اب جو آیات آ رہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت ’’استدراک‘‘ کی ہے۔ اس حوالے سے ان کا تعلق اس سورۃ کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے جن میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے‘ اور یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی کچھ معاملات زیر بحث آئے تھے۔ ان میں سے کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں لوگوں نے حضورﷺ سے کچھ وضاحتیں طلب کیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں ۔
آیت 127
وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ
’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔‘‘
قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡہِنَّ ۙ
’’کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے (وضاحت کرتا ہے) ان کے بارے میں‘‘
’’ اورجو تمہیں (پہلے سے) سنایا جا رہا ہے کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں‘‘
یہ اسی سورۃ کی آیت ۳ کی طرف اشارہ ہے۔ اب آیت زیر نظر کے ساتھ مل کر اُس آیت کی تشریح بھی بالکل واضح ہو گئی اور ثابت ہو گیا کہ وہاں جو فرمایا گیا تھا {وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِی الۡیَتٰمٰی } تو اس سے اصل مراد ’’یَتٰمَی النِّسَآئِ‘‘ تھا۔یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کرو گے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں کر سکو گے(اس لیے کہ ان کی طرف سے کوئی نہیں جو ان کے حقوق کا پاسدار ہو اور تم سے باز پرس کر سکے ) تو پھر ان سے شادی مت کرو‘ بلکہ دوسری عورتوں سے شادی کر لو۔ اگرایک سے زائد نکاح کرنا چاہتے ہو تو اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے ‘ دو دو‘ تین تین یا چار چارسے کر لو {فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ } ۔ مگر ایسی بے سہارا یتیم لڑکیوں سے نکاح نہ کرو ‘کیونکہ ـ:
’’اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے واقف ہے۔‘‘
وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ اُس نے شریعت کے احکام نازل کر دیے ہیں‘ بنیادی ہدایات تمہیں دے دی گئی ہیں۔اب اضافی چیز تو بس یہی ہے کہ تمہاری نیّت صاف ہونی چاہیے۔کیونکہ {وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ} ( البقرۃ:۲۲۰) یعنی اللہ جانتا ہے کہ کون حقیقت میں شرارتی ہے اور کس کی نیت صحیح ہے۔
’’اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو اپنے شوہر سے زیادتی یا بے رُخی کا‘‘
ایک ’’نشوز‘‘ تو وہ تھا جس کا تذکرہ اسی سورۃ کی آیت ۳۴ میں عورت کے حوالے سے ہواتھا: {وَالّٰتِی تَخَافُوْنَ نَشُوْزَھُنَّ } ’’اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو‘‘۔ یعنی وہ عورتیں جواپنے خاوندوں سے سر کشی کرتی ہیں‘ان کی اطاعت نہیں کرتیں اور اپنی ضد پر اَڑی رہتی ہیں۔ اب یہاں ذکر ہے اُس ’’نشوز‘‘ کا جس کا اظہار خاوند کی طرف سے ہو سکتا ہے ۔ یعنی یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ خاوند اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہو‘ اس کے حقوق ادا کرنے میں پہلو تہی کر رہا ہو‘ اپنی ’’قو امیت ‘‘ کے حق کو غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہو‘ اس پر بے جا رُعب ڈالتا ہو‘ اسے بلاوجہ ستاتا ہو اور تنگ کر کے مہر معاف کروانا چاہتا ہو‘ یا اگر بیوی کے والدین اچھے کھاتے پیتے ہوں تو ہو سکتا ہے خاوند اسے بلیک میل کر کے اس کے والدین سے دولت ہتھیانا چاہتا ہو۔ یہ ساری خباثتیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اورعورتیں بیچاری ظلم و ستم کی اس چکی میں پستی رہتی ہیں۔ آیت زیر نظر میں اس مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے اندیشہ ہو جائے کہ وہ زیادتی کرے گا ‘یا اگر شوہر زیادتی کر رہا ہو اور وہ بیوی کے حقوق ادا نہ کر رہا ہو‘ یا اس کی طرف میلان ہی نہ رکھتا ہو‘ کوئی نئی شادی رچا لی ہو اور اب ساری توجہ نئی دلہن کی طرف ہو۔
’’تو ان دونوں پر کوئی الزام نہیں ہو گا کہ وہ آپس میں صلح کر لیں۔‘‘
یہاں صلح سے مراد یہ ہے کہ سارے معاملات باہم طے کر کے عورت خلع لے لے۔لیکن خلع لینے میں‘ جیسا کہ سورۃ البقرۃ آیت ۲۲۹ میں ہم پڑھ چکے ہیں ‘عورت کو مہر چھوڑنا پڑے گا‘اور اگر لیا تھا تو کچھ واپس کرنا پڑے گا۔
’’اور تمہارے لیے ممکن ہی نہیں کہ تم عورتوں کے درمیان پورا پورا انصاف کر سکو‘ چاہے تم اس کے لیے کتنے ہی حریص ہو‘‘
سورۃ کے آغاز (آیت۳) میں فرمایا گیا تھا : {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً} یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم اپنی بیویوں میں( اگر ایک سے زائد ہیں) عدل نہیں کر سکو گے تو پھرایک پرہی اکتفا کرو‘ دوسری شادی مت کرو۔ اگر تمہیں کلی طور پر اطمینان ہے ‘ اپنے اوپر اعتماد ہے کہ تم عدل کر سکتے ہو تب دوسری شادی کرو ‘ ورنہ نہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو گنتی اور ناپ تول کی ہوتی ہیں‘ ان میں تو عدل کرنا ممکن ہے‘ لیکن جو قلبی میلان ہے یہ تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ حضورﷺ نے اپنی تمام ازواج کے لیے ہر چیز گِن گِن کر طے کی ہوئی تھی۔ شب بسری کے لیے سب کی باریاں مقر ر تھیں۔دن میں بھی آپؐ ہر گھر میں چکر لگاتے تھے۔ عصر اور مغرب کے درمیان تھوڑی تھوڑی دیر ہر زوجہ محترمہ کے پاس ٹھہرتے تھے۔ اگرکہیں زیادہ دیر ہو جاتی تو گویاکھلبلی مچ جاتی تھی کہ آج وہاں زیادہ دیرکیوں ٹھہر گئے؟یہ چیزیں انسانی معاشرے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ حضورﷺ کی ازواجِ مطہرات ؓ کا آپس کا معاملہ بہت اچھا تھا‘ لیکن سوکناپے کے اثرات کچھ نہ کچھ تو ہوتے ہیں‘ یہ عورت کی فطرت ہے‘ جو اس کے اختیار میں نہیں ہے۔تو اس لیے فرمایا کہ مکمل انصاف کرنا تمہارے بس میں نہیں۔ اس سے مراد دراصل قلبی میلان ہے ۔اس کی وضاحت ایک حدیث میں بھی ملتی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ میں نے ظاہری چیز وں میں پوراپورا عدل کیا ہے‘ باقی جہاں تک میرے دل کے میلان کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ اس بارے میں تو مجھ سے مؤاخذہ نہیں کر ے گا۔ اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ تم چاہو بھی تو عدل نہیں کر سکتے۔
’’اور اگر تم اصلاح کر لو اور تقویٰ کی روش اختیار کروتو اللہ تعالیٰ بھی غفور اور رحیم ہے۔‘‘
اب اگلی آیت میں طلاق کے معاملے میں ایک اہم نکتہ بیان ہو رہا ہے۔طلاق یقینا ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے‘ اس لیے رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((اَبْغَضُ الْـحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ تَـعَالٰی الطَّلَاقُ))۱ ’’ حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ چیز طلاق‘ہے‘‘۔لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو بسا اوقات کفر تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لڑائیاں ہو رہی ہیں‘ مقدمات چل رہے ہیں‘ مزاجوں میں موافقت نہیں ہے‘ ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں‘ دن رات کا جھگڑا ہے‘ لیکن طلاق نہیں دیتے ۔یہ طرزِ عمل نہایت احمقانہ ہے اور شریعت کی منشاء کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا اس آیت میں آپ دیکھیں گے کہ ایک طرح سے طلاق کی ترغیب دی گئی ہے۔
(۱)سنن ابی داوٗد‘ کتاب الطلاق‘ باب فی کراھیۃ الطلاق۔ وسنن ابن ماجہ‘ کتاب الطلاق‘ باب حدثنا سوید بن سعید۔ راوی: عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللہ عنہما
’’اوراگر وہ (میاں بیوی) دونوں علیحدہ ہوجائیں گے تو اللہ ان کو اپنی کشادگی سے غنی کر دے گا۔‘‘
ہو سکتا ہے کہ اس عورت کو بھی کوئی بہتر رشتہ مل جائے جو اس کے ساتھ مزاجی موافقت رکھنے والاہو اور اس مرد کو بھی اللہ تعالیٰ کوئی بہتر بیوی دے دے ۔ میاں بیوی کا ہر وقت لڑتے رہنا‘ دنگا فساد کرنا اور عدمِ موافقت کے باوجود طلاق کا اختیار) (option) استعمال نہ کرنا‘ یہ سوچ ہمارے ہاں دراصل ہندو معاشرت اور عیسائیت کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ہندومت کی طرح عیسائیت میں بھی طلاق حرام ہے۔ در اصل انجیل میں تو شریعت اور قانون ہے ہی نہیں‘ صرف اخلاقی تعلیمات ہیں۔ چنانچہ جس طرح نبی اکرمﷺ نے فرمایا: حدیث((اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَاقُ)) ایسی ہی کوئی بات حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی فرمائی تھی تاکہ کوئی شخص بلاوجہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ ظاہر ہے معاشرے میں طلاق کے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ تو ہوتا ہے۔ طلاق شدہ عورت کی دوسری شادی نہ ہونے کی صورت میں اس کے آوارہ ہوجانے کا امکان بھی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کا وبال اسے بلاوجہ طلاق دینے والے کے سر ہی جائے گا۔ بہرحال حضرت مسیحؑ کا ایسا فرمان محض ایک اخلاقی نصیحت تھی‘ کوئی قانونی شق نہیں تھی۔ عیسائیت کا قانون تو وہی ہے جو تورات کے اندر ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کا فرمان بھی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت تم پر بد ستور نافذ رہے گی‘ میں اس قانون کو ختم کرنے نہیں آیا ۔ قانون بہر حال قانون ہے‘ اخلاقی ہدایات کو قانون کا درجہ تونہیں دیا جا سکتا۔ لیکن عیسائیت میں اس طرح کی اخلاقی تعلیمات کو قانون بنا دیا گیا‘ جس کی وجہ سے بلا جواز پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔چنانچہ ان کے ہاں کوئی شخص اپنی بیوی کو اُس وقت تک طلاق نہیں دے سکتاجب تک اس پر بدکاری کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔ لہٰذا وہ لوگ طلاق دینے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کر کے بیوی کو پہلے بدکردار بناتے ہیں‘ پھر اس کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ‘ تب جا کر اس سے جان چھڑاتے ہیں۔تو جب شریعت کے درست اور آسان راستے چھوڑ دیے جاتے ہیں توپھر اسی طرح غلط اور مشکل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں عدمِ موافقت کی صورت میں طلاق کے بارے میں ایک طرح کی ترغیب نظر آتی ہے۔
وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیۡمًا ﴿۱۳۰﴾
’’اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا ‘ حکمت والاہے۔‘‘
اللہ کے خزانے بڑے وسیع ہیں اور اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہوتاہے۔
’’اور (دیکھو مسلمانو!) تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں بھی ہم نے وصیت کی تھی اور اب تمہیں بھی یہی وصیّت ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
احکامِ شریعت کی تعمیل کے سلسلے میں اصل جذبۂ محرکہ تقویٰ ہے ۔ تقویٰ کے بغیر شریعت بھی مذاق بن جائے گی۔ رسول اللہﷺ کے ایک خطبہ کے یہ الفاظ بہت مشہور ہیں اور خطباتِ جمعہ میں بھی اکثر انہیں شامل کیا جاتا ہے: حدیث((اُوْصِیْکُمْ وَنَفْسِیْ بِتَقْوَی اللّٰہِ))۱’’ مسلمانو ! میں تمہیں بھی اور اپنے نفس کو بھی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں‘‘ ۔ قرآن حکیم میں جابجا اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہاں بھی تقویٰ کا حکم انتہائی تاکید کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔
’’اور اگر تم نہ مانو گے تو (یاد رکھو کہ)جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے‘ اور اللہ تعالیٰ تو خود غنی ہے‘وہ اپنی ذات میں خودستودہ صفات ہے۔‘‘
(۱) یہ الفاظ اگرچہ مشہور ہیں لیکن دستیاب کتبِ احادیث میں ان کا حوالہ نہیں مل سکا۔ البتہ ((اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ))کے الفاظ رسول اللہﷺ کے خطبات میں بکثرت ملتے ہیں۔ مثلاً: سنن الترمذی‘ ابواب العلم‘ باب ما جاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع۔ وسنن ابی داوٗد‘ کتاب السنۃ‘ باب فی لزوم السنۃ۔ (مرتب)
’’اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے‘ اور اللہ کافی ہے کارساز ہو نے کے اعتبار سے۔‘‘
اگر میاں بیوی میں واقعی نباہ نہیں ہورہا تو بے شک وہ علیحدگی اختیارکر لیں‘ دونوں کا کارساز اللہ ہے ۔ عورت بھی یہ سمجھے کہ اگر میں اس شوہر سے تعلق منقطع کر لوں گی تواللہ کار ساز ہے ‘ وہ میرے لیے کوئی اور راستہ پیدا کر دے گا۔ اور اسی طرح کی سوچ مرد کی بھی ہونی چاہیے ۔اس کے برعکس یہ سوچ انتہائی احمقانہ اور خلافِ شریعت ہے کہ ہر صورت میں عورت سے نباہ کرنا ہے‘ چاہے اللہ سے بغاوت ہی کیوں نہ ہو جائے ۔ لہٰذا ہر چیز کو اُس کے مقام پر رکھنا چاہیے۔
’’اے لوگو! وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے۔‘‘
اللہ کے مقابلے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں ۔اس کے سامنے تم سب نفسِ واحد کی طرح ہو‘ اللہ تعالیٰ جب چاہے تم سب کو نسیاً منسیاً کر دے اور تمہاری جگہ نئے لوگوں کو پیدا کر دے۔
’’جو کوئی بھی دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو اللہ کے پاس ہے ثواب دنیا کا بھی اور آخرت کا بھی۔‘‘
جو شخص اپنی ساری بھاگ دوڑ اور دن رات کی محنت دنیا کمانے ‘ دولت اور جائیداد بڑھانے ‘ عہدوں میں ترقی پانے اور مادی طور پر پھلنے پھولنے میں لگا رہا ہے ‘ اور اس وجہ سے اللہ کے احکام اور حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے‘ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا کے خزانے بھی ہیں اور آخرت کے بھی ۔اور یہ کہ وہ صرف دنیاوی چیزوں کی خواہش کر کے گویاسمندر سے قطرہ حاصل کرنے پر اکتفا کر رہا ہے۔بقولِ علامہ اقبالؔ ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیٔ داماں بھی ہے!
