تحریر

المائدة

آیات ۲۷ تا ۴۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

27-31

قربانی،حضرت ہابیل کی شہادت

ویڈیو

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ ابۡنَیۡ اٰدَمَ بِالۡحَقِّ ۘ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَ لَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ قَالَ لَاَقۡتُلَنَّکَ ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۷﴾ لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقۡتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقۡتُلَکَ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾ اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓاَ بِاِثۡمِیۡ وَ اِثۡمِکَ فَتَکُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۚ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾ فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾ فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبۡحَثُ فِی الۡاَرۡضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوۡءَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِثۡلَ ہٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوۡءَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿ۚۛۙ۳۱﴾

آیت 27

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ ابۡنَیۡ اٰدَمَ بِالۡحَقِّ ۘ

’’اور (اے نبیﷺ!) ان کو پڑ ھ کر سنائیے آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ۔‘‘

اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا

’’جبکہ ان دونوں نے قربانی پیش کی ‘‘

فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَ لَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ

’’تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کر لی گئی‘ جبکہ دوسرے کی قبول نہیں کی گئی ۔‘‘

آدمؑ کے یہ دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ ہابیل بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور قابیل کاشت کار تھا۔ ان دونوں نے اللہ کے حضور قربانی دی۔ ہابیل نے کچھ جانور پیش کیے‘ جبکہ قابیل نے اناج نذر کیا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی مگر قابیل کی قبول نہیں ہوئی۔ اُس زمانے میں قربانی کی قبولیت کی علامت یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک شعلہ نیچے اترتا تھا اور وہ قربانی کی چیز کو جلا کر بھسم کر دیتا تھا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے قربانی کو قبول فرما لیا۔

قَالَ لَاَقۡتُلَنَّکَ ؕ

’’اُس نے کہا میں تمہیں قتل کر کے رہوں گا۔‘‘

قابیل نے‘ جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی‘ حسد کی آگ میں جل کر اپنے بھائی ہابیل سے کہا کہ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔

قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اُس نے جواب دیا کہ اللہ تو پرہیزگاروں ہی سے قبول کرتا ہے۔‘‘

ہابیل نے کہا بھائی جان ‘اس میں میرا کیا قصورہے ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ وہ صرف اپنے متقی بندوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔

آیت 28

لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقۡتُلَنِیۡ

’’اگر آپ اپنا ہاتھ چلائیں گے مجھ پر مجھے قتل کرنے کے لیے‘‘

مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقۡتُلَکَ ۚ

’’(تب بھی) میں اپنا ہاتھ نہیں چلائوں گا آپ کو قتل کرنے کے لیے۔‘‘

یعنی اگر ایسا ہواتو یہ یک طرفہ قتل ہی ہوگا ۔

اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾

’’مجھے تو اللہ کا خوف ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

آیت 29

اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓاَ بِاِثۡمِیۡ وَ اِثۡمِکَ

’’میں چاہتا ہوںکہ میرا اور اپنا گناہ تم ہی اپنے سر لے‘لو‘‘

فَتَکُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۚ

’’تو پھر تم ہو جائو گے جہنم والوں میں سے۔‘‘

اگر آپ اس انتہا تک پہنچ جائیں گے کہ مجھے قتل کر ہی دیں گے تو آپ اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ میری خطائوں کا بوجھ بھی اپنے سر اٹھا لیں گے ۔ ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنے والاگویا مقتول کے تمام گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر اُٹھا لیتا ہے۔ یعنی اگر آپ مجھے نا حق قتل کریں گے تو میرے گناہوں کا وبال بھی آپ کے سر ہو گااور میرے لیے تو یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ البتہ اس جرم کی وجہ سے آپ جہنمی ہو جائیں گے۔

وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾

’’اور یہی بدلہ ہے ظالموں کا ۔‘‘

آیت 30

فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ

’’بالآخراُس کے نفس نے آمادہ کر ہی لیا اسے اپنے بھائی کے قتل پر ‘‘

ان الفاظ کے بین السطور اس کے ضمیر کی کش مکش کا مکمل نقشہ موجود ہے ۔ ایک طرف اللہ کا خوف‘ نیکی کا جذبہ‘ خون کا رشتہ اور دوسری طرف شیطانی ترغیب‘حسد کی آگ اور نفسانی خواہش کی اُکساہٹ۔اور پھر بالآخر اس اندرونی کشمکش میں اس کا نفس جیت ہی گیا ۔

فَقَتَلَہٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾

’’تو اس نے اسے قتل کر دیا اورہو گیا تباہ ہونے والوں میں سے۔‘‘

آیت 31

فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبۡحَثُ فِی الۡاَرۡضِ

‘ ’’ تو اللہ نے ایک کو ا بھیجا جو زمین کریدنے لگا‘‘

یہ پہلا خون تھا جو نسلِ آدم میں ہوا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل تو کر دیا لیکن اب اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بھائی کی لاش کا کیا کرے‘ اسے کیسے dispose off کرے ‘تو اللہ تعالیٰ نے ایک کو ے کو بھیج دیا جو اُس کے سامنے اپنی چونچ سے زمین کھودنے لگا۔

لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوۡءَۃَ اَخِیۡہِ ؕ

’’تاکہ (اللہ) اسے دکھادے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے‘چھپائے۔‘‘

کو ے کے زمین کھودنے کے عمل سے اسے سمجھ آجائے کہ زمین کھود کر لاش کو دفن کیا جا سکتا ہے ۔

قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِثۡلَ ہٰذَا الۡغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوۡءَۃَ اَخِیۡ ۚ

’’(یہ دیکھا تو) اُس نے کہا ہائے میری شامت! میں اس کو ے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا۔‘‘

افسوس مجھ پر! کیا میرے اندر اس کو ے جیسی عقل بھی نہ تھی کہ یہ طریقہ مجھے خود ہی سوجھ جاتا ۔

فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿ۚۛۙ۳۱﴾

’’پھر وہ بہت پشیمان ہوا۔‘‘

اس احساس پر اس کے اندر بڑی شدید ندامت پیدا ہوئی۔

32

انسانی جان کی حرمت

ویڈیو

مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ﴿۳۲﴾

آیت 32

مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ

‘ ’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (تورات میں) یہ بات لکھ دی تھی‘‘

مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ

والا فقرہ پچھلی آیت کے ساتھ بھی پڑھا جا سکتا ہے اور اس آیت کے ساتھ بھی ‘یہ دونوں طرف بامعنی بن سکتا ہے۔

اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ

’’کہ جس کسی نے کسی انسان کو قتل کیابغیر کسی قتل کے قصاص کے‘‘

یعنی اگر کسی نے قتل کیا ہے اور وہ اس کے قصاص میں قتل کیا جائے تو یہ قتل ناحق نہیں ہے۔

اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ

’’یابغیر زمین میں فساد پھیلانے (کے جرم کی سزا) کے‘‘

اگر کوئی شخص ملک میں فساد پھیلانے کا مجرم ہے اور اسے اس جرم کی سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے تو اس کاقتل بھی قتلِ نا حق نہیں۔ لیکن ان صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے کسی بے قصور انسان کا قتل کر دیا۔

فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ

’’گویااُس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔‘‘

اُس کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسے اُس نے پوری نوعِ انسانی کو تہ تیغ کر دیا۔ اس لیے کہ اُس نے قتلِ ناحق سے تمدن و معاشرت کی جڑ کاٹ ڈالی ۔جان اور مال کا احترام ہی تو تمدن کی جڑ اور بنیاد ہے۔

وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ

’’اور جس نے اُس (کسی ایک انسان) کی جان بچائی تو گویا اُس نے پوری نوعِ انسانی کو زندہ کر دیا۔‘‘

وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫

’ ’اور ان کے پاس ہمارے رسول آئے تھے واضح نشانیاں لے کر‘‘

ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’لیکن اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے پھر رہے ہیں۔‘‘

اب ’’آیتِ محاربہ‘‘ آرہی ہے جو اسلامی قوانین کے لحاظ سے بہت اہم آیت ہے ۔ محاربہ یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں کوئی گروہ فتنہ و فساد مچا رہا ہے‘ دہشت گردی کر رہا ہے‘ خونریزی اور قتل و غارت کر رہا ہے ‘راہزنی اور ڈاکہ زنی کر رہا ہے‘ گینگ ریپ ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں ایسے لوگوں کی سزا بیان ہوئی ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ اسلامی ریاست کی بات ہو رہی ہے‘جہاں اسلامی قانون نافذ ہو‘ جہاں اسلام کا پورا نظام قائم ہو۔ ورنہ اگر نظام ایسا ہوکہ جھوٹی گواہیاں دینے والے کھلے عام سودے کر رہے ہوں‘ ایمان فروش موجود ہوں‘ ججوں کو خریدا جاسکتا ہو اور ایسے نظام کے تحت شرعی قوانین کا نفاذ کر دیا جائے تو پھر اس سے جو نتائج نکلیں گے ان سے شریعت الٹا بدنام ہو گی۔ لہٰذا ریاست میں حکومتی نظام اور مروّجہ قوانین دونوں کا درست ہونا لازمی ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو یہ دونوں ایک دوسرے کو مضبوط و مستحکم کریں گے اور اسی صورت میں مطلوبہ نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔

33-34

دہشت گردی کی سزا

ویڈیو

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۳۳﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۚ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾

آیت 33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ

‘ ’’یہی ہے سزا اُن لوگوں کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ اور اُس کے رسول سے ‘‘

یعنی اسلامی ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتے ہیں۔

وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا

’’اور زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں‘‘

اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا

’’کہ انہیں (عبرت ناک طور پر)قتل کیا جائے ‘‘

واضح رہے کہ یہاں فعل یُـقْتَلُوْا استعمال نہیں ہوابلکہ یُـقَتَّـلُوْا ہے کہ ان کے ٹکڑے کیے‘جائیں ۔

اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا

’’یا انھیں سولی چڑھایا جائے‘‘

اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ

’’یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کاٹ دیے جائیں ‘‘

یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا ایک پاؤں کاٹا جائے۔

اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’یا انھیں ملک بدر کر دیا جائے ۔‘‘

ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا

‘ ’’یہ تو ان کے لیے دُنیا کی زندگی میں رسوائی ہے‘‘

وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۳۳﴾

’’اور آخرت میں ان کے لیے (مزید ) بہت بڑا عذاب ہے ۔‘‘

آیت 34

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۚ

’’سوائے اُن کے جو توبہ کرلیں اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔‘‘

یعنی پکڑے جانے سے پہلے ایسے لوگ اگر توبہ کر لیں تو ان کے لیے رعایت کی گنجائش ہے ‘لیکن جب پکڑ لیے گئے تو توبہ کا دروازہ بند ہو گیا ۔

فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۳۴﴾

’’پس جان لو کہ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمانے والا ‘ مہربان‘ہے۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوراج کے ساتھ یہی معاملہ کیا تھا کہ اگر تم اپنے غلط عقیدے کو اپنے تک رکھو تو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا‘ لیکن اگر تم خونریزی کرو گے‘ قتل و غارت کرو گے تو پھر تمہارے ساتھ رعایت نہیں کی‘جا سکتی۔

35

اللہ کی قربت کیسے حاصل ہوتی ہے؟

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۵﴾

آیت 35

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ

’’ اے اہلِ ایمان‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی جناب میں اس کا قرب تلاش کرو ‘‘

یہاں لفظ’’وسیلہ‘‘قابلِ غور ہے اور اس لفظ نے کافی لوگوں کو پریشان بھی کیا ہے۔ لفظ ’’وسیلہ‘‘ اردو میں تو ’’ذریعہ‘‘ کے معنی میں آتا ہے‘ یعنی کسی تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ بنا لینا‘ سفارش کے لیے کسی کو وسیلہ بنا لینا۔لیکن عربی زبان میں ’’وسیلہ‘‘کے معنی ہیں ’’قرب‘‘۔ بعض الفاظ ایسے ہیں جن کاعربی میں مفہوم کچھ اور ہے جبکہ اردو میں کچھ اور ہے۔جیسے لفظ ’’ذلیل‘‘ ہے‘ عربی میں اس کے معنی ’’کمزور‘‘جبکہ اردو میں ’’کمینے‘‘کے ہیں۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں: {وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ } (آل عمران:۱۲۳) یعنی اے مسلمانو!یاد کرو اللہ نے تمہاری مدد کی تھی بدر میں جب کہ تم بہت کمزور تھے۔ اب اگر یہاں ذلیل کا ترجمہ اردو والا کر دیا جائے تو ہمارے ایمان کے لالے پڑ جائیں گے۔اسی طرح عربی میں ’’جہل‘‘ کے معنی جذباتی ہونا ہے‘ اَن پڑھ ہونا نہیں۔ ایک پڑھا لکھا شخص بھی جاہل یعنی جذباتی‘ اکھڑ مزاج ہو سکتا ہے لیکن اردو میں جاہل عالم کا متضاد ہے‘ یعنی جو اَن پڑھ ہو۔ اسی طرح کا معاملہ لفظ ’’وسیلہ‘‘ کاہے ۔اس کا اصل مفہوم ’’قرب‘‘ ہے اور یہاں بھی یہی مراد لیا جائے گا۔ یہاں ارشاد ہواہے:

’’اے ایمان والو‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور (آگے بڑھ کر) اس کاقرب تلاش کرو‘‘

تقویٰ کے معنی ہیں اللہ کے غضب سے‘ اللہ کی ناراضگی سے اور اللہ کے احکام توڑنے سے بچنا۔ یہ ایک منفی محرک ہے‘ جبکہ قربِ الٰہی کی طلب ایک مثبت محرک ہے کہ اللہ کے نزدیک سے نزدیک تر ہوتے چلے جاؤ۔ لیکن اس کے قرب کا ذریعہ کیا ہو گا؟

وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۵﴾

’’اوراُس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

اس سے بات بالکل واضح ہو گئی کہ تقر ب الی اللہ کے لیے جہاد کرو۔ تقویٰ شرطِ لازم ہے۔ یعنی پہلے جو حرام چیزیں ہیں ان سے اپنے آپ کو بچاؤ‘جن چیزوں سے روک دیا گیا ہے ان سے رک جاؤاور اللہ کی نافرمانی سے باز آ جاؤ۔اور پھر اس کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی راہ میں جدوجہد کرو۔

36-37

کافر جہنم سے نہیں نکل سکتے

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لِیَفۡتَدُوۡا بِہٖ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡہُمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۳۶﴾ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۷﴾

آیت 36

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ اَنَّ لَہُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ

’’یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ‘اگر ان کے پاس وہ ساری دولت ہوجوکہ زمین میں ہے کل کی کل اور اس کے ساتھ اتنی ہی اور بھی ہو ‘‘

لِیَفۡتَدُوۡا بِہٖ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ

’’ (اور وہ چاہیں) کہ وہ اس کے ذریعے سے فدیہ دے کر چھوٹ سکیں قیامت کے دن کے عذاب سے‘‘

مَا تُقُبِّلَ مِنۡہُمۡ ۚ

’’تو ان سے ہر گز قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

یہ حکم گویا ’’تعلیق بالمحال ‘‘ہے کہ نہ ایسا ممکن ہے اور نہ ایسا ہو گا۔ لیکن بات کی سختی واضح کرنے کے لیے یہ انداز اپنایا گیا ہے اور آخری درجے میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ اگر بالفرض ان کے پاس اتنی دولت موجود بھی ہو تب بھی اللہ کے ہاں اُن کا فدیہ قبول نہیں ہو گا۔

وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۳۶﴾

’’اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 37

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمۡ بِخٰرِجِیۡنَ مِنۡہَا ۫

’’وہ چاہیں گے کہ آگ سے کسی طرح نکل جائیں لیکن نکل نہیں پائیں گے‘‘

وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۷﴾

’’اور ان کے لیے ہو گا قائم رہنے والا عذاب۔‘‘

یعنی ان کو مسلسل دائم اور قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔

38-41

چوری کے جرم کے لیے حد

ویڈیو

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۳۸﴾ فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۹﴾ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۰﴾ یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُہُمۡ ۚۛ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا ۚۛ سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ لَمۡ یَاۡتُوۡکَ ؕ یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوَاضِعِہٖ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِیۡتُمۡ ہٰذَا فَخُذُوۡہُ وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡہُ فَاحۡذَرُوۡا ؕ وَ مَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتۡنَتَہٗ فَلَنۡ تَمۡلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یُّطَہِّرَ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ ۚۖ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۴۱﴾

آیت 38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا

’’اور چور خواہ مرد ہو یا عورت‘ ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘

یعنی چور کا ایک ہاتھ کاٹ دو۔

جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا

’’یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا‘‘

نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ

’’اور عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے۔‘‘

دیکھئے قرآن خود اپنی حفاظت کس طرح کرتا ہے اور کیوں چیلنج کرتا ہے کہ اس کلام پر باطل حملہ آور نہیں ہوسکتا کسی بھی جانب سے (حٰمٓ السجدہ:۴۲)۔ ذرا ملاحظہ کیجیے اس آیت کے ضمن میں غلام احمد پرویز صاحب کہتے ہیں کہ یہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطلب ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں کسی کو چوری کی ضرورت ہی نہ پڑے۔یہ تو ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسا نظام ہو‘ ریاست کی طرف سے کفالتِ عامہ کی سہولت موجود ہو تاکہ کوئی شخص مجبوراً چوری نہ کرے ‘لیکن ’’فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا‘‘ کے الفاظ سے جو مطلب پرویز صاحب نے نکالا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اور اگر فرض کر لیں کہ ایسا ہی ہے تو پھر {جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا } (یہ بدلہ ہے ان کی اپنی کمائی کا ) کی کیا تاویل ہو گی؟ یعنی جو کمائی انہوں نے کی ہے اس کا بدلہ یہ ہے کہ ایک اچھا نظام قائم کر دیا جائے؟اس کے بعد پھر {نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ } کے الفاظ مزید آئے ہیں۔ ’’نکال‘‘ کہتے ہیں عبرتناک سزا کو۔ توکیا ایسے نظام کا قائم کرنا اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہو گی؟ آپ نے دیکھا قرآن کے معانی و مفہوم کی حفاظت کے لیے بھی الفاظ کے کیسے کیسے پہرے بٹھائے گئے ہیں!

دراصل حدودو تعزیرات کے فلسفے کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے لفظ ’’نکال‘‘ بہت اہم ہے۔ قرآن میں تعزیرات اور حدود کے سلسلے میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اگر سزا ہو گی تو عبرت ناک ہوگی۔اسلام میں شہادت کا قانون بہت سخت رکھا گیا ہے۔ ذرا سا شبہ ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے سزا کا نفاذ آسان نہیں۔لیکن اگر تمام مراحل طے کر کے جرم پوری طرح ثابت ہو جائے تو پھر سزا ایسی دی جائے کہ ایک کو سزا ملے اور لاکھوں کی آنکھیں کھل جائیں تاکہ آئندہ کسی کو جرم کرنے کی ہمت نہ ہو۔ یہ فلسفہ ہے اسلامی سزاؤں کا۔ یہ درحقیقت ایک تسدید (deterrence) ہے جس کے سبب معاشرے سے برائی کا استیصال کرنا ممکن ہے۔آج امریکہ جیسے (نام نہاد) مہذب معاشرے میں بھی آئے دن انتہائی گھناؤنے جرائم ہو رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ احتساب اور سزا کا نظام درست نہیں۔ لوگ جرم کرتے ہیں‘ سزا ہوتی ہے‘ جیل جاتے ہیں‘کچھ دن وہاں گزارنے کے بعد واپس آتے ہیں‘ پھرجرم کرتے ہیں‘ پھر جیل چلے جاتے ہیں۔جیل کیا ہے؟سرکاری مہمان داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاشروں میں جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔

وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۳۸﴾

’’اور اللہ زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 39

فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ

’’تو جس نے بھی توبہ کر لی اپنے اس ظلم کے بعد اور اصلاح کر لی تو اللہ ضرور قبول کرتا ہے اس کی توبہ کو۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۹﴾

’’ یقینا اللہ غفور ہے ‘رحیم ہے۔‘‘

لیکن اس توبہ سے جرم کی سزا دنیا میں ختم نہیں ہوگی۔یہ جرم ہے دنیا(قانون) کا اور گناہ ہے اللہ کا۔ جرم کی سزا دنیا میں ملے گی‘ گناہ کی سزا اللہ نے دینی ہے‘ اگر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اگر توبہ نہیں کی تو اس کی سزا بھی ملے گی۔

آیت 40

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی؟‘‘

یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ

’’وہ سزا دے گا جس کو چاہے گا اور بخش دے گاجس کو چاہے گا۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۰﴾

’’ اوراللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

اب یہاں پھر ذکر آ رہا ہے ان لوگوں کا جو دوغلی پالیسی پر کاربند تھے‘ لیکن سورۃ البقرۃ کی طرح یہاں بھی روئے سخن قطعیت کے ساتھ واضح نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس کا انطباق منافقین پر بھی ہو گا اور اہلِ کتاب پر بھی۔منافق اہل کتاب میں سے بھی تھے‘ جن کامیلان اسلام کی طرف بھی تھااور چاہتے بھی تھے کہ مسلمانوں میں شامل رہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں کو بھی چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ تو یہ لوگ جو ’’مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِک‘‘ کی مثال تھے‘ یہ دونوں طرف کے لوگ تھے۔

آیت 41

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ

’’اے نبی(ﷺ) یہ لوگ آپ کے لیے باعثِ رنج نہ ہوں جو کفر کی راہ میں بہت بھاگ دوڑ کر رہے ہیں‘‘

مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُہُمۡ ۚۛ

’’ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے توکہتے ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں‘ مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے ہیں۔‘‘

آپؐ ان لوگوں کی سرگرمیوں اور بھاگ دوڑ سے غمگین اور رنجیدۂ خاطر نہ ہوں۔

وَ مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا ۚۛ

’’اور اسی طرح کے لوگ یہودیوں میں سے بھی ہیں۔‘‘

سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ

’’یہ بڑے ہی غور سے سنتے ہیں جھوٹ کو‘‘

سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ لَمۡ یَاۡتُوۡکَ ؕ

’’اور یہ سنتے ہیں کچھ اور لوگوں کی خاطر جو آپ کے پاس نہیںآتے۔‘‘

یعنی ایک تویہ لوگ اپنے ’’شیاطین‘‘ کی جھوٹی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں‘ جیسے سورۃ البقرۃ (آیت۱۴) میں فرمایا: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۴﴾} ’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس توکہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو محض مذاق کر رہے ہیں‘‘۔ پھر یہ لوگ ان کی طرف سے جاسوس بن کر مسلمانوں کے ہاںآتے ہیں کہ یہاں سے سن کر ان کو رپورٹ دے سکیں کہ آج محمد(ﷺ) نے یہ کہا‘ آج آپ ؐ کی مجلس میں فلاں معاملہ ہوا۔ {سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ } کا ترجمہ دونوں طرح سے ہو سکتا ہے: ’’دوسری قوم کے لوگوں کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں‘‘ یا ’’سنتے ہیں دوسری قوم کے لوگوں کے لیے‘‘یعنی انہیں رپورٹ کرنے کے لیے ان کے جاسوس کی حیثیت سے۔ ان کے جو لیڈر اور شیاطین ہیں‘ وہ آپؐ کے پاس خودنہیں آتے اوریہ جو بین بین کے لوگ ہیں یہ آپؐ کے پاس آتے ہیں اور ان کے ذریعے سے جاسوسی کا یہ سارا معاملہ چل رہا ہے۔

یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوَاضِعِہٖ ۚ

’’وہ کلام کو پھیر دیتے ہیں اس کی جگہ سے اس کا موقع ومحل معین ہو جانے کے بعد۔‘‘

یَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِیۡتُمۡ ہٰذَا فَخُذُوۡہُ

’’وہ کہتے ہیں اگر تمہیں یہی (فیصلہ) مل جائے تو قبول کرلینا‘‘

وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡہُ فَاحۡذَرُوۡا ؕ

’’اور اگر یہ (فیصلہ) نہ ملے تو کنی کترا جانا۔‘‘

اہلِ کتاب کے سرداروں کو اگر کسی مقدمے کا فیصلہ مطلوب ہوتا تو اپنے لوگوں کو رسول‘اللہﷺ کے پاس بھیجتے اور پہلے سے انہیں بتا دیتے کہ اگر فیصلہ اس طرح ہو تو تم قبول کر لینا‘ ورنہ رد کر دینا۔ واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست اور پورے طو رپر ایک ہمہ گیر اسلامی حکومت دراصل فتح مکہ کے بعد قائم ہوئی اور یہ صورتِ حال اس سے پہلے کی تھی۔ ورنہ کسی ریاست میں دوہرا عدالتی نظام نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ جب چاہتے اپنے فیصلوں کے لیے حضور ﷺ کے پاس آ جاتے اور جب چاہتے کسی اور کے پاس چلے جاتے تھے۔ گویا بیک وقت دو متوازی نظام چل رہے تھے۔ ا سی لیے تو وہ لوگ یہ کہنے کی جسارت کرتے تھے کہ یہ فیصلہ ہوا تو قبول کر لینا‘ ورنہ نہیں۔

وَ مَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتۡنَتَہٗ فَلَنۡ تَمۡلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ

’’اورجس کواللہ ہی نے فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو تو تم اُس کے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اختیار نہیںرکھتے۔‘‘

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یُّطَہِّرَ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا چاہا ہی نہیں۔‘‘

لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ ۚۖ

’’ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے‘‘

وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۴۱﴾

’’اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘

42-43

زبان سے ایمان کا اظہار لیکن دل کی محرومی منافقت ہے

ویڈیو

سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ اَکّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ؕ فَاِنۡ جَآءُوۡکَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ فَلَنۡ یَّضُرُّوۡکَ شَیۡئًا ؕ وَ اِنۡ حَکَمۡتَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۴۲﴾ وَ کَیۡفَ یُحَکِّمُوۡنَکَ وَ عِنۡدَہُمُ التَّوۡرٰىۃُ فِیۡہَا حُکۡمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِکَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۳﴾

آیت 42

سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ

’’یہ خوب سننے والے ہیں جھوٹ کو‘‘

اَکّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ؕ

’’خوب کھانے والے ہیں حرام کو۔‘‘

فَاِنۡ جَآءُوۡکَ

’’پھر اگر یہ آپؐکے پاس (اپنا کوئی مقدمہ لے کر) آئیں‘‘

فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ ۚ

’’توآپؐ( کو اختیار ہے) خواہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں یا ان سے اعراض کریں۔‘‘

آپؐ کو یہ اختیار دیا جاتاہے کہ آپ چاہیں تو ان کا مقدمہ سنیں اور فیصلہ کر دیں اور چاہیں تو مقدمہ لینے ہی سے انکار کر دیں‘ کیونکہ ان کی نیت درست نہیں ہوتی اور وہ آپؐ‘ کا فیصلہ لینے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔لہٰذا ایسے لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ اندیشہ بھی تھا کہ وہ پراپیگنڈا کریں گے کہ دیکھو جی ہم تو گئے تھے محمد(ﷺ )کے پاس مقدمہ لے کر‘یہ کیسے نبی ہیں کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کو ہی تیار نہیں! اس ضمن میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورﷺ کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپؐ اس کی پرواہ نہ کریں۔

وَ اِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ فَلَنۡ یَّضُرُّوۡکَ شَیۡئًا ؕ

’’ اور اگر آپ ؐان سے اعراض کریں گے تو وہ آپؐ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔‘‘

یعنی ان کے مخالفانہ پراپیگنڈے سے قطعاًفکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

وَ اِنۡ حَکَمۡتَ فَاحۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ ؕ

’’اور اگر آپؐ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے عین مطابق فیصلہ کریں۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۴۲﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

آیت 43

وَ کَیۡفَ یُحَکِّمُوۡنَکَ

’’اور (اے نبیﷺ) یہ لوگ آپؐ کوکیسے حکم بناتے ہیں‘‘

وَ عِنۡدَہُمُ التَّوۡرٰىۃُ

’’جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے‘‘

فِیۡہَا حُکۡمُ اللّٰہِ

’’جس میں اللہ کا حکم موجود ہے‘‘

یہاں اللہ تعالیٰ نے یہود کی بدنیتی کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے کہ اگر ان کی نیت درست ہو تو تورات سے راہنمائی حاصل کر لیں۔

ثُمَّ یَتَوَلَّوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ؕ

’’پھر بھی وہ اس سے رو گردانی کرتے ہیں۔‘‘

وَ مَاۤ اُولٰٓئِکَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۳﴾

’’اور حقیقت میں یہ لوگ مؤمن نہیں ہیں۔‘‘

اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان سے تہی دست ہیں‘ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ یہ ہے ان کا اصل‘روگ۔

یوٹیوب پر دیکھیے