تحریر

آل عمران

آیات ۱۸۱ تا ۲۰۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

181-184

یہود کی گستاخیاں اور جھوٹ

ویڈیو

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿ۚ۱۸۲﴾ اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰی یَاۡتِیَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡکُلُہُ النَّارُ ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِیۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡہُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾ فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ جَآءُوۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۱۸۴﴾

آیت 181

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ

’’اللہ نے سن لیا ہے قول ان لوگوں کا جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔‘‘

یہ بات کہنے والوں میں منافقین بھی شامل تھے اور یہودی بھی۔ جب رسول اللہﷺ مسلمانوں کو انفاقِ مال کی ترغیب دیتے اور فرماتے کہ اللہ کو قرضِ حسنہ دو تو یہودی اور ان کے زیر اثر منافقین اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ ہاں اللہ فقیر ہو گیا ہے جو ہم سے قرض مانگ رہا ہے‘ جبکہ ہم غنی ہیں‘ ہمارے پاس دولت ہے۔

سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا

’’ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ انہوں نے کہا ہے‘‘

ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی جھلکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فوراً تو گرفت نہیں کرتا لیکن ایک وقت آئے گا جس دن انہیں اپنے اس قول کی پوری پوری سزا مل جائے گی۔ اور صرف یہی نہیں:

وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ

’’اور ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی (ہم لکھ رکھیں گے)‘‘

یہ یہودیوں کا ذکر ہے کہ اس سے پہلے یہ لوگ جو اپنے انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ان کا یہ جرم بھی ان کے نامۂ اعمال میں ثبت ہے۔

وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾

’’اور ہم کہیں گے اب چکھو مزا اس جلا دینے والی آگ کے عذاب کا۔‘‘

آیت 182

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ

’’یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے‘‘

وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿ۚ۱۸۲﴾

’’اور اللہ تو اپنے بندوں کے حق میں ہرگز ظالم نہیں ہے۔‘‘

آیت 183

اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیۡنَاۤ

’’جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے ایک عہد لے لیاتھا‘‘

اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰی یَاۡتِیَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡکُلُہُ النَّارُ ؕ

’’کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آگ کھا جائے۔‘‘

یہاں روئے سخن پھر یہود کی طرف ہو گیا ہے۔ نوعِ انسانی جب عہدِ طفولیت میں تھی تو خرقِ عادت واقعات بہت ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک یہ معمول بھی تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ کے حضور کوئی جانور ذبح کر کے پیش کرتا تو آسمان سے ایک آگ اُترتی جو اسے بھسم کر دیتی تھی ۔یہ اس بات کی علامت تھی کہ یہ قربانی قبول ہو گئی۔ جیسے ہابیل اور قابیل کے قصے میں آیا ہے کہ: {اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَ لَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ} (المائدۃ:۲۷) ’’جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی‘‘۔ گویا آسمان سے اترنے والی آگ کی وجہ سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا تھا کہ کس کی قربانی قبول ہوئی ہے اور کس کی نہیں ہوئی۔ قربانی کی قبولیت سے متعلق یہ حسی علامت بنی اسرائیل کے ابتدائی دور میں بھی موجود تھی۔ اس لیے مدینہ کے یہود نے کٹ حجتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے تو اللہ نے یہ عہد لے لیا تھا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ یہ معجزہ نہ دکھائے۔ تو اگر محمد (ﷺ) واقعی رسولؐ ہیں تو یہ معجزہ دکھائیں۔ اس کا جواب دیا جا رہا ہے:

قُلۡ قَدۡ جَآءَکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِیۡ بِالۡبَیِّنٰتِ

’’(اے نبیﷺ !ان سے) کہیے تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں واضح معجزوں کے ساتھ‘‘

وَ بِالَّذِیۡ قُلۡتُمۡ

’’اور وہ چیز بھی لے کر آئے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو‘‘

انہوں نے سوختنی قربانی کامعجزہ بھی دکھایا جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو۔

فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡہُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾

’’پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو؟‘‘

آیت 184

فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ

’’پھر (اے نبیﷺ) اگر وہ آپ ‘کو جھٹلا دیں‘‘

تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ معاملہ صرف آپؐ ہی کے ساتھ نہیں ہوا۔

فَقَدۡ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ

’’توآپؐ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے‘‘

یہ تو اس راستے کا ایک عام تجربہ ہے ‘ جس سے آپؐ ‘کو بھی گزرنا پڑے گا۔

جَآءُوۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۱۸۴﴾

’’جو آئے تھے واضح نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر۔‘‘

185

اصل کامیابی جہنم سے نجات ہے

ویڈیو

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾

آیت 185

کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ؕ

’’ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔‘‘

موت تو ایک دن آکر رہنی ہے۔

وَ اِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’اور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ تو قیامت ہی کے دن دیا جائے گا۔‘‘

فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ

’’تو جو کوئی بچا لیا گیا جہنم سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہو گیا۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ : اے اللہ! ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمانا!

وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾

’’اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘

186

اللہ کی راہ میں تکلیف دہ امور آتے ہی رہیں گے

ویڈیو

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾

آیت 186

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟

’’(مسلمانو! یاد رکھو) تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔‘‘

یہ وہی مضمون ہے جو سورۃ البقرۃ کے انیسویں رکوع میں گزر چکا ہے: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ} (آیت۱۵۵) ’’اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مالوں‘ جانوں اور ثمرات کے نقصان سے‘‘۔یہاں مجہول کا صیغہ ہے کہ تمہیں لازماً آزمایا جائے گا ‘ تمہاری آزمائش کی جائے گی تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی۔کان کھول کر سن لو کہ یہ ایمان کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے‘ یہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ ایسا نہیں ہو گا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے‘ بغیر تکلیفیں اٹھائے تمہیں جنت مل جائے گی۔ سورۃ البقرۃ (آیت ۲۱۴) میں ہم یہ تنبیہہ بھی پڑھ چکے ہیں: ’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی تو تم پر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے…‘‘

وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ

’’اور تمہیں لازماً سننی پڑیں گی ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا بڑی تکلیف دہ باتیں۔‘‘

اے مسلمانو! تم لوگ یہ سب کچھ سنو اور صبر کرو ۔ابتدائی مکی دور میں رسول اللہﷺ کو بھی ایسی ہی ہدایات دی گئی تھیں: {وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۱۰﴾} (المزمل) ’’اور ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ ہو جایئے‘‘۔ ذرا تصور کیجیے ‘آپﷺ کو کیا کچھ نہیں سننا پڑا۔ کسی نے کہہ دیا مجنون ہے‘ کسی نے کہہ دیا شاعر ہے‘ کسی نے کہا ساحر ہے‘ کسی نے کہا مسحور ہے۔ سورۃ الحجر کے آخر میں ارشاد ہے: {وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدۡرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾} ’’(اے نبیﷺ) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ( مشرکین)جوکچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپؐ‘کا سینہ بھنچتا ہے‘‘۔ ان کی زبانوں سے جو کچھ آپ ؐ کو سننا پڑرہا ہے اس سے آپؐ کو تکلیف پہنچتی ہے‘ لیکن صبر کیجیے! وہی بات یہاںمسلمانوں سے کہی جا رہی ہے۔

وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾

’’اور اگر تم صبر کرتے رہو گے (ثابت قدم رہو گے) اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھو گے تو بے شک یہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘

187

اہلِ کتاب کی اللہ کی کتاب کے ساتھ بے وفائی

ویڈیو

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ اشۡتَرَوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئۡسَ مَا یَشۡتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

آیت 187

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ

’’اور یاد کرو جبکہ اللہ نے ان لوگوں سے ایک قول و قرار لیا تھا جن کو کتاب دی گئی تھی‘‘

لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫

’’کہ تم لازماً اُسے لوگوں کے سامنے واضح کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں‘‘

فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ

’’تو انہوں نے اس عہد کوپس پشت پھینک دیا‘‘

وَ اشۡتَرَوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ

’’اور اس کی بڑی حقیر سی قیمت وصول کر لی۔‘‘

فَبِئۡسَ مَا یَشۡتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

’’تو بہت ہی بری شے ہے جو وہ (اس کے بدلے میں) حاصل کر رہے ہیں ۔‘‘

188-189

تعریف و تحسین کی خواہش عذاب سے دوچار کر دے گی

ویڈیو

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا وَّ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾ وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿٪۱۸۹﴾

آیت 188

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا

’’آپ ان کے بارے میں خیال نہ کریں جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں‘‘

اگر کبھی بھلائی کا کوئی کام کر لیتے ہیں‘ کسی کو کچھ دے دیتے ہیں تو اس پر بہت اتراتے ہیں ‘ اکڑتے ہیں کہ ہم نے یہ کچھ کر لیا ہے۔

وَّ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ یُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ یَفۡعَلُوۡا

’’اور (اس سے بھی بڑھ کر) چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ایسے کاموں پر جو انہوں نے کیے ہی نہیں‘‘

آج کل اس کی سب سے بڑی مثال سپاس نامے ہیں‘ جو تقریبات میں مدعو شخصیات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ ان سپاس ناموں میں ان حضرات کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں بیان کیے جاتے ہیں جو ان کی پشتوں میں سے بھی کسی نے نہ کیے ہوں۔ اس طرح ان کی خوشامد اور چاپلوسی کی جاتی ہے اور وہ اسے پسند کرتے ہیں۔

فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ۚ

’’تو آپ ان کے بارے میں یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔‘‘

وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸۸﴾

’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 189

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿٪۱۸۹﴾

’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

190

کائنات کی تخلیق پر غوراللہ کی معرفت کے حصول کا ذریعہ ہے

ویڈیو

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿ۚۙ۱۹۰﴾

تمہید

سورۂ آل عمران کا آخری رکوع قرآن مجید کے عظیم ترین مقامات میں سے ہے۔ اس کی پہلی چھ آیات کے بارے میں روایت آتی ہے کہ جس شب میں یہ نازل ہوئیں ‘ اُس پوری رات حضورﷺ پر رقت طاری رہی اورآپﷺ کھڑے‘ بیٹھے‘ لیٹے ہوئے روتے رہے۔ نماز تہجد کے دوران بھی آپؐ پر رِقت طاری رہی۔ پھر آپؐ نے بہت طویل سجدہ کیا‘ اس میں بھی گریہ طاری رہا اور سجدہ گاہ آنسوئوں سے تر ہو گئی۔ پھر آپؐ کچھ دیر لیٹے رہے لیکن وہ کیفیت برقرار رہی۔ یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپؐ ‘کو اس کیفیت میں دیکھا تو وجہ دریافت کی۔ آپﷺ نے فرمایا:’’اے بلال‘ میں کیوں نہ روئوں ‘آج کی شب میرے ربّ نے مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی ہیں‘‘۔ پھر آپؐ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی (اس روایت کو امام رازی نے تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے) یعنی گریہ اور رقت کی وہ کیفیت شکر کے جذبے کے تحت تھی۔

یہ بھی نوٹ کیجیے کہ سورۂ آل عمران کے بیسویں رکوع اور سورۃ البقرۃ کے بیسویں رکوع کا آغاز ایک جیسی آیات اور ایک جیسے الفاظ سے ہوتا ہے۔ سورۃ البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ یہ ہیں: { اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾} اسی ’’آیت الآیات‘‘ کا خلاصہ یہاں آ گیا ہے:

آیت 190

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ

’’یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں‘‘

لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿ۚۙ۱۹۰﴾

’’ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘

سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۶۴ ان الفاظ پر ختم ہوئی تھی: {لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾} ’’اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں‘‘۔ یہاں ان لوگوں کو ’’اُولوا الالباب‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ ہدایت کا پہلا قدم ہے کہ کائنات کو دیکھو‘ مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرو ؎

کھول آنکھ ‘ زمیں دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ

مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!

