تحریر

آل عمران

آیات ۱۳۰ تا ۱۴۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

130

سود مرکّب کی حرمت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۱۳۰﴾

آیت 130

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَۃً ۪

’’اے اہل ایمان! سود مت کھاؤ دگنا چوگنا بڑھتا ہوا‘‘

یہاں پر سود مرکب (compound interest) کا ذکر آیا ہے جو بڑھتا چڑھتا رہتا ہے ۔ واضح رہے کہ شراب اور جوئے کی طرح سود کی حرمت کے احکام بھی تدریجاً نازل ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے سورۃ الروم (مکی سورت) میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سود کی قباحت اور شناعت کو واضح کر دیا گیا: {وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾} ’’اور جو کچھ تم دیتے ہو سود پر تا کہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی‘اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو (اوراس سے) اللہ کی رضا چاہتے ہو‘تو یہی لوگ ہیں جو (اللہ کے ہاں اپنے مال کو) بڑھانے والے ہیں‘‘۔جیسے کہ شراب اور جوئے کی خرابی کو ابتدائی طور پر سورۃ البقرۃ (آیت ۲۱۹) میں بیان کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آیت زیر مطالعہ میں دوسرے قدم کے طور پر مہاجنی سود (usury) سے روک دیا گیا۔ہمارے ہاں آج کل بھی ایسے سود خور موجود ہیں جو بہت زیادہ شرح سود پر لوگوں کو قرض دیتے ہیں اور ان کا خون چوس جاتے ہیں ۔تو یہاں اس سود کی مذمت آئی ہے۔ واضح رہے کہ سود کے بارے میں آخری اور حتمی حکم ۹ھ میں نازل ہوا‘ لیکن ترتیب مصحف میں وہ حکم سورۃ البقرۃ کے رکوع ۳۸ میں ہے۔ وہاں پر سود کو دو ٹوک انداز میں حرام قرار دے دیا گیا اور سود خوری سے باز نہ آنے پر اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی طرف سے جنگ کا الٹی میٹم دے دیا گیا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ غزوئہ اُحد کے حالات وواقعات کے درمیان سود خوری کی مذمت کیوں بیان ہوئی؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درّے پر مامور پچاس تیر اندازوں میں سے جوپینتیس لوگ اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تھے ان کے تحت الشعور میں مالِ غنیمت کی کوئی طلب تھی‘ جو نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس حوالے سے سود خوری کی مذمت بیان کی گئی کہ یہ بھی انسان کے اندر مال و دولت سے ایسی محبت پیدا کر دیتی ہے جس کی وجہ سے اس کے کردار میں بڑے بڑے خلا پیدا ہو سکتے ہیں ۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۱۳۰﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

131-133

اہل ایمان کے لیےقیمتی ہدایات

ویڈیو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۚ۱۳۱﴾ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿ۚ۱۳۲﴾ وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۱۳۳﴾

آیت 131

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡۤ اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۚ۱۳۱﴾

’’اور اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

آیت 132

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿ۚ۱۳۲﴾

’’اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تاکہ تم پررحم کیا جائے۔‘‘

آیت 133

وَ سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ ۙ

’’اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت کے حصول کے لیے اور اُس جنت کو حاصل کرنے کے لیے جس کا پھیلائو آسمانوں اور زمین جتنا ہے‘‘

اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۱۳۳﴾

’’وہ تیار کی گئی ہے (اور سنواری گئی ہے) اہل تقویٰ کے لیے۔‘‘

134-136

متّقی کون ہیں؟

ویڈیو

الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۳۴﴾ وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾ اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ نِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿ؕ۱۳۶﴾

آیت 134

الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ

’’وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں کشادگی میں بھی اور تنگی میں بھی‘‘

یہاں بھی تقابل ملاحظہ کیجیے کہ سود کے مقابلے میں انفاق کا ذکر ہوا ہے۔

وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ

’’اور وہ اپنے غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کی خطاؤں سے درگزر کرنے والے ہیں۔‘‘

وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۳۴﴾

’’اور اللہ تعالیٰ ایسے محسنین کو پسند کرتا ہے۔‘‘

یہ درجۂ احسان ہے ‘ جو اسلام اور ایمان کے بعد کا درجہ ہے۔

آیت 135

وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ

’’اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی ان سے کسی بے حیائی کا ارتکاب ہو جائے یا اپنے اوپر کوئی اور ظلم کر بیٹھیں تو فوراً انہیں اللہ یاد آجاتا ہے‘‘

فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪

’’پس وہ اُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔‘‘

سورۃ النساء آیت ۱۷ میں اس حوالے سے خصوصی بشارت کا ذکر ہے کہ کسی مسلمان شخص سے اگر کوئی خطا ہو جائے اور وہ فوراً توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر واجب ٹھہرا لیا ہے کہ وہ اس کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔

وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟

’’اور کون ہے جو معاف کر سکے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟‘‘

وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۵﴾

’’اور وہ اپنے اس غلط فعل پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔‘‘

یعنی ایسا نہیں کہ وہ گناہ پر گناہ کرتے چلے جا رہے ہیں کہ موت آنے پر توبہ کر لیں گے۔ اُس وقت کی توبہ توبہ نہیں ہے‘ بلکہ توبہ تو یہ ہے کہ ایک مسلمان سے اگر جذبات کی رو میں بہہ کر یا بھول چوک میں کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ ہوش آنے پر فوری اللہ کے حضور گڑگڑائے ‘ عزمِ مصمم کرے کہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا‘ اور پوری پشیمانی کے ساتھ صمیم قلب سے اللہ کی جناب میں توبہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ ایسی توبہ کو قبول کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔

آیت 136

اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ

’’یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کا بدلہ ہے ان کے رب کی طرف سے مغفرت‘‘

وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’اور وہ باغات کہ جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

وَ نِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿ؕ۱۳۶﴾

’’اور کیا ہی اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔‘‘

137-138

حصولِ ہدایت کے 2ذریعے 1: تاریخ سے عبرت اور 2: آیاتِ قرآنیہ سے فیض

ویڈیو

قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ سُنَنٌ ۙ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾ ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾

آیت 137

قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ سُنَنٌ ۙ

’’تم سے پہلے بھی بہت سے حالات و واقعات گزر چکے‘ہیں‘‘

فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ

’’تو زمین میں گھومو پھرو‘‘

فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾

’’اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا!‘‘

قریش کے تجارتی قافلے شام کی طرف جاتے تھے تو وہ ان علاقوں سے ہو کر گزرتے تھے جہاں کبھی قومِ ثمود اور قومِ لوط کی بستیاں آباد تھیں۔ اس حوالے سے انہیں بتایا جا رہا ہے کہ ان قوموں کی آبادیوں کے کھنڈرات سے عبرت حاصل کروکہ ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا۔

آیت 138

ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ ہُدًی وَّ مَوۡعِظَۃٌ لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾

’’یہ وضاحت ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے متقین کے حق میں۔‘‘

139

مسلمانوں کا عروج ایمان سے مشروط ہے

ویڈیو

وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾

آیت 139

وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا

’’اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کھائو‘‘

وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾

’’اور تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مؤمن ہوئے۔‘‘

اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ آیت بہت اہم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پختہ وعدہ ہے کہ تم ہی غالب و سربلند ہوگے‘ آخری فتح تمہاری ہو گی‘ بشرطیکہ تم مؤمن ہوئے ۔یہ آیت ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ آج دنیا میں جوہم ذلیل ہیں‘غالب و سربلند نہیں ہیں‘ تونتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہ کہ ہمارے اندر ایمان نہیں ہے‘ ہم حقیقی ایمان سے محروم ہیں۔ ہم جس ایمان کے مدعی ہیں وہ محض ایک موروثی عقیدہ ہے‘ یقین قلبی اور conviction والا ایمان نہیں ہے۔ بہرحال اس آیت کی رو سے یہ ممکن نہیں کہ اُمت کے اندر حقیقی ایمان موجود ہو اور پھر بھی وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہو۔

140-143

اہل ایمان ہمّت نہ ہاریں

ویڈیو

اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ شُہَدَآءَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۴۰﴾ وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾ وَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡہُ ۪ فَقَدۡ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿٪۱۴۳﴾

آیت 140

اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ ؕ

’’اگر تمہیں اب چرکا لگا ہے تو تمہارے دشمن کو بھی ایسا ہی چرکا اس سے پہلے لگ چکا ہے۔‘‘

غزوۂ اُحد میں ستر صحابہؓ‘ شہید ہو گئے تھے۔ ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی تھے۔ بلکہ انصارکا تو کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کا کوئی فرد شہید نہ ہوا ہو۔ رسول اللہﷺ اور مسلمان جب مدینہ واپس آئے تو ہر گھر میں کہرام مچا ہوا تھا ۔ اُس وقت تک میت پر بین کرنے کی ممانعت نہیں ہوئی تھی ۔ عورتیں مرثیے کہہ رہی تھیں‘ بین کر رہی تھیں‘ ماتم کر رہی تھیں۔ صورت حال اس قدر رقت آمیز تھی کہ خود آنحضورﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ نکل گئے: لٰــکِنَّ حَمْزَۃَ لَا بَوَاکِی لَــہٗ! ۱ ’’ہائے حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والیاں بھی نہیں ہیں!‘‘ ظاہر ہے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تو مہاجر تھے‘ مدینہ میں ان کی کوئی رشتہ دار خواتین نہیں تھیں۔ انصار کے گھرانوں کی تمام خواتین اپنے اپنے مقتولوں پر آنسو بہا رہی تھیں اور بین کر رہی تھیں۔ چنانچہ حضورﷺ کی زبانِ مبارک سے مذکورہ الفاظ سننے کے بعد انصار نے اپنے گھروں سے خواتین کو بھیجا کہ وہ جا کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ تعزیت کریں۔ بہرحال دکھ تو جناب محمدرسول اللہﷺ کو بھی بہت پہنچاتھا۔ آخر آپؐ کے سینے کے اندر ایک حساس دل تھا‘ پتھر کا کوئی ٹکڑا تو نہیں تھا۔ اس پس منظر میں یہاں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے فرما رہا ہے کہ تم لوگ اس دکھ پر اتنے غمگین اور دل گرفتہ نہ ہو۔ اس وقت اگر تمہیں کوئی چرکالگا ہے تو اس جیسا چرکا اس سے پہلے تمہارے دشمن کو بھی لگ چکا ہے۔ ایک سال پہلے ان کے بھی ستر افراد مارے گئے تھے۔

وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ ۚ

’’یہ تو دن ہیں جن کو ہم لوگوں میں الٹ پھیر کرتے رہتے‘ہیں۔‘‘

یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ کسی قوم کو ہم ایک سی کیفیت میں نہیں رکھتے۔

وَ لِیَعۡلَمَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

’’اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ لے کہ کون لوگ حقیقتاً مؤمن ہیں‘‘

اگر امتحان اور آزمائش نہ آئے ‘ تکلیف نہ آئے ‘ قربانی نہ دینی پڑے‘ کوئی زک نہ پہنچے تو کیسے پتا چلے کہ حقیقی مؤمن کون ہے؟ امتحان وآزمائش ہی سے تو پتا چلتا ہے کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ آزمائش و ابتلاء کے ذریعے ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کس نے اپنا سب کچھ لگا دیا؟ کس نے صبر کیا؟کون ثابت قدم رہا اور کون الٹے پائوں پھر گیا؟

وَ یَتَّخِذَ مِنۡکُمۡ شُہَدَآءَ ؕ

’’اور وہ چاہتا ہے کہ تم میں سے کچھ کو مقامِ شہادت عطا کرے۔‘‘

انہیں اپنی گواہی کے لیے قبول کر لے۔

وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۴۰﴾

’’اوراللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ نے کفار کی مدد کی ہے اور ان کو پسند کیا ہے (معاذاللہ!)

(۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الجنائز‘ باب ما جاء فی البکاء علی المیت۔ ومسند احمد:۵۵ و ۵۶۳۳۔ عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما۔

آیت 141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾

’’اور یہ اس لیے ہوا ہے کہ اللہ اہل ایمان کو بالکل پاک صاف کر دے اور کافروں کو مٹا دے۔‘‘

اس موقع پر دراصل مسلمانوں میں سے خاص طور پر ان لوگوں کی آزمائش مطلوب تھی جو ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے ‘ ان میں کچھ پختہ ایمان والے تھے‘ کچھ کمزور ایمان والے تھے اور کچھ منافق بھی تھے۔ اللہ نے چاہا کہ کمزور ایمان والے بھی پوری طرح پختہ ہو جائیں‘ اور اگر کوئی منافق ہے تو وہ اہل ایمان سے کٹ جائے‘ تاکہ بحیثیت مجموعی جماعتی قوت کو کوئی ضعف نہ پہنچے۔ چنانچہ اس جنگ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہاری صفوں میں گڈمڈ ہوجانے والے لوگوں کی تمحیص کر دی ہے‘یعنی ان سب کو چھانٹ کر الگ الگ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے عبداللہ بن اُبی اور ا س کے تین سو ساتھیوں کے نفاق کا پردہ اسی آزمائش سے چاک ہو اہے ‘ ورنہ ان کی اصلیت مسلمانوں پرکیسے ظاہر ہوتی؟ ’’بحث و تمحیص‘‘ کی ترکیب ہم اردو میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ بحث کا معنی ہے کریدنا اور تمحیص بمعنی الگ الگ کرنا۔

آیت 142

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ

’’کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاؤ گے‘‘

وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾

’’حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں ہے کہ تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور کون صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔‘‘

گویا ؏

’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!‘‘

ابھی تو تمہارے لیے اس راستے میں کڑی سے کڑی منزلیں آنے والی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۴ میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ زیر مطالعہ آیت کا نمبر ۱۴۲ ہے ‘ یعنی ہندسے وہی ہیں صرف ترتیب بدلی ہوئی ہے۔

آیت 143

وَ لَقَدۡ کُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡہُ ۪

’’اور تم تو موت کی تمنا کر رہے تھے اس سے پہلے کہ اُس سے ملاقات ہوتی۔‘‘

فَقَدۡ رَاَیۡتُمُوۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿٪۱۴۳﴾

’’سو اب تم نے اسے دیکھ لیا ہے اپنی آنکھوں سے۔‘‘

یہاں روئے سخن اُن لوگوں کی طرف ہے جو نئے نئے ایمان لائے تھے اور ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں نے کہا تھا کہ ہمیں تو شہادت چاہیے اور یہ کہ ہم کھلے میدان میں جا کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ان کے جذبات پر تھوڑا سا تبصرہ ہو رہا ہے کہ اُس وقت تو جو شِ قتال اور ذوقِ شہادت کا اظہار ہو رہاتھا‘ اب تم نے موت دیکھ لی ہے نا!تو یہ ہے موت جسے انسان اتنی آسانی کے ساتھ قبول نہیں کرتا۔

یوٹیوب پر دیکھیے