قرآن مجید میں مکی اور مدنی سورتوں کے جو گروپ ہیں ان میں سے پہلا گروپ پانچ سورتوں پر مشتمل ہے۔ اس گروپ میں مکی سورۃ صرف سورۃ الفاتحہ ہے‘ جو حجم میں بہت چھوٹی مگر معنی و مفہوم اور عظمت و فضیلت میں بہت بڑی ہے۔ اس کے بعد چار سورتیں مدنی ہیں: البقرۃ‘ النساء‘ آل عمران اور المائدۃ۔ یہ چار سورتیں دو دو سورتوں کے دو جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ پہلا جوڑا سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران کا ہے‘ اور انہیں خود رسول اللہﷺ نے ایک مشترک نام دیا ہے ’’الزَّھْرَاوَین‘‘۔ ان دو سورتوں میں باہم جو مناسبتیں اور مشابہتیں ہیں وہ ان کے مطالعہ کے دوران تفصیل کے ساتھ ہمارے سامنے آتی رہی ہیں۔
اب ہم مدنی سورتوں کے دوسرے جوڑے یعنی سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں۔ ان دو جوڑوں میں ایک نمایاں فرق (contrast) یہ نظر آئے گا کہ سابقہ دونوں سورتوں کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے اور اس کے فوراً بعد دونوں میں قرآنِ مجید اور کتبِ سماویہ کی عظمت کا بیان ہے‘ جبکہ زیرمطالعہ دونوں سورتوں میں اس طرح کی کوئی تمہیدی گفتگو نہیں ہے‘ بلکہ ان میں براہِ راست خطاب ہو رہا ہے۔ البتہ نسبتِ زوجیت کے اعتبار سے زیر مطالعہ سورتوں کے بارے میں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورۃ النساء کے آغاز میں صیغۂ خطاب ’’یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ‘‘ (اے لوگو) ہے‘ یعنی خطاب عام ہے‘ جبکہ سورۃ المائدۃ کا آغاز ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کے صیغے سے ہوتا ہے ‘ یعنی سورۃ المائدہ میں خطاب خاص طو رپر انسانوں میں سے اُن لوگوں سے ہے جو ایمان کے دعوے دار ہیں۔ باقی جس طرح سورۃ البقرۃ اور سورۂ آلِ عمران نصفین میں منقسم ہیں اس طرح کا معاملہ ان دونوں سورتوں کا نہیں ہے۔
اپنے اسلوب کے اعتبار سے یہ دونوں سورتیں سورۃ البقرۃ کے نصفِ ثانی کے مشابہ ہیں۔ یعنی ان میں بھی مختلف مضامین کی لڑیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں‘ لیکن یہ لڑیاںایک رسّی کی طرح آپس میں اس طرح بٹی ہوئی اور گتھی ہوئی ہیں کہ دیکھنے والے کو مسلسل نہیں بلکہ کٹواں نظر آتی ہیں۔ ظاہر ہے اگر آپ چار مختلف رنگوں کی لڑیوں کو آپس میں بٹ کر رسّی کی شکل دے دیں تو ان میں سے کوئی سا رنگ بھی مسلسل نظر نہیں آئے گا‘ بلکہ باری باری چاروں رنگ نظر آتے رہیں گے۔ لیکن اگر آپ اس رسّی کو کھول دیں گے توہر ایک لڑی الگ ہوجائے گی اور چاروں رنگ الگ الگ نظر آئیں گے۔ سورۃ البقرۃ کے نصفِ ثانی کے مضامین کے بارے میں قبل ازیں بتایا جا چکا ہے کہ یہ مضامین مختلف رنگوں کی چارلڑیوں کی طرح ہیں ‘ جن میں دو کا تعلق شریعت سے ہے اور دو کا جہاد فی سبیل اللہ سے۔ شریعت کی دو لڑیوں میں سے ایک لڑی عبادات کی اور دوسری معاملات کی ہے‘ جبکہ جہاد فی سبیل اللہ کی لڑیوں میں سے ایک لڑی جہاد بالمال یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی اور دوسری جہاد بالنفس کی آخری شکل یعنی قتال فی سبیل اللہ کی ہے۔
سورۃ النساء کے مضامین بھی مختلف رنگوں کی باہم گتھی ہوئی تین لڑیوں کی مانند ہیں۔ مضامین کی یہ تین لڑیاں خطاب کے اعتبار سے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک لڑی تو وہ ہے جس میں خطاب اہل ایمان سے ہے‘ اور سورۃ البقرۃ کی طرح اس کے ذیل میں وہی چار چیزیں آ رہی ہیں: قتال‘ انفاق‘ احکامِ شریعت اور عبادات۔ دوسری لڑی اہل کتاب سے خطاب کی ہے اور اس میں نصاریٰ اور یہود دونوں شامل ہیں۔ پہلی دو سورتوں (سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران)میں یہود و نصاریٰ کا معاملہ علیحدہ علیحدہ تھا ‘ جبکہ اس سورۃ میں اہل کتاب کے عنوان سے ان دونوں سے ایک ساتھ خطاب ہوتا ہے۔ مضمون کی تیسری لڑی اس سورئہ مبارکہ کا وہ سب سے بڑا حصہ ہے جو منافقین سے خطاب پر مشتمل ہے‘ لیکن اکثر و بیشتر لوگ اس اندازِ خطاب کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس لیے کہ قرآن مجید میں منافقین کو بھی ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ ‘ کے صیغے سے ہی مخاطب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پورے قرآن میں کہیں بھی ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ نَافَقُوْا‘‘ کے الفاظ نہیں آئے۔ قرآن مجید میں صیغۂ خطاب ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الْـکٰفِرُوْنَ‘ ‘ بھی ہے‘ ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ ‘ بھی ہے اور ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ ‘ بھی ‘ لیکن ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ نَافَقُوْا‘ ‘ کہیں نہیں ہے۔ اس لیے کہ منافقین بھی قانوناً تو مسلمان ہی تھے۔ چنانچہ یہ پہچاننے کے لیے بڑی گہری نظر کی ضرورت ہے کہ ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ ‘ کے الفاظ میں کس مقام پر روئے سخن مؤمنین صادقین کی طرف ہے اور کس مقام پر منافقین کی طرف۔ اگر یہ فرق ملحوظ نہ رکھا جائے تو بعض مقامات پر بڑی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ مثلاً سورۃ التوبۃ کا یہ مقام ملاحظہ کیجیے: {’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَا لَکُمۡ اِذَا قِیۡلَ لَکُمُ انۡفِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَی الۡاَرۡضِ ؕ} (آیت۳۸) ’’اے اہلِ ایمان! تمہیں کیا ہو جاتا ہے جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم زمین میں دھنسے جاتے ہو؟‘‘ اس اندازِ تخاطب سے ایک سوءِ ظن پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید یہ عام مسلمانوں کا حال تھا۔ حالانکہ اس طرزِ عمل کا مظاہرہ مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ منافقین کی طرف سے ہوتا تھا‘ چنانچہ یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف نہیں منافقین کی طرف ہے۔ مؤمنین صادقین میں سے تو ہر کوئی ہر وقت اپنے مال و جان کو ہتھیلی پر رکھے اس شعر کی عملی تصویر نظر آتا تھا : ؎
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی!
منافقین سے خطاب کے اعتبار سے یہ سورۂ مبارکہ اہم ترین ہے۔ سورۃ البقرۃ میں تو کہیں لفظ نفاق آیا ہی نہیں۔ یہ حکمتِ خداوندی ہے کہ اس مرض کو پہلے چھپا کر رکھا اور اس کی صرف علامات بیان کر دیں کہ جو کوئی بھی اپنے اندر ان علامات کو دیکھے وہ متنبہ ہو جائے اور اپنے علاج کی طرف متوجہ ہو جائے۔ لیکن جو لوگ اس طرح متوجہ نہیں ہوتے تو معلوم ہوا کہ ان کو اب ذرا نمایاں کرنا ضروری ہے اور بات ذرا عریاں انداز سے کرنی پڑے گی۔ چنانچہ سورۂ آل عمران میں ایک دو جگہ نفاق کا لفظ آ گیا۔ لیکن اب یہاں سورۃ النساء کا بڑا حصہ منافقین سے خطاب پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس سورت کی ۱۷۶ آیات میں سے ۵۵ آیات میں روئے سخن مؤمنین صادقین کی طرف ہے‘ ۳۷ آیات میں اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے مشترک طور پر خطاب ہے‘ جبکہ ۸۴ آیات میں خطاب منافقین سے ہے۔ لیکن یاد رہے کہ انہیں جہاں بھی مخاطب کیا گیا ہے : ’’یٰٓــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کے صیغے میں کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ایمان کے دعوے دار تو وہ بھی تھے ۔ منافق وہی توہوتا ہے جو ایمان کادعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں ایمان سے تہی دامن ہوتا ہے ‘چاہے وہ شعوری طورپر منافق ہوچا ہے غیرشعوری طورپر۔
سورۃ النساء اور سورۃ المائدۃ کے مابین مضامین کی تقسیم کا یہ پہلو بھی مدنظر رہے کہ انسانی تمدن اور معاشرت کی بنیاد ی سطح کے معاملات کے بارے میں زیادہ تر احکام سورۃ النساء میں آئے ہیں جبکہ اعلیٰ ترین (ریاستی اور حکومتی) سطح کے مسائل سے متعلق ہدایات سورۃ المائدۃ میں دی گئی ہیں۔ انسانی تمدن کی بنیاد معاشرے پر ہے اور معاشرے کی بنیادی اکائی (unit) خاندان ہے جو ایک عورت اور ایک مرد کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے وجود میں آتا ہے۔ گویا انسانی تمدن و معاشرت کے زیادہ تر بنیادی مسائل گھریلو زندگی سے متعلق ہیں۔ یہ مسائل و معاملات سورۃ البقرۃ میں بہت تفصیل سے زیربحث آئے ہیں‘جبکہ سورۃ النساء میں اس موضوع سے متعلق کچھ مزید احکام وارد ہوئے ہیں ۔ علاوہ ازیں اس سورت میں معاشرے کے کمزور اور دبے ہوئے افراد کے حقوق کے تحفظ اور جنسی نظم و ضبط (sex-discipline) کی ترویج جیسے بنیادی اہمیت کے حامل معاملات کے بارے میں بھی اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ دوسری طرف سورۃ المائدۃ میں ریاستی معاملات کے خدوخال‘ عدالتی نظام کے قواعد و ضوابط اور چوری و راہزنی جیسے جرائم سے متعلق حدود و تعزیرات کا ذکر ملتا ہے۔
پہلے گروپ کی ان چار مدنی سورتوں کے مضامین کا یہ عمومی نقشہ ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ ان سورتوں میں دو مضمون متوازی چلتے ہیں۔ پہلا مضمون شریعت اسلامی کا ہے جس کے بارے میں ابتدائی خاکہ سورۃ البقرۃ میں دیا گیا ہے اور کچھ مزید احکام سورۃ النساء میں آئے ہیں۔ جبکہ شریعت کے تکمیلی احکام سورۃ المائدۃ میں بیان ہوئے ہیں۔ سورۂ آل عمران اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں شریعت کے احکام نہیں ہیں سوائے سود کے بارے میں اس ایک حکم کے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪} (آیت۱۳۰)۔
ان سورتوں کا دوسرا اہم مضمون اہل کتاب سے خطاب ہے اور وہ بھی تدریجاً آگے بڑھتے ہوئے سورۃ‘المائدۃ میں اپنی تکمیلی صورت کو پہنچتا ہے۔ چنانچہ اہل کتاب سے آخری اور فیصلہ کن باتیں سورۃ المائدۃ میں ملتی ہیں۔ ان تمہیدی کلمات کے بعد اب ہم اس سورۂ مبارکہ کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔
’’اے لوگو اپنے اس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا‘‘
دیکھئے معاشرتی مسائل کے ضمن میں گفتگو اس بنیادی بات سے شروع کی گئی ہے کہ اپنے خالق و مالک کا تقویٰ اختیار کرو۔
وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا
’’اور اُسی سے اس کا جوڑا بنایا‘‘ نوٹ کیجیے کہ یہاں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ’’اُس نے تمہیں ایک آدم سے پیدا کیا اور اُسی (آدم) سے اس کاجوڑا بنایا‘‘ بلکہ ’’نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ‘‘ (ایک جان) کا لفظ ہے۔ گویا اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ عین آدمؑ ہی سے ان کا جوڑا بنایاگیا ہو ‘ جیسا کہ بعض روایات سے بھی اشارہ ملتا ہے‘ اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ آدم کی نوع سے ان کا جوڑا بنایا گیا‘ جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے۔ اس لیے کہ نوع ایک ہے‘ جنسیں دو ہیں۔ انسان (Human beings) نوع (species) ایک ہے‘ لیکن اس کے اندر ہی سے جو جنسی تفریق (sexual differentiation) ہوئی ہے‘ اس کے حوالے سے اس کا جوڑا بنایا ہے۔
’’اور ان دونوں سے پھیلا دیے (زمین میں) کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں۔‘‘
’’مِنْہُمَا‘‘ سے مراد یقینا آدم و حوا ہیں۔ یعنی اگر آپ اس تمدنِ انسانی کا سراغ لگانے کے لیے پیچھے سے پیچھے جائیں گے تو آغاز میں ایک انسانی جوڑا (آدم و حوا) پائیں گے ۔ اس رشتہ سے پوری نوعِ انسانی اس سطح پر جا کر رشتۂ اخوت میں منسلک ہو جاتی ہے۔ ایک تو سگے بہن بھائی ہیں۔ دادا دادی پر جا کر cousins کا حلقہ بن جاتا ہے۔ اس سے اوپر پڑدادا پڑدادی پر جا کر ایک اور وسیع حلقہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح چلتے جایئے تو معلوم ہوگا کہ پوری نوعِ انسانی بالآخر ایک جوڑے (آدم و حوا) کی اولاد ہے۔
’’اور تقویٰ اختیار کرو اُس اللہ کا جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو‘ اور رحمی رشتوں کا لحاظ رکھو۔‘‘
تقویٰ کی تاکید ملاحظہ کیجیے کہ ایک ہی آیت میں دوسری مرتبہ پھر تقویٰ کا حکم ہے۔ فرمایا کہ اُس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو۔ آپ کو معلوم ہے کہ فقیر بھی مانگتا ہے تو اللہ کے نام پر مانگتا ہے‘ اللہ کے واسطے مانگتا ہے‘ اور اکثر و بیشتر جو تمدنی معاملات ہوتے ہیں ان میں بھی اللہ کا واسطہ دیا جاتا ہے۔ گھریلو جھگڑوں کو جب نمٹایا جاتا ہے تو آخر کار کہنا پڑتا ہے کہ اللہ کا نام مانو اور اپنی اس ضد سے باز آ جاؤ! تو جہاں آخری اپیل اللہ ہی کے حوالے سے کرنی ہے تو اگر اُس کا تقویٰ اختیار کرو تو یہ جھگڑے ہوں گے ہی نہیں۔ اُس نے اس معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق معین کر دیے ہیں‘ مثلاً مرد اور عورت کے حقوق‘ ربّ المال اور عامل کے حقوق‘ فرد اور اجتماعیت کے حقوق وغیرہ۔ اگر اللہ کے احکام کی پیروی کی جائے اور اس کے عائد کردہ حقوق و فرائض کی پابندی کی جائے تو جھگڑا نہیں ہو گا۔
مزید فرمایا کہ رحمی رشتوں کا لحاظ رکھو!جیسا کہ ابھی بتایا گیا کہ رحمی رشتوں کا اوّلین دائرہ بہن بھائی ہیں‘ جو اپنے والدین کی اولاد ہیں۔ پھر دادا دادی پر جا کر ایک بڑی تعداد پر مشتمل دوسرا دائرہ وجود میں آتا ہے۔ یہ رحمی رشتے ہیں۔ انہی رحمی رشتوں کو پھیلاتے جایئے تو کل بنی آدم اور کل بناتِ حوا سب ایک ہی نسل سے ہیں‘ ایک ہی باپ اور ایک ہی ماں کی اولاد ہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا ﴿۱﴾
’’یقینا اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔‘‘
یہ تقویٰ کی روح ہے ۔ اگر ہر وقت یہ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے‘ میرا ہر عمل اُس کی نگاہ میں ہے ‘ کوئی عمل اُس سے چھپا ہوا نہیں ہے تو انسان کا دل اللہ کے تقویٰ سے معمور ہوجائے گا۔ اگر یہ استحضار رہے کہ چاہے میں نے سب دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں اور پردے گرا دیے ہیں لیکن ایک آنکھ سے میں نہیں چھپ سکتا تو یہی تقویٰ ہے۔ اور اگر تقویٰ ہو گاتو پھر اللہ کے ہر حکم کی پابندی کی جائے گی۔
یہ حکمتِ نبوت ہے کہ اس آیت کو نبی اکرمﷺ نے خطبۂ نکاح میں شامل فرمایا۔نکاح کے ذریعے ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان رشتۂ ازدواج قائم ہوتا ہے۔ اس موقع پر آدم کا ایک بیٹا اور حوا کی ایک بیٹی پھر اسی رشتے میں منسلک ہونے کا عہد کرتے ہیں جس میں آدم اور حوا منسلک ہوئے تھے۔ جس طرح اُن دونوں سے نسل پھیلی ہے اسی طرح اب ان دونوں سے نسل آگے بڑھے گی۔ لیکن اس پورے معاشرتی معاملے میں ‘ خاندانی معاملات میں‘ عائلی معاملات میں اللہ کا تقویٰ انتہائی اہم ہے۔ جیسے ہم نے سورۃ البقرۃ میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے حوالے سے بار بار {وَاتَّقُوا اللّٰہَ} کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس لیے کہ اگر تقویٰ نہیں ہو گا تو پھر خالی قانون مؤثر نہیں ہو گا۔ قانون کو تو تختہ ‘ مشق بھی بنایا جاسکتاہے کہ بظاہر قانون کا تقاضا پورا ہو رہا ہو لیکن اس کی روح بالکل ختم ہو کر رہ جائے۔ سورۃ البقرۃ میں اسی طرزِعمل کے بارے میں فرمایا گیا کہ: {وَ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا ۫} (آیت ۲۳۱) ’’اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنالو۔‘‘
’’اور ان کے مال اپنے مالوں میں شامل کر کے ہڑپ نہ کرو۔‘‘
اِنَّہٗ کَانَ حُوۡبًا کَبِیۡرًا ﴿۲﴾
’’یقینا یہ بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘
یتیموں کے بعض سرپرست جو تقویٰ اور خوفِ خدا سے تہی دامن ہوتے ہیں ‘ اوّل تو ان کامال ہڑپ کرجاتے ہیں‘ اور اگر ایسا نہ بھی کریں تو ان کا اچھامال خورد برد کر کے اپنا ردّی اور بے کار مال اس میں شامل کردیتے ہیں اور اس طرح تعداد پوری کر دیتے ہیں۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لیتے ہیں تاکہ اسے بآسانی ہڑپ کر سکیں۔ ان کو ایسے سب ہتھکنڈوں سے روک دیا گیا۔
’’تو (انہیں اپنے نکاح میں نہ لائو بلکہ) جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو‘ تین تین‘ چار چار تک۔‘‘
اس آیت میں ’’یَتَامٰی‘‘ سے مراد یتیم بچیاں اور خواتین ہیں۔ یتیم لڑکے تو عمر کی ایک خاص حد کو پہنچنے کے بعد اپنی آزاد مرضی سے زندگی گزار لیتے تھے‘ لیکن یتیم لڑکیوں کا معاملہ یہ ہوتا تھا کہ ان کے ولی اور سرپرست ان کے ساتھ نکاح بھی کر لیتے تھے۔ اس طرح یتیم لڑکیوں کے مال بھی ان کے قبضے میں آ جاتے تھے‘ اور یتیم لڑکیوں کے پیچھے ان کے حقوق کے معاملے میں ان سے پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اگر ماں باپ ہوتے تو ظاہر ہے کہ وہ بچی کے حقوق کے بارے میں بھی کوئی بات کرتے ۔لہٰذا ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ان کے بارے میں انصاف نہیںکر سکو گے تو پھر تم ان یتیم بچیوں سے نکاح مت کرو‘ بلکہ دوسری عورتیں جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔ اگر ضرورت ہو تو دو دو‘ تین تین‘ چار چار کی حد تک نکاح کر سکتے ہو‘ اس کی تمہیں اجازت ہے۔ لیکن تم یتیم بچیوں کے ولی بن کر ان کی شادیاں کہیں اور کرو تاکہ تم ان کے حقوق کے پاسبان بن کر کھڑے ہو سکو۔ ورنہ اگر تم نے ان کو اپنے گھروں میں ڈال لیا تو پھر کون ہو گا جو ان کے حقوق کے بارے میں تم سے باز پرس کر سکے؟ ---- منکرین سنت اور منکرین حدیث نے اس آیت کی مختلف تعبیرات کی ہیں‘ جن کی تفصیل بیان کرنے کا موقع نہیں۔ بہرحال اس کا صحیح مفہوم یہی ہے جو سلف سے چلا آ رہا ہے اور جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے۔ مزید برآں تعددِ ازدواج کے بارے میں یہی ایک آیت قرآن مجید میں ہے۔ اس آیت کی رو سے تعددِ ازدواج کو محدود کیا گیا ہے اور چار سے زائد بیویاں رکھنے کو ممنوع کر دیا گیا ہے۔
فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً
’’لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی پر بس کرو‘‘
یہ جو ہم نے اجازت دی ہے کہ دو دو‘ تین تین‘ چار چار عورتوں سے نکاح کر لو ‘اس کی شرطِ لازم یہ ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اس شرط کو پورا نہیں کر سکو گے اور ان میں برابری نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی شادی کرو‘ اس سے زائد نہیں ۔بیویوں کے مابین عدل و انصاف میں ہر اُس چیز کا اعتبار ہو گا جو شمار میں آ سکتی ہے۔ مثلاً ہر بیوی کے پاس جو وقت گزارا جائے اس میں مساوات ہونی چاہیے۔ نان نفقہ‘ زیورات‘ کپڑے اور دیگر مال و اسباب‘ غرضیکہ تمام مادّی چیزیں جو دیکھی بھالی جا سکتی ہیں ان میں انصاف اور عدل لازم ہے۔البتہ دلی میلان اور رجحان جس پر انسان کو قابو نہیں ہوتا‘ اس میں گرفت نہیں ہے۔
اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ
’’یا وہ عورتیں جو تمہاری ملکِ یمین ہوں۔‘‘
یعنی وہ عورتیں جو جنگوں میں گرفتار ہو کر آئیں اور حکومت کی طرف سے لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے اور ان کی تعداد پر کوئی تحدید نہیں ہے۔
ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ؕ﴿۳﴾
’’یہ اس سے قریب تر ہے کہ تم ایک ہی طرف کو نہ جھک پڑو۔‘‘
کہ بس ایک ہی بیوی کی طرف میلان ہے اور‘ جیسا کہ آگے آیت ۱۲۹ میں آئے گا‘ دوسری معلق ہو کر رہ گئی ہیں کہ نہ وہ شوہروالیاں ہیں اور نہ آزاد ہیں کہ کہیں اور نکاح کر لیں۔
آیت 4
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحۡلَۃً ؕ
’’اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی کے ساتھ دیا کرو۔‘‘
عورتوں کے مہر تاوان سمجھ کر نہ دیا کرو‘ بلکہ فرض جانتے ہوئے ادا کیا کرو ۔ صَدُقَاتٌ صِدَاقٌ کی جمع ہے جبکہ صَدَقَۃٌ کی جمع صَدَقَاتٌ آتی ہے۔
فَاِنۡ طِبۡنَ لَکُمۡ عَنۡ شَیۡءٍ مِّنۡہُ نَفۡسًا
’’پھر اگر وہ خود اپنی رضامندی سے اس میں سے کوئی چیز تمہیں چھوڑ دیں‘‘
تم نے جو مہر مقرر کیا تھا وہ انہیں ادا کر دیا‘ اب وہ تمہیں اس میں سے کوئی چیز ہدیہ کر رہی ہیں‘ تحفہ دے رہی ہیں تو کوئی حرج نہیں۔
فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا ﴿۴﴾
’’تو تم اس کو کھائو مزے سے خوشگواری سے۔‘‘
تم اسے بے کھٹکے استعمال میں لا سکتے ہو‘ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن یہ ہو ان کی مرضی سے‘ زبردستی اور جبر کر کے نہ لے لیا جائے۔
’’اور مت پکڑا دو ناسمجھوں کو اپنے وہ مال جن کو اللہ نے تمہارے گزران کا ذریعہ بنایا ہے‘‘
معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو نادانوں اور ناسمجھ لوگوں (سُفَہاء) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے۔ ایسے بچے اگر یتیم ہو جائیں تو وہ وراثت میں ملنے والے مال کو اللوں تللوں میں اڑا سکتے ہیں۔ لہٰذا یہاں ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مال کے بے جا استعمال کی معاشرتی سطح پر روک تھام ہونی چاہیے۔ یہ تصور ناقابل قبول ہے کہ میرا مال ہے‘ میں جیسے چاہوں خرچ کروں! چنانچہ اس مال کو ’’اَمْوَالَـکُمْ‘‘ کہا گیا کہ یہ اصل میں معاشرے کی مشترک بہبود کے لیے ہے۔ اگرچہ انفرادی ملکیت ہے‘ لیکن پھر بھی اسے معاشرے کی مشترک بہبود میں خرچ ہونا چاہیے۔
وَّ ارۡزُقُوۡہُمۡ فِیۡہَا وَ اکۡسُوۡہُمۡ
’’ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو‘‘
وَ قُوۡلُوۡا لَہُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿۵﴾
’’اور ان سے بات کیا کرو اچھے انداز میں۔‘‘
اسی اُصول کے تحت برطانوی دور کے ہندوستان میں Court of wards مقرر کر دیے جاتے تھے۔ اگر کوئی بڑا جاگیردار یا نواب فوت ہو جاتا اوریہ اندیشہ محسوس ہوتا کہ اس کا بیٹا آوارہ ہے اور وہ سب کچھ اڑا دے گا‘ ختم کر دے گا تو حکومت اس میراث کو اپنی حفاظت میں لے لیتی اور ورثاء کے لیے اس میں سے سالانہ وظیفہ مقرر کر دیتی۔ باقی سب مال و اسباب جمع رہتا تھا تاکہ یہ ان کی آئندہ نسل کے کام آ سکے۔
’’اور تم اسے ہڑپ نہ کر جائو اسراف اور جلدبازی کر کے (اس ڈر سے) کہ وہ بڑے ہو جائیں گے۔‘‘
ایسا نہ ہو کہ تم یتیموں کا مال ضرورت سے زیادہ اور جلد بازی میں خرچ کرنے لگو‘ اس خیال سے کہ بچے جوان ہو جائیں گے تو یہ مال ان کے حوالے کرنا ہے‘ لہٰذا اس سے پہلے پہلے ہم اس میں سے جتنا ہڑپ کر سکیں کر جائیں۔
وَ مَنۡ کَانَ غَنِیًّا فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ ۚ
’’اور جو کوئی غنی ہو اس کو چاہیے کہ وہ پرہیزکرے۔‘‘
یتیم کا ولی اگر خود غنی ہے‘ اللہ نے اس کو دے رکھا ہے ‘ اس کے پاس کشائش ہے تو اسے یتیم کے مال میں سے کچھ بھی لینے کا حق نہیں ہے۔ پھر اسے یتیم کے مال سے بچتے رہنا چاہیے۔
اگر کوئی خود تنگ دست ہے‘ محتاج ہے اور وہ یتیم کی نگہداشت بھی کر رہا ہے ‘ اس کا کچھ وقت بھی اس پر صرف ہو رہا ہے تو معروف طریقے سے اگر وہ یتیم کے مال میں سے کچھ کھا بھی لے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم بڑی فطری ہے‘ اس میں غیر فطری بندشیں نہیں ہیں جن پر عمل کرنا ناممکن ہو جائے۔
’’اور عورتوں کا بھی حصہ ہے اس میں سے جو ترکہ ہے والدین اور رشتہ داروں کا‘‘
یہاں اب پہلی مرتبہ عورتوں کو وراثت کا حق دیا جا رہا ہے‘ورنہ قبل از اسلام عرب معاشرے میں عورت کا کوئی حق وراثت نہیں تھا۔
مِمَّا قَلَّ مِنۡہُ اَوۡ کَثُرَ ؕ
’’چاہے وہ وراثت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا قانون اس پر ہر صورت میں پوری طرح نافذ ہونا چاہیے۔
نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ﴿۷﴾
’’یہ حصہ ہے (اللہ کی طرف سے) فرض کیا گیا۔‘‘
آگے آپ دیکھیں گے کہ اس قانونِ وراثت کی کس طرح بار بار تاکید آ رہی ہے۔ ساتھ ہی آپ یہ بھی دیکھتے رہیں کہ ہمارے معاشرے کے اندر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی کس طرح دھجیاں بکھرتی ہیں۔ خاص طور پر ہمارے شمالی علاقے میں ویسے تونماز روزہ کا بہت اہتمام ہوتا ہے‘ لیکن وہاں کے لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کو کسی صورت تیار نہیں ہوتے‘ بلکہ اپنے رواج کی پیروی کرتے ہیں۔
’’تو انہیں بھی کچھ دے دلا دو اس میں سے اور ان سے معقول انداز میں بات کرو۔‘‘
وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت وراثت تقسیم ہو رہی ہے اور وہ بالکل محتاج ہیں‘ تو ان کے احساسِ محرومیت کا جو بھی مداوا ہو سکتا ہے کرو‘اور ان سے بڑے اچھے انداز میں بات کرو۔ انہیں جھڑکو نہیں کہ ہماری وراثت تقسیم ہورہی ہے اور یہاں تم کون آ گئے ہو؟
’’اور ڈرتے رہنا چاہیے ان لوگوں کو کہ اگر انہوں نے بھی چھوڑے ہوتے اپنے پیچھے ناتواں بچے تو ان کے بارے میں انہیں کیسے کیسے اندیشے ہوتے۔‘‘
فَلۡیَتَّقُوا اللّٰہَ
’’تو انہیں چاہیے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں‘‘
انہیں یہ خیال کرنا چاہیے کہ یہ یتیم جو اس وقت آ گئے ہیں یہ بھی کسی کے بچے ہیں‘ جن کے سر پر باپ کا سایہ نہیں رہا۔ لہٰذا وہ ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھیں۔
’’یقینا وہ لوگ جو یتیموں کا مال ہڑپ کرتے ہیں ناحق‘‘
اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ نَارًا ؕ
’’وہ تو اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہی ہیں۔‘‘
وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾
’’اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘
اندرکی آگ تو وہ خود اپنے پیٹوں میں ڈال رہے ہیں اور وہ خود بھی سموچے دوزخ کی بھڑکتی آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ گویا ایک آگ ان کے اندر ہو گی اور ایک وسیع و عریض آگ ان کے باہر ہو گی۔ یہ دس آیتیں بڑی جامع ہیں‘ جن میں اس معاشرے کے پسماندہ طبقات میں سے ایک ایک کا خیال کر کے نہایت باریک بینی اور حکمت کے ساتھ احکام دیے گئے ہیں۔