اِنۡ تُبۡدُوۡا خَیۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ
’’ اگر تم بھلائی کو ظاہر کر و یا اسے چھپاؤ‘‘
جہاں تک تو خیر کا معاملہ ہے تم اسے بلند آواز سے کہو‘ ظاہر کرو یا چھپاؤ برابر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خیر تو ہر حال میں خیر ہی ہے‘عیاں ہو یا خفیہ۔
اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیۡرًا ﴿۱۴۹﴾
’’یا تم برائی کو معاف کر دیا کروتو یقیناً اللہ بھی معاف فرمانے والا‘ قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کومعاف کر دینا یقینا نیکی کا ایک اونچا درجہ ہے۔ اس لیے یہاں ترغیب کے انداز میں مظلوم سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر چہ تمہیں چھوٹ ہے‘ تمہاری بدگوئی کی بھی تم پر کوئی گرفت نہیں‘ لیکن زیادتی کی تلافی کااس سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ بھی ہے ‘ تم اس بلند درجے کو حاصل کیوں نہیں کرتے؟ وہ یہ کہ تم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کر دو۔ اس کے ساتھ اللہ کی قدرت کا ذکربھی ہو ا ہے کہ انسان تو بسا اوقات بدلہ لینے کی طاقت نہ ہونے کے باعث معاف کرنے پر مجبور بھی ہو جاتا ہے‘جبکہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے ‘ وہ تو جب چاہے ‘ جیسے چاہے ) (there & then خطاکار کو فوراً سزا دے کر حساب چکاسکتا ہے۔ لیکن اتنی قدرت کے باوجود بھی وہ معاف فرمادیتا ہے۔
اب آئندہ آیت میں پھر وحدت الادیان جیسے اہم مضمون کا تذکرہ ہونے جا رہا ہے اور اس سلسلے میں یہاں تمام غلط نظریات کی جڑ کاٹی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ بات زیرِ بحث آچکی ہے کہ فلسفۂ وحدتِ ادیان کا ایک حصہ صحیح ہے۔ وہ یہ کہ اصل (origin) سب ادیان کی ایک ہے۔ لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ مختلف ادیان کی موجودہ شکلوں میں بھی یک رنگی اور ہم آہنگی ہے تو اس سے بڑی حماقت ‘ جہالت‘ ضلالت اور گمراہی کوئی نہیں۔
یہاں پر اب کانٹے کی بات بتائی جا رہی ہے کہ دین میں جس چیز کی وجہ سے بنیادی خرابی پیدا ہوتی ہے وہ اصل میں کیا ہے۔ وہ غلطی یا خرابی ہے اللہ اور رسولوں میں تفریق! ایک تفریق تو وہ ہے جو رسولوں کے درمیان کی جاتی ہے‘ اور دوسری تفریق اللہ اور رسولﷺ کو علیحدہ علیحدہ کر دینے کی شکل میں سامنے آتی ہے‘ اور یہ سب سے بڑی جہالت ہے۔ فتنۂ انکارِ حدیث اور انکارِ سنت اسی جہالت و گمراہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اہل قرآن سمجھتے ہیں ۔ ان کا نظریہ ہے کہ رسولﷺ کا کام قرآن پہنچا دینا تھا‘ سو آپؑ نے پہنچا دیا‘ اب اصل معاملہ ہمارے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اللہ کی کتاب عر بی زبان میں ہے‘ ہم اس کو خود سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کو جو اس کی تشریح سمجھائی تھی اور اُس زمانے کے لوگوں نے اسے قبول کیا تھا ‘وہ اُ س زمانے کے لیے تھی۔ گویا رسول اللہﷺ کی تشریح کوئی دائمی چیز نہیں ‘دائمی شے صرف قرآن ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کو جدا کر دیا۔ یہاں اسی گمراہی کا ذکر آ رہا ہے۔