تحریر

آل عمران

آیات ۱۴۴ تا ۱۴۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

144

وابستگی نبی کی حیات سے نہیں ان کے مشن سے رکھو

ویڈیو

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾

آیت 144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ

’’محمد(ﷺ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔‘‘

غزوۂ اُحد کے دوران جب یہ افواہ اڑ گئی کہ محمدرسول اللہﷺ کا انتقال ہو گیا ہے تو بعض لوگ بہت دل گرفتہ ہوگئے کہ اب ہم کس لیے جنگ کریں؟ یہ کیفیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ پربھی طاری ہو گئی۔ آپؓ نے رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر تلوار پھینک دی اور دل برداشتہ ہو کر بیٹھ گئے کہ اب ہم نے جنگ کر کے کیا لینا ہے! یہاں اس طرزِ عمل پر گرفت ہورہی ہے کہ تمہار ایہ رویہ غلط تھا۔ محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں‘ وہ معبود تو نہیں ہیں۔ تم ان کے لیے جہاد نہیں کر رہے‘ بلکہ تم اللہ کے لیے لڑ رہے ہو‘ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنے جان و مال قربان کر رہے ہو۔ محمدﷺ تو اللہ کے رسول ہیں۔

قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ

’’ان سے پہلے بھی بہت سے رسول‘ گزر چکے ہیں۔‘‘

اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ

’’تو کیا اگر اُن کا انتقال ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے؟‘‘

کیا اس صورت میں تم اُلٹے پاؤں راہِ حق سے پھر جائو گے؟ کیا یہی تمہارے دین اور ایمان کی حقیقت ہے؟

وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ

’’اور جو کوئی بھی اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔‘‘

وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾

’’ہاں اللہ بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ چونکہ جذباتی انسان تھے لہٰذا رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑ گئے۔ اس سے ملتی جلتی کیفیت آپؓ پر حضورﷺ کے انتقال کے وقت بھی طاری ہو گئی تھی۔ حضورﷺ کے انتقال کی خبر سن کر آپؓ ‘تلوار سونت کر بیٹھ گئے تھے کہ جو کہے گا محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے میں اُس کا سر اُڑا دوں گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ’’ثانیٔ اسلام و غار وبدر و قبر‘‘ اُس وقت مدینہ کے مضافات میں تھے۔ خبر سن کر آپؓ آئے اور سیدھے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں گئے۔ رسول اللہﷺ کے چہرۂ مبارک پر چادر تھی‘ آپؓ نے چادر ہٹائی اور جھک کر آنحضورﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر کہا: اے اللہ کے رسولؐ‘ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! اللہ تعالیٰ آپؐ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی اب دوبارہ آپؐ پر موت وارد نہیں ہوگی‘ اب تو آپؐ ‘کو حیاتِ جاودانی حاصل ہوچکی ہے۔اس کے بعد آپؓ باہر آئے اور لوگوں سے مخاطب ہوئے ۔ آپؓ کو سامنے پا کر حضرت عمرؓ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُ ’’جو کوئی محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمدﷺ کا انتقال ہو چکا ہے‘ اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اُسے معلوم ہو کہ اللہ تو زندہ ہے‘ جسے موت نہیں آئے گی‘‘۔ اس کے بعد آپؓ نے سورۂ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی : {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾} ’’محمد(ﷺ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔ان سے پہلے بھی بہت سے رسول‘ گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے؟اور جو کوئی بھی اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔ہاں اللہ بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو۔‘‘ اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ آیت سن کر لوگوں کو ایسے محسوس ہوا جیسے یہ آیت اُسی وقت نازل ہوئی ہو۔ ۱

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب المغازی‘ باب مرض النبیﷺ‘ وکتاب الجنائز‘ باب الدخول علی المیت بعد الموت اذا ادرج فی کفنہ‘ وکتاب فضائل اصحاب النبیﷺ‘ باب قول النبیﷺ : لو کنت

145

موت کا وقت طےشدہ ہے

ویڈیو

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَۃِ نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ؕ وَ سَنَجۡزِی الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾

آیت 145

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ

’’اور کسی جان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ مر سکے مگر اللہ کے حکم سے‘‘

کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ

’’(ہر ایک کی موت کا) وقت مقرر لکھا ہوا ہے۔‘‘

اجل معین کے ساتھ ہر ایک کا وقت طے ہے ۔ لہٰذا انسان کی بہترین محافظ خود اس کی موت ہے۔ چنانچہ کسی انسان کی موت کا جو وقت مقرر ہے اس سے پہلے کوئی اس کے لیے موت نہیں لا سکتا۔

وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا ۚ

’’جوکوئی دنیا کا اجر و ثواب چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں۔‘‘

وَ مَنۡ یُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَۃِ نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا

’’اور جو واقعتا آخرت کا اجر چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دیں گے۔‘‘

یہ مضمون سورۃ البقرۃ کی آیات ۲۰۰۔۲۰۲ میں احکامِ حج کے حوالے سے آ چکا ہے۔

وَ سَنَجۡزِی الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾

’’اور شکر کرنے والوں کو ہم بھرپور جزا دیں گے۔‘‘

146-148

اللہ والے،اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں

ویڈیو

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾ وَ مَا کَانَ قَوۡلَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾ فَاٰتٰىہُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا وَ حُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۱۴۸﴾

آیت 146

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ

’’کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں کہ جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی۔‘‘

اے مسلمانو! تمہارے ساتھ جو یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ کوئی پہلا واقعہ تونہیں ہے۔اللہ کے بہت سے نبی ایسے گزرے ہیں جن کی معیت میں بہت سارے اللہ والوں نے‘ اللہ کے ماننے اور چاہنے والوں نے‘ اللہ کے دیوانوں اور متوالوں نے‘ اللہ کے غلاموں اور عاشقوں نے اللہ کے دشمنوں سے جنگیں کی ہیں۔ ’’رِبِّیْ‘ اور ’’ربّائی‘‘ کا لفظ آج بھی یہودیوں کے ہاں اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ

’’تو اللہ کی راہ میں جو بھی تکلیفیں ان پر آئیں اس پرانہوں نے ہمت نہیں ہاری‘‘

وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ

’’اورنہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ ہی (باطل کے آگے) سرنگوں ہوئے۔‘‘

وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾

’’اور اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی صابروں سے محبت ہے۔‘‘

تو اے مسلمانو! تم بھی ایسا ہی کردار اپناؤ اور دل گرفتہ نہ ہو۔

آیت 147

وَ مَا کَانَ قَوۡلَہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا

’’اور اُن کا تو ہر مرحلے پر یہی قول ہوتا تھا کہ وہ دعا کرتے تھے کہ اے ربّ ہمارے! بخش دے ہمیں ہمارے گناہ اور اگر ہم سے اپنے کسی معاملے میں حد سے تجاوز ہو گیا ہو تو اسے معاف فرما دے‘‘

وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾

’’اور ہمارے قدموں کو جما دے اور ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں۔‘‘

حضرت طالوت کے ساتھیوں کی بھی یہی دعا تھی اور سورۃ البقرۃ کے اختتام پر آنے والی دعا کے الفاظ بھی یہی ہیں :{فانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾}۔

آیت 148

فَاٰتٰىہُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا وَ حُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ

’’تو ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب بھی عطا فرما یا اور آخرت کے ثواب کا بھی بہت ہی عمدہ حصہ عطا کیا۔‘‘

انہیں دنیا کی سربلندی اور فتوحات سے بھی نوازا اور آخرت کا بہترین اجر بھی عطا فرمایا۔

وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۱۴۸﴾

’’اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی محسنین کو پسند کرتا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے