وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ
’’محمد(ﷺ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔‘‘
غزوۂ اُحد کے دوران جب یہ افواہ اڑ گئی کہ محمدرسول اللہﷺ کا انتقال ہو گیا ہے تو بعض لوگ بہت دل گرفتہ ہوگئے کہ اب ہم کس لیے جنگ کریں؟ یہ کیفیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ پربھی طاری ہو گئی۔ آپؓ نے رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر تلوار پھینک دی اور دل برداشتہ ہو کر بیٹھ گئے کہ اب ہم نے جنگ کر کے کیا لینا ہے! یہاں اس طرزِ عمل پر گرفت ہورہی ہے کہ تمہار ایہ رویہ غلط تھا۔ محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں‘ وہ معبود تو نہیں ہیں۔ تم ان کے لیے جہاد نہیں کر رہے‘ بلکہ تم اللہ کے لیے لڑ رہے ہو‘ اللہ کے دین کے غلبے کے لیے اپنے جان و مال قربان کر رہے ہو۔ محمدﷺ تو اللہ کے رسول ہیں۔
قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ
’’ان سے پہلے بھی بہت سے رسول‘ گزر چکے ہیں۔‘‘
اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ
’’تو کیا اگر اُن کا انتقال ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے؟‘‘
کیا اس صورت میں تم اُلٹے پاؤں راہِ حق سے پھر جائو گے؟ کیا یہی تمہارے دین اور ایمان کی حقیقت ہے؟
وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ
’’اور جو کوئی بھی اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔‘‘
وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾
’’ہاں اللہ بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ چونکہ جذباتی انسان تھے لہٰذا رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر سن کر حوصلہ چھوڑ گئے۔ اس سے ملتی جلتی کیفیت آپؓ پر حضورﷺ کے انتقال کے وقت بھی طاری ہو گئی تھی۔ حضورﷺ کے انتقال کی خبر سن کر آپؓ ‘تلوار سونت کر بیٹھ گئے تھے کہ جو کہے گا محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے میں اُس کا سر اُڑا دوں گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ’’ثانیٔ اسلام و غار وبدر و قبر‘‘ اُس وقت مدینہ کے مضافات میں تھے۔ خبر سن کر آپؓ آئے اور سیدھے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں گئے۔ رسول اللہﷺ کے چہرۂ مبارک پر چادر تھی‘ آپؓ نے چادر ہٹائی اور جھک کر آنحضورﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر کہا: اے اللہ کے رسولؐ‘ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! اللہ تعالیٰ آپؐ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ یعنی اب دوبارہ آپؐ پر موت وارد نہیں ہوگی‘ اب تو آپؐ ‘کو حیاتِ جاودانی حاصل ہوچکی ہے۔اس کے بعد آپؓ باہر آئے اور لوگوں سے مخاطب ہوئے ۔ آپؓ کو سامنے پا کر حضرت عمرؓ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُ ’’جو کوئی محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمدﷺ کا انتقال ہو چکا ہے‘ اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اُسے معلوم ہو کہ اللہ تو زندہ ہے‘ جسے موت نہیں آئے گی‘‘۔ اس کے بعد آپؓ نے سورۂ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی : {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾} ’’محمد(ﷺ) اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں۔ان سے پہلے بھی بہت سے رسول‘ گزر چکے ہیں۔ تو کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے؟اور جو کوئی بھی اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جائے گا وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا۔ہاں اللہ بدلہ دے گا شکر کرنے والوں کو۔‘‘ اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ آیت سن کر لوگوں کو ایسے محسوس ہوا جیسے یہ آیت اُسی وقت نازل ہوئی ہو۔ ۱
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب المغازی‘ باب مرض النبیﷺ‘ وکتاب الجنائز‘ باب الدخول علی المیت بعد الموت اذا ادرج فی کفنہ‘ وکتاب فضائل اصحاب النبیﷺ‘ باب قول النبیﷺ : لو کنت