تحریر

النساء

آیات ۲۶ تا ۴۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

26-28

شریعت اللہ کی رحمت کا مظہر

ویڈیو

یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ وَ یَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ یَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۶﴾ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا ﴿۲۷﴾ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾

تمہید

ان تین آیات میں احکامِ شریعت کے ضمن میں فلسفہ و حکمت کا بیان ہو رہا ہے۔ بعض اوقات احکامِ شریعت کو انسان اپنے اوپر بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے جب حکم دیا جاتا ہے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو تو آدمی کی طبیعت ناگواری محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے شریعت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا ہے۔ ۱۹۷۰ء میں کرسمس کے موقع پر میں لندن میں تھا۔ وہاں میں نے ایک عیسائی دانشور کی تقریر سنی تھی‘ جس نے کہا تھاکہ شریعت لعنت ہے۔ خواہ مخواہ ایک انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ حلال ہے‘ یہ حرام ہے۔ جب وہ حرام سے رُک نہیں سکتا تو اس کا دل میلا ہو جاتا ہے‘ وہ اپنے آپ کو خطاکار سمجھنے لگتا ہے اور مجرم ضمیر (guilty conscience) ہوجاتاہے۔ اس احساس کے تحت وہ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ عیسائیوں کے نزدیک اس ساری خرابی کا سبب یہ ہے کہ آپ نے حرام اور حلال کا فلسفہ چھیڑا۔ اگر سب کام حلال سمجھ لیے جائیں تو کوئی حرام کام کرتے ہوئے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ دنیا میں ایسے ایسے فلسفے بھی موجود ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک فلسفہ احکام یہ ہے:

آیت 26

یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ

’’اللہ چاہتا ہے کہ تمہار ے لیے اپنے احکام واضح کر دے‘‘

وَ یَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ

’’اور تمہیں ہدایت بخشے ان راستوں کی جو تم سے پہلے کے لوگوں کے تھے‘‘

پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں نیکوکاربھی تھے اور بدکار بھی۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم انبیاء و صلحاء اور نیکوکاروں کا راستہ اختیار کرو {صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ} اور دوسرے راستوں سے بچ کر رہو۔

وَ یَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ

’’اور تم پر نظر عنایت فرمائے۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۶﴾

’’اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمالِ حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 27

وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟

’’اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کے ساتھ توجہ‘فرمائے۔‘‘

وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا ﴿۲۷﴾

’’اور وہ لوگ جو شہوات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ حق سے بھٹک کر دور نکل جاؤ۔‘‘

وہ چاہتے ہیں کہ تمہارا رجحان صراطِ مستقیم کے بجائے غلط راستوں کی طرف ہو جائے اور اُدھر ہی تم بھٹکتے چلے جائو۔ آج بھی عورت کی آزادی (Women Lib) کی بنیاد پر اور حقوقِ نسواں کے نام پر دنیا میں جو تحریکیں برپا ہیں یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ حدود و قیود کو توڑ کر جنسی بے راہروی پھیلانے کی ایک عظیم سازش ہے جو دنیا میں چل رہی ہے۔

آیت 28

یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ

’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ کو ہلکاکرے۔‘‘

تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تم پر بوجھ ڈال رہا ہے۔اللہ تو تم پر تخفیف چاہتا ہے‘ تم سے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ اگر تم ان چیزوں پر عمل نہیں کرو گے تو معاشرے میں گندگیاں پھیلیں گی‘ فساد برپا ہو گا‘ جھگڑے ہوں گے‘ بدگمانیاں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اس سب کی روک تھام چاہتا ہے‘ وہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے۔

وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾

’’اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

اس کے اندر کمزوری کے پہلو بھی موجود ہیں۔ جہاں ایک بہت اونچا پہلو ہے کہ اس میں روحِ ربانی پھونکی گئی ہے‘ وہاں اس کے اندر نفس بھی تو ہے‘ جس میں ضعف کے پہلو موجود ہیں۔

29-30

مال اور جان کی حرمت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۲۹﴾ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِیۡہِ نَارًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

آیت 29

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ

’’اے اہل ایمان‘ اپنے مال آپس میں باطل طریقے پر ہڑپ نہ کرو‘‘

اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟

’’سوائے اس کے کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رضامندی سے۔‘‘

تجارت اور لین دین کی بنیاد جب واقعتا باہمی رضامندی پر ہو تو اس سے حاصل ہونے والا منافع جائز اور حلال ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ کی جوتوں کی دکان ہے۔ آپ نے گاہک کو ایک جوتا دکھایا اور اس کی قیمت دو سو روپے بتائی۔ گاہک نے جوتا پسند کیا اور دو سو روپے میں خرید لیا۔ یہ باہمی رضامندی کے سودے کی ایک سادہ سی مثال ہے ۔ ظاہر بات ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ نفع تو آپ نے کمایا ہے۔ آپ نے اس کے لیے محنت کی ہے‘ کہیں سے خرید کر لائے ہیں‘ اسے سٹور میں محفوظ کیا ہے‘ دکان کا کرایہ دیا ہے ‘ لہٰذا یہ منافع آپ کا حق ہے اور گاہک کو اس میں تأمل نہیں ہو گا۔ لیکن اگر آپ یہی جوتا جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسم کھا کرفروخت کرتے اور یوں کہتے کہ میں نے توخود اتنے کا لیا ہے تو اس طرح آپ اپنی ساری محنت بھی ضائع کرتے اور آپ کا منافع بھی ناجائز اور حرام ہوتا۔ اسی طرح معاملت اور لین دین کے وہ تمام طریقے جن کی بنیاد جھوٹ اور دھوکہ دہی پر ہو‘ ناجائز اورحرام ہیں۔

وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ

’’اور نہ اپنے آپ کو قتل کرو۔‘‘

یعنی ایک دوسر ے کو قتل نہ کرو۔ تمدن کی بنیاد دو چیزوں پر ہے‘ احترامِ جان اور احترامِ مال۔ میرے لیے آپ کا مال اور آپ کی جان محترم ہے‘ میں اسے کوئی گزند نہ پہنچاؤں ‘ اور آپ کے لیے میرا مال اور میری جان محترم ہے‘ اسے آپ گزند نہ پہنچائیں۔ اگر ہمارے مابین یہ شریفانہ معاہدہ (Gentlemans agreement) قائم رہے تب تو ہم ایک معاشرے اور ایک ملک میں رہ سکتے ہیں ‘ جہاں اطمینان‘ امن وسکون اور چین ہو گا۔ اور جہاں یہ دونوں احترام ختم ہو گئے‘ جان کا اور مال کا‘ تو ظاہر بات ہے کہ پھر وہاں امن و سکون ‘ چین اور اطمینان کہاں سے آئے گا؟ اس آیت میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور قتل نفس دونوں کو حرام قرار دے کر ان دونوں حرمتوں کو ایک ساتھ جمع کر دیا گیا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا ﴿۲۹﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے۔‘‘

