بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

المائدة

آیات ۱ تا ۱۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ المائدۃ سے قرآن مجید کی دوسری منزل کا آغاز ہوتا ہے‘لیکن قرآن حکیم کے مکی اور مدنی سورتوں کے جو گروپس ہیں‘ ان کے اعتبار سے پہلا گروپ ابھی ختم نہیں ہوا‘ بلکہ سورۃ المائدۃ اس گروپ کی آخری سورت ہے۔ ان گروپس کی تفصیل قبل ازیں بیان ہو چکی ہے۔ اُن میں سے پہلا گروپ ایک مکی سورۃ (الفاتحہ)اور چار مدنی سورتوں (البقرۃ‘ آل عمران‘ النساء اور المائدۃ) پر مشتمل ہے۔ مضامین کی مماثلت کے اعتبار سے سورۃ المائدۃ کا ’’جوڑا‘‘ سورۃ النساء کے ساتھ بنتا ہے۔ ان دونوں سورتوں کا اسلوب بھی کافی حد تک آپس میں ملتا جلتاہے۔ اس گروپ کی مدنی سورتوں (البقرۃ‘ آل‘عمران‘ النساء اور المائدۃ) کے بنیادی موضوعات دو ہیں‘ یعنی اہلِ کتاب پر اتمامِ حجت اور احکامِ شریعتِ اسلامی۔ ان سورتوں میں ان دونوں موضوعات کا ایک تسلسل ہے جو تدریجاًآگے بڑھتا نظر آتا ہے۔ لہٰذا شریعتِ اسلامی کا جو ابتدائی خاکہ ہمیں سورۃ البقرۃ میں ملتا ہے اور پھر سورۂ آل عمران اور سورۃ النساء میں اس کے خدوخال مزید واضح ہوئے ہیں‘ یہاں سور ۃ المائدۃ میں آکر یہ تکمیلی رنگ اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کی بلند ترین (حکومتی ) سطح کے احکام بھی ہمیں اس سورۃ میں ملتے ہیں ۔ اسی طرح اہلِ کتاب سے جس خطاب کی ابتدا سورۃ البقرۃ میں ہوئی تھی‘ یہاں آکر وہ بھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔

سورۃ النساء کا آغاز ’’یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ‘‘ سے ہواتھا‘ جبکہ سورۃ المائدۃکا آغاز ’’یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ‘‘ کے الفاظ سے ہو رہا ہے۔

1-2

اہم اصولی ہدایات اور احکاماتِ شریعت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ؕ اُحِلَّتۡ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ لَا الۡہَدۡیَ وَ لَا الۡقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیۡنَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رِضۡوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا ؕ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ۘ وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲﴾

آیت 1

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ ۬ؕ

’’اے اہلِ ایمان! اپنے عہد و پیمان (قول و قرار )کو پورا کیا کرو۔‘‘

عقدہ گرہ کو کہتے ہیں جس میں مضبوطی سے بندھنے کا مفہوم شامل ہے۔ لہٰذا ’’عُقُود‘‘ سے مراد وہ معاہدے ہیں جو باقاعدہ طے پاگئے ہوں۔معاہدوں اور قول و قرار کی اہمیت یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری پوری کی پوری سماجی و معاشرتی زندگی قائم ہی معاہدوں پر ہے۔ معاشرتی زندگی کا بنیادی یونٹ ایک خاند ان ہے‘ جس کی بنیاد ایک معاہدے پر رکھی جاتی ہے۔ شادی کیا ہے ؟ مرد اور عورت کے درمیان ایک ساتھ زندگی گزارنے کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے انسانی معاشرے کی بلند و بالا عمارت کی بنیادی اینٹ رکھی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق فریقین کے کچھ حقوق ہیں اور کچھ فرائض۔ ایک طرف بیوی کے حقوق و فرائض ہیں اور دوسری طرف شوہر کے حقوق و فرائض ۔ بڑے بڑے کاروبار بھی معاہدوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ آجر اورمستاجر کا تعلق بھی ایک معاہدے کی بنیاد پر قائم ہوتاہے۔ اسی طرح کاروبارِ حکومت ‘ حکومتی اداروں میں عہدے اورمناصب ‘چھوٹے بڑے اہلکاروں کی ذمہ‘داریاں‘ ان کی مراعات اور اختیارات وغیرہ کا معاملہ ہے۔ گویا تمام معاشرتی ‘معاشی اورسیاسی معاملات قرآن حکیم کے ایک حکم پر عمل کرنے سے درست سمت پر چل سکتے ہیں ‘اور وہ حکم ہے ’’اَوْفُوْ بِالْعُقُوْدِ‘‘ ۔

اُحِلَّتۡ لَکُمۡ بَہِیۡمَۃُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ

’’تمہارے لیے حلال کردیے گئے ہیں مویشی قسم کے تمام حیوانات ‘ سوائے اِن کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جارہے ہیں ‘‘

جن کا حکم آگے چل کر تمہیں بتایا جائے گا ‘ یعنی خنزیر‘ مرداروغیرہ حرام ہیں۔باقی جو مویشی قسم کے جانور ہیں‘ وحوش نہیں (مثلاًشیر‘ چیتاوغیرہ وحشی ہیں) وہ حلال ہیں‘جیسے ہرن ‘ نیل گائے اور اس طرح کے جانور جو عام طور پر گوشت خور نہیں ہیں بلکہ سبزے پران کا گزارا ہے ‘ان کا گوشت تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے ۔البتہ استثنائی صورتوں کی تفصیل بعد میں تمہیں بتا دی جائے گی۔

غَیۡرَ مُحِلِّی الصَّیۡدِ وَ اَنۡتُمۡ حُرُمٌ ؕ

’’نہ جائز کرتے ہوئے شکار کو جبکہ تم حالتِ احرام میں ہو۔‘‘

یعنی اگر تم نے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھا ہوا ہے تو تم اس حالت میں ان حلال جانوروں کا بھی شکار نہیں کر سکتے ۔

اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ مَا یُرِیۡدُ ﴿۱﴾

’’بے شک اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے ۔‘‘

یہ اللہ کا اختیار ہے ‘ وہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے ‘جوچاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

آیت 2

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ

’’ اے اہلِ ایمان! مت بے حرمتی کرو اللہ کے شعائر کی اور نہ حرمت والے مہینے کی ‘‘

یعنی اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو اپنی خواہش کے مطابق حلال مت کرلیا کرو۔

وَ لَا الۡہَدۡیَ

’’اور نہ ہدی کے جانوروں کی (بے حرمتی کرو) ‘‘

یعنی قربانی کے وہ جانور جو حج یا عمرے پر جاتے ہوئے لوگ ساتھ لے کر جاتے تھے۔ عربوں کے ہاں رواج تھا کہ وہ حج یا عمرے پر جاتے وقت قربانی کے جانور ساتھ لے کر جاتے تھے۔ یہاں ان جانوروں کی بے حرمتی کی ممانعت بیان ہو رہی ہے۔

وَ لَا الۡقَلَآئِدَ

’’اور نہ (اُن جانوروں کی بے حرمتی ہونے پائے ) جن کی گردنوں میں پٹے ڈال دیے گئے ہوں‘‘

یہ پٹے (قلادے) علامت کے طور پر ڈال دیے جاتے تھے کہ یہ قربانی کے جانور ہیں اور کعبے کی طرف جارہے ہیں۔

وَ لَاۤ آٰمِّیۡنَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ

’’اور نہ عازمین بیت الحرام (کی عزت و احترام میں فرق آنے پائے )‘‘

یعنی وہ لوگ جو بیت الحرام کی طرف جا رہے ہوں‘ حج یا عمرے کا قصد کر کے سفر کر رہے ہوں ‘ اب ان کی بھی اللہ کے گھر کے ساتھ ایک نسبت ہوگئی ہے ‘ وہ اللہ کے گھر کے مسافر ہیں‘ جیسا کہ اہلِ عرب حجاجِ کرام کو کہتے ہیں: مَرْحَبًا بِضُیُوْفِ الرَّحْمٰن ’’ مرحبا ان لوگوں کو جو رحمن کے مہمان ہیں ‘‘۔ یعنی تمام حجاج کرام اصل میں اللہ کے مہمان ہیں‘ اللہ ان تمامِ زائرین کعبہ کا میزبان ہے۔ تو اللہ کے ان تمام مہمانوں کی ہتکِ عزت اور بے حرمتی سے منع کر دیا گیا۔

یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رِضۡوَانًا ؕ

’’ وہ طلب گار ہیں اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے۔‘‘

یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں‘ اللہ کو راضی کرنے کی کوشش میں مکانِ محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہیں۔

وَ اِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا ؕ

’’ہاں جب تم حلال ہو جاؤ(احرام کھول دو) تو پھر تم شکار کرو۔‘‘

حلال ہو جانا ایک اصطلاح ہے ‘یعنی احرام کھول دینا‘ حالتِ احرام سے باہر آ جانا۔اب تمہیں شکار کی آزادی ہے‘ اس پر پابندی صرف احرام کی حالت میں تھی۔

وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ

’’اورتمہیں آمادہ نہ کر دے کسی قوم کی دشمنی‘‘

اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ

’’کہ انہوں نے روکے رکھا تمہیں مسجدِ حرام سے ‘‘

اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ۘ

’’کہ (تم بھی ان پر) زیادتی کرنے لگو۔‘‘

یعنی جیسے اہلِ مکہ نے تم لوگوں کو چھ سات برس تک حج و عمرہ سے روکے رکھا‘ اب کہیں اس کے جواب میں تم لوگ بھی ان پر زیادتی نہ کرنا۔

وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪

’’اور تم نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو ‘‘

وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪

’’اور گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں تعاون مت کرو‘‘

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲﴾

’’ اوراللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ یقینا اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے ۔‘‘

دیکھئے یہ انداز بالکل وہی ہے جو سورۃ النساء کا تھا‘ وہی معاشرتی معاملات اوران کے بارے میں بنیادی اصول بیان ہو رہے ہیں۔ اب آ رہے ہیں وہ استثنائی احکام جن کا ذکر آغازِسورۃ میں اِلاَّ مَا یُـتْلٰی عَلَـیْـکُمْ کے الفاظ میں ہوا ہے۔کھانے پینے کے لیے جو چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں ان کا ذکر یہاں آخری مرتبہ آ رہا ہے اور وہ بھی بہت وضاحت کے ساتھ:

3

دینِ اسلام کی تکمیل کا اعلان

ویڈیو

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَ الۡمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیۡحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳﴾

آیت 3

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ

’’ حرام کیا گیا تم پر مردار‘‘

وہ جانور جو خود اپنی موت مر گیا ہو وہ حرام ہے۔

وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ

’’ اور خون اور خنزیر کا گوشت ‘‘

وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ

’’اور جس پر پکارا گیا اللہ کے سوا کسی اور کا نام‘‘

یعنی وہ جانور جو اللہ کے علاوہ کسی اورکے لیے نامزد ہے‘ اورغیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کو ذبح کیا جا رہا ہے ۔

وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ

’’اور وہ جانور جو گلا گھٹنے سے مر گیا ہو‘‘

وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ

’’اور چوٹ لگنے سے جس جانور کی موت واقع ہو گئی ہو ‘‘

وَ الۡمُتَرَدِّیَۃُ

’’اور جو جانور کسی اونچی جگہ سے گر کر مر گیا ہو ‘‘

وَ النَّطِیۡحَۃُ

’’اورجو جانور کسی دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے ہلاک ہوگیا ہو‘‘

وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ

’’اور جسے کھایا ہو کسی درندے نے ‘‘

یعنی ’’اَلْمَیْتَۃ‘‘ کی یہ پانچ قسمیں ہیں۔ کوئی جانور ان میں سے کسی سبب سے مر گیا ‘ذبح ہونے کی نوبت نہیں آئی ‘ اس کے جسم سے خون نکلنے کا امکان نہ رہا‘ بلکہ خون اس کے جسم کے اندر ہی جم گیا اور اس کے گوشت کا حصہ بن گیا تو وہ مردار کے حکم میں ہوگا۔

اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟

’’ مگر یہ کہ جسے تم (زندہ پا کر )ذبح کر لو۔‘‘

یعنی مذکورہ بالا اقسام میں سے جو جانور ابھی مرا نہ ہو اور اسے ذبح کر لیا جائے تو اسے کھایا جا سکتا ہے۔ مثلاً شیر نے ہرن کا شکار کیا‘ لیکن اس سے پہلے کہ وہ ہرن مرتا شیر نے کسی سبب سے اسے چھوڑ دیا۔ اس حالت میں اگر اسے ذبح کر لیا گیااور اس میں سے خون بھی نکلا تووہ حلال جانا جائے گا ۔جہاں جہاں شیر کا منہ لگا ہو وہ حصہ کاٹ کر پھینک دیا جائے تو باقی گوشت کھانا جائز ہے۔

وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ

’’اور وہ جانور جو کسی استھان پر ذبح کیا گیا ہو ‘‘

یعنی کسی خاص آستانے پر‘ خواہ وہ کسی ولی اللہ کا مزار ہو یا دیوتا‘ دیوی کا کوئی استھان ہو‘ ایسی جگہوں پر جاکر ذبح کیا گیا جانور بھی حرام ہے۔

وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ

’’اور یہ کہ جوئے کے تیروں کے ذریعے سے تقسیم کرو۔‘‘

یہ بھی جوئے کی ایک قسم تھی ۔ عربوں کے ہاں رواج تھا کہ وہ قربانی کے بعد گوشت کے ڈھیر لگا دیتے تھے اور تیروں کے ذریعے گوشت پر جوا کھیلتے تھے۔

ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ

’’یہ تمام گناہ کے کام ہیں۔ ‘‘

اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ

’’اب یہ کافرلوگ تمہارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں ‘‘

یعنی یہ لوگ اب یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ اللہ کا دین غالب ہوا چاہتا ہے اور اس کا راستہ روکنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ‘سورۃ المائدۃ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب عرب میں اسلام کے غلبہ کے آثار صاف نظر آنا شرو ع ہو گئے تھے۔

فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ ؕ

’’تو ان سے مت ڈرو اورمجھ ہی سے ڈرو۔‘‘

اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ

’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیاہے‘‘

وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ

’’اور تم پر اِتمام فرمادیا ہے اپنی نعمت کا ‘‘

وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ

’’اور تمہارے لیے میں نے پسند کر لیا ہے اسلام کو بحیثیت دین‘کے۔ ‘‘

میرے ہاں پسندیدہ اور مقبول دین ہمیشہ ہمیش کے لیے صرف اسلام ہے۔

فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ

’’لیکن جو شخص بھوک میں مضطر ہو جائے (اور کوئی حرام شے کھالے)‘‘

اگر کسی انسان پر شدید فاقہ کی کیفیت ہو‘ بھوک سے اس کی جان نکل رہی ہو تو وہ ان حرام کردہ چیزوں میں سے جان بچانے کے بقدر کھا سکتا ہے۔

غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ

’’(بشرطیکہ) اس کا گناہ کی طرف کوئی رُجحان نہ ہو‘‘

نیت میں کوئی فتور نہ ہو ‘بلکہ حقیقت میں جان پر بنی ہو اور دل میں نافرمانی کا کوئی خیال نہ ہو ۔

فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳﴾

’’تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘

4-5

اللہ نے پاکیزہ چیزیں حلال فرمائی ہیں

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمۡ ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَ مَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ ۫ فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَکۡنَ عَلَیۡکُمۡ وَ اذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴﴾ اَلۡیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ ۪ وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ ۫ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَ لَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ٪﴿۵﴾

آیت 4

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ

’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا کیا حلال ہے؟‘‘

قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ

’’آپ (ﷺ انھیں) بتائیں کہ تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں ہیں‘‘

وَ مَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ ۫

’’اور یہ جو تم سدھاتے ہو شکاری جانوروں کو ‘پھر چھوڑتے ہو ان کو شکار کے لیے‘ انہیں تم نے سکھایا ہے اس میں سے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے‘‘

فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَکۡنَ عَلَیۡکُمۡ

’’تو تم ان کے اُس شکارمیں سے کھائو جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں‘‘

وَ اذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہِ ۪

’’اور اس پر اللہ کا نام لے لو۔‘‘

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ

’’ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۴﴾

’’یقینا اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘

اسے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی۔

آیت 5

اَلۡیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ

’’آج تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ ‘‘

یہ وہی اَلْـیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَــکُمْ دِیْـنَـکُمْ …… والا انداز ہے ۔

یعنی اس سے پہلے اگر مختلف مذاہب کے احکام کی وجہ سے‘ یہود کی شریعت یا حضرت یعقوب علیہ السلام کی ذاتی پسند وناپسند کی بنا پر اگر کچھ رکاوٹیں پیدا ہو گئی تھیں یا معاشرے میں رائج مشرکانہ رسومات و اوہام کی وجہ سے تمہارے ذہنوں میں کچھ اُلجھنیں تھیں تو آج ان سب کو صاف کیا جا رہا ہے اورآج تمہارے لیے تمام صاف ستھری اورپاکیزہ چیزوں کے حلال ہونے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ ۪

’’اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔‘‘

لیکن یہ صرف اُس صورت میں ہے کہ وہ کھانا اصلاً بھی حلال ہو‘ کیونکہ اگر ایک عیسائی سؤ ر کھا رہا ہوگا تو وہ ہمارے لیے حلال نہیں ہوگا۔ اِس کھانے میں اُن کا ذبیحہ بھی شامل ہے‘ دو بنیادی شرائط کے ساتھ: ایک یہ کہ جانور حلال ہو اور دوسرے یہ کہ اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ۔

وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ ۫

’’اسی طرح تمہارا کھانا بھی ان کے لیے حلال ہے۔‘‘

وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ

’’اور( تمہارے لیے حلال ہیں) اہلِ ایمان میں سے خاندانی‘عورتیں‘‘

وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ

’’اور خاندانی عورتیں اُن لوگوں کی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی‘‘

یعنی مسلمان مرد عیسائی یا یہودی عورت سے شادی کر سکتا ہے ۔

اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ

’’جب کہ تم انہیں ادا کر دو ان کے مہر‘‘

مُحۡصِنِیۡنَ

’’قیدِ نکاح میں لا کر ان کے محافظ بنتے ہوئے ‘‘

نیت یہ ہو کہ تم نے ان کو اپنے گھر میں بسانا ہے ‘ مستقل طور پر ایک خاندان کی بنیاد رکھنی‘ہے۔

غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ

’’نہ کہ آزاد شہوت رانی کے لیے‘‘

وَ لَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ ؕ

’’اور نہ ہی چوری چھپے آشنائی کرنے کے لیے۔‘‘

بلکہ معروف طریقے سے علی الاعلان نکاح کر کے تم انہیں اپنے گھروں میں آباد کرو اور ان کے محافظ بنو۔اس ضمن میں یہاں بعض اشکالات کا رَفع کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک شریعتِ اسلامی کا حکم ہے تو شریعت محمد رسول اللہ ﷺ پر مکمل ہو چکی ہے‘ اب اس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ۔ اس لحاظ سے یہ قانون اپنی جگہ قائم ہے اور قائم رہے گا۔یہ توہے اس کا جواز ‘لیکن اگر آج اس کے خلاف کسی کو کوئی مصلحت نظر آتی ہے تو وہ اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے‘ بہرحال اس کے باوجود قانون کو بدلا نہیں جا سکتا ۔ البتہ ایک خالص اسلامی ریاست کے تحت حالات کی سنگینی کے پیش نظر کچھ عرصے کے لیے کسی ایسی اجازت یا حکم کو موقوف کیا جا سکتا ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے زمانے میں قحط کے سبب قطع ید(ہاتھ کاٹنے )کی سزا کو موقوف کر دیا تھا ۔ اس طرح کسی قانون میں اسلامی حکومت کے کسی عارضی انتظامی حکم (Executive Order) کے ذریعے سے کوئی عارضی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

مزیدبرآں اس اجازت کے پس منظر میں جو فلسفہ اور حکمت ہے اس کی اصل روح کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو دی گئی ہے کہ وہ عیسائی یا یہودی عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں ‘ مسلمان عورت عیسائی یا یہودی مرد سے شادی نہیں کر سکتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر مرد عورت پر غالب ہوتا ہے‘ لہٰذ ا امکانِ غالب ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اسلام کی طرف راغب کر لے گا۔ دوسرے یہ کہ اُس زمانے میں یہ بات مسلمہ تھی کہ اولاد مرد کی ہے ‘اور مرد کے غالب اور فعال ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ایسے میاں بیوی کی اولاد عیسائی یا یہودی نہیں بلکہ مسلمان ہوگی ۔اُس وقت ویسے بھی مسلمانوں کا غلبہ تھا اور یہودی اور عیسائی ان کے تابع ہو چکے تھے ۔ آج کل حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ آج عیسائی اور یہودی غالب ہیں‘جبکہ مسلمان انتہائی مغلوب۔ دوسری طرف بین الاقوامی سیاست میں عورتوں کا غلبہ ہے ۔ لہٰذا موجودہ حالات میں مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی شادیاں نہ ہوں‘ لیکن بہرحال ان کو حرام نہیں کہا جا سکتا ‘کیونکہ اس کے جواز کا واضح حکم موجود ہے۔ ہاں اگر کوئی اسلامی ریاست کہیں قائم ہو جائے تو وہ عارضی طور پر (جب تک حالات میں کوئی تبدیلی نہ آجائے ) اس اجازت کو منسوخ کر سکتی ہے ۔

وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫

’’تو جس شخص نے ایمان کے ساتھ کفر کیا اُس کے تمام اعمال ضائع ہو گئے ‘‘

اس میں اشارہ اہل کتاب کی طرف بھی ہو سکتا ہے کہ جب تک محمد رسول اللہﷺ تشریف نہیں لائے تھے تب تک وہ اہل ایمان تھے لیکن اب اگر وہ نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان نہیں لارہے تو گویا وہ کفر کر رہے ہیں۔اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوکر کافرانہ حرکتیں کرے تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔

وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ٪﴿۵﴾

’’اور آخرت میں وہ ہوگا خسارہ اٹھانے والوں میں ۔‘‘

6

وضو کے فرائض کا بیان

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ اِلَی الۡمَرَافِقِ وَ امۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ اِلَی الۡکَعۡبَیۡنِ ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنۡہُ ؕ مَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیَجۡعَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶﴾

آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ

’’اے اہل ایمان ! جب تم کھڑے ہو نماز کے لیے‘‘

یعنی جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو۔

فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ اِلَی الۡمَرَافِقِ

’’تو دھو لیا کرو اپنے چہرے اور دونوں ہاتھ بھی کہنیوں تک ‘‘

وَ امۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمۡ

’’اور اپنے سروں پر مسح کر لیا کرو‘‘

وَ اَرۡجُلَکُمۡ اِلَی الۡکَعۡبَیۡنِ ؕ

’’اور (دھو لیاکرو) اپنے دونوں پاؤں بھی ٹخنوں تک۔‘‘

یہاں پر واضح رہے کہ اَرْجُلَکُمْ اور اَرْجُلِکُم دونوں قراء تیں مستند ہیں‘لہٰذااہل تشیّع اس کو

مستقلاً اَرْجُلِکُمْ پڑھتے ہیں۔ اس طرح ان کے نزدیک اس میں پاؤں پر مسح کا حکم ہے۔ چنانچہ وہ {وَ امۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ} کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں: ’’اور مسح کرلیا کرو اپنے سروں پر بھی اور اپنے پاؤں پر بھی‘‘۔ لیکن اہلِ سنت کے نزدیک یہ اَرْجُلَکُم ہے اور اِلَی الْکَعْبَیْنِ کے اضافے سے یہاں پائوں کو دھونے کا حکم بالکل واضح ہو گیا ہے۔اگر صرف مسح کرنا مطلوب ہوتا تواس میں کوئی حد بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا اِلَی الْـکَعْبَیْن کی شرط سے یہ ٹکڑا {فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ اِلَی الۡمَرَافِقِ} کے بالکل مساوی ہوگیا ہے۔ جیسے ہاتھو ں کا دھونا ہے کہنیوں تک ‘ایسے ہی پاؤں کا دھونا ہے ٹخنوں تک۔ اس حکم میں وضو کے فرائض بیان ہوئے ہیں۔

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوۡا ؕ

’’اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہوتو پھر تم اور زیادہ پاکی حاصل‘کرو۔‘‘

یعنی پورے جسم کا غسل کرو۔ جنابت کی حالت میں نماز پڑھنا ‘قرآن کی تلاوت کرنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائزنہیں۔

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ

’’اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو‘‘

اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ

’’ یاتم میں سے کوئی کسی نشیبی جگہ سے ہوکرآئے ‘‘

یہ استعارہ ہے قضائے حاجت کے لیے۔ عام طور پر لوگ قضائے حاجت کے لیے نشیبی جگہوں پر جاتے تھے۔

اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ

’’یاتم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو‘‘

فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً

’’اور تمہیں پانی دستیاب نہ ہو‘‘

فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا

’’تو ارادہ کر لو پاک مٹی کا ‘‘

یعنی پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔

فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنۡہُ ؕ

’’ تو اس سے اپنے چہرے اورہاتھوں کو مل لو ۔‘‘

مَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیَجۡعَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ

’’ اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے‘‘

وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ

’’بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے ‘‘

وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶﴾

’’ اور تم پر اپنی نعمت کا اِتمام فرمائے تاکہ تم شکرگزار بن سکو۔‘‘

7

شریعت ایک نعمت اور کلمہ طیّبہ ایک عہد ہے

ویڈیو

وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مِیۡثَاقَہُ الَّذِیۡ وَاثَقَکُمۡ بِہٖۤ ۙ اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾

آیت 7

وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مِیۡثَاقَہُ الَّذِیۡ وَاثَقَکُمۡ بِہٖۤ ۙ

’’اور اللہ نے تمہیں جو اپنی نعمت عطا کی ہے اس کو یاد رکھو اور اس معاہدے کو بھی جو اُس نے تم سے باندھ لیا ہے (یا جس میں اس نے تمہیں باندھ لیا ہے)‘‘

ایک میثاق وہ تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا ‘اب ایک میثاق یہ ہے جو اہلِ ایمان سے ہو رہا ہے ۔ چونکہ یہ سورۃ شروع ہوئی تھی یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ سے ‘ یعنی اس کے آغاز میں اہلِ ایمان سے خطاب ہے ‘لہٰذا اس میثاق میں بھی اہل ایمان ہی مخاطب ہیں ۔

اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ۫

’’جب تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی۔‘‘ پابندی کرنی ہے۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ یقینا اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے ۔‘‘

8-10

عدل کے علمبرداربن کے کھڑےہوجاؤ

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۰﴾

آیت 8

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ ‘‘

یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ النساء کی آیت ۱۳۵ میں بھی بیان ہو چکا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان دونوں آیات میں الفاظ کی ترتیب عکسی ہے ( دونوں سورتوں کی نسبتِ زوجیت بھی مدنظر رہے) ۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ} اوریہاں الفاظ ہیں: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫} ۔ اس سے ایک نکتہ تو یہ معلوم ہوا کہ گویا ’’اللہ‘‘ اور ’’قسط ‘‘ مترادف الفاظ ہیں ۔ایک جگہ فرمایاگیا ہے:’’قسط کے لیے کھڑے ہوجاؤ‘‘ اور دوسری جگہ فرمایاجا رہا ہے :’’اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ‘‘۔ اسی طرح ایک جگہ اللہ کے گواہ بن جانے اور دوسری جگہ قسط کے گواہ بننے کا حکم ہے۔ تو گویا ان دونوں آیات میں ’’اللہ ‘‘ اور ’’قسط‘‘ کے الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر آئے ہیں ۔

دوسرا اہم نکتہ اِس آیت سے ہمارے سامنے یہ آرہا ہے کہ معاشرے میں عدل قائم کرنے کا حکم ہے ۔ انسان فطرتاً انصاف پسند ہے۔ انصاف عام انسان کی نفسیات اوراس کی فطرت کا تقاضا ہے ۔آج پوری نوعِ انسانی انصاف کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ انصاف ہی کے لیے انسان نے بادشاہت سے نجات حاصل کی اور جمہوریت کو اپنایا تاکہ انسان پر انسان کی حاکمیت ختم ہو‘ انصاف میسر آئے‘ مگر جمہوریت کی منزل سراب ثابت ہوئی اور ایک دفعہ انسان پھر سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کی لعنت میں گرفتار ہو گیا۔ اب سرمایہ دار اس کے آقا اور ڈکٹیٹربن گئے۔ اس لعنت سے نجات کے لیے اُس نے کمیونزم (Communism) کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر یہاں بھی متعلقہ پارٹی کی آمریت (One Party Dictatorship) اس کی منتظر تھی۔ گویا ’’رُست ازیک بند تا اُفتاد دربندے دِگر‘‘ یعنی ایک مصیبت سے نجات پائی تھی کہ دوسری آفت میں گرفتار ہوگئے۔ اب انسان عدل اور انصاف حاصل کرنے کے لیے آخر کہاں جائے ؟ کیا کرے؟ یہاں پر ایک روشنی تو انسان کو اپنی فطرت کے اندر سے ملتی ہے کہ اس کی فطرت انصاف کا تقاضا کرتی ہے اور اپنی فطرت کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے وہ عدل قائم کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے ‘مگر اس سے اوپر بھی ایک منزل ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’العدل‘‘ اللہ کی ذات ہے جس کا دیا ہوا نظام ہی عادلانہ نظام ہے۔ ہم اُس کے بندے ہیں‘ اُس کے وفادار ہیں‘ لہٰذا اُس کے نظام کو قائم کرنا ہمارے ذمے ہے ‘ہم پر فرض ہے ۔ چنانچہ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫} میں اسی بلند تر منزل کا ذکر ہے کہ اے اہل ایمان !یہ صرف فطرتِ انسانی ہی کا تقاضا نہیں بلکہ تمہاری عبدیت کا تقاضا بھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تمہاری وفاداری کے رشتے کا تقاضا ہے کہ تم پوری قوت کے ساتھ ‘اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ‘جو بھی اسباب و ذرائع تمہیں میسر ہوں ان سب کو جمع کرکے کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے! اور اللہ کے دین میں جو تصور ہے عدل ‘ انصاف اور قسط کا اُس عدل و انصاف اور قسط کو قائم کرنے کے لیے کھڑے ہو جائو ۔ یہ ہے اس حکم کا تقاضا۔

اب دیکھئے ‘وہاں(سورۃ النساء آیت۱۳۵ میں) فرمایا گیا ہے : ’’اے ایمان والو ! انصاف کے علمبرداراوراللہ واسطے کے گواہ بن جاؤ‘‘۔ {وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ۚ } ’’اگرچہ اس کی (تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی)زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔‘‘

انصاف سے روکنے والے عوامل میں سے ایک اہم عامل مثبت تعلق یعنی محبت ہے ۔ اپنی ذات سے محبت‘ والدین اور رشتہ داروں وغیرہ کی محبت انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ میں اپنے خلاف کیسے فتویٰ دے دوں؟ اپنے ہی والدین کے خلاف کیونکر فیصلہ سنا دوں؟ سچی گواہی دے کر اپنے عزیز رشتہ دارکو کیسے پھانسی چڑھا دوں؟ لہٰذا ’’ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ…‘‘ فرما کر اس نوعیت کی تمام عصبیتوں کی جڑکاٹ دی گئی کہ بات اگر حق کی ہے ‘انصاف کی ہے تو پھر خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ جا رہی ہو ‘ تمہارے والدین پر ہی اس کی زد کیوں نہ پڑ رہی ہو‘ تمہارے عزیز رشتہ دار ہی اس کی کاٹ کے شکار کیوں نہ ہو رہے ہوں‘اس کا اظہار بغیر کسی مصلحت کے ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ہے۔

اس سلسلے میں دوسرا عامل منفی تعلق ہے ‘یعنی کسی فرد یا گروہ کی دشمنی‘ جس کی وجہ سے انسان حق بات کہنے سے پہلو تہی کر جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ بات تو حق کی ہے مگر ہے تو وہ میرا دشمن‘ لہٰذا اپنے دشمن کے حق میں آخر کیسے فیصلہ دے دوں؟ آیت زیر نظر میں اس عامل کو بیان کرتے ہوئے دشمنی کی بنا پر بھی کتمانِ حق سے منع کر دیا گیا :

وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ

’’اورکسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم عدل سے منحرف ہو جاؤ۔‘‘

اِعۡدِلُوۡا ۟

’’عدل سے کام لو ‘‘

ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫

’’ یہی قریب تر ہے تقویٰ کے‘‘

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾

’’ اور اللہ کاتقویٰ اختیار کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ یقینا اس سے باخبر ہے ۔‘‘

تمہار ا کوئی عمل اورکوئی قول اس کے علم سے خارج نہیں‘ لہٰذا ہر وقت چوکس رہو ‘چوکنے رہو۔ (آیت زیر نظر اور سورۃ النساء کی آیت ۱۳۵ کے معانی و مفہوم کا باہمی ربط اور الفاظ کی عکسی اور reciprocal ترتیب کا حسن لائقِ توجہ ہے۔)

آیت 9

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹﴾

’’ اللہ کا وعدہ ہے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے مغفرت بھی ہے اور اجرِ عظیم بھی ۔‘‘

آیت 10

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۰﴾

’’اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ جہنم والے ہیں۔‘‘

11

بھروسہ اللہ ہی پر کرنا چاہیے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ ہَمَّ قَوۡمٌ اَنۡ یَّبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ فَکَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾

آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ ہَمَّ قَوۡمٌ اَنۡ یَّبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ

’’ اے اہل ایمان ! ذرا یاد کرو اللہ کے اس انعام کو جو اس نے تم پر کیا جب ارادہ کیا تھا ایک قوم نے کہ تمہارے خلاف اپنے ہاتھ بڑھائیں ‘‘

فَکَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ ۚ

’’تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو روک دیا تم‘سے۔‘‘

یہ غزوۂ احزاب کے بعد کے حالات پر تبصرہ ہے۔ اس غزوہ کے بعد ابھی کفار میں سے بہت سے لوگ پیچ و تاب کھا رہے تھے اور بعید نہیں تھا کہ وہ دوبار مہم جوئی کرتے ‘لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیے اور ان کے دلوں میں ایسا رُعب ڈال دیا کہ وہ دوبارہ لشکر کشی کی جرأت نہ کرسکے۔ اس صورتِ حال کا ذکر اللہ تعالیٰ یہاں اپنے انعام کے طور پر کر رہے ہیں۔اس میں خاص طور پر صلح حدیبیہ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اُس وقت بھی قریش لڑائی کے لیے بیتاب ہورہے تھے‘ ان کے نوجوانوں کا خون کھول رہا تھا‘ لیکن بالآخر انہیں اس حقیقت کا ادراک ہو گیا کہ اب ہم مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا اور ان کے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے سے روک دیا۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾

’’اور تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘اور اہل ایمان کو تواللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے