اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ
’’مرد عورتوں پر حاکم ہیں‘‘
یہ ترجمہ میں زور دے کر کر رہا ہوں۔ اس لیے کہ یہاں قَامَ‘ ’عَلٰی‘ کے صلہ کے ساتھ آ یاہے ۔ قَامَ ’بِ‘ کے ساتھ آئے گا تو معنیٰ ہوں گے ’’کسی شے کو قائم کرنا ‘‘۔اسی سورۂ مبارکہ میں آگے چل کر آیت ۱۳۵ میں یہ الفاظ آئیں گے : {کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ} ’’عدل کو قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہو جاؤ!‘‘ جبکہ قَامَ عَلٰی کے معنی کسی پر مسلط ہونے کے ہیں‘یعنی حاکم اور منتظم ہونا۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ سے یہ واضح ہدایت ملتی ہے کہ گھر کے ادارے میں حاکم ہونے کی حیثیت مرد کو حاصل ہے‘ سربراہِ خاندان مرد ہے‘ عورت نہیں ہے۔ عورت کو بہرحال اس کے ساتھ ایک وزیر کی حیثیت سے کام کرنا ہے۔ یوں تو ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میری بات مانی جائے۔ گھر کے اندر مرد بھی یہ چاہتا ہے اور عورت بھی۔ لیکن آخر کار کس کی بات چلے گی؟ یا تو دونوں باہمی رضامندی سے کسی مسئلے میں متفق ہو جائیں‘بیوی اپنے شوہر کو دلیل سے‘ اپیل سے‘ جس طرح ہو سکے قائل کرلے تو معاملہ ٹھیک ہوگیا۔لیکن اگر معاملہ طے نہیں ہو رہا تو اب کس کی رائے فیصلہ کن ہو گی؟ مرد کی! لیکن ظاہر ہے عورت کی رائے جب مسترد ہو گی تو اُسے اس سے ایک صدمہ توپہنچے گا۔ اسی صدمے کا اثر کم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورت میں نسیان کا مادہ زیادہ رکھ دیا ہے‘ جو ایک safety valve کا کام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونِ شہادت میں ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کا نصاب رکھا گیا ہے ’’تاکہ ان میں سے کوئی ایک بھول جائے تو دوسری یاد کرا دے‘‘۔ اس پر ہم سورۃ البقرۃ (آیت ۲۸۲) میں بھی گفتگو کر چکے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے گھر کے ادارے کا سربراہ مرد کو بنایا ہے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ مرد اگر اپنی اس حیثیت کا غلط استعمال کرتا ہے ‘ عورت پر ظلم کرتا ہے اور اس کے حقوق ادا نہیں کرتاتو اللہ کے ہاں بڑی سخت پکڑ ہو گی۔ آپ کو ایک اختیار دیا گیا ہے اور آپ اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ اس کو ظلم کا ذریعہ بنا رہے ہیں تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کو مل جائے گی۔
بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ
’’بسبب اُس فضیلت کے جو اللہ نے بعض کو بعض پر دی ہے‘‘
مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفو ق حاصل ہے‘ جن کی بنا پر قو امیت کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی‘ہے۔
وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ
’’اور بسبب اس کے کہ جو وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال۔‘‘
اسلام کے معاشرتی نظام میں کفالتی ذمہ داری تمام تر مرد کے اوپر ہے۔شادی کے آغاز ہی سے مرد اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ شادی اگرچہ مرد کی بھی ضرورت ہے اور عورت کی بھی‘ لیکن مرد مہر دیتا ہے‘ عورت مہر وصول کرتی ہے۔ پھر گھر میں عورت کا نان نفقہ مرد کے ذمے ہے۔
فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ
’’پس جو نیک بیویاں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں‘‘
مرد کو قوامیت کے منصب پر فائز کرنے کے بعد اب نیک بیویوں کا رویہ بتایاجا رہا ہے۔ یوں سمجھئے کہ قرآن کے نزدیک ایک خاتونِ خانہ کی جو بہترین روش ہونی چاہیے وہ یہاں تین الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے : {فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ}۔
حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ
’’غیب میں حفاظت کرنے والیاں‘‘
وہ مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے اموال اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ ظاہر ہے مرد کا مال تو گھر میں ہی ہوتا ہے‘ وہ کام پر چلا گیا تو اب وہ بیوی کی حفاظت میں ہے۔ اسی طرح بیوی کی عصمت درحقیقت مرد کی عزت ہے۔ وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرتی ہے۔ اسی طرح مرد کے راز ہوتے ہیں ‘ جن کی سب سے زیادہ بڑھ کر رازدان بیوی ہوتی ہے۔ تو یہ حفاظت تین اعتبارات سے ہے‘ شوہر کے مال کی ‘ شوہر کی عزت و ناموس کی‘ اور شوہر کے رازوں کی ۔
بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ؕ
’’اللہ کی حفاظت سے۔‘‘
اصل حفاظت و نگرانی تو اللہ کی ہے‘ لیکن انسان کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے۔ جیسے رازق تو اللہ ہے ‘ لیکن انسان کو کام کر کے رزق کمانا پڑتا ہے۔
وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ
’’اور وہ خواتین جن کے بارے میں تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو‘‘
اگرکسی عورت کے رویے سے ظاہر ہو رہا ہو کہ یہ سرکشی‘ سرتابی‘ ضد اور ہٹ دھرمی کی روش پر چل پڑی ہے‘ شوہر کی بات نہیں مان رہی بلکہ ہر صورت میں اپنی بات منوانے پر مصر ہے اور اس طرح گھر کی فضا خراب کی ہوئی ہے تو یہ نشوز ہے۔ اگر عورت اپنی اس حیثیت کو ذہناً تسلیم نہ کرے کہ وہ شوہر کے تابع ہے تو ظاہر بات ہے کہ مزاحمت (friction) ہو گی اور اس کے نتیجے میں گھر کے اندر ایک فساد پیدا ہو گا۔ ایسی صورت حال میں مرد کو قوام ہونے کی حیثیت سے بعض تادیبی اختیارات دیے گئے ہیں‘ جن کے تین مراحل ہیں:
فَعِظُوۡہُنَّ
’’پس ان کونصیحت کرو‘‘
پہلا مرحلہ سمجھانے بجھانے کا ہے‘ جس میں ڈانٹ ڈپٹ بھی شامل ہے۔
وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ
’’اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو‘‘
اگر نصیحت و ملامت سے کام نہ چلے تو دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ان سے اپنے بستر علیحدہ کر لو اور اس کے ساتھ تعلق زن و شو کچھ عرصہ کے لیے منقطع کر لو۔
وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ
’’اور ان کو مارو۔‘‘
اگر اب بھی وہ اپنی روش نہ بدلیں تو مرد کو جسمانی سزا دینے کا بھی اختیار ہے۔ اس ضمن میں آنحضورﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ چہرے پر نہ مارا جائے اور کوئی ایسی مار نہ ہو جس کا مستقل نشان جسم پر پڑے۔ مذکورہ بالا تادیبی ہدایات اللہ کے کلام کے اندر بیان فرمائی گئی ہیں اور انہیں بیان کرنے میں ہمارے لیے کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرتی زندگی کو درست رکھنے کے لیے ان کی ضرورت پیش آئے تو انہیں اختیار کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔
فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ
’’پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف (خواہ مخواہ زیادتی کی) راہ مت تلاش کرو۔‘‘
اگر عورت سرکشی و سرتابی کی روش چھوڑ کر اطاعت کی راہ پر آ جائے تو پچھلی کدورتیں بھلا دینی چاہئیں۔ اس سے انتقام لینے کے بہانے تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا ﴿۳۴﴾
’’یقینا اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے‘ بہت بڑا ہے۔‘‘
وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا
’’اور اگر تم کو میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو‘‘
’’اب اگر کوئی تدبیر نتیجہ خیز نہ ہو اور ان دونوں کے مابین ضدم ضد ا کی کیفیت پیدا ہو چکی ہو کہ عورت بھی اکڑ گئی ہے‘ مرد بھی اکڑا ہوا ہے‘ اور اب ان کا ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہو تو اصلاحِ احوال کے لیے ایک دوسری تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔
فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ
’’تو ایک حَکَم مرد کے خاندان سے مقرر کرو اور ایک حَکَم عورت کے خاندان سے۔‘‘
اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ
’’اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔‘‘
’’اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا‘‘ سے مراد زَوجین بھی ہو سکتے ہیں اور حکمین بھی۔یعنی ایک تو یہ کہ اگر واقعتا شوہر اور بیوی موافقت چاہتے ہیں تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا فرما دے گا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کی خواہش ہوتی ہے کہ معاملہ درست ہوجائے ‘ لیکن کوئی نفسیاتی گرہ ایسی بندھ جاتی ہے جسے کھولنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اب اگر دونوں کے خاندانوں میں سے ایک ایک ثالث آ جائے گا اور وہ دونوں مل بیٹھ کر خیر خواہی کے جذبے سے اصلاحِ احوال کی کوشش کریں گے تو اس گرہ کو کھول سکیں گے۔ یہ دونوں اسبابِ اختلاف کی تحقیق کریں گے‘ میاں بیوی دونوں کے گلے شکوے اور وضاحتیں سنیں گے اوردونوں کو سمجھا بجھا کر تصفیہ کی کوئی صورت نکالیں گے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب میاں بیوی دونوں اصلاح چاہیں گے۔ ’’اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا‘ ‘کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر حکمین نیک نیتی سے اصلاح کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے مابین موافقت‘پیدا فرما دے گا۔ لیکن میرا رجحان پہلی رائے کی طرف زیادہ ہے کہ اس سے مراد میاںبیوی ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾
’’یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور باخبرہے۔‘‘