لہٰذا اللہ سے دنیا بھی مانگو اور آخرت بھی ۔اور اس طرح مانگو جس طرح اس نے مانگنے کا طریقہ بتایا ہے: {رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾} (البقرۃ) ’’پروردگار! ہمیں اس دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی خیر عطا فرما اور ہمیں بچا لے آگ کے عذاب سے‘‘۔ تم لوگ اللہ کے ساتھ اپنے معاملات کو درست کرو‘ اس کے ساتھ اپنا تعلق خلوص و اخلاص کی بنیادوں پر استوار کرو‘ اس کی طرف سے جو ذمہ داریاں ہیں ان کو ادا کرو‘ پھر اللہ تعالیٰ یقینا دنیا میں بھی تمہیں نوازے گا اور آخرت میں بھی۔
وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿٪۱۳۴﴾
’’اورا للہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘
’’اے اہل ایمان ‘کھڑے ہو جاؤ پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر‘‘
یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔سورئہ آل عمران (آیت۱۸) میں ہم پڑھ آئے ہیں: {شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّــہٗ لَآ اِلٰــہَ اِلاَّ ہُوَ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَــآئِمًا بِالْقِسْطِ} ’’اللہ گواہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اور سارے فرشتے اور اہل علم بھی اس پر گواہ ہیں‘وہ عدل کا قائم کرنے والا ہے‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر عدل قائم کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے لیے وہ اپنے دین کا غلبہ چاہتا ہے‘ اور اس عظیم کام کے لیے اُس کے کارندے اور سپاہی اہل ایمان ہی ہیں۔ انہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ لیکن اہلِ ایمان کو اس عظیم مقصد کے لیے کوشش کرنی ہو گی‘ جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہو گا‘ ایثار کرنا ہو گا‘ قربانیاں دینی ہو ں گی‘تب جا کر کہیں دین غالب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے ۔ معاشرے میں عدل و قسط کے قیام کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو ’’اللہ کے گواہ ‘‘ کہا گیا ہے۔ عدلِ اجتماعی (Social Justice) پر اسلام نے جتنا زور دیا ہے بدقسمتی سے آج ہمارا مذہبی طبقہ اتنا ہی اس سے بے بہرہ ہے۔ آج کے مسلم معاشروں میں سرے سے شعور ہی نہیں کہ عدلِ اجتماعی کی بھی کوئی اہمیت اسلام میں ہے۔اسلامی قوانین اور حدود و تعزیرات کے نفاذ کی اہمیت تو سب جانتے ہیں‘ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ باطل نظام کی ناانصافیاں کیسے ختم ہوں گی؟ اس جاگیر دارانہ ظلم و ستم اور غریبوں کے استحصال (exploitation) کی بیخ کنی کس طرح ہو گی ؟سرمایہ دار غریبوں کا خون چوس چوس کر روز بروز موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔یہ نظام ایک ایسی چکی ہے جو آٹا پیس پیس کر ایک ہی طرف ڈالتی جا رہی ہے ‘جبکہ دوسری طرف محرومی ہی محرومی ہے۔ یہاں دولت کی تقسیم کا نظام ہی غلط ہے‘ ایک طرف وسائل کی ریل پیل ہے تو دوسری طرف بھوک ہی بھوک۔ ایک طرف امیر امیر تر ہو رہے ہیں تو دوسری طرف غریب غریب تر‘اور غربت تو ایسی لعنت ہے جو انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے ‘ازروئے حدیثِ نبویؐ: حدیث((کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا))۱’’قریب ہے کہ فقر کفر بن جائے‘‘۔ لہٰذا سب سے پہلے وہ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں عدل ہو‘ انصاف ہو‘ جس میں ضمانت دی گئی ہو کہ ہر شہری کی بنیادی ضروریات کی کفالت ہو گی۔کفالتِ عامہ کی یہ ضمانت نظامِ خلافت میں دی جاتی ہے ۔ جب نظام درست ہو جائے تو پھرحدود و تعزیرات کا نفاذ ہو۔ پھرجو کوئی چوری کرے اس کاہاتھ کاٹاجائے۔ لیکن موجودہ حالات میں اگر اسلامی قوانین نافذ ہو ں گے تو ان کا فائدہ الٹا لٹیروں اور حرام خوروں کو ہو گا‘بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ان سے مستفید ہوں گے۔ جنہوں نے حرام خوری سے دولت جمع کر رکھی ہے ‘ وہ خوب پاؤں پھیلا کر سوئیں گے۔ چور کا ہاتھ کٹے گاتو انہیں چوری کا ڈر رہے گا نہ ڈاکے کا۔تو اصل کام نظام کا بدلنا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ (معاذ اللہ) شریعت نافذ نہ کی جائے‘ بلکہ مقصد یہ ہے کہ شریعت نافذ کرنے سے پہلے نظام (system) کو بدلا جائے ‘دین کا نظام قائم کیا جائے اور پھر اس نظام کوقائم رکھنے کے لیے‘ اس کومستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے‘ اسے مستقل طور پر چلانے کے لیے قانون نافذ کیا جائے۔ کیونکہ قانون ہی کسی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنتا ہے‘ قانون کے صحیح نفاذ سے ہی کوئی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
یہی مضمون آگے چل کر سورۃ المائدہ (آیت۸) میں بھی آئے گا‘ لیکن وہاں اس کی ترتیب بدل گئی ہے ۔ وہاں ترتیب اس طرح ہے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫} ۔ اس ترتیب کے بدلنے میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اللہ اور عدل و قسط گویا مترادف الفاظ ہیں۔ایک جگہ حکم ہے ’’گواہ بن جائو اللہ کے ‘‘اور دوسری جگہ فرمایا: ’’گواہ بن جائو قِسط کے‘‘ ۔ایک جگہ فرمایا:’’ کھڑے ہو جائو قسط (عدل و انصاف) کے لیے ‘‘جبکہ دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ ’’کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے‘‘۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور قسط کے الفاظ جو ایک دوسرے کی جگہ آئے ہیں‘ آپس میں مترادف ہیں۔
’’خواہ یہ (انصاف کی بات اورشہادت) تمہارے اپنے خلاف ہو یا تمہارے والدین کے یا تمہارے قرابت‘داروں کے۔‘‘
ایک مؤمن کا تعلق عدل وانصاف اور قسط کے ساتھ ہونا چاہیے‘ رشتہ داری کے ساتھ نہیں۔ یہاں پر حرفِ جار کے بدلنے سے معانی میں ہونے والی تبدیلی مدّ نظر رہے ۔ شہـادۃ علٰی کا مطلب ہے لوگوں پر گواہی‘ اُن کے خلاف گواہی ‘جبکہ شہادۃ لِلّٰہ کا مطلب ہے اللہ کے لیے گواہی‘ لہٰذا شُہَدَآئَ لِلّٰہ کے معنی ہیں اللہ کے گواہ۔
’’چاہے وہ شخص غنی ہے یا فقیر‘ اللہ ہی دونوں کا پشت پناہ ہے۔‘‘
ہر کسی کا رازق اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے ‘ تم کسی کے کفیل اور ذمہ دار نہیں ہو۔ تمہیں تو وہ فیصلہ کرنا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ تمہیں کسی کی جانب داری نہیں کرنی‘ نہ ماں باپ کی‘ نہ بھائی کی ‘ نہ خود اپنی اور نہ کسی غریب و مسکین کی۔ اِنْ یَّــکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا کے الفاظ نے یہاں جانبدار انہ فیصلوں کا یہ چور دروازہ بھی بند کر دیا ہے کہ
اس کا حق تو نہیں بنتا‘ لیکن یہ غریب ہے‘ لہٰذا اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے۔ فرمایا کہ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب‘ تمہیں اس کی جانب داری نہیں کرنی۔ یہ حکم ہمیں واضح طور پر ہمارا فرض یاد دلاتا ہے کہ ہم سب اللہ کے گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں۔ ہر حق بات جو اللہ کی طرف سے ہو اس کے علمبردار بن جائیںاور اس حق کو قائم کرنے کے لیے تن‘ من اور دھن کی قربانی دینے کے لیے اپنی کمر کس لیں۔
’’ تو تم خواہشات کی پیروی نہ کرو‘ مبادا کہ تم عدل سے ہٹ جائو۔ اگر تم زبانوں کو مروڑو گے یا اعراض کرو گے تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے پوری طرح با خبر ہے۔‘‘
یعنی اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا حق گوئی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو اس کی پوری پوری خبر ہے ۔ ’’تَلوٗا‘‘ کا صحیح مفہوم آج کی زبان میں ہو گا chewing the words ۔ یعنی اس طریقے سے زبان کو حرکت دینا کہ بات کہنا بھی چاہتے ہیں لیکن کہہ بھی نہیں پا رہے ہیں‘ حق بات زبان سے نکالنا نہیں چاہتے‘ غلط بات نکل نہیں رہی ہے۔ یا پھر ویسے ہی حق بات کہنے والی صورتِ حال کا سامنا کرنے سے کنی کترا رہے ہیں‘ موقع سے ہی بچ نکلنا چاہتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو کہ ایسی کسی کوشش سے انسانوں کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے مگر اللہ تو تمہاری ہر سوچ ‘ہر نیت اور ہر حرکت سے با خبر ہے۔
اس کے بعد جو مضمون آ رہا ہے وہ شاید اس سورۂ مبارکہ کا اہم ترین مضمون ہے۔
(۱)رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب الآداب‘ باب ما ینھی عنہ من التھاجر والتقاطع واتباع العورات ۔ راوی : انس بن مالک رضی اللہ عنہ
’’اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر‘ اُس کے رسولؐ پر اور اُس کتاب پر جو اُس نے نازل فرمائی اپنے رسولؐ پر اور اُس کتاب پر جو اُس نے پہلے نازل فرمائی۔‘‘
ایمان والوں سے یہ کہنا کہ ایمان لاؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ ’’اے ایمان والو‘ ایمان لاؤ!‘‘چہ معنی دارد؟ اس کا مطلب ہے کہ اقرار باللّسان والاایمان تو تمہیں موروثی طور پر حاصل ہوچکا ہے۔ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہو گئے تو وراثت میں ایمان بھی مل گیا‘یا یہ کہ جب پورا قبیلہ اسلام لے آیا تو اس میں پکے مسلمانوں کے ساتھ کچھ کچے مسلمان بھی شامل ہو گئے۔ زبان سے تو سب نے ’’اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پڑھ لیا ۔ اس طرح اقرار باللسان کے درجے میں تو ایمان سب کو حاصل ہو گیا۔ لیکن واضح رہے کہ یہ ایمان کا محض قانونی درجہ ہے۔ پیچھے اسی سورۃ (آیت ۹۴)میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ اگر کوئی شخص راستے میں ملے اور وہ اپنا اسلام ظاہر کرے تو تم اس کے ایمان کو جھٹلا نہیں سکتے ‘ کیونکہ جس نے زبان سے کلمہ شہادت ادا کر لیا تو قانونی طور پر وہ مؤمن ہے۔ لیکن کیا حقیقی ایمان یہی ہے؟ نہیں‘بلکہ حقیقی ایمان تو یقین قلبی کا نام ہے۔ اس لیے فرمایا : ’’اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر…‘‘۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ہم اِس آیت کا ترجمہ اس طرح کریں گے کہ ’’اے اہل ایمان ! ایمان لاؤ اللہ پر جیساکہ ایمان لانے کا حق ہے‘ مانو اللہ کے رسولﷺ کو جیسا کہ ماننے کا حق ہے…‘‘ اور یہ حق اُسی وقت ادا ہو گا جب اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان دل میں گھر کر گیا ہو۔ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں سورۃ الحجرات (آیت۷) میں فرمایا گیا: {وَلٰــکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَــیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّـنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ} ’’اللہ نے ایمان کو تمہارے نزدیک محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا ہے‘‘۔ آگے چل کر اسی سورۃ (آیت۱۴) میں کچھ لوگوں کے بارے میں یوں فرمایا: {قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ} ’’یہ بد و لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اے نبی(ﷺ )ان سے کہہ دیجیے کہ تم ہر گز ایمان نہیں لائے ہو‘ ہاں یوں کہہ سکتے ہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں‘ لیکن ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ‘‘۔چنانچہ اصل ایمان وہ ہے جو دل میں داخل ہو جائے۔ یہ درجہ تصدیق بالقلب کا ہے۔ یاد رہے کہ آیت زیر مطالعہ میں دراصل روئے سخن منافقین کی طرف ہے‘ جو زبانی ایمان تو لائے تھے لیکن اس کے ساتھ دل کی تصدیق شامل نہیں تھی ۔ (عربی زبان سے واقفیت رکھنے والے حضرات یہ نکتہ بھی نوٹ کریں کہ قرآن کے لیے اس آیت میں لفظ نَزَّلَ اور تورات کے لیے اَنْزَلَ استعمال ہوا ہے ۔)
’’اورجو کوئی کفر (انکار) کرے گا اللہ کا‘ اس کے فرشتوں کا‘ اس کی کتابوں کا‘ اس کے رسولوں کااور قیامت کے دن کا‘تو وہ گمراہ ہو گیا اور گمراہی میں بہت دُور نکل گیا۔‘‘
یہ تمام آیات بہت اہم ہیں اور مفہوم کے لحاظ سے ان میں بڑی گہرائی ہے۔
’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے ‘ پھر کفر کیا‘ پھر ایمان لائے‘ پھر کفر کیا‘ پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے‘‘
یہاں کفر سے مراد کفر حقیقی‘ کفر معنوی یا کفر باطنی یعنی نفاق ہے‘ قانونی کفر نہیں۔ کیونکہ منافقین کے ہاں کفر و ایمان کے درمیان جو بھی کشمکش اور کھینچا تانی ہو رہی تھی ‘ وہ اندر ہی اندر ہورہی تھی‘ لیکن ظاہری طور پر ان لوگوں نے اسلام کا انکار نہیں کیا تھا۔
’’ تو اللہ نہ ان کی مغفرت کرنے والا ہے اور نہ وہ انہیں راہِ راست دکھائے گا۔‘‘
واضح رہے کہ منافقت کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی دن میں کوئی شخص منافق ہو گیاہو۔منافقین میں ایک تو شعوری منافق تھے ‘جو باقاعدہ ایک فیصلہ کر کے اپنی حکمتِ عملی اختیار کرتے تھے ‘جیسے ہم سورۂ آل عمران (آیت ۷۲) میں ان کی پالیسی کے بارے میں پڑھ آئے ہیں کہ صبح ایمان کا اعلان کریں گے‘ شام کو پھر کافر ہوجائیں گے ‘ مرتد ہو جائیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ ایمان انہیں نصیب ہوا ہی نہیں اور انہیں بھی معلوم تھا کہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔ وہ دل سے جانتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہی نہیں ہیں‘ ہم تو مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ شعوری منافقت ہے۔
اس کے برعکس کچھ لوگ غیر شعوری منافق تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام قبول تو کیا تھا ‘ ان کے دل میں دھوکہ دینے کی نیت بھی نہیں تھی‘لیکن انہیں اصل صورتِ حال کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ پھولوں کی سیج ہے‘ لیکن ان کی توقعات کے بالکل برعکس وہ نکلا کانٹوں والا بستر۔ اب انہیں قدم قدم پر رکاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔ ارادے میں چونکہ پختگی اور ایمان میں گہرائی نہیں تھی‘ لہٰذا ان کا معاملہ ’’ہرچہ بادا باد ‘‘ والا نہیں تھا ۔ ایسے لوگوں کا حال ہم سورۃ البقرۃ کے آغاز(آیت ۲۰)میں پڑھ آئے ہیں کہ کچھ روشنی ہوئی تو ذرا چل پڑے‘ اندھیرا ہوا تو کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ حالات بہتر ہوئے تو کچھ ہمت کی ‘ دو چار قدم چلے‘ پھر حالات نا موافق دیکھ کر ٹھٹک گئے‘ رک گئے‘ پیچھے ہٹ گئے۔ ان کے اس طرزِعمل کا نتیجہ یہ ہوتا تھاکہ لوگ ان کو ملامت کرتے کہ یہ تم کیا کرتے ہو؟چنانچہ ملامت سے بچنے کے لیے وہ جھوٹے بہانے بنانے لگے ‘اور پھر جب یہ مرض مزید بڑھا تو جھوٹی قسمیں کھانی شروع کر دیں‘ کہ خدا کی قسم یہ مجبوری تھی ‘اس لیے میں رُک گیاتھا‘ ایسا تو نہیں کہ میں جہاد میں جانا نہیں چاہتا تھا۔ میری بیوی مر رہی تھی‘ اُسے چھوڑ کر میں کیسے جا سکتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔اس طرح کی جھوٹی قسمیں کھاناایسے منافقین کا آخری درجے کا حربہ ہوتا ہے۔ تو ایمان اور کفر کا یہ معاملہ ان کے ہاں یوں ہی چلتا رہتا ہے‘ اگرچہ اوپر ایمان باللّسان کا پردہ موجود رہتا ہے۔ جب کوئی شخص ایمان لے آیا اور اُس نے ارتداد کا اعلان بھی نہیں کیا تو قانونی طور پر تو وہ مسلمان ہی رہتاہے‘ لیکن جہاں تک ایمان بالقلب کا تعلق ہے تو وہ ’’مُُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِک‘‘ کی کیفیت میں ہوتا ہے اور اس کے اندر ہر وقت تذبذب اور اہتزاز (oscillation) کی کیفیت رہتی ہے کہ ابھی ایمان کی طرف آیا‘ پھر کفرکی طرف گیا‘ پھر ایمان کی طرف آیا‘ پھر کفر کی طرف گیا۔ اس کی مثال بعینہٖ اُس شخص کی سی ہے جو دریا یا تالاب کے گہرے پانی میں ڈوبتے ہوئے کبھی نیچے جاتا ہے‘ پھر ہاتھ پائوں مارتا ہے تو ایک لمحے کے لیے اوپر آ جاتا ہے مگر اوپر ٹھہر نہیں سکتا اور فوراً نیچے چلا جاتا ہے۔ بالآخر نیچے جا کر اوپر نہیں آتا اور ڈوب جاتا ہے۔ بالکل یہی نقشہ ہے جو اس آیت میں پیش کیا جارہا ہے۔اگلی آیت میں کھول کر بیان کر دیا گیا ہے کہ یہ کن لوگوں کا تذکرہ ہے۔
’’ (اے نبیﷺ!) ان منافقوں کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
یعنی واضح طور پرفرما دیا گیا کہ یہ لوگ منافق ہیں اور ان کو عذاب کی بشارت بھی دے دی گئی ۔ یہ عذاب کی بشارت دینا طنزیہ انداز ہے ۔
یہاں پر قبولِ حق کے دعویدار ں کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جو لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں‘ اللہ کو اپنا ربّ مانتے ہیں‘ ان کے لیے یہاں پھولوں کی سیج نہیں ہے‘ اس لیے جو شخص اس گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ یکسو ہو کر آئے ‘ دل میں تحفظات (reservations) رکھ کر نہ آئے۔یہاں تو قدم قدم پر آزمائشیں آئیں گی‘ یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ } (البقرۃ :۱۵۵) ’’اورہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے‘‘۔ یہاں تو علی الاعلان بتایا جا رہا ہے : {لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ} (آل عمران:۱۸۶) ’’(مسلمانو! یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔ اور تمہیں لازماً سننی پڑیں گی ‘ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا ‘بڑی تکلیف دہ باتیں۔‘‘ یہاں تومال و جان کا نقصان اٹھانا پڑے گا‘ ہر قسم کی تلخ ونازیبا باتیں سننی پڑیں گی‘کڑوے گھونٹ بھی حلق سے اُتارنے پڑیں گے‘ غرض قدم قدم پر خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا ؎
در رہِ منزلِ لیلیٰ کہ خطر ہاست بسے
شرطِ اوّل قدم ایں است کہ مجنوں باشی!
(لیلیٰ سے وصال کے راستے میں تو بہت سے خطرات پیش آئیں گے۔ اس راہ میں پہلا قدم رکھنے کی شرط یہ ہے کہ تم مجنوں بن جاؤ!)
’’جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو اپنادوست بناتے ہیں۔‘‘
ان منافقین کا وطیرہ یہ بھی تھا کہ وہ کفار کے ساتھ بھی دوستی رکھتے تھے ۔یعنی اپنی طرف سے وہ اس پالیسی پر عمل پیرا تھے : Dont keep all your eggs in one basket کہ اپنے تمام کے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں مت رکھو۔ ان کا خیال تھا کہ آج اگر ہم سب تعلق ‘ دوستیاں چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ ہو گئے تو کل کا کیا پتا ؟کیا معلوم کل حالات بدل جائیں‘ حالات کا پلڑا کفار کی طرف جھک جائے۔ تو ایسے مشکل وقت میں پھر یہی لوگ کام آئیں گے‘ اس لیے وہ ان سے دوستیاں رکھتے تھے۔
اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ
’’کیا وہ ان کے قرب سے عزت چاہتے ہیں؟‘‘
کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں؟کیاان کی محفلوں میں جگہ پا کر وہ معزز بننا چاہتے ہیں؟ جیسے ہمارے حکمرانوں کے لیے آـج امریکہ جانا اور صدرِ امریکہ سے ملنا بہت بڑا اعزاز ہے‘ جسے پانے کے لیے ہمارے ہاں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ چند منٹ کی ایسی ملاقات کے لیے کس کس انداز سے lobbying ہوتی ہے‘ خواہ اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو اور ان کی پالیسیاں جوں کی توں چلتی رہیں۔
فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ﴿ؕ۱۳۹﴾
’’حالانکہ عزت تو کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘
’’ تو ان کے ساتھ مت بیٹھویہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں‘‘
یہ سورۃ الانعام کی آیت۶۸ کا حوالہ ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھاکہ جب تمہارے سامنے کافر لوگ اللہ کی آیات کا استہزاء کر رہے ہوں‘ قرآن کا مذاق اڑا رہے ہوں تو تم وہاں سے اُٹھ جاؤ۔ یہ مکی آیت ہے۔ چونکہ اُس وقت مسلمانوں میں اتنا زور نہیں تھا کہ کفار کوایسی حرکتوں سے زبردستی منع کر سکتے اس لیے ان کو بتایا گیا کہ ایسی محفلوں میں تم لوگ مت بیٹھو۔ اگر کسی محفل میں ایسی کوئی بات ہو جائے تو احتجاجاً وہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ ایسی باتوں سے تمہاری غیرتِ ایمانی میں بھی کچھ کمی آ جائے یا تمہاری ایمانی حس کند پڑ جائے۔ہاں جب وہ لوگ دوسری باتوں میں مشغول ہوجائیں توپھر دوبارہ ان کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں۔ واضح رہے کہ یہ غیر مسلموں سے تعلق منقطع کرنے کا حکم نہیں ہے۔ اس لیے کہ تبلیغ کی غرض سے ان کے پاس جانا بھی ضروری ہے ۔
اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ؕ
’’ورنہ تم بھی انہی کی مانند ہو جاؤ گے۔‘‘
اگر اس حالت میں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہوگے تو پھر تم بھی ان جیسے ہو جاؤ گے۔
منافق تمہارے معاملہ میں گردشِ زمانہ کے منتظر ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ لوگ ’’تیل دیکھو ‘ تیل کی دھار دیکھو‘‘کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور نتیجے کے انتظار میں ہیں کہ آخری فتح کس کی ہوتی ہے۔ اس لیے ان کاطے شدہ منصوبہ ہے کہ دونوں طرف کچھ نہ کچھ تعلقات رکھو ‘ تا کہ وقت جیسا بھی آئے‘ جو بھی صورت حال ہو‘ ہم اس کے مطابق اپنے بچائو کی کچھ صورت بنا سکیں۔
’’تو اگر تم لوگوں کو اللہ کی طرف سے کوئی فتح حاصل ہو جائے تویہ کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے؟‘‘
اگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے مسلمان فتح حاصل کر لیتے ہیں تووہ آ جائیں گے باتیں بناتے ہوئے کہ ہم بھی تو آپ کے ساتھ تھے‘ مسلمان تھے‘ مالِ غنیمت میں سے ہمارا بھی حصہ نکالیے ۔
وَ اِنۡ کَانَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نَصِیۡبٌ ۙ
’’اور اگر کوئی حصہ پہنچ جائے کافروں کو‘‘
اگر کبھی وقتی طور پر کفار کو فتح حاصل ہو جائے‘ جنگ میں ان کا پلڑا بھاری ہو جائے۔
’’تو وہ کہیں گے (اپنے کافر ساتھیوں سے) کیا ہم نے تمہاراگھیراؤ نہیں کر لیا تھا؟ اور کیا ہم نے بچایا نہیں تم کو مسلمانوں سے؟‘‘
یعنی ہم نے تو آپ کو مسلمانوں سے بچانے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا‘ ہم تو آپ کے لیے آڑ بنے ہوئے تھے۔ آپ سمجھتے تھے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ہو کر جنگ کرنے آئے تھے؟ نہیں‘ ہم تو اس لیے آئے تھے کہ وقت آنے پر مسلمانوں کے حملوں سے آپ کو بچا سکیں۔
’’ اوراللہ اہلِ ایمان کے مقابلے میں کافروں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔‘‘
جیسا کہ اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ سورۃ النساء کا بڑا حصہ منافقین سے خطاب پر مشتمل ہے‘ اگرچہ اُن سے براہِ راست خطاب میں یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ نَافَقُوْا کے الفاظ کہیں استعمال نہیں ہوئے ‘بلکہ انہیں یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ایمان کے دعوے دار تھے‘ ایمان کے مدّعی تھے اور قانونی طور پر مسلمان تھے۔ یہ ایک طویل مضمون ہے جوآئندہ آیاتِ مبارکہ میں انجام پذیر (conclude) ہو رہا ہے۔
آیت 142
اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ
’’ یقینا منافق کوشش کر رہے ہیں اللہ کو دھوکہ دینے کی‘‘
یہ مضمون سورۃ البقرۃ کے دوسرے رکوع میں بھی آ چکا ہے۔ مُخادَعۃ بابِ مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس باب میں کسی کے مقابلے میں کوشش کے معنی شامل ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں دو فریقوں میں مقابلہ ہوتا ہے اور پتا نہیں ہوتا کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔لہٰذا اس جملے کا صحیح ترجمہ یوں ہو گا کہ ’’منافقین اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ اس کے جواب میں اللہ کی طرف سے فرمایا گیا:
وَ ہُوَ خَادِعُہُمۡ ۚ
’’حالانکہ وہ انہی کو دھوکہ میں ڈالنے والا ہے۔‘‘
خَادِع ثلاثی مجرد سے اسمِ فاعل ہے اور یہ نہایت زور دار تاکید کے لیے آتا ہے۔ یہاں منافقین کے لیے دھوکہ والا پہلو یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جو ڈھیل دی ہوئی ہے اس سے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں‘ ہمارے اوپرا بھی تک کوئی آنچ نہیں آئی‘ ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوئی‘ کوئی گرفت نہیں ہوئی‘ ہم دونوں طرف سے بچے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنی اس ڈھیل کی وجہ سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اور درحقیقت یہی وہ دھوکہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ڈال رکھا ہے۔
’’اور جب وہ کھڑے ہوتے ہیں نماز کے لیے تو کھڑے ہوتے ہیں بڑی کسل مندی کے ساتھ‘‘
یہ منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ طبیعت میں بشاشت اور آمادگی نہیں ہے۔لیکن چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا بھی ضروری ہے لہٰذا مجبوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قَامَ فعل ہے اور اس کے معنی ہیں کھڑے ہونا‘جبکہ قَائِم اس سے اسم فاعل ہے۔ مختلف زبانوں میں عام طور پر verb کے بعد prepositions کی تبدیلی سے معنی اورمفہوم بدل جاتے ہیں۔ مثلاًانگریزی میں to give ایک خاص مصدر ہے۔ اگر to give up ہو تو معنی یکسر بدل جائیں گے۔ پھر اگر یہ to give in ہو تو بالکل ہی الٹی بات ہوجائے گی۔ اسی طرح عربی میں بھی حروفِ جار کے تبدیل ہونے سے معانی بدل جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر قَامَ عَلٰی ہو ‘جیسے آیت {الرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ} میں ہے تو اس کے معنی ہوں گے حاکم ہونا‘ سربراہ ہونا‘ کسی کے حکم کا نافذ ہونا۔ لیکن اگر قَامَ اِلٰی ہو(جیسے آیت زیر نظر میں ہے) تو اس کا مطلب ہو گا کسی شے کے لیے کھڑے ہونا‘ کوئی کام کرنے کے لیے اٹھنا‘ کوئی کام کرنے کا ارادہ کرنا۔اس سے پہلے ہم قَامَ ’بِ‘ کے ساتھ بھی پڑھ چکے ہیں ‘یعنی: قَوّٰمَیْنَ بِا لْقِسْطِ اور قَائِمًا بِالْقِسْطِ۔ یہاں اس کے معنی ہیں کسی شے کو قائم کرنا۔ تو آپ نے ملاحظہ کیاکہ حروفِ جار (prepositions) کی تبدیلی سے کسی فعل کے اندر کس طرح اضافی معانی پیدا ہو جاتے ہیں۔
یُرَآءُوۡنَ النَّاسَ
’’ (وہ کھڑے ہوتے ہیں) محض لوگوں کو دکھانے کے لیے ‘‘
یعنی ذکرِ الٰہی جو نماز کا اصل مقصد ہے {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ} (طٰہٰ) وہ انہیں نصیب نہیں ہوتا۔ مگر ممکن ہے اس بے دھیانی میں کسی وقت کوئی آیت بجلی کے کڑکے کی طرح کڑک کر ان کے شعور میں کچھ نہ کچھ اثرات پیدا کر دے ۔
آیت 143
مُّذَبۡذَبِیۡنَ بَیۡنَ ذٰلِکَ ٭ۖ
’’یہ اس کے مابین مذبذب (ہو کر رہ گئے) ہیں۔‘‘
کفر اور ایمان کے درمیان ڈانواں ڈول ہیں‘ کسی طرف بھی یکسو نہیں ہو رہے۔ اسی لیے قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تذکرے کے ساتھ حَنِیف کا لفظ بار بار آتا ہے۔ دین کے بارے میں اللہ کی طرف سے ترغیب یہی ہے کہ یکسو ہو جاؤ۔ دنیا میں اگر انسان کفر پر بھی یکسو ہوگا تو کم از کم اس کی دنیا تو بن جائے گی‘لیکن اگر دنیا اور آخرت دونوں بنانے ہیں تو پھر ایمان کے ساتھ یکسو ہونا ضروری ہے۔ لیکن جو لوگ بیچ میں رہیں گے ‘ نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے‘ ان کے لیے تو {خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ} کے مصداق دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا اور نقصان ہو گا۔
لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰی ہٰۤؤُلَآءِ
’’نہ تو یہ اِن کی جانب ہیں اور نہ ہی اُن کی جانب ہیں۔‘‘
نہ اہلِ ایمان کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ ہی اہلِ کفر کے ساتھ ۔ نہ اِن کے ساتھ یکسو ہیں اورنہ اُن کے ساتھ۔
’’اے اہل ایمان ‘مت بناؤکافروں کو اپنادلی دوست مسلمانوں کوچھوڑ کر۔‘‘
یہ مضمون اس سے پہلے آیت ۱۳۹ میں بھی آ چکا ہے ۔یہ بھی نفاق کی ایک علامت ہے کہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کے ساتھ دوستیوں کی پینگیں بڑھائی جائیں‘ ان کو اپنا حمایتی‘ مددگار اور راز دار بنایا جائے۔
’’کیا تم چاہتے ہو کہ تم اپنے خلاف اللہ کے ہاتھ میں ایک صریح حجت دے دو؟‘‘
اس طرح تم لوگ خود ہی اپنے خلاف ایک حجت فراہم کر رہے ہو۔ جب اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہارا محاسبہ کر ے گا‘ تب اس سوال کاتم کیا جواب دو گے کہ تمہاری دوستیاں کافروں کے ساتھ کیوں تھیں؟ اس طرح تمہارا یہ فعل تمہارے خلاف حجتِ قاطع بن جائے گا۔
اب جو آیت آ رہی ہے وہ ایک اعتبار سے منافقین کے حق میں قرآنِ حکیم کی سخت ترین آیت ہے ۔اگرچہ بعض دوسرے اعتبارات سے‘ بلکہ ایک خاص لطیف پہلو سے سورۃالتوبہ کی آیت ۸۰ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ در اصل طویل سورتوں میں سے سورۃ النساء اور سورۃ التوبہ دو ایسی سورتیں ہیں جن میں نفاق کا مضمون بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔
’’ یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘اور تم نہ پاؤ گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔‘‘
اگلی آیت میں ان لوگوں کے لیے ایک رعایت کا اعلان ہے ۔ منافقت کاپردہ کلی طور پر تو سورۃ التوبہ میں چاک ہوا ہے ۔ یعنی اُن کے لیے آخری احکام سن ۹ہجری میں آئے تھے‘ جبکہ ابھی اس سورت میں سن۴ ہجری کے دور کی باتیں ہو رہی ہیں۔تو ابھی ان کے لیے رعایت رکھی گئی ہے کہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ فرمایا:
’’سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں اور اللہ سے چمٹ جائیں‘‘
اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں‘ایمان کے ساتھ یکسو ہو جائیں۔ ’’کُوْنُوْا رَبَّانِیِّیْن‘‘ (آل عمران:۷۹) کے مصداق اللہ والے بن جائیں۔ شیطان سے محبت کی پینگیں نہ بڑھائیں‘ شیطان کے ایجنٹوں سے دوستیاں نہ کریں‘ اور اپنے آپ کو دین اسلام کے ساتھ وابستہ کر لیں کہ ہرچہ بادا باد ‘ اب تو ہم اسلام کی کشتی پر سوار ہو گئے ہیں‘ اگریہ کشتی تیرتی ہے تو ہم تیریں گے‘ اوراگر خدانخواستہ اس کے مقدر میں کوئی حادثہ ہے تو ہم بھی اس حادثے میں شامل ہوں گے۔
وَ اَخۡلَصُوۡا دِیۡنَہُمۡ لِلّٰہِ
’’ اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کر لیں‘‘
یہ نہ ہو کہ زندگی کے کچھ حصے میں تو اطاعت اللہ کی ہو رہی ہے ‘جبکہ کسی دوسرے حصے میں کسی اور کی اطاعت کی جا رہی ہے کہ کیا کریں جی! یہ معاملہ تو رواج کا ہے ‘ اب برادری کو چھوڑ تو نہیں سکتے نا! گویا اطاعت کے علیحدہ علیحدہ حصے کر لیے ہیں اور پھر ان میں انتخاب کیا جاتا ہے کہ یہ حصہ برادری کی اطاعت کا ہے اور یہ حصہ اللہ کی اطاعت کا۔ بہرحال اطاعت جب تک کل کی کل اللہ کے لیے نہ ہو‘ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ سورۃ البقرۃ (آیت۱۹۳) میں ہم نے پڑھا تھا : {وَقٰــتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَــکُوْنَ فِتْـنَـۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ} ’’اور لڑو ان سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے ‘‘۔یہاں پر دین پورے کا پورا اللہ کے لیے ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی سطح پر دین اللہ کے لیے ہو جائے ‘ یعنی اسلامی ریاست قائم ہوجائے ‘ پورا اسلامی نظام قائم ہو جائے‘ شریعتِ اسلامی کا نفاذ عمل میں آ جائے ۔اور اگر یہ نہیں ہے تو کم از کم ہر مسلمان انفرادی سطح پر تو اپنی اطاعت اللہ کے لیے خالص کرلے۔ یہ گویا انفرادی توحیدِ عملی ہے۔
’’(اے منافقو ذراسوچو !) اللہ تمہیںعذاب دے کر کیا کرے‘گا؟‘‘
اللہ تعالیٰ معاذ اللہ کوئی ایذا پسند (sadist) ہستی نہیں ہے کہ اُسے لوگوں کو دکھ پہنچا کر خوشی ہوتی ہے۔ اس طرح کے رویے تو perverted قسم کے انسانوں کے ہوتے ہیں‘ جن کی شخصیتیں مسخ ہو چکی ہوتی ہیں‘ جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو خو ش ہوتے ہیں‘ دوسروں کوتکلیف اور کوفت پہنچا کر انہیں راحت حاصل ہوتی ہے۔لیکن اللہ توایسا نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر تم سے کیا لے گا؟
اِنۡ شَکَرۡتُمۡ وَ اٰمَنۡتُمۡ ؕ
’’ اگر تم شکر اور ایمان کی روش اختیار کرو۔‘‘
وَ کَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۷﴾
’’ اور اللہ بہت ہی قدر دانی فرمانے والا اور ہر شے کا علم رکھنے والاہے۔‘‘
جو بندہ اُس کے لیے کام کرے‘ محنت کرے‘ اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے۔ اور جو کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے سب اُس کے علم میں ہوتا ہے۔ انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ کے ہاں unaccounted رہ جائے‘اور اسے اس کا اجر نہ مل سکے۔
اب اس سورۃکے آخری حصے میں فلسفۂ دین کے بہت اہم بنیادی نکات کی کچھ تفصیل آئے گی۔اس ضمن میں پہلی بات تو تمدنی اور معاشرتی معاملات ہی سے متعلق ہے۔ معاشرے کے اندر کسی بری بات کا چرچا کرنابالفعل کوئی اچھی بات نہیں ہے‘ لیکن اس میں ایک استثناء رکھا گیاہے‘ اور وہ ہے مظلوم کا معاملہ۔ اگر مظلوم کی زبان سے ظلم کے ردِّ عمل کے طور پر کچھ نازیبا کلمات‘ جلے کٹے الفاظ بھی نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف کردے گا۔
’’اللہ کو بالکل پسندنہیں ہے کہ کسی بری بات کوبلند آواز سے کہا جائے ‘ سوائے اُس کے جس پر ظلم ہوا ہے۔‘‘
جس کا دل دکھا ہے‘ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ‘ نہ صرف یہ کہ اس کے جواب میں اس کی زبان سے نکلنے والے کلمات پر گرفت نہیں ‘بلکہ مظلوم کی دعا کو بھی قبولیت کی سند عطا ہوتی ہے۔کسی فارسی شاعر نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے : ؎
بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگامِ دعا کر دن
اِجابت از درِ حق بہراستقبال می آید
کہ مظلوم کی آہوں سے ڈرو کہ اس کی زبان سے نکلنے والی فریاد ایسی دعا بن جاتی ہے جس کی قبولیت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا استقبال کرنے کے لیے عرش سے آتی ہے۔
وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۸﴾
’’ اوراللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
اسے سب معلوم ہے کہ جس کے دل سے یہ آواز نکلی ہے وہ کتنا دکھی ہے۔ اس کے احساسات کتنے مجروح ہوئے ہیں۔