تحریر

النساء

آیات ۷۷ تا ۹۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

77

صبرِ محض کا حکم ہے

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ قِیۡلَ لَہُمۡ کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ۚ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَخۡشَوۡنَ النَّاسَ کَخَشۡیَۃِ اللّٰہِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡیَۃً ۚ وَ قَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیۡلٌ ۚ وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۷﴾

آیت 77

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ قِیۡلَ لَہُمۡ کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ۚ

’’تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟‘‘

مکہ مکرمہ میں بارہ برس تک مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔ اس دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے‘ انہیں بہت بری طرح ستایا جا رہا تھا‘ تشدد و تعذیب کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔ اس پر مسلمانوں کا خون کھولتا تھا اور بہت سے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ انہیں اجازت دی جائے تو وہ اپنے بھائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا بدلہ لیں‘ کہ آخر وہ بے غیرت اوربزدل تو نہیں ہیں۔لیکن اُس وقت انہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ منہج انقلابِ نبویؐ کا ’’صبر محض‘‘ کا مرحلہ تھا ۔اُس وقت ان کے لیے حکم یہ تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو۔ ؎

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی!

ایک وقت آئے گا کہ تمہارے ہاتھ کھول دیے جائیں گے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ} میں ’’قِیْلَ‘‘ فعل مجہول ہے۔ یہ کہا کس نے تھا؟ مکی قرآن میں تو ’’کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ‘‘ کا حکم موجود نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ حکم تھا جناب محمد رسول اللہﷺ کا۔ حضورﷺ نے اہل ایمان کو ہاتھ اٹھانے سے روکاتھااور اس کے بارے میں بتایا جارہا ہے سورۃ النساء کی اس آیت میں جو مدنی ہے۔ گویا رسول اللہﷺ کے حکم کو یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم قرار دیاہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وحی جلی (قرآن) کے علاوہ نبی اکرمﷺ پر وحی خفی بھی نازل ہوتی تھی۔ تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دورمیں وحی خفی کے ذریعے رسول اللہﷺ کو یہ حکم دیا ہو جو یہاں نقل ہوا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ حضورﷺ کا اپنا اجتہاد ہو جسے اللہ تعالیٰ نے برقرار رکھا ہو‘اور قبول (own) کیا ہو۔

اب یہ بات یہاں محذوف ہے کہ اُس وقت تو کچھ لوگ بڑے جوش و جذبہ سے اور بڑے زور شور سے کہتے تھے کہ ہمیں اجازت ہونی چاہیے کہ ہم جنگ کریں‘ لیکن اب کیا حال ہوا:

فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَخۡشَوۡنَ النَّاسَ کَخَشۡیَۃِ اللّٰہِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡیَۃً ۚ

’’توجب ان پر جنگ فرض کر دی گئی تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جیسے اللہ سے ڈرناچاہیے‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈر رہے ہیں۔‘‘

ظاہر بات ہے کہ یہ مکہ کے مہاجرین نہیں تھے‘ بلکہ یہ حال منافقین مدینہ کا تھا‘ لیکن فرق و تفاوت واضح کرنے کے لیے مکی دور کی کیفیت سے تقابل کیا گیا کہ اصل ایمان تو وہ تھا‘ اور یہ جو صورت حال ہے یہ کمزوریٔ ایمان اور نفاق کی علامت ہے۔

وَ قَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۚ

’’اور وہ کہتے ہیں پروردگار! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کر دی؟‘‘

لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ

’’کیوں نہ ابھی ہمیں کچھ اور مہلت دی؟‘‘

اس حکم کو کچھ دیر کے لیے مزید مؤخر کیوں نہ کیا؟

قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیۡلٌ ۚ

’’(اے نبی!) کہہ دیجیے دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے۔‘‘

وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟

’’اور آخرت بہت بہتر ہے اُس کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیارکرے۔‘‘

وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۷﴾

’’اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔‘‘

تمہاری حق تلفی قطعاً نہیں ہوگی اور تمہارے جو بھی اعمال ہیں‘ انفاق ہے‘قتال ہے‘ اللہ کی راہ میں ایثار ہے‘ اس کا تمہیں بھرپور اجرو ثواب دے دیا جائے گا۔

78-79

موت کا وقت طے شدہ ہے

ویڈیو

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؕ وَ اَرۡسَلۡنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿۷۹﴾

آیت 78

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ

’’تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو پالے گی‘‘

ظاہر ہے قتال سے جی چرانے کا اصل سبب موت کا خوف تھا۔ چنانچہ ان کے دلوں کے اندر جو خوف تھا اسے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ موت سے کوئی مفر نہیں‘ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی۔

وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ

’’خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو۔‘‘

اگرچہ تم بہت مضبوط (fortified) قلعوں کے اندر اپنے آپ کو محصور کر لو پھر بھی موت سے نہیں بچ‘سکتے۔

وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ

’’اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے توکہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

منافقین کا ایک طرزِ عمل یہ بھی تھا کہ اگر مسلمانوں کو کوئی کامیابی حاصل ہو جاتی‘ فتح نصیب ہو جاتی‘ کوئی اور بھلائی پہنچ جاتی‘ حضورﷺ کی تدبیر کے اچھے نتائج نکل آتے تو اسے حضورﷺ کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے‘ بلکہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے‘ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔

وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ

’’اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے توکہتے ہیں کہ (اے محمدﷺ) یہ آپ کی وجہ سے ہے۔‘‘

آپؐ نے یہ غلط اقدام کیا تو اس کے نتیجے میں ہم پر یہ مصیبت آ گئی۔ یہ آپ کا فیصلہ تھا کہ کھلے میدان میں جا کر جنگ کریں گے‘ ہم نے تو آپ کو مشورہ دیا تھا کہ مدینے کے اندر محصور ہو کر جنگ کریں۔

قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ

’’کہہ دیجیے سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔‘‘

یہ سب چیزیں‘ خیر ہو‘ شر ہو‘ تکلیف ہو‘ آسانی ہو‘ مشکل ہو‘ سب اللہ کی طرف سے ہیں۔

فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾

’’تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات بھی نہیں سمجھتے!‘‘

آیت 79

مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؕ

’’(اے مسلمان!) تجھے جو بھلائی بھی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ خود تیرے نفس کی طرف سے ہے۔‘‘

ان آیات کے بارے میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ میرے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ یہاں تحویلِ خطاب ہے۔ پہلی آیت میں خطاب ان مسلمانوں سے ہے جن کی طرف سے کمزوری یا نفاق کا اظہار ہو رہا تھا‘ لیکن اس آیت میں بحیثیتِ مجموعی خطاب ہے کہ دیکھو اے مسلمانو! جو بھی کوئی خیر تمہیں ملتا ہے اس پر تمہیں یہی کہنا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی شر پہنچ جائے تو اسے اپنے کسب و عمل کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ خیر بھی اللہ کی طرف سے ہے اور شر بھی۔ ’’ایمان مفصل‘‘میں الفاظ آتے ہیں : ’’وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَـعَالٰی‘ ‘یعنی میں تقدیر پر بھی ایمان لایا کہ اس کی اچھائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔لیکن ایک مسلمان کے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ خیر ملے تو اسے اللہ کا فضل سمجھے اور اگر کوئی خرابی ہو جائے تو سمجھے کہ یہ میری کسی غلطی کے سبب ہوئی ہے‘ مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی تادیب فرمانی چاہی ہے۔

وَ اَرۡسَلۡنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا ؕ

’’اور (اے نبیؐ) ہم نے آپ کو تو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

اس مقام کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ درمیانی ٹکڑے میں بھی خطاب تو رسول اللہﷺ ہی سے ہے‘ لیکن استعجاب کے انداز میں کہ اچھا! جو کچھ انہیں خیر مل جائے وہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور جو کوئی برائی آجائے تو وہ آپ کی طرف سے ہے! یعنی یہ کیا بات کہہ رہے ہیں! جبکہ اللہ نے تو آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس کی یہ دو تعبیریں ہیں۔ میرے نزدیک پہلی تعبیر راجح ہے۔

وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿۷۹﴾

’’اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہ کے طو رپر۔‘‘

80-81

رسول ﷺ کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے

ویڈیو

مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾ وَ یَقُوۡلُوۡنَ طَاعَۃٌ ۫ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ غَیۡرَ الَّذِیۡ تَقُوۡلُ ؕ وَ اللّٰہُ یَکۡتُبُ مَا یُبَیِّتُوۡنَ ۚ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۸۱﴾

آیت 80

مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ

’’جس نے اطاعت کی رسو ل کی اُس نے اطاعت کی اللہ کی۔‘‘

یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس لیے کہ یہ الفاظ دو ٹوک انداز میں واضح کر رہے ہیں کہ رسولؐ کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے یہ حدیث ملاحظہ کیجیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ)) ۱

’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی‘ اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے (مقرر کردہ) امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی‘ اور جس نے میرے (مقرر کردہ) امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی۔‘‘

رسول اللہﷺ کی ساری جدوجہد جماعتی نظم کے تحت ہو رہی تھی۔ جہاد و قتال کے لیے فوج تیارہوتی تو اس میں اوپر سے نیچے تک سمع و طاعت کی ایک زنجیر بنتی چلی جاتی۔ رسول اللہﷺ کمانڈر انچیف تھے‘ آپؐ لشکر کے میمنہ‘ میسرہ‘ قلب اور عقب وغیرہ پر‘ نیز ہراول دستے پر الگ الگ کمانڈر مقرر فرماتے ۔ ان امراء کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی‘ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی۔

وَ مَنۡ تَوَلّٰی فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ﴿ؕ۸۰﴾

’’اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے آپ کو ان پر نگران بناکر نہیں بھیجا ہے۔‘‘

اے نبیﷺ! ہم نے آپ کو ان پر داروغہ مقرر نہیں کیا۔ اپنے طرزِ عمل کے یہ خود ذمہ دار اور جواب دہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر یہ اُس کے محاسبے کا خود سامنا کر لیں گے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاحکام‘ باب قول اللّٰہ تعالٰی واطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب اطاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ وتحریمھا فی المعصیۃ۔

آیت 81

وَ یَقُوۡلُوۡنَ طَاعَۃٌ ۫

’’اور کہتے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے‘‘

ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ آپ کے سامنے توکہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں‘ آپؐ نے جو فرمایا قبول ہے‘ ہم اس پر عمل کریں گے۔

فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ بَیَّتَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ غَیۡرَ الَّذِیۡ تَقُوۡلُ ؕ

’’پھر جب آپ کے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو ایسے مشورے کرتا ہے جو ان کے اپنے قول کے خلاف ہے۔‘‘

یہ منافقین آپؐ کے سامنے اطاعت کا اقرار کرتے ہیں‘ لیکن آپؐ کی مجلس میں جو باتیں ظاہر کرتے ہیں راتوں کو آپس میں ان کے برعکس باتیں کرتے ہیں اور ریشہ دوانیاں اور سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔

وَ اللّٰہُ یَکۡتُبُ مَا یُبَیِّتُوۡنَ ۚ

’’اور اللہ لکھ رہا ہے جو بھی وہ راتوں کو مشورے کرتے ہیں۔‘‘

فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ

’’تو(اے نبیﷺ!) آپ ان سے چشم پوشی کیجیے‘‘

آپ ان کی پروانہ کیجیے‘ یہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ابھی ان کے خلاف اقدام کرنا خلافِ مصلحت ہے۔ جیسے ایک دور میں فرمایا گیا: {فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا} (البقرۃ:۱۰۹) یعنی ان یہودیوں کو ذرا نظرانداز کیجیے‘ ابھی ان کی شرارتوں پر نکیر نہ کیجیے‘جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس پر صبر کیجیے‘ اس لیے کہ مصلحت کا تقاضاہے کہ ابھی یہ محاذ نہ کھولا جائے۔ اسی طرح یہاں منافقین کے بارے میں کہا گیا کہ ابھی ان سے اعراض کیجیے۔

چنانچہ ان کی ریشہ دوانیوں سے کچھ عرصے تک چشم پوشی کی گئی اور پھر غزوئہ تبوک کے بعد رسول اللہﷺ نے ان پر گرفت شروع کی۔ پھر وہ وقت آ گیا کہ اب تک ان کی شرارتوں پر جو پردے پڑے رہے تھے وہ پردے اٹھا دیے گئے۔

وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ

’’اور آپ اللہ پر توکل کیجیے۔‘‘

وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۸۱﴾

’’اور اللہ کافی ہے بھروسے کے لیے۔‘‘

آپؐ ‘کو سہارے کے لیے اللہ کافی ہے۔ان کی ساری ریشہ دوانیاں‘ یہ مشورے‘ یہ سازشیں‘ سب پادر ہواہوجائیں گی‘ آپ فکر نہ کیجیے۔

82

منافقت کا علاج تدّبر قرآن ہے

ویڈیو

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا ﴿۸۲﴾

آیت 82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ

’’کیایہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟‘‘

یہ قرآن پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں‘ لیکن اس پر غور و فکر نہیں کرتے۔ نمازیں تو وہ پڑھتے تھے۔ اُس وقت جو بھی منافق تھا اسے نماز تو پڑھنی پڑتی تھی‘ ورنہ اس کو مسلمان نہ مانا جاتا۔ آج تو مسلمان مانے جانے کے لیے نماز ضروری نہیں ہے‘ اُس وقت ضروری تھی۔ بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی تو پہلی صف میں ہوتا تھا اور جمعہ کے روز تو خاص طور پر خطبے سے پہلے کھڑے ہو کر اعلان کرتا تھا کہ لوگو ان کی بات توجہ سے سنو‘ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ گویا اپنی چودھراہٹ کے اظہار کے لیے یہ انداز اختیار کرتا۔ تو وہ نمازیں پڑھتے تھے‘ قرآن سنتے تھے‘ لیکن قرآن پر تدبر نہیں کرتے تھے۔ قرآن ان کے سروں کے اوپر سے گزر رہا تھا یا ان کے ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل جاتا تھا۔

وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا ﴿۸۲﴾

’’اور اگر یہ اللہ کے سوائے کسی اور کے پاس سے آیا ہوتا تو اس میں وہ بہت سے تضادات پاتے۔‘‘

اس پر غور کرو‘ یہ بہت مربوط کلام ہے۔ اس کا پورا فلسفہ منطقی طو رپر بہت مربوط ہے‘ اس کے اندر کہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔

83-84

بغیر تحقیق کے خبر آگے نہ بڑھاؤ

ویڈیو

وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۳﴾ فَقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَکَ وَ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّکُفَّ بَاۡسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّ اَشَدُّ تَنۡکِیۡلًا ﴿۸۴﴾

آیت 83

وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ

’’اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے امن کی یا خطرے کی تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔‘‘

منافقین کی ایک روش یہ بھی تھی کہ جوں ہی کوئی اطمینان بخش یا خطرناک خبر سن پاتے اُسے لے کر پھیلا دیتے۔ کہیں سے خبر آ گئی کہ فلاں قبیلہ چڑھائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے‘ اس کی طرف سے حملے کا اندیشہ ہے تو وہ فوراً اسے عام کر دیتے‘ تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو جائے۔ ’’اِذَاعَۃ‘‘ کا لفظ آج کل نشریاتی (broadcasting) اداروں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ’’مِذْیَاع‘‘ ریڈیو سیٹ کو کہا جاتا ہے۔

وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ

’’اور اگر وہ اس کو رسولؐ اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے‘‘

لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ

’’تو یہ بات ان میں سے ان لوگوں کے علم میں آ جاتی جو بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں۔‘‘

اگر یہ لوگ ایسی خبروں کو رسول اللہﷺ تک یا ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ ان کی درست انداز میں تحقیق کر کے بہتر فیصلہ کرتے۔ لیکن ان کی روش یہ تھی کہ محض سنسنی پھیلانے اور سراسیمگی پیدا کرنے کے لیے ایسی خبریں لوگوں میں عام کر دیتے۔

وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ

’’اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شاملِ حال نہ ہوتی‘‘

لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۳﴾

’’تو تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے‘ سوائے چند ایک کے۔‘‘

آیت 84

فَقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ

’’پس (اے نبیﷺ!) آپ جنگ کریں اللہ کی راہ میں!‘‘

قتال کے ضمن میں یہ قرآن مجید کی غالباً سخت ترین آیت ہے‘ لیکن اس میں سختی لفظی نہیں‘ معنوی ہے۔

لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَکَ

’’آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے اپنی ذات کے‘‘

وَ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ

’’البتہ اہل ایمان کو آپ اس کے لیے اُکسائیں۔‘‘

آپؐ اہلِ ایمان کو قتال فی سبیل اللہ کے لیے جس قدر ترغیب و تشویق دے سکتے ہیں‘ دیجیے۔ انہیں اس کے لیے جوش دلایئے ‘ اُبھاریے۔ لیکن اگر کوئی اور نہیں نکلتا تو اکیلے نکلئے۔ جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قول بھی نقل ہوا ہے ‘جب ان سے کہا گیا کہ مانعین زکوٰۃ کے بارے میں نرمی کیجیے تو آپؓ نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہیں دے گا تو میں اکیلا جاؤں گا۔ عزیمت کا یہ عالم ہے! تو اے نبیﷺ! آپ کو تو یہ کام کرنا ہے‘ آپ کا تو یہ فرضِ منصبی ہے۔ آپ کو ہم نے بھیجا ہی اس لیے ہے کہ روئے ارضی پر اللہ کے دین کو غالب کر دیں۔

عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّکُفَّ بَاۡسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ

’’بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی ان کافروں کی قوت کو روک دے۔‘‘

کفارو مشرکین کی جو جنگی تیاریاں ہو رہی ہیں‘ بڑی چلت پھرت ہو رہی ہے‘ یہ تو کچھ عرصے کی بات ہے۔ وہ وقت بس اب آیا ہی چاہتا ہے کہ آپ کے مقابلے کے لیے ان میں دم نہیں رہے گا اور وہ وقت جلد ہی آ گیا کہ مشرکین کی کمر ٹوٹ گئی۔ سورۃ النساء کی یہ آیت ۴ہجری میں نازل ہوئی اور ۵ہجری میں غزوئہ احزاب پیش آیا‘ جس کے بعد جناب محمدرسول اللہﷺ نے دو ٹوک انداز میں اہل ایمان سے فرمادیا: حدیث((لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰــکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ))۱ ’’اس سال کے بعد قریش تم پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہیں کریں گے‘ بلکہ اب تم ان پر حملہ آور ہو گے‘‘۔غزوۂ احزاب کے فوراً بعد سورۃ الصف نازل ہوئی‘ جس میں اہلِ ایمان کو فتح و نصرت کی بشارت دی گئی: {وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾} اس سے اگلے سال ۶ ہجری میں آپﷺ نے عمرے کا سفر کیا‘جس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ ہو گئی‘ جسے اللہ تعالیٰ نے فتح مبین قرار دیا {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا} (الفتح) اس کے بعد ساتویں سال میں اللہ تعالیٰ نے فتح خیبر عطا فرما دی اور آٹھویں سال میں مکہ فتح ہو گیا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک‘ سارے بند دروازے کھلتے چلے گئے۔

وَ اللّٰہُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّ اَشَدُّ تَنۡکِیۡلًا ﴿۸۴﴾

’’اور اللہ تعالیٰ بہت شدید ہے قوت میں بھی اور سزا دینے میں بھی۔‘‘

منافقین سے خطاب کے بعد اب پھر کچھ تمدنی آداب کا ذکر ہو رہا ہے ۔ منافقین سے خطاب میں دو باتوں کو نمایاں کیا گیا ۔ ایک اطاعتِ رسولؐ جو ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور ایک قتال فی سبیل اللہ جو ان کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتا تھا۔اب پھر اہلِ ایمان سے خطاب آ رہا ہے ۔

(۱) تفسیر ابن کثیر ۶؍۳۹۶۔ بروایت محمد بن اسحاق

85-87

اچھی دعوت صدقہ جاریہ اور بری دعوت گناہِ جاریہ ہے

ویڈیو

مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا ﴿۸۵﴾ وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾ اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾

آیت 85

مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ

’’جو کوئی سفارش کرے گا بھلائی کی اُسے اس میں سے حصہ ملے گا۔‘‘

انسانی معاشرے کے اندر کسی کے لیے سفارش کرنا بھی بعض اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔ آپ کے آس پاس کوئی شخص ہے‘ اس کی کوئی احتیاج ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ صحیح آدمی ہے‘ بہروپیا نہیں ہے۔ دوسرے شخص کو آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کی مدد کر سکتا ہے تو آپ کو دوسرے شخص کے پاس جا کر اس کے حق میں سفارش کرنی چاہیے کہ میں اس کو جانتا ہوں‘ یہ واقعتا ضرورت مند ہے۔ اس طرح اُس کی ضرورت پوری ہو جائے گی اور اس نیکی کے ثواب میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ اسی طرح کسی پر کوئی مقدمہ قائم ہو گیا ہے اور آپ کے علم میں اس کی بے گناہی کے بارے میں حقائق اور شواہد ہیں تو آپ کو عدالت میں پیش ہو کر یہ حقائق او ر شواہد پیش کرنے چاہئیں‘ تاکہ اس کی گلوخلاصی ہو سکے۔ اس آیت کی رو سے نیکی‘ بھلائی‘ خیر اور عدل و انصاف کی خاطر اگر کسی کی سفارش کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجرو ثواب عطا فرمائے گا۔

وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ

’’اور جو کوئی سفارش کرے گا برائی کی تو اسے اس میں سے حصہ ملے گا۔‘‘

کسی نے کسی کی جھوٹی اور غلط سفارش کی ‘ حقائق کو توڑا مروڑا تو وہ بھی اس کے جرم میں شریک ہو گیا اور وہ اس جرم کی سزا میں بھی حصہ دار ہو گا۔

وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا ﴿۸۵﴾

’’اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قوت رکھنے والا ہے۔‘‘

آیت 86

وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ

’’اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو۔‘‘

ہر معاشرے میں کچھ ایسے دعائیہ کلمات رائج ہوتے ہیں جو معاشرے کے افراد باہمی ملاقات کے وقت ایک دوسرے کے لیے بولتے ہیں۔ جیسے مغربی معاشرے میں گڈ مارننگ اور گڈایوننگ وغیرہ۔ عربوں کے ہاں صباح الخیر اور مساء‘الخیر کے علاوہ سب سے زیادہ رواج ’’حَیَّاکَ اللّٰہ‘‘ کہنے کا تھا۔ یعنی اللہ تمہاری زندگی بڑھائے۔ جیسے ہمارے ہاں سرائیکی علاقے میں کہا جاتا ہے ’’حیاتی ہووے‘‘ ۔ درازیٔ عمر کی اس دعا کو تَحِیَّہ کہا جاتا ہے۔سلام اوراس کے ہم معنی دوسرے دعائیہ کلمات بھی سب اس کے اندر شامل ہو جاتے ہیں۔ عرب میں جب اسلامی معاشرہ وجود میں آیا تو دیگر دعائیہ کلمات بھی باقی رہے ‘البتہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ کو ایک خاص اسلامی شعار کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس آیت میں ہدایت کی جا رہی ہے کہ جب تمہیں کوئی سلامتی کی دعا دے تو اس کے جواب کا اعلیٰ طریقہ یہ ہے کہ اس سے بہتر طریقے پر جواب دو۔ ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ‘‘ کے جواب میں ’’وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ‘‘ کے ساتھ ’’وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاُتہٗ‘‘ کا اضافہ کر کے اسے لوٹائو۔ اگر یہ نہیں تو کم از کم اسی کے الفاظ اس کی طرف لوٹا دو۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے۔‘‘

یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جو ہیں انسانی زندگی میں ان کی بھی اہمیت ہے۔ ان معاشرتی آداب سے معاشرتی زندگی کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے‘ آپس میں محبت و مودت پیدا ہوتی ہے۔

آیت 87

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ

’’اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ

’’وہ تمہیں لازماً جمع کرے گا قیامت کے دن‘ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘

وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾

’’اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہو گا؟‘‘

منافقین پر جو تین چیزیں بہت شاق تھیں‘ اب ان میں سے تیسری چیز کا تذکرہ آ رہا ہے ‘ یعنی ہجرت۔ ایک تو وہ لو گ تھے جو بیمارتھے‘ بوڑھے تھے‘ سفر کے قابل نہیں تھے‘ یا عورتیں اور بچے تھے‘ان کا معاملہ تو پہلے ذکر ہو چکا کہ ان کے لیے تمہیں قتال کرنا چاہیے تاکہ انہیں ظالموں کے چنگل سے چھڑاؤ۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان تو کر چکے تھے لیکن اپنے کافر قبیلوں اور اپنی بستیوں کے اندر آرام سے رہ رہے تھے اور ہجرت نہیں کر رہے تھے‘ جبکہ ہجرت اب تمام مسلمانوں پر فرض کر دی گئی تھی۔ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ یہ ہجرت فرض کیوں کی گئی تھی؟ اس لیے کہ جب حضرت محمد رسول اللہﷺ کی دعوت اور تحریک اس مرحلے میں داخل ہو گئی کہ اب باطل کے خلاف اقدام کرنا ہے‘ تو اب اہل ایمان کی جتنی بھی دستیاب طاقت تھی اسے ایک مرکز پر مجتمع کرنا ضروری تھا‘ تاکہ پوری قوت کے ساتھ ایک جگہ سے فیصلہ کن اقدام کیا جا سکے۔ مکی دور میں جو پہلی ہجرت ہوئی تھی یعنی ہجرت حبشہ‘ وہ اختیاری تھی۔ اس کی صرف اجازت تھی‘ حکم نہیں تھا ۔لیکن ہجرتِ مدینہ کا تو حکم تھا۔ لہٰذا اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو ہجرت نہ کرنے کی بنا پر منافق قرار پائے۔

88-91

منافقین کا ہجرت سے گریز

ویڈیو

فَمَا لَکُمۡ فِی الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ وَ اللّٰہُ اَرۡکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۸۸﴾ وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ ۪ وَ لَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ اَوۡ جَآءُوۡکُمۡ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ اَوۡ یُقَاتِلُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَسَلَّطَہُمۡ عَلَیۡکُمۡ فَلَقٰتَلُوۡکُمۡ ۚ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡکُمۡ فَلَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ وَ اَلۡقَوۡا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ﴿۹۰﴾ سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّاۡمَنُوۡکُمۡ وَ یَاۡمَنُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ کُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَی الۡفِتۡنَۃِ اُرۡکِسُوۡا فِیۡہَا ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ وَ یُلۡقُوۡۤا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکُمۡ جَعَلۡنَا لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۹۱﴾

آیت 88

فَمَا لَکُمۡ فِی الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ

’’پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو؟‘‘

یہ بات آگے واضح ہو جائے گی کہ یہ کن منافقین کا تذکرہ ہے‘ جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان دوآ راء پائی جاتی تھیں۔ اہل ایمان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے‘ آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا‘ اب ہجرت نہیں کر سکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چنانچہ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو!تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہو؟

وَ اللّٰہُ اَرۡکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ

’’اور اللہ نے تو ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب الٹ دیاہے۔‘‘

ان کا ہجرت نہ کرنا درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الٹے پھیر دیے گئے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان سلب ہو چکا ہے۔ ہاں کوئی مجبوری ہوتی‘ عذر ہوتا تو اور بات تھی۔

اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ

’’کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو ہدایت دے دو جن کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہے؟‘‘

جن کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہو چکی ہے۔

وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۸۸﴾

’’اور جس کو اللہ راستے سے ہٹا دے اُس کے لیے تم کوئی راستہ نہ پاؤ گے۔‘‘

جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے آخری مہر تصدیق ثبت ہو چکی ہو اس کے لیے پھر کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟

آیت 89

وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً

’’یہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح انہوں نے کفر کیا ہے تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ‘‘ یہ لوگ جو ان کے بارے میں نرمی کی باتیں کر رہے ہیں‘ یہ چاہتے ہیں کہ جیسے انہوں نے کفر کیا ہے تم بھی کرو‘ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہو جائیں۔ دُم کٹی بلی چاہتی ہے کہ سب بلیوں کی دُمیں کٹ جائیں۔

فَلَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ

’’تو اب ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اللہ کی راہ میں۔‘‘

تو ہجرت گویا اب ان کے ایمان کا لٹمس (litmus) ٹیسٹ ہے۔ اگر وہ ہجرت نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ مؤمن نہیں ‘منافق ہیں۔

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ ۪

’’اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں (ہجرت نہ کریں) تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔‘‘

یعنی اگر وہ ہجرت نہیں کرتے جو ان پر فرض کر دی گئی ہے تو پھر وہ کافروں کے حکم میں ہیں‘ چاہے وہ کلمہ پڑھتے ہوں۔ تم انہیں جہاں بھی پاؤ پکڑو اور قتل کرو۔

وَ لَا تَتَّخِذُوۡا مِنۡہُمۡ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿ۙ۸۹﴾

’’اور ان میں سے کسی کو بھی اپنا ساتھی اور مددگار مت بناؤ۔‘‘

آیت 90

اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ

’’سوائے ان کے جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے‘‘

یعنی اس حکم سے صرف وہ منافقین مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسے قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں جس کے ساتھ تمہارا صلح کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے انہیں بھی تحفظ حاصل ہوجائے گا۔

اَوۡ جَآءُوۡکُمۡ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُہُمۡ

’’یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ دل برداشتہ ہوں‘‘

اَنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ اَوۡ یُقَاتِلُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ

’’اس بات سے کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں۔‘‘

یعنی ان میں اتنی جرأت نہیں رہی کہ وہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم کے خلاف لڑیں یا اپنی قوم کے ساتھ ہوکر تمہارے خلاف لڑیں۔ انسانی معاشرے میں ہر سطح کے لوگ ہر دور میں رہے ہیں اور ہر دور میں رہیں گے۔ لہٰذا واضح کیا جا رہا ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران ہر طرح کے حالات آئیں گے اور ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑے گا۔چنانچہ اس طرح کے کم ہمت لوگ جو کہتے تھے کہ بھئی ہمارے لیے لڑنا بھڑنامشکل ہے‘ نہ تو ہم اپنی قوم کے ساتھ ہو کر مسلمانوں سے لڑیں گے اور نہ مسلمانوں کے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں گے‘ ان کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان کی بھی جان بخشی کرو۔ چنانچہ ہجرت نہ کرنے والے منافقین کے بارے میں جو یہ حکم دیا گیا کہ {فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّـمُوْہُمْ} ’’پس ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ‘‘ اس سے دو استثناء بیان کر دیے گئے۔

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَسَلَّطَہُمۡ عَلَیۡکُمۡ فَلَقٰتَلُوۡکُمۡ ۚ

’’اور اگر اللہ چاہتاتو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ تم سے لڑتے۔‘‘

یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ اللہ انہیں تمہارے خلاف ہمت عطا کر دیتا اور وہ تمہارے خلاف قتال کرتے۔

فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡکُمۡ فَلَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ

’’پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کش رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں‘‘

وَ اَلۡقَوۡا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ ۙ

’’اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں‘‘

فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ﴿۹۰﴾

’’تو اللہ نے تمہیں بھی ایسے لوگوں کے خلاف اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی۔‘‘

تو اس بات کو سمجھ لیجیے کہ جو منافق ہجرت نہیں کر رہے‘ ان کے لیے عام قاعدہ یہ ہے کہ اب ان کے خلاف اقدام ہو گا‘ انہیں جہاں بھی پاؤ پکڑو اور قتل کردو‘ وہ حربی کافروں کے حکم میں ہیں۔ اِلاّ یہ کہ (ا) ان کے قبیلے سے تمہارا صلح کا معاہدہ ہے تو وہ ان کو تحفظ فراہم کر جائے گا۔ (ب) وہ آ کر اگر یہ کہہ دیں کہ ہم بالکل غیر جانبدار ہوجاتے ہیں‘ ہم میں جنگ کی ہمت نہیں ہے‘ہم نہ آپ کے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی آپ کے خلاف اپنی قوم کی مدد کریں گے‘ تب بھی انہیں چھوڑ دو۔ اس کے بعد اب منافقین کے ایک تیسرے گروہ کی نشان دہی کی جا رہی ہے ۔

آیت 91

سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّاۡمَنُوۡکُمۡ وَ یَاۡمَنُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ

’’تم پائو گے ایک اور قسم کے لوگوں کو بھی جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔‘‘

کُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَی الۡفِتۡنَۃِ اُرۡکِسُوۡا فِیۡہَا ۚ

’’لیکن جب بھی فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں تو اس کے اندر اوندھے ہو جاتے ہیں۔‘‘

جب بھی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اس میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ اپنی قوم کا پلڑا بھاری ہے تو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ اب تو ہماری فتح ہونے والی ہے اور ہمیں مالِ غنیمت میں سے حصہ مل جائے گا۔

فَاِنۡ لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ وَ یُلۡقُوۡۤا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ

’’پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں‘ تمہارے سامنے صلح و سلامتی پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں‘‘

فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ ؕ

’’تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔‘‘

وَ اُولٰٓئِکُمۡ جَعَلۡنَا لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۹۱﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہیں سند (اور قوت) عطا کر دی ہے۔‘‘

ایسے لوگوں کے معاملے میں ہم نے تمہیں کھلا اختیار دے دیا ہے کہ تم ان کے خلاف اقدام کر سکتے ہو۔

یوٹیوب پر دیکھیے