تحریر

النساء

آیات ۴۴ تا ۵۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

44-47

یہود کی گھٹیا حرکات

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَۃَ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۴۴﴾ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاَعۡدَآئِکُمۡ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا ٭۫ وَّ کَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیۡرًا ﴿۴۵﴾ مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا وَ اسۡمَعۡ غَیۡرَ مُسۡمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَـیًّۢا بِاَلۡسِنَتِہِمۡ وَ طَعۡنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا وَ اسۡمَعۡ وَ انۡظُرۡنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَقۡوَمَ ۙ وَ لٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۴۶﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ اَوۡ نَلۡعَنَہُمۡ کَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰبَ السَّبۡتِ ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۴۷﴾

آیت 44

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ

’’کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا‘‘

وہ ’’الکتاب‘‘ایک حقیقت ہے جس میں سے ایک حصہ تورات اور ایک حصہ انجیل کے نام سے نازل ہوا اور پھر وہ کتاب ہر اعتبار سے کامل ہو کر قرآن کی شکل میں نازل ہوئی۔

یَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَۃَ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِیۡلَ ﴿ؕ۴۴﴾

’’وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ۔‘‘

مشرکینِ مکہ کی کوشش بھی یہی ہوتی تھی کہ لوگ لہو و لعب میں مشغول رہیں اور قرآن نہ سنیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایران سے رستم و اسفندیار کے قصے منگوا کر داستان گوئی کا سلسلہ شروع کیا اور گانے بجانے والی لونڈیوں اور آلاتِ موسیقی کا انتظام کیا تاکہ لوگ انہی چیزوں میں مشغول رہیں اور حضورﷺ کی بات کوئی نہ سنے۔ اسی طرح مدینہ میں یہود کا بھی یہی معاملہ تھا کہ وہ خود بھی گمراہ کن مشاغل اختیار کرتے اور دوسروں کو بھی اس میں مشغول کرنے کی کوشش کرتے۔ ہمارے زمانے میں اس قسم کے مشاغل کی بہت سی صورتیں ہیں۔ ہمارے ہاں جب کرکٹ میچ ہو رہے ہوتے ہیں اور ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں تو پوری قوم کا یہ حال ہوتا ہے گویا دنیا کی اہم ترین شے کرکٹ ہی ہے۔ اسی طرح دنیا میں دوسرے کھیل تماشے دیکھے جاتے ہیں کہ دنیا ان کے پیچھے پاگل ہو جاتی ہے۔ شیطان کو اور کیا چاہیے ؟وہ تو یہی چاہتا ہے ناکہ لوگوں کی حقائق کی طرف نگاہ ہی نہ ہو۔ کسی کو یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو کہ زندگی کا مقصد کیا ہے ؟جینا کاہے کے لیے ہے؟ موت ہے تو اس کے بعد کیا ہونا ہے؟ انسان یا تو حیوانی سطح پر زندگی گزار دے اور اسے حلال و حرام کی تمیز ہی نہ رہے کہ وہ کیا کما رہا ہے اور کیا کھا رہا ہے‘ یا پھر لہو و لعب میں مشغول رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان چیزوں کے فروغ کے لیے دنیا میں بڑے مستحکم نظام قائم کیے گئے ہیں اور ان سے وابستہ افراد کو بھاری معاوضے اور بڑے بڑے انعامات دیے جاتے ہیں۔ فرمایا: یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی سیدھے راستے سے بھٹکا دیں‘ راہِ حق سے منحرف کر دیں ۔

آیت 45

وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاَعۡدَآئِکُمۡ ؕ

’’اللہ تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے۔‘‘

وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا ٭۫ وَّ کَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیۡرًا ﴿۴۵﴾

’’اور اللہ کافی ہے تمہارے ولی اور پشت پناہ ہونے کی حیثیت سے ‘اور وہ کافی ہے تمہارے مددگار ہونے کے اعتبار سے۔‘‘

آیت 46

مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ

’’ان یہودیوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو کلام کو اس کے اصل مقام و محل سے پھیردیتے ہیں‘‘

وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا

’’وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے نہیں مانا‘‘

یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑکر الفاظ کو کچھ کا کچھ بنا دیتے ۔ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو احکامِ الٰہی سن کر کہتے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ بظاہر وہ اہل ایمان کی طرح سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (ہم نے سنا اور ہم نے قبول کیا) کہہ رہے ہوتے لیکن زبان کو مروڑ کر حقیقت میں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔

وَ اسۡمَعۡ غَیۡرَ مُسۡمَعٍ

’’اور (کہتے ہیں) سنیے‘ نہ سنا جائے۔‘‘

وہ حضورﷺ کی مجلس میں آپؐ ‘کو مخاطب کرکے کہتے ذرا ہماری بات سنیے! ساتھ ہی چپکے سے کہہ دیتے کہ آپ سے سنا نہ جائے‘ ہمیں آپ کو سنانا مطلوب نہیں ہے۔ اس طرح وہ شانِ رسالت میں گستاخی کے مرتکب‘ہوتے۔

وَّ رَاعِنَا لَـیًّۢا بِاَلۡسِنَتِہِمۡ

’’اور (کہتے ہیں) رَاعِنَا اپنی زبانوں کو موڑ کر‘‘

رَاعِنَا کا مفہوم تو ہے ’’ہماری رعایت کیجیے‘‘ لیکن وہ اسے کھینچ کر ‘ رَاعِیْنَا بنا دیتے۔ یعنی اے ہمارے چرواہے!

وَ طَعۡنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ

’’اور دین میں طعن کرنے کے لیے۔‘‘

یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر ایسے کلمات کہتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص واقعی نبی ہوتا تو ہمارا فریب اس پر ظاہر ہو جاتا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب کو ظاہرکر دیا۔

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا وَ اسۡمَعۡ وَ انۡظُرۡنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَقۡوَمَ ۙ

’’اور اگر وہ یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی‘ اور آپ ہماری بات سن لیجیے‘ اور ذراہمیں مہلت دیجیے‘ تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا اور بہت درست اور سیدھی بات ہوتی‘ ‘

وَ لٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ

’’لیکن اللہ نے تو ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے‘‘

فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۴۶﴾

’’تو اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں مگر شاذ ہی کوئی۔‘‘

آیت 47

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا

’’اے وہ لوگو جن کو کتاب دی گئی تھی! ایمان لائو اُس پر جو ہم نے نازل کیا ہے‘‘

یہود کی شرارتوں پر لعنت و ملامت کے ساتھ ہی انہیں قرآن کریم پر ایمان کی دعوت بھی دی جا رہی ہے۔

مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ

’’جو اُس کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے جو تمہارے پاس ہے‘‘

مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ

’’اس سے قبل کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں ‘ پھر ان کو ان کی پیٹھوں کی طرف موڑ دیں‘‘

یعنی چہرے اس طرح مسخ کر دیے جائیں کہ بالکل سپاٹ ہو جائیں‘ ان پر کوئی نشان باقی نہ رہے اور پھر انہیں پشت کی طرف موڑ دیا جائے کہ چہرہ پیچھے اور گدی سامنے۔

مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡہًا فَنَرُدَّہَا عَلٰۤی اَدۡبَارِہَاۤ

’’یا ہم ان پر بھی اسی طرح لعنت کر دیں جس طرح ہم نے اصحابِ سبت پر لعنت کی تھی۔‘‘

اصحابِ سبت کے واقعے کی تفصیل سورۃ الاعراف (رکوع۲۱) میں آئے گی‘ لیکن اجمالاً یہ واقعہ سورۃ البقرۃ (آیات ۶۵‘۶۶)میں بھی آچکاہے۔

وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۴۷﴾

’’اور اللہ کا حکم تو نافذ ہو کررہنا ہے۔‘‘

48

شرک ناقابلِ معافی جرم ہے

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸﴾

آیت 48

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ

’’اور یقینا اللہ اس بات کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے‘‘

وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ

’’اوراس سے کم تر جو کچھ ہے وہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔‘‘

بہرحال یہ بھی کوئی کھلا لائسنس نہیں ہے کہ کسی کے باقی سب گناہ تو معاف ہو ہی جائیں گے ۔ البتہ ان الفاظ میں اُمید دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی تمام گناہوں کو بغیر توبہ کے بھی معاف کر سکتا ہے‘ لیکن شرک کے معاف ہونے کا کوئی امکان نہیں۔یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قدر اہم ہے کہ آگے آیت ۱۱۶ میں اسے پھر دہرایاگیا ہے ۔

وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدِ افۡتَرٰۤی اِثۡمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸﴾

’’اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس نے تو بہت بڑے گناہ کا افترا کیا۔‘‘

اللہ تعالیٰ تو واحد و یکتا ہے۔ اُس کی ذات و صفات میں کسی اور کو شریک کرنا بہت بڑا جھوٹ‘ افترا‘بہتان اور عظیم ترین گناہ ہے۔

49-55

یہود کے مزید جرائم

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُزَکُّوۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیۡ مَنۡ یَّشَآءُ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۴۹﴾ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَ کَفٰی بِہٖۤ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۰﴾ اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَ الطَّاغُوۡتِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا ﴿۵۱﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یَّلۡعَنِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۵۲﴾ اَمۡ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡکِ فَاِذًا لَّا یُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِیۡرًا ﴿ۙ۵۳﴾ اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا ﴿۵۴﴾ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡہُ ؕ وَ کَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿۵۵﴾

آیت 49

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُزَکُّوۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ

’’کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں؟‘‘

یہاں یہود کے اُسی فلسفے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت پاک باز اور اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ’’We are the chosen people of the Lord‘‘ کہ ہم اللہ کے منظورِ نظر لوگ ہیں۔ سورۃ‘المائدۃ میں ان کا یہ قول نقل ہوا ہے : {نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ ؕ} (آیت ۱۸) یعنی ہم تو اللہ کے بیٹوں کی طرح ہیں بلکہ اس کے بہت ہی چہیتے اور لاڈلے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرے تمام لوگ Goyims اور Gentiles ہیں‘ جو دیکھنے میں انسان نظر آتے ہیں‘ حقیقت میں حیوان ہیں۔ ان کو ہم جس طرح چاہیں لوٹ کر کھاجائیں ‘جس طرح سے چاہیں ان کو دھوکہ دیں ‘ان کا استحصال کریں‘ ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ اس حوالے سے سورۂ آل عمران میں ہم ان کا یہ قول پڑھ چکے ہیں: {لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ ۚ } (آیت ۷۵) کہ ان اُمیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ ہم سے ان کے بارے میں کوئی محاسبہ اور کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ جیسے آپ نے اپنے گھوڑے کو ٹانگے میں جوت لیا یا ہرن کا شکار کر کے اسے کھا لیا تو آپ سے اس پر کون مؤاخذہ کرے گا؟

بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیۡ مَنۡ یَّشَآءُ

’’بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے‘‘

وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۴۹﴾

’’اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

ان کو اگر پاکیزگی نہیں ملتی تو اس کا سبب ان کے اپنے کرتوت ہیں‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جاتا۔ فـَتِیل دراصل اُس دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کے اندر گٹھلی کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔نزولِ قرآن کے زمانے میں جو چھوٹی سے چھوٹی چیزیں لوگوں کے مشاہدے میں آتی تھیں ظاہر ہے کہ وہیں سے کسی چیز کے چھوٹا ہونے کے لیے مثال پیش کی جا سکتی تھی۔

آیت 50

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ

’’دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ رہے‘ہیں؟‘‘

وَ کَفٰی بِہٖۤ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۰﴾

’’اور صریح گناہ ہونے کے لیے تو یہی کافی ہے۔‘‘

یعنی ان کی گرفت کے لیے اور ان کو عذاب دینے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے جو انہوں نے گھڑی‘ہے۔

آیت 51

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ

’’کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا‘‘

یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَ الطَّاغُوۡتِ

’’وہ ایمان لاتے ہیں بتوں پر اور شیطان پر‘‘

وَ یَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا ﴿۵۱﴾

’’اور کہتے ہیں ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے کفر کیا (یعنی مشرکین) کہ ان اہلِ ایمان سے زیادہ ہدایت پر تو یہ ہیں۔‘‘

یہوداپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمدرسول اللہﷺ اور ان کے ساتھیؓ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہلِ ایمان کے ساتھ ضدم ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکینِ مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کرتے اور کہتے کہ یہ مشرک مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے۔

آیت 52

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ؕ

’’یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرما دی ہے۔‘‘

وَ مَنۡ یَّلۡعَنِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۵۲﴾

’’اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اُس کے لیے کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔‘‘

آیت 53

اَمۡ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡکِ

’’کیا ان کا کوئی حصہ ہے اقتدار میں؟‘‘

انہوں نے یہ جو تقسیم کر لی ہے کہ دنیا میں یہ سب کچھ ہمارے لیے ہے‘ باقی تمام انسان Goyims اور Gentiles ہیں‘ تو انسانوں میں یہ تقسیم اور تفریق کا اختیار انہیں کس نے دیا ہے ؟ کیا ان کا اللہ کی حکومت میں کوئی حصہ ہے ؟ زمین و آسمان کی بادشاہی تو اللہ کی ہے‘ مالک الملک اللہ ہے ۔تو کیا ان کو اُس کے پاس سے کوئی اختیار ملا ہوا ہے؟

فَاِذًا لَّا یُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِیۡرًا ﴿ۙ۵۳﴾

’’اگر ایسا کہیں ہوتا تو یہ دوسرے لوگوں کو تل کے برابر بھی کوئی شے دینے کو تیار نہ ہوتے۔‘‘

آیت 54

اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ

’’کیا یہ حسد کر رہے ہیں لوگوں سے اس پر کہ جو اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے عطا کر دیا ہے؟‘‘

دراصل یہ سب اس حسد کا نتیجہ ہے جو یہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان اُمیین میں اپنا آخری نبی‘بھیج دیا اور انہیں اپنی آخری کتاب عطا فرما دی جنہیں یہ حقیر سمجھتے تھے۔ اب یہ اس حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔

فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا ﴿۵۴﴾

’’تو ہم نے آلِ ابراہیم ؑکو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بہت بڑی حکومتیں بھی دیں۔‘‘

یعنی انہیں اگر تورات اور انجیل ملی تھی تو ابراہیم علیہ السلام کی نسل ہونے کے ناتے سے ملی تھی ‘تو یہ جو بنواسماعیل ؑ ہیں یہ بھی تو ابراہیم ؑہی کی نسل سے ہیں۔ ہاں بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت علیحدہ علیحدہ ملی ۔تورات کتاب تھی اور انجیل حکمت تھی ‘ جبکہ یہاں کتاب اور حکمت اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پر قرآن میں بتمام و کمال جمع کر دی ہیں۔ مزید برآں جیسے ان کوملکِ عظیم دیا تھا‘ اب ہم ان مسلمانوں کو اس سے بڑا ملک دیں گے۔ یہ مضمون سورۃ النور میں آئے گا: {لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪} (آیت۵۵) ’’ہم ‘لازماً ان اہل ایمان کو دنیا میں حکومت اور خلافت عطا کریں گے جیسے ان سے پہلوں کو عطا کی تھی۔‘‘

آیت 55

فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡہُ ؕ

’’پس ان میں سے وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور وہ بھی ہیں جو اس سے رُک گئے ہیں۔‘‘

وَ کَفٰی بِجَہَنَّمَ سَعِیۡرًا ﴿۵۵﴾

’’اور ایسے لوگوں کے لیے تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی‘ہے۔‘‘

56

جہنم میں جلی ہوئی کھال کو نئی کھال سے بدل دیا جائے گا

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۵۶﴾

آیت 56

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا ؕ

’’یقینا جو لوگ ہماری آیات کا کفر کریں گے ایک وقت آئے گا کہ ہم انہیں آگ میں جھونک دیں گے۔‘‘

کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا

’’اور جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم ان کو دوسری کھالیں بدل دیں گے‘‘

لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ

’’تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘

یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے جسے میڈیکل سائنس نے دریافت کیا ہے کہ درد کااحساس انسان کی کھال (skin) ہی میں ہے۔ اس کے نیچے گوشت اور عضلات وغیرہ میں درد کا احساس نہیں ہے۔ کسی کو چٹکی کاٹی جائے‘ کانٹا چبھے‘ چوٹ لگے یا کوئی حصہ جل جائے تو تکلیف اور درد کا سارا احساسِ جلد ہی میں ہوتا ہے۔ چنانچہ جہنمیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب بھی ان کی کھال آتش جہنم سے جل جائے گی تو اس کی جگہ نئی کھال دے دی جائے گی تاکہ ان کی تکلیف اور جلن کا احساس مسلسل برقرار رہے‘ اس میں کمی نہ ہو۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۵۶﴾

’’یقینا اللہ زبردست ہے‘ کمالِ حکمت والا ہے۔‘‘

57

اہلِ جنّت کے لیے دائمی نعمتیں اور گھنےسائے

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ۫ وَّ نُدۡخِلُہُمۡ ظِلًّا ظَلِیۡلًا ﴿۵۷﴾

آیت 57

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے‘‘

اہل جہنم کے تذکرے کے فوراً بعد اب اہل جنت کا ذکر ہے۔ یہ فوری تقابل (simultaneous contrast) کا وہ معروف انداز ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔

سَنُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ

’’عنقریب انہیں ہم داخل کریں گے ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘‘

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ

’’وہ رہیں گے ان میں ہمیشہ ہمیش۔‘‘

لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ۫

’’ان کے لیے اس میں ہوں گی بڑی پاک باز بیویاں‘‘

وَّ نُدۡخِلُہُمۡ ظِلًّا ظَلِیۡلًا ﴿۵۷﴾

’’اور ہم انہیں داخل کریں گے گھنی چھاؤں میں۔‘‘

انہیں ایسی گہری اور ٹھنڈی چھائوں میں رکھا جائے گا جو دھوپ کی حدت اور تمازت سے بالکل محفوظ ہو گی۔

یہاں وہ حصہ ختم ہوا جس میں اہل کتاب کی طرف روئے سخن تھا ۔اب پھر مسلمانوں سے خطاب ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے