اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ قِیۡلَ لَہُمۡ کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ۚ
’’تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟‘‘
مکہ مکرمہ میں بارہ برس تک مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اپنے ہاتھ بندھے رکھو۔ اس دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے‘ انہیں بہت بری طرح ستایا جا رہا تھا‘ تشدد و تعذیب کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی تھی۔ اس پر مسلمانوں کا خون کھولتا تھا اور بہت سے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ انہیں اجازت دی جائے تو وہ اپنے بھائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا بدلہ لیں‘ کہ آخر وہ بے غیرت اوربزدل تو نہیں ہیں۔لیکن اُس وقت انہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ منہج انقلابِ نبویؐ کا ’’صبر محض‘‘ کا مرحلہ تھا ۔اُس وقت ان کے لیے حکم یہ تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو۔ ؎
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی!
ایک وقت آئے گا کہ تمہارے ہاتھ کھول دیے جائیں گے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ} میں ’’قِیْلَ‘‘ فعل مجہول ہے۔ یہ کہا کس نے تھا؟ مکی قرآن میں تو ’’کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ‘‘ کا حکم موجود نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ حکم تھا جناب محمد رسول اللہﷺ کا۔ حضورﷺ نے اہل ایمان کو ہاتھ اٹھانے سے روکاتھااور اس کے بارے میں بتایا جارہا ہے سورۃ النساء کی اس آیت میں جو مدنی ہے۔ گویا رسول اللہﷺ کے حکم کو یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم قرار دیاہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وحی جلی (قرآن) کے علاوہ نبی اکرمﷺ پر وحی خفی بھی نازل ہوتی تھی۔ تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دورمیں وحی خفی کے ذریعے رسول اللہﷺ کو یہ حکم دیا ہو جو یہاں نقل ہوا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ حضورﷺ کا اپنا اجتہاد ہو جسے اللہ تعالیٰ نے برقرار رکھا ہو‘اور قبول (own) کیا ہو۔
اب یہ بات یہاں محذوف ہے کہ اُس وقت تو کچھ لوگ بڑے جوش و جذبہ سے اور بڑے زور شور سے کہتے تھے کہ ہمیں اجازت ہونی چاہیے کہ ہم جنگ کریں‘ لیکن اب کیا حال ہوا:
فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَخۡشَوۡنَ النَّاسَ کَخَشۡیَۃِ اللّٰہِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡیَۃً ۚ
’’توجب ان پر جنگ فرض کر دی گئی تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جیسے اللہ سے ڈرناچاہیے‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈر رہے ہیں۔‘‘
ظاہر بات ہے کہ یہ مکہ کے مہاجرین نہیں تھے‘ بلکہ یہ حال منافقین مدینہ کا تھا‘ لیکن فرق و تفاوت واضح کرنے کے لیے مکی دور کی کیفیت سے تقابل کیا گیا کہ اصل ایمان تو وہ تھا‘ اور یہ جو صورت حال ہے یہ کمزوریٔ ایمان اور نفاق کی علامت ہے۔
وَ قَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ کَتَبۡتَ عَلَیۡنَا الۡقِتَالَ ۚ
’’اور وہ کہتے ہیں پروردگار! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کر دی؟‘‘
لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ؕ
’’کیوں نہ ابھی ہمیں کچھ اور مہلت دی؟‘‘
اس حکم کو کچھ دیر کے لیے مزید مؤخر کیوں نہ کیا؟
قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیۡلٌ ۚ
’’(اے نبی!) کہہ دیجیے دنیا کا ساز و سامان بہت تھوڑا ہے۔‘‘
وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی ۟
’’اور آخرت بہت بہتر ہے اُس کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیارکرے۔‘‘
وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۷﴾
’’اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔‘‘
تمہاری حق تلفی قطعاً نہیں ہوگی اور تمہارے جو بھی اعمال ہیں‘ انفاق ہے‘قتال ہے‘ اللہ کی راہ میں ایثار ہے‘ اس کا تمہیں بھرپور اجرو ثواب دے دیا جائے گا۔