تحریر

النساء

آیات ۹۲ تا ۱۰۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

92

قتلِ خطا کا کفّارہ

ویڈیو

وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا ۚ وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾

تمہید

اب ایک اور معاشرتی مسئلے کا ذکر آ رہا ہے۔ ان سورتوں کے نزول کے وقت در اصل پورے عرب کے اندر ایک بھٹی دہک رہی تھی‘ جگہ جگہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں‘ میدان لگ رہے تھے‘ معرکے ہو رہے تھے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں تو صرف بڑے بڑے معرکوں اور غزوات کا ذکر ہوا ہے مگر حقیقت میں اُس وقت پورا معاشرہ حالتِ جنگ میں تھا۔ایک چومکھی جنگ تھی جو مسلسل جاری تھی۔ اِ ن آیات سے اُس وقت کے عرب معاشرے کی اصل صورتِ حال اور اُس قبائلی معاشرے کے مسائل کی بہت کچھ عکاسی ہوتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں فرض کریں‘ایک شخص نے کسی دوسرے کو قتل کر دیا۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں۔ قاتل کہتا ہے کہ میں نے عمداً ایسا نہیں کیا‘ میں نے تو شکار کی غرض سے تیر چلایا تھا مگر اتفاق سے نشانہ چوک گیا اور اس کو جا لگا۔ تو اب یہ مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا دو طرح کا ہو سکتا ہے‘ قتل عمد یا قتل خطا ۔ چنانچہ اگلی آیات میں اس بارے میں وضاحت فرمائی گئی ہے ۔

آیت 92

وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا ۚ

’’ کسی مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ ایک مؤمن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر۔‘‘

خطاکے طور پر قتل کیا ہے؟ نشانہ چوک گیا اورکسی کو جا لگا یاسڑک پرحادثہ ہو گیا‘کوئی شخص گاڑی کے نیچے آکر مر گیا۔ آپ تواُ سے مارنا نہیں چاہتے تھے‘ بس یہ سب کچھ آپ سے اتفاقی طور پر ہو گیا۔چنانچہ سعودی عرب میں حادثات کے ذریعے ہونے و الی اموات کے فیصلے اسی قانونِ قتل خطا کے تحت ہوتے ہیں۔ وہ قانون کیا ہے :

وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ

’’ اور جو شخص کسی مؤمن کو قتل کر دے غلطی سے تو(اس کے ذمہ ہے) ایک مسلمان غلام کی گردن کا آزاد کرانا‘‘

وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ

’’اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو ادا کرنا ‘اِلاّ یہ کہ وہ معاف کر دیں۔‘‘

یعنی قتل خطا کے بدلے میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ دیت یعنی خون بہا ادا کیا جائے گا‘یہ مقتول کے ورثاء کا حق ہے ۔اور گناہ کے کفارے کے طور پر ایک مسلمان غلام کو آزاد کرناہو گا‘یہ اللہ کا حق ہے۔

فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ

’’اور اگر وہ (مقتول) کسی ایسے قبیلے سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے اور تھا وہ مسلمان‘‘

فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ

’’تو پھر صرف ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہو گا۔‘‘

کیونکہ کافر قبیلے کا آدمی تھا اور اگر اس کی دیت دی جائے گی تو وہ اس کے گھر والوں کوملے گی جو کہ کافر ہیں ‘ لہٰذا یہاں دِیت معاف ہو گئی‘ لیکن ایک غلام کو آزاد کرنا جو اللہ کا حق تھا‘ وہ برقرار رہے گا۔

وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ

’’اور اگر وہ (مقتول ) ہو کسی ایسی قوم سے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے ‘‘

فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ

’’تو پھر دیت بھی دینا ہوگی اس کے گھر والوں کواور ایک مؤمن غلام بھی آزاد کرنا ہو گا۔‘‘

گویا یہ دو حق الگ الگ ہیں۔ ایک تو دِیت ہے جو مقتول کے ورثاء کا حق ہے‘اس میں یہاں رعایت نہیں ہو سکتی‘ البتہ جوحق اللہ کا اپنا ہے یعنی گناہ کے اثرات کوزائل کرنے کے لیے ایک مؤمن غلام کا آزاد کرنا ‘تواس میں اللہ نے نرمی کر دی ‘جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾

’’پھر جو یہ (غلام آزاد ) نہ کر سکے تو روزے رکھے دو مہینوں کے متواتر۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ(قبول کرنے کا ذریعہ) ہے‘ اور یقینا اللہ تو علیم و حکیم ہے۔‘‘

اب آگے قتلِ عمد کے قانون کے متعلق تفصیلات کا ذکر ہے ۔

93

قتلِ ناحق کا وبال

ویڈیو

وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾

آیت 93

وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا

’’اور جو کوئی قتل کرے گا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر تواس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا‘‘

وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾

’’اور اللہ کا غضب اس پر ہوگا‘ اور اللہ نے اس پر لعنت فرمائی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھاہے ۔‘‘

جیساکہ آغازِ سورۃ میں ذکر ہو ا تھا کہ حرمتِ جان اور حرمتِ مال کے تصور پر معاشرے کی بنیاد قائم ہے۔لہٰذا ایک مسلمان کا قتل کر دینا اللہ کے ہاں ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ المائدۃ (آیت۳۲) میں قتلِ نا حق کو پوری نوعِ انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قاتل نے حرمتِ جان کو پامال کر کے شجرتمد ن کی گویا جڑ کاٹ دی‘ اور اس کا یہ فعل ایسے ہی ہے جیسے اس نے پوری انسانی نسل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ ہمارے ہاں ایمان واسلام کتنا کچھ ہے اور انسانی جان کی قدر و قیمت کیا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں قتل عمد کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں اورانسانی جان مچھر مکھی کی جان کی طرح ارزاں ہو چکی ہے۔

اب اگلی آیت کو سمجھنے کے لیے عر ب کے ان مخصوص حالات کو نظر میں رکھیں جن میں مسلمان اور غیر مسلم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے‘مختلف علاقوں میں کچھ لوگ دائرئہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور کچھ ابھی کفر پر قائم تھے اور کوئی ذریعہ تمیز بھی ان میں نہیں تھا‘ جگہ جگہ معرکے بھی ہو رہے تھے۔ اب فرض کریں کسی علاقے میں لڑائی ہو رہی ہے۔ مسلمان مجاہد سمجھا کہ سامنے سے کافر آ رہا ہے‘ مگر جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے بڑھاتو اس نے آگے سے کلمہ پڑھ کر دعویٰ کیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس صورتِ حال میں ممکن ہے سمجھا جائے کہ اس نے جان بچانے کے لیے بہانہ کیا ہے۔ تو اب اس بارے میں حکم دیا جا رہا ہے:

94

محض زبان سے اقرار انسان کو مسلمان بنادیتا ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَتَبَیَّنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۹۴﴾

آیت 94

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا

’’ اے اہل ایمان‘ جب تم اللہ کی راہ میں نکلوتو تحقیق کر لیا کرو‘‘

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ

’’اور جو شخص بھی تمہارے سامنے سلام پیش کرے(یا اسلام پیش کرے) اُس کو یہ مت کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو۔‘‘

تم اس کی باطنی کیفیت معلوم نہیں کر سکتے۔ایمان کا تعلق چونکہ دل سے ہے اور دل کا حال سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جان سکتا‘ لہٰذا دنیا میں تمام معاملات کااعتبار زبانی اسلام (اقرارٌ باللّسان) پر ہی ہو گا۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ رہا ہے اوراپنے اسلام کا اظہار کر رہاہے تو آپ کو اس کے الفاظ کا اعتبار کرنا ہو گا۔ اس آیت کے پس منظر کے طور پر روایات میں ایک واقعے کا ذکر ملتا ہے جو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کسی سریہ میں حضرت اسامہؓ کاایک کافر سے دو بدو مقابلہ ہوا۔ جب وہ کافر بالکل زیر ہو گیا اور اس کو یقین ہو گیا کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو اس نے کلمہ پڑھ دیا: اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا‘رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ اب ایسی صورتِ حال میں جو کوئی بھی ہوتا یہی سمجھتا کہ اس نے جان بچانے کے لیے بہانہ کیا ہے۔ حضرت اسامہ ؓ نے بھی یہی سمجھتے ہوئے اُس پر نیزے کا وار کیا اور اسے قتل کر دیا۔ لیکن دل میں ایک خلش رہی۔ بعد میں انہوں نے رسول اللہﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: حدیث((اَقَالَ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَقَتَلْتَہٗ؟))’’کیااُس نے لا الٰہ الاّ اللہ کہہ دیا اور تم نے پھر بھی اُسے قتل کر دیا؟‘‘ حضرت اسامہؓ نے جواب دیا: ’’یارسول اللہؐ! اُس نے تو ہتھیار کے خوف سے کلمہ پڑھا تھا‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: حدیث((اَفَـلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ حَتّٰی تَعْلَمَ اَقَالَـھَا اَمْ لَا؟))’’توتم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ جان لیا کہ اُس نے کلمہ دل سے پڑھا تھا یا نہیں؟‘‘ حضرت اسامہؓ ‘کہتے ہیں کہ آپﷺ نے یہ بات مجھ سے بار بار فرمائی‘ یہاں تک کہ میں خواہش کرنے لگا کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا! ۱ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے اسامہ ‘اُس دن کیا جواب دو گے جب وہ کلمہ شہادت تمہارے خلاف مدعی ہوکر آئے گا؟

تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫

’’ تم دنیا کا سامان چاہتے ہو‘‘

کہ ایسے شخص کو کافر قرار دیں‘ قتل کریں اور مالِ غنیمت لے لیں۔

فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ

’’تواللہ کے ہاں بڑی غنیمتیں ہیں۔‘‘

تمہارے لیے بڑی بڑی مملکتوں کے اموالِ غنیمت آنے والے ہیں۔ لہٰذا تم لوگ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے حدود اللہ سے تجاوز نہ کرو۔

کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ

’’تم خود بھی تو پہلے ایسے ہی تھے ‘تو اللہ نے تم پر احسان فرمایاہے‘‘

آخر ایک دَور تم پر بھی تو ایسا ہی گزرا ہے ۔ تم سب بھی تو نو مسلم ہی ہو اور ایک وقت میں تم میں سے ہر شخص کافر یامشرک ہی تو تھا! پھر اللہ ہی نے تم لوگوں پر احسان فرمایاکہ تمہیں کلمہ شہادت عطا کیا اور رسول ﷺکی دعوت و تبلیغ سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ لہٰذا اللہ کا احسان مانواور اس طریقے سے لوگوں کے معاملے میں اتنی سخت روش اختیار نہ کرو۔

فَتَبَیَّنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۹۴﴾

’’ تو( دیکھو )تحقیق کر لیا کرو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔‘‘

اگلی آیت مبارکہ میں جہاد کا لفظ بمعنی قتال آیا ہے۔ جہاں تک جہاد کی اصلی روح کا تعلق ہے تو ایک مؤمن گویا ہر وقت حالت جہاد میں ہے ۔ دعوت و تبلیغ بھی جہاد ہے‘ اپنے نفس کے خلاف اطاعتِ الٰہی بھی جہاد ہے۔ ازروئے حدیثِ نبویؐ : حدیث((اَلمُجَاہِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہٗ))۲’’مجاہد تو وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے ‘‘۔ بلکہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا : اَیُّ الْجِہَادِ اَفْضَلُ؟ ’’ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟‘‘ توآپؐ نے فرمایا: حدیث((اَنْ تُجَاہِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ))۳’’یہ کہ تم اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرو انہیں اللہ تعالیٰ کا مطیع بنانے کے لیے‘‘۔ چنانچہ جہاد کی بہت سی منازل ہیں ‘جن میں سے آخری منزل قتال ہے۔ تاہم جہاد اور قتال کے الفاظ قرآن میں ایک دوسرے کی جگہ پر بھی استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن میں الفاظ کے تین ایسے جوڑے ہیں جن میں سے ہر لفظ اپنے جوڑے کے دوسرے لفظ کی جگہ اکثر استعمال ہواہے۔ان میں سے ایک جوڑا تو یہی ہے ‘یعنی جہاد اور قتال کے الفاظ‘ جبکہ دوسرے دو جوڑے ہیں’’مؤمن و مسلم‘‘ اور’’نبی و رسول‘‘۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال لا الہ الا اللّٰہ۔ یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی مذکور ہے اور بعض دیگر کتب احادیث میں بھی۔

(۲) سنن الترمذی‘ ابواب فضائل الجھاد عن رسول اللّٰہﷺ‘ باب ما جاء فی فضل من مات مرابطاً۔ عن فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ-

(۳) حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ۲/۲۸۲۔عن ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ

95-96

اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت

ویڈیو

لَا یَسۡتَوِی الۡقٰعِدُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ غَیۡرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الۡمُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ دَرَجَۃً ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾ دَرَجٰتٍ مِّنۡہُ وَ مَغۡفِرَۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۹۶﴾

آیت 95

لَا یَسۡتَوِی الۡقٰعِدُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ غَیۡرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الۡمُجٰہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ

’’برابر نہیں ہیں اہلِ ایمان میں سے بیٹھ رہنے والے بغیر عذر کے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد (قتال )کے لیے نکلتے ہیں اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ۔‘‘

فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ دَرَجَۃً ؕ

’’ اللہ نے فضیلت دی ہے اُن مجاہدین کو جو اپنی جانوں اور اپنے مالوں سے جہاد کرنے والے ہیں‘ بیٹھے رہنے والوں پر‘ ایک بہت بڑے درجے کی ۔‘‘

یہاں دَرَجَۃً کی تنکیر (بطور اسم نکرہ استعمال) تفخیم کے لیے ہے ‘ یعنی بہت بڑا درجہ۔ یہ قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلنے کا ذکر ہے کہ جو مسلمان کسی معقول عذر کے بغیر قتال کے لیے نہیں نکلتاوہ اس کے برابر ہر گز نہیں ہو سکتاجو قتال کر رہا ہے۔ اگر کوئی اندھا ہے‘ دیکھنے سے معذور ہے یا کوئی لنگڑا ہے‘ چل نہیں سکتا‘ ایسے معذور قسم کے لوگ اگر قتال کے لیے نہ نکلیں تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن ایسے لوگ جن کو کوئی ایسا عذر نہیں ہے‘ پھر بھی وہ بیٹھے رہیں‘یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ درجے میں مجاہدین کے برابر ہرگز نہیں ہو سکتے ۔واضح رہے کہ کہ یہ ایسے قتال کی بات ہو رہی ہے جس کی حیثیت اختیاری (optional) ہو‘ جسے لازمی قرار نہ دیا گیا ہو۔ جب اسلامی ریاست کی طرف سے قتال کے لیے نفیرِ عام ہو جائے تو معذورین کے سوا سب کے لیے نکلنا لازم ہو جاتا ہے۔اور یہ بھی یاد رہے کہ قتال کے لیے پہلی دفعہ نفیرِ عام غزوۂ تبوک (سن۹ ہجری) میں ہوئی تھی۔ اس سے پہلے قتال کے بارے میں صرف ترغیب (persuasion) تھی کہ نکلو اللہ کی راہ میں‘ حکم نہیں تھا۔ لہٰذا کوئی جواب طلبی بھی نہیں تھی۔کوئی چلا گیا‘ کوئی نہیں گیا‘ کوئی گرفت نہیں تھی۔لیکن غزوۂ ‘ تبوک کے لیے نفیرِ عام ہوئی تھی‘ باقاعدہ ایک حکم تھا‘ لہٰذا جو لوگ نہیں نکلے اُن سے وضاحت طلب کی گئی‘ اُن کا مؤاخذہ کیا گیا اور اُن کو سزائیں بھی دی گئیں۔تو یہاں چونکہ اختیاری قتال کی بات ہو رہی ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا رہا کہ ان کوپکڑواور سزا دو‘بلکہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ قتال کرنے والے مجاہدین اللہ کی نظر میں بہت افضل ہیں۔ اس سے پہلے ایسے قتال کے لیے اسی سورۃ (آیت۸۴)میں {وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ} کا حکم ہے‘ یعنی مؤمنین کو قتال پر اُکسائیے‘ ترغیب دیجئے‘ آمادہ کیجئے۔ لیکن یہاں واضح انداز میں بتایا جا رہا ہے کہ قتال کرنے والے اور نہ کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔

وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ

’’(اگرچہ )سب کے لیے اللہ کی طرف سے اچھا وعدہ ہے۔‘‘

چونکہ ابھی قتال فرض نہیں تھا ‘نفیرِ عام نہیں تھی‘ سب کا نکلنا لازم نہیں کیا گیا تھا‘ اس لیے فرمایا گیا کہ تمام مؤمنین کو ان کے اعمال کے مطابق اچھا اجر دیا جائے گا۔ قتال کے لیے نہ نکلنے والوں نے اگر اتنی ہمت نہیں کی اور وہ کمتر مقام پر قانع ہو گئے ہیں تو ٹھیک ہے ‘اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلے میں ان پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔

وَ فَضَّلَ اللّٰہُ الۡمُجٰہِدِیۡنَ عَلَی الۡقٰعِدِیۡنَ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۹۵﴾

’’لیکن فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک اجرِ عظیم کی (صورت میں)۔‘‘

آیت 96

دَرَجٰتٍ مِّنۡہُ وَ مَغۡفِرَۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۹۶﴾

’’(اُن کے لیے ) اُس کی طرف سے بلند درجات بھی ہوں گے اورمغفرت و رحمت بھی۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ بخشنے والا‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

97-100

اللّٰہ کی راہ میں ہجرت کی اہمیت وفضیلت

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿ۙ۹۷﴾ اِلَّا الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۸﴾ فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّعۡفُوَ عَنۡہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۹۹﴾ وَ مَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّ سَعَۃً ؕ وَ مَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۱۰۰﴾

تمہید

اب ان لوگوں کا ذکر آ رہا ہے جو ہجرت کرنے میں پس و پیش کر رہے تھے‘ اس سلسلے میں انہیں کوئی عذر بھی مانع نہیں تھا‘ مگرپھر بھی وہ اپنے قبیلے یا مکہ شہر میں اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے تھے۔

آیت 97

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ

’’ یقیناوہ لوگ کہ جن کو فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے‘‘

یعنی انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی‘ اس سلسلے میں رسولﷺ کے حکم کی اطاعت نہیں کی تھی۔ آخر موت تو آنی ہے ‘لہٰذا فرشتے جب ان کی روحیں قبض کریں گے تو ان کے ساتھ اس طرح مکالمہ کریں گے :

قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ

’’وہ ان سے کہیں گے یہ تم کس حال میں تھے؟‘‘

تم نے ایمان کا دعویٰ تو کیا تھا ‘لیکن جب رسول اللہﷺ نے ہجرت کا حکم دیا تو ہجرت کیوں نہیں کی؟ تمہیں کیا ہو گیا تھا؟

قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’وہ کہیں گے ہم مجبور اور کمزوربنا دیے گئے تھے اس زمین میں۔‘‘

قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ

’’وہ (فرشتے) کہیں گے کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟‘‘

فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ وَسَآئَتْ مَصِیْرًا

’’تویہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے ‘اور وہ بہت بُری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔‘‘

آیت 98

اِلَّا الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ

’’سوائے ان مردوں ‘عورتوں اور بچوں کے جن کو واقعتا دبا لیا گیا ہو‘‘

جن لوگوں کو کمزور سمجھ کر دبالیا گیا ہو ‘واقعتازنجیروں میں جکڑ کر گھروں میں بند کر دیا گیا ہو‘ ان کا معاملہ اور ہے ۔یا پھر کوئی عورت ہے جس کے لیے تنہا سفر کرنا ممکن نہیں۔ ویسے تو روایات میں ایسی عورتوں کا بھی ذکر آتا ہے جنہوں نے تنہا ہجرتیں کیں‘ لیکن ہر ایک کے لیے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔

لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿ۙ۹۸﴾

’’نہ تو وہ کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ وہ راستہ جانتے ہیں۔‘‘

آیت 99

فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّعۡفُوَ عَنۡہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۹۹﴾

’’بعید نہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے ‘اور اللہ واقعتابخشنے والا اور معاف فرمانے والا ہے۔‘‘

ایسے بے بس اور لاچار مردوں‘ بچوں اور عورتوں کے لیے اسی سورۃ (آیت ۷۵) میں حکم ہوا تھا کہ انہیں چھڑانے کے لیے قتال فی سبیل اللہ کرو ۔لیکن جو لوگ ہجرت کے اس واضح حکم کے بعد بھی بغیر عذر کے بیٹھے رہے ہیں ان کے بارے میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ وہ منافق ہیں‘ ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں‘جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔ بلکہ قتال کے معاملے میں وہ بالکل کفار کے برابر ہیں۔

آیت 100

وَ مَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ

’’اور جو کوئی ہجرت کرے گا اللہ کی راہ میں‘‘

یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّ سَعَۃً ؕ

’’وہ پائے گا زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت۔‘‘

جیسے سورۃ العنکبوت میں فرمایا : {یٰـعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ} ’’اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو‘ میری زمین بہت کشادہ ہے‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو!‘‘۔ اگر اپنے وطن میں اللہ کی بندگی نہیں کر سکتے ہو تو کہیں اور چلے جاؤ۔

وَ مَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ

’’اور جو کوئی اپنے گھر سے نکل کھڑا ہوا ہجرت کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ‘کی طرف‘پھر اسے موت نے آ لیا‘‘

فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ

’’تو اُس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔‘‘

یعنی جس کسی نے بھی ہجرت کی ‘فی سبیل اللہ‘دولت کے لیے یاحصولِ دنیا کے لیے نہیں‘ بلکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا جوئی کے لیے ‘وہ اصل ہجرت ہے۔ حدیث میں اس کی وضاحت بایں الفاظ ملتی ہے:

حدیث((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّـیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَا نَوٰی‘ فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ لِدُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَاَۃٍ یَنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَـیْہِ)) ۱

’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہی ہے اور بلاشبہ ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اُس نے نیت کی۔ پس جس نے ہجرت کی اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف تو واقعی اُس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف ہے‘ اور جس نے ہجرت کی دنیا کمانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے تو اس کی ہجرت اُسی چیز کی طرف شمار ہو گی جس کا اُس نے قصد کیا۔‘‘

چنانچہ جس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف ہجرت کی ‘ خلوصِ نیّت کے ساتھ گھر سے نکل کھڑا ہوا لیکن راستے ہی میں فوت ہو گیا ‘مدینہ منورہ نہیں پہنچ سکا اور حضورﷺ کے قدموں تک اس کی رسائی نہیں ہو سکی‘ تو پھر بھی وہ کامیاب و کامران ہے۔ اللہ‘تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اسے ہجرت کا اجر ضرور عطا فرمائے گا۔

وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۱۰۰﴾

’’اوریقینا اللہ بخشنے والا ‘رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الوحی‘ باب بدء الوحی‘ وکتاب الایمان والنذور‘ باب النیۃ فی الایمان۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب قولہ انما الاعمال بالنیۃ …

101

قصر نماز کا حکم

ویڈیو

وَ اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ اِنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ کَانُوۡا لَکُمۡ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۱۰۱﴾

تمہید

اس رکوع میں پھر شریعت کے کچھ احکام کا ذکر ہے ۔ گویا خطاب کا رُخ اب پھر اہل ایما ن کی طرف ہے ۔

آیت 101

وَ اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ

’’ اور (اے مسلمانو!)جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم نماز کو کچھ کم کر لیا کرو ‘‘

اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ

’’اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔‘‘

اِنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ کَانُوۡا لَکُمۡ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۱۰۱﴾

’’ یقینایہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔‘‘

یہ توہے حالتِ سفر میں قصرِ صلوٰۃکاحکم۔لیکن جنگ کی حالت میں قصر یعنی صلوٰۃ الخوف کا طریقہ اگلی آیت میں مذکور ہے ۔ حالتِ جنگ میں جب پورے لشکر کا ایک ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہ رہے تو گروہوں کی شکل میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسی صورت میں جب حضور ﷺ خود بھی لشکر میں موجود ہوتے تو کوئی ایک گروہ ہی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ سکتا تھا‘ جبکہ دوسرے گروہ کے لوگوں کو لازماً محرومی کا احساس ہوتا۔ لہٰذا اگلی آیت میں اس مسئلے کے حل کے طور پر صلوٰۃ الخوف ادا کرنے کی بہت عمدہ تدبیر بتائی گئی ۔

102

صلوٰةالخوف کا حکم

ویڈیو

وَ اِذَا کُنۡتَ فِیۡہِمۡ فَاَقَمۡتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ مَّعَکَ وَ لۡیَاۡخُذُوۡۤا اَسۡلِحَتَہُمۡ ۟ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡیَکُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَآئِکُمۡ ۪ وَ لۡتَاۡتِ طَآئِفَۃٌ اُخۡرٰی لَمۡ یُصَلُّوۡا فَلۡیُصَلُّوۡا مَعَکَ وَ لۡیَاۡخُذُوۡا حِذۡرَہُمۡ وَ اَسۡلِحَتَہُمۡ ۚ وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِکُمۡ وَ اَمۡتِعَتِکُمۡ فَیَمِیۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ مَّیۡلَۃً وَّاحِدَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِنۡ کَانَ بِکُمۡ اَذًی مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَکُمۡ ۚ وَ خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۰۲﴾

آیت 102

وَ اِذَا کُنۡتَ فِیۡہِمۡ فَاَقَمۡتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ

’’اور (اے نبیﷺ! )جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں اور (حالتِ جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوں‘‘

فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ مَّعَکَ وَ لۡیَاۡخُذُوۡۤا اَسۡلِحَتَہُمۡ ۟

’’تو ان میں سے ایک گروہ کو کھڑے ہونا چاہیے آپؐ کے ساتھ‘ اوروہ اپنا اسلحہ لیے ہوئے ہوں۔‘‘

فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡیَکُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَآئِکُمۡ ۪

’’ پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمہارے پیچھے ہوجائیں‘‘

وَ لۡتَاۡتِ طَآئِفَۃٌ اُخۡرٰی لَمۡ یُصَلُّوۡا فَلۡیُصَلُّوۡا مَعَکَ

’’اور آئے دوسرا گروہ جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی اوروہ آپؐ کے ساتھ نماز پڑھیں‘‘

یہ حکم صلوٰۃ الخوف کے بارے میں ہے۔ اس کی عملی صورت یہ تھی کہ حضورﷺ نے ایک رکعت نماز پڑھا دی اوراس کے بعد آپؐ بیٹھے رہے‘ دوسری رکعت کے لیے کھڑے نہیں ہوئے‘ جبکہ مقتدیوں نے دوسری رکعت خود ادا کر لی۔ دو رکعتیں پوری کر کے وہ محاذ پر واپس چلے گئے تو دوسرے گروہ کے لوگ جو اَب تک نماز میں شریک نہیں ہوئے تھے ‘ نماز کے لیے حضورؐ کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے۔ اب حضورؐ نے دوسری رکعت اس گروہ کے لوگوں کی موجودگی میں پڑھائی۔ اس کے بعد حضورؐ نے سلام پھیر دیا‘ لیکن مقتدیوں نے اپنی دوسری رکعت انفرادی طور پر ادا کر لی۔ اس طریقے سے لشکر میں سے کوئی شخص بھی حضورؐ‘کی امامت کے شرف اور سعادت سے محروم نہ رہا۔

وَ لۡیَاۡخُذُوۡا حِذۡرَہُمۡ وَ اَسۡلِحَتَہُمۡ ۚ

’’اور ان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کا سامان اور اپنا اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں۔‘‘

وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِکُمۡ وَ اَمۡتِعَتِکُمۡ فَیَمِیۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ مَّیۡلَۃً وَّاحِدَۃً ؕ

’’ یہ کافر لوگ تو اسی تاک میں رہتے ہیںکہ تم جیسے ہی اپنے اسلحہ اور سازو سامان سے ذرا غافل ہوتو وہ تم پر ایک دَم ٹوٹ پڑیں۔‘‘

ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِنۡ کَانَ بِکُمۡ اَذًی مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَکُمۡ ۚ

’’ اور تم پرکوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہو بارش کی وجہ سے یا تم بیمار ہوجائواور(ایسی صورتوں میں) تم اپنا اسلحہ اتار کررکھ دو۔‘‘

وَ خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ ؕ

’’البتہ اپنا بچائو ضرور کر لیا کرو۔‘‘

اگر تلوار‘ نیزہ وغیرہ جسم سے بندھے ہوئے ہوں اوراس حالت میں نماز پڑھنا مشکل ہو تو یہ اسلحہ وغیرہ کھول کر علیحدہ رکھ دینے میں کوئی حرج نہیں‘ بشر طیکہ جنگ کے حالات اجازت دیتے ہوں‘ لیکن ڈھال وغیرہ اپنے پاس ضرور موجود رہے تا کہ اچانک کوئی حملہ ہو تو انسان اپنے آپ کو اس فوری حملے سے بچا سکے ۔

اِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۰۲﴾

’’یقینا اللہ نے کافروں کے لیے بہت ذلت آمیز عذاب تیارکر رکھا ہے۔‘‘

103

نماز پابندی وقت کے ساتھ فرض ہے

ویڈیو

فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ ۚ فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتۡ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾

آیت 103

فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ

’’ پھر جب تم (اس طریقے سے )نماز ادا کر لو‘‘

فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ ۚ

’’ تو پھر ذکر کرو اللہ کا کھڑے ہوئے‘بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے۔‘‘

چلتے پھر تے‘ اٹھتے بیٹھتے ‘ سواری پر‘ غرض ہر حالت میں اللہ کا ذکر جاری رہنا چاہیے۔ گویا ذکرِ کثیر کا تعلق صرف نماز کے ساتھ نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حالت میں اس کا اہتمام رہنا چاہیے۔ جیسے سورۃالجمعہ میں حکم دیا گیا ہے: {فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّـعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ} ’’پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو‘ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ‘‘۔ چنانچہ نماز کے بعد بھی حتیٰ کہ کاروبارِ زندگی کی مصروفیات کے دوران بھی اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔ ادعیہ ماثورہ اور اورادِ مسنونہ کا اہتمام کرو‘ اپنی زبانوں‘ ذہنوں اور دلوں کو اُس کے ذکر سے ہر وقت تروتازہ رکھو۔

فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ۚ

’’ پھر جب تمہیں امن حاصل ہو جائے تو نماز کوقائم کرو (تمام آداب و شرائط کے ساتھ)۔‘‘

یعنی نماز کی مذکورہ شکل (صلوٰۃ الخوف) صرف اضطراری حالت میں ہوگی‘ مگر جب خوف جاتا رہے اور حالتِ امن بحال ہو جائے تو نماز کو شریعت کے احکام اور آداب کے عین مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔

اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتۡ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾

’’یقینا نماز اہل ایمان پر فرض کی گئی ہے وقت کی پابندی کے ساتھ۔‘‘

یعنی نماز کی فرضیّت باقاعدہ اس کے اوقات کے ساتھ ہے ۔ نماز کے اوقات کی تفصیل ایک حدیث میں مذکور ہے ۔اس حدیث کے مطابق حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دو دن رسول اللہﷺ کو نمازیں پڑھائیں۔ ایک دن پانچوں نمازیں اوّل وقت میں جبکہ دوسرے دن تمام نمازیں آخر وقت میں پڑھائیں اور بتایا کہ نمازوں کے اوقات ان حدود کے مابین ہیں۔

104

مسلمان اور کافر کے عمل کا فرق

ویڈیو

وَ لَا تَہِنُوۡا فِی ابۡتِغَآءِ الۡقَوۡمِ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ یَاۡلَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ وَ تَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرۡجُوۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿٪۱۰۴﴾

آیت 104

وَ لَا تَہِنُوۡا فِی ابۡتِغَآءِ الۡقَوۡمِ ؕ

’’اور اس دشمن گروہ کا پیچھا کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ۔‘‘

حق و باطل کی جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔اس آخری مرحلے میں آکر کہیں تھک نہ جانا اور دشمن کا پیچھا کرنے کے معاملے میں ہمت نہ ہار دینا۔

اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ یَاۡلَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ

’’اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تمہاری طرح انہیں بھی تو تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘

یہ نصیحت کا بڑا پیارا انداز ہے کہ اس کشمکش میں اگر تم لوگ نقصان اٹھارہے ہوتو کیا ہوا؟ تمہار ے دشمن بھی توویسے ہی نقصان سے دو چار ہو رہے ہیں‘انہیں بھی تو تکالیف پہنچ رہی ہیں‘ وہ بھی توزخم پر زخم کھا رہے ہیں‘ ان کے لوگ بھی تومر رہے ہیں۔

وَ تَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرۡجُوۡنَ ؕ

’’اور تم اللہ سے ایسی اُمیدیں رکھتے ہو جیسی امیدیں وہ نہیں رکھتے۔‘‘

تمہیں تو جنت کی اُمید ہے‘ اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی اُمید ہے‘ جبکہ انہیں ایسی کوئی اُمید نہیں ہے۔ لہٰذا اس اعتبار سے تمہیں تو ان سے کہیں بڑھ کر پر جوش ہونا چاہیے۔سورۂ آل عمران کی آخری آیت میں بھی اہل ایمان کو ایسی ہی نصیحت کی گئی ہے : {یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا} ’’اے ایمان والو‘ صبر سے کام لو اور صبر میں اپنے دشمنوں سے بڑھ جاؤ اور مربوط رہو‘‘۔ تو آپ لوگوں کو تو صبرو استقامت میں ان سے بہت آگے ہونا چاہیے‘ کیونکہ تمہارا سہارا تو اللہ ہے: { وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ} (النحل :۱۲۷) ’’آپ صبر کیجیے‘ اور آپ کا صبر تو بس اللہ ہی کی توفیق سے ہے‘‘۔تمہارے دشمنوں کے تو من گھڑت قسم کے خدا ہیں۔اُن کے دیوتائوں اور دیویوں کی خود ان کے دلوں میں کوئی حقیقی قدرو قیمت نہیں ہے‘ پھر بھی وہ اپنے باطل معبودوں کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈال رہے ہیں تو اے مسلمانو! تمہیں تو ان سے کئی گنا زیادہ قربانیوں کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔

وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿٪۱۰۴﴾

’’اور یقینا اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔‘‘

اہل ایمان سے اس مختصر خطاب کے بعد اب اگلے رکوع میں پھر منافقین کاذکرآ رہا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے