وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا ۚ
’’ کسی مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ ایک مؤمن کو قتل کرے مگر خطا کے طور پر۔‘‘
خطاکے طور پر قتل کیا ہے؟ نشانہ چوک گیا اورکسی کو جا لگا یاسڑک پرحادثہ ہو گیا‘کوئی شخص گاڑی کے نیچے آکر مر گیا۔ آپ تواُ سے مارنا نہیں چاہتے تھے‘ بس یہ سب کچھ آپ سے اتفاقی طور پر ہو گیا۔چنانچہ سعودی عرب میں حادثات کے ذریعے ہونے و الی اموات کے فیصلے اسی قانونِ قتل خطا کے تحت ہوتے ہیں۔ وہ قانون کیا ہے :
وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ
’’ اور جو شخص کسی مؤمن کو قتل کر دے غلطی سے تو(اس کے ذمہ ہے) ایک مسلمان غلام کی گردن کا آزاد کرانا‘‘
وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ
’’اور خون بہا مقتول کے گھر والوں کو ادا کرنا ‘اِلاّ یہ کہ وہ معاف کر دیں۔‘‘
یعنی قتل خطا کے بدلے میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ دیت یعنی خون بہا ادا کیا جائے گا‘یہ مقتول کے ورثاء کا حق ہے ۔اور گناہ کے کفارے کے طور پر ایک مسلمان غلام کو آزاد کرناہو گا‘یہ اللہ کا حق ہے۔
فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ
’’اور اگر وہ (مقتول) کسی ایسے قبیلے سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہے اور تھا وہ مسلمان‘‘
فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ
’’تو پھر صرف ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہو گا۔‘‘
کیونکہ کافر قبیلے کا آدمی تھا اور اگر اس کی دیت دی جائے گی تو وہ اس کے گھر والوں کوملے گی جو کہ کافر ہیں ‘ لہٰذا یہاں دِیت معاف ہو گئی‘ لیکن ایک غلام کو آزاد کرنا جو اللہ کا حق تھا‘ وہ برقرار رہے گا۔
وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ
’’اور اگر وہ (مقتول ) ہو کسی ایسی قوم سے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے ‘‘
فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ
’’تو پھر دیت بھی دینا ہوگی اس کے گھر والوں کواور ایک مؤمن غلام بھی آزاد کرنا ہو گا۔‘‘
گویا یہ دو حق الگ الگ ہیں۔ ایک تو دِیت ہے جو مقتول کے ورثاء کا حق ہے‘اس میں یہاں رعایت نہیں ہو سکتی‘ البتہ جوحق اللہ کا اپنا ہے یعنی گناہ کے اثرات کوزائل کرنے کے لیے ایک مؤمن غلام کا آزاد کرنا ‘تواس میں اللہ نے نرمی کر دی ‘جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾
’’پھر جو یہ (غلام آزاد ) نہ کر سکے تو روزے رکھے دو مہینوں کے متواتر۔ یہ اللہ کی طرف سے توبہ(قبول کرنے کا ذریعہ) ہے‘ اور یقینا اللہ تو علیم و حکیم ہے۔‘‘
اب آگے قتلِ عمد کے قانون کے متعلق تفصیلات کا ذکر ہے ۔