’’ا ور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی میثاق لیاتھا ۔‘‘
یعنی اے مسلمانو! جس طرح آج تم سے یہ میثاق لیا گیا ہے اور اللہ نے تمہیں شریعت کے میثاق میں باندھ لیا ہے ‘ بالکل اسی طرح کا میثاق اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی لیا تھا۔
وَ بَعَثۡنَا مِنۡہُمُ اثۡنَیۡ عَشَرَ نَقِیۡبًا ؕ
’’اور ان میں ہم نے مقرر کیے تھے بارہ نقیب۔‘‘
بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ‘ ہر قبیلے میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک نقیب مقرر کیا۔ نبی اکرمﷺ نے بھی انصار میں بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے‘ نو خزرج میں سے اور تین اوس میں سے۔
وَ قَالَ اللّٰہُ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ ؕ
’’اور اللہ نے (ان سے) فرمایا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ‘‘
میری مدد‘ میری تائید‘ میری نصرت تمہارے شاملِ حال رہے گی ۔
’’اگر تم نے نماز کو قائم رکھا اورتم زکوٰۃ اداکرتے رہے ‘‘
وَ اٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِیۡ
’’ اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے ‘‘
وَ عَزَّرۡتُمُوۡہُمۡ
’’اور ان(رسولوں) کی تم مدد کرتے رہے‘‘
یہ ان رسولوں کاذکرہے جو پے در پے بنی اسرائیل میں آتے رہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تو بنی اسرائیل میں رسالت کا یہ سلسلہ ایک تار کی مانند تھا جو چھ سو برس تک ٹوٹا ہی نہیں۔ پھر ذرا سا وقفہ چھ سوبرس کا آیا اور اس کے بعد نبی آخر الزماں ﷺ تشریف لائے۔
وَ اَقۡرَضۡتُمُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا
’’اور(اگر) تم اللہ کو قرضِ حسنہ دیتے رہے‘‘
یعنی اللہ کے دین کے لیے مال خرچ کرتے رہے ۔
لَّاُکَفِّرَنَّ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ
‘ ’’تو میں لازماً دور کردوں گا تم سے تمہاری برائیاں‘‘
’ ’پس ان کے اپنے اس عہد کو توڑنے کے باعث ہم نے ان پر لعنت فرمائی‘‘
قبل ازیں سورۃالنساء آیت۱۵۵ میں ’’لَـعَنّٰـہُمْ‘‘ کے محذوف ہونے کا ذکر ہوا تھا ‘لیکن یہاں پر یہ واضح ہوکر آ گیا ہے کہ ہم نے ان کے اس میثاق کو توڑنے کی پاداش میں اُن پر لعنت فرمائی۔
وَ جَعَلۡنَا قُلُوۡبَہُمۡ قٰسِیَۃً ۚ
’’اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا ۔‘‘
جیسے سورۃ البقرہ (آیت۷۴) میں فرمایا : {ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ} ’’پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس کے بعد ‘پتھروں کی طرح بلکہ پتھروں سے بھی بڑھ کر سخت‘‘۔ یہا ں پر وہی بات دہرائی گئی ہے۔
یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۙ
’’ وہ کلام کو اس کے اصل مقام سے ہٹاتے‘تھے‘‘
وَ نَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ ۚ
’’اور جو کچھ ان کو دیا گیا تھا نصیحت کے طور پر اس کے اکثر حصے کووہ بھول گئے ۔‘‘
’’اور (اے نبیﷺ!)آپ ہمیشہ ان کی طرف سے خیانت کی اطلاع پاتے رہیں گے‘‘
رسول اللہﷺ جیسے ہی مدینہ پہنچے تھے تو آپ ﷺ نے اس نئی جگہ پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پہلے چھ مہینوں میں جو تین کام کیے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپؐ نے یہود کے تینوں قبیلوں سے مدینہ کے مشترکہ دفاع کے معاہدے کر لیے کہ اگر مدینے پر حملہ ہوگا تو سب مل کراس کا دفاع کریں گے‘ لیکن بعد میں ان میں سے ہر قبیلے نے ایک ایک کرکے غداری کی ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺسے فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی طرف سے مسلسل خیانتیں ہوتی رہیں گی‘ لہٰذاآپ کو ان کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کی سازشوں کا توڑ کرنے کے لیے پہلے سے تیار رہناچاہیے۔
اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ
’’ سوائے ان میں سے چند ایک کے‘‘
ان میں سے بہت تھوڑے لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اصۡفَحۡ ؕ
‘’’ لہٰذا(ابھی) آپ ؐانھیں معاف کرتے رہیں اور درگزر سے کام‘لیں۔ ‘‘
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
‘’’یقینا اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘
‘’’تو ہم نے ڈال دی ان کے درمیان دشمنی اوربغض قیامت کے دن تک ۔‘‘
اس میں عیسائیوں کی یہودیوں کے ساتھ دشمنی کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان پورے انیس سو برس شدید دشمنی رہی ہے۔ موجودہ دور میں صورتِ حال عارضی طور پر کچھ تبدیل ہو گئی ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بلکہ خدا سمجھتے ہیں جبکہ یہودیوں نے انہیں ولد الزنا قرار دیا اور کافر و مرتد کہتے ہوئے واجب القتل ٹھہرایا۔ یہ بنیادی اختلاف دونوں مذاہب کے پیروکاروں میں اس قدر اہم اور شدید ہے کہ اس کی موجودگی میں دونوں میں اتحاد و اتفاق ممکن ہی نہیں۔ لیکن آیت زیرنظرمیں بنیادی طور پر عیسائیوں کی آپس کی دشمنی اور ان کا باہمی بغض و عناد مراد ہے۔ ان کے مختلف فرقوں کے درمیان نظر یاتی اختلافات ان کی دلی کدورتوں اور نفرتوں سے بڑھ کر بارہا باہمی جنگ و جدل کی شکل میں نمودار ہوتے رہے ہیں۔مذہبی بنیادوں پر عیسائی فرقوں کی آپس کی خانہ جنگیوں کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مذہب کے نام پر عیسائیوں کی خون ریزی اور قتل و غارت گری کی عبرت آموز اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی تفصیلات ’’Blood on the Cross ‘‘ نامی ضخیم کتاب میں ملتی ہیں‘ جو لندن سے شائع ہوئی ہے۔ خاص طور پر پروٹسٹنٹس (Protestants) اور کیتھولکس (Catholics) کی باہمی چپقلش تو کوئی پوشیدہ رازنہیں ‘جس کی ہلکی سی جھلک آج بھی ہمیں آئرلینڈ میں نظر آتی ہے۔
’’آچکا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور بھی اور ایک روشن کتاب بھی ۔‘‘
یہاں نور سے مراد نبی اکرمﷺکی شخصیت بھی ہو سکتی ہے۔ سورۃ النساء‘ آیت۱۷۴ میں جوفرمایا گیا: {وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾} ’’اورنازل کر دیا ہے ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور‘‘ وہاں نور سے مراد قرآن ہے‘ اس لیے کہ حضور ﷺ کے لیے فعل اَنْزَلْـنَا درست نہیں۔ لیکن یہاں زیادہ احتمال یہی ہے کہ نور سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے‘ یعنی آپﷺ کی روحِ پرنور۔ آپ ﷺ کی روح اور روحانیت آپﷺ کے پورے وجود پر غالب تھی‘ اس لحاظ سے آپﷺ کو نورِ مجسم بھی کہا جاسکتا ہے۔چنانچہ ایک رائے یہ ہے کہ اس آیت میں آپﷺ کواستعارۃً ’’نور‘‘ کہا گیا ہے۔ البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں نور بھی قرآن پاک ہی کو کہا گیا ہو اور ’’و‘‘ اس میں واؤ تفسیری ہو ۔ اس صورت میں مفہوم یوں ہو گا: ’’آگیا ہے تمہارے پاس نور یعنی کتابِ مبین۔‘‘
’’یقینا کفر کیا انہوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابنِ مریم ہے۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے ہاں جودو عقیدے رہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ ہی مسیحؑ ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ خدا خود ہی انسانی شکل میں ظہور کر لیتا ہے۔ اس عقیدے کو God Incarnate کہا جاتا ہے‘ یعنی اوتار کا عقیدہ جو ہندوئوں میں بھی رائج ہے۔ جیسے رام چندر جی ‘ کرشن جی مہاراج اُن کے ہاں خدا کے اوتار مانے جاتے ہیں۔ چنانچہ عیسائیوں کا فرقہ Jacobites خاص طور پر God Incarnate کے عقیدے کا سختی سے قائل رہا ہے‘ کہ اصل میں اللہ ہی نے حضرت مسیحؑ کی شکل میں دنیا میں ظہور فرمایا۔جیسے ہمارے ہاں بھی بعض لوگ نبی مکرمﷺ کی محبت و عقیدت اور عظمت کے اظہار میں غلو سے کام لے کر حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہاں تک کہہ جاتے ہیں: ؎
وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر
اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیؐ ہو کر
اس آیت میں عیسائیوں کے اسی عقیدے کا ابطال کیا گیا ہے۔
قُلۡ فَمَنۡ یَّمۡلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا
’’تو ان سے پوچھئے کون ہے جسے اختیار ہو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی ‘‘
’’ یہودی اور نصرانی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیںاور اُس کے بڑے چہیتے ہیں۔‘‘
یعنی بیٹوں کی مانند ہیں ‘بڑے لاڈلے اور پیارے ہیں۔
قُلۡ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمۡ بِذُنُوۡبِکُمۡ ؕ
’’(تو ان سے )کہیے کہ پھر وہ تمہیں عذاب کیوں دیتا رہا ہے تمہارے گناہوں کی پاداش میں؟‘‘
اگر تم اللہ کی اولاد ہو‘ اُس کے بڑے چہیتے ہو‘ تو کیا اسی لیے بخت نصر (Nebukadnezar) کے ہاتھوں اُس نے تمہیں پٹوایاتھا۔ اس نے تمہارے چھ لاکھ افراد قتل کر وا دیے تھے‘ چھ لاکھ قیدی بنا لیے تھے اور تمہارا ہیکلِ اوّل بھی شہید کر دیا تھا۔ پھر آشوریوں نے تمہاریِ سلطنت اسرائیل کو روند ڈالا۔ پھریونانیوں کے ہاتھوں تمہاراا ستحصال ہوا۔ پھر رومیوں نے تمہارے اوپر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اور رومن جنرل طیطس (Titus) نے تمہارا دوسرا ہیکل بھی مسمار کر دیا۔ کیاایسے ہی لاڈلے ہوتے ہیں اللہ کے؟کیا اللہ اتنا ہی لاچار اور عاجز ہے کہ اپنے لاڈلوں کو ذلت و خواری اور ظلم و ستم سے بچا نہیں سکتا؟
بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ ؕ
’’(نہیں)بلکہ تم بھی انسان ہو جیسے دوسرے انسان اس نے پیدا کیے ہیں۔‘‘
’’جو تمہارے لیے (دین کو) واضح کر رہا ہے ‘ رسولوں کے ایک وقفے کے بعد‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورٌ محمد رسول اللہﷺ کے درمیان چھ سو برس ایسے گزرے ہیں کہ اس دوران دنیا میں کوئی نبی‘ کوئی رسول نہیں رہا۔ اس وقفے کو اصطلاح میں ’فترت ‘کہا جاتا ہے۔ پھر حضور ﷺ کی بعثت ہوئی اور پھراس کے بعد تاقیامِ قیامت رسالت کا دروازہ بند ہو گیا۔
’’مبادا تم کہو کہ ہمارے پاس تو آیا ہی نہیں تھا کوئی بشارت دینے والا اور نہ کوئی خبردار کرنے والا‘‘
فَقَدۡ جَآءَکُمۡ بَشِیۡرٌ وَّ نَذِیۡرٌ ؕ
’’تو (سن لو!) آگیا ہے تمہارے پاس بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔‘‘
وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿٪۱۹﴾
’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘
سورۃ النساء میں یہی بات اس انداز سے بیان ہو چکی ہے : {رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾} ’’یہ رسول ؑ( بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کرتا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت( دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد۔اور اللہ زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘
720-24
بنی اسرائیل کا نفاذِ شریعت کے لیے قتال کرنے سے انکار
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ واقعہ آ رہا ہے جب آپؑ مصر سے اپنی قوم کو لے کر نکلے‘ صحرائے سینا میں رہے‘ آپؑ کو کوہِ طو رپر بلایا گیااور تورات دی گئی ۔ اس کے بعد آپؑ کو حکم ہوا کہ فلسطین میں داخل ہو جاؤاور وہاں پر آباد مشرک اور کافر قوم (جو فلسطی کہلاتے تھے) کے ساتھ جنگ کرواور انہیں وہاں سے نکالو ‘کیونکہ یہ ارضِ مقدس تمہارے لیے اللہ کی طرف سے موعود ہے۔ ان کے جدِ امجدحضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام کا تعلق اس خطہ سے تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے بنی اسرائیل مصر میں منتقل ہوئے ۔ پھر جب حضرت موسیٰ ؑانہیں مصر سے لے کر نکلے تو انہیں حکم ہوا کہ اب جاؤ‘ اپنے اصل گھر (ارضِ‘فلسطین) کو دوبارہ حاصل کرو۔ لیکن جب جنگ کا موقع آیا تو پوری قوم نے کورا جواب دے دیاکہ ہم جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جو تلخی پیدا ہوئی اور طبیعت کے اندر بے زار ی کی جو کیفیت پیدا ہوئی ‘اس کی شدت یہاں نظر آتی ہے۔ عام طو رپر سمجھا جاتا ہے کہ رسول اپنی اُمت کے حق میں سراپا شفقت ہوتا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کی مانند ہے۔ جیسے اللہ رؤف بھی ہے ‘ وَدُود بھی‘لیکن ساتھ ہی وہ عزیزٌ ذُوانتقام بھی ہے (اللہ کی یہ دونوں شانیں ایک ساتھ ہیں) اسی طرح رسول کا معاملہ ہے کہ رسول شفیق اور رحیم ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہوتا ہے ۔اس کے دل میں دین کی غیرت اپنے پیروکاروں سے کہیں بڑھ کرہوتی ہے ۔لہٰذا قوم کے منفی ردّ عمل پر نبی کی بے زاری لازمی ہے ۔
یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو پے درپے معجزات کے ظہور نے تساہل پسند بنادیا تھا۔ پیاس لگی تو چٹان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک ہی ضرب سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ‘بھوک محسوس ہوئی تومن و سلویٰ نازل ہو گیا‘دھوپ نے ستایا تواَبر کا سائبان ساتھ ساتھ چل پڑا‘ سمندر راستے میں آیا تو عصا کی ضرب سے راستہ بن گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس لاڈ پیار کی وجہ سے وہ آرام طلب ہو گئے تھے اور مشکل کی ہر گھڑی میں انہیں معجزے کے ظہور کی عادت سی پڑ گئی تھی۔ بہرحال جنگ کے اس موقع پر انہوں نے دشمن کا سامنا کرنے سے صاف انکار کر دیا‘ باوجودیکہ اس وقت اُن کے کم‘ازکم ایک لاکھ افراد تو ایسے تھے جو جنگ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی حکمت ہے کہ محمدرسول‘اللہﷺ کی پوری زندگی میں اس قسم کا کوئی معجزہ نظر نہیں آتا‘ بلکہ یہاں تو یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ مسلمانو! تمہیں جو کچھ کرنا ہے اپنی جان دے کر‘ ایثار و قربانی سے‘ محنت و مشقت سے‘ بھوک جھیل کر اور فاقے برداشت کر کے کرنا ہے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے برعکس رسول اللہﷺ کے‘ساتھیوں میں ایثار و قربانی‘ جرأت و بہادری اور بلندہمتی کا جذبہ موجزن نظر آتا ہے ‘جس کی واضح مثال غزوئہ بدرکے موقع پر حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے :
’’یارسول اللہؐ! ہم آپؐ سے بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپؐ کا رب جا کر قتال کرو ہم تویہاں بیٹھے ہیں ۔ بلکہ (ہم کہیں گے) آپؐ قدم بڑھایئے‘ ہم آپؐ کے ساتھ ہیں! اس پر گویا رسول اللہﷺ کی پریشانی کا ازالہ ہو گیا۔‘‘
(۱)صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّـکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا‘قَاعِدُوْنَ۔
آیت 20
وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ
’’اور یاد کرو جب کہا موسٰی ؑنے اپنی قوم سے ‘‘
یٰقَوۡمِ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ
’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کے اُس انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے‘‘
اِذۡ جَعَلَ فِیۡکُمۡ اَنۡۢبِیَآءَ
’’جب اُس نے تمہارے اندر نبی اٹھائے‘‘
یعنی خود میں نبی ہوں‘ میرے بھائی ہارون نبی ہیں ۔ حضرت یوسف‘ حضرت یعقوب‘ حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سب نبی تھے۔
وَ جَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا ٭ۖ
’’اور تمہیں بادشاہ بنایا‘‘
اگرچہ اُس وقت تک اُن کی بادشاہت تو قائم نہیں ہوئی تھی مگر ہو سکتا ہے کہ یہ پیشین گوئی ہو کہ آئندہ تمہیں اللہ تعالیٰ زمین کی سلطنت اور خلافت عطا کرنے والا ہے۔ چنانچہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہاںحضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی طرف اشارہ ہے ‘آپؑ اگرچہ مصر کے بادشاہ تو نہیں تھے لیکن بادشاہوں کے بھی مخدوم و ممدوح تھے۔ آپؑ کی اس حیثیت کی وجہ سے بنی اسرائیل کو مصر میں پیرزادوں کا سا مقام و احترام حاصل ہو گیا تھا۔
’’ہا ں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوجائیں گے۔‘‘
آیت 23
قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ
’’کہا دو اشخاص نے جو (اللہ کا) خوف رکھنے والوں میں سے تھے‘‘
اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمَا
’’اور اللہ نے بھی ان دونوں پر انعام کیا تھا‘‘
یہ دو اشخاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد اور قریبی حواری تھے۔ ایک تو یوشع بن نون تھے‘ جو حضرت موسٰیؑ کے بعد ان کے جانشین بھی ہوئے اور گمانِ غالب ہے کہ وہ نبی بھی تھے‘ جبکہ دوسرے شخص کالب بن یفنّا تھے۔ ان دونوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانا چاہا کہ ہمت کرو :
ادۡخُلُوۡا عَلَیۡہِمُ الۡبَابَ ۚ
’’ تم ان کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ۔‘‘
تم لوگ ایک دفعہ دروازے میں گھس کر ان کا سامنا تو کرو۔
فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡہُ فَاِنَّکُمۡ غٰلِبُوۡنَ ۬ۚ
’’اور جب تم اس میں داخل ہو گے تو لازماً تم غالب ہوجاؤ گے ۔‘‘
’’انہوں نے کہا اے موسیٰ ہم تو ہرگز اس شہر میں داخل نہیں ہوں گے‘‘
مَّا دَامُوۡا فِیۡہَا
’’جب تک کہ وہ اس میں موجود ہیں ‘‘
فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ
’’بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور جا کر قتال کرو‘‘
گویا وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ساتھ اپنی یہ لٹھیا بھی لیتے جائو ‘جس نے بڑے بڑے کارنامے دکھائے ہیں‘ اس کی مدد سے ان جباروں کو شکست دے دو۔
اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴿۲۴﴾
’’ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘
ہم تو یہاں ٹکے ہوئے ہیں‘ یہاں سے نہیں ہلیں گے‘ زمیں جنبد‘ نہ جنبد گل محمد!
مقامِ عبرت ہے! تورات ( Book of Exsodus) سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ بھگ چھ لاکھ افراد نکلے تھے۔ ان میں سے عورتیں‘بچے اور بوڑھے نکال دیں تو ایک لاکھ افراد تو جنگ کے قابل ہوں گے۔ مزید محتاط اندازہ لگائیں تو پچاس ہزار جنگجو تو دستیاب ہوسکتے تھے‘ مگر اس قوم کی پست ہمتی اور نظر یاتی کمزوری ملاحظہ ہو کہ چھ لاکھ کے ہجوم میں سے صرف دو اشخاص نے اللہ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ فاعتبروا یا اُولِی الابصار!
اب نبی کی بیزاری ملاحظہ فرمائیں۔وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہوں نے اپنے ہم قوم اسرائیلی کی مدافعت کرتے ہوئے ایک مکا رسید کر کے قبطی کی جان نکال دی تھی {فَوَکَزَہٗ مُوۡسٰی فَقَضٰی عَلَیۡہِ ٭۫ } ( القصص:۱۵) اب اپنی قوم سے کس قدر بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔
’’موسٰی ؑنے عرض کیا :پروردگار‘ مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی (ہارونؑ کی جان) کے ‘‘
باقی یہ پوری قوم انکار کر رہی ہے۔ میرا کسی پر کچھ زور نہیں ہے۔یہاں مضمون کی مناسبت سے سورۃ النساء کی آیت ۸۴ کے وہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے جن میں حضور ؐکے لیے حکم ہے : {فَقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَکَ وَ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ} (النساء :۸۴) ۔’’(اے نبی ﷺ!) آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجیے ‘ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہیں ‘البتہ اہل ایمان کو بھی ترغیب دیں‘‘۔ آپؐ پر کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے سوائے اپنی جان کے‘ البتہ آپؐ اہل ایمان کو جس قدر ترغیب و تشویق دلا سکتے ہیں دلائیں‘ان‘کے جذباتِ ایمانی کو جس جس انداز سے اپیل کرنا ممکن ہے کریں‘اوربس اس سے زیادہ آپؐ پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔
’’تو اب تفریق کردے ‘ہمارے اوران نافرمان لوگوں کے درمیان۔ ‘‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کے رویے سے اس درجہ آزردہ خاطر ہوئے کہ قوم سے علیحدگی کی تمنا کرنے لگے کہ میں اب ان ناہنجاروں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ انہوں نے تیری عطا کردہ کیا کچھ نعمتیں برتی ہیں اور میرے ہاتھوں سے کیا کیا معجزے یہ لوگ دیکھ چکے ہیں‘ اس کے باوجود ان کا یہ حال ہے تو مجھے ان سے علیحدہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی لیکن اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا۔
‘ ’’فرمایا اب یہ (ارضِ مقدس) حرام رہے گی ان پر چالیس سال تک۔‘‘
یہ ہماری طرف سے ان کی بزدلی کی سزا ہے۔ اگر یہ بزدلی نہ دکھاتے تو ارضِ فلسطین ابھی ان کو عطا کر دی جاتی‘ مگر اب یہ چالیس سال تک ان پر حرام رہے گی۔
یَتِیۡہُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ
’’یہ بھٹکتے پھریں گے زمین میں ۔‘‘
اس صحرائے سینا میں یہ چالیس سال تک مارے مارے پھرتے رہیں گے ۔
فَلَا تَاۡسَ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۶﴾
’’تو(اے موسٰی ؑ ) آپ افسوس نہ کریں اس فاسق قوم‘پر۔‘‘
اب آپ ان نافرمانوں کا غم نہ کھائیے۔ اب جو کچھ ان پر بیتے گی اس پر آپؑ کو ترس نہیں کھانا چاہیے۔ آپ بہرحال ان کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں‘ جب تک زندگی ہے آپ کو ان کے ساتھ رہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق بنی اسرائیل چالیس برس تک صحرائے سینا میں بھٹکتے پھرے۔ اس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے اور صحرا میں ایک نئی نسل پروان چڑھی جو خوئے غلامی سے مبّرا تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارون ؑ دونوں کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد حضرت یوشع بن نون کے عہدِ خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔
اب پانچویں رکوع میں قتلِ ناحق‘ ملک میں فساد پھیلانے اور چوری ڈاکے جیسے جرائم کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر اور پھر ان کی سزاؤں کا ذکر ہوگا۔