تحریر

النساء

آیات ۱۵ تا ۲۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

15-16

بدکاری کی سزا

ویڈیو

وَ الّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ فَاسۡتَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرۡبَعَۃً مِّنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمۡسِکُوۡ ہُنَّ فِی الۡبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ یَجۡعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا ﴿۱۵﴾ وَ الَّذٰنِ یَاۡتِیٰنِہَا مِنۡکُمۡ فَاٰذُوۡہُمَا ۚ فَاِنۡ تَابَا وَ اَصۡلَحَا فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡہُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۶﴾

تمہید

اب اسلامی معاشرے کی تطہیر کے لیے احکام دیے جا رہے ہیں۔ مسلمان جب تک مکہ میں تھے تو وہاں کفار کا غلبہ تھا۔ مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ حیثیت دی کہ وہ اپنے اجتماعی معاملات کو سنوارنا شروع کریں۔ چنانچہ ان سورتوں میں ایک ایک کر کے معاشرتی معاملات اور سماجی مسائل کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ اسلامی معاشرے میں عورت اور مرد کی عفت و عصمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا معاشرے میں جنسی بے راہ روی کی روک تھام کے لیے کچھ ابتدائی احکام یہاں اس سورت میں آئے ہیں۔اس ضمن میں تکمیلی احکام سورۃ النور میں آئیں گے۔ واضح رہے کہ معاشرتی معاملات کے ضمن میں احکام پہلے سورۃ النساء‘ پھر سورۃ الاحزاب‘ پھر سورۃ النور اور پھرسورۃ المائدۃ میں بتدریج آئے ہیں۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ سورۃ الاحزاب اورسورۃ النور کو مصحف میں کافی آگے رکھا گیا ہے اور یہاں پر سورۃ النساء کے بعد سورۃ المائدۃ آگئی ہے۔

آیت 15

وَ الّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ

’’اور تمہاری عورتوں میں سے جوکسی بے حیائی کا ارتکاب کریں‘‘

فَاسۡتَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرۡبَعَۃً مِّنۡکُمۡ ۚ

’’تو اُن پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ۔‘‘

فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمۡسِکُوۡ ہُنَّ فِی الۡبُیُوۡتِ

’’پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند کردو‘‘

حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الۡمَوۡتُ

’’یہاں تک کہ موت ان کو لے جائے‘‘

اسی حالت میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔

اَوۡ یَجۡعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا ﴿۱۵﴾

’’یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے۔‘‘

بدکاری کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا۔ بعدمیں سورۃ النور میں حکم آ گیا کہ بدکاری کرنے والے مرد و عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایسی لڑکیوں یا عورتوں کا تذکرہ ہے جو مسلمانوں میں سے تھیں مگر ان کا بدکاری کا معاملہ کسی غیر مسلم مرد سے ہوگیا جو اسلامی معاشرے کے دبائو میں نہیں ہے۔ ایسی عورتوں کے متعلق یہ ہدایت فرمائی گئی کہ انہیں تاحکم ثانی گھروں کے اندر محبوس رکھا جائے۔

آیت 16

وَ الَّذٰنِ یَاۡتِیٰنِہَا مِنۡکُمۡ فَاٰذُوۡہُمَا ۚ

’’اور جو دونوں تم میں سے اس (بدکاری) کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ۔‘‘

اگر بدکاری کا ارتکاب کرنے والے مرد و عورت دونوں مسلمانوں میں سے ہی ہوں تو دونوں کو اذیت دی جائے۔ یعنی ان کی توہین و تذلیل کی جائے اور مارا پیٹا جائے۔

فَاِنۡ تَابَا وَ اَصۡلَحَا فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡہُمَا ؕ

’’پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو ان کو چھوڑدو۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۶﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والاہے۔‘‘

واضح رہے کہ یہ بالکل ابتدائی احکام ہیں۔ اسی لیے ان کی وضاحت میں تفسیروں میں بہت سے اقوال مل جائیں گے۔ اس لیے کہ جب حدود نافذ ہو گئیں تو یہ عبوری اور عارضی احکام منسوخ قرار پائے۔ جیسے کہ سورۃ النساء میں قانونِ وراثت نازل ہونے کے بعد سورۃ البقرۃ میں وارد شدہ وصیت کا حکم ساقط ہو گیا ۔

17-18

توبہ کا بیان

ویڈیو

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾ وَ لَیۡسَتِ التَّوۡبَۃُ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ ۚ حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّیۡ تُبۡتُ الۡـٰٔنَ وَ لَا الَّذِیۡنَ یَمُوۡتُوۡنَ وَ ہُمۡ کُفَّارٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۸﴾

آیت 17

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ

’’اللہ کے ذمے ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو کوئی بری حرکت کر بیٹھتے ہیں جہالت اور نادانی میں‘‘

ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ

’’پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں‘‘ ایک صاحبِ ایمان پر کبھی ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ خارجی اثرات اتنے شدید ہوجائیں یا نفس کے اندر کا ہیجان اسے جذبات سے مغلوب کر دے اور وہ کوئی گناہ کا کام کر گزرے۔ لیکن اس کے بعد اسے جیسے ہی ہوش آئے گا اس پر شدید ندامت طاری ہوجائے گی اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے۔

فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’تو یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا۔‘‘

وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾

’’اور اللہ تعالیٰ باخبر ہے اور حکیم و دانا ہے۔‘‘

آیت 18

وَ لَیۡسَتِ التَّوۡبَۃُ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ ۚ

’’اور ایسے لوگوں کا کوئی حق نہیں ہے توبہ کا جو برے کام کیے چلے جاتے ہیں۔‘‘

مسلسل حرام خوریاں کرتے رہتے ہیں‘ زندگی بھر عیش اُڑاتے رہتے ہیں۔

حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّیۡ تُبۡتُ الۡـٰٔنَ

’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں‘‘

وَ لَا الَّذِیۡنَ یَمُوۡتُوۡنَ وَ ہُمۡ کُفَّارٌ

’’اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کفر کی حالت میں ہی مر جاتے ہیں۔‘‘

ان کی توبہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔

اُولٰٓئِکَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۸﴾

’’ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘

19-21

خواتین کے حقوق

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ وَ لَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ۚ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۹﴾ وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّکَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّ اٰتَیۡتُمۡ اِحۡدٰہُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ اَتَاۡخُذُوۡنَہٗ بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿۲۰﴾ وَ کَیۡفَ تَاۡخُذُوۡنَہٗ وَ قَدۡ اَفۡضٰی بَعۡضُکُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ وَّ اَخَذۡنَ مِنۡکُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۲۱﴾

آیت 19

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ

’’اے اہل ایمان! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی وراثت میں لے لو۔‘‘

یہ بھی عرب جاہلیت کی ایک مکروہ رسم تھی جس میں عورتوں کے طبقے پر شدید ظلم ہوتا تھا ۔ ہوتا یوں تھا کہ ایک شخص فوت ہوا ہے ‘ اس کی چار پانچ بیویاں ہیں‘ تو اس کا بڑا بیٹا وارث بن گیا ہے۔ اب اس کی حقیقی ماں تو ایک ہی ہے‘ باقی سوتیلی مائیں ہیں‘ تو وہ ان کو وراثت میں لے لیتا تھا کہ یہ میرے قبضے میں رہیں گی‘ بلکہ وہ لوگ اپنی سوتیلی ماؤں سے شادیاں بھی کر لیتے تھے یا بغیر نکاح اپنے گھروں میں ڈالے رکھتے تھے‘ یا پھر یہ کہ اختیار اپنے ہاتھ میں رکھ کر ان کی شادیاں کہیں اور کرتے تھے تو مہر خود لے لیتے تھے۔ چنانچہ فرمایا کہ اے اہل ایمان‘ تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن بیٹھو! جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا وہ آزاد ہے۔ عدت گزار کر وہ جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کر لے۔

وَ لَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ

’’اور نہ یہ جائز ہے کہ تم انہیں روکے رکھو تاکہ تم ان سے واپس لے لو اس کا کچھ حصہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے‘‘ نکاح کے وقت تو بڑے چاؤ تھے ‘ بڑے لاڈ اٹھائے جا رہے تھے اور کیا کیا دے دیا تھا‘ اور اب وہ سب واپس ہتھیانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں‘ انہیں تنگ کیا جا رہا ہے‘ ذہنی طور پر تکلیف پہنچائی جا رہی ہے۔

اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ۚ

’’ہاں اگر وہ صریح بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں (تو تمہیں ان کو تنگ کرنے کا حق ہے)۔‘‘

اگر کسی سے صریح حرام کاری کا فعل سرزد ہو گیا ہو اور اس پر اسے کوئی سزا دی جائے (جیسے کہ اوپر آ چکا ہے فَاٰذُوْہُمَا )اس کی تو اجازت ہے۔ اس کے بغیر کسی پر زیادتی کرنا جائز‘نہیں ہے۔ خاص طو رپر اگر نیت یہ ہو کہ میں اس سے اپنا مہر واپس لے لوں تو یہ انتہائی کمینگی‘ہے۔

وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ

’’اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے پر معاشرت اختیار کرو۔‘‘

ان کے ساتھ بھلے طریقے پر ‘خوش اسلوبی سے‘ نیکی اور راستی کے ساتھ گزر بسر کرو ۔

فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۹

’’اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو بعید نہیں کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور اس میں اللہ نے تمہارے لیے بہت کچھ بہتر ی رکھ دی ہو۔‘‘

اگر تمہیں کسی وجہ سے اپنی عورتیں ناپسند ہو گئی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کسی شے کو تم ناپسند کرو‘ درآنحالیکہ اللہ نے اسی میں تمہارے لیے خیر کثیر رکھ دیا ہو۔ ایک عورت کسی ایک اعتبار سے آپ کے دل سے اُتر گئی ہے‘ طبیعت کا میلان نہیں رہا ہے‘ لیکن پتا نہیں اس میں اور کون کون سی خوبیاں ہیں اور وہ کس کس اعتبار سے آپ کے لیے خیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ تو اس معاملے کو اللہ کے حوالے کرو‘ اور ان کے حقوق ادا کرتے ہوئے‘ ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسرکرو۔ البتہ اگر معاملہ ایسا ہو گیا ہے کہ ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے تو طلاق کا راستہ کھلا ہے‘ شریعت اسلامی نے اس میں کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔ یہ مسیحیت کی طرح کا کوئی غیر معقول نظام نہیں ہے کہ طلاق ہو ہی نہیں سکتی۔

آیت 20

وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّکَانَ زَوۡجٍ ۙ

’’اور اگر تمہارا ارادہ ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کاہو‘‘

اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہو کہ ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانی ہے۔

وَّ اٰتَیۡتُمۡ اِحۡدٰہُنَّ قِنۡطَارًا

’’اور ان میں سے کسی ایک کو تم نے ڈھیروں مال دیاہو‘‘

فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ

’’تو اس میں سے کوئی بھی شے واپس نہ لو۔‘‘

عورتوں کو تم نے جو مہر دیا تھا وہ ان کا ہے‘ اب اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے۔

اَتَاۡخُذُوۡنَہٗ بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿۲۰﴾

’’کیا تم اسے واپس لو گے بہتان لگا کر اور صریح گناہ کے مرتکب ہو کر؟‘‘

آیت 21

وَ کَیۡفَ تَاۡخُذُوۡنَہٗ وَ قَدۡ اَفۡضٰی بَعۡضُکُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ

’’اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کر چکے ہو؟‘‘

کچھ عقل کے ناخن لو‘ کچھ شعور اور شرافت کا ثبوت دو۔ تم ان سے وہ مال کس طرح واپس لینا چاہتے ہوجبکہ تمہارے مابین دنیا کا انتہائی قریبی تعلق قائم ہو چکا ہے۔

وَّ اَخَذۡنَ مِنۡکُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۲۱﴾

’’اور وہ تم سے مضبوط قول و قرار لے چکی‘ہیں۔‘‘

یہ قول و قرار نکاح کے وقت ہوتا ہے جب مرد عورت کے مہر و نفقہ کی پوری ذمہ داری لیتاہے۔

22-25

کن خواتین سے نکاح حرام ہے

ویڈیو

وَ لَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّ مَقۡتًا ؕ وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿٪۲۲﴾ حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمۡ اُمَّہٰتُکُمۡ وَ بَنٰتُکُمۡ وَ اَخَوٰتُکُمۡ وَ عَمّٰتُکُمۡ وَ خٰلٰتُکُمۡ وَ بَنٰتُ الۡاَخِ وَ بَنٰتُ الۡاُخۡتِ وَ اُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیۡۤ اَرۡضَعۡنَکُمۡ وَ اَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَ اُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمۡ وَ رَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلۡتُمۡ بِہِنَّ ۫ فَاِنۡ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ ۫ وَ حَلَآئِلُ اَبۡنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِکُمۡ ۙ وَ اَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخۡتَیۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿ۙ۲۳﴾ وَّ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ۚ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ۚ وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِکُمۡ مُّحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾ وَ مَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ مِنۡکُمۡ طَوۡلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِکُمۡ ؕ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذۡنِ اَہۡلِہِنَّ وَ اٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ ۚ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَتَیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَی الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ الۡعَنَتَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۲۵﴾

آیت 22

وَ لَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ

’’اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں ان سے تم نکاح مت کرو‘‘

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا‘ ایامِ جاہلیت میں سوتیلی ماؤں کو نکاح کر کے یابغیر نکاح کے گھر میں ڈال لیا جاتا تھا۔ ایسے نکاح کو اُس معاشرے میں بھی ’’نکاحِ مقت‘‘ کہا جاتا تھا۔ یعنی یہ بہت ہی برا نکاح ہے۔ ظاہر ہے فطرتِ انسانی تو ایسے تعلق سے اِبا کرتی ہے‘ مگر ان کے ہاں یہ رواج تھا۔ قرآن مجید نے اس مقام پر اس کا سختی سے سدّباب کیا ہے۔

اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ

’’سوائے اس کے جو ہو چکا۔‘‘

اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّ مَقۡتًا ؕ

’’یقینا یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے۔‘‘

وَ سَآءَ سَبِیۡلًا ﴿٪۲۲﴾

’’اور بہت ہی برا راستہ ہے۔‘‘

اگلی آیت میں محرماتِ ابدیہ کا بیان ہے کہ کن رشتوں میں نکاح کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔ یعنی ایک مرد اپنی کن کن رشتہ دار خواتین سے شادی نہیں کر سکتا۔

آیت 23

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمۡ اُمَّہٰتُکُمۡ وَ بَنٰتُکُمۡ وَ اَخَوٰتُکُمۡ

’’حرام کر دی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں‘‘

وَ عَمّٰتُکُمۡ وَ خٰلٰتُکُمۡ

’’اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں‘‘

وَ بَنٰتُ الۡاَخِ وَ بَنٰتُ الۡاُخۡتِ

’’اور تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں‘‘

وَ اُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیۡۤ اَرۡضَعۡنَکُمۡ

’’اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے‘‘

وَ اَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ

’’اور تمہاری دودھ شریک بہنیں‘‘

وَ اُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمۡ

’’اور تمہاری بیویوں کی مائیں‘‘

جن کو ہم ساس یا خوش دامن کہتے ہیں۔

وَ رَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ

’’اور تمہاری ربیبائیں جو تمہاری گودوں میں پلی بڑھی ہوں‘‘

مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلۡتُمۡ بِہِنَّ ۫

’’تمہاری اُن بیویوں سے جن کے ساتھ تم نے مقاربت کی ہو‘‘

فَاِنۡ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ ۫

’’اور اگر تم نے ان بیویوں سے مقاربت نہ کی ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں‘‘

’’ربیبہ‘‘ بیوی کی اُس لڑکی کو کہا جاتا ہے جو اُس کے سابق شوہر سے ہو۔ اگر موجودہ شوہر اس بیوی سے تعلق زن و شو قائم ہونے کے بعد اس کو طلاق دے دے تو ربیبہ کو اپنے نکاح میں نہیں لا سکتا‘ یہ اس کے لیے حرام ہے۔ لیکن اگر اس بیوی کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں ہوا اوراسے طلاق دے دی تو پھر ربیبہ کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ اگر تم نے ان بیویوں کے ساتھ مقاربت نہ کی ہو تو پھر (انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی گناہ نہیں۔

وَ حَلَآئِلُ اَبۡنَآئِکُمُ الَّذِیۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِکُمۡ ۙ

’’اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں‘‘ جن کو ہم بہوئیں کہتے ہیں۔ اپنے صلبی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔ البتہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح میں کوئی حرج نہیں۔

وَ اَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخۡتَیۡنِ

’’اور یہ (بھی تم پر حرام کر دیا گیا ہے) کہ تم بیک وقت دو بہنوں کونکاح میں جمع کرو‘‘

اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ ؕ

’’سوائے اس کے کہ جو گزر چکا۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿ۙ۲۳﴾

’’یقینا اللہ غفور اور رحیم ہے۔‘‘

جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا۔ اب گڑے مردے تو اکھاڑے نہیں جا سکتے۔ لیکن آئندہ کے لیے یہ محرماتِ ابدیہ ہیں۔ اس میں رسول اللہﷺ نے اضافہ کیا ہے کہ جس طرح دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتے اسی طرح خالہ بھانجی کو اور پھوپھی بھتیجی کو بھی بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ ان دو استثناء ات کے سوا سب محرماتِ ابدیہ میں سے ہیں۔اب عارضی محرمات کا بیان ہے۔

آیت 24

وَّ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ

’’اور وہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) جو کسی اور کے نکاح میں ہوں‘‘

چونکہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہیں اس لیے آپ پر حرام ہیں۔ البتہ ایک عورت کو اگر اس کاشوہر طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ حرمت ابدی نوعیت کی نہیں ہے۔ ’’مُحْصَنٰت‘‘ اُن عورتوں کو کہا جاتا ہے جو کسی کی قید نکاح میں ہوں۔ ’’حِصن‘‘ قلعے کو کہتے ہیں اور ’’اِحصان‘‘ کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظت میں لینے کے بھی ہیں اور کسی کی حفاظت میں ہونے کے بھی ۔ چنانچہ ’’مُحْصَنٰت‘‘ وہ عورتیں ہیں جو ایک خاندان کے قلعے کے اندر محفوظ ہیں اور شوہر والیاں ہیں۔ نیز یہ لفظ لونڈیوں کے مقابل آزاد خاندانی شریف زادیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

اِلَّا مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ۚ

’’سوائے اس کے کہ جو تمہاری مِلکِ یمین بن جائیں۔‘‘

یعنی جنگ کے نتیجے میں تمہارے ہاں کنیزیں بن کر آ جائیں۔ یہ عورتیں اگرچہ مشرکوں کی بیویاں ہیں لیکن وہ لونڈیوں کی حیثیت سے آپ کے لیے جائز ہوں گی۔

کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ۚ

’’یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے۔‘‘

یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے۔

وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ

’’ان کے سوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں‘‘

آپ نے دیکھا کہ کتنی تھوڑی سی تعداد میں محرمات ہیں‘ جن سے نکاح حرام قرار دے دیا گیا ہے‘ باقی کثیر تعداد حلال ہے ۔یعنی مباحات کا دائرہ بہت وسیع ہے جبکہ محرمات کا دائرہ بہت محدود ہے۔

اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِکُمۡ

’’کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو‘‘ یعنی ان کے مہر ادا کر کے ان کے ساتھ نکاح کرو۔

مُّحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ ؕ

’’بشرطیکہ حصارِ نکاح میں ان کو محفوظ کرو‘ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔‘‘

یعنی نیت گھر بسانے کی ہو‘ صرف مستی نکالنے کی نہیں۔ اس کو محض ایک کھیل اور مشغلہ نہ بنا لو۔

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ

’’پس جو بھی تم نے ان سے تمتع کیا ہو تو اس کے بدلے ان کے مہر ادا کرو ‘ جو مقرر ہوئے تھے۔‘‘

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡفَرِیۡضَۃِ ؕ

’’البتہ اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی کمی بیشی کرلو۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۲۴﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔‘‘

آیت 25

وَ مَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ مِنۡکُمۡ طَوۡلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ

’’اور جو کوئی تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں سے شادی کر سکے‘‘

فَمِنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ

’’تو وہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مؤمنہ ہوں۔‘‘

یہاں ’’مُحصَنٰت‘‘ دوسرے معنی میں آیا ہے‘ یعنی شریف زادیاں‘ آزاد مسلمان عورتیں۔ اور ظاہر ہے آزاد مسلمان عورتوں کا تو مہر ادا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے اگر کوئی بے چارہ مفلس ہے‘ ایک خاندانی عورت کا مہر ادا نہیں کر سکتا تو وہ کیا کرے ؟ ایسے لوگوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ معاشرے میں موجود مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لیں۔

وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِکُمۡ ؕ

’’اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے۔‘‘

یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون مؤمن ہے اور کون نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ جو بھی قانونی اعتبار سے مسلمان ہے دنیا میں وہ مؤمن سمجھا جائے گا۔

بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ

’’تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو۔‘‘

فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذۡنِ اَہۡلِہِنَّ

’’سو اُن سے نکاح کر لو ان کے مالکوں کی اجازت‘سے‘‘

کسی لونڈی کا مالک اس سے جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ لیکن جب ایک شخص اُس کی اجازت سے اس کی لونڈی سے نکاح کر لے تو اب لونڈی کے مالک کا یہ تعلق منقطع ہو جائے گا۔ اب وہ لونڈی اس اعتبار سے اس کے کام میں نہیں آ سکتی‘ بلکہ اب وہ ایک مسلمان کی منکوحہ ہو جائے گی۔ اسی لیے اُس نکاح کے لیے ’’بِاِذْنِ اَہْلِہِنَّ‘‘ کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اُس وقت کے معاشرے میں بالفعل یہ شکلیں موجود تھیں۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ یہ شکلیں پیدا کرو۔ غلام اور لونڈیوں کا معاملہ اُس وقت کے بین الاقوامی حالات اور اسیرانِ جنگ کےمسئلے کے ایک حل کے طو رپر پہلے سے موجود تھا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جس معاشرے میں قرآن نے اصلاح کا عمل شروع کیا اس میں فی الواقع کیا صورت حال تھی اور اس میں کس کس اعتبار سے تدریجاً بہتری پیدا کی گئی۔

وَ اٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ

’’اور انہیں ان کے مہر ادا کرو معروف طریقے پر‘‘

مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ

’’ان کو حصارِ نکاح میں لا کر‘ نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے والیاں ہوں‘‘

ان سے نکاح کا تعلق ہو گا‘ جس میں نیت گھر میں بسانے کی ہونی چاہیے‘ محض مستی نکالنے کی اور شہوت رانی کی نیت نہ ہو۔یہ حصارِ نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں‘ آزاد شہوت رانی نہ کرتی‘پھریں۔

وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ ۚ

’’اور نہ ہی چوری چھپے آشنائیاں کریں۔‘‘

کسی کی لونڈی سے کسی کا نکاح ہو تو کھلم کھلا ہو۔ معلوم ہو کہ فلاں کی لونڈی اب فلاں کے نکاح میں ہے۔ جیسے حضرت سمیہؓ سے حضرت یاسرؓ نے نکاح کیا تھا۔ حضرت سمیہؓ ‘ابوجہل کے چچا کی لونڈی تھیں‘ جو ایک شریف انسان تھا۔ حضرت یاسرؓ جب یمن سے آ کر مکہ میں آباد ہوئے تو انہوں نے ابوجہل کے چچا سے اجازت لے کر ان کی لونڈی سمیہؓ سے شادی کر لی۔ ان سے حضرت عمارؓ پیدا ہوئے ۔ یہ تین افراد کا ایک کنبہ تھا۔ یاسر‘ عمار بن یاسر اور عمار کی والدہ سمیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ ابوجہل کا شریف النفس چچا جب فوت ہو گیا تو ابوجہل کو اس کنبے پر اختیار حاصل ہوگیا اور اُس نے اس خاندان کو بدترین ایذائیں دیں۔

فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَتَیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ

’’پس جب وہ قیدِ نکاح میں آ جائیں تو پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں‘‘

فَعَلَیۡہِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَی الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ ؕ

’’تو اُن پر اُس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے۔‘‘

لونڈیاں اگر قیدِ نکاح میں آنے کے بعد بدچلنی کی مرتکب ہوں تو بدکاری کی جو سزا آزاد عورتوں کو دی جائے گی انہیں اس کی نصف سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ ابتدائی احکامات ہیں۔ ابھی تک نہ تو سو کوڑوں کی سزا کا حکم آیا تھا اور نہ رجم کا۔ چنانچہ ’’اٰذُوْھُمَا‘‘ (بحوالہ آیت ۱۶) کے حکم کی تعمیل میں بدکاری کی جو سزا بھی آزاد خاندانی عورتوں کو دی جاتی تھی ایک منکوحہ لونڈی کو اس سے نصف سزا دینے کا حکم دیا گیا۔اس لیے کہ ایک شریف خاندان کی عورت جسے ہر طرح کا تحفظ حاصل ہو اس کا معاملہ اور ہے اور ایک بے چاری غریب لونڈی کا معاملہ اور ہے۔

ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ الۡعَنَتَ مِنۡکُمۡ ؕ

’’یہ اجازت تم میں سے ان کے لیے ہے جن کو گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔‘‘

مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لینے کی اجازت تم میں سے ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی شہوت اور جنسی جذبے کو روک نہ سکتے ہوں اور انہیں فتنے میں مبتلا ہو جانے اور گناہ میں ملوث ہو جانے کا اندیشہ ہو۔

وَ اَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ

’’اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔‘‘

چونکہ عام طور پر اُس معاشرے میں جو باندیاں تھیں وہ بلند کردار نہیں تھیں‘ لہٰذا فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ تم ان سے نکاح کرنے سے بچو اور تعفف اختیار کرو۔

وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۲۵﴾

’’اور اللہ غفور اور رحیم ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے