اب سورۂ آل عمران کا نصفِ ثانی شروع ہو رہا ہے ‘ جس کا پہلا حصہ دو رکوعوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ مشابہت بھی نوٹ کر لی ہو گی کہ سورۃ البقرۃ کے نصفِ اوّل میں بھی ایک مرتبہ {یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا} سے خطاب تھا: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ } اسی طرح سورۂ آل عمران کے نصفِ اوّل میں بھی ایک آیت آ چکی ہے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِیۡعُوۡا فَرِیۡقًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ یَرُدُّوۡکُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾} لیکن مسلمانوں سے اصل خطاب گیارہویں رکوع سے شرو ع ہو رہا ہے اور یہاں پر اصل میں اُمت کو ایک سہ نکاتی لائحہ عمل دیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اُمت اب قیامت تک قائم رہنے والی ہے۔ قیامت تک اس نے ہر طرح کے نشیب و فراز سے گزرنا ہے۔اس میں زوال بھی آئے گا اور اللہ تعالیٰ اولوالعزم اور باہمت لوگوں کو بھی پیدا کرے گا‘ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مجددین اُمت ہر صدی کے اندر اٹھتے رہے۔ لیکن جب بھی تجدید دین کا کوئی کام ہو‘ دین کو ازسرِ نو تروتازہ کرنے کی کوشش ہو‘ دین کو قائم کرنے کی جدوجہد ہو تو اُس کا ایک لائحہ عمل ہو گا۔ وہ لائحہ عمل سورۂ آل عمران کی ان تین آیات (۱۰۲‘۱۰۳‘۱۰۴) میں نہایت جامعیت کے ساتھ بتا دیا گیا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ایسی ہی تین جامع آیات سورۃ العصر کی بھی ہیں۔ ان آیات کے مضامین پر میری ایک کتاب بھی موجود ہے ’’اُمتِ مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل‘‘ اس کتاب کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس لائحہ عمل کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہے تو سب سے پہلے افراد کی شخصیت سازی‘ کردار سازی کرنا ہو گی۔ چنانچہ فرمایا:
’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرمانبرداری کی حالت میں۔‘‘
قرآن مجید میں تقویٰ کی تلقین کے لیے یہ سب سے گاڑھی آیت ہے۔ اس پر صحابہؓ گھبرا گئے کہ یارسول اللہﷺ! اللہ کے تقویٰ کا حق کون ادا کر سکتا ہے؟پھر جب سورۃ التغابن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ {فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ} (آیت ۱۶) ’’اپنی امکانی حد تک اللہ کا تقویٰ اختیارکرو‘‘ تب ان کی جان میں جان آئی ۔ تقویٰ کے حکم کے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ ’’مت مرنا مگر حالت فرمانبرداری میں‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی پتا نہیں کس لمحے موت آ جائے‘ لہٰذا تمہارا کوئی لمحہ نافرمانی میں نہ گزرنے پائے‘ مبادا موت کا ہاتھ اُسی وقت آ کر تمہیں دبوچ لے۔واضح رہے کہ اگر پہلے اس طرح کی شخصیتیں نہ بنی ہوں تو اجتماعی اصلاح کا کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ اس لیے پہلے مرحلے کے طو رپر یہاں افراد کی کردار سازی پر زور دیا گیاہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایک اجتماعیت اختیار کرو۔
’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے آیت ۱۰۱ ان الفاظ پر ختم ہوئی ہے: {وَ مَنۡ یَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿٪۱۰۱﴾} ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے چمٹ جائے (اللہ کی حفاظت میں آ جائے) اُس کو تو ہدایت ہوگئی صراطِ مستقیم کی طرف‘‘۔سورۃ الحج کی آخری آیت میں بھی یہ الفاظ آئے ہیں: {وَ اعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰہِ ؕ} ’’اور اللہ سے چمٹ جائو!‘‘اب غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اللہ کی حفاظت میں کیسے آیا جائے؟ اور یہ کہ اللہ سے چمٹنے کا طریقہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت ان الفاظ میں ہے : {وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ } کہ اللہ کی رسی سے چمٹ جائو‘اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔اور یہ اللہ کی رسّی کو ن سی ہے؟ متعدد احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ’’قرآن‘‘ ہے۔ یعنی اللہ کے قرب کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف انسان میں تقویٰ پیدا ہو‘ اور دوسری طرف قرآن کے نظریات اور قرآن کی حکمت کا فہم۔ ظاہر ہے انسانوں میں اجتماعیت جانوروں کے گلوں کی طرح نہیں ہو سکتی کہ بھیڑبکریوں کا ایک بڑا ریوڑ ہے اور ایک چرواہا ایک لکڑی لے کر سب کو ہانک رہا ہے۔ انسانوں کو جمع کرنا ہے تو ان کے ذہن ایک جیسے بنانے ہوں گے ‘ان کی سوچ ایک بنانی ہو گی۔ انسان حیوانِ عاقل ہے‘ شعور رکھتا ہے۔ چنانچہ مختلف انسانوں کی اجتماعیت تبھی ممکن ہے جب ان کی سوچ ایک ہو‘ ان کے نظریات اور مقاصد ایک ہوں۔ اس کے لیے وہ چیز چاہیے جواُن میں یک رنگیٔ خیال‘ یک رنگیٔ نظر اور مقاصد کی ہم آہنگی پیدا کر دے‘ اور وہ چیز قرآن ہے‘ جو ’’حبل اللہ‘‘ ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں قرآن حکیم کے بارے میںرسول اللہﷺ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: حدیث((وَھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ))۱’’اور وہ اللہ سے تعلق کا مضبوط وسیلہ ہے‘‘۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضورﷺ نے فرمایا: حدیث((کِتَابُ اللّٰہِ ‘ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ))۲ ’’اللہ کی کتاب (کو تھامے رکھنا)‘ یہی وہ مضبوط رسّی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے‘‘۔ ایک اور موقع پر حضورﷺ نے فرمایا: حدیث((اَبْشِرُوْا اَبْشِرُوْا … فَاِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ‘ طَرْفُـہٗ بِیَدِ اللّٰہِ وَطَرْفُہٗ بِاَیْدِیْـکُمْ))۳ ’’خوش ہو جاؤ‘ خوشیاں مناؤ… یہ قرآن ایک واسطہ ہے‘ جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھ میں ہے‘‘۔ چنانچہ قرآن تقرب الی اللہ کا وسیلہ بھی ہے ‘ اور مسلمانوں کو آپس میں جوڑ کر رکھنے کا ذریعہ بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری (تنظیم اسلامی کی) دعوت و تحریک کی فکر کا منبع و سرچشمہ اور مبنیٰ و مدار قرآن ہے‘ بلکہ ہماری دعوت کا تو عنوان ہی ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی الحمدلِلّٰہ اسی کام میں کھپائی ہے اور اسی کے ذریعہ سے انجمن ہائے خدام القرآن اور قرآن اکیڈمیز کا سلسلہ قائم ہوا۔ ان اکیڈمیز میں ’’ایک سالہ رجوع الی القرآن کورس‘‘ برسہا برس سے جاری ہے ۔ اس کورس میں جدید تعلیم یافتہ لوگ داخلہ لیتے ہیں‘ جو ایم اے؍ایم ایس سی ہوتے ہیں‘ بعض پی ایچ ڈی کرچکے ہوتے ہیں‘ ڈاکٹر اور انجینئر بھی آتے ہیں۔ اس کورس میں ایک سال لگا کر یہ لوگ بنیادی طور پر عربی سیکھتے ہیں تاکہ قرآن کو سمجھ سکیں۔ ظاہر ہے جب قرآن مجید کے ساتھ آپ کی وابستگی ہو گی تو تبھی آپ دین کے درست رُخ پر آگے چل سکیں گے۔ تو ان آیات میں دوسرا نکتہ یہ بتایا گیا کہ اللہ کی رسی کو مل جل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔
’’اور ذرا یاد کرو اللہ کا جو انعام تم پر ہوا جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے‘‘
فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ
’’تو اللہ نے تمہارے دلوں کے اندر اُلفت پیدا کر دی‘‘
فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ
’’پس تم اللہ کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن‘گئے۔‘‘
یہاں اوّلین مخاطب انصار ہیں۔ ان کے جو دو قبیلے تھے اوس اور خزرج وہ آپس میں لڑتے آ رہے تھے۔ سو برس سے خاندانی دشمنیاں چلی آ رہی تھیں اور قتل کے بعد قتل کا سلسلہ جاری تھا۔ لیکن جب اسلام آ گیا‘ اللہ کی کتاب آ گئی‘ محمد رسول اللہﷺ آ گئے اور دلوں میں ایمان آ گیا تو اب وہ شیر و شکر ہو گئے‘ ان کے جھگڑے ختم ہو گئے۔ اسی طرح اسلام کی وجہ سے پورے عرب کے اندر غارت گری کا سلسلہ ختم ہو گیا اور اللہ نے اسے دارالامن بنا دیا۔
وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ
’’اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے ‘‘ (بس اس میں گرنے ہی والے تھے )
’’اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کررہا ہے تاکہ تم راہ پاؤ (اور صحیح راہ پر قائم رہو)۔‘‘
گزشتہ دو آیات میں اُمت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل کے دونکتے بیان ہوئے ہیں ‘یعنی سب سے پہلے افراد کے کردار کی تعمیر کرنا‘ انہیں تقویٰ اور فرمانبرداری جیسے اوصاف سے متصف کرنا ---- اور پھر ان کو ایک جمعیت‘ تنظیم یا جماعت کی صورت میں قرآن کے معنوی محور کے گرد منظم کرنا‘ جو حبل اللہ ہے۔ بقول علامہ اقبال : ع اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست! (اس کو مضبوطی سے تھامو کہ یہی حبل اللہ ہے!)ایسی جماعت سازی کا فطری طریقہ ہم اسی سورت کی آیت ۵۲ کے ذیل میں پڑھ چکے ہیں کہ کوئی اللہ کا بندہ داعی بن کر کھڑا ہو اور {مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ} کی آواز لگائے کہ میں تواللہ کے راستے پر چل رہا ہوں‘ اب کون ہے جو میرے ساتھ اس راستے پر آتا ہے اور اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنتا ہے؟ ایسی جمعیت جب وجود میں آئے گی تو وہ کیا کرے گی؟ اس ضمن میں راہنمائی اگلی آیت میں فراہم کی گئی ہے :
(۱) سنن الترمذی‘ ابواب فضائل القرآن عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء فی فضل القرآن۔
(۲) سنن الترمذی‘ ابواب المناقب عن رسول اللہﷺ‘ باب مناقب اھل بیت النبیﷺ۔
(۳)مصنف ابن ابی شیبہ‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب فی التمسک بالقرآن۔
’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے‘ نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔‘‘
اس آیت میں اس جماعت کے کرنے کے تین کام بتائے گئے ہیں‘ جن میں اوّلین دعوت الی الخیر ہے‘ اور اس ضمن میں یہ نکتہ واضح رہے کہ سب سے بڑا خیر خود یہ قرآن ہے۔
یہاں لفظ ’’ مِنکُمْ‘‘ بڑا معنی خیز ہے کہ تم میں سے ایک ایسی اُمت وجود میں آنی چاہیے۔ گویا ایک تو بڑی اُمت ہے اُمت مسلمہ‘ وہ تو کروڑوں نفوس پر مشتمل ہے‘ ان میں سے اکثر خوابِ غفلت میں مدہوش ہیں‘ اپنے منصب کو بھولے ہوئے ہیں اور دین سے دور ہیں۔ لہٰذا اس اُمت کے اندر ایک چھوٹی اُمت یعنی ایک جماعت وجود میں آئے جو ’’جاگو اور جگاؤ‘‘ کا فریضہ سرانجام دے۔ یعنی جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جاگنے کی توفیق دے دی ہے‘ وہ اب اوروں کو جگائیں‘ ایک منظم جماعت بنائیں اور غلبہ دین کی تحریک کے لیے طاقت فراہم کریں۔
وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
’’اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
یعنی وہ بڑی اُمت جوکروڑوں افراد پر مشتمل ہے وہ اگر یہ کام نہیں کرتی اور اس کے باوجود فلاح اور نجات کی اُمید رکھتی ہے تو یہ ایک اُمیدِ موہوم ہے۔ فلاح پانے والے صرف یہ لوگ ہوں گے جو یہ تین کام کریں گے: (i) دعوت الی الخیر(ii) امر بالمعروف(iii)نہی عن المنکر۔ میں نے ’’منہج انقلابِ نبویؐ‘‘ کے مراحل و مدارج کے ضمن میں بھی یہ بات واضح کی ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے آخری اقدام بھی ’’نہی عن المنکر بالید‘‘ کی صورت میں ہو گا۔ اس کی سند اس حدیث سے ملتی ہے جس میں رسول اللہﷺ نے نہی عن المنکر کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’تم میں سے جو کوئی کسی منکر کو دیکھے اس کا فرض ہے کہ اسے زورِ بازو سے روک‘دے۔ پس اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے روکے۔ پھر اگر اس کی بھی ہمت نہیں ہے تو دل میں برائی سے نفرت ضرور رکھے۔ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ‘ہے۔‘‘
اگر دل میں نفرت بھی ختم ہو گئی ہے تو سمجھ لو کہ متاعِ ایمان رخصت ہو گئی ہے۔ بقولِ اقبال: ؎
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا!
لیکن اگر دل میں نفرت موجود ہے تو پھر اگلا قدم بھی اٹھائو۔ یعنی زبان سے کہنا شروع کرو کہ بھائی یہ چیز غلط ہے‘ اللہ نے اس کو حرام ٹھہرایا ہے‘ یہ کام مت کرو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک منظم جماعت بنانے کی کوشش کرتے رہو۔ افرادی قوت کو مجتمع کرو اور جب خاطر خواہ حد تک طاقت جمع ہو جائے تو پھر کھڑے ہو جاؤ کہ اب ہم یہ غلط کام نہیں ہونے دیں گے۔ یہ ہے ’’نہی عن المنکر بالید‘‘ کی ممکنہ صورت یعنی طاقت کے ساتھ برائی کو روکنے کا ایک طریقہ۔ اور یہ ہو گا انقلاب کی جدوجہد کا آخری مرحلہ۔
تو ان تین آیات کے اندر اسلامی انقلاب کا پورا لائحہ عمل موجود ہے‘ بلکہ اسی میں منہج انقلابِ نبویؐ کا جو آخری اقدامی عمل ہے وہ بھی پوشیدہ ہے۔
(۱)صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان
’’تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘‘
یہاں اُمت مسلمہ کی غرضِ تأسیس بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی یہ پوری اُمت مسلمہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی ۔لیکن بدقسمتی سے آج اُمت مسلمہ اپنا مقصدِ حیات بھول چکی ہے۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ امت میں سے جو لوگ جاگ جائیں وہ دوسروں کو جگا کر’’اُمت کے اندر ایک اُمت‘‘ (Ummah within Ummah) بنانے اور مذکورہ بالا تین کام سرانجام دینے کی کوشش کریں۔
قبل ازیں ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳ میں اُمت مسلمہ کا فرضِ منصبی بایں الفاظ پڑھ چکے ہیں: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ} ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمتِ وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو‘‘۔ سورۂ آل عمران کی آیت زیر مطالعہ اسی کے ہم وزن اور ہم پلہ آیت ہے۔ فرمایا: ’’تم بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے‘‘۔ دنیا کی دیگر قومیں اپنے لیے زندہ رہتی ہیں۔ ان کے پیش نظر اپنی ترقی‘ اپنی بہتری‘ اپنی بہبوداور دنیا میں اپنی عزت و عظمت ہوتی ہے‘ لیکن تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کی راہنمائی کے لیے مبعوث کیا گیا ہے : ؎
ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے!
گویا ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانے اور جہنم کی آگ سے بچانے کی‘کوشش کرنا ہے۔ تو اے مسلمانو! تمہیں جینا ہے لوگوں کے لیے‘ جبکہ لوگ جیتے ہیں اپنے لیے ۔
تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ
’’تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘‘
وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ
’’اور تم روکتے ہو بدی سے‘‘
وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ
’’اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘
ظاہر ہے نبی اکرمﷺ کے دور میں توپوری اُمت مسلمہ کی یہ کیفیت تھی۔ چنانچہ امت میں سے ایک جماعت وجود میں لانے کا حکم (آیت ۱۰۴) اُس وقت کے لیے ہے جب اُمت اپنے مقصدِ وجود کو بھول گئی ہو۔ یعنی ایسے حالات میں جن کو ہوش آ جائے وہ دوسروں کو جگائیں اور اس طرح ایک جمعیت فراہم کریں۔
’’اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔‘‘
مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ
’’ان میں سے کچھ تو ایمان والے ہیں‘‘
اس سے مراد یہود و نصاریٰ کے وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو اُس وقت تک ایمان لا چکے تھے‘ اور وہ بھی جن کے اندر بالقوہ (potentially) ایمان موجود تھا اور اللہ کو معلوم تھا کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد ایمان لے آئیں گے۔
وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
’’لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے۔‘‘
ایسا ہی معاملہ آج اُمت مسلمہ کا بھی ہو چکا ہے۔ آج اُمت کی اکثریت کا جو حال ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
’’سوائے یہ کہ (انہیں کسی وقت) اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہو جائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے‘‘
جیسے آج پوری عیسائی دنیا یہودیوںکا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل اپنے بل پر نہیں‘ بلکہ عیسائی دنیا کی پشت پناہی کی وجہ سے قائم ہے۔ خلیج کی جنگ میں اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف نے صاف کہہ دیا تھا کہ یہ ساری جنگ ہم نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی ہے۔ گویا اس قدر خونریزی سے صرف اسرائیل کا تحفظ پیش نظر تھا۔
’’اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو (سیدھے راستے پر) قائم ہیں‘ رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔‘‘
رسول اللہﷺ کے زمانے میں خاص طور پر عیسائی راہبوں کی ایک کثیر تعداد اِس کردار کی حامل تھی۔ ان ہی میں سے ایک بحیرہ راہب بھی تھا جس نے آنحضورﷺ کو بچپن میں ہی پہچان لیا تھا۔ دوسری طرف یہود میں اُس وقت صرف اِکا دُکا لوگ اس طرح کے باقی تھے ‘جبکہ مجموعی طور پر ان میں یہ کردار ختم ہو چکا تھا۔
’’دنیا کی اس زندگی میں یہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے‘‘
قریشِ مکہ اہل ایمان کے خلاف جو جنگی تیاریاں کر رہے تھے تو اس کے لیے وہ مال بھی خرچ کرتے تھے۔ ظاہر ہے اگر فوج تیار کرنی ہے تو اس کے لیے سواریاں بھی درکار ہوں گی اور سامانِ حرب و ضرب کی ضرورت بھی ہو گی ۔ اور اس سب کچھ کی فراہمی کے لیے مال خرچ کرنا ہو گا۔ یہ کفار و مشرکین کے اس انفاقِ مال کی طرف اشارہ ہے جو یہ لوگ دنیا کی زندگی میں یا تو اسلام کی مخالفت کے لیے یا اپنے جی کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے خرچ کرتے ہیں کہ ہم کچھ صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں ۔ تو ان کے اس انفاق کی مثال ایسی ہے :
’’اے اہل ایمان! اپنے سوا کسی کو اپنا رازدار نہ بنائو‘‘
یعنی جس شخص کے بارے میں اطمینان ہو کہ وہ صاحبِ ایمان ہے‘ مسلمان ہے‘ اس کے علاوہ کسی اور شخص کو اپنا بھیدی اور محرمِ راز نہ بناؤ۔ یہودی ایک عرصے سے مدینہ میں رہتے تھے اور اوس و خزرج کے لوگوں کی ان سے دوستیاں تھیں ‘ پرانے تعلقات اور روابط تھے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات سادہ لوح مسلمان اپنی سادگی میں راز کی باتیں بھی انہیں بتا دیتے تھے۔ اس سے انہیں روکا گیا۔
لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ
’’وہ تمہارے لیے کسی خرابی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔‘‘
وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ
’’انہیں پسند ہے وہ چیز جو تمہیں تکلیف اور مشقت میں ڈالے۔‘‘
قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚۖ
’’ان کی دشمنی ان کے منہ سے بھی ظاہر ہو چکی ہے۔‘‘
ان کا کلام ایسا زہر آلود ہوتا ہے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی ٹپکی پڑتی ہے۔ یہ اپنی زبانوں سے آتش برساتے رہتے ہیں۔
وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ
’’اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘
جو کچھ ان کی زبانوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ تو پھر بھی کم ہے‘ ان کے دلوں کے اندر دشمنی اور حسد کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
’’ہم نے تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کر دیا ہے اگر تم عقل سے کام لو‘‘۔
یعنی اپنے طرزِ عمل پر غور کرو اور اس سے باز آ جاؤ!
آیت 119
ہٰۤاَنۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمۡ
’’یہ تم ہی ہو کہ ان کو دوست رکھتے ہو‘‘
یہ تمہاری شرافت اور سادہ لوحی ہے کہ تم ان سے محبت کرتے ہو اور پرانے تعلقات اور دوستیوں کو نبھانا چاہتے ہو۔
وَ لَا یُحِبُّوۡنَکُمۡ
’’لیکن (جان لوکہ) وہ تو تم سے محبت نہیں کرتے‘‘ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے۔
وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ کُلِّہٖ ۚ
’’حالانکہ (تمہاری شان یہ ہے کہ) تم پوری کتاب کو مانتے ہو۔‘‘
تم تورات کو بھی مانتے ہو ‘ انجیل کو بھی مانتے ہو۔ سورۃ النساء میں تورات اور انجیل کے لیے نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ کے الفاظ آئے ہیں: {اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ} (آیت ۴۴) ’’کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا…‘‘ چنانچہ تمام آسمانی کتابیں اللہ تعالیٰ کی اس قدیم کتاب ’’اُمُّ الکِتاب‘‘ ہی کے حصے ہیں۔ اسی ’’اُمُّ الکتاب‘‘ میں سے پہلے تورات آئی‘ پھر انجیل آئی اور پھر یہ قرآن مجید آیا ہے‘ جو ہدایت کاملہ پر مشتمل ہے۔ تو اے مسلمانو! تم تو پوری کی پوری کتاب کو مانتے ہو۔
وَ اِذَا لَقُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ٭ۖ
’’اور جب یہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی مؤمن ہیں۔‘‘
’’اور جب وہ خلوت میںہوتے ہیں تو تم پر غصہ کی وجہ سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔‘‘
جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں اور اسلام کا معاملہ مسلسل آگے سے آگے بڑھتا جا رہا ہے تو وہ غصے میں پیچ و تاب کھاتے ہیں اور اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔
قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمۡ ؕ
’’ان سے کہو مر جاؤ اپنے اس غم و غصہ میں۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۱۹﴾
’’یقینا اللہ تعالیٰ جو کچھ سینوں کے اندر مضمر ہے اس سے بھی واقف ہے۔‘‘
آیت 120
اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫
’’(اے مسلمانو!) اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچ جائے تو وہ ان کو بری لگتی ہے۔‘‘
اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہو جائے‘ کہیں فتح نصیب ہوجائے تو اس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے۔
وَ اِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا ؕ
’’اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس سے وہ خوش ہوتے ہیں۔‘‘
اگر تمہیں کوئی گزند پہنچ جائے‘ کہیں عارضی طور پر شکست ہو جائے‘ جیسے اُحد میں ہو گئی تھی‘ تو وہ بڑے خوش ہوتے ہیں‘ شادیانے بجاتے ہیں۔
’’لیکن اگر تم صبر کرتے رہو اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رہو تو ان کی یہ ساری چالیں تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔‘‘
سورۃ البقرۃ میں صبر اور صلوٰۃ سے مدد لینے کی تلقین کی گئی تھی ‘ یہاں صلوٰۃ کی جگہ لفظ تقویٰ آ گیا ہے کہ اگر تم یہ کرتے رہو گے تو پھر بالآخر ان کی ساری سازشیں ناکام ہوں گی۔
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿٪۱۲۰﴾
’’جو کچھ یہ کر رہے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ اُس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ کے دائرے سے اور اس کی طے کردہ حد سے آگے نہیں نکل سکتے۔ ان کی ساری اُچھل کود اور سازشیں اسی حد کے اندر رہیں گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ ضمانت دے رہا ہے کہ یہ لوگ تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