یہاں سے سورۂ آل عمران کے نصفِ ثانی کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے ‘ جو چھ رکوعات پر محیط ہے۔ یہ چھ رکوع مسلسل غزوئہ اُحد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل ہیں۔ غزوۂ اُحد شوال ۳ھ میں پیش آیا تھا۔ اس سے پہلے رمضان ۲ھ میں غزوۂ بدر پیش آچکا تھا‘ جس کا تذکرہ ہم سورۃ الانفال میں پڑھیں گے۔ اس لیے کہ ترتیب مصحف نہ تو ترتیب زمانی کے اعتبار سے ہے اور نہ ہی ترتیبِ نزولی کے مطابق۔ غزوئہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت زبردست فتح عطا فرمائی تھی جبکہ کفارِ مکہ کو اس غزوہ میں بڑی زَک پہنچی تھی۔ ان کے ستر (۷۰) سربرآوردہ لوگ مارے گئے تھے‘ جن میں قریش کے تقریباً سارے بڑے بڑے سردار بھی شامل تھے۔ بلکہ مکہ کا شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس کا کوئی فرد غزوۂ بدر میں نہ مارا گیا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ تمام اہل مکہ کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور ان کے انتقامی جذبات لاوے کی طرح کھول رہے تھے۔ چنانچہ ایک سال کے اندر اندر انہوں نے پوری تیاری کی اور تمام ساز و سامان جو وہ جمع کر سکتے تھے جمع کر لیا۔ ابوجہل غزوۂ بدر میں مارا جا چکا تھا اور اب قریش کے سب سے بڑے سردار ابوسفیان تھے۔ (ابوسفیان چونکہ بعد میں ایمان لے آئے تھے اور صحابیت کے مرتبے سے سرفراز ہوئے تھے لہٰذا ہم ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔) ابوسفیان تین ہزار جنگجوؤں کا لشکر لے کر مدینہ پر چڑھ دوڑے ۔ اہل مکہ اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے اس دفعہ اپنے بچوں اور خاص طور پر خواتین کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ ان کی غیرت اس احساس سے بیدار رہے کہ اگر کہیں میدان سے ان کے قدم اکھڑ گئے تو ان کی عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں چلی جائیں گی۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی لشکر کے ہمراہ تھی۔ (وہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئی تھیں۔) غزوۂ بدر میں ہندہ کا باپ‘ بھائی اور چچا مسلمانوں کے ہاتھوں واصل جہنم ہو چکے تھے‘ لہٰذا اُس کے سینے کے اندر بھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔
اس موقع پر نبی اکرمﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک مشاورت منعقد فرمائی کہ اب کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے‘جبکہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے آ رہا ہے۔ رسول اللہﷺ کا اپنا رجحان اس طرف تھا کہ اس صورت حال میں ہم اگر مدینہ میں محصور ہو کر مقابلہ کریں تو بہتر رہے گا۔ عجیب اتفاق ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کی بھی یہی رائے تھی ۔ لیکن وہ لوگ جو بدر کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ جو غزوئہ بدر میں شریک نہیں ہوپائے تھے ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں کی طرف سے خصوصی جوش و خروش کا مظاہرہ ہو رہا تھا کہ ہمیں میدان میں نکل کر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے‘ ہمیں تو شہادت درکار ہے‘ ہمیں آخر مو ت سے کیا ڈر ہے؟ ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی!
رسول اللہﷺ نے اُن کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے فیصلہ فرما دیا کہ دشمن کا کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے گا۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ نے ایک ہزار کی نفری لے کر مدینہ سے جبل اُحد کی جانب کوچ فرمایا‘ لیکن راستے ہی میں عبداللہ بن اُبی اپنے تین سو آدمیوں کے ساتھ یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ جب ہمارے مشورے پر عمل نہیں ہوتا اور ہماری بات نہیں مانی جاتی تو ہم خواہ مخواہ اپنی جانیں جوکھوں میں کیوں ڈالیں؟ تین سو منافقین کے چلے جانے کے بعد اسلامی لشکر میں صرف سات سو افراد باقی رہ گئے تھے‘ جن میں کمزور ایمان والے بھی تھے۔ چنانچہ دامن اُحد میں پہنچ کر مدینہ کے دو خاندانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈگمگائے اور انہوں نے واپس لوٹنا چاہا‘ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حوصلہ دیا اور ان کے قدم جما دیے۔
اس کے بعد جنگ ہوئی تو اللہ کی طرف سے مدد آئی۔ اللہ نے لشکر اسلام کو فتح دے دی اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے۔ نبی اکرمﷺ نے اُحد پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا تھا اور اس کے دامن میں صف بندی کی تھی۔ سامنے دشمن کا لشکر تھا۔ پہاڑ میں ایک درّہ تھا اور حضورﷺ کو اندیشہ تھا کہ اگر اس درّے سے دشمن نے حملہ کر دیا تو ہم دو طرف سے گویاچکی کے دو پاٹوں کے درمیان آجائیں گے۔ لہٰذا آپﷺ نے اس درّہ پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی امارت میں پچاس تیر انداز تعینات فرما دیے تھے اور انہیں تاکید فرمائی تھی یہاں سے مت ہلنا۔ چاہے تم دیکھو کہ ہم سب مارے گئے ہیں اور ہمار اگوشت چیلیں اور کوے نوچ رہے ہیں تب بھی یہ جگہ مت چھوڑنا! لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہو گئی تو درّے پر مامور حضرات میں اختلافِ رائے ہو گیا۔ ان میں سے اکثر نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں جو اتنی تاکید فرمائی تھی وہ تو شکست کی صورت میں تھی‘ اب تو فتح ہو گئی ہے‘ لہٰذا اب ہمیں بھی چل کر مالِ غنیمت جمع کرنے میں باقی سب لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ وہاں کے لوکل کمانڈر تھے‘ وہ انہیں منع کرتے رہے کہ یہاں سے ہرگز مت ہٹو‘ رسول اللہﷺ کا حکم یاد رکھو۔ لیکن وہ تو حضورﷺ کے حکم کی تاویل کر چکے تھے۔ چنانچہ ان میں سے ۳۵ افراد درّہ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف ۱۵ باقی رہ گئے۔
خالد بن ولید (جو اُس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) مشرکین کی گھڑ سوارفوج (cavalry) کے کمانڈر تھے۔ان کی عقابی نگاہ نے دیکھ لیا کہ مسلمان لشکر کے عقب میں درہ خالی ہے۔ ان کی پیدل فوج (infantry) شکست کھا چکی تھی اور میدان میں بھگدڑ مچ چکی تھی۔ ایسے میں وہ اپنے دو سو گھڑ سواروں کے دستے کے ساتھ اُحد پہاڑکا چکر کاٹ کر اس درے کے راستے مسلمانوں کی پشت سے ان پر حملہ آور ہو گئے۔ درّے میں مسلمانوں کے صرف پندرہ تیر انداز باقی تھے‘ ان کے لیے دو سو گھڑ سواروں کی یلغار کو روکنا ممکن نہیں تھا۔ وہ مزاحمت کرتے ہوئے سب کے سب شہید ہو گئے۔ اس اچانک حملے سے یکلخت جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی ۔ چنانچہ جنگ کے اس مرحلے میں ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو گئے۔ رسول اللہﷺ خود بھی زخمی ہو گئے۔ خود کی کڑیاں آپؐ کے رخسار میں گھس گئیں اور دو دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے ۔ خون اتنا بہا کہ آپﷺ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ اسی اثناء میں یہ بھی مشہور ہو گیا کہ حضورﷺ کا انتقال ہو گیا ہے۔اس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہو گئے ۔ لیکن بعد میں جب رسول اللہﷺ نے لوگوں کو پکارا تو لوگ ہمت کر کے جمع ہوئے۔ تب آپﷺ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت پہاڑ پر چڑھ کر بچاؤ کر لیا جائے۔ چنانچہ آپ تمام مسلمانوں کو لے کر کوہِ اُحد پر چڑھ گئے ۔ اس موقع پر ابوسفیان اور خالد بن ولید کے مابین اختلافِ رائے ہوگیا۔ خالد بن ولید کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھنا چاہیے اور انہیں ختم کر کے ہی دم لینا چاہیے۔ لیکن ابوسفیان بڑے حقیقت پسند اور زیرک شخص تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں‘ مسلمان اونچائی پر ہیں ‘ وہ اوپر سے پتھر پھینکیں گے اور تیر برسائیں گے تو ہمارے لیے شدید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے‘ یہی بہت ہے۔ اس لیے اب ہمیں واپسی کی راہ لینی چاہیے ۔چنانچہ مشرکین وہاں سے واپس چلے گئے ۔ ان آیات کے مطالعہ سے قبل غزوۂ احد کے سلسلۂ واقعات کا یہ اجمالی خاکہ ذہن میں رہنا چاہیے۔
’’اور (اے نبیﷺ!) یاد کیجیے جبکہ صبح کو آپؐ اپنے گھر سے نکلے تھے اور مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں مامور کر رہے تھے۔‘‘
یہ غزوۂ اُحد کی صبح حضورﷺ کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرے سے باہر تشریف لانے اور جنگ کے میدان میں پہنچ کر مسلمانوں کی صف بندی کرنے کا ذکر ہے کہ آپؐ ایک ایک مورچے پر خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مامور کر رہے تھے۔
جنگ کے آغاز سے پہلے انصار کے دو گھرانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم وقتی طور پر ڈگمگا گئے تھے‘ بربنائے طبع بشری ان کے حوصلے پست ہونے لگے تھے اور انہوں نے واپسی کا ارادہ کر لیا تھا‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ثبات عطا فرمایا اور ان کے قدموں کو جما دیا۔ پھر ان کا ذکر قرآن میں کر دیا گیا۔ وہ لوگ اس پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں {مِنْکُمْ} اور {وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ} کے الفاظ میں کیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تین سو منافقین جو میدانِ جنگ سے چلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر تک نہیں کیا۔ گویا وہ اس لائق بھی نہیں تھے کہ ان کا براہِ راست ذکر کیاجاتا۔ البتہ ان آیات کے آخر میں ان کا ذکر بالواسطہ طور پر (indirectly) آئے گا۔
’’اور اللہ نے تو تمہاری مدد بدر میں بھی کی تھی جبکہ تم بہت کمزور تھے۔‘‘
غزوۂ بدر میں ایک ہزار مشرکین کے مقابلے میں اہل ایمان صرف تین سو تیرہ تھے‘ جبکہ ان سب کے پاس تلواریں بھی نہیں تھیں‘ بلکہ پورے لشکر میں کل آٹھ تلواریں تھیں۔ کفارِ مکہ ایک سو گھوڑوں کا رسالہ لے کر آئے تھے اور ادھر صرف دو گھوڑے تھے۔ اُدھر سات سو اونٹ تھے اور اِدھر ستر اونٹ تھے۔ اس سب کے باوجود اللہ نے تمھاری مدد کی تھی اور تمہیں اپنے سے طاقتور دشمن پر غلبہ عطا فرما دیا تھا۔
فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
’’تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم اللہ کا (صحیح معنی میں) شکر ادا کر سکو۔‘‘
’’(اے نبیﷺ!) جب آپ کہہ رہے تھے اہل ایمان سے کہ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تمہارا ربّ تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتوں سے جو آسمان سے اُترنے والے ہوں گے؟‘‘
یعنی اے مسلمانو! اگر مقابلے میں تین ہزار کا لشکر آ گیا ہے تو کیا غم ہے۔ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کو آسمان سے تین ہزار فرشتے بھیجے گا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی اس خوشخبری کو ‘ جو ایک طرح سے گویا استدعا بھی تھی‘ فوری طور پر شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور اس کی منظوری کا اعلان فرما دیا۔
’’ورنہ مدد تو ہونی ہی اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘
یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت کے طور پر تمہارے دلوں کے اطمینان کے لیے تمہیں بتا دیا گیا ہے‘ ورنہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھیجے بغیر بھی تمہاری مدد کر سکتا ہے ‘ وہ ’’کُن فیکون‘‘ کی شان رکھتا ہے۔ تمہیں یہ بشارت تمہاری طبع بشری کے حوالے سے دی گئی ہے کہ اگر تین ہزار کی تعداد میں دشمن سامنے ہوا تو تمہاری مدد کو تین ہزار فرشتے اتر آئیں گے ‘ اور اگر وہ فوری طور پر حملہ آور ہو گئے تو اللہ تعالیٰ پانچ ہزار فرشتے بھیج دے گا۔
آیت 127
لِیَقۡطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا
’’(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے ‘‘
’’یا انہیں ذلیل کر دے کہ وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ جائیں۔‘‘
ان آیات کے مطالعہ کے دوران یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں غزوۂ اُحد کے حالات و واقعات کا ذکر اور ان پر تبصرہ زمانی ترتیب سے نہیں ہے۔ جیسا کہ سب سے پہلے رسول اللہﷺ کا اپنے گھر سے نکل کر میدانِ جنگ میں مورچہ بندی کا ذکر ہوا۔ پھر اس سے پہلے کے حالات کے بارے میں بتایا گیا کہ جب خبریں پہنچی ہوں گی کہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے اور رسول اللہﷺ نے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کی خوشخبری دی ہو گی۔اب اس جنگ کے دوران مسلمانوں سے جو کچھ خطائیں اور غلطیاں ہوئیں ان کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ خود آنحضورﷺ سے بھی خطا کا ایک معاملہ ہوا‘ اس پر بھی گرفت ہے‘ بلکہ سب سے پہلے اسی معاملے کو لیا جا رہا ہے۔ جب آپﷺ شدید زخمی ہو گئے اور آپؐ پر بے ہوشی طاری ہو گئی‘ پھر جب ہوش آیا تو آپﷺ کی زبان پر یہ الفاظ آ گئے:
’’یہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا جبکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا!‘‘
تلوار کا وار آنحضورﷺ کے رُخسار کی ہڈی پر پڑا تھا اور اس سے آپؐ کے دودانت بھی شہید ہو گئے تھے۔ زخم سے یکدم خون کا فوارہ چھوٹ پڑا جس سے آپﷺ کا پورا چہرئہ مبارک لہولہان ہو گیااور خون زیادہ مقدار میں بہہ جانے کی وجہ سے آپﷺ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ آپﷺ ہوش میں آئے تو زبانِ مبارک سے یہ الفاظ اداہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَـیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ …} اے نبیﷺاس معاملے میں آپؐ ‘کا کوئی اختیار نہیں ہے‘ آپؐ ‘کا کام دعوت دینا اور تبلیغ کرنا ہے۔ لوگوں کی ہدایت اور ضلالت کے فیصلے ہم کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کا انداز دیکھئے کہ جس شخص کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ ہزیمت اٹھانا پڑی ‘یعنی خالد ابن ولید‘ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ ہی کی زبانِ مبارک سے اسے ’’سَیفٌ مِن سُیوفِ اللّٰہ‘‘ (اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار) کا خطاب دلوا دیا۔
(۱) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الفتن‘ باب الصبر علی البلائ۔ ومسند احمد:۱۲۷۲۵۔ یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن الترمذی میں بھی قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔
’’(اے نبیﷺ!) اس معاملے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں‘‘
اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ
’’اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے‘‘
یہ اللہ کے اختیار میں ہے‘ وہ چاہے گا تو ان کو توبہ کی توفیق دے دے گا‘ وہ ایمان لے آئیں گے‘یااللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا۔
فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
’’اس لیے کہ وہ ظالم ہیں۔‘‘
ان کے ظالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں‘ لہٰذا وہ سزا کے حق دار تو ہو چکے ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے اللہ انہیں ہدایت دے دے ۔ دیکھئے‘ یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ چند سال پہلے طائف میں رسول اللہﷺ سے جس طرح بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا وہ آپؐ کی زندگی کا شدید ترین دن تھا۔اس پر جبرائیل علیہ السلام نے آکر کہا کہ یہ ملک الجبال حاضر ہے۔ یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے ‘آپؐ فرمائیں تو ان دونوں پہاڑوں کو ٹکرا دوں جن کے مابین وادی کے اندر یہ شہر طائف آباد ہے‘ تاکہ یہ سب پس جائیں‘ ان کا سرمہ بن جائے ۔ آپﷺ نے فرمایا نہیں!کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں کو ہدایت دے دے۔ لیکن یہ وقت کچھ ایسا تھا کہ بربنائے طبع بشری زبان مبارک سے وہ جملہ نکل گیا اور اس پر یہ آیت نازل ہوگئی۔ظاہر ہے : ؎