آیت 30

وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا

’’اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا تعدی اور ظلم کے ساتھ‘‘

یعنی یہ دونوں کام ---- باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانا اور قتل نفس۔

فَسَوۡفَ نُصۡلِیۡہِ نَارًا ؕ

’’تو ہم جلد اس کو جھونک دیں گے آگ میں۔‘‘

وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

’’اور یہ چیز اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘

یہ مت سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نوعِ انسانی کے بہت بڑے حصے کو جہنم میں کیسے جھونک دے گا؟ یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔

اگلی دو آیات میں انسانی تمدن کے دو بہت اہم مسائل بیان ہو رہے ہیں‘ جو بڑے گہرے اور فلسفیانہ اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا مسئلہ گناہوں کے بارے میں ہے‘ جن میں کبائر اور صغائر کی تقسیم ہے۔ بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک اور پھر کفر ہے۔ پھر یہ کہ جو فرائض ہیں ان کا ترک کرنا اور جو حرام چیزیں ہیں ان کا ارتکاب کبائر میں شامل ہو گا۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیاں جو انسان سے اکثر ہو جاتی ہیں وہ عموماً صغائر کے زمرے میں آتی ہیں‘ مثلاً آداب میں یا احکام کی جزئیات میں کوئی کوتاہی ہو گئی ‘ یا بغیر کسی ارادے کے کہیں کوئی ایسی بات کہہ بیٹھے کہ جو غیبت کے حکم میں آ گئی ‘وغیرہ وغیرہ۔اس ضمن میں صحت مندانہ رویہ یہ ہے کہ کبائر سے پورے اہتمام کے ساتھ بچا جائے کہ اس سے انسان بالکل پاک ہو جائے۔ فرائض کی پوری ادائیگی ہو‘ محرمات سے مطلق اجتناب ہو ‘ اور یہ جو چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں ان کے بارے میں نہ تو ایک دوسر ے پر زیادہ گرفت اور نکیر کی جائے اور نہ ہی خود زیادہ دل گرفتہ ہو اجائے‘بلکہ ان کے بارے میں توقع رکھی جائے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ ان کے بارے میں استغفار بھی کیا جائے ۔یہی صغائر ہیں جو نیکیوں کے ذریعے سے خود بخود بھی ختم ہوتے رہتے ہیں ۔جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اَعضائے وضو دھوتے ہوئے ان اعضاء کے گناہ دُھل جاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص وضو کرتا ہے تو جب وہ کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اُس کے منہ اور ناک سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں۔ جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے اور اس کی آنکھوں سے اُس کے گناہ نکل جاتے ہیں۔ جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو ا س کے ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ دھل جاتے ہیں۔ جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اُس کے سر اور کانوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ پائوں دھوتا ہے تو اس کے پائوں سے گناہ نکل جاتے ہیں‘ یہاں تک کہ اس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز پڑھنا اس کی نیکیوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ۱

یہ صغیرہ گناہ ہیں جو نیکیوں کے اثر سے معاف ہوتے رہتے ہیں‘ ازروئے الفاظِ قرآنی: {اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ } (ھود:۱۱۴) ’’یقینا نیکیاں برائیوں کو دُور کر دیتی ہیں‘‘۔ ان برائیوں سے مراد کبائر نہیں‘ صغائر ہیں ۔ کبائر توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے (اِلاّماشاء اللہ!) ان کے لیے توبہ کرنی ہو گی۔ اور جو اکبر الکبائر یعنی شرک ہے اس کے بارے میں تو اس سورت میں دو مرتبہ یہ الفاظ آئے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ} (آیت ۴۸ و ۱۱۶) ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ یہ بات تو کبھی معاف نہیں کرے گا گا کہ اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے‘ اور اس کے ماسوا جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا ‘‘۔لیکن ہمارے ہاں مذہب کا جو مسخ شدہ (perverted) تصور موجود ہے اس سے ایک ایسا مذہبی مزاج وجود میں آتا ہے کہ جو کبائر ہیں وہ تو ہو رہے ہیں‘ سود خوری ہو رہی ہے‘ حرام خوری ہو رہی ہے‘ مگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکیر اور گرفت ہو رہی ہے کہ تمہاری داڑھی کیوں شرعی نہیں ہے‘ اور تمہارا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے کیوں ہے؟ وغیرہ ۔قرآن مجید میں اس معاملے کو تین جگہ نقل کیا گیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں درگزر سے بھی کام لو اور یہ کہ بہت زیادہ متفکر بھی نہ ہو۔ اس معاملے میں باہمی نسبت و تناسب پیش نظر رہنی چاہیے۔ فرمایا:

(۱) سنن النسائی‘ کتاب الطھارۃ‘ باب مسح الاذنین مع الرأس … وسنن ابن ماجہ‘ کتاب الطھارۃ وسنتھا‘ باب ثواب الطھور۔ ومسند احمد۔ عن عبداللّٰہ الصنابحیص۔

31

بڑے گناہوں سے بچو، چھوٹے گناہ معاف کردیے جائیں گے

ویڈیو

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾

آیت 31

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ

’’اگر تم اجتناب کرتے رہو گے اُن بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے‘‘

نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ

’’تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو تم سے دور کر دیں گے‘‘

ہم تمہیں ان سے پاک صاف کرتے رہیں گے۔ تم جو بھی نیک کام کرو گے ان کے حوالے سے تمہاری سیّئات خود بخود دھلتی رہیں گی۔

وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾

’’اور تمہیں داخل کریں گے بہت باعزت جگہ پر۔‘‘

یہ مضمون سورۃ الشُوریٰ (آیت۳۷) میں بھی آیا ہے اور پھر سورۃ النجم (آیت ۳۲) میں بھی۔ واضح رہے کہ قرآن حکیم میں اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور آتے ہیں اور یہ مضمون قرآن میں تین بار آیا ہے۔

دوسرا مسئلہ انسانی معاشرے میں انسانوں کے مابین فضیلت کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جیسا تو نہیں بنایا ہے۔ کسی کو خوبصورت بنا دیا تو کسی کو بدصورت۔ کوئی صحیح سالم ہے تو کوئی ناقص الاعضاء ہے۔ کسی کا قد اونچا ہے تو کوئی ٹھگنے قد کا ہے اور لوگ اس پر ہنستے ہیں۔ کسی کو مرد بنا دیا‘ کسی کو عورت۔ اب کوئی عورت اندر ہی اندر کڑھتی رہے کہ مجھے اللہ نے عورت کیوں بنایا تو اس کا حاصل کیا ہو گا؟ اسی طرح کوئی بدصورت انسان ہے یا ٹھگنا ہے یا کسی اور اعتبار سے کمتر ہے اور وہ دوسرے شخص کو دیکھتا ہے کہ وہ تو بڑا اچھا ہے‘ تو اب اس پر کڑھنے کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس پر صبر او رشکر کرے۔ اللہ کا فضل کسی اور پہلو سے بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ ارادہ کرے کہ میں نیکی اور خیر کے کاموں میں آگے بڑھ جائوں‘ میں علم میں آگے بڑھ جائوں۔ اس طرح انسان دوسری چیزوں سے ان چیزوں کی تلافی کر لے جو اسے میسر نہیں ہیں‘ بجائے اس کے کہ ایک منفی نفسیات پروان چڑھتی چلی جائے۔ اس طرح انسان احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہنے سے طرح طرح کی ذہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ذہنی الجھنوں‘ محرومیوں اور ناکامیوں کے احساسات کے تحت انسان اپنا ذہنی توازن تک کھو بیٹھتا ہے۔ چنانچہ دیکھئے اس ضمن میں کس قدر عمدہ تعلیم دی جا رہی ہے :

32

حسد مت کرو

ویڈیو

وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۳۲﴾

آیت 32

وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ

’’اور تمنا نہ کیا کرو اُس شے کی جس کے ذریعے سے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دے دی ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو ان کی خلقی صفات کے اعتبار سے دوسروں پر فضیلت دی ہے۔ آدمی کی یہ ذہنیت کہ جہاں کسی دوسرے کو اپنے مقابلہ میں کسی حیثیت سے بڑھا ہوا دیکھے بے چین ہو جائے‘ اس کے اندر حسد‘ رقابت اور عداوت کے جذبات پیدا کر دیتی ہے۔ اس آیت میں اسی ذہنیت سے بچنے کی ہدایت فرمائی جارہی ہے۔ فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو مرد بنایا‘ کسی کو عورت۔ یہ چیز بھی خلقی ہے اور کسی عورت کی مرد بننے یا کسی مرد کی عورت بننے کی تمنا نری حماقت ہے۔ البتہ دنیا میں قسمت آزمائی اور جدوجہد کے مواقع سب کے لیے موجود ہیں۔

لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ

’’مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں گے۔‘‘

وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ

’’اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو وہ کمائیں گی۔‘‘

یعنی جہاں تک خیرات و حسنات یا سیئات و منکرات کا معاملہ ہے‘ مرد و زن میں بالکل مساوات ہے۔ مرد نے جو نیکی کمائی وہ اس کے لیے ہے اور عورت نے جو نیکی کمائی وہ اس کے لیے ہے۔ مسابقت کا یہ میدان دونوں کے لیے کھلا ہے ۔ عورت نیکی میں مرد سے آگے نکل سکتی ہے۔ کروڑوں مرد ہوں گے جو قیامت کے دن حضرت خدیجہ‘ حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہؓ کے مقام پر رشک کریں گے اور ان کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ چنانچہ آدمی کا طرزِ عمل تسلیم و رضا کا ہونا چاہیے کہ جو بھی اللہ نے مجھے بنا دیا اور جوکچھ اس نے مجھے عطا فرمایا اس حوالے سے مجھے بہتر سے بہتر عمل کرنا ہے۔ میرا ’’شاکلہ‘‘ تو اللہ کی طرف سے آ گیا ہے‘ جس سے میں تجاوز نہیں کر سکتا: {قُلۡ کُلٌّ یَّعۡمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ؕ} (بنی اسرائ‘یل:۸۴) ’’آپؐ کہہ دیجئے کہ ہر شخص کام کرتا ہے اپنے شاکلہ کے مطابق‘‘۔ ہم سورۃ البقرۃ میں بھی پڑھ چکے ہیں: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ} (آیت ۲۸۶) ’’اللہ تعالیٰ نہیں ذمہ دار ٹھہرائے گا کسی جان کو مگر اُس کی وسعت کے مطابق۔‘‘

سورۃ النساء کی زیر مطالعہ آیت سے بعض لوگ یہ مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورتیں بھی مال کما سکتی ہیں۔ یہ بات سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید میں صرف ایک مقام (البقرۃ:۲۶۷) پر ’’کسب‘‘ کا لفظ معاشی جدوجہد اور معاشی کمائی کے لیے آیا ہے : {اَنْفِقُوْا مِنْ طَـیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ} ’’ اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو‘‘ ۔ باقی پورے قرآن میں ’’کسب‘‘ جہاں بھی آیا ہے اعمال کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ کسبِ حسنات نیکیاں کمانا ہے اور کسبِ سیئات بدیاں کمانا۔ آپ اس آیت کے الفاظ پر دوبارہ غور کیجیے : {لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ} ’’مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو انہوں نے کمایا‘ اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو انہوں نے کمایا‘‘۔ تو کیا ایک عورت کی تنخواہ اگر دس ہزار ہے تو اسے اس میں سے پانچ ہزار ملیں گے؟ نہیں‘ بلکہ اسے پوری تنخواہ ملے گی۔ لہٰذا اس آیت میں ’’کسب‘‘ کا اطلاق دُنیوی کمائی پر نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک عورت کی معاشی جدوجہد کا تعلق ہے ایک خاتون کوئی کام کرتی ہے یا کہیں ملازمت کرتی ہے تو اگر اس میں کوئی حرام پہلو نہیں ہے ‘ شریفانہ جاب ہے‘ اور وہ ستر و حجاب کے آداب کو بھی ملحوظ رکھتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ جو بھی کمائی ہو گی وہ پوری اس کی ہو گی‘ اس میں اس کا حصہ تو نہیں ہو گا۔ البتہ یہ اسلوب جزائے اعمال کے لیے آتا ہے کہ انہیں ان کی کمائی میں سے حصہ ملے گا۔ اس لیے کہ اعمال کے مختلف مراتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس عمل میں خلوصِ نیت کتنا تھا اورآداب کس حد تک ملحوظ رکھے گئے تھے۔ ہم سورۃ البقرۃ میں حج کے ذکر میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ {اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ} (آیت ۲۰۲) یعنی جو انہوں نے کمایا ہو گا اس میں سے انہیں حصہ ملے گا۔اسی طرح یہاں پر بھی اکتساب سے مراد اچھے یا برے اعمال کمانا ہے۔ یعنی اخلاقی سطح پر اور انسانی عزت و تکریم کے لحاظ سے عورت اور مرد برابر ہیں‘ لیکن معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے جو تقسیم کار رکھی ہے اس کے اعتبار سے فرق ہے۔ اب اگر عورت اس فرق کو قبول کرنے پر تیار نہ ہو ‘ مفاہمت پر رضامند نہ ہو‘ اور وہ اس پر کڑھتی رہے اور مرد کے بالکل برابر ہونے کی کوشش کرے تو ظاہر ہے کہ معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوجائے گا۔

وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ

’’اور اللہ سے اُس کا فضل طلب کرو۔‘‘

یعنی جو فضیلت اللہ نے دوسروں کو دے رکھی ہے اس کی تمنا نہ کرو‘ البتہ اُس سے فضل کی دعا کرو کہ اے اللہ! تو نے اس معاملے میں مجھے کمتر رکھا ہے‘ تو مجھے دوسرے معاملات کے اندر ہمت دے کہ میں ترقی کروں۔ اللہ تعالیٰ جس پہلو سے مناسب سمجھے گا اپنا فضل تمہیں عطا فرما دے گا۔ وہ بہت سے لوگوں کو کسی اور پہلو سے نمایاں کردیتا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۳۲﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔‘‘

33

حق دار کو حق دو

ویڈیو

وَ لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ؕ وَ الَّذِیۡنَ عَقَدَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَاٰتُوۡہُمۡ نَصِیۡبَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا ﴿٪۳۳﴾

آیت 33

وَ لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ ؕ

’’اور ہر ایک کے لیے ہم نے وارث مقرر کر دیے ہیں جو بھی والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔‘‘

قانونِ وراثت کی اہمیت کو دیکھئے کہ اب آخر میں ایک مرتبہ پھر اس کا ذکر فرمایا۔

وَ الَّذِیۡنَ عَقَدَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَاٰتُوۡہُمۡ نَصِیۡبَہُمۡ ؕ

’’اور جن کے ساتھ تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کو ان کا حصہ دو۔‘‘

تقسیم وراثت کے احکام کے حوالے سے ایک یہ سوال سامنے آیا کہ جن لوگوں کا آپس میں بھائی چارہ ہے یا مواخات کا رشتہ ہے (مدینہ منورہ میں رسول اللہﷺ نے ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا تھا) تو کیا ان کا وراثت میں بھی حصہ ہے؟ اس ضمن میں یہاں وضاحت کر دی گئی کہ وراثت تو اُسی قاعدہ کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہونی چاہیے جو ہم نے مقرر کر دیا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ تمہارے دوستی اور بھائی چارے کے عہد و پیمان ہیں‘ یاجو منہ بولے بھائی یا بیٹے ہیں ان کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے‘ البتہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ جو بھلائی کرنا چاہو کر سکتے ہو‘ انہیں جو کچھ دینا چاہو دے سکتے ہو‘ اپنی وراثت میں سے بھی کچھ وصیت کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ لیکن جو قانونِ وراثت طے ہو گیا ہے اُس میں کسی ترمیم و تبدیلی کی گنجائش نہیں۔وراثت میں حق دار کوئی اور نہیں ہوگا سوائے اُس کے جس کو اللہ نے مقرر کر دیا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدًا ﴿٪۳۳﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘

اب آ رہی ہے وہ کانٹے دار آیت جو عورتوں کے حلق سے بہت مشکل سے اُترتی ہے اور اکثر کانٹا بن کر اٹک جاتی ہے۔ اب تک اس ضمن میں جو باتیں آئیں وہ دراصل اس کی تمہید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پہلی تمہید سورۃ البقرۃ میں آ چکی ہے: {وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ } (آیت۲۲۸) ’’اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق‘ البتہ مردوں کے لیے اُن پر ایک درجہ فوقیت کا ہے‘‘۔ وہاں صرف یہ کہہ کر بات چھوڑ دی گئی۔ اس کے بعد ابھی آیت ۳۲ میں ہم نے پڑھا: {وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ } ’’اور تمنا نہ کیا کرو اُس شے کی جس کے ذریعے سے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دے دی ہے‘‘۔یہ ہدایت عورتوں کے لیے مزید ذہنی تیاری کی غرض سے دی گئی۔ اور اب دو ٹوک انداز میں ارشاد ہو رہا ہے:

34-35

نیک بیوی اپنے شوہر کی تابعدار ہوتی ہے

ویڈیو

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ؕ وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ فَعِظُوۡہُنَّ وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا ﴿۳۴﴾ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾

آیت 34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ

’’مرد عورتوں پر حاکم ہیں‘‘

یہ ترجمہ میں زور دے کر کر رہا ہوں۔ اس لیے کہ یہاں قَامَ‘ ’عَلٰی‘ کے صلہ کے ساتھ آ یاہے ۔ قَامَ ’بِ‘ کے ساتھ آئے گا تو معنیٰ ہوں گے ’’کسی شے کو قائم کرنا ‘‘۔اسی سورۂ مبارکہ میں آگے چل کر آیت ۱۳۵ میں یہ الفاظ آئیں گے : {کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ} ’’عدل کو قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہو جاؤ!‘‘ جبکہ قَامَ عَلٰی کے معنی کسی پر مسلط ہونے کے ہیں‘یعنی حاکم اور منتظم ہونا۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ سے یہ واضح ہدایت ملتی ہے کہ گھر کے ادارے میں حاکم ہونے کی حیثیت مرد کو حاصل ہے‘ سربراہِ خاندان مرد ہے‘ عورت نہیں ہے۔ عورت کو بہرحال اس کے ساتھ ایک وزیر کی حیثیت سے کام کرنا ہے۔ یوں تو ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میری بات مانی جائے۔ گھر کے اندر مرد بھی یہ چاہتا ہے اور عورت بھی۔ لیکن آخر کار کس کی بات چلے گی؟ یا تو دونوں باہمی رضامندی سے کسی مسئلے میں متفق ہو جائیں‘بیوی اپنے شوہر کو دلیل سے‘ اپیل سے‘ جس طرح ہو سکے قائل کرلے تو معاملہ ٹھیک ہوگیا۔لیکن اگر معاملہ طے نہیں ہو رہا تو اب کس کی رائے فیصلہ کن ہو گی؟ مرد کی! لیکن ظاہر ہے عورت کی رائے جب مسترد ہو گی تو اُسے اس سے ایک صدمہ توپہنچے گا۔ اسی صدمے کا اثر کم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورت میں نسیان کا مادہ زیادہ رکھ دیا ہے‘ جو ایک safety valve کا کام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونِ شہادت میں ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کا نصاب رکھا گیا ہے ’’تاکہ ان میں سے کوئی ایک بھول جائے تو دوسری یاد کرا دے‘‘۔ اس پر ہم سورۃ البقرۃ (آیت ۲۸۲) میں بھی گفتگو کر چکے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے گھر کے ادارے کا سربراہ مرد کو بنایا ہے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ مرد اگر اپنی اس حیثیت کا غلط استعمال کرتا ہے ‘ عورت پر ظلم کرتا ہے اور اس کے حقوق ادا نہیں کرتاتو اللہ کے ہاں بڑی سخت پکڑ ہو گی۔ آپ کو ایک اختیار دیا گیا ہے اور آپ اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ اس کو ظلم کا ذریعہ بنا رہے ہیں تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کو مل جائے گی۔

بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ

’’بسبب اُس فضیلت کے جو اللہ نے بعض کو بعض پر دی ہے‘‘

مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفو ق حاصل ہے‘ جن کی بنا پر قو امیت کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی‘ہے۔

وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ

’’اور بسبب اس کے کہ جو وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال۔‘‘

اسلام کے معاشرتی نظام میں کفالتی ذمہ داری تمام تر مرد کے اوپر ہے۔شادی کے آغاز ہی سے مرد اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ شادی اگرچہ مرد کی بھی ضرورت ہے اور عورت کی بھی‘ لیکن مرد مہر دیتا ہے‘ عورت مہر وصول کرتی ہے۔ پھر گھر میں عورت کا نان نفقہ مرد کے ذمے ہے۔

فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ

’’پس جو نیک بیویاں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں‘‘

مرد کو قوامیت کے منصب پر فائز کرنے کے بعد اب نیک بیویوں کا رویہ بتایاجا رہا ہے۔ یوں سمجھئے کہ قرآن کے نزدیک ایک خاتونِ خانہ کی جو بہترین روش ہونی چاہیے وہ یہاں تین الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے : {فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ}۔

حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ

’’غیب میں حفاظت کرنے والیاں‘‘

وہ مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے اموال اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ ظاہر ہے مرد کا مال تو گھر میں ہی ہوتا ہے‘ وہ کام پر چلا گیا تو اب وہ بیوی کی حفاظت میں ہے۔ اسی طرح بیوی کی عصمت درحقیقت مرد کی عزت ہے۔ وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرتی ہے۔ اسی طرح مرد کے راز ہوتے ہیں ‘ جن کی سب سے زیادہ بڑھ کر رازدان بیوی ہوتی ہے۔ تو یہ حفاظت تین اعتبارات سے ہے‘ شوہر کے مال کی ‘ شوہر کی عزت و ناموس کی‘ اور شوہر کے رازوں کی ۔

بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ؕ

’’اللہ کی حفاظت سے۔‘‘

اصل حفاظت و نگرانی تو اللہ کی ہے‘ لیکن انسان کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی پڑتی ہے۔ جیسے رازق تو اللہ ہے ‘ لیکن انسان کو کام کر کے رزق کمانا پڑتا ہے۔

وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ

’’اور وہ خواتین جن کے بارے میں تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو‘‘

اگرکسی عورت کے رویے سے ظاہر ہو رہا ہو کہ یہ سرکشی‘ سرتابی‘ ضد اور ہٹ دھرمی کی روش پر چل پڑی ہے‘ شوہر کی بات نہیں مان رہی بلکہ ہر صورت میں اپنی بات منوانے پر مصر ہے اور اس طرح گھر کی فضا خراب کی ہوئی ہے تو یہ نشوز ہے۔ اگر عورت اپنی اس حیثیت کو ذہناً تسلیم نہ کرے کہ وہ شوہر کے تابع ہے تو ظاہر بات ہے کہ مزاحمت (friction) ہو گی اور اس کے نتیجے میں گھر کے اندر ایک فساد پیدا ہو گا۔ ایسی صورت حال میں مرد کو قوام ہونے کی حیثیت سے بعض تادیبی اختیارات دیے گئے ہیں‘ جن کے تین مراحل ہیں:

فَعِظُوۡہُنَّ

’’پس ان کونصیحت کرو‘‘

پہلا مرحلہ سمجھانے بجھانے کا ہے‘ جس میں ڈانٹ ڈپٹ بھی شامل ہے۔

وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ

’’اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو‘‘

اگر نصیحت و ملامت سے کام نہ چلے تو دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ان سے اپنے بستر علیحدہ کر لو اور اس کے ساتھ تعلق زن و شو کچھ عرصہ کے لیے منقطع کر لو۔

وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ

’’اور ان کو مارو۔‘‘

اگر اب بھی وہ اپنی روش نہ بدلیں تو مرد کو جسمانی سزا دینے کا بھی اختیار ہے۔ اس ضمن میں آنحضورﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ چہرے پر نہ مارا جائے اور کوئی ایسی مار نہ ہو جس کا مستقل نشان جسم پر پڑے۔ مذکورہ بالا تادیبی ہدایات اللہ کے کلام کے اندر بیان فرمائی گئی ہیں اور انہیں بیان کرنے میں ہمارے لیے کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرتی زندگی کو درست رکھنے کے لیے ان کی ضرورت پیش آئے تو انہیں اختیار کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔

فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ

’’پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف (خواہ مخواہ زیادتی کی) راہ مت تلاش کرو۔‘‘

اگر عورت سرکشی و سرتابی کی روش چھوڑ کر اطاعت کی راہ پر آ جائے تو پچھلی کدورتیں بھلا دینی چاہئیں۔ اس سے انتقام لینے کے بہانے تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا ﴿۳۴﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے‘ بہت بڑا ہے۔‘‘

آیت 35

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا

’’اور اگر تم کو میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو‘‘

’’اب اگر کوئی تدبیر نتیجہ خیز نہ ہو اور ان دونوں کے مابین ضدم ضد ا کی کیفیت پیدا ہو چکی ہو کہ عورت بھی اکڑ گئی ہے‘ مرد بھی اکڑا ہوا ہے‘ اور اب ان کا ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہو تو اصلاحِ احوال کے لیے ایک دوسری تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔

فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ

’’تو ایک حَکَم مرد کے خاندان سے مقرر کرو اور ایک حَکَم عورت کے خاندان سے۔‘‘

اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ

’’اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔‘‘

’’اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا‘‘ سے مراد زَوجین بھی ہو سکتے ہیں اور حکمین بھی۔یعنی ایک تو یہ کہ اگر واقعتا شوہر اور بیوی موافقت چاہتے ہیں تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا فرما دے گا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کی خواہش ہوتی ہے کہ معاملہ درست ہوجائے ‘ لیکن کوئی نفسیاتی گرہ ایسی بندھ جاتی ہے جسے کھولنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اب اگر دونوں کے خاندانوں میں سے ایک ایک ثالث آ جائے گا اور وہ دونوں مل بیٹھ کر خیر خواہی کے جذبے سے اصلاحِ احوال کی کوشش کریں گے تو اس گرہ کو کھول سکیں گے۔ یہ دونوں اسبابِ اختلاف کی تحقیق کریں گے‘ میاں بیوی دونوں کے گلے شکوے اور وضاحتیں سنیں گے اوردونوں کو سمجھا بجھا کر تصفیہ کی کوئی صورت نکالیں گے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب میاں بیوی دونوں اصلاح چاہیں گے۔ ’’اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا‘ ‘کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر حکمین نیک نیتی سے اصلاح کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے مابین موافقت‘پیدا فرما دے گا۔ لیکن میرا رجحان پہلی رائے کی طرف زیادہ ہے کہ اس سے مراد میاںبیوی ہیں۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور باخبرہے۔‘‘

36-40

اسلام کی معاشرتی تعلیمات کا خلاصہ

ویڈیو

وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۣۙ۳۶﴾ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ وَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿ۚ۳۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ مَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا ﴿۳۸﴾ وَ مَاذَا عَلَیۡہِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِہِمۡ عَلِیۡمًا ﴿۳۹﴾ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾

تمہید

اس سے قبل سورۃ البقرۃ آیت ۸۳ میں بنی اسرائیل سے لیے جانے والے میثاق کے حوالے سے اُمہاتِ شریعت یا دین کی بنیادی باتوں کا ذکر بایں الفاظ آیا تھا: ’’اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے‘ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے اور قرابت داروں‘ یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی‘ اور لوگوں سے اچھی بات کہو‘ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو‘‘۔ اب یہ دوسرا مقام آ رہا ہے کہ شریعت کے اندر جو چیزیں اہم تر ہیں اور جنہیں معاشرتی سطح پر مقدم رکھناچاہیے وہ بیان کی جارہی ہیں۔ فرمایا:

آیت 36

وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا

’’اور اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو بھی اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ‘‘

سب سے پہلا حق اللہ کا ہے کہ اُسی کی بندگی اور پرستش کرو‘ اوراُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا

’’اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو‘‘ قرآن حکیم میں چار مقامات ہیں جہاں اللہ کے حق کے فوراً بعد والدین کے حق کا تذکرہ ہے۔ یہ بھی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بہت اہم بنیاد ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک ہو‘ ان کا ادب و احترام ہو‘ ان کی خدمت کی جائے‘ ان کے سامنے آواز پست رکھی جائے۔ یہ بات سورۂ بنی اسرائیل میں بڑی تفصیل سے آئے گی۔ ہمارے معاشرے میں خاندان کے استحکام کی یہ ایک بہت اہم بنیاد ہے۔

وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ

’’اور قرابت داروں‘ یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ‘‘

وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ

’’اور قرابت دار ہمسائے اور اجنبی ہمسائے کے ساتھ‘‘

پہلے عام طور پر محلے ایسے ہی ہوتے تھے کہ ایک قبیلہ ایک ہی جگہ رہ رہا ہے‘ رشتہ داری بھی ہے اور ہمسائیگی بھی۔لیکن کوئی اجنبی ہمسایہ بھی ہو سکتا ہے ۔ جیسے آج کل شہروں میں ہمسائے اجنبی ہوتے ہیں۔

وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ

’’اور ہم نشین ساتھی اور مسافر کے ساتھ‘‘

ایک ہمسائیگی عارضی نوعیت کی بھی ہوتی ہے ۔مثلاً آپ بس میں بیٹھے ہوئے ہیں‘ آپ کے برابر بیٹھا ہوا شخص آپ کا ہمسایہ ہے۔ نیز جو لوگ کسی بھی اعتبار سے آپ کے ساتھی ہیں‘ آپ کے پاس بیٹھنے والے ہیں‘ وہ سب آپ کے حسنِ سلوک کے مستحق ہیں۔

وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ

’’اور وہ لونڈی غلام جو تمہارے ملکِ یمین ہیں (ان کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو)۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾

’’اللہ بالکل پسند نہیں کرتا اُن لوگوں کو جو شیخی خورے اور اکڑنے والے ہوں۔‘‘

آیت 37

الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ

’’جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں‘‘

جن میں یہ شیخی خوری اور اکڑ ہوتی ہے پھر وہ بخیل بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ غرور و تکبرعام طور پر دولت کی بنا پر ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے اگر یہ خرچ ہو گئی تو ہمارا وہ مقام نہیں رہے گا‘ لوگوں کی نظروں میں ہماری عزت نہیں رہے گی۔ لہٰذا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ اس پر انہیں یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں ملامت کریں گے کہ تم بڑے بخیل ہو ‘چنانچہ وہ خود لوگوں کو اس طرح کے مشورے دینے لگتے ہیں کہ بابا اس طرح کھلا خرچ نہ کیا کرو‘ تم خواہ مخواہ پیسے اڑاتے ہو‘ عقل کے ناخن لو‘ کچھ نہ کچھ بچاکے رکھا کرو‘ وقت پر کام آئے گا۔ اس طرح وہ لوگوں کو بھی بخل ہی کا مشورہ دیتے ہیں۔

وَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ

’’اور وہ چھپاتے ہیں اُ س کو جو اللہ نے انہیں اپنے فضل میں سے دیا ہے۔‘‘

اپنی دولت کو چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ دولت ظاہر ہوگی تو کوئی سائل سوال کر بیٹھے گا۔ لہٰذا خود ہی مسکین صورت بنائے رکھتے ہیں کہ کوئی ان کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے۔

وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿ۚ۳۷﴾

’’اور ایسے ناشکروں کے لیے ہم نے بڑا اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

آیت 38

وَ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ رِئَآءَ النَّاسِ

’’اور وہ لوگ (بھی اللہ کو ناپسند ہیں) جو اپنے مال خرچ کرتے ہیں لوگوں کو دکھانے کے لیے‘‘

وَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ

’’اور وہ حقیقت میں ایمان نہیں رکھتے نہ اللہ پر نہ یومِ آخر پر۔‘‘

وَ مَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا ﴿۳۸﴾

’’(ایسے لوگ گویا شیطان کے ساتھی ہیں) اور جس کا ساتھی شیطان ہو جائے تو وہ بہت ہی براساتھی ہے۔‘‘

آیت 39

وَ مَاذَا عَلَیۡہِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ

’’ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور یومِ آخر پر (صدقِ دل سے) ایمان لے آتے‘‘

وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ ؕ

’’اور خرچ کرتے (کھلے دل کے ساتھ) اس میں سے جو اللہ نے انہیں دیا ہے۔‘‘

وَ کَانَ اللّٰہُ بِہِمۡ عَلِیۡمًا ﴿۳۹﴾

’’اور اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح واقف ہے۔‘‘

آیت 40

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ

’’یقینا اللہ کسی پر ذرّے کے ہم وزن بھی ظلم نہیں کرے گا۔‘‘

وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفۡہَا

’’اگر ایک نیکی ہو گی تو اس کو کئی گنا بڑھائے گا‘‘

وَ یُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡہُ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾

’’اور خاص اپنے خزانہ فضل سے مزید بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘

اس سورۂ مبارکہ کی اگلی آیت شہادت علی الناس سے متعلق ہے۔یہ وہی مضمون ہے جوقبل ازیں سورۃ البقرۃ (آیت ۱۴۳) میں بھی آ چکا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں شہداء علی الناس بنایا گیاہے‘ جیسے کہ نبیؐ نے تم پر شہادت دی ہے۔ نبی مکرمﷺ قیامت کے دن کھڑے ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ میرے پاس جو دین آیا تھا میں نے ان تک پہنچا دیا تھا‘ اب یہ اپنے طرزِ عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ یہی بات قیامت کے دن کھڑے ہو کر تمہیں کہنی ہے کہ اے اللہ ہم نے اپنے زمانے کے لوگوں تک تیرا دین پہنچا دیا تھا‘ اب اس کے بعد اپنے طرزِ عمل کے یہ خود جواب دہ ہیں۔ اس حوالے سے ہم سب کو اپنی ذمہ داری کی فکر کرنی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ الٹا وہ ہمارے اوپر مقدمہ کریں کہ اے اللہ ان بدبختوں نے ہمیں تیرا دین نہیں پہنچایا‘ یہ خزانے کے سانپ بن کر بیٹھے رہے۔بہرحال جس کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہو‘ واقعہ یہ ہے کہ اس کے لیے تو یہ ایک بہت بھاری بوجھ ہے۔ اب اس حوالے سے قیامت کے دن کانقشہ دکھایا جا رہا ہے۔

41-42

اللہ کے رسول ﷺ کی اپنی امّت کے خلاف گواہی

ویڈیو

فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾ یَوۡمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ عَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰی بِہِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَ لَا یَکۡتُمُوۡنَ اللّٰہَ حَدِیۡثًا ﴿٪۴۲﴾

آیت 41

فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ

’’تو اُس دن کیا صورت حال ہو گی جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے‘‘

یعنی اُس نبی اور رسول کو گواہ بنا کر کھڑا کریں گے جس نے اس اُمت کو دعوت پہنچائی ہو گی۔

وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾

’’اور (اے نبیﷺ) آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بناکر۔‘‘

یعنی آپؐ کو کھڑے ہو کر کہنا ہو گا کہ اے اللہ ! میں نے ان تک تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ ہماری عدالتی اصطلاح میں اسے استغاثہ کا گواہ (prosecution witness) کہا جاتا ہے۔ گویا عدالتِ خداوندی میں نبی مکرمﷺ استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے پیش ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ‘ تیرا پیغام جو مجھ تک پہنچا تھا میں نے انہیں پہنچادیا تھا‘ اب یہ خود ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ چنانچہ اپنی ہی قوم کے خلاف گواہی آ گئی نا؟ یہاں الفاظ نوٹ کر لیجیے : عَلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ شَہِیْدًا۔ اور عَلٰی ہمیشہ مخالفت کے لیے آتا ہے۔ ادھر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے شفاعت کی امید میں بیٹھے ہیں اور اُدھرہمارے خلاف مقدمہ قائم ہونے چلا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ دربارِ خداوندی میں ہمارے خلاف گواہی دیں گے کہ اے اللہ! میں نے تیرا دین ان کے سپرد کیا تھا‘ اس کے بعد اسے دنیا میں پھیلانا ان کا کام تھا‘ لیکن انہوں نے خود دین کو چھوڑ دیا۔ سورۃ الفرقان میں اس حوالے سے بہت سخت الفاظ آئے ہیں: {وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾} ’’اور رسولؐ کہیں گے کہ پروردگار‘میری قوم نے اس قرآن کو ترک کر دیا تھا‘‘۔ سورۃ النساء کی آیت زیر مطالعہ کے بارے میں ایک واقعہ بھی ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ! انہوں نے عرض کیا حضورؐ آپ کو سناؤں؟ آپؐ پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ فرمایا: ہاں ‘لیکن مجھے کسی دوسرے سے سن کر کچھ اور حظ حاصل ہوتا ہے۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ النساء پڑھنی شروع کی۔حضورﷺ ‘بھی سن رہے تھے‘ باقی اور صحابہؓ‘ بھی ہوں گے اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ‘گردن جھکائے پڑھتے جا رہے تھے۔ جب اس آیت پر پہنچے {فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾} تو حضورﷺ نے فرمایا: حَسْبُکَ‘ حَسْبُکَ (بس کرو‘ بس کرو!) عبداللہ بن مسعودؓ نے سر اٹھا کر دیکھا تو حضورﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔حضورﷺ کے یہ آنسو ظاہر ہے اس احساس کی وجہ سے تھے کہ مجھے اپنی قوم کے خلاف گواہی دینی ہو گی۔

آیت 42

یَوۡمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ عَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰی بِہِمُ الۡاَرۡضُ ؕ

’’اُس دن تمنا کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفرکیا تھا اور رسول کی نافرمانی کی تھی کہ کاش ان کے سمیت زمین برابرکردی جائے۔‘‘

یعنی کسی طرح زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دفن ہو جائیں‘ ہمیں نسیاً منسیّا کر دیا جائے۔

ؕ وَ لَا یَکۡتُمُوۡنَ اللّٰہَ حَدِیۡثًا ﴿٪۴۲﴾

’’اور وہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپا نہیں سکیں گے۔‘‘

43

شراب کی حرمت کے حوالے سے دوسرا حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغۡتَسِلُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۴۳﴾

آیت 43

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡتُمۡ سُکٰرٰی

’’اے اہل ایمان‘ نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشے کی حالت میں ہو‘‘

حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ

’’یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جو کچھ تم کہہ رہے ہو‘‘

سورۃ البقرۃ (آیت ۲۱۹) میں شراب اور جوئے کے بارے میں محض اظہارِ ناراضگی فرمایا گیا تھاکہ {اِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا ؕ } ’’ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے‘‘۔ اب اگلے قدم کے طو رپر شراب کے اندر جو خباثت‘ شناعت اور برائی کا پہلو ہے اسے ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جایا کرو۔ جب تک نشہ اُتر نہ جائے اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اُس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو۔ چونکہ شراب کی حرمت کا حکم ابھی نہیں آیا تھا لہٰذا بعض اوقات لوگ نشے کی حالت ہی میں نماز پڑھنے کھڑے ہو جاتے اور کچھ کا کچھ پڑھ جاتے۔ ایسے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں کہ کسی نے نشے میں نماز پڑھائی اور ’’لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘‘ کے بجائے ’’اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘‘ پڑھ دیا۔ اس پر خاص طو رپر یہ آیت نازل ہوئی ۔ یہاں پر {حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ} کے الفاظ خصوصی طور پر قابلِ غور ہیں کہ جب تک تم شعور کے ساتھ سمجھ نہ رہے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو!اس میں ایک اشارہ ادھر بھی ہو گیا کہ بے سمجھے نماز مت پڑھا کرو! یعنی ایک تو مدہوشی کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آ رہا اور غلط سلط پڑھ رہے ہیں تو اس سے روکا جا رہا ہے‘ اور ایک سمجھتے ہی نہیں کہ نماز میں کیا پڑھ رہے ہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم کہہ کیا رہے ہو۔ اب جنہیں قرآن مجید کے معنی نہیں آتے‘ نماز کے معنی نہیں آتے‘ انہیں کیا پتا کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہے ہیں!

وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغۡتَسِلُوۡا ؕ

’’اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے قریب نہ جائو) جب تک غسل نہ کر لو‘ اِلاّ یہ کہ راستے سے گزرتے ہوئے۔‘‘

اگر تم نے اپنی بیویوں سے مباشرت کی ہو یا احتلام وغیرہ کی شکل ہو گئی ہو تب بھی تم نماز کے قریب مت جائو جب تک کہ غسل نہ کر لو۔ ’’ اِلاَّ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ‘‘ کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ بعض فقہاء اور مفسرین نے اس کا یہ مفہوم سمجھا ہے کہ حالتِ جنابت میں مسجد میں نہ جانا چاہیے‘ اِلا یہ کہ کسی کام کے لیے مسجد میں سے گزرنا ہو‘ جبکہ بعض نے اس سے مراد سفر لیا ہے۔

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ

’’اور اگر تم بیمار ہو یا سفرمیں ہو‘‘

آدمی کو تیز بخار ہے یا کوئی اور تکلیف ہے جس میں غسل کرنا مضر ثابت ہو سکتا ہے تو تیمم کی اجازت ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص سفر میں ہے اور اسے پانی دستیاب نہیں ہے تو وہ تیمم کر لے۔

اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ

’’یا تم میں سے کوئی قضاءِ حاجت کے بعد آیا ہو‘‘

اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ

’’یا تم نے عورتوں کے ساتھ مباشرت کی ہو‘‘

فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً

’’پھر تم پانی نہ پاؤ‘‘

فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا

’’تو پاک مٹی کا قصد کرو‘‘

یعنی وہ تمام صورتیں جن میں غسل یا وضو واجب ہے‘ ان میں اگر بیماری غسل سے مانع ہو‘ حالت سفر میں نہانا ممکن نہ ہو‘ قضائے حاجت یا عورتوں سے مباشرت کے بعد پانی دستیاب نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا جائے۔

فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ ؕ

’’اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۴۳﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا ‘ بخشنے والا ہے۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے لیلۃ القدر کی جو دعا مروی ہے اس میں یہی لفظ آیا ہے : حدیث((اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ)) ’’اے اللہ‘ تو معاف فرمانے والا ہے ‘ معافی کو پسند کرتا ہے‘ پس تو مجھے معاف فرما دے!‘‘

سورۃ النساء کی ان تینتالیس آیات میں وہی سورۃ البقرۃ کا انداز ہے کہ شریعت کے احکام مختلف گوشوں میں ‘ مختلف پہلوؤں سے بیان ہوئے۔ عبادات کے ضمن میں تیمم کا ذکر آگیا‘ وراثت کا قانون پوری تفصیل سے بیان ہو گیا اور معاشرے میں جنسی بے راہ روی کی روک تھام کے لیے احکام آ گئے‘ تاکہ ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں آئے جہاں ایک مستحکم خاندانی نظام ہو۔ اب آگے ایک مختصر سا خطاب اہل کتاب کے بارے میں آ رہا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے