وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا
’’اور چور خواہ مرد ہو یا عورت‘ ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
یعنی چور کا ایک ہاتھ کاٹ دو۔
جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا
’’یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا‘‘
نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ
’’اور عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے۔‘‘
دیکھئے قرآن خود اپنی حفاظت کس طرح کرتا ہے اور کیوں چیلنج کرتا ہے کہ اس کلام پر باطل حملہ آور نہیں ہوسکتا کسی بھی جانب سے (حٰمٓ السجدہ:۴۲)۔ ذرا ملاحظہ کیجیے اس آیت کے ضمن میں غلام احمد پرویز صاحب کہتے ہیں کہ یہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطلب ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں کسی کو چوری کی ضرورت ہی نہ پڑے۔یہ تو ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسا نظام ہو‘ ریاست کی طرف سے کفالتِ عامہ کی سہولت موجود ہو تاکہ کوئی شخص مجبوراً چوری نہ کرے ‘لیکن ’’فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا‘‘ کے الفاظ سے جو مطلب پرویز صاحب نے نکالا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اور اگر فرض کر لیں کہ ایسا ہی ہے تو پھر {جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا } (یہ بدلہ ہے ان کی اپنی کمائی کا ) کی کیا تاویل ہو گی؟ یعنی جو کمائی انہوں نے کی ہے اس کا بدلہ یہ ہے کہ ایک اچھا نظام قائم کر دیا جائے؟اس کے بعد پھر {نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ؕ } کے الفاظ مزید آئے ہیں۔ ’’نکال‘‘ کہتے ہیں عبرتناک سزا کو۔ توکیا ایسے نظام کا قائم کرنا اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہو گی؟ آپ نے دیکھا قرآن کے معانی و مفہوم کی حفاظت کے لیے بھی الفاظ کے کیسے کیسے پہرے بٹھائے گئے ہیں!
دراصل حدودو تعزیرات کے فلسفے کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے لفظ ’’نکال‘‘ بہت اہم ہے۔ قرآن میں تعزیرات اور حدود کے سلسلے میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اگر سزا ہو گی تو عبرت ناک ہوگی۔اسلام میں شہادت کا قانون بہت سخت رکھا گیا ہے۔ ذرا سا شبہ ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے سزا کا نفاذ آسان نہیں۔لیکن اگر تمام مراحل طے کر کے جرم پوری طرح ثابت ہو جائے تو پھر سزا ایسی دی جائے کہ ایک کو سزا ملے اور لاکھوں کی آنکھیں کھل جائیں تاکہ آئندہ کسی کو جرم کرنے کی ہمت نہ ہو۔ یہ فلسفہ ہے اسلامی سزاؤں کا۔ یہ درحقیقت ایک تسدید (deterrence) ہے جس کے سبب معاشرے سے برائی کا استیصال کرنا ممکن ہے۔آج امریکہ جیسے (نام نہاد) مہذب معاشرے میں بھی آئے دن انتہائی گھناؤنے جرائم ہو رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ احتساب اور سزا کا نظام درست نہیں۔ لوگ جرم کرتے ہیں‘ سزا ہوتی ہے‘ جیل جاتے ہیں‘کچھ دن وہاں گزارنے کے بعد واپس آتے ہیں‘ پھرجرم کرتے ہیں‘ پھر جیل چلے جاتے ہیں۔جیل کیا ہے؟سرکاری مہمان داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاشروں میں جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۳۸﴾
’’اور اللہ زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘
فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَ اَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ
’’تو جس نے بھی توبہ کر لی اپنے اس ظلم کے بعد اور اصلاح کر لی تو اللہ ضرور قبول کرتا ہے اس کی توبہ کو۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۹﴾
’’ یقینا اللہ غفور ہے ‘رحیم ہے۔‘‘
لیکن اس توبہ سے جرم کی سزا دنیا میں ختم نہیں ہوگی۔یہ جرم ہے دنیا(قانون) کا اور گناہ ہے اللہ کا۔ جرم کی سزا دنیا میں ملے گی‘ گناہ کی سزا اللہ نے دینی ہے‘ اگر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اگر توبہ نہیں کی تو اس کی سزا بھی ملے گی۔
اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ
’’ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی؟‘‘
یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’وہ سزا دے گا جس کو چاہے گا اور بخش دے گاجس کو چاہے گا۔‘‘
وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۰﴾
’’ اوراللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اب یہاں پھر ذکر آ رہا ہے ان لوگوں کا جو دوغلی پالیسی پر کاربند تھے‘ لیکن سورۃ البقرۃ کی طرح یہاں بھی روئے سخن قطعیت کے ساتھ واضح نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس کا انطباق منافقین پر بھی ہو گا اور اہلِ کتاب پر بھی۔منافق اہل کتاب میں سے بھی تھے‘ جن کامیلان اسلام کی طرف بھی تھااور چاہتے بھی تھے کہ مسلمانوں میں شامل رہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں کو بھی چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ تو یہ لوگ جو ’’مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِک‘‘ کی مثال تھے‘ یہ دونوں طرف کے لوگ تھے۔
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ لَا یَحۡزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسَارِعُوۡنَ فِی الۡکُفۡرِ
’’اے نبی(ﷺ) یہ لوگ آپ کے لیے باعثِ رنج نہ ہوں جو کفر کی راہ میں بہت بھاگ دوڑ کر رہے ہیں‘‘
مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ لَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُہُمۡ ۚۛ
’’ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے توکہتے ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں‘ مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے ہیں۔‘‘
آپؐ ان لوگوں کی سرگرمیوں اور بھاگ دوڑ سے غمگین اور رنجیدۂ خاطر نہ ہوں۔
وَ مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا ۚۛ
’’اور اسی طرح کے لوگ یہودیوں میں سے بھی ہیں۔‘‘
سَمّٰعُوۡنَ لِلۡکَذِبِ
’’یہ بڑے ہی غور سے سنتے ہیں جھوٹ کو‘‘
سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ لَمۡ یَاۡتُوۡکَ ؕ
’’اور یہ سنتے ہیں کچھ اور لوگوں کی خاطر جو آپ کے پاس نہیںآتے۔‘‘
یعنی ایک تویہ لوگ اپنے ’’شیاطین‘‘ کی جھوٹی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں‘ جیسے سورۃ البقرۃ (آیت۱۴) میں فرمایا: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۴﴾} ’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس توکہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو محض مذاق کر رہے ہیں‘‘۔ پھر یہ لوگ ان کی طرف سے جاسوس بن کر مسلمانوں کے ہاںآتے ہیں کہ یہاں سے سن کر ان کو رپورٹ دے سکیں کہ آج محمد(ﷺ) نے یہ کہا‘ آج آپ ؐ کی مجلس میں فلاں معاملہ ہوا۔ {سَمّٰعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ } کا ترجمہ دونوں طرح سے ہو سکتا ہے: ’’دوسری قوم کے لوگوں کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں‘‘ یا ’’سنتے ہیں دوسری قوم کے لوگوں کے لیے‘‘یعنی انہیں رپورٹ کرنے کے لیے ان کے جاسوس کی حیثیت سے۔ ان کے جو لیڈر اور شیاطین ہیں‘ وہ آپؐ کے پاس خودنہیں آتے اوریہ جو بین بین کے لوگ ہیں یہ آپؐ کے پاس آتے ہیں اور ان کے ذریعے سے جاسوسی کا یہ سارا معاملہ چل رہا ہے۔
یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوَاضِعِہٖ ۚ
’’وہ کلام کو پھیر دیتے ہیں اس کی جگہ سے اس کا موقع ومحل معین ہو جانے کے بعد۔‘‘
یَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِیۡتُمۡ ہٰذَا فَخُذُوۡہُ
’’وہ کہتے ہیں اگر تمہیں یہی (فیصلہ) مل جائے تو قبول کرلینا‘‘
وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡہُ فَاحۡذَرُوۡا ؕ
’’اور اگر یہ (فیصلہ) نہ ملے تو کنی کترا جانا۔‘‘
اہلِ کتاب کے سرداروں کو اگر کسی مقدمے کا فیصلہ مطلوب ہوتا تو اپنے لوگوں کو رسول‘اللہﷺ کے پاس بھیجتے اور پہلے سے انہیں بتا دیتے کہ اگر فیصلہ اس طرح ہو تو تم قبول کر لینا‘ ورنہ رد کر دینا۔ واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست اور پورے طو رپر ایک ہمہ گیر اسلامی حکومت دراصل فتح مکہ کے بعد قائم ہوئی اور یہ صورتِ حال اس سے پہلے کی تھی۔ ورنہ کسی ریاست میں دوہرا عدالتی نظام نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ جب چاہتے اپنے فیصلوں کے لیے حضور ﷺ کے پاس آ جاتے اور جب چاہتے کسی اور کے پاس چلے جاتے تھے۔ گویا بیک وقت دو متوازی نظام چل رہے تھے۔ ا سی لیے تو وہ لوگ یہ کہنے کی جسارت کرتے تھے کہ یہ فیصلہ ہوا تو قبول کر لینا‘ ورنہ نہیں۔
وَ مَنۡ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتۡنَتَہٗ فَلَنۡ تَمۡلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ
’’اورجس کواللہ ہی نے فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو تو تم اُس کے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اختیار نہیںرکھتے۔‘‘
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُرِدِ اللّٰہُ اَنۡ یُّطَہِّرَ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا چاہا ہی نہیں۔‘‘
لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ ۚۖ
’’ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے‘‘
وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
’’اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