لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ
’’اللہ نے سن لیا ہے قول ان لوگوں کا جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔‘‘
یہ بات کہنے والوں میں منافقین بھی شامل تھے اور یہودی بھی۔ جب رسول اللہﷺ مسلمانوں کو انفاقِ مال کی ترغیب دیتے اور فرماتے کہ اللہ کو قرضِ حسنہ دو تو یہودی اور ان کے زیر اثر منافقین اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ ہاں اللہ فقیر ہو گیا ہے جو ہم سے قرض مانگ رہا ہے‘ جبکہ ہم غنی ہیں‘ ہمارے پاس دولت ہے۔
سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا
’’ہم لکھ رکھیں گے جو کچھ انہوں نے کہا ہے‘‘
ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی جھلکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فوراً تو گرفت نہیں کرتا لیکن ایک وقت آئے گا جس دن انہیں اپنے اس قول کی پوری پوری سزا مل جائے گی۔ اور صرف یہی نہیں:
وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ
’’اور ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی (ہم لکھ رکھیں گے)‘‘
یہ یہودیوں کا ذکر ہے کہ اس سے پہلے یہ لوگ جو اپنے انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ان کا یہ جرم بھی ان کے نامۂ اعمال میں ثبت ہے۔
وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾
’’اور ہم کہیں گے اب چکھو مزا اس جلا دینے والی آگ کے عذاب کا۔‘‘