یہ سب آیاتِ الٰہیہ ہیں ‘ان کو دیکھو اور اللہ کو پہچانو۔ اگلا قدم یہ ہے کہ جب اللہ کو پہچان لو تو اب اُسے یاد رکھو۔ یعنی ؎

فقر قرآں اختلاطِ ذکر و فکر

فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر!

191-192

سلوکِ قرآنی . . . ذکر و فکر

ویڈیو

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾

آیت 191

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ

’’جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں‘ کھڑے بھی‘ بیٹھے بھی اور اپنے پہلوؤں پر بھی‘‘

وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ

’’اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں۔‘‘

اس غور و فکر سے وہ ایک حتمی نتیجے پرپہنچتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں:

رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ

’’اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد توپیدا نہیں کیاہے۔‘‘

اور پھر ان کا ذہن اپنی طرف منتقل ہوتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میں کس لیے پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا میری زندگی بس یہی ہے کہ کھاؤ پیو‘ اولاد پیدا کرو اور دنیا سے رخصت ہو جاؤ؟ معلوم ہوا کہ نہیں‘ کوئی خلا ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجے نکلنے چاہئیں‘ انسان کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ ملنا چاہیے‘ جو اس دنیا میں اکثر و بیشتر نہیں ملتا۔ دنیا میں اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نیکوکار فاقوں سے رہتے ہیں اور بدکار عیش کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ہونی چاہیے جس میں اچھے برے اعمال کا بھرپور بدلہ مل جائے‘ اور مکافاتِ عمل ہو۔ لہٰذا وہ کہہ اٹھتے ہیں:

سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾

’’تو پاک ہے (اس سے کہ کوئی عبث کام کرے)‘ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے!‘‘

تو نے یقینا ایک دوسری دنیا تیار کر رکھی ہے‘ جس میں جزا وسزا کے لیے جنت بھی ہے اور جہنم بھی!

آیت 192

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ

’’اے ہمارے ربّ! جس کو تو نے داخل کر دیا آگ میں بے شک اس کو تو نے رسوا کر دیا۔‘‘

وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾

’’اور ظالموں کے لیے کو ئی مددگار نہیں ہوں گے۔‘‘

193-194

تکمیلِ ایمان اور ایمان افروز دعائیں

ویڈیو

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ ﴿ۚ۱۹۳﴾ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾

آیت 193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا

’’اے ہمارے ربّ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا‘‘

یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ

’’جو ایمان کی ندا دے رہا تھا کہ ایمان لاؤ اپنے ربّ پر‘ تو ہم ایمان لے آئے۔‘‘

ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے اس اقرار کے بعد ایسے لوگوں کے کانوں میں جونہی کسی نبی یا رسول کی پکار آتی ہے تو وہ بلاتامل فوراً لبیک کہتے ہیں‘ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر رسول اللہﷺ کی دعوت قبول کر لی‘ اس لیے کہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت تک تو وہ خود اپنی عقل اور فکر کے ذریعے پہنچ چکے تھے۔ یہاں سورۃ الفاتحہ کے مضامین کو بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ ایسے اولواالالباب لوگ اپنی سلامتیٔ ‘طبع‘ سلامتیٔ فطرت اور سلامتیٔ ‘عقل کی رہنمائی میں جب اللہ کوپہچان لیتے ہیں ‘ آخرت کو پہچان لیتے ہیں اور یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی بندگی ہی کا راستہ اختیار کرنا ہے‘ تو اس کے بعد وہ نبوت و رسالت کی راہنمائی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں‘ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دستِ سوال دراز کرتے ہیں: {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ } کہ اے اللہ! اب تو ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما۔یہاں بھی یہی مضمون ہے کہ اب ایسے شخص کے سامنے اگر کسی نبی کی دعوت آئے گی تو اُس کا ردِّعمل کیا ہو گا۔ اب آگے ایک بڑی پیاری دُعا آ رہی ہے ۔ یہ اُس دُعا سے جو سورۃ البقرہ کے آخر میں آئی تھی بعض پہلوؤں سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔

رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا

’’اے ہمارے ربّ‘ ہمارے گناہ بخش دے!‘‘

وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا

’’اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے!‘‘

ہمارے نامۂ اعمال کے دھبے بھی دھو دے اور ہمارے دامنِ کردار پر جو داغ ہیں وہ بھی صاف کر دے۔

وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ ﴿ۚ۱۹۳﴾

’’اور ہمیں وفات ‘دیجیو اپنے نیکوکار(اور وفادار) بندوں کے ساتھ۔‘‘

آیت 194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ

’’اے ہمارے رب‘ ہمیں عطا فرما وہ سب کچھ جس کا

تو نے وعدہ کیا ہے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے سے‘‘

وَ لَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’اور ہمیں رسوا نہ کیجیو قیامت کے دن۔‘‘

اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۱۹۴﴾

’’یقینا تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔‘‘

ہمیں شک ہے تو اس بات میں کہ آیا ہم تیرے ان وعدوں کے مصداق ثابت ہو سکیں گے یا نہیں۔ لہٰذا تو اپنی شانِ غفاری سے ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کرنا اور ہمیں وہ سب کچھ عطا کر دینا جس کے بارے میں تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے وعدہ کیا ہے۔

195

افلاک سے آتا ہےنالوں کا جواب آخر

ویڈیو

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴿۱۹۵﴾

آیت 195

فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ

’’تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی‘‘

یہ ہے دعا کی قبولیت کی انتہا کہ اس دعا کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کااعلان ہورہا ہے۔

اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ

’’کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے کسی عمل کو ضائع کرنے والا نہیں ہوں‘ خواہ وہ مردہو یا عورت۔‘‘

بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ

’’تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو۔‘‘

ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی‘ اور ایک ہی ماں کے رحم میں بیٹا بھی پلا ہے اور بیٹی‘بھی۔

فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ

’’سو جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکال دیے گئے‘‘

وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ

’’اور جنہیں میری راہ میں ایذائیں پہنچائی گئیں‘‘

وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا

’’اور جنہوں نے (میری راہ میں) جنگ کی اور جانیں بھی دے دیں‘‘

لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ

’’میں لازماً اُن سے اُن کی برائیوں کو دور کر دوں گا‘‘

ان کے نامۂ اعمال میں اگر کوئی دھبے ہوں گے تو انہیں دھو دوں گا۔

وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ

’’اور لازماً داخل کروں گا انہیں ان باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔‘‘

ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ

’’اور یہ بدلہ ہو گا اللہ کے پاس سے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کے خاص خزانۂ ‘فضل سے۔

وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ

’’اور بہترین بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘

اب ہم اس سورت کی آخری پانچ آیات کا مطالعہ کریں گے۔ ان آیات کی حیثیت اس سورئہ مبارکہ کے تمام مباحث پر ’’خاتمۂ ‘کلام‘‘ کی ہے۔یاد رہے کہ اس سورت میں اہل کتاب کا عمومی ذکر بھی ہوا ہے اور یہود و نصاریٰ کا الگ الگ بھی۔ پھر اس میں اہل ایمان کا ذکر بھی ہے اور مشرکین کا بھی۔ اب فرمایا:

196-198

کافروں کی سرگرمیوں کا اثر نہ لو

ویڈیو

لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿ؕ۱۹۶﴾ مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾ لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۸﴾

آیت 196

لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿ؕ۱۹۶﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے ان کافروں کی چلت پھرت شہروں کے اندر۔‘‘

یہ کافر جو اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ‘ اور اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں‘ جمعیتیں فراہم کر رہے ہیں‘ اس سے آپؐ کسی دھوکے میں نہ آئیں‘ کسی مغالطے کا شکار نہ ہوں‘ ان کی طاقت کے بارے میں کہیں آپؐ مرعوب نہ ہوجائیں۔

آیت 197

مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟

’’یہ تو بس تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے‘‘

یہ تو محض چند روزہ زندگی کے لیے ہم نے انہیں کچھ ساز و سامان دے دیا ہے۔

ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ

’’پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔‘‘

وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾

’’اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

آیت 198

لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ

’’اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کیا‘‘

لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا

’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘ جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے‘‘

نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ

’’یہ (ان کے لیے )ابتدائی مہمان نوازی ہو گی اللہ کی طرف سے۔‘‘

وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴿۱۹۸﴾

’’اور مزید جو اللہ کے پاس ہے وہ کہیں بہتر ہے نیکوکاروں کے لیے۔‘‘

جنت کی اصل نعمتیں تو بیان میں آ ہی نہیں سکتیں۔ ان کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی متفق علیہ حدیث یاد رکھیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث ((قَالَ اللّٰہُ تَـبَارَکَ وَتَعَالٰی : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ)) ۱

’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا‘ اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی گزرا۔‘‘

چنانچہ قرآن و حدیث میں جنت کی جن نعمتوں کاتذکرہ ہے ان کی حیثیت اہل جنت کے لیے نُزُل (ابتدائی مہمان نوازی) کی ہو گی۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ‘ وکتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا

199

اہلِ کتاب میں بھی صالحین ہیں

ویڈیو

وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾

آیت 199

وَ اِنَّ مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَمَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاللّٰہِ

’’اور بے شک اہل کتاب میں وہ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر‘‘

وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ

’’اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کیا گیا‘‘

خٰشِعِیۡنَ لِلّٰہِ ۙ

’’وہ اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں ‘‘

ان کے دلوں میں اللہ کا خوف ہے‘ وہ عاجزی اور تواضع اختیار کرتے ہیں۔

لَا یَشۡتَرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ

’’وہ اللہ کی آیات کو حقیر سی قیمت پر فروخت نہیں کرتے۔‘‘

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ

’’ایسے ہی لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹۹﴾

’’یقینا اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘

وہ حساب لینے میں دیر نہیں لگاتا۔ آخری آیت پھر بہت جامع ہے:

200

فلاحِ اخروی کے لیے چار ہدایات

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۰۰﴾

آیت 200

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا

’’اے اہلِ ایمان! صبر کرو اور صبر میں اپنے دشمنوں سے بڑھ جاؤ‘

مصابرت بابِ مفاعلہ سے ہے اور اس باب میں مقابلے کامفہوم پایا جاتا ہے۔ صبر کے معنی ہیں برداشت کرنا اور ثابت قدم رہنا ‘جبکہ مصابرت کے معنی صبر و استقامت میں دشمن سے بڑھ جانے کے ہیں۔ یعنی اے مسلمانو! صبر تو تمہارے دشمن بھی کر رہے ہیں ۔ تمہیں آج چرکا لگا ہے تو انہیں ایک سال پہلے ایسا ہی چرکا لگا تھا۔ اتنے بڑے چرکے کے بعد جب وہ ایک سال کے اندر پھر چڑھائی کر کے آ گئے ہیں تو تم اپنا دل غمگین کر کے کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ تمہیں تو ان سے بڑھ کر صبر کرنا ہے‘ ان سے بڑھ کر قربانیاں دینی ہیں‘ تبھی تو تم اللہ کے سچے وفادار ثابت ہوگے۔

وَ رَابِطُوۡا ۟

’’اور مربوط رہو۔‘‘

مرابطہ پہرے کو بھی کہتے ہیں اور نظم و ضبط (discipline) کی پابندی کرتے ہوئے باہم جڑے رہنے کو بھی۔ غزوئہ اُحد میں مسلمانوں کو شکست نظم کے ڈھیلے پن اور سمع و طاعت میں کوتاہی کے باعث ہوئی تھی۔لہٰذا یہاں صبر و مصابرت کے ساتھ ساتھ نظم کی پابندی اور باہم مربوط رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۰۰﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘

یہ آخری اور اہم ترین چیز ہے ۔ یہ سب کچھ کرو گے تو فلاح ملے گی۔ ایسے ہی گھر بیٹھے تم فوز و فلاح سے ہمکنار نہیں ہو سکو گے۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآنِ العظیم ۔ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے