’’ (اے نبیﷺ! ) یقیناہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے حق کے ساتھ تا کہ آپؐ لوگوں کے مابین فیصلہ کریں اس کے مطابق جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے۔‘‘
یعنی ایک تو اللہ نے اپنے رسولﷺ کو کتاب دی ہے‘ قانون دیا ہے‘ اس کے ساتھ آپ ؐکو بصیرتِ خاص دی ہے۔ مثلاً عدالت میں ایک جج بیٹھا ہے ‘اس کے سامنے قانون کی کتاب ہے‘ مقدمے کا متعلقہ ریکارڈ ہے ‘ شہادتیں ہیں ‘ اب ایک اس کی اپنی عقل (چھٹی حِس) اور قوتِ فیصلہ بھی ہوتی ہے‘ جس کو بروئے کار لا کروہ فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسا ہم آپؐ کو دکھاتے ہیں اس کے مطابق آپؐ فیصلہ کریں۔
وَ لَا تَکُنۡ لِّلۡخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا ﴿ۙ۱۰۵﴾
’’اور آپؐ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں۔‘‘
یعنی آپؐ ان کی طرف سے وکالت نہ فرمائیں۔ ایک شخص جو کہنے کو تو مسلمان ہے لیکن ہے خائن‘آپؐ کو اس کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے۔اس کے پس منظر میں در اصل ایک واقعہ ہے ۔ ایک منافق نے کسی مسلمان کے گھر میں چوری کے لیے نقب لگائی اور وہاں سے آٹے کا ایک تھیلا اور کچھ اسلحہ چرا لیا۔ آٹے کے تھیلے میں سوراخ تھا‘ جب وہاں سے وہ اپنے گھر کی طرف چلا توسوراخ میں سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا۔ اس طرح اس کے راستے اور گھر کی نشاندہی ہو تی گئی‘مگر اسے خبر نہیں تھی کہ آٹے کی لکیر اس کاراز فاش کر رہی ہے۔ گھر پہنچ کر اسے خیال آیا کہ ممکن ہے مجھ پر شک ہو جائے‘ چنانچہ اُس نے اسی وقت جا کر وہ سامان ایک یہودی کے ہاں امانتاً رکھوا دیا‘لیکن آٹے کا نشان وہاں بھی پہنچ گیا۔اگلے روز جب تلاش شروع ہوئی توآٹے کی لکیر کے ذریعے لوگ کھوج لگاتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچ گئے‘ لیکن پوچھ گچھ پراس نے صاف انکار کر دیا۔ تلاشی لی گئی‘ مگر کوئی چیز برآمد نہ ہوئی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آٹے کے نشانات مزید آگے جا رہے ہیں تووہ کھوج لگاتے ہوئے یہودی کے گھر پہنچے ‘ اس کے ہاں سے سامان بھی بر آمد ہو گیا۔ یہودی نے حقیقت بیان کرد ی کہ یہ سامان رات کو فلاں شخص نے اُس کے پاس امانتاً رکھوایا تھا۔ منافق کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ یہودی جھوٹ بولتا ہے‘ وہی چور ہے۔ جب کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تو یہ جھگڑا حضورﷺ کے سامنے لایا گیا۔منافق کے قبیلے والوں نے قسمیں کھا کھا کر خوب وکالت کی کہ ہمارا یہ آدمی تو بہت نیک ہے‘ اس پر خواہ مخواہ کا جھوٹا الزام لگ رہا ہے۔ یہاں تک کہ حضورﷺ کا دل بھی اس شخص کے بارے میں کچھ پسیجنے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ خیانت کرنے والے کے حمایتی نہ بنیں‘ اس کی طرف سے وکالت نہ کریں‘ اس کا سہار ا نہ بنیں‘اس کو مدد نہ پہنچائیں۔ یہاں خَصِیْمًا کے معنی ہیں جھگڑا کرنے والا ‘بحث کرنے والا۔ لِلخَائِنِیْنَ کا مطلب ہے’’خائن لوگوں کے حق میں‘‘۔ لیکن اگر عَلَی الخَائِنِینَ ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا ’’خائن لوگوں کے خلاف‘‘۔
’’ اورآپؐ مت جھگڑئیے اُن لوگوں کی طرف سے جو اپنی جانوں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں۔‘‘
اس حکم کے حوالے سے ذرا مسئلہ شفاعت پر بھی غور کریں۔ ہم یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حضورﷺ ہماری طرف سے شفاعت کریں گے ‘ چاہے ہم نے بے ایمانیاں کی ہیں‘حرام خوریاں کی ہیں‘ شریعت کی دھجیاں بکھیری ہیں۔ لیکن یہاں آپؐ ‘کو دو ٹوک انداز میں خائن لوگوں کی وکالت سے منع کیا جا رہا ہے۔
’’اور وہ تو ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو چھپ کر اُس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں۔‘‘
یہ منافقین کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جب وہ مسلمانوں اوررسول اللہﷺ کے خلاف چوری چھپے سازشیں کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔اگر اللہ پر ان کا ایمان ہوتو انہیں معلوم ہو کہ اللہ ہماری باتیں سن رہا ہے۔یہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں‘ ان سے اپنی باتوں کو خفیہ رکھتے ہیں‘ مگر ان بد بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ان کے ساتھ موجود ہے‘ اس سے تو کچھ نہیں چھپ سکتا۔
’’ مگر قیامت کے دن اللہ سے ان کے بارے میں کون جھگڑا کر ے گا؟‘‘
اَمۡ مَّنۡ یَّکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۱۰۹﴾
’’یا کون ہو گا جو(وہاں) ان کا وکیل بن سکے گا؟‘‘
یہ خطاب ہے اُس منافق چور کے قبیلے کے لوگوں سے کہ اے لوگو ! تم نے دنیا کی زندگی میں تو مجرموں کی طرف سے خوب وکالت کر لی‘ یہاں تک کہ اللہ کے رسول (ﷺ) کو بھی قائل کرنے کی حد تک تم پہنچ گئے۔ مگر یہاں تم انہیں چھڑا بھی لیتے اور بالفرض رسول اللہ(ﷺ) کو بھی قائل کر لیتے تو قیامت کے دن انہیں اللہ کی پکڑ سے کون چھڑاتا؟ اس ضمن میں حضورﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم اس طرح ہے کہ میرے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہوتا ہے‘ اس میں ایک فریق زیادہ چرب زبان ہوتا ہے‘ وہ اپنی بات بہتر طور پر پیش کرتا ہے اور میرے ہاں سے اپنے حق میں غلط طور پر فیصلہ لے جاتا ہے۔ (فرض کیجئے کسی زمین کے ٹکڑے کے بارے میں کوئی تنازعہ تھا اور ایک شخص غلط طور پر بات ثابت کر کے اپنے حق میں فیصلہ لے گیا ۔) لیکن اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح وہ زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ جہنم کا ٹکڑا لے کر گیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خود رسول اللہﷺ بھی شہادتوں کے اعتبار سے فیصلے کرتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کی طرف سے ہر وقت اورہر مرحلے پر تو وحی نازل نہیں ہوتی تھی‘ البتہ جہاں اللہ تعالیٰ چاہتا آپؐ کو متنبہ فرما دیتا تھا۔اس لیے آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرما دی کہ اگر کچھ لوگ اس دنیا میں جھوٹ ‘فریب اور غلط فیصلے کے ذریعے کوئی مفاد حاصل کر بھی لیتے ہیں تو انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایک دن اُس کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے جہاں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہیں چلے گا‘ وہاں ان کے حق میں اللہ سے کون جھگڑے گا؟
’’اور جو کوئی بری حرکت کر ے یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھے اور پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو پائے گا بخشنے والا‘ بہت رحم کرنے والا۔‘‘
اس سلسلے میں سیدھی روش یہی ہے کہ غلطی یا خطا ہو گئی ہے تو اس کا اعتراف کر لو‘اس جرم کی جو دُنیوی سزا ہے وہ بھگت لو اور اللہ سے استغفار کرو۔ اس طرح آخرت کی سزا سے چھٹکارا مل جائے گا۔
’’تو اس نے اپنے سر ایک بہت بڑا بہتان اور بہت صریح گناہ کا بوجھ لے لیا۔‘‘
کسی نے کوئی گناہ کمایا‘ کوئی خطا کی‘ کوئی جرم کیا‘ اورپھر اس کی تہمت کسی بے قصور شخص پرلگا دی تو اُس نے گویا بہت بڑے بہتان اور کھلم کھلا گناہ کا بار سمیٹ لیا۔مذکورہ معاملے میں یہودی تو بے قصور تھا‘ چنانچہ جو لوگ اس کو سزا دلوانے پر تل گئے‘ ان کا یہ فعل یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓئًا کے زُمرے میں آ گیا۔ بہرحال کسی بے گناہ پر اس طرح کا بہتان لگانا اللہ کے نزدیک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
اُس کے بعد اب اُس یہودی اور منافق کے مقدمے کے کچھ مزید پہلوؤں کے بارے میں حضورﷺ سے خطاب ہو رہا ہے ۔
’’اور (اے نبیﷺ!) اگرا للہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ کے شامل حال نہ ہوتی تو اُن(منافقین) کاایک گروہ تو اس پر تل گیا تھا کہ آپ کو گمراہ کر دے۔‘‘
وہ لوگ تو اس پر کمر بستہ تھے کہ آپؐ کو غلط فہمی میں مبتلا کر کے آپؐ سے غلط فیصلہ کروالیں۔ان کا منصوبہ تھا کہ عدالتِ محمدی ﷺ سے ظلم پر مبنی فیصلہ صادر ہو جائے‘ گنا ہگار چھوٹ جائے اور جو اصل مجرم نہیں تھا ‘ بالکل بے گناہ تھا ‘ اس کو پکڑلیا جائے۔
’’ان (منافقین) کی سرگوشیوں میں سے اکثر میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی‘‘
یہ منافقین کی منفی سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے ۔ علیحدہ بیٹھ کر سرگوشیاں کرنا‘ دوسروں کو دیکھ کر مسکرانااور ساتھ اشارے بھی کرناتا کہ دیکھنے والے کے دل میں خلجان پیدا ہو کہ میرے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ یہ سارے معاملات جوں کے توں انسانی معاشرے کے اندر آج بھی موجودہیں۔مگر اللہ کا فرمان ہے کہ اس انداز کی خفیہ سرگوشیوں کا زیادہ حصہ ایسا ہوتا ہے جس میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔
’’اِلاّ یہ کہ کوئی تلقین کرے صدقہ و خیرات کی‘ یا نیکی کی یا لوگوں کے معاملات کو درست کرنے کی۔‘‘
خیر والی سرگوشی یہ ہو سکتی ہے کہ خاموشی سے کسی کو علیحدگی میں لے جا کر اس کو صدقہ و خیرات کی تلقین کی جائے کہ بھائی دیکھو آ پ کو اللہ نے غنی کیا ہے‘ فلاں شخص محتاج ہے‘ میں اس کو جانتا ہوں ‘آپ کو اس کی مدد کرنی چاہیے ‘وغیرہ۔ پھر معروف اور بھلائی کے امور میں خفیہ صلاح مشورے اگر کیے جائیں تو اس میں بھی حرج نہیں۔ اسی طرح کسی غلط فہمی یا جھگڑے کی صورت میں فریقین میں صلح صفائی کرانے کی غرض سے بھی خفیہ مذاکرات کسی سازش کے زمرے میں نہیں آتے۔ مثلاً دو بھائی جھگڑ پڑے ہیں‘ا ب آپ ایک کی بات علیحدگی میں سنیں اور دوسرے کے پاس جا کر اس بات کو بہتر انداز میں پیش کریں کہ آپ کو مغالطہ ہوا ہے‘ انہوں نے یہ بات یوں نہیں‘ یوں کہی تھی۔ اس طرح کی علیحدہ علیحدہ گفتگو جو نیک نیتی سے کی جا رہی ہو‘ یہ یقینانیکی اور بھلائی کی بات ہے‘ جو باعث اجر و ثواب ہے۔
’’اورجو رسولؐ کی مخالفت پر تل گیا‘ اس کے بعد کہ اُس پر ہدایت واضح ہو چکی ‘‘ یعنی جو کوئی خفیہ سازشوں اور چوری چھپے کی لگائی بجھائی کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے رسولﷺ کے خلاف بھڑکاتا ہے کہ دیکھو جی یہ اپنے لوگوں کو نواز رہے ہیں۔ جیسا کہ غزوۂ حنین میں ہواتھا کہ آپﷺ نے مکہ مکرمہ کے ان مسلمانوں کو جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے‘ مالِ غنیمت میں سے ان کی دلجوئی کے لیے (جسے قرآن میں تالیفِ قلوب کہا گیا ہے) ذرا زیادہ مال دے دیاتو اس پر بعض لوگوں نے شور مچا دیا کہ دیکھ لیا‘ جب کڑا وقت تھا تو اسے ہم جھیلتے رہے‘ اب جب اچھا وقت آیا ہے تو اپنے رشتہ دار یاد آ گئے ہیں۔ ظاہر ہے مکہ والے حضورﷺ کے رشتہ دار تھے‘ قریش کا قبیلہ حضورﷺ کا اپنا قبیلہ تھا۔ تو طرح طرح کی باتیں جو آج کے دور میں بھی ہوتی ہیں ویسی ہی باتیں ہمیشہ ہوتی رہی ہیں۔ یہ انسان کی فطرت ہے جو ہمیشہ ایک سی رہی ہے‘ اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔
وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
’’اور وہ اہلِ ایمان کے راستے کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیارکرے ‘‘
نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ
’’ تو ہم بھی اس کو اُسی طرف پھیر دیتے ہیں جس طرف اُس نے خود رُخ اختیار کر لیا ہو اور ہم اسے پہنچائیں گے جہنم میں۔‘‘
وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿٪۱۱۵﴾
’’ اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹنے کی۔‘‘
یہ آیت اس اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ امام شافعیؒ کے نزدیک اجماعِ اُمت کی سند اس آیت میں ہے ۔ یہ بات تو بہت واضح ہے کہ اسلامی قوانین کے لیے بنیادی ماخذ قرآن ہے ‘ پھر حدیث و سنت ہے۔اسی طرح اجتہاد کا معاملہ بھی سمجھ میں آتا ہے‘ مگر اجماع کس چیز کا نام ہے ؟ اس کا ذکر قرآن میں کہا ں ہے؟ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اجماع کی دلیل قرآن سے تلاش کرنے کی کوشش کی اور قرآن کو شروع سے آخر تک تین سو مرتبہ پڑھا مگر مجھے اجماع کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ پھر بالآخر تین سو ایک مرتبہ پڑھنے پرمیری نظر جا کراس آیت پر جم گئی: {وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ } ۔ گویا اہلِ ایمان کا جو راستہ ہے ‘جس پر اجماع ہو گیا ہو اہل ایمان کا‘ وہ خود اپنی جگہ بہت بڑی سند ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: حدیث((اِنَّ اُمَّتِیْ لاَ تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ))۱’’میری اُمت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔‘‘
(۱)سنن ابن ماجہ‘ کتاب الفتن‘ باب السواد الاعظم ‘ بروایت انس بن مالکص۔
’’نہیں پکار تے یہ لوگ اللہ کے سوامگر دیویوں کو‘ اور وہ نہیں پکارتے کسی کو سوائے سرکش شیطان کے۔‘‘
یہاں اس سورت میں پہلی مرتبہ مشرکین مکہ کی بات بھی ہو رہی ہے۔ مشرکین مکہ نے اپنی دیویوں کے مؤنث نام رکھے ہوئے تھے‘ جیسے لات‘ منات‘ عزیٰ وغیرہ۔ ان پر واضح کیا جا رہا ہے اصل میں نہ لات کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی منات کی کچھ حقیقت ہے۔ البتہ شیطان ضرور موجود ہے جو ان کی پکار سن رہا ہے۔
’’ اور اُس نے کہا (اے اللہ) میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ تو لے کرہی چھوڑوں گا۔‘‘
ان لوگوں کو میں اپنے ساتھ جہنم میں پہنچا کر رہوں گا۔گویا: ؏
’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم ‘تم کو بھی لے ڈوبیں گے!‘‘
آیت 119
وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ
’’ اور میں لازماً ان کو بہکاؤں گا اور ان کو بڑی بڑی امیدیں دلاؤں گا‘‘ میں ان کے دلوں میں دلکش امیدوں کے چراغ روشن کروں گا ۔مثلاً یہ کہ یہ بہت تابناک کیریئر ہے‘ لگے رہو اسی کام میں‘ اس میں بڑا فائدہ ہے‘ ناجائز ہے تو خیر ہے‘ اللہ بخش ہی دے گا۔اور یہ کہ تم تو اللہ کے پیارے رسولﷺ کے اُمتی ہو‘ تمہیں کس بات کا خوف ہے؟ جیسے میں نے یہودیوں کو یہ زعم دلایا تھا کہ تم اللہ کے بیٹے اور اس کے بڑے چہیتے ہو‘ وغیرہ۔ تو ان کو میں اس طرح کی لمبی لمبی امیدوں اور لمبے لمبے منصوبوں میں اُلجھا دوں گا۔ اسی کو ’ طولِ امل‘ کہتے ہیں۔
’’اور میں انہیں حکم دوں گا تو(اس کی تعمیل میں) وہ چوپایوں کے کان چیر دیں گے‘‘
اس کی تفصیل سورۃ الانعام (رکوع۱۶) میں آئے گی کہ فلاں بت یا فلاں دیوی کے نام پر کسی جانور کے کان چیر کر اسے آزاد کر دیا گیا ہے‘اب اس کو کوئی چھیڑ نہیں سکتا‘ اس کا گوشت نہیں کھایا جا سکتا‘اس پر سواری نہیں ہو سکتی۔
’’اور میں انہیں حکم دوں گا تو(اس کی تعمیل میں) وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کریں گے۔‘‘
جیسے آج جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مردوں میں عورتوں کے سے انداز اپنائے جا رہے ہیں اور عورتوں میں مردوں کے سے طور طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے سائنس کے میدان (خاص طور پر Genetics )میں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ تو بہت ہی نازک صورتِ حال ہے۔ سائنسی ترقی کے سبب انسان آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کر کے جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سے اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبد ل کر رہا ہے۔
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے‘ اور وہاں سے وہ فرار کی کوئی صورت نہیں پائیں گے۔‘‘
وہاں سے بھاگنے کا انہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا۔دوسری طرف اہل ایمان کی شان کیا ہوگی‘ اگلی آیت میں اس کی تفصیل ہے۔دو گروہوں یا دو پہلوؤں کے درمیان فوری تقابل (simultaneous contrast) کا یہ انداز قرآن میں ہمیں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔
’’(اے مسلمانو!) نہ تمہاری خواہشات پر(موقوف ہے) اور نہ اہل کتاب کی خواہشات پر۔‘‘
یہ تنبیہہ آ گئی کہ یہود و نصاریٰ کی طرح تم لوگ بھی بے بنیاد خواہشات اور خوش کن آرزوئوں (wishful thinkings) کے عادی ہو جائو گے‘ شفاعت کی امید پر تم بھی حرام خوریاں کرو گے‘ اللہ کی نافرمانیاں جیسی کچھ انہوں نے کی تھیں تم بھی کرو گے۔لیکن جان لو کہ اللہ کا قانون اٹل ہے‘ بدلے گا نہیں۔ تمہاری خواہشات سے‘ تمہاری آرزوئوں سے اور تمہاری تمناؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اہل کتاب کی خواہشات سے کچھ نہیں ہوا۔بلکہ:
مَنۡ یَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا یُّجۡزَ بِہٖ ۙ
’’ جو کوئی برا کام کرے گا اس کی سزا اس کو مل کر رہے گی‘‘
یہ بہت سخت الفاظ ہیں۔ اگرچہ اللہ کے ہاں ا س قانون میں نرمی کا ایک پہلو موجود ہے ‘یعنی بعض اوقات بدی کے منفی اثرات کو نیکی دھو دیتی ہے‘ لیکن اس آیت کی رو سے برائی کا حساب تو بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان سے جس بدی کا ارتکاب ہوتا ہے وہ اس کے بارے میں جواب دہ ہے‘ اس کا احتساب ہو کر رہے گا۔ اگر کسی نے غلطی کی‘ پھرصدقِ دل سے توبہ کر لی اور اس کے سبب اس کی بدی کے اثرات جاتے بھی رہے‘ تب بھی معاملہ account for ضرور ہو گا۔توبہ کو دیکھا جائے گا‘کہ آیا توبہ واقعتا سچی تھی؟ توبہ کرنے والا اپنے کیے پر نادم ہوا تھا؟ واقعی اس نے عادتِ بد کو چھوڑ دیا تھا ؟یا یہ کہ صرف زبان سے ’’اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَـیْہِ‘‘ کی گردان ہو رہی تھی اور ساتھ نافرمانی اور حرام خوری بھی جوں کی توں چل رہی تھی۔ تو احتساب کے کٹہرے میں ہر شخص اورہر معاملے کو لایا جائے گا اور کھرا کھوٹا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر جو مجرم پایا گیا ‘ اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔
’’اور اُس سے بہتر دین کس کا ہو گاجس نے اپنا چہرہ(سر) اللہ کے سامنے جھکا دیا‘ اور (اس کے بعد) احسان(کے درجے) تک پہنچ گیا‘‘
اللہ کی بندگی میں خوبصورتی لا کر‘ خلوص اور للہیت کے ساتھ‘ پورے دین کا اتباع کر کے‘ تفریق بین الدّین سے بچ کر اور total submission کے ذریعے سے اُس نے احسان کے درجے تک رسائی حاصل کر لی۔
وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ
’’اور اُس نے پیروی کی دین ابراہیم ؑکی یکسو ہو کر (یاپیروی کی اُس ابراہیم ؑ کے دین کی‘ جو یکسو تھا)۔‘‘
وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا ﴿۱۲۵﴾
’’ اور اللہ نے تو ابراہیم ( علیہ السلام )کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔‘‘