تحریر

النساء

آیات ۵۸ تا ۷۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

58-59

اسلام کے سیاسی اصول

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۵۸﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾

تمہید

یہ دو آیات (۵۸‘۵۹) قرآن مجید کی نہایت اہم آیات ہیں‘ ان میں اسلام کا سارا سیاسی‘ قانونی اور دستوری نظام موجود ہے۔ فرمایا:

آیت 58

اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ

’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو‘‘

وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ

’’اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘

پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ جو بھی سیاسی نظام بناتے ہیں اس میں مناصب ہوتے ہیں‘ جن کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور اختیارات بھی ۔ لہٰذا ان مناصب کے انتخاب میں آپ کی رائے کی حیثیت امانت کی ہے۔ آپ اپنی رائے دیکھ بھال کر دیں کہ کون اس کا اہل ہے۔ اگر آپ نے ذات برادری‘ رشتہ داری وغیرہ کی بنا پر یا مفادات کے لالچ میں یا کسی کی دھونس کی وجہ سے کسی کے حق میں رائے دی تو یہ صریح خیانت ہے۔ حقِ رائے دہی ایک امانت ہے اور اس امانت کا استعمال صحیح صحیح ہونا چاہیے۔ عام معنی میں بھی امانت کی حفاظت ضروری ہے اور جو بھی امانت کسی نے رکھوائی ہے اسے واپس لوٹانا آپ کی شرعی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہاں یہ بات اجتماعی زندگی کے اہم اصولوں کی حیثیت سے آ رہی ہے۔دوسری بات یہ کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ گویا پہلی ہدایت سیاسی نظام سے متعلق ہے کہ امیر المؤمنین یا سربراہِ ریاست کا انتخاب اہلیت کی بنیاد پر ہو گا‘ جبکہ دوسری ہدایت عدلیہ (Judiciary) کے استحکام کے بارے میں ہے کہ وہاں بلاامتیاز ہر ایک کو عدل و انصاف میسرآئے۔

اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ

’’یقینا یہ بہت ہی اچھی نصیحتیں ہیں جو اللہ تمہیں کر رہاہے ۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۵۸﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا دیکھنے والاہے۔‘‘

اگلی آیت میں تیسری ہدایت مقننہ (Legislature) کے بارے میں آ رہی ہے کہ اسلامی ریاست کی دستوری بنیاد کیا ہو گی۔ جدید ریاست کے تین ستون انتظامیہ (Executive) ‘ عدلیہ (Judiciary) اور مقننہ (Legislature) گنے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو کا ذکر گزشتہ آیت میں آیا ہے۔ اب اگلی آیت میں مقننہ کا ذکر ہے کہ اسلامی ریاست میں قانون سازی کے اصول کیا ہوں گے ۔ فرمایا:

آیت 59

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ

’’اے اہل ایمان! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی‘‘

یعنی کوئی قانون اللہ اور اس کے رسول ﷺکی منشا کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ اصولی طو رپر یہ بات پاکستان کے دستور میں بھی تسلیم کی گئی ہے:

"No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah."

یعنی کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے منافی نہیں کی جائے گی۔لیکن اس کی تنفیذ و تعمیل کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے‘ لہٰذا اس وقت ہمارا دستور منافقت کا پلندہ ہے۔ اس آیت کی رو سے اللہ کے احکام اور اللہ کے رسولﷺ کے احکام قانون سازی کے دو مستقل ذرائع (sources) ہیں۔ اس طرح یہاں منکرینِ سنت کی نفی ہوتی ہے جو مؤخر الذکر کا انکار کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی فرمایا:

وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ

’’اور اپنے میں سے اولوالامر کی بھی (اطاعت کرو)۔‘‘

اس آیت کا اسلوب خصوصی طور پر لائق توجہ ہے۔ یہاں تین ہستیوں یعنی اللہ‘ رسولﷺ اور اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ‘لیکن پہلے دوکے لیے ’’اَطِیْعُوْا‘‘ کا لفظ آیا ہے‘ جبکہ تیسرے کے لیے نہیں ہے۔ ایک اسلوب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ’’اَطِیْعُوْا‘‘ ایک مرتبہ آ جاتا اور اس کا اطلاق تینوں پر ہو جاتا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ۔ اس طرح تینوں برابر ہو جاتے۔ دوسرا اسلوب یہ ہو سکتا تھا کہ ’’اَطِیْعُوا‘‘ تیسری مرتبہ بھی آ تا: ’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ‘‘ ۔لیکن قرآن نے جو اسلوب اختیار کیا ہے کہ ’’اَطِیْعُوا‘‘ دو کے ساتھ ہے‘ تیسرے کے ساتھ نہیں ہے‘ اس سے اولوالامر کی اطاعت کا مرتبہ (status) متعین ہو جاتا ہے۔ ایک تو ’’مِنْکُمْ‘‘ کی شرط سے واضح ہو گیا کہ اولوالامرتم ہی میں سے ہونے چاہئیں‘ یعنی مسلمان ہوں۔ غیر مسلم کی حکومت کو ذہناً تسلیم کرنا اللہ سے بغاوت ہے۔ پھر متذکرہ بالا اسلوب سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اولوالامر کی اطاعت مطلق ‘ دائم اور غیر مشروط نہیں۔ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت مطلق‘ دائم‘ غیر مشروط اور غیر محدود ہے‘ لیکن صاحبِ امر کی اطاعت اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کے تابع ہو گی۔ وہ جو حکم بھی لائے اسے بتانا ہو گا کہ میں کتاب و سنت سے کیسے اس کا استنباط کر رہا ہوں۔ گویا اسے کم از کم یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ حکم کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہے۔ ایک مسلمان ریاست میں قانون سازی اسی بنیاد پر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اسلامی ریاست میں قانون ساز ادارہ کوئی بھی ہو‘ کانگریس ہو‘ پارلیمنٹ ہو یا مجلس ملی ہو‘ وہ قانون سازی اس شرط کے ساتھ کرے گی کہ اس کا بنایا ہوا کوئی قانون قرآن وسنت سے متصادم نہ ہو۔

فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ

’’پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلافِ رائے ہو جائے‘‘

ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ اولوالامرکہے کہ میں تو اسے اسلام کے عین مطابق سمجھتا ہوں‘ لیکن دوسرے لوگ کہیں کہ نہیں‘ یہ بات خلافِ اسلام ہے ‘تو اب کہاں جائیں؟ فرمایا:

فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ

’’تو اسے لوٹا دو اللہ اور رسول کی طرف‘‘

یعنی ہر ایک کو اپنا موقف درست ثابت کرنے کے لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ سے یعنی قرآن و سنت سے دلیل لانی پڑے گی۔ میری پسند‘ میرا خیال‘ میرا نظریہ والااستدلال قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ استدلال کی بنیاد اللہ اور اُس کے رسول ﷺکی مرضی ہو گی۔ البتہ اس حکم میں ایک خلاء چھوڑا گیا ہے جو ہر زمانے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پرہو گا ۔ وہ خلا یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فریقین میں سے کس کی رائے صحیح ہے۔ بہرحال آج کے ریاستی نظام میں یہ خلا ایک آزاد عدلیہ پر کرتی ہے۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں جب عرب میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو اس طرح علیحدہ علیحدہ ریاستی ادارے ابھی واضح طور پر وجود میں نہیں آئے تھے اور ان کی الگ الگ شناخت نہیں تھی کہ یہ مقننہ (Legislature) ہے‘ یہ عدلیہ (Judiciary) ہے اور یہ انتظامیہ (Executive) ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تو کوئی قاضی تھے ہی نہیں۔ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شعبہ قضا ء شروع کیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ ریاستی ادارے پروان چڑھے۔ جدید دور میں ان تنازعات کے حل کا ادارہ عدلیہ ہے۔ وہاں ہر شخص جائے اور اپنی دلیل پیش کرے۔ علماء جائیں‘ قانون دان جائیں اور سب جاکر دلائل دیں۔ وہاں سے فیصلہ ہو جائے گا کہ کو ن سی بات واقعتا قرآن و سنت سے متصادم ہے۔

اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ

’’اگر تم واقعتا اللہ پر اور یومِ آخر پر ایمان رکھتے‘ہو۔‘‘

ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿٪۵۹﴾

’’یہی طریقہ بہتر بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے بھی بہت مفیدہے۔‘‘

آگے پھر منافقین کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ میں نے آغاز میں عرض کیا تھا کہ اس سورۂ مبارکہ کا سب سے بڑا حصہ منافقین سے خطاب اور ان کے تذکرے پر مشتمل ہے۔

60-63

اطاعتِ رسول ﷺ کی اہمیت

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزۡعُمُوۡنَ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ وَ قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۶۰﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ رَاَیۡتَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡکَ صُدُوۡدًا ﴿ۚ۶۱﴾ فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّ تَوۡفِیۡقًا ﴿۶۲﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُ اللّٰہُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ٭ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ عِظۡہُمۡ وَ قُلۡ لَّہُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَوۡلًۢا بَلِیۡغًا ﴿۶۳﴾

آیت 60

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزۡعُمُوۡنَ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ

’’کیا تم نے غور نہیں کیا اُن لوگوں کی طرف جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اُس پر بھی جو (اے نبیﷺ!) آپ پر نازل کیا گیا اور اُس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا‘‘

لیکن ان کا طرزِ عمل یہ ہے کہ :

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ

’’وہ چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات کے فیصلے طاغوت سے کروائیں‘‘

یہاں ’’طاغوت‘‘ سے مراد وہ حاکم یا وہ ادارہ ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا۔ پچھلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ گویا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت پر کاربند ہو گیا وہ طاغوت سے خارج ہو گیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ؐکی اطاعت کو قبول نہیں کرتا وہ طاغوت ہے‘ اس لیے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کر گیا۔ چنانچہ غیر مسلم حاکم یا منصف جو اللہ اور اس کے رسول ؐکے احکام کا پابند نہیں وہ طاغوت ہے۔

وَ قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ

’’حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا کفرکریں۔‘‘

منافقینِ مدینہ کی عام روش یہ تھی جس مقدمہ میں انہیں اندیشہ ہوتا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہو گا اسے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لانے کے بجائے یہودی عالموں کے پاس لے جاتے۔ وہ جانتے تھے کہ حضورﷺ کے پاس جائیں گے تو حق اور انصاف کی بات ہو گی۔ ایک یہودی اور ایک مسلمان جو منافق تھا‘ ان کا آپس میں جھگڑ ا ہو گیا ۔ یہودی کہنے لگاکہ چلو محمد(ﷺ) کے پاس چلتے ہیں ۔اس لیے کہ اسے یقین تھا کہ میں حق پر ہوں ۔ لیکن یہ منافق کہنے لگا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں جو ایک یہودی عالم تھا۔ بہرحال وہ یہودی اس منافق کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آیا۔ آپؐ نے دونوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا۔ وہاں سے باہر نکلے تو منافق نے کہا کہ چلو اب حضرت عمرؓکے پاس چلتے ہیں ‘ وہ جو فیصلہ کر دیں وہ مجھے منظور ہو گا۔ چنانچہ وہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ منافق کو یہ امید تھی کہ حضرت عمرؓ میرا زیادہ لحاظ کریں گے ‘کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ لیکن جب یہودی نے یہ بتایا کہ اس مقدمے کا فیصلہ رسول اللہﷺ میرے حق میں کر چکے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ تلوار لی اور اس منافق کی گردن اڑا دی کہ جو محمد رٌسول اللہﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہے اور اس کے بعد مجھ سے فیصلہ کروانا چاہتا ہے اس کے حق میں میرا یہ فیصلہ ہے! اس پر اس منافق کے خاندان والوں نے بڑا واویلا مچایا۔ وہ چیختے چلاتے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمرؓ پر قتل کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول حضرت عمرؓ کے پاس یہودی کو لے کر اس وجہ سے گیا تھا کہ وہ اس معاملہ میں باہم مصالحت کرا دیں‘ اس کے پیش نظر رسول اللہﷺ کے فیصلے سے انکار نہیں تھا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میںاصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی۔

وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۶۰﴾

’’اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے۔‘‘

آیت 61

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ

’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور آؤ رسول کی طرف‘‘

اپنے مقدمات کے فیصلے اللہ کے رسولﷺ سے کراؤ۔

رَاَیۡتَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡکَ صُدُوۡدًا ﴿ۚ۶۱﴾

’’تو(اے نبیﷺ!) آپ دیکھتے ہیں کہ یہ منافق آپ کے پاس آنے سے کنی کتراتے ہیں۔‘‘

صَدَّ یَصُدُّ رُکنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور روکنے کے معنی میں بھی۔

آیت 62

فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ

’’پھر اُس وقت کیا ہوا جب ان پر کوئی مصیبت آ گئی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے‘‘

ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ

’’پھر وہ آپ کے پاس آئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے‘‘

وہ چیختے چلاتے آئے کہ عمر نے ہمارا آدمی مار ڈالا ہے‘ ہمیں اس کا قصاص دلایا جائے۔

اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّ تَوۡفِیۡقًا ﴿۶۲﴾

’’کہ ہم تو صرف بھلائی اور موافقت چاہتے تھے۔‘‘

ہم تو عمرؓ کے پاس محض اس لیے گئے تھے کہ کوئی مصالحت اور راضی نامہ ہو جائے۔

آیت 63

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُ اللّٰہُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ٭

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے۔‘‘

فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان سے چشم پوشی کیجیے‘‘

وَ عِظۡہُمۡ

’’اور ان کو ذرا نصیحت کیجیے‘‘

وَ قُلۡ لَّہُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَوۡلًۢا بَلِیۡغًا ﴿۶۳﴾

’’اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہیے جو ان کے دلوں میں اُتر جائے۔‘‘

یہ آیات نازل ہونے کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوبری قرار دیا کہ اللہ کی طرف سے ان کی براء ت آ گئی ہے‘ اور اسی دن سے ان کا لقب ’’فاروق‘‘ قرار پایا‘ یعنی حق و باطل میں فرق کر دینے والا۔

اب ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سورۂ مبارکہ میں منافقت جو زیر بحث آئی ہے وہ تین عنوانات کے تحت ہے۔ منافقوں پر تین چیزیں بہت بھاری تھیں‘ جن میں سے اوّلین رسول اللہﷺ کی اطاعت تھی۔ دراصل نفسیاتی طور پر ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کی اطاعت کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ ہم جو رسول ؐ کی اطاعت کرتے ہیں تو رسول اللہﷺ ہمارے لیے ایک ادارے (institution) کی حیثیت رکھتے ہیں‘ رسولؐ ‘شخصاً ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں۔جبکہ ان منافقین کے سامنے رسول اللہﷺ شخصاً موجود تھے ۔وہ دیکھتے تھے کہ ان کے بھی دو ہاتھ ہیں ‘ دو پائوں ہیں‘ دو آنکھیں ہیں‘ لہٰذا بظاہر اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت ان پر بہت شاق تھی۔ جیسا کہ جماعتی زندگی میں بعض لوگوں پر امیر کی اطاعت بہت شاق گزرتی ہے۔ اس لیے کہ امیر کی رائے پر چلنے کے لیے اپنی رائے کو پیچھے ڈالنا پڑتا ہے۔ بہرحال جو صادق الایمان مسلمان تھے انہیں تو یہ یقین تھا کہ یہ محمد بن عبد اللہ جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں ‘حقیقت میں محمد رسول اللہﷺ ہیں اور ہم ان کی اسی حیثیت میں ان پر ایمان لائے ہیں۔لیکن جن لوگوں کے دلوں میں یہ یقین نہیں تھا یا کمزور تھا ان کے لیے حضورﷺ کی شخصی اطاعت بڑی بھاری اور بڑی کٹھن تھی۔ اسی لیے بعض مواقع پر منافقین حضورﷺ پر اعتراض کرتے کہ آپؐ جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنے پاس سے کہہ رہے ہیں۔کیوں نہیں کوئی سورت نازل ہو جاتی؟ کیوں نہیں کوئی آیت نازل ہو جاتی؟ اور سورۂ محمدؐ اسی انداز میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے جب حضورﷺ کے اقدام جہاد کے بارے میں کہا کہ محمدﷺ نے خو داپنی طرف سے اقدام کر دیا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورئہ محمد میں قتال کی آیات نازل کر دی گئیں۔دوسری چیز جو اُن پر کٹھن تھی وہ تھا قتال‘ یعنی اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنا۔ اس معاملے میں ان کا حال بقول غالب ؔیہ تھا کہ ؏

’’مرحلہ سخت ہے اور جان عزیز! ‘‘

تیسری کٹھن چیز ہجرت تھی۔ اس کا اطلاق منافقین مدینہ پر نہیں ہوتا تھا بلکہ مکہ اور ارد گرد کے جو منافق تھے ان پر ہوتا تھا۔ ان کا ذکر بھی آگے آئے گا۔ ظاہر ہے گھر بار اور خاندان والوں کو چھوڑ کر نکل جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اب اس پس منظر میں سب سے پہلے اطاعتِ رسولؐ ‘کی اہمیت بیان کی جا رہی ہے :

64-68

اطاعتِ رسول ﷺ کی اہمیت

ویڈیو

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾ فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵﴾ وَ لَوۡ اَنَّا کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَشَدَّ تَثۡبِیۡتًا ﴿ۙ۶۶﴾ وَّ اِذًا لَّاٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۶۷﴾ وَّ لَہَدَیۡنٰہُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿۶۸﴾

آیت 64

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس لیے کہ اُس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے۔‘‘

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ

’’اور اگر وہ‘ جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا‘ آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے‘‘

فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ

’’اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے‘‘

لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾

’’تو وہ یقینا اللہ کو بڑا توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والاپاتے۔‘‘

آیت 65

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ

’’پس نہیں‘ آپ کے رب کی قسم! یہ ہرگز مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ یہ آپ کو حَکم نہ مانیں اُن تمام معاملات میں جو ان کے مابین پیدا ہو جائیں‘‘

یعنی اس معاملے میں انہیں کوئی اختیار (choice) حاصل نہیں ہے۔ ان کے مابین جو بھی نزاعات اور اختلافات ہوں ان میں اگر یہ آپ کو حَکم نہیں مانتے تو آپ کے رب کی قسم یہ مؤمن نہیں ہیں۔ کلامِ الٰہی کا دوٹوک اور پرجلال انداز ملاحظہ کیجیے ۔

ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ

’’پھرجو کچھ آپ فیصلہ کر دیں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں‘‘

اگر آپؐ ‘کا فیصلہ قبول بھی کر لیا‘ لیکن دل کی تنگی اور کدورت کے ساتھ کیا تب بھی یہ مؤمن نہیں ہیں۔

وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵﴾

’’اور سرتسلیم خم کریں‘ جیسے کہ سرتسلیم خم کرنے کا حق ہے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ حکم صرف رسول اللہﷺ کی زندگی تک محدود نہیں تھا‘ بلکہ یہ قیامت تک کے لیے ہے۔

آیت 66

وَ لَوۡ اَنَّا کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ

’’اور اگر ہم نے ان پر یہ فرض کر دیا ہوتا کہ قتل کرو اپنے آپ کو‘‘

اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِیَارِکُمۡ

’’یا نکلو اپنے گھروں سے‘‘

مَّا فَعَلُوۡہُ اِلَّا قَلِیۡلٌ مِّنۡہُمۡ ؕ

’’تو یہ اس کی تعمیل نہ کرتے سوائے ان میں سے چند ایک کے۔‘‘

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ فَعَلُوۡا مَا یُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ

’’اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی ان کو نصیحت کی جا رہی‘ ہے‘‘

اس کا ترجمہ اس طرح بھی کیا گیا ہے: ’’اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی انہیں ہدایت کی جاتی‘‘ یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا اور اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہونا۔

لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَشَدَّ تَثۡبِیۡتًا ﴿ۙ۶۶﴾

’’تو یہی ان کے لیے بہتر ہوتا اور انہیں دین پر ثابت قدم رکھنے والا ہوتا۔‘‘

آیت 67

وَّ اِذًا لَّاٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۶۷﴾

’’اور اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے بہت بڑا اجر دیتے۔‘‘

آیت 68

وَّ لَہَدَیۡنٰہُمۡ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿۶۸﴾

’’اور انہیں ہدایت فرما دیتے سیدھی راہ کی‘طرف۔‘‘

اکثر مفسرین نے اس آیت کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ حکم دے کہ اپنے آپ کو قتل کرو‘ خود کشی کرو‘ تو ہمیں یہ کرنا ہو گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ حکم دے کہ اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو نکلنا ہو گا۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے اور اُس کی طرف سے دیا گیا ہر حکم ہمارے لیے واجب التعمیل ہے۔ البتہ یہاں {اَنِ اقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ} کے الفاظ میں ایک مزید اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے۔سورۃ البقرۃ (آیت ۵۴) میں ہم تاریخ بنی اسرائیل کے حوالے سے پڑھ آئے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی ان کو مرتد ہونے کی جو سزا دی گئی تھی اس کے لیے یہی الفاظ آئے تھے: {فَاقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ} ’’پس قتل کرو اپنے آپ کو‘‘۔اس سے مراد یہ تھی کہ تم اپنے اپنے قبیلے کے ان لوگوں کو قتل کردو جنہوں نے اس کفر و شرک کا ارتکاب کیا ہے۔ اب ادھر منافقین کا معاملہ یہ تھا کہ ان کی حمایت میں اکثر و بیشتر ان کے خاندان والے‘ رشتہ دار‘ ان کے گھرانے والے سب ان کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے۔ تو یہاں شاید یہ بتایا جا رہا ہے کہ بجائے اس کے کہ تم ان کی حمایت کرو‘ تمہارا طرزِ عمل اس کے برعکس ہونا چاہیے کہ تم اپنے اندر سے خود دیکھو کہ کون منافق ہیں جو اصل میں آستین کے سانپ ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا ‘ مگر وہ یہ حکم بھی دے سکتا تھا کہ ہر گھرانہ اپنے ہاں کے منافقین کو خود قتل کرے۔ یہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی غیرتِ ایمانی کی وجہ سے اس منافق کو قتل کیا تھا‘ جبکہ اُس منافق کے خاندان کے لوگ حضرت عمرؓ پر قتل کا دعویٰ کر رہے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا تو یہ بھی تمہیں کرنا چاہیے تھا‘ لیکن یہ اللہ کے علم میں ہے کہ تم میں سے بہت کم لوگ ہوتے جو اس حکم کی تعمیل کرتے ۔ اور اگر وہ یہ کر گزرتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور ان کے ثباتِ قلبی اور ثباتِ ایمانی کا باعث ہوتا۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں خاص اپنے پاس سے اجرِ عظیم عطا فرماتا اور انہیں صراطِ مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا۔

اب جو آیت آ رہی ہے یہ اطاعتِ رسول کے موضوع پر قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت ہے۔ فرمایا:

69-70

اللّٰہ کے انعام یافتہ بندے

ویڈیو

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾ ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیۡمًا ﴿٪۷۰﴾

آیت 69

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ

’’اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسولؐ ‘کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہو گی اُن کی جن پر اللہ کا انعام‘ہوا‘‘

مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ

’’یعنی انبیاء کرام‘ صدیقین‘ شہداء اورصالحین۔‘‘

وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

’’اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے۔‘‘

یعنی اللہ اور اس کے رسول(ﷺ)کی اطاعت کرنے والوں کا شمار ان لوگوں کے زمرے میں ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ اس حوالے سے سورۃ الفاتحہ کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کر لیں : {اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّـذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ}۔ گویا آیت زیر مطالعہ ’’اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘ کی تفسیر ہے۔ آیت میں مذکور مراتب کے بارے میں یہ وضاحت مدنظر رکھیے کہ صالح مسلمان گویا baseline پر ہے۔ وہ ایک نیک نیت مسلمان ہے جس کے دل میں خلوص کے ساتھ ایمان ہے۔ وہ اللہ اور رسولﷺ کے احکام پر عمل کر رہا ہے‘ محر مات سے بچا ہوا ہے۔ وہ اس سے اوپر اٹھے گا تو اس سے آگے شہداء کا درجہ ہے‘ اس سے بلند تر درجہ صدیقین کا ہے اور بلندترین درجہ انبیاء کا ہے۔ اس بلند ترین درجے پر تو کوئی نہیں پہنچ سکتا‘ اس لیے کہ وہ کوئی کسبی چیز نہیں ہے‘ وہ تو ایک وہبی چیز تھی ‘ جس کا دروازہ بھی اب بند ہو چکا ہے۔ البتہ مرتبہ صالحیت سے بلند تر دو درجے اب بھی موجود ہیں کہ انسان اپنی ہمت‘ محنت اور کوشش سے شہادت اور صدیقیت کے مراتب پر فائز ہو سکتا ہے۔ یہ مضمون ان شاء اللہ سورۃ الحدید میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہو گا۔

آیت 70

ذٰلِکَ الۡفَضۡلُ مِنَ اللّٰہِ ؕ

’’یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اُن پر کہ جنہیں آخرت میں انبیاء کرام‘ صدیقین عظام‘ شہداء اور صالحین کی معیت حاصل ہو جائے۔ اس کے لیے دُعا کرنی چاہیے : وَتَوَفَّـنَا مَعَ الْاَبْرَارِ اے اللہ ہمیں موت دیجیو اپنے وفادار ونیکوکار بندوں کے ساتھ!

وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیۡمًا ﴿٪۷۰﴾

’’اور اللہ کافی ہے ہر شے کے جاننے کے لیے۔‘‘

یعنی کون کس استعداد کا حامل ہے اور کس قدر و منزلت کا مستحق ہے‘ اللہ خوب جانتا ہے۔ حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے۔

71-76

اللّٰہ کی راہ میں جنگ سے فرار منافقانہ طرزِ عمل ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا ﴿۷۱﴾ وَ اِنَّ مِنۡکُمۡ لَمَنۡ لَّیُبَطِّئَنَّ ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اِذۡ لَمۡ اَکُنۡ مَّعَہُمۡ شَہِیۡدًا ﴿۷۲﴾ وَ لَئِنۡ اَصَابَکُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ لَیَقُوۡلَنَّ کَاَنۡ لَّمۡ تَکُنۡۢ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہٗ مَوَدَّۃٌ یّٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ مَعَہُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۳﴾ فَلۡیُقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یَشۡرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ مَنۡ یُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیُقۡتَلۡ اَوۡ یَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۷۴﴾ وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا ﴿٪۷۶﴾

تمہید

اب ذکر آ رہا ہے قتال فی سبیل اللہ کا۔ یہ دوسری چیز تھی جو منافقین پر بہت بھاری تھی۔ مادی اعتبار سے یہ بڑا سخت امتحان تھا۔ اطاعتِ رسولؐ زیادہ تر ایک نفسیاتی مرحلہ تھا‘ ایک نفسیاتی الجھن تھی‘ لیکن اپنا مال خرچ کرنا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا ایک خالص محسوس مادی شے تھی۔

آیت 71

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ

’’اے اہلِ ایمان‘ اپنے تحفظ کا سامان (اور اپنے ہتھیار) سنبھالو‘‘

فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا ﴿۷۱﴾

’’اور (جہاد کے لیے) نکلو‘ خواہ ٹکڑیوں کی صورت میں خواہ فوج کی شکل میں۔‘‘

یعنی جیسا موقع ہو اس کے مطابق الگ الگ دستوں کی شکل میں یا اکٹھے فوج کی صورت میں نکلو۔ رسول اللہﷺ موقع کی مناسبت سے کبھی چھوٹے چھوٹے گروپ بھیجتے تھے۔ جیسے غزوۂ بدر سے قبل آپؐ نے آٹھ مہمیں روانہ فرمائیں‘ جبکہ غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد میں آپؐ پوری فوج لے کر نکلے۔تو ان میں سے جو شکل بھی ہو‘ نکلو اللہ کی راہ میں!

آیت 72

وَ اِنَّ مِنۡکُمۡ لَمَنۡ لَّیُبَطِّئَنَّ ۚ

’’اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دیر لگا دیتے ہیں۔‘‘

حکم ہو گیا ہے کہ جہاد کے لیے نکلنا ہے‘ فلاں وقت کوچ ہو گا‘ لیکن وہ تیاری میں ڈھیل برت رہے ہیں اور پھر بہانہ بنا دیں گے کہ بس ہم تو تیاری کر ہی رہے تھے ۔ اور وہ منتظر رہتے ہیں کہ جنگ کا فیصلہ ہو جائے تو اُس وقت ہم کہیں گے کہ ہم تو بس نکلنے ہی والے تھے کہ یہ فیصلہ ہم کو پہنچ گیا۔

فَاِنۡ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ

’’پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پیش آ جائے ‘‘

اگر جنگ کے لیے نکلنے والے مسلمانوں کو کوئی تکلیف پیش آ جائے‘ کوئی گزند پہنچ جائے‘ وقتی طور پر کوئی ہزیمت ہو جائے۔

قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اِذۡ لَمۡ اَکُنۡ مَّعَہُمۡ شَہِیۡدًا ﴿۷۲﴾

’’تو وہ کہے گا کہ مجھ پر تو اللہ نے بڑا انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوا۔‘‘

مجھ پر اللہ کا بڑا فضل و کرم ہوا کہ میں پیچھے رہ گیا اور اس معرکے میں جانے سے بچ گیا۔ میری فلاں جو ضرورت تھی وہ میرے لیے رحمت بن گئی۔ اُس وقت میرا جو اونٹ گم ہوا تھا اگر کہیں میرے پاس موجود ہوتا تو میں بھی ان کے ساتھ مصیبت میں گرفتار ہوتا۔

آیت 73

وَ لَئِنۡ اَصَابَکُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ

’’اور اگر تمہیں کوئی فضل پہنچ جائے اللہ کی طرف سے‘‘

یعنی تمہیں فتح ہو جائے اور تم کامرانی کے ساتھ مالِ غنیمت لے کر واپس آؤ۔

لَیَقُوۡلَنَّ کَاَنۡ لَّمۡ تَکُنۡۢ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہٗ مَوَدَّۃٌ

’’تو اُس وقت وہ (حسرت کے ساتھ) کہے گا‘ جیسے تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں‘‘

یّٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ مَعَہُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۳﴾

’’اے کاش کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا ہوتا تو یہ بڑی کامیابی مجھے بھی حاصل ہو جاتی۔‘‘

یہ منافقین کا کردار تھا جس کا یہاں نقشہ کھینچ دیا گیا ہے ۔

آیت 74

فَلۡیُقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یَشۡرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ؕ

’’پس اللہ کی راہ میں قتال کرنا چاہیے ان لوگوں کو جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

جو لوگ دنیا کی زندگی کے بدلے میں آخرت کے طالب ہیں‘ ان کے لیے تو قتال فی سبیل اللہ میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انہوں نے واقعی اللہ تعالیٰ سے یہ سودا کر لیا ہے تو پھر انہیں اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنا چاہیے۔

وَ مَنۡ یُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیُقۡتَلۡ اَوۡ یَغۡلِبۡ

’’اور جو کوئی بھی اللہ کی راہ میں قتال کرے گا‘ تو خواہ مارا جائے یا غالب ہو‘‘

اللہ کی راہ میں قتال کرنے والے کے لیے دو ہی امکانات ہیں‘ ایک یہ کہ وہ قتل ہو کر مرتبۂ شہادت پر فائز ہوجائے اور دوسرے یہ کہ وہ دشمن پر غالب رہے اور فتح مند ہو کر واپس آئے۔

فَسَوۡفَ نُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۷۴﴾

’’ہم اسے (دونوں حالتوں میں) بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔‘‘

اگلی آیت میں خاص طو رپر ان مسلمانوں کی نصرت و حمایت کے لیے قتال کی ترغیب دلائی جا رہی ہے جو اُس وقت مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان میں کمزور بھی تھے ‘ بیمار اور بوڑھے بھی تھے‘ خواتین اور بچے بھی تھے۔ یہ لوگ ایمان تو لے آئے تھے لیکن ہجرت کرنے سے معذور تھے ۔ یہ اپنے اپنے علاقوں میں اور اپنے اپنے قبائل میں پھنسے ہوئے تھے جہاں ان پر ظلم ہو رہا تھا اور انہیں تشدد و تعذیب کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ تو خاص طو رپر ان کی مدد کے لیے نکلنا‘ ان کی جان چھڑانا اور ان کو بچا کر لے آنا‘ یہ غیرتِ ایمانی کا بہت ہی شدید تقاضا تھا‘ بلکہ یہ غیرتِ انسانی کا بھی تقاضا تھا۔ چنانچہ فرمایا:

آیت 75

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ

’’اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم قتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں‘‘

وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ

’’اور ان بے بس مردوں‘ عورتوں اور بچوں کی خاطر جو مغلوب بنا دیے گئے ہیں‘‘

الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ

’’جو دُعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار‘ ہمیں نکال اس بستی سے جس کے رہنے والے لوگ ظالم ہیں۔‘‘

وَ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾

’’اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے‘ اور ہمارے لیے خاص اپنے فضل سے کوئی مددگار بھیج دے۔‘‘

ان کی یہ آہ و بکا تمہیں آمادۂ پیکار کیوں نہیں کر رہی؟ ان پرظلم ہو رہا ہے‘ ان پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہو۔ بعض لوگ اس آیت کا انطباق ان مختلف قسم کے سیاسی تنازعات پر بھی کر دیتے ہیں جو آج کل ہمارے ہاں مختلف صورتوں میں جاری ہیں اور اس طرح وہ ان محاذآرائیوں پر ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا لیبل لگا دیتے ہیں۔لیکن یہ بات بالکل ہی قیاس مع الفارق ہے۔ واضح رہے کہ یہ خطاب اُن اہلِ ایمان سے ہو رہا ہے جن کے ہاں اسلام قائم ہو چکا تھا۔ اس کے برعکس ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں تو اسلام قائم کر نہیں سکتے ‘یہاں پر دین کے غلبہ و اقامت کی کوئی جدوجہد بھی ہم نہیں کررہے اور ہمارے ہاں کفر کا جو نظام چل رہا ہے اس کو ختم کرنے کے لیے ہم کوشش بھی نہیں کر رہے۔ چنانچہ ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ پہلے ہم اپنے گھر کو درست کریں‘ پہلے اپنے ملک کے اندر اسلام قائم کریں۔ جہاد کرنا ہے تو یہاں کریں‘ جانیں دینی ہیں تو یہاں دیں۔ یہاں پر طاغوت کی حکومت ہے‘ غیر اللہ کی حکومت ہے‘ قرآن کے سوا کوئی اور قانون چل رہا ہے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : {وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ … فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾… فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾} (المائدۃ) ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں … وہی تو ظالم ہیں … وہی تو فاسق ہیں۔‘‘چنانچہ اس سیاق و سباق میں کافر‘ ظالم اور فاسق تو ہم خود ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے گھر کی حالت درست کرنا ہوگی‘ اس کے بعد جہاد کے لیے ایک جمعیت قائم کرنا ہو گی ۔ ہماری حکومت توان لوگوں سے دوستیاں کرتی پھرتی ہے جن کے خلاف یہاں جہاد کا نعرہ بلند ہو رہا ہے‘ تو اس آیت کا حکم اپنی جگہ ایک حقیقت ہے ‘لیکن ہر چیز کو اس کے سیاق و سباق کے اندر رکھنا چاہیے۔

آیت 76

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ

’’جو لوگ ایمان والے ہیں وہ قتال کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطَّاغُوۡتِ

’’اور جو لوگ کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں قتال کر رہے ہیں‘‘

جنگ تو کفار و مشرکین بھی کر رہے ہیں‘ جانیں تو وہ بھی دے رہے ہیں ۔ ابوجہل بھی تو لشکر لے کر آیا تھا۔ لیکن ان کی ساری جدوجہد طاغوت کی راہ میں ہے۔

فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ

’’تو تم جنگ کرو شیطان کے ساتھیوں سے۔‘‘

تم شیطان کے حمایتیوں سے‘ حزب الشیطان سے قتال کرو۔

اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا ﴿٪۷۶﴾

’’یقینا شیطان کی چال بڑی کمزور ہے۔‘‘

شیطان کی چال بظاہر بڑی زورداراوربارعب دکھائی دیتی ہے‘ لیکن جب مردِ مؤمن اس کے مقابل کھڑا ہوجاتا ہے تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی چال بڑی بودی اور پھسپھسی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے