تحریر

آل عمران

آیات ۱۴۹ تا ۱۵۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

149-151

کافروں کا مشن ٠٠٠ مسلمانوں کو ایمان کی دولت سے محروم کرنا

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾ بَلِ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ النّٰصِرِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾ سَنُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ بِمَاۤ اَشۡرَکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا ۚ وَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ وَ بِئۡسَ مَثۡوَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾

آیت 149

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَرُدُّوۡکُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ

’’اے اہل ایمان! اگر تم ان لوگوں کا کہنا مانو گے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل واپس لے جائیں گے‘‘

فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾

’’پھر تم بالکل نامراد ہو کے رہ جاؤ گے۔‘‘

آیت 150

بَلِ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ

’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارا مولیٰ تو اللہ ہے۔‘‘

تمہیں یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ تمہارا مولیٰ ‘ مددگار‘ پشت پناہ‘ ساتھی اور حمایتی اللہ ہے۔

وَ ہُوَ خَیۡرُ النّٰصِرِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾

’’اور وہی ہے جو سب سے اچھا مددگار ہے۔‘‘

آیت 151

سَنُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ

’’ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے‘‘

بِمَاۤ اَشۡرَکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا ۚ

’’اس سبب سے کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جن کے حق میں اُس نے کوئی سند نہیں اُتاری۔‘‘

وَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ وَ بِئۡسَ مَثۡوَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾

’’اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے‘ اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ان ظالموں کے لیے۔‘‘

اس آیت میں دراصل توجیہہ بیان ہو رہی ہے کہ غزوۂ اُحد میں واضح برتری حاصل کرلینے کے بعد مشرکین واپس کیوں چلے گئے تھے۔ خصوصاً ایسی صورت حال میں جب رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوپہاڑ کے اوپر چڑھ کر پناہ لینا پڑی تھی۔ اُس وقت خالد بن ولید بضد تھے کہ ہمیں مسلمانوں کا تعاقب کرنا چاہیے اور انہیں ہمیشہ کے لیے ختم کر دیناچاہیے۔لیکن ہوا یوں کہ اُس وقت ابوسفیان کے دل میں اللہ نے رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لشکر کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ ورنہ مسلمانوں کے لیے اُس وقت صورتِ حال واقعتا بہت مخدوش ہو چکی تھی۔

152

نظم کی خلاف ورزی ٠٠٠ فتح شکست میں بدل گئی

ویڈیو

وَ لَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَ تَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَ عَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنۡیَا وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ ثُمَّ صَرَفَکُمۡ عَنۡہُمۡ لِیَبۡتَلِیَکُمۡ ۚ وَ لَقَدۡ عَفَا عَنۡکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾

آیت 152

وَ لَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ

’’اور اللہ نے تو تم سے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا جبکہ تم ان کو تہ تیغ کر رہے تھے اللہ کے حکم سے۔‘‘

غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کو جو زک پہنچی تھی‘ اس کی وجہ سے ان کے دل شدید زخمی تھے۔ اس ضمن میں اب یہ آیت ایک قولِ فیصل کے انداز میں آئی ہے کہ دیکھو مسلمانو! تم ہم سے کوئی شکایت نہیں کر سکتے‘ ہم نے تم سے تائید و نصرت کا جو وعدہ کیا تھا وہ اس وقت پورا ہو گیا تھا جب تم انہیں ہمارے حکم سے گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔ اس وقت تمہیں مکمل فتح حاصل ہو گئی تھی۔

حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَ تَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ

’’یہاں تک کہ جب تم ڈھیلے پڑ گئے اور امر میں تم نے جھگڑا کیا‘‘

فَشِلْتُمْ کا ترجمہ بعض مترجمین نے کچھ اور بھی کیا ہے‘لیکن میرے نزدیک یہاں اس سے مراد نظم (ڈسپلن) کو ڈھیلا کرنا ہے۔ اسلامی نظمِ جماعت میں سمع و طاعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے‘ اور ظاہر ہے کہ سمع و طاعت میں ایک ہی شخص کی اطاعت مقصود نہیں ہوتی۔ رسول اللہﷺ کی اطاعت بھی فرض تھی اور آپﷺ اگر کسی کو امیرمقرر کرتے تو اس کی اطاعت بھی فرض تھی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا:

حدیث ((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ)) ۱

’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی ‘اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی‘ اور جس نے میرے نامزد کردہ امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی۔‘‘

