تحریر

النساء

آیات ۱۱ تا ۱۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-12

احکاماتِ وراثت

ویڈیو

یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ لَکُمۡ نَفۡعًا ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۱﴾ وَ لَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امۡرَاَۃٌ وَّ لَہٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمۡ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۲﴾

تمہید

سورۃ النساء کا دوسرا رکوع بڑا مختصر ہے ۔اس رکوع میں صرف چار آیات ہیں‘ لیکن معنوی طورپر ان میں ایک قیامت مضمر ہے۔ یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ چار آیتوں کے اندر اسلام کا پورا قانونِ وراثت بیان کر دیا گیا ہے جس کی تشریح میں بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں۔ گویا جامعیت کی انتہا ہے۔

آیت 11

یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭

’’اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری اولاد کے بارے‘میں‘‘

لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ۚ

’’کہ لڑکے کے لیے حصہ ہے دو لڑکیوں کے‘برابر۔‘‘

فَاِنۡ کُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ

’’پھر اگر لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے۔‘‘

وَ اِنۡ کَانَتۡ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصۡفُ ؕ

’’اور اگر ایک ہی لڑکی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے۔‘‘

ظاہر ہے اگر ایک ہی بیٹا ہے تو وہ پورے ترکے کا وارث ہو جائے گا ۔لہٰذا جب بیٹی کا حصہ بیٹے سے آدھا ہے تو اگر ایک ہی بیٹی ہے تو اسے آدھی وراثت ملے گی‘ آدھی دوسرے لوگوں کو جائے گی۔ وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے۔

وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ

’’اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے جو اُس نے چھوڑا اگر میت کے اولاد ہو۔‘‘

اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہو تو اس کی وراثت میں سے ان کا بھی معین حصہ ہے۔ اگر وفات پانے والا شخص صاحب اولاد ہے تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے وراثت میں چھٹا حصہ ہے۔ یعنی میت کے ترکے میں سے ایک تہائی والدین کو چلا جائے گا اور دو تہائی اولاد میں تقسیم ہو گا۔

فَاِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ ۚ

’’اور اگر اُس کے اولاد نہ ہو اور اُس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اُس کی ماں کا ایک تہائی ہے۔‘‘

اگر کوئی شخص لاولد فوت ہو جائے تو اس کے ترکے میں سے اس کی ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی ملے گا۔ یعنی باپ کا حصہ ماں سے دوگنا ہو جائے گا۔

فَاِنۡ کَانَ لَہٗۤ اِخۡوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ

’’پھر اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے‘‘

اگر مرنے والا بے اولاد ہو لیکن اس کے بہن بھائی ہوں تو اس صورت میں ماں کا حصہ مزید کم ہو کر ایک تہائی کے بجائے چھٹا حصہ رہ جائے گا اور باقی باپ کو ملے گا‘ لیکن بہن بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ وہ باپ کی طرف سے وراثت کے حق دار ہوں گے۔ لیکن ساتھ ہی فرما دیا:

مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ

’’بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائے یا بعد ادائے قرض کے۔‘‘

وراثت کی تقسیم سے پہلے دو کام کر لینے ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس شخص کے ذمے کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر اُس نے کوئی وصیت کی ہے تو اس کو پورا کیا جائے۔پھر وراثت تقسیم ہو گی۔

اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ لَکُمۡ نَفۡعًا ؕ

’’تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے‘ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہارے لیے زیادہ نافع ہے۔‘‘

فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ

’’یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فریضہ ہے۔‘‘

تم اپنی عقلوں کو چھوڑو اور اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصوں کے مطابق وراثت تقسیم کرو۔ کوئی آدمی یہ سمجھے کہ میرے بوڑھے والدین ہیں‘ میری وراثت میں خواہ مخواہ ان کے لیے حصہ کیوں رکھ دیا گیا ہے؟ یہ تو کھاپی‘چکے‘ زندگی گزار چکے‘ وراثت تو اب میری اولاد ہی کو ملنی چاہیے‘ تو یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ تمہیں بس اللہ کا حکم مانناہے ۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۱﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔‘‘

اس کا کوئی حکم علم اور حکمت سے خالی نہیں ہے۔

آیت 12

وَ لَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ

’’اور تمہارا حصہ تمہاری بیویوں کے ترکے میں سے آدھا ہے اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو۔‘‘

بیوی فوت ہو گئی ہے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہے تو جو وہ چھوڑ گئی ہے اس میں سے نصف شوہر کا ہو جائے گا۔ باقی جو نصف ہے وہ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائیوں میں حسب قاعدہ تقسیم ہو گا۔

فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ

’’اور اگر اُن کے اولاد ہے تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس میں سے جو انہوں نے چھوڑا‘‘

مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ

’’بعد اُس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائیں یا بعد ادائے قرض کے۔‘‘

اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے ادائے دَین و انفاذِ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہو گا۔

وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ۚ

’’اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے۔‘‘

فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ

’’اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے میں سے‘‘

مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ

’’اُس وصیت کی تعمیل کے بعد جو تم نے کی ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد۔‘‘

اگر مرنے والے نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی تو ادائے دَین و انفاذِ وصیت کے بعد اس کی بیوی کو اُس کے ترکے کا چوتھائی ملے گا‘ اور اگر اُس نے کوئی اولاد چھوڑی ہے تو اس صورت میں بعد ادائے دَین و وصیت کے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اگر بیوی ایک سے زائد ہے تو بھی مذکورہ حصہ سب بیویوں میں تقسیم ہوجائے گا۔

وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امۡرَاَۃٌ

’’اور اگر کوئی شخص جس کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے کلالہ ہو‘ یا عورت ہو ایسی ہی‘‘

’’کلالہ‘‘ وہ مرد یا عورت ہے جس کے نہ تو والدین زندہ ہوں اور نہ اس کی کوئی اولاد ہو۔

وَّ لَہٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ ۚ

’’اور اُس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔‘‘

فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمۡ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ

’’اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے‘‘

مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں کلالہ کی میراث کے حکم میں بھائی اور بہنوں سے مراد اَخیافی (ماں شریک) بھائی اور بہن ہیں۔ رہے عینی اور علاتی بھائی بہن تو ان کا حکم اسی سورت کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔عربوں میں دراصل تین قسم کے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ ایک ’’عینی‘‘ جن کا باپ بھی مشترک ہو اور ماں بھی‘ جنہیں ہمارے ہاں ’’حقیقی‘‘ کہتے ہیں۔ دوسرے ’’علاتی‘‘ بہن بھائی‘ جن کا باپ ایک اور مائیں جدا ہوں۔ اہل عرب کے ہاں یہ بھی حقیقی بہن بھائی ہوتے ہیں اور ان کا حکم وہی ہے جو ’’عینی‘‘ بہن بھائیوں کا ہے۔ وہ انہیں ’’سوتیلا‘‘ نہیں سمجھتے۔ ان کے ہاں سوتیلا وہ کہلاتا ہے جو ایک ماں سے ہو لیکن اس کا باپ دوسرا ہو۔ یہ ’’اَخیافی‘‘ بہن بھائی کہلاتے ہیں۔ ایک شخص کی اولاد تھی‘ وہ فوت ہو گیا۔ اس کے بعد اس کی بیوی نے دوسری شادی کر لی۔ تو اب اس دوسرے خاوند سے جو اولاد ہے وہ پہلے خاوند کی اولاد کے اَخیافی بہن بھائی ہیں۔ تو کلالہ کی میراث کے حکم میں یہاں اَخیافی بھائی بہن مراد ہیں۔

مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ۙ

’’اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد‘‘

یہ دو شرطیں بہرصورت باقی رہیں گی۔ مرنے والے کے ذمے اگر کوئی قرض ہے تو پہلے وہ ادا کیا جائے گا‘ پھر اس کی وصیت کی تعمیل کی جائے گی‘ اس کے بعد میراث وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔

غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ

’’بغیر کسی کو ضرر پہنچائے۔‘‘

یہ سارا کام ایسے ہونا چاہیے کہ کسی کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو۔

وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ

’’یہ تاکید ہے اللہ کی طرف سے۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ۱۲﴾

’’اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا کمالِ حلم والاہے۔‘‘

اُس کے حلم اور بردباری پر دھوکہ نہ کھاؤ کہ وہ تمہیں پکڑ نہیں رہا ہے۔ ؏ ’’نہ جا اُ س کے تحمل پر کہ ہے بے ڈھب گرفت اُس کی!‘‘اُس کی پکڑ جب آئے گی تو اس سے بچنا ممکن نہیں ہو گا: {اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾} (البروج) ’’یقینا تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘

13-14

حدود اللہ کی اہمیت

ویڈیو

تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۳﴾ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۱۴﴾

آیت 13

تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ

’’یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں۔‘‘

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ

’’اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ داخل کرے گا اسے ان باغات میں جس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘‘

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۳﴾

’’اوریہی ہے بہت بڑی کامیابی۔‘‘

آیت 14

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ

’’اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اُس کی حدود سے‘‘

یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪

’’وہ داخل کرے گا اس کو آگ میں جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔‘‘

وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۱۴﴾

’’اور اس کے لیے اہانت آمیز عذاب ہو گا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے