ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً
’’پھر اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا‘‘
نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ
’’یعنی وہ نیند جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہو گئی‘‘
نیند انسان کے لیے اطمینانِ قلب کا مظہر ہوتی ہے نیند کی حالت میں انسان سب کچھ بھول جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر عین حالت جنگ میں نیند کی کیفیت پیدا کر دی جو اللہ کی رحمت خاص کامظہر تھی۔
وَ طَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ
’’اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جنہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی‘‘
یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ
’’وہ اللہ کے بارے میں ناحق جہالت والے گمان کر رہے تھے۔‘‘
عبداللہ بن اُبی اور اس کے تین سو ساتھی تو راستے ہی سے واپس ہو گئے تھے۔ اس کے بعد بھی اگر مسلمانوں کی جماعت میں کچھ منافقین باقی رہ گئے تھے تو ان کا حال یہ تھا کہ اُس وقت انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی کیفیت میں انہیں اونگھ کیسے آتی؟ ان کا حال تو یہ تھا کہ ان کے دلوں میں وسوسے آ رہے تھے کہ اللہ نے تو مدد کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن وہ وعدہ پورا نہیں ہوا‘ اللہ کی بات سچی ثابت نہیں ہوئی۔ اس طرح ان کے دل و دماغ میں خلافِ حقیقت جاہلانہ گمان پیداہو رہے تھے۔
یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ
’’وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے بھی اختیار میں کوئی حصہ ہے یا نہیں؟‘‘
یہ غالباً وہ لوگ تھے جنہوں نے مشورہ دیا تھا (جیسے حضورﷺ کی اپنی رائے بھی تھی) کہ مدینے کے اندر محصور رہ کر جنگ کی جائے۔ جب ان کے مشورے پر عمل نہ ہوا تو وہ کہنے لگے کہ ان معاملات میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے یا ساری بات محمد(ﷺ) ہی کی چلے گی؟ یہ وہ مسئلہ ہے جو وہ جماعتی زندگی کے اندر بار بار سر اٹھاتا ہے۔ جماعت کے اندر دراصل ہر شخص چاہتا ہے کہ میری بات بھی مانی جائے‘ میری رائے کو بھی اہمیت دی جائے۔ آخر ہم اپنے امیر ہی کی رائے کیوں مانتے چلے جائیں؟ہمارا بھی کچھ اختیار ہے یا نہیں؟
قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ
’’کہہ دیجیے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘
یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ
’’(اے نبیﷺ!) یہ اپنے دل میں وہ بات چھپا
رہے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کر رہے۔‘‘
ان کے دل میں کیا ہے؟ اب اللہ کھول کر بتا رہا ہے۔
یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ
’’یہ (اپنے دل میں) کہتے ہیں کہ اگر اختیار میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔‘‘
کہ اگر ہماری رائے مانی جاتی‘ ہمارے مشورے پر عمل ہوتا تو ہمارے اتنے لوگ یہاں پر قتل نہ ہوتے۔
قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ
’’ان سے کہیے کہ اگر تم سب کے سب اپنے گھروں میں بھی ہوتے‘‘
لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ
’’تب بھی جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کر رہتے۔‘‘
اللہ کی مشیت میں جن کے لیے طے تھا کہ انہیں شہادت کی خلعتِ فاخرہ پہنائی جائے گی وہ خود بخود اپنے گھروں سے نکل آتے اور کشاں کشاں ان جگہوں پر پہنچ جاتے جہاں انہوں نے خلعتِ شہادت زیب تن کرنی تھی۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہوتے ہیں‘ تمہاری تدبیر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
وَ لِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ
’’اور یہ (معاملہ جو پیش آیا) اس لیے تھا کہ اللہ اسے آزمالے جو کچھ تمہارے سینوں میں تھا‘‘
وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ
’’اور تاکہ وہ بالکل پاک اور خالص کر دے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾
’’اور اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