تحریر

النساء

آیات ۱۴۹ تا ۱۷۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

149-152

ایمان بالرسالت کے حوالے سے فتنوں کا بیان

ویڈیو

اِنۡ تُبۡدُوۡا خَیۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیۡرًا ﴿۱۴۹﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۱۵۰﴾ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۱۵۲﴾

آیت 149

اِنۡ تُبۡدُوۡا خَیۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ

’’ اگر تم بھلائی کو ظاہر کر و یا اسے چھپاؤ‘‘

جہاں تک تو خیر کا معاملہ ہے تم اسے بلند آواز سے کہو‘ ظاہر کرو یا چھپاؤ برابر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خیر تو ہر حال میں خیر ہی ہے‘عیاں ہو یا خفیہ۔

اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیۡرًا ﴿۱۴۹﴾

’’یا تم برائی کو معاف کر دیا کروتو یقیناً اللہ بھی معاف فرمانے والا‘ قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘

اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کومعاف کر دینا یقینا نیکی کا ایک اونچا درجہ ہے۔ اس لیے یہاں ترغیب کے انداز میں مظلوم سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر چہ تمہیں چھوٹ ہے‘ تمہاری بدگوئی کی بھی تم پر کوئی گرفت نہیں‘ لیکن زیادتی کی تلافی کااس سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ بھی ہے ‘ تم اس بلند درجے کو حاصل کیوں نہیں کرتے؟ وہ یہ کہ تم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کر دو۔ اس کے ساتھ اللہ کی قدرت کا ذکربھی ہو ا ہے کہ انسان تو بسا اوقات بدلہ لینے کی طاقت نہ ہونے کے باعث معاف کرنے پر مجبور بھی ہو جاتا ہے‘جبکہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے ‘ وہ تو جب چاہے ‘ جیسے چاہے ) (there & then خطاکار کو فوراً سزا دے کر حساب چکاسکتا ہے۔ لیکن اتنی قدرت کے باوجود بھی وہ معاف فرمادیتا ہے۔

اب آئندہ آیت میں پھر وحدت الادیان جیسے اہم مضمون کا تذکرہ ہونے جا رہا ہے اور اس سلسلے میں یہاں تمام غلط نظریات کی جڑ کاٹی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ بات زیرِ بحث آچکی ہے کہ فلسفۂ وحدتِ ادیان کا ایک حصہ صحیح ہے۔ وہ یہ کہ اصل (origin) سب ادیان کی ایک ہے۔ لیکن اگرکوئی یہ کہے کہ مختلف ادیان کی موجودہ شکلوں میں بھی یک رنگی اور ہم آہنگی ہے تو اس سے بڑی حماقت ‘ جہالت‘ ضلالت اور گمراہی کوئی نہیں۔

یہاں پر اب کانٹے کی بات بتائی جا رہی ہے کہ دین میں جس چیز کی وجہ سے بنیادی خرابی پیدا ہوتی ہے وہ اصل میں کیا ہے۔ وہ غلطی یا خرابی ہے اللہ اور رسولوں میں تفریق! ایک تفریق تو وہ ہے جو رسولوں کے درمیان کی جاتی ہے‘ اور دوسری تفریق اللہ اور رسولﷺ کو علیحدہ علیحدہ کر دینے کی شکل میں سامنے آتی ہے‘ اور یہ سب سے بڑی جہالت ہے۔ فتنۂ انکارِ حدیث اور انکارِ سنت اسی جہالت و گمراہی کا شاخسانہ ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اہل قرآن سمجھتے ہیں ۔ ان کا نظریہ ہے کہ رسولﷺ کا کام قرآن پہنچا دینا تھا‘ سو آپؑ نے پہنچا دیا‘ اب اصل معاملہ ہمارے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اللہ کی کتاب عر بی زبان میں ہے‘ ہم اس کو خود سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کو جو اس کی تشریح سمجھائی تھی اور اُس زمانے کے لوگوں نے اسے قبول کیا تھا ‘وہ اُ س زمانے کے لیے تھی۔ گویا رسول اللہﷺ کی تشریح کوئی دائمی چیز نہیں ‘دائمی شے صرف قرآن ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کو جدا کر دیا۔ یہاں اسی گمراہی کا ذکر آ رہا ہے۔

آیت 150

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ

’’یقینا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کااور وہ چاہتے ہیں کہ تفریق کر دیں اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین‘‘

مغل بادشاہ اکبر کے ’’دینِ الٰہی‘‘ کا بنیادی فلسفہ بھی یہی تھا کہ بس دین تو اللہ ہی کا ہے‘ رسولﷺ کی نسبت ضروری نہیں‘کیونکہ جب دین کی نسبت رسولﷺ کے ساتھ ہو جاتی ہے تو پھر دین رسول کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے کہ یہ دینِ موسیٰ ؑہے‘ یہ دینِ عیسیٰ ؑہے‘ یہ دینِ محمدﷺ ہے۔ اگر رسولوں کا یہ تفرقی عنصر (differentiating factor) درمیان سے نکال دیا جائے تو مذاہب کے اختلافات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اللہ تو سب کا مشترک (common) ہے‘ چنانچہ جو دین اللہ کے ساتھ منسوب ہو گا صرف وہی دینِ الٰہی ہو گا۔

وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ

’’اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ کو مانیں گے اور کچھ کو نہیں مانیں گے‘‘

یعنی اللہ کو مانیں گے‘ رسولوں کا ماننا ضروری نہیں ہے۔ اللہ کی کتاب کو مانیں گے‘ رسولﷺ کی سنت کا ماننا کوئی ضروری نہیں ہے ‘وغیرہ وغیرہ۔

وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۱۵۰﴾

’’اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بین بین ایک راستہ نکال لیں۔‘‘

اللہ کو ایک طرف کر دیں اور رسول (ﷺ)کو ایک طرف ۔

آیت 151

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾

’’یہی لوگ حقیقت میں پکے کافر ہیں ‘اور ہم نے ان کافروں کے لیے بڑا اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

آیت 152

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ

’’اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پراور انہوں نے ان میں سے کسی کے مابین کوئی تفریق نہیں کی‘‘

نہ اللہ کو رسول سے جدا کیا اور نہ رسول کو رسول سے جدا کیا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم سب کو مانتے ہیں: {لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ} (البقرۃ :۲۸۵) ’’ہم اللہ کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے‘‘۔ہم اُن رسولوں کو بھی مانتے ہیں جن کے نام قرآن مجید میں آ گئے ہیں‘اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے بے شمار نبی اور رسول علیہم السلام آئے ہیں۔

اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۱۵۲﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا ‘اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے۔‘‘

153-156

ان جرائم کا بیان جو یہود پرلعنت کا سبب بنے

ویڈیو

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۵۳﴾ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۱۵۴﴾ فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۪۱۵۵﴾ وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۱۵۶﴾

آیت 153

یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ

’’(اے نبیﷺ!) اہل کتاب آپ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار لائیں‘‘

یعنی جیسے تورات اُتری تھی‘ ویسے ہی تحریری شکل میں ایک کتاب آسمان سے اترنی چاہیے۔ آپؐ توکہتے ہیں مجھ پر وحی آتی ہے ‘لیکن کہاں لکھی ہوئی ہے وہ وحی؟ کون لایا ہے؟ ہمیں تو پتا نہیں۔ موسٰی ؑکو تو اُن کی کتاب لکھی ہوئی ملی تھی اور وہ پتھر کی تختیوں کی صورت میں اسے لے کر آئے تھے۔ آپؐ پر بھی اسی طرح کی کتاب نازل ہو تو ہم مانیں۔

فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ

’’(یہ تعجب کی بات نہیں) انہوں نے موسٰی ؑسے اس سے بھی بڑھ کر مطالبے کیے تھے‘‘

اے نبیﷺ آپ فکر نہ کریں‘ ان کی پروا نہ کریں۔ انہوں نے اور ان کے آباء و اَجداد نے حضرت موسٰی ؑ سے اس سے بھی بڑے بڑے مطالبات کیے تھے۔

فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً

’’انہوں نے تو (اُن سے یہ بھی) کہا تھا کہ ہمیں دکھاؤ اللہ کوعلانیہ‘‘

کہ ہم خود اپنی آنکھوں سے اُسے دیکھنا چاہتے ہیں‘ جب دیکھیں گے تب مانیں گے۔

فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ

’’تو ان کو آ پکڑا تھا کڑک نے ان کے اس گناہ کی پاداش‘میں۔‘‘

ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ

’’ پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اس کے بعد کہ اُن کے پاس بہت واضح نشانیاں آ چکی تھیں‘‘

ان لوگوں کی نا ہنجاری کا اندازہ کریں کہ نو نو معجزے حضرت موسٰی علیہ السلام کے ہاتھوں دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔

فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۵۳﴾

’’تو ہم نے ان تمام چیزوں سے بھی درگزر کیا‘اور ہم نے موسیٰ کو عطا کیا بڑا واضح غلبہ۔‘‘

فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کر دیا۔

آیت 154

وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا

’’اور ہم نے ان کے سروں پر معلق کر دیا تھا طور پہاڑ کو جب کہ ان سے عہد لیا جا رہا تھااور ہم نے اُن سے کہا کہ دروازے میں داخل ہوں جھک کر‘‘

یعنی جب اریحا (Jericho) شہر تمہارے ہاتھوں فتح ہو جائے اور اس میں داخل ہونے کا مرحلہ آئے تو اپنے سروں کو جھکا کرعاجزی کے ساتھ داخل ہونا۔

وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ

’’اور ہم نے ان سے (یہ بھی) کہا تھا کہ سبت(ہفتے کے دن کے قانون ) میں حد سے تجاوز نہ کرنا‘‘

وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۱۵۴﴾

’’اورہم نے ان سے (ان تمام باتوں کے بارے میں) بڑے گاڑھے قول و قرار لیے تھے۔‘‘

آیت 155

فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ

’’تو انہوں نے جو اپنے اس میثاق کو توڑ ڈالا اس کے سبب‘‘

اب ان کے جرائم کی فہرست آ رہی ہے ‘اور یوں سمجھئے کہ مبتدأ ہی کی تکرار ہو رہی ہے اور اس میں جو اصل خبر ہے وہ گویا محذوف ہے۔ گویا یہ جملہ یوں ہو گا: فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْـثَاقَہُمْ لَـعَنّٰھُمْ کہ انہوں نے جو اپنے میثاق کو توڑا اور توڑتے رہے‘ ہمارے ساتھ انہوں نے جو بھی وعدے کیے تھے‘ جب ان کا پاس انہوں نے نہ کیا تو ہم نے ان پر لعنت کر دی۔ لیکن یہ ’’لَـعَنّٰھُمْ‘‘ اتنی واضح بات تھی کہ اس کو کہنے کی ضروت محسوس نہیں کی گئی‘ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست بیان کر دی گئی۔

وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ

’’ اور اُن کے اللہ کی آیات کے انکار اور انبیاء کو نا حق قتل کرنے (کے سبب سے)‘‘

وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۪۱۵۵﴾

’’اور ان کے اس طرح کہنے (کی پاداش) میں کہ ہمارے دِل تو غلافوں میں بند ہیں۔ بلکہ ( حقیقت یہ ہے کہ) اللہ‘نے ان (کے دلوں) پر مہر کر دی ہے ان کے کفر کے باعث‘پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت ہی شاذ۔‘‘

آیت 156

وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۱۵۶﴾

’’اور بسبب ان کے کفر کے اور اُن باتوں کے جو انہوں نے مریم کے خلاف کیں ایک بہت بڑے بہتان کے طور پر۔‘‘

حضرت مریم سلامٌ علیہا پر یہودیوں نے بہتان لگایا کہ انہوں نے (معاذ اللہ) زنا کیا ہے اور مسیحؑ دراصل یوسف نجار کا بیٹا ہے۔ ان کی روایات کے مطابق یوسف نجار کے ساتھ حضرت مریم کی نسبت ہو چکی تھی‘ لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ان کے مابین تعلق قائم ہو گیا‘ جس کے نتیجے میں یہ بیٹا پیدا ہو گیا ۔ اس طرح انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو ولد الز نا قرار دیا۔ یہ ہے وہ اتنی بڑی بات جو یہودی کہتے ہیں اور آج بھی اس گمراہ کن نظریے پر مبنی ’’Son of Man‘‘ جیسی فلمیں بنا کر امریکہ میں چلاتے ہیں‘ جن میں عیسائیوں کو بتایا جاتا ہے کہ جس مسیح کو تم لوگ Son of God کہتے ہو وہ حقیقت میں son of man ہے۔

157-159

حضرت عیسیٰ ؑ زندہ آسمان پر اٹھالیے گئے

ویڈیو

وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا ﴿ۙ۱۵۷﴾ بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۵۸﴾ وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا ﴿ۚ۱۵۹﴾

آیت 157

وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ

’’اور بسبب ان کے یہ کہنے کے کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم کو‘اللہ کے رسول کو!‘‘

یعنی اللہ کے رسول کو قتل کر دیا! یہاں یہ ’’رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کے الفاظ اُن کے نہیں ہیں‘ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں استعجابیہ نشان (sign of exclamation) کے ساتھ‘ کہ اچھا ان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے! جبکہ رسول تو قتل ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کا تو فیصلہ ہے ‘ ایک طے شدہ امر ہے‘ اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے : {کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ } (المجادلۃ: ۲۱) تو ان کی یہ جرأت کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے!

وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ

’’حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی دی‘ بلکہ اس کی شبیہہ بنا دی گئی ان کے لیے۔‘‘

معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا اور ایک شخص کی حضرت مسیحؑ جیسی صورت بنا دی گئی‘ ان کے ساتھ مشابہت کر دی گئی ۔چنانچہ انہوں نے جس کو مسیح سمجھ کر سولی پر چڑھایا ‘وہ مسیحؑ نہیں تھا‘ان کی جگہ کوئی اور تھا ۔ انجیل برنباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کانام ’’یہودا اسخریوطی ‘‘ (Judas Iscariot) تھااور وہ آپؑ کے حواریوں میں سے تھا۔ ویسے اُس کی نیت کچھ اور تھی‘ اُس میں بد نیتی بہر حال نہیں تھی (تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے) لیکن چونکہ اُس نے آپؑ کو گرفتار کرایا تھا‘ چنانچہ اس گستاخی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکل حضرت مسیح علیہ السلام جیسی بنا دی۔ اس وجہ سے حضرت مسیحؑ کی جگہ وہ پکڑا گیا اور اسے سولی چڑھا دیا گیا۔

وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ

’’اور جو لوگ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑے ہوئے ہیں وہ یقینا شکوک و شبہات میں ہیں۔‘‘

انہیں خود پتا نہیں کہ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟

مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا ﴿ۙ۱۵۷﴾

’’اُن کے پاس اس ضمن میں کوئی علم نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ گمان کی پیروی کر رہے ہیں‘اور یہ بات یقینی ہے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا۔‘‘

حضرت مسیح علیہ السلام ہر گز قتل نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ ؑ کو صلیب پر چڑھایاگیا۔

آیت 158

بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۵۸﴾

’’ بلکہ اللہ نے اُسے اٹھا لیا اپنی طرف‘ اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا۔‘‘

اس واقعہ کی تفصیل انجیل برنباس میں موجود ہے۔

آیت 159

وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ

’’اور نہیں ہو گا اہل کتاب میں سے کوئی بھی مگر اُس پر ایمان لا کر رہے گا اس کی موت سے قبل۔‘‘

یعنی حضرت مسیح علیہ السلام فوت نہیں ہوئے ‘ زندہ ہیں‘ انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا ۔آپ ؑدوبارہ زمین پر آئیں گے‘اور جب آئیں گے تو اہل کتاب میں سے کوئی شخص نہیں رہے گا کہ جو ان پر ایمان نہ لے آئے۔

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا ﴿ۚ۱۵۹﴾

’’اورقیامت کے دن وہی ان کے خلاف گواہ(بن کر کھڑا) ہو گا۔‘‘

یہ اسی گواہی کا ذکر ہے جس کی تفصیل ہم آیت ۴۱ میں پڑھ آئے ہیں: {فَـکَیْفَ اِذَا جِئْـنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْـنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓـؤُلَآئِ شَہِیْدًا} کہ ہر نبی کو اپنی اُمت کے خلاف گواہی دینی ہے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام اپنی اُمت کے خلاف گواہی دیں گے۔

160-161

یہود پر پاکیزہ نعمتیں کیوں حرام کی گئیں؟

ویڈیو

فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ وَ بِصَدِّہِمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ﴿ۙ۱۶۰﴾ وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾

آیت 160

فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ

’’توبسبب اُن یہودی بن جانے والوں کی ظالمانہ روش کے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کر دیں جو اصلاً ان کے لیے حلال تھیں‘‘

اللہ تعالیٰ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ کوئی قوم اگر کسی معاملے میں حد سے گزرتی ہے تو سزا کے طور پر اسے حلال چیزوں سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہاں پر یہی اصول بیان ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر حضرت یعقوبؑ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا اور بنی اسرائیل نے اسے اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تو اللہ تعالیٰ نے تورات میں اس کی صراحت نہیں کی کہ یہ حرام نہیں ہے‘ بلکہ اللہ نے کہا کہ ٹھیک ہے‘ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر تنگی رہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر حلال چیزیں بھی اُن پر حرام کر دیں۔

وَ بِصَدِّہِمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ﴿ۙ۱۶۰﴾

’’اور بسبب اس کے کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے (خود رُکتے ہیں اور دوسروں کو بھی) روکتے ہیں۔‘‘

یہ لوگ اللہ کے راستے سے خود بھی رکتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان پر بعض حلال چیزیں بھی حرام کر دیں۔

آیت 161

وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ

’’ اور بسبب ان کے سود کھانے کے جبکہ اس سے انہیں منع کیا گیا تھا‘‘

شریعتِ موسوی میں سود حرام تھا‘ آج بھی حرام ہے‘ لیکن انہوں نے اس حکم کا اپنا ایک من پسند مفہوم نکال لیا ‘جس کے مطابق یہودیوں کا آپس میں سود کا لین دین تو حرام ہے‘ کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سودی لین دین نہیں کر سکتا‘ لیکن غیر یہودی سے سود لینا جائز ہے‘ کیونکہ غیر یہودی ان کے نزدیک Gentiles اور Goyims ہیں‘ یعنی انسان نما حیوان ہیں‘ جن سے فائدہ اٹھانا اور ان کا استحصال کرنا ان کا حق ہے۔ ہم سورۂ آل عمران (آیت ۷۵) میں یہود کا یہ قول پڑھ چکے ہیں: {لَیسَ عَلَیْنَا فِیْ الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ} کہ ان اُمیین کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہے ہی نہیں۔ ہم جیسے چاہیں ان سے لوٹ مار کریں‘ جس طرح چاہیں انہیں دھوکہ دیں‘ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔لہٰذا سودکھانے میں اُن کے ہاں عمومی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔

وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ

’’اور بسبب ان کے لوگوں کے مال ناحق ہڑپ کرنے‘کے۔‘‘

وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾

’’اوران میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

162

یہود کے نیک لوگوں کیلئے بشارت

ویڈیو

لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۱۶۲﴾

آیت 162

لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ

’’البتہ جو لوگ ان میں سے پختہ علم والے ہیں اور اہل ایمان ہیں‘‘

یعنی یہود میں سے عبدا للہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے اہل علم اورراست باز لوگ جنہوں نے تورات کے علم کی بنا پر نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق کی اور وہ آپؐ پر ایمان لائے۔

یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ

’’وہ ایمان رکھتے ہیں اُس پر جو (اے نبیﷺ!) آپ پر نازل کیا گیا اور اُس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا‘‘

وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ

’’اور وہ نماز قائم کرنے والے ہیں‘ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں‘ اور ایمان رکھنے والے ہیں اللہ پر بھی اور یومِ آخرت پربھی‘‘

اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۱۶۲﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم ضرور اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘

ان آیات میں ابھی بھی تھوڑی سی گنجائش رکھی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا عنصر اگر اب بھی موجود ہو جو حق کی طرف مائل ہو‘ اب بھی اگر کوئی سلیم الفطرت فرد کہیں کونے کھدرے میں پڑا ہو تو وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا لے۔ اور اگر اس کان میں ہیرے کا کوئی ٹکڑا کہیں ابھی تک پڑا رہ گیا ہو تو وہ بھی نکل آئے ‘اس سے پہلے کہ آخری دروازہ بھی بند کر دیا جائے۔ چنانچہ ابھی آخری دروازہ نہ تو منافقین پربند کیا گیا ہے اور نہ ہی ان اہل کتاب پر‘ بلکہ لٰــکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ فرما کر ایک دفعہ پھر صِلائے عام دے دی گئی ہے کہ اہل کتاب میں سے اب بھی اگر کچھ لوگ مائل بہ حق ہیں تو وہ متوجہ ہو جائیں۔

163-164

انبیاء کے پیارے ناموں کا گلدستہ

ویڈیو

اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ عِیۡسٰی وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡنُسَ وَ ہٰرُوۡنَ وَ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿ۚ۱۶۳﴾ وَ رُسُلًا قَدۡ قَصَصۡنٰہُمۡ عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ رُسُلًا لَّمۡ نَقۡصُصۡہُمۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا ﴿ۚ۱۶۴﴾

تمہید

اس رکوع کے شروع میں انبیاء و رسل علیہم السلام کے ناموں کاایک خوبصورت گلدستہ نظر آتا ہے۔ قرآن پاک میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں ایسے گلدستے خوبصورتی سے سجائے گئے ہیں۔ یہاں آپ کو پے بہ پے انبیاء و رسل علیہم السلام کے نام ملیں گے اور پھر اُن میں سے بعض کی اضافی شانوں کا ذکر بھی ملے گا ۔ اس کے بعد فلسفۂ قرآن کے اعتبار سے ایک بہت اہم آیت بھی آئے گی‘ جس میں نبوت کا بنیادی مقصد اور اساسی فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔

آیت 163

اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) ہم نے آپ کی جانب بھی وحی کی ہے جیسے ہم نے نوحؑ اور ان کے بعد بہت سے انبیاء پر وحی کی تھی۔‘‘

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ

’’اور ہم نے ابراہیم ؑ ‘ اسماعیل ؑ‘ اسحاق ؑ‘ یعقوبؑ اور اُن کی اولاد کی طرف بھی وحی کی‘‘

وَ عِیۡسٰی وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡنُسَ وَ ہٰرُوۡنَ وَ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿ۚ۱۶۳﴾

’’اور عیسیٰ ؑ‘ ایوب یونس ؑ‘ ہارونؑ اور سلیمانؑ کی طرف (بھی وحی کی )۔ اور دائودؑ کو تو ہم نے زبور (جیسی کتاب )عطا فرمائی۔‘‘

آیت 164

وَ رُسُلًا قَدۡ قَصَصۡنٰہُمۡ عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ رُسُلًا لَّمۡ نَقۡصُصۡہُمۡ عَلَیۡکَ ؕ

’’اور (بھیجے)وہ رسول جن کا ہم اس سے پہلے آپؐ کے سامنے تذکرہ کر چکے ہیں اور ایسے رسول (بھی )جن کے حالات ہم نے آپؐ کے سامنے بیان نہیں کیے۔‘‘

ظاہر ہے پوری دنیا کی تاریخ بیان کرنا تو قرآن مجید کا مقصد نہیں ہے کہ تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام کی مکمل فہرست دے دی جاتی۔ یہ تو کتابِ ہدایت ہے‘ تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔

وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا ﴿ۚ۱۶۴﴾

’’اور موسٰی ؑ سے تو کلام کیا اللہ نے جیسے کہ کلام کیا جاتا ہے۔‘‘

یہ خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امتیازی شان کا ذکر ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ مکالمہ مِنْ وَرَآ ئِ حِجَابٍ تھا ‘یعنی پردے کے پیچھے سے‘ البتہ تھا دُو بدو کلام۔ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جس میں نبوت کا اساسی مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ تمام رسول ؑکس لیے بھیجے گئے تھے۔

165

رسالت کا مقصد . . . انسانوں پر اتمامِ حجّت

ویڈیو

رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾

آیت 165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ

’’یہ رسول ؑ( بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر‘‘

لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ

’’تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت ( دلیل) رسولوں کے آنے کے بعد۔‘‘

یہاں پر ایک طرف للِنَّاسِ کا ’ل‘ نو ٹ کیجئے اور دوسری طرف عَلَی اللّٰہِ کا عَلٰی ۔ یہ دونوں حروف متضاد معانی پیدا کر رہے ہیں۔ لِلنَّاسِ کے معنی ہیں لوگوں کے حق میں حجت‘ جبکہ عَلَی اللّٰہِ کے معنی ہیں اللہ کے خلاف حجت۔

وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾

’’ اور اللہ زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘

اس آیت کے حوالے سے یہاں احتسابِ آخرت کے فلسفے کو اچھی طرح سمجھ لیجیے ۔ قیامت کے دن ہر کسی کا امتحان ہو گا اور اس امتحان سے نتائج نکلیں گے‘ کوئی پاس ہو گا اور کوئی فیل ۔ لیکن ظاہر ہے امتحان سے پہلے کچھ پڑھایا جانا بھی ضروری ہے ‘ کسی کو جانچنے سے پہلے اُسے کچھ دیا بھی جاتا ہے۔ چنانچہ ہمیں دیکھنا ہے کہ قیامت کے امتحان کے لیے ہمیں کیا پڑھایا گیا ہے؟اور اس آخری جانچ پڑتال سے پہلے ہمیں کیا کچھ دیا گیا ہے؟قرآن مجید کے بنیادی فلسفہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو سمع‘ بصر اور عقل تین بڑی چیزیں دی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر روح بھی و دیعت کی ہے اور نفسِ انسانی میں خیر اور شرکا علم بھی رکھاہے۔ان باتوں کی بنا پر انسان وحیٔ الٰہی کی راہنمائی کے بغیر بھی اللہ کے حضور جواب دہ (accountable) ہے کہ جب اس کی فطرت میں نیکی اور بدی کی تمیز رکھ دی گئی تھی تو وہ بدی کی طرف کیوں گیا؟تو گویا اگر کوئی نبی یا رسول نہ بھی آتا‘ کوئی کتاب نازل نہ بھی ہوتی‘ تب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت کا محاسبہ نا حق نہیں تھا۔اس لیے کہ وہ بنیادی چیزیں جو امتحان اور احتساب کے لیے ضروری تھیں وہ اللہ تعالیٰ انسان کو دے چکا تھا ۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ وہ اس کے علاوہ بھی انسانوں پر اتمامِ حجت کرتا ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ حجت کیا ہے؟ بنیادی حجت تو عقل ہے جو اللہ نے ہمیں دے رکھی ہے: {اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾} ( بنی اسرائیل) ’’یقینا سماعت‘بصارت اور عقل سبھی کے بارے میں بازپرس کی جائے گی‘‘۔اس کے علاوہ انسانی نفس کے اندر نیکی اور بدی کی تمیزبھی‘ودیعت کر دی گئی ہے: {وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾} (الشمس) ’’اور قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا کہ اس کو سنوارا۔پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا‘‘۔پھرانسان کے اندراللہ تعالیٰ کی طرف سے روح بھی پھونکی گئی ہے۔ان تمام صلاحیتوں اور اہلیتوں کی بنا پر جوابدہی‘ (accountability) کا جوازبرحق ہے۔ کوئی نبی آتا یا نہ آتا‘ اللہ کی یہ حجت تمام انسانوں پربہر حال قائم ہے۔

اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے اتمامِ حجت کرنے کے لیے اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ یہ گویا اتمامِ حجت کا اضافی انتظام تھا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ہی کچھ لوگوں کو چنا‘ جو بڑے ہی اعلیٰ کردار کے لوگ تھے۔ ان کے دامنِ کردار پر کوئی داغ دھبہ نہیں تھا‘ ان کی سیرت و اخلاق کھلی کتاب کی مانندان کی قوموں کے سامنے تھی۔ ان کے پاس اللہ نے اپنی وحی بھیجی اور واضح طور پر بتا دیا کہ انسان کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ اس طرح اُس نے انسانوں کے لیے اس امتحان کو آسان کر دیا‘تا کہ اب کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے‘کوئی یہ دلیل پیش نہ کر سکے کہ مجھے تو علم ہی نہیں تھا۔پروردگار! میں تو بے دین ماحول میں پیدا ہو گیا تھا‘ وہاں سب کے سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ پروردگار! میں تواپنی دو وقت کی روٹی کے دھندے میں ہی ایسا مصروف رہا کہ مجھے کبھی ہوش ہی نہیں آیا کہ دین و ایمان اور اللہ و آخرت کے بارے میں سوچتا۔بہرحال رسولوں کے آنے کے بعد حق کھل کر سامنے آ جاتا ہے ‘حق و باطل کے درمیان امتیاز بالکل واضح طور پر قائم ہو جاتا ہے اور لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے محاسبہ کے مقابلے میں پیش کرنے کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہتی۔تو یہ ہے اتمامِ حجت کا فلسفہ اور طریقہ اللہ کی طرف سے۔ رسول ؑاس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟ وہ کسی کو زبردستی تو ہدایت پر نہیں لا سکتے۔ ہاں جن لوگوں کے اندر احساس جاگ جائے گا وہ رسول ؑکی تعلیمات کی طرف متوجہ ہوں گے‘ ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور سیدھے راستے پر چلیں گے۔ان کے لیے اللہ کے رسول ’’مبشر‘‘ ہوں گے ‘یعنی اللہ کے فضل اور جنت کی نعمتوں کی بشارت دینے والے : {فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾} (الواقعہ ) کہ ان کے لیے آخرت میں راحت و سرور اور نعمتوں والی جنت ہو گی۔ ۱ور جو لوگ اس کے بعد بھی غلط راستوں پر چلتے رہیں گے‘ تعصب میں‘ضد اور ہٹ دھرمی میں‘ مفادات کے لالچ میں‘ اپنی چودھراہٹیں قائم رکھنے کے لالچ میں‘ ان کے لیے رسول ؑ ’’نذیر‘‘ ہوں گے۔ یعنی اُن کو وہ خبر دار کریں گے کہ اب تمہارے لیے بد ترین انجام کے طور پر جہنم تیار ہے۔ تو رسولوں ؑکی بعثت کا بنیادی مقصد یہی ہے‘ یعنی تبشیر اور انذار ۔

تبشیر و انذار کے اس فلسفے کو سمجھ لینے کے بعد اب دوبارہ آیت کے الفاظ کو سامنے رکھیے : {رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ } ’’رسول بھیجے گئے بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر‘‘ ----یہ تبشیر اور انذار کس لیے؟ {لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ} ’’تا کہ باقی نہ رہ جائے لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت‘ کوئی عذر‘ کوئی بہانہ‘ رسولوں کے آنے کے بعد‘‘ ۔ {وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾} ’’اور اللہ زبردست ہے‘ حکیم ہے‘‘۔ وہ عزیز ہے‘ غالب ہے‘ زبردست ہے‘ وہ بغیر رسولوں کے بھی محاسبہ کر سکتا ہے‘ اس کا اختیار مطلق ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ حکیم بھی ہے‘ اُس نے محاسبۂ اُخروی کے لیے یہ مبنی بر حکمت نظام بنایا ہے ۔ اس ضمن میں ایک بات اور نوٹ کر لیجئے کہ رسالت کاا یک تکمیلی مقصد بھی ہے جو حضرت محمدرسول اللہﷺ پر کامل ہوا‘ اور وہ ہے روئے ارضی پر اللہ کے دین کو غالب کرنا۔ آپؐ نے دعوت کا آغاز اسی تبشیر اور انذار ہی سے فرمایا‘ جیسا کہ سورۃالاحزاب میں ارشاد ہے: {یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾} ’’اے نبی(ﷺ)!یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔ اوراللہ کی طرف بلانے والا اُس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر‘‘۔ بحیثیتِ رسولؐ یہ آپؐ کی رسالت کے بنیادی مقصدکا اظہار ہے‘ لیکن اس سے بلند تر درجے میں آپؐ کی رسالت کی تکمیلی حیثیت کا اظہار سورۃ التوبہ آیت ۳۳‘ سورۃ الفتح آیت۲۸ اور سورۃ الصف آیت۹میں بایں الفاظ ہوا ہے: {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ } ’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول (محمدﷺ) کو الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دینِ حق دے کر تاکہ وہ اسے غالب کر دے پورے دین پر‘‘ ۔ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام میں یہ آپؐ کی امتیازی شان ہے۔ میری کتاب ’’نبی اکرمﷺ کا مقصدِ بعثت‘‘ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔

166-169

قرآن کی حقانیت کا بیان جلالی اسلوب میں

ویڈیو

لٰکِنِ اللّٰہُ یَشۡہَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ اَنۡزَلَہٗ بِعِلۡمِہٖ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَشۡہَدُوۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۱۶۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۶۷﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ ظَلَمُوۡا لَمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ طَرِیۡقًا ﴿ۙ۱۶۸﴾ اِلَّا طَرِیۡقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۶۹﴾

آیت 166

لٰکِنِ اللّٰہُ یَشۡہَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ اَنۡزَلَہٗ بِعِلۡمِہٖ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَشۡہَدُوۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۱۶۶﴾

’’ لیکن اللہ گواہ ہے کہ جو کچھ اُس نے نازل کیا ہے (اے نبیﷺ) آپ کی طرف وہ اُس نے نازل کیا ہے اپنے علم سے ‘اور فرشتے بھی اس پر گواہ ہیں‘ اگرچہ اللہ (اکیلا ہی) گواہ ہونے کے اعتبار سے کافی ہے۔‘‘

آیت 167

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۶۷﴾

’’بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا(خود کو بھی اور دوسروں کو بھی) تو یقینا وہ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔‘‘

اب آخری رسولؐ کے آجانے کے بعد بھی جو لوگ کفر پراَڑے رہے ‘ اللہ کے راستے سے رُکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے‘ وہ راہِ حق سے بھٹک کر بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

آیت 168

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ ظَلَمُوۡا لَمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ طَرِیۡقًا ﴿ۙ۱۶۸﴾

’’یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ظلم( شرک) کے مرتکب ہوئے اللہ انہیں ہر گز بخشنے والا نہیں ہے‘ اور نہ انہیں کسی راستے کی ہدایت دے گا۔‘‘

آیت 169

اِلَّا طَرِیۡقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ

’’سوائے جہنم کے راستے کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘

اب ذرا اس آیت کا تقابل کیجیے آیت ۱۴۷ کے ساتھ {مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ…} ’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا…؟‘‘ یقینا اللہ ایذا پسند (sadist) نہیں ہے‘ اُسے لوگوں کو عذاب دے کر خوشی نہیں ہو گی۔

لیکن یہ اُس کا ضابطہ اور قانون ہے ‘ اسی پر اس نے دنیا بنائی ہے‘ اور اپنے اسی ضابطے اور قانون کے عین مطابق وہ مستحقین کو جزا و سزا دے گا۔ یہ اُس پر کوئی بھاری گزرنے والی بات نہیں ہے کہ وہ اپنی ہی مخلوق کو سزا دے۔ بعض ملنگ قسم کے صوفی اس طرح کی باتیں بھی کرتے ہیں کہ اللہ بڑا رحیم ہے‘ کیا وہ اپنی ہی مخلوق کو جہنم میں جھونک دے گا؟ یہ توایسے ہی ڈراوے کے لیے‘ لوگوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے عذاب اور سزا کی باتیں کی گئی ہیں۔جیسے باپ بچوں کو ڈانٹتا ہے میں تیری ہڈیاں توڑ دوں گا‘ ماں کہتی ہے میں تیراقیمہ کر دوں گی۔تو کیا وہ سچ مچ اپنے بچوں کا قیمہ کر دے گی؟ لہٰذا یہ توصرف ڈراوا ہے ‘ حقیقت میں ایسا نہیں ہو گا‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے خیالات و نظریات گمراہ کن ہیں۔ ماں کے لیے تو اپنے بچے کو بڑے سے بڑے قصور پر بھی آگ میں ڈالنا ممکن نہیں ہے‘ مگر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے {وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۶۹﴾} اللہ کے لیے یہ بہت آسان ہے‘ بہت ہلکی بات ہے۔

170

تمام لوگوں کو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷۰﴾

تمہید

اب اگلی آیات اِس سورۃ کا’’حرفِ آخر‘‘ ہیں۔

آیت 170

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ

’’اے لوگو! تمہارے پاس آ چکا ہے رسول ؐحق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے ‘تو اب تم ایمان لے آؤ‘ یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘

بلکہ آخری الفاظ کی صحیح تر ترجمانی یوں ہو گی کہ ’’ ایمان لے آئو ‘اسی میں تمہاری خیریت ہے‘‘۔ اس آیت کے ایک ایک لفظ میں بہت زور اور جلال ہے اور اب بات بالکل دو ٹوک انداز اور حتمی طور پر کی جا رہی ہے کہ اے لوگو! اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ کی طرف سے کوئی راہنمائی نہیں کی گئی‘ ہمیں کچھ پتا نہیں تھا‘ ہم پر بات واضح نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے آخری نبیﷺ کے آ جانے کے بعد تمہارا یہ بہانہ اب ختم ہو گیا۔

وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷۰﴾

’’اور اگر تم لوگ کفر پر اَڑے رہو گے تو ( اللہ کا کیا بگاڑ لو گے؟) آسمانوں اور زمین میں جوکچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے ‘اور اللہ علیم بھی ہے ‘ حکیم بھی ۔‘‘

آگے اہل کتاب سے جو خطاب ہے اس کے مخاطب خاص طو رپر عیسائی ہیں ‘ جو حضرت مسیح علیہ السلام کی عقیدت و محبت میں حد سے گزر گئے تھے۔

171

عیسائیوں کو اعتدال پر رہنے کی دعوت

ویڈیو

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ ۫ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ۟ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَۃٌ ؕ اِنۡتَہُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ سُبۡحٰنَہٗۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗ وَلَدٌ ۘ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿٪۱۷۱﴾

آیت 171

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ

’’اے اہل کتاب ‘اپنے دین میں غُلو (مبالغہ) نہ کرو ‘اور اللہ کی طرف کوئی شے منسوب نہ کرو سوائے اس کے جو حق‘ہو۔‘‘

تم آپس کے معاملات میں تو جھوٹ بولتے ہی ہو‘ مگر اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا‘ جھوٹ بول کر اللہ پر اسے تھوپنا کہ اللہ کا یہ حکم ہے‘ اللہ نے یوں کہا ہے ‘ یہ تووہی بات ہوئی : بازی بازی با ریشِ با با ہم بازی!

اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ

’’ دیکھو مسیح عیسٰی ؑ ابن مریم تو بس اللہ کے رسول‘ؑتھے‘‘

وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ایک رسول ؑ تھے اوربس! اُلوہیّت میں ان کا کوئی حصّہ نہیں ہے‘ وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں۔

وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ ۫

’’اوروہ اُس کا ایک کلمہ تھے‘ جو اُس نے اِلقا کیا مریم ؑ پر اور ایک روح تھے اُس کی طرف سے‘‘

یعنی حضرت مریم ؑ کے رحم میں جو حمل ہوا تھا وہ اللہ کے کلمہ کن کے طفیل ہوا۔ بچے کی پیدائش کے طبعی عمل میں ایک حصہ باپ کا ہوتا ہے اور ایک ماں کا۔ اب حضرت مسیحؑ کی ولادت میں ماں کا حصہ تو پورا موجود ہے۔ حضرت مریم ؑکو حمل ہوا‘ نو مہینے آپؑ رحم میں رہے ‘لیکن یہاں باپ والا حصہ بالکل نہیں ہے اور باپ کے بغیر ہی آپؑ کی پیدائش ممکن ہوئی۔ ایسے معاملات میں جہاں اللہ کی مشیّت سے ایک لگے بندھے طبعی عمل میں سے اگر کوئی کڑی اپنی جگہ سے ہٹائی جاتی ہے تو وہاں پر اللہ کا مخصوص امر کلمۂ کُن کی صورت میں کفایت کرتا ہے۔ یہاں پر اللہ کے ’’کلمہ‘‘ کا یہی مفہوم ہے۔

جہا ں تک حضرت مسیح علیہ السلام کو ’’رُوْحٌ مِّنْہُ‘ ‘قرار دینے کا تعلق ہے تو اگرچہ سب انسانوں کی روح اللہ ہی کی طرف سے ہے‘ لیکن ظاہر ہے تمام روحیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض روحوں کے بڑے بڑے اونچے مراتب ہوتے ہیں۔ ذرا تصور کریں روحِ محمدیﷺکی شان اور عظمت کیاہو گی! روحِ محمدیؐ کو عام طو رپر ہمارے علماء ’’نورِ محمدیؐ‘‘ کہتے ہیں۔ اس لیے کہ روح ایک نورانی شے ہے۔ملائکہ بھی نور سے پیدا ہوئے ہیں اور انسانی ارواح بھی نور سے پیدا ہوئی ہیں۔ لیکن سب انسانوں کی ارواح برابر نہیں ہیں۔ حضورﷺ کی روح کی اپنی ایک شا ن ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کی اپنی ایک شان ہے۔

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ۟ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَۃٌ ؕ

’’پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر ‘اور تثلیث (تین خداؤں) کا دعویٰ مت کرو۔‘‘

اِنۡتَہُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ

’’باز آ جاؤ ‘اسی میں تمہاری بہتری (خیریت) ہے۔‘‘

یہ مت کہو کہ الوہیت تین میں ہے۔ ایک میں تین اور تین میں ایک کا عقیدہ مت گھڑو۔

اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ سُبۡحٰنَہٗۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗ وَلَدٌ ۘ

’’جان لو کہ اللہ تو بس ایک ہی الٰہِ واحد ہے‘ وہ اس سے پاک ہے کہ اُس کا کوئی بیٹا ہو۔‘ ‘

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿٪۱۷۱﴾

’’آسمانوں اورزمین میں جو کچھ ہے سب کچھ اُسی کا ہے ‘اور اللہ کافی ہے بطورِ کار ساز۔‘‘

172-173

مرتبہ کی بلندی اللہ کے سامنے جھکنے میں ہے

ویڈیو

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۷۲﴾ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡتَنۡکَفُوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَیُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷۳﴾

آیت 172

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ

’’مسیحؑ کو تو اس میں ہر گز کوئی عار نہیں ہے کہ وہ بنے اللہ کا بندہ اور نہ ہی ملائکہ مقربین کو اس میں کوئی عار ہے (کہ انہیں اللہ کا بندہ سمجھا جائے)۔‘‘

مسیح علیہ السلام کو تو اللہ کا بندہ ہونے میں یقینا فخر محسوس ہو گا ۔ جیسے ہم بھی حضورﷺ کے بارے میں کہتے ہیں: وَنَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ ’’ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘۔تو عبدیت کی شان تو بہت بلند و بالا ہے‘ رسالت سے بھی اعلیٰ اور اَرفع۔ (یہ ایک علیحدہ مضمون ہے‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔) چنانچہ حضرت مسیحؑ کے لیے یہ کوئی عار کی بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔

وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۷۲﴾

’’اور جو کوئی بھی عار سمجھے گا اُس کی بندگی میں اور تکبر کرے گا تو اللہ ان سب کو اپنے پاس جمع کر لے گا۔‘‘

آیت 173

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ۚ

’’پس جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے تو ان کو تو ان کا پورا پورا اجر بھی دے گا اور انہیں مزید بھی دے گا اپنے خاص فضل میں سے۔‘‘

ایسے لوگوں کوان کے اجر کے علاوہ بونس بھی ملے گا۔ جیسے آپ کسی کام کرنے والے کو اچھا کام کرنے پر اُجرت کے علاوہ انعام (tip) بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے خزانۂ فضل سے انہیں ان کے مقررہ اجر سے بڑھ کر نوازے گا۔

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡتَنۡکَفُوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَیُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ

’’اور جنہوں نے (عبدیت کے اندر)عار محسوس کی تھی اور تکبر کیا تھا تو ان کو وہ درد ناک عذاب دے‘گا‘‘

وَّ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷۳﴾

’’ اور وہ نہیں پائیں گے اپنے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔‘‘

174-175

قرآن حصولِ رحمت کا ذریعہ ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اعۡتَصَمُوۡا بِہٖ فَسَیُدۡخِلُہُمۡ فِیۡ رَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلَیۡہِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿ؕ۱۷۵﴾

آیت 174

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ

’’اے لوگو ! آ چکی ہے تمہارے پاس ایک برہان تمہارے ربّ کی طرف سے‘‘

یہ قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ تعارفِ قرآن کے دوران ذکر ہو چکا ہے کہ کتاب اور رسولﷺ مل کر بَیِّنَہ بنتے ہیں‘ جیسا کہ سورۃ البیّنہ (آیات ۱ تا ۳) میں ارشاد ہوا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اسی بیّنہ کو بُرہان کہا گیا ہے۔

وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾

’’ اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کر دیاہے۔‘‘

یہاں چونکہ نور کے ساتھ لفظ انزال آیا ہے اس لیے اس سے مراد لازماً قرآن مجید ہی ہے۔

آیت 175

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اعۡتَصَمُوۡا بِہٖ

’’پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں گے اور اُس کے ساتھ چمٹ جائیں گے‘‘

یکسو ہو جائیں گے‘ خالص اللہ والے بن جائیں گے‘ مذبذب نہیں رہیں گے کہ کبھی اِدھر کبھی اُدھر‘ بلکہ پوری طرح سے یکسو ہو کر اللہ کے دامن سے وابستہ ہو جائیں گے۔

فَسَیُدۡخِلُہُمۡ فِیۡ رَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلَیۡہِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿ؕ۱۷۵﴾

’’توانہیں وہ داخل کرے گا اپنی رحمت اور اپنے فضل میں ‘اور انہیں ہدایت دے گا اپنی طرف صراطِ مستقیم کی۔‘‘

یعنی انہیں سیدھے راستے (صراطِ مستقیم) پر چلنے کی توفیق بخشے گا اور سہج سہج‘ رفتہ رفتہ انہیں اپنے خاص فضل و کرم اور جوارِ رحمت میں لے آئے گا۔

176

کلالہ کی وراثت

ویڈیو

یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِی الۡکَلٰلَۃِ ؕ اِنِ امۡرُؤٌا ہَلَکَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗۤ اُخۡتٌ فَلَہَا نِصۡفُ مَا تَرَکَ ۚ وَ ہُوَ یَرِثُہَاۤ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہَا وَلَدٌ ؕ فَاِنۡ کَانَتَا اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ؕ وَ اِنۡ کَانُوۡۤا اِخۡوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۱۷۶﴾

تمہید

اس آخری آیت میں پھر ایک استفتاء ہے ۔ آیت ۱۲ میں قانونِ وراثت کے ضمن میں ایک لفظ آیا تھا کلالہ‘یعنی وہ مرد یا عورت جس کے نہ تو والدین زندہ ہوں اور نہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ اس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اگر اُس کے بہن بھائی ہوں تو اس کی وراثت کا حکم یہ ہے ۔ لیکن وہ حکم لوگوں پر واضح نہیں ہو سکا تھا۔ لہٰذا یہاں اس حکم کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ آیت ۱۲ کے حکم کو صرف اَخیافی بہن بھائیوں کے ساتھ مخصوص مان لینے کے بعد اس توضیحی حکم میں کلالہ کی وراثت کا ہر پہلو واضح ہو جاتا ہے۔

آیت 176

یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِی الۡکَلٰلَۃِ ؕ

’’(اے نبیﷺ) یہ آپ سے فتویٰ مانگ رہے ہیں ۔ کہو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دے رہا ہے۔‘‘

اِنِ امۡرُؤٌا ہَلَکَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗۤ اُخۡتٌ فَلَہَا نِصۡفُ مَا تَرَکَ ۚ

’’ اگر کوئی شخص فوت ہو گیا اور اس کی کوئی اولاد نہیں (اور نہ ماں باپ ہیں) اور اس کی صرف ایک بہن ہے تو اس کے لیے اس کے ترکے میں سے نصف ہے۔‘‘

ایسی صورت میں اس کی بہن ایسے ہی ہے جیسے ایک بیٹی ہو تو اسے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔

وَ ہُوَ یَرِثُہَاۤ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہَا وَلَدٌ ؕ

’’ اور وہ مرد(بھائی) اس (بہن) کامکمل وارث ہو گا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہیں۔‘‘

یعنی اگر کلالہ عورت تھی جس کی کوئی اولاد نہیں‘ کوئی والدین نہیں تو اس کاوارث اس کا بھائی بن جائے گا‘ اس کی پوری وراثت اس کے بھائی کو چلی جائے گی۔

فَاِنۡ کَانَتَا اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ؕ

’’پھر اگر دو (یا دو سے زیادہ) بہنیں ہوںتو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حق دار ہوں گی۔‘‘

وَ اِنۡ کَانُوۡۤا اِخۡوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ

’’اور اگر کئی بہن بھائی ہوں تو ایک مرد کے لیے دو عورتوں کے برابر حصہ ہو گا۔‘‘

یعنی بھائی کو بہن سے دوگنا ملے گا۔ البتہ یہ بات اہم ہے کہ آیت ۱۲ میں جو حکم دیا گیا تھا وہ اَخیافی بہن بھائیوں کے بارے میں تھا۔ یعنی ایسے بہن بھائی جن کی ماں ایک ہو اور باپ علیحدہ علیحدہ ہوں۔ اُس زمانے کے عرب معاشرے میں تعد دِازواج کے عام رواج کی وجہ سے ایسے مسائل معمولات کا حصہ تھے۔ باقی عینی یاعلاتی بہن بھائیوں (جن کے ماں اور باپ ایک ہی ہوں یا مائیں الگ الگ ہوں اور باپ ایک ہی ہو) کاوہی عام قانون ہو گا جو بیٹے اور بیٹی کا ہے ۔جس نسبت سے بیٹے اور بیٹی میں وراثت تقسیم ہوتی ہے ایسے ہی ان بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گی۔

یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۱۷۶﴾

’’ اللہ واضح کیے دیتا ہے تمہارے لیے مبادا کہ تم گمراہ ہوجاؤ ‘اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

تعارفِ قرآن کے دوران میں نے بتایا تھا کہ قرآن حکیم کی ایک تقسیم سات احزاب یا منزلوں کی ہے۔ اس اعتبار سے سورۃ النساء پر پہلی منزل ختم ہو گئی ہے۔ فالحمد للّٰہ علی ذٰلک!

یوٹیوب پر دیکھیے