اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ
’’اگر تمہیں اب چرکا لگا ہے تو تمہارے دشمن کو بھی ایسا ہی چرکا اس سے پہلے لگ چکا ہے۔‘‘
غزوۂ اُحد میں ستر صحابہؓ‘ شہید ہو گئے تھے۔ ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی تھے۔ بلکہ انصارکا تو کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کا کوئی فرد شہید نہ ہوا ہو۔ رسول اللہﷺ اور مسلمان جب مدینہ واپس آئے تو ہر گھر میں کہرام مچا ہوا تھا ۔ اُس وقت تک میت پر بین کرنے کی ممانعت نہیں ہوئی تھی ۔ عورتیں مرثیے کہہ رہی تھیں‘ بین کر رہی تھیں‘ ماتم کر رہی تھیں۔ صورت حال اس قدر رقت آمیز تھی کہ خود آنحضورﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکل گئے: لٰــکِنَّ حَمْزَۃَ لَا بَوَاکِی لَــہٗ! ۱ ’’ہائے حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والیاں بھی نہیں ہیں!‘‘ ظاہر ہے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تو مہاجر تھے‘ مدینہ میں ان کی کوئی رشتہ دار خواتین نہیں تھیں۔ انصار کے گھرانوں کی تمام خواتین اپنے اپنے مقتولوں پر آنسو بہا رہی تھیں اور بین کر رہی تھیں۔ چنانچہ حضورﷺ کی زبانِ مبارک سے مذکورہ الفاظ سننے کے بعد انصار نے اپنے گھروں سے خواتین کو بھیجا کہ وہ جا کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ تعزیت کریں۔ بہرحال دکھ تو جناب محمدرسول اللہﷺ کو بھی بہت پہنچاتھا۔ آخر آپؐ کے سینے کے اندر ایک حساس دل تھا‘ پتھر کا کوئی ٹکڑا تو نہیں تھا۔ اس پس منظر میں یہاں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے فرما رہا ہے کہ تم لوگ اس دکھ پر اتنے غمگین اور دل گرفتہ نہ ہو۔ اس وقت اگر تمہیں کوئی چرکالگا ہے تو اس جیسا چرکا اس سے پہلے تمہارے دشمن کو بھی لگ چکا ہے۔ ایک سال پہلے ان کے بھی ستر افراد مارے گئے تھے۔
وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ
’’یہ تو دن ہیں جن کو ہم لوگوں میں الٹ پھیر کرتے رہتے‘ہیں۔‘‘
یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ کسی قوم کو ہم ایک سی کیفیت میں نہیں رکھتے۔
وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا
’’اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ لے کہ کون لوگ حقیقتاً مؤمن ہیں‘‘
اگر امتحان اور آزمائش نہ آئے ‘ تکلیف نہ آئے ‘ قربانی نہ دینی پڑے‘ کوئی زک نہ پہنچے تو کیسے پتا چلے کہ حقیقی مؤمن کون ہے؟ امتحان وآزمائش ہی سے تو پتا چلتا ہے کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ آزمائش و ابتلاء کے ذریعے ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کس نے اپنا سب کچھ لگا دیا؟ کس نے صبر کیا؟کون ثابت قدم رہا اور کون الٹے پائوں پھر گیا؟
وَ یَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ شُہَدَآءَ ؕ
’’اور وہ چاہتا ہے کہ تم میں سے کچھ کو مقامِ شہادت عطا کرے۔‘‘
انہیں اپنی گواہی کے لیے قبول کر لے۔
وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۴۰﴾
’’اوراللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ نے کفار کی مدد کی ہے اور ان کو پسند کیا ہے (معاذاللہ!)
(۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الجنائز‘ باب ما جاء فی البکاء علی المیت۔ ومسند احمد:۵۵ و ۵۶۳۳۔ عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما۔
وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾
’’اور یہ اس لیے ہوا ہے کہ اللہ اہل ایمان کو بالکل پاک صاف کر دے اور کافروں کو مٹا دے۔‘‘
اس موقع پر دراصل مسلمانوں میں سے خاص طور پر ان لوگوں کی آزمائش مطلوب تھی جو ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے ‘ ان میں کچھ پختہ ایمان والے تھے‘ کچھ کمزور ایمان والے تھے اور کچھ منافق بھی تھے۔ اللہ نے چاہا کہ کمزور ایمان والے بھی پوری طرح پختہ ہو جائیں‘ اور اگر کوئی منافق ہے تو وہ اہل ایمان سے کٹ جائے‘ تاکہ بحیثیت مجموعی جماعتی قوت کو کوئی ضعف نہ پہنچے۔ چنانچہ اس جنگ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہاری صفوں میں گڈمڈ ہوجانے والے لوگوں کی تمحیص کر دی ہے‘یعنی ان سب کو چھانٹ کر الگ الگ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے عبداللہ بن اُبی اور ا س کے تین سو ساتھیوں کے نفاق کا پردہ اسی آزمائش سے چاک ہو اہے ‘ ورنہ ان کی اصلیت مسلمانوں پرکیسے ظاہر ہوتی؟ ’’بحث و تمحیص‘‘ کی ترکیب ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ بحث کا معنی ہے کریدنا اور تمحیص بمعنی الگ الگ کرنا۔
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ
’’کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاؤ گے‘‘
وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
’’حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں ہے کہ تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور کون صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔‘‘
گویا ؏
’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!‘‘
ابھی تو تمہارے لیے اس راستے میں کڑی سے کڑی منزلیں آنے والی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۴ میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ زیر مطالعہ آیت کا نمبر ۱۴۲ ہے ‘ یعنی ہندسے وہی ہیں صرف ترتیب بدلی ہوئی ہے۔
وَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡہُ ۪
’’اور تم تو موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے پہلے کہ اُس سے ملاقات ہوتی۔‘‘
فَقَدۡ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿٪۱۴۳﴾
’’سو اب تم نے اسے دیکھ لیا ہے اپنی آنکھوں سے۔‘‘
یہاں روئے سخن اُن لوگوں کی طرف ہے جو نئے نئے ایمان لائے تھے اور ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں نے کہا تھا کہ ہمیں تو شہادت چاہیے اور یہ کہ ہم کھلے میدان میں جا کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ان کے جذبات پر تھوڑا سا تبصرہ ہو رہا ہے کہ اُس وقت تو جو شِ قتال اور ذوقِ شہادت کا اظہار ہو رہاتھا‘ اب تم نے موت دیکھ لی ہے نا!تو یہ ہے موت جسے انسان اتنی آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرتا۔