سورۂ آل عمران کے نصف اوّل کا تیسرا حصہ ۳۸ آیات (۶۴ تا ۱۰۱) پر مشتمل ہے اور یہ سورۃ البقرۃ کے نصفِ اوّل کے تیسرے حصے (رکوع ۱۵ تا ۱۸) سے بہت مشابہ ہے ۔سورۃ البقرۃ کے اس حصے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بیت اللہ کا ذکرہے‘ اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی گئی ہے اور تحویلِ قبلہ کا حکم ہے۔ کم و بیش یہی مضامین اس سورت کے اس حصے میں ملتے ہیں۔
’’(اے نبیﷺ) کہہ دیجیے: اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان بالکل برابر ہے‘‘ یہاں ’’اہل کتاب‘‘ کے صیغۂ خطاب میں یہود و نصاریٰ دونوں کو جمع کر لیا گیاہے ‘جبکہ سورۃ البقرۃ میں ’’یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ‘یْلَ‘‘ کے صیغۂ خطاب میں زیادہ تر گفتگو یہود سے تھی۔ گزشتہ آیات میں ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ تھا اور اس حوالے سے گویا صرف نصرانیوں سے خطاب تھا‘ اب زیر مطالعہ آیات میں اہل کتاب دونوں کے دونوں مخاطب ہیں کہ ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے مابین یکساں مشترک اور متفق علیہ ہے۔ وہ کیا ہے؟
’’اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا ربّ ٹھہرائے۔‘‘
یہود و نصاریٰ نے اپنے اَحبار و رُہبان کا یہ اختیار تسلیم کر لیا تھا کہ وہ جس چیز کو چاہیں حلال قرار دے دیں اور جس چیز کو چاہیں حرام ٹھہرا دیں۔ یہ گویا ان کو ربّ مان لینے کے مترادف تھا۔ جیسا کہ سورۃ التوبۃمیں فرمایا گیا: {اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ} (آیت۳۱) ’’انہوں نے اپنے احبار و رہبان کو رب بنا لیا اللہ کے سوا…‘‘ مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ(جو پہلے عیسائی تھے) ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قرآن اہل کتاب کے بارے میں کہتا ہے : ’’انہوں نے اپنے احبار و رہبان کو اللہ کے سوا اپنا ربّ بنا لیا‘‘۔ حالانکہ ہم نے تو انہیں ربّ کا درجہ نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’وہ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے‘ لیکن جب وہ ان کے لیے کسی شے کو حلال قرار دیتے تو وہ اسے حلال مان لیتے اور جب وہ کسی شے کو حرام قرار دے دیتے تو وہ اسے حرام مان لیتے۔‘‘
ظاہر ہے حلت و حرمت کا اختیار صرف اللہ کا ہے ‘جو کوئی اس حق کو اختیار کرتا ہے وہ گویا ربّ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ چنانچہ آج شریعت کے خلاف جہاں کہیں بھی قانون سازی کی جا رہی ہے یہ حقیقت کے اعتبار سے ان لوگوں کی جانب سے خدائی کا دعویٰ ہے جوان قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں ‘اور جو وہاں پہنچنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں اور اس کے لیے کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ اگر تو پہلے سے یہ طے ہو جائے کہ کوئی قانون سازی کتاب و سنت کے منافی نہیں ہو سکتی تو پھر آپ جایئے اور وہاں جا کر قرآن و سنت کے دائرے کے اندر اندر قانون سازی کیجیے۔ لیکن اگر یہ تحدید نہیں ہے اور محض اکثریت کی بنیاد پر قانون سازی ہو رہی ہے تو یہ شرک ہے۔
بہرحال ا س آیت میں یہود و نصاریٰ کو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ توحید ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک عقیدہ ہے۔اس طرح انہیں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ موازنہ کریں کہ اس قدرِ مشترک کے معیار پر اسلام پورا اترتا ہے یا یہودیت اور نصرانیت؟
’’اے کتاب والو! تم ابراہیم ؑکے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل نہیں نازل کی گئیں مگر اُس کے بعد؟‘‘
یہ بات تم بھی جانتے اور مانتے ہو کہ تورات بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد نازل ہوئی اور انجیل بھی ۔ یعنی یہودیت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد کی پیداوار ہے اور نصرانیت بھی۔ چنانچہ تم لوگوں کو اس میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ ابراہیم ؑ مسلمان تھے‘ اللہ کے فرماں بردار تھے‘ اوروہ یہودی یا نصرانی نہیں تھے!
’’(تمہیں بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ) ابراہیم ؑ نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی‘‘
وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ
’’بلکہ وہ تو بالکل یکسو ہو کر اللہ کے فرماں بردار تھے۔‘‘
وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾
’’اور نہ وہ مشرکوں میں سے تھے۔‘‘
نزولِ قرآن کے وقت عربوں کے تینوں اہم گروہ ‘ یعنی مشرکین عرب‘ یہودی اور نصرانی‘ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے تھے۔ مشرکینِ عرب حضرت اسماعیل ؑکی نسل سے ہونے کی نسبت سے کہتے تھے کہ ہمارا رشتہ ابراہیم ؑ سے ہے۔ اسی طرح یہودی اور نصرانی بھی ملت ابراہیمی ؑ ہونے کے دعوے دار تھے۔ لیکن قرآن نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے‘ نہ نصرانی تھے اور نہ ہی مشرکین میں سے تھے‘ بلکہ وہ مسلمان تھے۔
’’اے اہل کتاب! تم کیوں حق کے اوپر باطل کا ملمع چڑھاتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو جانتے بوجھتے؟‘‘
سورۃ البقرۃ کے پانچویں رکوع میں یہ مضمون بایں الفاظ آیاتھا: {وَ لَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۲﴾} ’’اور نہ گڈمڈ کرو حق کے ساتھ باطل کو اور نہ چھپاؤ حق کو درانحالیکہ تم جانتے ہو۔‘‘
’’یٰٓــاََہْلَ الْـکِتٰبِ‘‘ کے صیغۂ خطاب کے ساتھ ان آیات میں اُسی طرح کا داعیانہ انداز ہے جو سورۃ البقرۃ کے پانچویں رکوع میں ہے۔
’’اور اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ ان اہل ایمان پر جو چیز نازل کی گئی ہے‘ اس پر ایمان لاؤ صبح کے وقت اور اس کا انکار کر دو دِن کے آخر میں‘‘
لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۲﴾
’’شاید (اس تدبیر سے) ان میں سے بھی کچھ پھر جائیں۔‘‘
یہاں یہود کی ایک بہت بڑی سازش کا ذکرہو رہا ہے جو اُن کے ایک گروہ نے جناب محمد رسول اللہﷺ کی دعوت کو ناکام بنانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف تیار کی تھی۔ اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ دنیا کے سامنے یہ بات آ چکی تھی کہ جو کوئی ایک مرتبہ دائرئہ اسلام میں داخل ہوجاتا تھا وہ واپس نہیں آتا تھا‘ چاہے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ‘ بھوکا پیاسا رکھا جاتا‘ حتیٰ کہ جان سے مار دیا جاتا۔ اس طرح عوام الناس کے دلوں پر دھاک بیٹھ گئی تھی کہ اسلام کے اندر کوئی ایسی کشش‘ایسی حقانیت اور ایسی مٹھاس ہے کہ آدمی ایک مرتبہ اسے قبول کر لینے کے بعد بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے ‘لیکن اس نظریے سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوتا۔ اسلام کی اس ساکھ کو توڑنے کا طریقہ انہوں نے یہ سوچا کہ صبح کے وقت اعلان کرو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ سارا دن محمد (ﷺ) کی صحبت میں رہو اور شام کو کہہ دو کہ ہم نے دیکھ لیا‘ یہاں کچھ بھی نہیں ہے‘ یہ دُور کے ڈھول سہانے والا معاملہ ہے‘ ہم تو اپنے عقیدے پر واپس جا رہے ہیں‘ ہمیں یہاں سے کچھ نہیں ملا۔ممکن ہے اس سے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ یہ سمجھ جائیں کہ انہوں نے سازش کی ہے‘ لیکن یقینا کچھ لوگ یہ بھی ضرور سمجھیں گے کہ بھئی یہ بڑے متقی لوگ تھے‘ متلاشیانِ حق تھے ‘ بڑے جذبے اور بڑی شان کے ساتھ انہوں نے کلمہ پڑھا تھا اور ایمان قبول کیا تھا‘ پھر سارا دن رسول اللہﷺ کی محفل میں بھی بیٹھے رہے ہیں‘ آخر انہوں نے کچھ نہ کچھ تو دیکھا ہی ہو گا جو واپس پلٹ گئے ہیں۔ اس انداز سے عام لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرنے کے لیے انہوں نے یہ منافقانہ سازش تیار کی۔ اسلام میں قتل مرتد کی سزا کا تعلق اسی سے جڑتا ہے۔ اسلامی ریاست میں اس طرح کی سازشوں کا راستہ روکنے کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر میں جائے گا تو قتل کر دیا جائے گا‘ کیونکہ اسلامی ریاست ایک نظریاتی (ideological) ریاست ہے‘ ایمان اور اسلام ہی تو اس کی بنیادیں ہیں۔ چنانچہ اس کی بنیادوں کو کمزور کرنے اور اس کی جڑوں کو کھودنے والی جو چیز بھی ہو سکتی ہے اس کا سدباب پوری قوت سے کرنا چاہیے۔
’’اور دیکھو کسی کی بات نہ ماننا مگر اُسی کی جو تمہارے دین کی پیروی کرے۔‘‘
یعنی اس سازشی گروہ کو یہ خطرہ بھی تھا کہ اگر ہم جا کر چند گھنٹے اللہ کے رسولﷺ کے پاس گزاریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے واقعی کسی کو انشراحِ صد ر ہو جائے اور وہ دل سے ایمان لے آئے۔ لہٰذا وہ آپس میں طے کر کے گئے کہ دیکھو‘ ان پر ایمان نہیں لانا ہے‘ صرف ایمان کا اعلان کرنا ہے۔ قرآن مجید میں یہ شعوری نفاق کی مثال ہے۔ یعنی جو وقت انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان کرنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ گزارا اس میں وہ قانوناً تو مسلمان تھے‘ اس دوران ان میں سے اگر کوئی مر جاتا تو اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھی جاتی‘لیکن خود انہیں معلوم تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ۔یہ شعوری نفاق ہے‘ جبکہ غیر شعوری نفاق یہ ہے کہ اندر ایمان ختم ہو چکا ہوتاہے مگر انسان سمجھتا ہے کہ میں تو مؤمن ہوں‘ حالانکہ اس کا کردار اور عمل منافقانہ ہے اور اس کے اندر سے ایمان کی پونجی ختم ہو چکی ہے‘ جیسے دیمک کسی شہتیر کو چٹ کر جاتی ہے لیکن اس کے اوپر ایک پردہ (veneer) بہرحال برقرار رہتا ہے۔ شعوری نفاق اور غیر شعوری نفاق کے اس فرق کو سمجھ لینا چاہیے۔
قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ
’’(اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے کہ اصل ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے‘‘
آگے یہود کے سازشی ٹولے کے گزشتہ قول کا تسلسل ہے کہ دیکھو ایمان مت لانا!
اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ
’’مبادا کسی کو وہ شے دے دی جائے جو تمہیں دی گئی تھی‘‘
یعنی یہ رسالت و نبوت اور مذہبی پیشوائی تو ہماری میراث تھی‘ ہم اگر ان پر ایمان لے آئیں گے تو وہ چیز ہم سے ان کو منتقل ہو جائے گی۔ لہٰذا ماننا تو ہرگز نہیں ہے‘ لیکن یہ کام ہمیں محض ان کی ہوا اکھیڑنے کے لیے کرنا ہے۔
اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ
’’یا وہ تمہارے خلاف حجت قائم کریں تمہارے پروردگار کے حضور۔‘‘
قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ
’’کہہ دیجیے کہ فضل تو کل کا کل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے دو ہزار برس تک تمہیں امت مسلمہ کے منصب پر فائز رکھا‘ اب تم اس منصب کے نااہل ثابت ہو چکے ہو ‘ لہٰذااب تمہیں معزول کر دیا گیا ہے‘ اور تمہاری جگہ ایک نئی اُمت (اُمتِ محمدﷺ) کو اس مقام پر فائز کر دیا گیا ہے ۔
وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚۙ۷۳﴾
’’اور اللہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
آیت 74
یَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’وہ مختص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتاہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۷۴﴾
’’اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘
اگلی آیت میں حکمتِ دعوت کے اعتبار سے بہت اہم نکتہ بیان ہوا ہے کہ برے سے برے گروہ کے اندر بھی کہیں نہ کہیں کوئی اچھے افراد لازماً موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے افراد کا تذکرہ بھی کرتا رہے تاکہ ان کے دلوں کے اندر نرمی پیدا ہو۔ اسی طرح فرد کا معاملہ ہے کہ برے سے برے آدمی کے اندر کوئی اچھائی بھی موجود ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر آپ کسی کو حق کی دعوت دے رہے ہیں تو اس میں جو اچھائی ہے اس کا اعتراف کیجیے ‘تاکہ اسے معلوم ہو کہ آپ اس کے خیر خواہ ہیں‘ آپ اس کی اچھائی کو پسند کرتے ہیں اور صرف اس کی غلطی کی اصلاح چاہتے ہیں۔ اس طرح اس کے دل میں کشادگی پیدا ہوگی اور وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہو گا۔ فرمایا:
’’اور ان میں ایسے بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھوا دو تو وہ تمہیں واپس نہیں کریں گے‘‘
اِلَّا مَادُمۡتَ عَلَیۡہِ قَآئِمًا ؕ
’’مگر جب تک کہ تم اس کے سر پر کھڑے رہو۔‘‘
اگر تم ایسے شخص کے سر پر سوار ہو جائو اور اس کو ادائیگی پر مجبور کر دو تب تو وہ تمہاری امانت تمہیں واپس کر دے گا‘ ورنہ نہیں ۔ اہل کتاب میں سے اکثر کا کردار تو ایسا ہی ہے‘ لیکن ان میں سے جو تھوڑے بہت دیانت دار تھے ان کی اچھائی کا ذکر بھی کر دیا گیا ۔بالفعل اس قسم کے کردار کے حامل لوگ اُس وقت عیسائیوں میں تو موجود تھے‘ جبکہ یہودیوں میں نہ ہونے کے برابر تھے‘ لیکن اس جملے میں ’’اہل کتاب‘‘ کے عنوان سے ان کا ذکر مشترک طور پر کر دیا گیا۔ البتہ آگے خاص طور پر یہود کا تذکرہ ہے کہ ان میں بددیانتی‘ بے ایمانی اور خیانت کیوں آ گئی ہے۔
’’یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان اُمیین کے معاملے میں ہم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔‘‘
یہودیوں کا یہ عقیدہ تورات میں نہیں ہے‘ لیکن ان کی اصل مذہبی کتاب کا درجہ تورات کی بجائے ’’تالمود ‘‘ کو حاصل ہے۔ یوں سمجھئے کہ تورات تو ان کے لیے ’’اُمّ الکتاب‘‘ ہے‘ جبکہ ان کی ساری شریعت‘ قوانین و ضوابط اور عبادات کی ساری تفاصیل تالمود میں ہیں۔ اور تالمود میں یہ بات موجود ہے کہ ایک یہودی کے لیے دوسرے یہودی سے جھوٹ بولنا حرام ہے‘ لیکن کسی غیر یہودی سے جھوٹ بولنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ اسی طرح ایک یہودی کے لیے کسی یہودی کا مال ہڑپ کرنا حرام اور ناجائز ہے ‘لیکن کسی غیریہودی کا مال جس طرح چاہو‘ دھوکہ‘ فریب اور بددیانتی سے ہڑپ کرو ‘سب جائز ہے‘اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ان کے نزدیک انسانیت کا شرف صرف یہودیوںکو حاصل ہے جبکہ غیر یہودی ان کے نزدیک انسان ہی نہیں۔ غیر یہودیوں کو وہ انسان نما حیوان (Goyims & Gentiles) سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ غیر یہودیوں سے ہر قسم کا فائدہ اٹھا لینا ان کا حق ہے‘ جیسا کہ گھوڑے کو تانگے اور بیل کو ہل کے اندر جوت لینا اس کے مالک کا حق ہے۔ یہودیوں کے اس فلسفے پر امریکہ میں ایک مووی بھی بنائی گئی ہے : "The Other Side of Israel" یہ دستاویزی فلم وہاں کے عیسائیوں نے بنائی ہے اوراس میں انہوں نے یہودیوں کی اپنی کتابوں کے حوالے سے ان کے نظریات کو واضح کیا ہے اور یہودیت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا ہے۔(اب اسی عنوان سے کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔)
’’یقینا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو فروخت کرتے ہیں حقیر سی قیمت پر‘‘ یعنی جب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگ ہماری بات میں کچھ شک کر رہے ہیں تو اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہے ۔
اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے آخرت‘میں‘‘
وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ
’’اور نہ اللہ ان سے کلام کرے گا‘‘
وَ لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ
’’اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا قیامت کے دن‘‘
وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪
’’اور نہ ان کو پاک کرے گا‘‘
وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾
’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘
یہ مضمون بھی تقریباً پورا سورۃ البقرۃ (آیت ۱۷۴) میں آ چکا ہے۔
’’اور ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اپنی زبان کو توڑتا مروڑتا ہے کتاب کو پڑھتے ہوئے‘ تاکہ تم سمجھوکہ (جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں) وہ کتاب میں سے ہے‘ حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہوتا۔‘‘
علماءِ یہود الفاظ کو ذرا سا اِدھر سے اُدھر مروڑ کر عبارت میں اپنی مرضی کے معنی پیدا کر لیتے تھے ۔ ہم سورۃ البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ یہود سے کہا گیا ’’حِطَّۃٌ‘‘ کہو تووہ ’’حِنْطَۃٌ‘‘ کہنے لگے۔ یعنی بجائے یہ دعا کرنے کے کہ ’’اے اللہ ہمارے گناہ جھاڑ دے‘‘ انہوں نے کہنا شروع کر دیا ’’ہمیں گیہوں دے‘‘۔ اسی طرح جب انہیں تلقین کی گئی کہ تم کہو: ’’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘‘ (ہم نے سنااور اطاعت قبول کی) تو انہوں نے کہا : ’’سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا‘‘ (النسائ:۴۶) (ہم نے سنا اور ہم نے نہیں مانا) ۔ بالکل ایسا ہی معاملہ وہ تورات کو پڑھتے ہوئے بھی کرتے تھے۔ اور فتویٰ پوچھنے والے سائل کو اس کی مرضی کا فتویٰ دے کر اس سے رقم بٹور لیتے۔
’’پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ میرے بندے بن جائو اللہ کو چھوڑ کر‘‘
یہ اب نصرانیوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف عیسیٰ ؑ ابن مریم کو بھیجا‘ انہیں کتاب دی‘ حکمت دی‘ نبوت دی‘ معجزات دیے۔ تو اب یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑان سے کہتے کہ تم اللہ کے سوا مجھے اپنا معبود بنا لو!
’’بلکہ (وہ تو یہی دعوت دے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ اس وجہ سے کہ تم لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور تم خود بھی اس کو پڑھتے ہو۔‘‘
کتابِ الٰہی کی تعلیم و تعلّم کا یہی تقاضا ہے۔ دین کا سیکھنا‘ سکھانا ‘ قرآن کا پڑھنا پڑھانا اورحدیث و فقہ کا درس و تدریس اس لیے ہونا چاہیے کہ لوگوں کو اللہ والے بنایا جائے‘ نہ یہ کہ اپنے بندے بنا کر اور ان سے نذرانے وصول کر کے ان کا استحصال کیا جائے۔
’’اور نہ کبھی وہ تمہیں اس بات کا حکم دے گا کہ تم فرشتوں کو اور انبیاء کو ربّ بنا لو۔‘‘
مشرکین مکہ نے فرشتوں کو ربّ بنا یا اور ان کے نام پر لات‘ منات اور عزیٰ جیسی مورتیاں بنا لیں‘ جبکہ نصاریٰ نے اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا ربّ بنا لیا۔
’’جو کچھ بھی میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں‘پھر تمہارے پاس آئے کوئی اور رسول جو تصدیق کرتا ہو اُس کی جو تمہارے پاس (پہلے سے) موجود ہے تو تمہیں لازماً اُس پر ایمان لانا ہو گا اور اُس کی مدد کرنی ہوگی۔‘‘
انبیاء و رُسل کا یہ سلسلہ ایسے ہی چل رہا تھا کہ ہر نبی نے آئندہ آنے والے نبی کی پیشین گوئی کی اور اپنی اُمت کو اُس کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ۔ اس لحاظ سے یہ آیت بھی ختم نبوت کے بارے میں بہت بڑی دلیل ہے۔ یعنی حضورﷺ سے پہلے تو ہر نبی سے یہ عہد لیا گیا لیکن آپؐ سے ایسا کوئی عہد نہیں لیا گیا‘ اور نہ ہی آپؐ نے اپنی اُمت کو کسی بعد میں آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی‘ بلکہ اس کے برعکس قرآن میں صراحت کے ساتھ آنحضورﷺ کو خاتم النبییّن فرمایا گیا ہے اور متعدد احادیث میں آپﷺ نے بھی واضح فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت مسیح علیہ السلام محمد رسول اللہﷺکے بارے میں بشارت دے کر گئے تھے اور دیگر انبیاء کی کتابوں میں بھی ایسی بشارتیں موجود ہیں۔ انجیل برنباس کا تو کوئی صفحہ خالی نہیں ہے جس میں آنحضورﷺ کی آمد کی بشارت نہ ہو‘ لیکن باقی انجیلوں میں سے یہ بشارتیں نکال دی گئی ہیں۔
’’اللہ نے فرمایا کیا تم نے اقرار کر لیا ہے اور اس پر میری ڈالی ہوئی ذمہ داری قبول کرلی ہے؟‘‘
قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ
’’انہوں نے کہا ہاں ہم نے اقرار کیا۔‘‘
انبیاء و رسل ؑسے یہ عہد عالمِ ارواح میں لیا گیا۔ جس طرح تمام ارواحِ انسانیہ سے ’’عہدِ الست‘‘ لیا گیا تھا { اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ} (الاعراف:۱۷۲) ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا کیوں نہیں!‘‘اسی طرح جنہیں نبوت سے سرفرازہوناتھا ان کی ارواح سے اللہ تعالیٰ نے یہ اضافی عہد لیا کہ میں تمہیں نبی بنا کر بھیجوں گا‘ تم اپنی اُمت کو یہ ہدایت کر کے جانا کہ تمہارے بعد جو نبی بھی آئے اُس پر ایمان لانا اور اس کی مدد اور نصرت کرنا۔
’’جبکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے وہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے‘ چاہے خوشی سے اور چاہے مجبوراً‘ اور اُسی کی طرف ان سب کو لوٹا دیا جائے گا۔‘‘
’’کیسے ہدایت دے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان کے بعد کافر ہو گئے؟ ‘‘
یعنی ان کے دل ایمان لے آئے تھے‘ ان پر حقیقت منکشف ہو گئی تھی‘ لیکن دُنیوی مصلحتیں آڑے آ گئیں اور زبان سے انکار کر دیا۔ جیسے سورۃ النمل میں ہم پڑھیں گے : {وَ جَحَدُوۡا بِہَا وَ اسۡتَیۡقَنَتۡہَاۤ اَنۡفُسُہُمۡ ظُلۡمًا وَّ عُلُوًّا ؕ} (آیت ۱۴) ’’انہوں نے ظلم اور تکبر کے مارے ان معجزات کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان کے قائل ہو چکے تھے‘‘۔
وَ شَہِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ
’’اور انہوں نے گواہی دی کہ یہ رسول حق ہیں‘‘
اہل کتاب جب آپس میں باتیں کرتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ واقعتا نبی آخر الزمان (ﷺ)ہیں اور ہماری کتابوں میں بیان کردہ پیشینگوئیوں کا مصداق ہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ علقمہ کے دو بیٹے ابوحارثہ اور کرز جب نجران سے مدینہ منورہ چلے آ رہے تھے تو راستے میں کرز کے گھوڑے کو کہیں ٹھوکر لگی تو اس نے کہا : ’’تَعِسَ الْاَبْعَدُ‘‘ (ہلاک ہو جائے وہ دور والا یعنی جس کی طرف ہم جا رہے ہیں)۔اس کا اشارہ حضرت محمدرسول اللہﷺ کی طرف تھا۔ اس پر اس کے بڑے بھائی ابوحارثہ نے کہا ’’بَلْ تَعِسَتْ اُمُّکَ‘‘ (بلکہ تیری ماں ہلاک ہو جائے!) اس نے کہا میرے بھائی! تمہیں میری بات اس قدر بری کیوں لگی؟ ابوحارثہ نے کہا: اللہ کی قسم! یقینا وہ وہی نبی اُمی ہیں جس کے ہم منتظر تھے۔ کرز نے کہا : جب آپ یہ سب جانتے ہیں تو ان پر ایمان کیوں نہیں لے آتے؟ ابوحارثہ کہنے لگا: ان بادشاہوں نے ہمیں بڑا مقام و مرتبہ عطا کر رکھا ہے‘ اگر ہم ایمان لے آئے تو وہ ہم سے یہ سب کچھ چھین لیں گے۔ یہ لوگ سلطنتِ روما کے تحت تھے اور انہیں مصر کی حکومت کی طرف سے بڑی مراعات حاصل تھیں‘ انہیں مال و دولت اور عزت و وجاہت حاصل تھی۔ ابھی یہ لوگ محمدِ عربیﷺ سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے تو یہ حال تھا‘ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آنحضورﷺ کی خدمت میں کئی روز گزارنے کے بعد مباہلہ سے راہِ فرار اختیار کر کے واپس جاتے ہوئے انہیں کس قدر یقین حاصل ہو گیا ہو گا کہ یہی وہ نبی آخر الزمانﷺ ہیں جن کے وہ منتظر تھے۔ اس آیت میں ان کی اسی کیفیت کا ذکر ہے کہ ان کے دل گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول برحق (ﷺ) ہیں۔
وَّ جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ
’’اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آ چکی ہیں۔‘‘
’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد‘ پھر وہ اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے‘‘
یعنی حق کو پہچان لینے کے بعد‘ چاہے زبان سے مانا ہو یا نہ مانا ہو‘ پھر اگر وہ کفر کرتے ہیں یا زبان سے ماننے کے بعد مرتد ہو جاتے ہیں‘ اور پھر وہ اپنے کفر میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
’’تو ان میں سے کسی سے زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی فدیے میں قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ پیش کر سکے۔‘‘
ظاہر ہے کہ یہ محال ہے‘ ناممکن ہے‘ لیکن یہ بات سمجھانے کے لیے کہ وہاں پر کوئی فدیہ نہیں ہے فرمایا کہ اگر ان میں سے کوئی زمین کے حجم کے برابر سونا دے کر بھی چھوٹنا چاہے گا تو نہیں چھوٹ سکے گا۔ یہ وہی بات ہے جو سورۃ البقرۃ کی آیت ۴۸ اور آیت ۱۲۳ میں فرمائی گئی کہ اُس دن کسی سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا۔
’’تم ہرگز نہیں پہنچ سکتے نیکی کے مقام کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں پسند ہے۔‘‘
آیۃ البر (البقرۃ:۱۷۷) کے ضمن میں اس آیت کا حوالہ بھی آیا تھا کہ نیکی کے مظاہر میں سب سے بڑی اور سب سے مقدم شے انسانی ہمدردی ہے‘ اور انسانی ہمدردی میں اپنا وہ مال خرچ کرنا مطلوب ہے جو خود اپنے آپ کو محبوب ہو۔ ایسا مال جو ردّی ہو‘ دل سے اُتر گیا ہو‘ بوسیدہ ہو گیا ہو‘ اگر وہ کسی کو دے کر سمجھا جائے کہ ہم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے تو یہ بجائے خود حماقت ہے۔
’’سوائے اُن چیزوں کے جنہیں اسرائیل (حضرت یعقوبؑ) نے حرام ٹھہرا لیا تھا اپنی جان پر‘ اس سے پہلے کہ تورات نازل ہو۔‘‘
یہودی شریعتِ محمدیؐ پر اعتراض کرتے تھے کہ اس میں بعض ایسی چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں جو شریعتِ موسویؑ میں حرام تھیں۔ مثلاً ان کے ہاں اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ لیکن شریعتِ محمدیؐ میں یہ حرام نہیں ہے۔ اگر یہ بھی آسمانی شریعت ہے تو یہ تغیر کیسے ہو گیا؟ یہاں اس کی حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ تورات کے نزول سے قبل حضرت یعقوب علیہ السلام نے طبعی کراہت یا کسی مرض کے باعث بعض چیزیں اپنے لیے ممنوع قرار دے لی تھیں جن میں اونٹ کا گوشت بھی شامل تھا۔ جیسے نبی اکرمﷺ نے اپنی دو ازواج کی دلجوئی کی خاطر شہد نہ کھانے کی قسم کھا لی تھی‘ جس پر یہ آیت نازل ہوئی : {یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ تَبۡتَغِیۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِکَ ؕ} (التحریم:۱) ’’اے نبی (ﷺ!) آپ کیوں حرام ٹھہرا رہے ہیں (اپنے اوپر) وہ شے جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟ آپؐ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی رضاجوئی! ‘‘حضرت یعقوبؑ کی اولاد نے بعد میں ان چیزوں کو حرام سمجھ لیا ‘چنانچہ یہ چیز ان کے ہاں رواج کے طو رپر حرام چلی آ رہی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان چیزوں کی حرمت تورات میں نازل نہیں ہوئی۔ کھانے پینے کی وہ تمام چیزیں جو اسلام نے حلال کی ہیں وہ بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں‘ سوائے اُن چیزوں کے کہ جنہیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی ذاتی ناپسند کے باعث اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا‘ اور یہ بات تورات کے نزول سے بہت پہلے کی ہے۔ اس لیے کہ حضرت یعقوبؑ میں اور نزولِ تورات میں چار پانچ سو سال کا فصل ہے۔
’’پس جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے رہیں تو یہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘
آیت 95
قُلۡ صَدَقَ اللّٰہُ ۟
’’کہہ دیجیے اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے‘‘
فَاتَّبِعُوۡا مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ
’’پس پیروی کرو ملتِ ابراہیم کی جو یکسو تھے (یا یکسو ہو کر!)‘‘
’’حَنِیْفًا‘‘ ابراہیم کا حال ہے۔ اگر اسے ’’اِتَّبِعُوْا‘‘ کا حال (بمعنی حَنِیْفِـیِّـیْنَ ) مانا جائے تو دوسرا ترجمہ یوں ہو گا کہ یکسو ہو کر ‘ بعد کی تمام تقسیمات سے بلند تر ہو کر ‘ابراہیم ؑ کے طریقے کی پیروی کرو!
’’یقینا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا (اللہ کی عبادت کے لیے) وہی ہے جو مکہ میں ہے‘‘
’’بَکَّۃ‘‘ اور ’’مَکَّۃ‘‘ درحقیقت ایک ہی لفظ کے لیے دو تلفظ (pronunciations) ہیں۔
مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾
’’برکت والا ہے اور ہدایت کا مرکز ہے تمام جہان والوں کے‘لیے۔‘‘
آیت 97
فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ
’’اس میں بڑی واضح نشانیاں ہیں‘ جیسے مقامِ ابراہیم ؑ۔‘‘
سورۃ البقرۃ کے نصفِ اوّل کے آخری چار رکوعوں(۱۵‘۱۶‘۱۷‘۱۸) میں پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا ذکر ہے‘ پھر باقی گفتگو ہے۔ یہاں سورۂ آل عمران کے نصفِ اوّل کے تیسرے حصے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خانہ کعبہ کا تذکرہ آخر میں آیا ہے۔ گویا مضامین وہی ہیں‘ ترتیب بدل گئی ہے۔
وَ مَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ
’’اور جو بھی اس میں داخل ہو جاتا ہے امن میں آ جاتا ہے۔‘‘
جاہلیت کے بدترین دور میں بھی بیت اللہ امن کا گہوارہ تھا۔ پورے عرب کے اندر خونریزی ہوتی تھی‘ لیکن حرمِ کعبہ میں اگر کوئی اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تھا تو اسے کچھ نہیں کہتا تھا۔ حرم کی یہ روایات ہمیشہ سے رہی ہیں اور آج تک یہ اللہ کے فضل و کرم سے دارالامن ہے کہ وہاں پر امن ہی امن ہے۔
’’کہہ دیجیے اے کتاب والو!تم کیوں روکتے ہو اللہ کے راستے سے اُس کو جو ایمان لے آتا ہے‘‘
تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا
’’تم اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہو‘‘ تم چاہتے ہو کہ جو اہل ایمان ہیں وہ بھی ٹیڑھے راستے پر چلیں۔ چنانچہ تم سازشیں کرتے ہو کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہو جاؤ تاکہ اہلِ ایمان کے دلوں میں بھی وسوسے اور دغدغے پیدا ہو جائیں۔
وَّ اَنۡتُمۡ شُہَدَآءُ ؕ
’’حالانکہ تم خود گواہ ہو!‘‘
تم راہِ راست کو پہچانتے ہو اور جو کچھ کر رہے ہو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔
وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
’’اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘
لیکن ان تمام سازشوں کے جواب میں اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے :
’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات مان لو گے تو یہ تم کو تمہارے ایمان کے بعد پھر کفر کی حالت میں لوٹا کر لے جائیں گے۔‘‘
’’اور (ذرا سوچو تو سہی) یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو جبکہ تمہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے اندر اُس کا رسول موجود ہے۔‘‘
تمہارے درمیان جناب محمد رسول اللہﷺ بنفس نفیس تمہاری راہنمائی کے لیے موجود ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مدینہ میں علماءِ یہود کا کتنا اثر تھا۔ اوس اور خزرج کے لوگ ان سے مرعوب تھے کیونکہ یہ اَن پڑھ لوگ تھے‘ ان کے پاس کوئی کتاب ‘ کوئی شریعت اور کوئی قانون نہیں تھا‘ جبکہ یہود صاحبِ کتاب اور صاحبِ شریعت تھے‘ان کے ہاں علماء تھے۔ لہٰذا اوس اور خزرج کے جو لوگ اسلام لے آئے تھے ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں یہو دکی ریشہ دوانیوں کا شکار نہ ہو جائیں۔ اس قسم کے خطرے سے بچنے کی تدبیر بھی بتا دی گئی:
’’اور جو کوئی اللہ سے چمٹ جائے اُس کو تو ہدایت ہو گئی صراطِ مستقیم کی طرف۔‘‘
جو کوئی اللہ کی پناہ میں آ جائے‘ اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لے اُسے تو ضرور صراطِ مستقیم کی ہدایت ملے گی اور وہ ضلالت و گمراہی کے خطرات سے محفوظ ہو جائے گا۔ جیسے شیر خوار بچے کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو وہ دوڑ کر آئے گا اور اپنی ماں کے ساتھ چمٹ جائے گا ۔ اب وہ یہ سمجھے گا کہ میں مضبوط قلعہ میں آ گیا ہوں ‘ اب مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ نہیں جانتا کہ ماں بے چاری تمام خطرات سے اس کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ اسے کیا پتا کہ کب کوئی درندہ صفت انسان اسے ماں کی گود سے کھینچ کر اُچھالے اور کسی بلم یانیزے کی اَنی میں پرو دے۔بہرحال بچہ تویہی سمجھتا ہے کہ اب میں ماں کی گود میں آ گیا ہوں تو محفوظ پناہ میں آ گیا ہوں۔بہرحال اللہ کادامن واقعتا محفوظ پناہ گاہ ہے‘ اور جو کوئی اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے وہ گمراہی کی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جادئہ مستقیم پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ!!