘تو تم بھی اللہ سے اس کا فضل طلب کرو۔اللہ تمہیں بھی ہمت دے گا۔اس لیے کہ اس دین کے کام میں اس قسم کا رشک بہت پسندیدہ ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ‘رشک آیاحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر۔جب غزوۂ تبوک کے لیے رسول اللہﷺ نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا تو آپؓ نے سوچا کہ آج تومیں ابو بکرؓ سے بازی لے جاؤں گا‘کیونکہ اتفاق سے اِس وقت میرے پاس خاصا مال ہے۔چنانچہ انہوں ؓنے اپنے پورے مال کے دو برابر حصے کیے‘اور پورا ایک حصہ یعنی آدھا مال لا کر حضورﷺ کے قدموں میں ڈال دیا۔لیکن حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے گھر میں جو کچھ تھا وہ سب لے آئے ۔یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے کہا میں نے جان لیا کہ ابوبکرؓ سے آگے کوئی نہیں بڑھ سکتا۔تودین کے معاملے میں اللہ کا حکم ہے : {فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ} (المائدۃ:۴۸) یعنی نیکیوںمیں‘ خیر میں‘ بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہو!

اب پھر اہلِ ایمان کو دوستانہ تعلقات کے معیار کے بارے میں خبردار کیا جا رہا ہے۔ اہل ایمان کی دلی دوستی کفار سے ‘ یہود ہنود اور نصاریٰ سے ممکن ہی نہیں‘ اس لیے کہ یہ ایمان کے منافی ہے۔اگر دین کی غیرت و حمیت ہو گی‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دل میں ہو گی تو ان کے دشمنوں سے دلی دوستی ہو ہی نہیں سکتی۔

55-56

اہلِ ایمان کے حقیقی دوست کون ہیں؟

ویڈیو

اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿٪۵۶﴾

آیت 55

اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا

’’ تمہارے ولی تو اصل میں بس اللہ‘ اُس کا رسول(ﷺ) اور اہل ایمان ہیں‘‘

تمہارے دوست‘ پشت پناہ‘حمایتی ‘ معتمد اور راز دار تو بس اللہ ‘ اُس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان ہیں۔ اور یہ اہلِ ایمان بھی پیدائشی اور قانونی مسلمان نہیں‘ بلکہ:

الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾

’’جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں جھک کر۔‘‘

یہاں وَہُمْ رٰکِعُوْنَ کا مطلب ’’وہ رکوع کرتے ہیں ‘‘ صحیح نہیں ہے۔ یہ درحقیقت زکوٰۃ دینے کی کیفیت ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں فروتنی کرتے ہوئے۔ ہم سورۃ البقرۃ (آیت۲۷۳) میں پڑھ آئے ہیں کہ سب سے بڑھ کر انفاق فی سبیل اللہ کے مستحق کون لوگ ہیں: { لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ…} جو اللہ کے دین کے لیے ہمہ وقت اور ہمہ تن مصروف ہیں اوران کے پاس اب اپنی معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں ہے۔ لیکن وہ فقیر تو نہیں کہ آپ سے جھک کر مانگیں‘یہ تو آپ کو جھک کر ‘ فروتنی کرتے ہوئے ان کی مدد کرنا ہوگی۔آپ انہیں دیں اور وہ قبول کر لیں تو آپ کو ان کا ممنونِ احسان ہونا چاہیے۔

آیت 56

وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

’’ اور جو کوئی دوستی قائم کرے گا اللہ‘ اُس کے رسول (ﷺ) اور ایمان والوں کے ساتھ‘‘

یوں سمجھ لیں کہ یہاںیہ فقرہ محذوف ہے:’’تو وہ شامل ہو جائے گا حزب اللہ (اللہ کی پارٹی) میں۔‘‘

فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿٪۵۶﴾

’’ پس سن لو کہ حزب اللہ ہی غالب رہنے والی ہے۔‘‘

یہ شرائط پہلے پوری کی جائیں‘ ان تمام معیارات پر پورا اترا جائے‘ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ایمان رکھا جائے‘ تو پھریقینا حزب اللہ ہی غالب رہے گی۔

یوٹیوب پر دیکھیے