یہاں پر یہ نکتہ بھی پیش نظر رہناچاہیے کہ درہ چھوڑنے والے تیر اندازوں نے اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق رسول اللہﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ان کے خیال کے مطابق حضورﷺ کا یہ حکم شکست کی صورت میں تھا کہ اگر ہم سب بھی اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں اور تم دیکھو کہ چیلیں اور کوے ہمارا گوشت کھا رہے ہیں تب بھی یہاں سے نہ ہٹنا۔چنانچہ جب فتح ہو گئی تو انہوں نے نیک نیتی سے یہ سمجھا کہ اب وہاں ان کی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے جانتے بوجھتے رسول اللہﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔لیکن انہوں نے اپنے مقامی امیر (لوکل کمانڈر) کے حکم کی بہرحال خلاف ورزی کی تھی‘ اور میرے نزدیک یہاں ’’عَصَیْتُمْ‘‘ سے یہی حکم عدولی مراد ہے۔

وَ عَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ

’’اور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ تم نے وہ چیز دیکھ لی جو تمہیں محبوب ہے۔‘‘

{عَصَیْتُمْ} کے بارے میں اوپر وضاحت ہو چکی ہے کہ اس سے مراد اللہ کے رسولﷺ کی نافرمانی نہیں‘ بلکہ لوکل کمانڈر کی نافرمانی ہے۔ {مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ } سے اکثر مفسرین نے مالِ غنیمت مراد لیا ہے‘ کہ درّے پر مامور حضرات مالِ غنیمت کی طلب میں اپنی جگہ چھوڑ آئے تھے‘ لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کا قانون تو غزوئہ بدر کے بعد سورۃ الانفال میں نازل ہو چکا تھا۔ اس قانون کی رو سے اگر کوئی شخص کچھ بھی جمع نہ کرتا تب بھی اسے اس کے حصے کا مالِ غنیمت مل جاتا۔ چنانچہ یہاں {مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ } سے مراد دراصل ’’فتح‘‘ ہے اور اس کے لیے ’’القُرآن یفُسِّر بعضُہ بَعْضًا‘‘ کی رُو سے سورۃ الصف کی یہ آیت ہماری رہنمائی کرتی ہے: {وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ} (آیت ۱۳) ’’اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔‘‘ظاہر ہے بندئہ مؤمن کو دنیا میں فتح و نصرت محبوب تو ہوتی ہے‘ لیکن اسے اس کو اپنا مقصود نہیں بناناچاہیے‘ بلکہ دنیا میں اس کا مقصوداللہ کی رضا جوئی اور اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔ باقی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اس کا فیصلہ اللہ کی مرضی اور اس کی حکمت کے تحت ہوتاہے۔ اللہ کب فتح لانا چاہتا ہے وہ بہتر جانتا ہے۔

مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنۡیَا

’’تم میں سے وہ بھی ہیں جو دنیا چاہتے ہیں‘‘

یعنی وہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا میں فتح و نصرت اور کامیابی حاصل ہو جائے‘ ہمارا بول بالا ہو جائے‘ ہماری حکومت قائم ہو جائے۔

وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ

’’اور تم میں وہ بھی ہیں جو صرف آخرت کے طالب ہیں۔‘‘

ثُمَّ صَرَفَکُمۡ عَنۡہُمۡ لِیَبۡتَلِیَکُمۡ

’’پھر اللہ نے تمہارا رُخ پھیر دیا اُن کی طرف سے تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔‘‘

پہلے وہ بھاگ رہے تھے اور تم ان کا تعاقب کر رہے تھے‘ اب معاملہ الٹاہو گیا ۔اب تم پسپا ہوگئے اور اپنی جانیں بچانے کے لیے اِدھر اُدھر جائے پناہ ڈھونڈنے لگے۔ تمہاری یہ پسپائی تمہارے لیے آزمائش تھی۔

وَ لَقَدۡ عَفَا عَنۡکُمۡ ؕ

’’اور اللہ تمہیں معاف کر چکا ہے۔‘‘

اس دوران تم میں سے جس کسی سے جو بھی خطا ہوئی اللہ نے اسے معاف فرما دیا ہے۔

وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾

’’اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے حق میں بہت فضل والاہے۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الاحکام‘ باب قول اللّٰہ تعالٰی : واطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ…

153

مشکلات پر مشکلات کی حکمت

ویڈیو

اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّکَیۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا مَاۤ اَصَابَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾

آیت 153

اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ

’’یاد کرو‘ جب کہ تم (پہاڑ پر) چڑھے چلے جا رہے تھے (جان بچانے کے لیے)اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھ رہے تھے‘‘

وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ

’’اور رسول(ﷺ) تمہیں پکار رہے تھے تمہارے پیچھے‘سے‘‘

غزوۂ اُحد میں خالد بن ولید کے اچانک حملے سے یک دم بھگدڑ سی مچ گئی تھی۔ اس صورت حال میں بعض صحابہؓ نے رسول اللہﷺ کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا تھا۔ انہوں نے اپنے جسموں کو ڈھال بناکر آنحضورﷺ کی حفاظت کی۔ بہت سے لوگ اُس وقت سراسیمہ ہو کر اپنی جان بچانے کی خاطر اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ انہیں پکار پکار کر واپس بلا رہے تھے۔

فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ

’’تو اللہ تعالیٰ تم پر غم کے بعد غم مسلسل ڈالتا رہا‘‘

لِّکَیۡلَا تَحۡزَنُوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ وَ لَا مَاۤ اَصَابَکُمۡ ؕ

’’تاکہ (آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ) تم غمگین نہ ہوا کرو اُس موقع پر کہ جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے اور نہ اُس تکلیف پر کہ جو تم پر آپڑے۔‘‘

یعنی ع

’’رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج!‘‘

آدمی کو اگر کبھی کبھار رنج و غم کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے‘ لیکن جب پے در پے رنج و غم اٹھانے پڑیں تو غم کی شدت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ دامن اُحد میں مسلمانوں کو پے در پے تکالیف برداشت کرنا پڑیں ۔اس دوران سب سے بڑا رنج جو پیش آیا وہ حضورﷺ کے انتقال کی خبر تھی‘ جس پر کسی کو اپنے تن بدن کا بھی ہوش نہ رہا کہ خود اس کو کیا زخم لگا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس وقت مسلمانوں کو پے در پے رنج و غم سے دوچار کر کے ان کی تکلیف میں ایک طرح سے تخفیف کی کیفیت پیدا کر دی۔

وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾

’’اور اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کر رہے تھے۔‘‘

154

موت کا وقت ہی نہیں جگہ بھی طے ہے

ویڈیو

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ وَ طَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ وَ لِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾

آیت 154

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَۃً

’’پھر اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا‘‘

نُّعَاسًا یَّغۡشٰی طَآئِفَۃً مِّنۡکُمۡ ۙ

’’یعنی وہ نیند جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہو گئی‘‘

نیند انسان کے لیے اطمینانِ قلب کا مظہر ہوتی ہے نیند کی حالت میں انسان سب کچھ بھول جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر عین حالت جنگ میں نیند کی کیفیت پیدا کر دی جو اللہ کی رحمت خاص کامظہر تھی۔

وَ طَآئِفَۃٌ قَدۡ اَہَمَّتۡہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ

’’اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جنہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی‘‘

یَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ ظَنَّ الۡجَاہِلِیَّۃِ ؕ

’’وہ اللہ کے بارے میں ناحق جہالت والے گمان کر رہے تھے۔‘‘

عبداللہ بن اُبی اور اس کے تین سو ساتھی تو راستے ہی سے واپس ہو گئے تھے۔ اس کے بعد بھی اگر مسلمانوں کی جماعت میں کچھ منافقین باقی رہ گئے تھے تو ان کا حال یہ تھا کہ اُس وقت انہیں اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی کیفیت میں انہیں اونگھ کیسے آتی؟ ان کا حال تو یہ تھا کہ ان کے دلوں میں وسوسے آ رہے تھے کہ اللہ نے تو مدد کا وعدہ کیا تھا‘ لیکن وہ وعدہ پورا نہیں ہوا‘ اللہ کی بات سچی ثابت نہیں ہوئی۔ اس طرح ان کے دل و دماغ میں خلافِ حقیقت جاہلانہ گمان پیداہو رہے تھے۔

یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ

’’وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے بھی اختیار میں کوئی حصہ ہے یا نہیں؟‘‘

یہ غالباً وہ لوگ تھے جنہوں نے مشورہ دیا تھا (جیسے حضورﷺ کی اپنی رائے بھی تھی) کہ مدینے کے اندر محصور رہ کر جنگ کی جائے۔ جب ان کے مشورے پر عمل نہ ہوا تو وہ کہنے لگے کہ ان معاملات میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے یا ساری بات محمد(ﷺ) ہی کی چلے گی؟ یہ وہ مسئلہ ہے جو وہ جماعتی زندگی کے اندر بار بار سر اٹھاتا ہے۔ جماعت کے اندر دراصل ہر شخص چاہتا ہے کہ میری بات بھی مانی جائے‘ میری رائے کو بھی اہمیت دی جائے۔ آخر ہم اپنے امیر ہی کی رائے کیوں مانتے چلے جائیں؟ہمارا بھی کچھ اختیار ہے یا نہیں؟

قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ

’’کہہ دیجیے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘

یُخۡفُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ مَّا لَا یُبۡدُوۡنَ لَکَ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) یہ اپنے دل میں وہ بات چھپا

رہے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کر رہے۔‘‘

ان کے دل میں کیا ہے؟ اب اللہ کھول کر بتا رہا ہے۔

یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ کَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا ہٰہُنَا ؕ

’’یہ (اپنے دل میں) کہتے ہیں کہ اگر اختیار میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔‘‘

کہ اگر ہماری رائے مانی جاتی‘ ہمارے مشورے پر عمل ہوتا تو ہمارے اتنے لوگ یہاں پر قتل نہ ہوتے۔

قُلۡ لَّوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ

’’ان سے کہیے کہ اگر تم سب کے سب اپنے گھروں میں بھی ہوتے‘‘

لَبَرَزَ الَّذِیۡنَ کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمۡ ۚ

’’تب بھی جن لوگوں کا قتل ہونا مقدر تھا وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کر رہتے۔‘‘

اللہ کی مشیت میں جن کے لیے طے تھا کہ انہیں شہادت کی خلعتِ فاخرہ پہنائی جائے گی وہ خود بخود اپنے گھروں سے نکل آتے اور کشاں کشاں ان جگہوں پر پہنچ جاتے جہاں انہوں نے خلعتِ شہادت زیب تن کرنی تھی۔یہ تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہوتے ہیں‘ تمہاری تدبیر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

وَ لِیَبۡتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ

’’اور یہ (معاملہ جو پیش آیا) اس لیے تھا کہ اللہ اسے آزمالے جو کچھ تمہارے سینوں میں تھا‘‘

وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ

’’اور تاکہ وہ بالکل پاک اور خالص کر دے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۵۴﴾

’’اور اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘

155

بزدلی گناہوں کی وجہ سے پیداہوتی ہے

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا کَسَبُوۡا ۚ وَ لَقَدۡ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿٪۱۵۵﴾

آیت 155

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ۙ

’’تم میں سے وہ لوگ جو میدانِ جنگ سے چلے گئے اُس دن جب دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے‘‘

یہ ایسے مخلص حضرات کا تذکرہ ہے جو اچانک حملے کے بعد جنگ کی شدت سے گھبرا کر اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طو رپر پیٹھ پھیر گئے ۔ان میں سے کچھ لوگ کوہِ اُحد پر چڑھ گئے تھے اور کچھ اس سے ذرا آگے بڑھ کر میدان ہی سے باہر چلے گئے تھے۔ ان میں بعض کبار صحابہ رضوان اللہ علہیم اجمعین کا نام بھی آتا ہے۔ دراصل یہ بھگڈر مچ جانے کے بعد ایسی اضطراری کیفیت تھی کہ اُس میں کسی سے بھی کسی ضعف اور کمزوری کا اظہار ہو جانا بالکل قرین قیاس بات ہے۔

اِنَّمَا اسۡتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا کَسَبُوۡا ۚ

’’اصل میں شیطان نے ان کے پائوں پھسلا دیے تھے ان کے بعض افعال کی وجہ سے۔‘‘

چھوٹی موٹی تقصیر یا کوتاہی کا ہو جانا تو مخلص مسلمانوں سے بھی بعید نہیں۔ ایسا معاملہ ہر کسی کو پیش آ سکتا ہے۔ معصوم تو صرف نبی ہوتے ہیں۔ بہرحال انسانی کمزوریوں کی وجہ سے شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ کسی وقت وہ اڑنگا لگا کر کسی شخص کو پھسلا دے‘ خواہ وہ کتنا ہی نیک اور کتنا ہی صاحبِ رُتبہ ہو۔

وَ لَقَدۡ عَفَا اللّٰہُ عَنۡہُمۡ ؕ

’’اور اللہ انہیں معاف کر چکا ہے۔‘‘

یہ الفاظ بہت اہم ہیں ۔ بعض گمراہ فرقے اس بات کو اچھالتے ہوئے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ میدانِ جنگ سے پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے تھے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی معافی کا اعلان کر چکا ہے ۔چنانچہ ان الفاظ کی موجودگی میں کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی صحابیؓ پر زبانِ طعن دراز کرے۔

اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿٪۱۵۵﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا اور بردبار ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے