اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ
’’کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا‘‘
وہ ’’الکتاب‘‘ایک حقیقت ہے جس میں سے ایک حصہ تورات اور ایک حصہ انجیل کے نام سے نازل ہوا اور پھر وہ کتاب ہر اعتبار سے کامل ہو کر قرآن کی شکل میں نازل ہوئی۔
یَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَۃَ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۴۴﴾
’’وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ۔‘‘
مشرکینِ مکہ کی کوشش بھی یہی ہوتی تھی کہ لوگ لہو و لعب میں مشغول رہیں اور قرآن نہ سنیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایران سے رستم و اسفندیار کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور گانے بجانے والی لونڈیوں اور آلاتِ موسیقی کا انتظام کیا تاکہ لوگ انہی چیزوں میں مشغول رہیں اور حضورﷺ کی بات کوئی نہ سنے۔ اسی طرح مدینہ میں یہود کا بھی یہی معاملہ تھا کہ وہ خود بھی گمراہ کن مشاغل اختیار کرتے اور دوسروں کو بھی اس میں مشغول کرنے کی کوشش کرتے۔ ہمارے زمانے میں اس قسم کے مشاغل کی بہت سی صورتیں ہیں۔ ہمارے ہاں جب کرکٹ میچ ہو رہے ہوتے ہیں اور ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں تو پوری قوم کا یہ حال ہوتا ہے گویا دنیا کی اہم ترین شے کرکٹ ہی ہے۔ اسی طرح دنیا میں دوسرے کھیل تماشے دیکھے جاتے ہیں کہ دنیا ان کے پیچھے پاگل ہو جاتی ہے۔ شیطان کو اور کیا چاہیے ؟وہ تو یہی چاہتا ہے ناکہ لوگوں کی حقائق کی طرف نگاہ ہی نہ ہو۔ کسی کو یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو کہ زندگی کا مقصد کیا ہے ؟جینا کاہے کے لیے ہے؟ موت ہے تو اس کے بعد کیا ہونا ہے؟ انسان یا تو حیوانی سطح پر زندگی گزار دے اور اسے حلال و حرام کی تمیز ہی نہ رہے کہ وہ کیا کما رہا ہے اور کیا کھا رہا ہے‘ یا پھر لہو و لعب میں مشغول رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان چیزوں کے فروغ کے لیے دنیا میں بڑے مستحکم نظام قائم کیے گئے ہیں اور ان سے وابستہ افراد کو بھاری معاوضے اور بڑے بڑے انعامات دیے جاتے ہیں۔ فرمایا: یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی سیدھے راستے سے بھٹکا دیں‘ راہِ حق سے منحرف کر دیں ۔
وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاَعۡدَآئِکُمۡ ؕ
’’اللہ تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے۔‘‘
وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا ٭۫ وَّ کَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیۡرًا ﴿۴۵﴾
’’اور اللہ کافی ہے تمہارے ولی اور پشت پناہ ہونے کی حیثیت سے ‘اور وہ کافی ہے تمہارے مددگار ہونے کے اعتبار سے۔‘‘
مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ
’’ان یہودیوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو کلام کو اس کے اصل مقام و محل سے پھیردیتے ہیں‘‘
وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا
’’وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نہیں مانا‘‘
یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑکر الفاظ کو کچھ کا کچھ بنا دیتے ۔ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو احکامِ الٰہی سن کر کہتے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ بظاہر وہ اہل ایمان کی طرح سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (ہم نے سنا اور ہم نے قبول کیا) کہہ رہے ہوتے لیکن زبان کو مروڑ کر حقیقت میں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔
وَ اسۡمَعۡ غَیۡرَ مُسۡمَعٍ
’’اور (کہتے ہیں) سنیے‘ نہ سنا جائے۔‘‘
وہ حضورﷺ کی مجلس میں آپؐ ‘کو مخاطب کرکے کہتے ذرا ہماری بات سنیے! ساتھ ہی چپکے سے کہہ دیتے کہ آپ سے سنا نہ جائے‘ ہمیں آپ کو سنانا مطلوب نہیں ہے۔ اس طرح وہ شانِ رسالت میں گستاخی کے مرتکب‘ہوتے۔
وَّ رَاعِنَا لَـیًّۢا بِاَلۡسِنَتِہِمۡ
’’اور (کہتے ہیں) رَاعِنَا اپنی زبانوں کو موڑ کر‘‘
رَاعِنَا کا مفہوم تو ہے ’’ہماری رعایت کیجیے‘‘ لیکن وہ اسے کھینچ کر ‘ رَاعِیْنَا بنا دیتے۔ یعنی اے ہمارے چرواہے!
وَ طَعۡنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ
’’اور دین میں طعن کرنے کے لیے۔‘‘
یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر ایسے کلمات کہتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص واقعی نبی ہوتا تو ہمارا فریب اس پر ظاہر ہو جاتا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب کو ظاہرکر دیا۔
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا وَ اسۡمَعۡ وَ انۡظُرۡنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَقۡوَمَ ۙ
’’اور اگر وہ یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی‘ اور آپ ہماری بات سن لیجیے‘ اور ذراہمیں مہلت دیجیے‘ تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا اور بہت درست اور سیدھی بات ہوتی‘ ‘
وَ لٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ
’’لیکن اللہ نے تو ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے‘‘
فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۴۶﴾
’’تو اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں مگر شاذ ہی کوئی۔‘‘
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا
’’اے وہ لوگو جن کو کتاب دی گئی تھی! ایمان لائو اُس پر جو ہم نے نازل کیا ہے‘‘
یہود کی شرارتوں پر لعنت و ملامت کے ساتھ ہی انہیں قرآن کریم پر ایمان کی دعوت بھی دی جا رہی ہے۔
مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ
’’جو اُس کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے جو تمہارے پاس ہے‘‘
مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ
’’اس سے قبل کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں ‘ پھر ان کو ان کی پیٹھوں کی طرف موڑ دیں‘‘
یعنی چہرے اس طرح مسخ کر دیے جائیں کہ بالکل سپاٹ ہو جائیں‘ ان پر کوئی نشان باقی نہ رہے اور پھر انہیں پشت کی طرف موڑ دیا جائے کہ چہرہ پیچھے اور گدی سامنے۔
مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ
’’یا ہم ان پر بھی اسی طرح لعنت کر دیں جس طرح ہم نے اصحابِ سبت پر لعنت کی تھی۔‘‘
اصحابِ سبت کے واقعے کی تفصیل سورۃ الاعراف (رکوع۲۱) میں آئے گی‘ لیکن اجمالاً یہ واقعہ سورۃ البقرۃ (آیات ۶۵‘۶۶)میں بھی آچکاہے۔
وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۴۷﴾
’’اور اللہ کا حکم تو نافذ ہو کررہنا ہے۔‘‘