یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ؕ
’’اے اہلِ ایمان! اپنے عہد و پیمان (قول و قرار )کو پورا کیا کرو۔‘‘
عقدہ گرہ کو کہتے ہیں جس میں مضبوطی سے بندھنے کا مفہوم شامل ہے۔ لہٰذا ’’عُقُود‘‘ سے مراد وہ معاہدے ہیں جو باقاعدہ طے پاگئے ہوں۔معاہدوں اور قول و قرار کی اہمیت یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری پوری کی پوری سماجی و معاشرتی زندگی قائم ہی معاہدوں پر ہے۔ معاشرتی زندگی کا بنیادی یونٹ ایک خاند ان ہے‘ جس کی بنیاد ایک معاہدے پر رکھی جاتی ہے۔ شادی کیا ہے ؟ مرد اور عورت کے درمیان ایک ساتھ زندگی گزارنے کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے انسانی معاشرے کی بلند و بالا عمارت کی بنیادی اینٹ رکھی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق فریقین کے کچھ حقوق ہیں اور کچھ فرائض۔ ایک طرف بیوی کے حقوق و فرائض ہیں اور دوسری طرف شوہر کے حقوق و فرائض ۔ بڑے بڑے کاروبار بھی معاہدوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ آجر اورمستاجر کا تعلق بھی ایک معاہدے کی بنیاد پر قائم ہوتاہے۔ اسی طرح کاروبارِ حکومت ‘ حکومتی اداروں میں عہدے اورمناصب ‘چھوٹے بڑے اہلکاروں کی ذمہ‘داریاں‘ ان کی مراعات اور اختیارات وغیرہ کا معاملہ ہے۔ گویا تمام معاشرتی ‘معاشی اورسیاسی معاملات قرآن حکیم کے ایک حکم پر عمل کرنے سے درست سمت پر چل سکتے ہیں ‘اور وہ حکم ہے ’’اَوْفُوْ بِالْعُقُوْدِ‘‘ ۔
اُحِلَّتۡ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ
’’تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں مویشی قسم کے تمام حیوانات ‘ سوائے اِن کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جارہے ہیں ‘‘
جن کا حکم آگے چل کر تمہیں بتایا جائے گا ‘ یعنی خنزیر‘ مرداروغیرہ حرام ہیں۔باقی جو مویشی قسم کے جانور ہیں‘ وحوش نہیں (مثلاًشیر‘ چیتاوغیرہ وحشی ہیں) وہ حلال ہیں‘جیسے ہرن ‘ نیل گائے اور اس طرح کے جانور جو عام طور پر گوشت خور نہیں ہیں بلکہ سبزے پران کا گزارا ہے ‘ان کا گوشت تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ۔البتہ استثنائی صورتوں کی تفصیل بعد میں تمہیں بتا دی جائے گی۔
غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ
’’نہ جائز کرتے ہوئے شکار کو جبکہ تم حالتِ احرام میں ہو۔‘‘
یعنی اگر تم نے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھا ہوا ہے تو تم اس حالت میں ان حلال جانوروں کا بھی شکار نہیں کر سکتے ۔
اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾
’’بے شک اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے ۔‘‘
یہ اللہ کا اختیار ہے ‘ وہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے ‘جوچاہتا ہے حکم دیتا ہے۔