تحریر

آل عمران

آیات ۳۳ تا ۶۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

33-36

آلِ عمران پر عنایتِ ربّانی

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾ ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾ اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾ فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾

تمہید

سورۂ آل عمران کے نصف اوّل کا دوسرا حصہ ۳۱ آیات پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں خطاب براہِ راست نصاریٰ سے ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ جو تم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنا لیا ہے اور تثلیث (Trinity) کا عقیدہ گھڑ لیا ہے یہ سب باطل ہے۔ عیسائیوں کے ہاں دو طرح کی تثلیث رائج رہی ہے ---- i) رضی اللہ عنہما خدا‘ مریم اور عیسیٰ ؑ ---- اور ii) خدا‘ روح القدس اور عیسیٰ ؑ۔یہاں پر واضح کر دیا گیا کہ یہ جو تثلیثیں تم نے ایجاد کر لی ہیں ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے‘ یہ تمہاری کج رَوی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہت برگزیدہ پیغمبر تھے۔ ہاں اُن کی ولادت معجزانہ طریقے پر ہوئی ہے۔ لیکن ان سے متصلاًقبل حضرت یحییٰ ؑکی ولادت بھی تو معجزانہ ہوئی تھی۔ اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت بھی تو بہت بڑا معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو معجزانہ طور پر پیدا کیا اور ان سے نسل انسانی کا آغاز ہوا۔ چنانچہ اگر کسی کی معجزانہ ولادت الوہیت کی دلیل ہے تو کیا حضرت آدم ؑ اور حضرت یحییٰ ؑبھی الٰہ ہیں؟ تو یہ ساری بحث اسی موضوع پر ہو رہی ہے۔

آیت 33

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾

’’یقینا اللہ نے چن لیا آدم ؑ کو‘ نوحؑ کو‘ آلِ ابراہیم ؑ کو اور آلِ عمران کو تمام جہان والوں پر۔‘‘

اِصطفاء کے معنی منتخب کرنے یا چن لینے (selection) کے ہیں۔ زیر مطالعہ آیت سے متبادر ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی ’’اِصطفاء‘‘ ہوا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے ایک دلیل موجود ہے جو تخلیق آدم کے ضمن میں یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ پہلے ایک نوع (species) وجود میں آئی تھی اور اللہ نے اس نوع کے ایک فرد کو چن کر اس میں اپنی روح پھونکی تو وہ آدم ؑ بن گئے۔ چنانچہ وہ بھی چنیدہ (selected) تھے۔ اِصطفاء کے ایک عام معنی بھی ہوتے ہیں‘ یعنی پسند کر لینا۔ ان معنوں میں آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو اور نوحؑ کو اور ابراہیم ؑکے خاندان کو اور عمران کے خاندان کو تمام جہان والوں پر ترجیح دے کر پسند کر لیا ۔ تاریخ بنی اسرائیل میں ’’عمران ‘‘ دو عظیم شخصیتوں کے نام ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا نام بھی عمران تھا اور حضرت مریم سلامٌ علیہاکے والد یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا کا نام بھی عمران تھا۔ یہاں پر غالباً حضرت موسٰی ؑ کے والد مراد ہیں۔ لیکن آگے چونکہ حضرت مریم ؑ اور حضرت عیسٰی ؑ کا تذکرہ آرہا ہے‘ لہٰذا عین ممکن ہے کہ یہاں پر حضرت مریم ؑ کے والد کی طرف اشارہ ہو۔

آیت 34

ذُرِّیَّۃًۢ بَعۡضُہَا مِنۡۢ بَعۡضٍ ؕ

’’یہ ایک دوسرے کی اولاد سے ہیں۔‘‘

حضرت نوح علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوحؑ کی اولاد سے ہیں ‘ اور پھر بنی اسماعیل ‘ بنی اسرائیل اور آلِ عمران حضرت ابراہیم ؑکی اولاد میں سے ہیں۔

وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۚ۳۴﴾

’’اور اللہ سننے والا‘ جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 35

اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا

’’جب کہا عمران کی بیوی نے کہ اے میرے ربّ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں تیری ہی نذر کرتی ہوں‘ ہر ذمہ داری سے چھڑا کر‘‘

عمران کی بیوی یعنی حضرت مریم ؑکی والدہ بہت ہی نیک‘ متقی اور زاہدہ خاتون تھیں۔ جب ان کو حمل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کیا کہ پروردگار! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے ‘ جسے تو پیدا فرما رہا ہے‘ اسے میں تیری ہی نذر کرتی ہوں۔ ہم اس پر دُنیوی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے اور اس کو خالصتاً ہیکل کی خدمت کے لیے ‘ دین کی خدمت کے لیے ‘ تورات کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے۔ ہم اپنا بھی کوئی بوجھ اس پر نہیں ڈالیں گے۔ انہیں یہ توقع تھی کہ اللہ تعالیٰ بیٹا عطا فرمائے گا۔ مُحَرَّرًا کے معنی ہیں ’’اسے آزاد کرتے ہوئے‘‘۔ یعنی ہماری طرف سے اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور اسے ہم تیرے لیے خالص کر دیں گے۔

فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ

’’پس تو اس کو میری طرف سے قبول فرما!‘‘

اے اللہ تو میری اس نذر کو شرفِ قبول عطا فرما۔

اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾

’’یقینا تو سب کچھ سننے والا‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 36

فَلَمَّا وَضَعَتۡہَا قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ وَضَعۡتُہَاۤ اُنۡثٰی ؕ

’’تو جب اسے وضع حمل ہوا تو اس نے کہا اے میرے ربّ! یہ تو میں ایک لڑکی جن گئی ہوں۔‘‘

یعنی میرے ہاں تو بیٹی پیدا ہو گئی ہے۔ میں تو سوچ رہی تھی کہ بیٹا پیدا ہو گا تومیں ا س کووقف کر دوں گی۔ اُس وقت تک ہیکل کے خادموں میں کسی لڑکی کو قبول نہیں کیاجاتاتھا۔

وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ ؕ

’’اور اللہ بہتر جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا ہے۔‘‘

اسے کیا پتا تھا کہ اس نے کیسی بیٹی جنی ہے!

وَ لَیۡسَ الذَّکَرُ کَالۡاُنۡثٰی ۚ

’’اور نہیں ہو گا کوئی بیٹا اس بیٹی جیسا!‘‘

اس جملے کے دونوں معنی کیے گئے۔ اوّلاً: اگر یہ قول مانا جائے حضرت مر یم ؑ کی والدہ کا تو ترجمہ یوں ہو گا: ’’اور لڑکا لڑکی کی مانند تو نہیں ہوتا‘‘۔ اگر لڑکا ہوتا تو میں اُسے خدمت کے لیے وقف کر دیتی‘ یہ تو لڑکی ہو گئی ہے۔ ثانیاً: اگر اس قول کو اللہ کی طرف سے مانا جائے تو مفہوم یہ ہو گا کہ کوئی بیٹا ایسا ہو ہی نہیں سکتا جیسی بیٹی تو نے جنم دی ہے۔اور اب مریم ؑ کی والدہ کا کلام شروع ہوا:

وَ اِنِّیۡ سَمَّیۡتُہَا مَرۡیَمَ

’’اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے‘‘

وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۳۶﴾

’’اور (اے پروردگار!) میںاس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطانِ مردود (کے حملوں) سے۔‘‘

اے اللہ! تو اس لڑکی (مریم ؑ) کو بھی اور اس کی آنے والی اولاد کو بھی شیطان کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھیو!

37-41

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت

ویڈیو

فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾ ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾ فَنَادَتۡہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ ۙ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوۡرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾ قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾

آیت 37

فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ

’’تو قبول فرما لیا اُس کو (یعنی حضرت مریم ؑ کو) اس کے ربّ نے بڑی ہی عمدگی کے ساتھ‘‘

شرفِ قبول عطا فرمایا بڑے ہی خوبصورت انداز میں۔

وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ

’’اور اس کو پروان چڑھایا بہت اعلیٰ طریقے پر‘‘

وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ

’’اور اس کو زکریاؑ کی کفالت میں دے دیا۔‘‘

حضرت زکریا ؑ ان کے سرپرست مقرر ہوئے اور انہوں نے حضرت مریم ؑ کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری اٹھائی۔ حضرت زکریا ؑ حضرت مریم ؑ کے خالو تھے۔ آپؑ وقت کے نبی تھے اور اسرائیلی اصطلاح میں ہیکل سلیمانی کے کاہنِ اعظم (Chief Priest) بھی تھے۔

کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ

’’جب کبھی بھی زکریاؑ ان کے پاس جاتے تھے محراب‘میں‘‘

وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ

’’تو ان کے پاس رزق پاتے۔‘‘

’’محراب‘‘ سے مراد وہ گوشہ یا حجرہ ہے جو حضرت مریم ؑ کے لیے مخصوص کر دیا گیا تھا۔ حضرت زکریاؑ اُن کی دیکھ بھال کے لیے اکثر ان کے حجرے میں جاتے تھے۔ آپؑ جب بھی حجرے میں جاتے تو دیکھتے کہ حضرت مریم ؑ کے پاس کھانے پینے کی چیزیں اور بغیر موسم کے پھل موجود ہوتے۔ بعض لوگوں کی رائے اس حوالے سے یہ بھی ہے کہ یہاں رزق سے مراد مادی کھانا نہیں ‘بلکہ علم و حکمت ہے کہ جب حضرت زکریاؑ ان سے بات کرتے تھے تو حیران رہ جاتے تھے کہ اس لڑکی کو اس قدر حکمت اور اتنی معرفت کہاں سے حاصل ہو گئی ہے؟

قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ

’’وہ پوچھتے اے مریم ؑ! تمہیں یہ چیزیں کہاں سے ملتی ہیں؟‘‘

یہ انواع و اقسام کے کھانے اور بے موسمی پھل تمہارے پاس کہاں سے آجاتے ہیں؟ یا یہ علم و حکمت اور معرفت کی باتیں تمہیں کہاں سے معلوم ہوتی ہیں؟

قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ

’’ وہ کہتی تھیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔‘‘

یہ سب اس کا فضل اور اس کا کرم ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب عطا کرتا ہے۔‘‘

آیت 38

ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ

’’(حضرت زکریاؑ کو یہ مشاہدہ ہوا تو انہوں نے) اُسی وقت اپنے پروردگار سے ایک دعا کی۔‘‘

قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ

’’انہوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو مجھے بھی اپنی جناب سے کوئی پاکیزہ اولاد عطا فرما دے۔‘‘

حضرت زکریا علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے‘ ان کی اہلیہ بھی بہت بوڑھی ہو چکی تھیں ۔ وہ ساری عمر بانجھ رہی تھیں اور ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ یہ مضامین سورۂ مریم میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ مکی دور میں جبکہ مسلمان ہجرتِ حبشہ کے لیے گئے تھے‘ تووہاں جا کر نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر ؓ بن ابی طالب نے سورۂ مریم کی آیات پڑھ کر سنائی تھیں۔ حضرت زکریاؑ ساری عمر بے اولاد رہے تھے‘ لیکن حضرت مریم ؑ کے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرنے کے بعد اولاد کی جو خواہش ان کے اندر دبی ہوئی تھی وہ چنگاری دفعۃً بھڑک اٹھی۔ انہوں نے عرض کیاکہ اے اللہ! تو اس بچی کو یہ سب کچھ دے سکتا ہے تو اپنی قدرت سے مجھے بھی پاکیزہ اولاد عطا فرما دے!

اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾

’’یقینا تو دعا کا سننے والا ہے۔‘‘

آیت 39

فَنَادَتۡہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیۡ فِی الۡمِحۡرَابِ

’’تو فرشتوں نے انہیں ندا دی جبکہ وہ اپنے حجرے میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے‘‘

اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحۡیٰی

’’کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتا ہے یحییٰ ؑکی‘‘

مُصَدِّقًۢا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ

’’جو تصدیق کرے گا اللہ کی طرف سے ایک کلمہ کی‘‘

اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں‘ جن کے لیے آگے آیت ۴۵ میں ’’بِکَلِمَۃٍ مِّنْـہُ‘‘ کا لفظ آرہا ہے ۔

وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوۡرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾

’’اور سردار ہو گا اور تجرد کی زندگی گزارے گا اور نبی ہو گا صالحین میں سے۔‘‘

یہاں نوٹ کر لیجیے کہ آخری لفظ جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی مدح کے لیے آیا ہے وہ ’’نبی‘‘ ہے۔اس بارے میں مزید وضاحت آگے آیت ۴۹ کے مطالعہ کے دوران آئے گی۔

آیت 40

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ

’’(زکریاؑ نے) کہا: پروردگار! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوجائے گا؟‘‘

ابھی خود دعا کر رہے تھے‘ لیکن اللہ کی طرف سے بیٹے کی بشارت ملنے پر غالباً اس کی توثیق اور re-assurance چاہ رہے ہیں کہ میرے ہاں کیسے بیٹا ہو جائے گا؟

وَّ قَدۡ بَلَغَنِیَ الۡکِبَرُ

’’جبکہ میں انتہائی بوڑھا ہو چکا ہوں‘‘

وَ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرٌ ؕ

’’اور میری بیوی بانجھ رہی ہے۔‘‘

قَالَ کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفۡعَلُ مَا یَشَآءُ ﴿۴۰﴾

’’(اللہ نے) فرمایا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتاہے۔‘‘

اسے اسباب کی احتیاج نہیں ہے۔ اسباب اس کے محتاج ہیں‘ اللہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔

آیت 41

قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ

’’انہوں نے عرض کیا: پروردگار! میرے (اطمینان کے) لیے کوئی نشانی مقرر کر دیں۔‘‘

مجھے معلوم ہو جائے کہ واقعی ایسا ہونا ہے اور یہ کلام جو میں سن رہا ہوں واقعتا تیری طرف سے ہے۔

قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ؕ

’’(اللہ نے) فرمایا: تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ اب تم تین دن تک لوگوں سے گفتگو نہیں کر سکو گے سوائے اشارے کنائے کے۔‘‘

یعنی ان کی قوتِ گویائی سلب ہو گئی اور اب وہ تین دن تک کسی سے بات نہیں کر سکتے تھے۔

وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ کَثِیۡرًا

’’اور (اپنے دل میں) اپنے ربّ کو کثرت سے یاد کرتے رہو‘‘

وَّ سَبِّحۡ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿٪۴۱﴾

’’اور تسبیح کیا کرو شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی۔‘‘

42-44

حضرت مریم کی تمام جہان کی عورتوں پر فضیلت

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰکِ وَ طَہَّرَکِ وَ اصۡطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۲﴾ یٰمَرۡیَمُ اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ وَ اسۡجُدِیۡ وَ ارۡکَعِیۡ مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾ ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ؕ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَہُمۡ اَیُّہُمۡ یَکۡفُلُ مَرۡیَمَ ۪ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾

تمہید

حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے اس قصے سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریاؑ کو شدید ضعیفی کی عمر میں ایک بانجھ اور بوڑھی عورت سے حضرت یحییٰ ؑ جیسا بیٹا دے دیا۔ تو کیا یہ عام قانون کے مطابق ہے؟ ظاہر ہے یہ بھی تو معجزہ تھا۔ اسی طرح اس سے ذرا بڑھ کر ایک معجزہ حضرت مسیحؑ کی پیدائش ہے کہ انہیں بغیر باپ کے پیدا فرمادیا۔اب اس کا ذکر آ رہا ہے۔

آیت 42

وَ اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ

’’اور یاد کرو جبکہ کہا فرشتوں نے اے مریم ؑ‘‘

اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰکِ وَ طَہَّرَکِ وَ اصۡطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۲﴾

’’یقینا اللہ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں خوب پاک کر دیا ہے اور تمہیں تمام جہان کی خواتین پر ترجیح دی ہے۔‘‘

آیت 43

یٰمَرۡیَمُ اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ

’’اے مریمؑ! اپنے ربّ کی فرماں برداری کرتی رہو‘‘

وَ اسۡجُدِیۡ وَ ارۡکَعِیۡ مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾

’’اور سجدہ کرتی رہواور رکوع کرتی رہو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔‘‘

یعنی نمازِ باجماعت کے اندر شریک ہو جایا کرو۔

آیت 44

ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ؕ

’’یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو (اے محمدﷺ!) ہم آپ کو وحی کر رہے ہیں۔‘‘

وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَہُمۡ اَیُّہُمۡ یَکۡفُلُ مَرۡیَمَ

’’اور آپ تو ان کے پاس موجودنہیں تھے جبکہ وہ اپنے قلم پھینک رہے تھے (یہ طے کرنے کے لیے) کہ ان میں سے کون مریم کا کفیل ہو گا۔‘‘

جب حضرت مریم سلامٌ علیہا کو ان کی والدہ نے ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کیا تو ہیکل کے کاہنوں میں سے ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ یہ بچی میری تحویل میں ہو‘ اس کی تربیت اور پرورش کی سعادت مجھے حاصل ہو جائے جسے اللہ کے نام پر وقف کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے وہ اپنے قلم پھینک کر کسی طرح قرعہ اندازی کر رہے تھے۔ اس میں اللہ نے حضرت زکریاؑ کا نام نکال دیا۔ یہاں اثنائے کلام میں نبی اکرمﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپؐ تو اُس وقت وہاں نہیں تھے جب وہ قرعہ اندازی سے یہ معاملہ طے کر رہے تھے۔

وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’اور نہ آپ اُس وقت ان کے پاس موجود تھے جبکہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔‘‘

45-49

حضرت عیسی علیہ السلام کی معجزانہ ولادت اور ان کے معجزات

ویڈیو

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۴۶﴾ قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۷﴾ وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ﴿ۚ۴۸﴾ وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۙ اَنِّیۡۤ اَخۡلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیۡنِ کَہَیۡـَٔۃِ الطَّیۡرِ فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾

آیت 45

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ

’’یاد کرو جبکہ فرشتوںنے کہا اے مریم ؑ! یقینا اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دے رہا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی‘‘

تمہیں اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہستی کی ولادت کی خوشخبری دے رہا ہے جو اُس کی جانب سے ایک خاص کلمہ ہو گا۔

اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ

’’اس کا نام ہو گا المسیح‘ عیسیٰ ‘مریم کا بیٹا‘‘

وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

’’مرتبے والا ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ کے بہت ہی مقربین بارگاہ میں سے ہو گا۔‘‘

آیت 46

وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الۡمَہۡدِ وَ کَہۡلًا

’’اور وہ لوگوں سے گفتگو کرے گا گود میں بھی اور پوری عمر کا ہو کر بھی‘‘

کہولت چالیس برس کے بعد آتی ہے اور حضرت مسیح ؑ کا رفعِ سماوی ۳۳ برس کی عمر میں ہو گیا تھا۔ گویا اس آیت کا تقاضا ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اور اس سے اندازہ کر لیجیے کہ یہ بات کہنے کی ضرورت کیا تھی؟ پوری عمر کو پہنچ کر تو سبھی بولتے ہیں‘ یہاں اس کا اشارہ کیوں کیا گیا؟ اس لیے تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ حضرت مسیحؑ پر موت ابھی وارد نہیں ہوئی‘ بلکہ وہ واپس آئیں گے‘ دنیا میں دوبارہ اتریں گے‘ پھر ان کی کہولت کی عمر بھی ہو گی۔ وہ شادی بھی کریں گے‘ ان کی اولاد بھی ہو گی اور ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نظامِ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کو پوری دنیا میں قائم کرے گا۔

وَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۴۶﴾

’’اور وہ (ہمارے )نیکوکار بندوں میں سے ہو گا۔‘‘

آیت 47

قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ وَلَدٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ ؕ

’’(حضرت مریمؑ نے یہ بات سنی تو تعجب سے) بولی: اے اللہ !میرے اولاد کیسے ہو جائے گی جبکہ مجھے تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا!‘‘

قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕ

’’فرمایا: اسی طرح اللہ تعالیٰ تخلیق فرماتا ہے جو کچھ چاہتاہے۔‘‘

وہ اپنے بنائے ہوئے قوانینِ فطرت کا پابند نہیں ہے۔ اگرچہ عام ولادت اسی طرح ہوتی ہے کہ اس میں باپ کا بھی حصہ ہوتا ہے اور ماں کا بھی‘ لیکن اللہ تعالیٰ ان اسباب اور وسائل و ذرائع کا محتاج نہیں ہے‘ وہ جیسے چاہے پیدا کرتا ہے۔

اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۷﴾

’’وہ تو جب کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتاہے۔‘‘

آیت 48

وَ یُعَلِّمُہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ ﴿ۚ۴۸﴾

’’اور اللہ تعالیٰ اس کو سکھائے گا کتاب اور حکمت بھی اور تورات اور انجیل بھی۔‘‘

یہاں پر چار چیزوں کا ذکر آیا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحؑ کو تعلیم دی: کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل۔ ان چار چیزوں کے مابین جو تین ’’و‘‘ آئے ہیں ان میں سے دو واوِ عطف ہیں‘ جبکہ درمیانی ’’و‘‘ واوِ تفسیر ہے۔ اس طرح آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ ’’اللہ ان کو سکھائے گا کتاب اور حکمت یعنی تورات اور انجیل‘‘۔اس لیے کہ تورات میں صرف احکام تھے‘ حکمت نہیں تھی اور انجیل میں صرف حکمت ہے‘ احکام نہیں ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو سمجھ لینے سے یہ گتھی حل ہوتی ہے اور اسے سمجھے بغیر لوگوں کے ذہنوں میں اُلجھنیں رہتی ہیں۔

آیت 49

وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ

’’اور اُس کو رسول بنا کر بھیجے گا بنی اسرائیل کی طرف‘‘

اب یہ جو دو بیک وقت آنے والی (contemporary) اصطلاحات ہیں ان کو نوٹ کر لیجیے۔ حضرت یحییٰ ؑ کے بارے میں تمام توصیفی کلمات کے بعد آخری بات یہ فرمائی: { نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۳۹﴾} ’’نبی ہوں گے صالحین میں سے‘‘۔ جبکہ حضرت عیسٰی ؑ کے بارے میں فرمایا: {وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ } یعنی بنی اسرائیل کی طرف رسول بن کر آئیں گے۔نبی اور رسول میں یہ فرق نوٹ کر لیجیے کہ حضرت یحییٰ ؑصرف نبی تھے اس لیے وہ قتل بھی کر دیے گئے‘ جبکہ حضرت عیسیٰ ؑ رسول تھے اور رسول قتل نہیں ہوسکتے‘ اس لیے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ یہ بہت اہم مضمون ہے۔ مطالعۂ قرآن حکیم کے دوران اس کے اور بھی حوالے آئیں گے۔

اَنِّیۡ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ

’’(چنانچہ حضرت مسیحؑ نے بنی اسرائیل کو دعوت دی) کہ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں‘‘

ابھی تک گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت مریم ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ساری خوشخبریاں دی گئیں۔اب یوں سمجھئے کہ قصہ مختصر‘ ان کی ولادت ہوئی‘ وہ پلے بڑھے‘ یہ ساری تاریخ بیچ میں سے حذف کر کے نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ اب حضرت مسیحؑ نے اپنی دعوت کا آغاز کر دیا ۔ آپؑ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں ۔

اَنِّیْ اَخْلُقُ لَـکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ

’’کہ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی مانند صورت بناتا ہوں‘‘

فَاَنۡفُخُ فِیۡہِ فَیَکُوۡنُ طَیۡرًۢا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ

’’پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ بن جاتا ہے اڑتا ہوا پرندہ اللہ کے حکم سے۔‘‘

یہاں آپ نوٹ کرتے جایئے کہ ہر معجزے کے ذکر کے بعد ’’بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ فرمایاگیا ہے۔یعنی یہ میرا دعویٰ نہیں ہے‘ اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ یہ جو کچھ ہے اللہ کے حکم سے ہے۔

وَ اُبۡرِیُٔ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ وَ اُحۡیِ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ

’’اور میں شفا دے دیتا ہوں مادر زاد اندھے کو بھی اور کوڑھی کو بھی‘ اور میں مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اللہ کے حکم سے۔‘‘

وَ اُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَ مَا تَدَّخِرُوۡنَ ۙ فِیۡ بُیُوۡتِکُمۡ ؕ

’’اور میں تمہیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو۔‘‘

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾

’’یقینا اُن تمام چیزوں میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔‘‘

حضرت مسیحؑ نے اپنی رسالت کی صداقت اور دلیل کے طور پر یہ تمام معجزات پیش فرمائے۔

50-54

حضرت عیسی علیہ السلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کا ردِّعمل

ویڈیو

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ حُرِّمَ عَلَیۡکُمۡ وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۵۰﴾ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾ فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾ وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾

آیت 50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ

’’اور میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے‘‘

وَ لِاُحِلَّ لَـکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ

’’اور (اس لیے آیا ہوں ) تاکہ میں حلال ٹھہرا دوں تم پر ان میں سے بعض چیزیں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔‘‘

یہ اصل میں ’’سبت‘‘ کے حکم کے بارے میں اشارہ ہے۔ جیسے ہمارے ہاں بھی بعض مذہبی مزاج کے لوگوں میں بڑی سختی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دین کے احکام میں غلو کرتے چلے جاتے ہیں‘ اسی طرح سبت کے حکم میں یہودیوں نے اس حد تک غلو کر لیا تھا کہ اس روز کسی مریض کے لیے دعا کرنا کہ اللہ اسے شفا دے دے‘ یہ بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بھی دنیا کا کام ہے۔ چنانچہ وہ اس معاملے میں ایک انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ حضرت مسیحؑ نے آکر اس کی وضاحت کی کہ اس طرح کی چیزیں سبت کے تقاضوں میں شامل نہیں ہیں۔

وَ جِئۡتُکُمۡ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ۟

’’اور میں تمہارے پاس لے کرآیا ہوں نشانی تمہارے رب کی طرف سے۔‘‘

فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۵۰﴾

’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘

آیت 51

اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ

’’یقینا اللہ ہی میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے‘ پس اُسی کی بندگی کرو۔‘‘

ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

’’یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘

یہی الفاظ سورۂ مریم (آیت ۳۶) میں بھی وارد ہوئے ہیں۔

آیت 52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیۡسٰی مِنۡہُمُ الۡکُفۡرَ

’’پس جب عیسٰی ؑ نے ان کی طرف سے کفر کو بھانپ‘لیا‘‘

قَالَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ

’’تو انہوں نے پکار لگائی کہ کون ہے میرا مددگار اللہ کی راہ میں؟‘‘

یہاں پھر درمیانی عرصے کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہوئے حضرت مسیحؑ کو کئی سال بیت چکے تھے۔ اس دعوت سے جب علمائِ یہود کی مسندوں کو خطرہ لاحق ہو گیا اور ان کی چودھراہٹیں خطرے میں پڑ گئیں تو انہوں نے حضرت مسیحؑ کی مخالفت شروع کر دی۔ اُس وقت تک یہودیوں پر ان کے علماء کا اثر ورسوخ بہت زیادہ تھا۔ جب آپؑ نے ان کی طرف سے کفر کی شدت کو محسوس کیا کہ اب یہ ضد اور مخالفت پر تل گئے ہیں۔ تو آپؑ نے ایک پکار لگائی‘ ایک ندا دی‘ ایک دعوتِ عام دی کہ کون ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہیں؟ یعنی اب جو کشاکش ہونے والی ہے‘ جو تصادم ہونے والا ہے اس میں ایک ’’حزبُ اللہ‘‘ بنے گی اور ایک ’’حزبُ الشیطان‘‘ ہو گی۔ اب کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں اس جدوجہد اور کشاکش میں؟ واضح رہے کہ دین کا کام کرنے کے لیے یہی اصل اساس ہے۔ اسی بنیاد پر کوئی شخص اٹھے کہ میں دین کا کام کرنا چاہتا ہوں‘ کون ہے کہ جو میرا ساتھ دے؟ یہ جماعت سازی کا ایک بالکل طبعی طریقہ ہوتا ہے۔ ایک داعی اٹھتا ہے اور اُس داعی پر اعتماد کرنے والے‘ اُس سے اتفاق کرنے والے لوگ اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ ذاتی اعتبار سے اُس کے ساتھی نہیں ہوتے‘ اس کی حکومت اور سرداری قائم کرنے کے لیے نہیں‘ بلکہ اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کے لیے اس کا ساتھ دیتے ہیں۔

قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِۚ

’’کہا حواریوں نے کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار!‘‘

’’حواری‘‘ کے اصل معنی دھوبی کے ہیں جو کپڑے کو دھو کر صاف کر دیتا ہے۔ یہ لفظ پھر آگے بڑھ کر اپنے اخلاق اور کردارکو صاف کرنے والوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ حضرت مسیحؑ کی تبلیغ زیادہ تر گلیلی جھیل کے کناروں پر ہوتی تھی‘ جو سمندر کی طرح بہت بڑی جھیل ہے۔ آپؑ کبھی وہاں کپڑے دھونے والے دھوبیوں میں تبلیغ کرتے تھے اور کبھی مچھلیاں پکڑنے والے مچھیروں کو دعوت دیتے تھے۔ آپؑ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اے مچھلیوں کا شکار کرنے والو! آئو‘ میں تمہیں انسانوں کا شکار کرنا سکھائوں‘‘۔ آپؑ نے دھوبیوں میں تبلیغ کی توان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا کہ ہم آپ کی جدوجہد میں اللہ کے مددگار بننے کو تیار ہیں۔ یہ آپؑ کے اوّلین ساتھی تھے جو ’’حواری‘‘ کہلاتے تھے۔اس طرح حواری کا لفظ ساتھی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

اٰمَنَّا بِاللّٰہِ ۚ

’’ہم ایمان لائے اللہ پر۔‘‘

وَ اشۡہَدۡ بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۵۲﴾

’’اور آپؑ بھی گواہ رہیے گا کہ ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں‘‘۔

آیت 53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ

’’اے ربّ ہمارے! ہم ایمان لے آئے اُس پر جو تو نے نازل‘فرمایا‘‘

وَ اتَّبَعۡنَا الرَّسُوۡلَ

’’اور ہم اتباع کر رہے ہیں تیرے رسول کا‘‘

فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾

’’پس تو ہمارا نام گواہوں میں لکھ لے۔‘‘

یہی لفظ ’’گواہ‘‘ بعد میں عیسائیوں کے ایک خاص فرقے (Jehovas Witnesses) نے اپنے لیے مخصوص کر لیا ۔ لفظ یھوہ (Jehova) عبرانی میں خدا کے لیے آتا ہے۔ یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو ’’خدا کے گواہ‘‘ کہتے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳ میں ہم پڑھ آئے ہیں: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ } (اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو‘‘۔ تو یہ لفظ ’’شاہد‘‘ (گواہ )قدیم ہے اور اسلامی حکمت اور اسلام کی مصطلحات میں اس کی ایک حیثیت ہے۔

آیت 54

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ

’’اب انہوں نے بھی چالیں چلیں اور اللہ نے بھی چال چلی۔‘‘

یہود کے علماء اور فریسی حضرت مسیحؑ کے خلاف مختلف چالیں چل رہے تھے کہ کسی طرح یہ قانون کی گرفت میں آ جائیں اور ان کا کام تمام کر دیا جائے۔ ان لوگوں نے آنجنابؑ کو مرتد اور واجب القتل قرار دے دیا تھا‘ لیکن ملک پر سیاسی اقتدار چونکہ رومیوں کا تھا لہٰذا رومی گورنر کی توثیق (sanction) کے بغیر کسی کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی تھی۔ ملک کا بادشاہ اگرچہ ایک یہودی تھا لیکن اس کی حیثیت کٹھ پتلی بادشاہ کی تھی‘ جیسے انگریزی حکومت کے تحت مصر کے شاہ فاروق ہوتے تھے۔یہود کی مذہبی عدالتیں موجود تھیں جہاں ان کے علمائ‘ مفتی اور فریسی بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے ‘ اور اگر وہ سزائے موت کا فیصلہ دے دیتے تھے تو اس فیصلے کی تنفیذ ‘ (execution) رومی گورنر کے ذریعے ہوتی تھی۔اس صورت حال میں علمائِ یہود کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے‘ اس لیے وہ حضرت مسیحؑ کو رومی قانون کی زد میں لانے کے لیے اپنی سی چالیں چل رہے تھے۔ وہ آنجنابؑ سے اس طرح کے الٹے سیدھے سوالات کرتے کہ آپؑ کے جوابات سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ شخص رومی حکومت کا باغی ہے۔

یہود کی ان چالوں کا توڑ کرنے کے لیے اللہ نے اپنی چال چلی۔ اللہ کی چال کیا تھی؟ اس کی تفصیل قرآن یا حدیث میں نہیں ہے‘ بلکہ ’’انجیل برنباس‘‘ میں ہے جو پوپ کی لائبریری سے برآمد ہوئی تھی۔ چنانچہ انجیل برنباس کے مطابق حضرت مسیحؑ کے حواریوں میں سے ایک حواری یہودا اسکریوتی کو یہود نے رشوت دے کر اس بات پر راضی کر لیا تھاکہ وہ مخبری کر کے آپؑ کو گرفتار کرائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غدار حواری کی شکل حضرت مسیحؑ کی سی بدل دی ۔حضرت مسیحؑ اُس وقت ایک باغ میں روپوش تھے ۔آپؑ اس باغ کے اندر بنی ہوئی ایک کوٹھڑی میں رات کے وقت عبادت میں مشغول تھے‘ جبکہ آپؑ کے بارہ حواری باہر موجود تھے۔ اُس وقت وہ شخص وہاں سے چپکے سے سٹک گیا اور جا کر سپاہیوں کو لے آیا تاکہ آپؑ کو گرفتار کرا سکے۔یہ رومی سپاہی تھے اور قندیلیں لے کر آئے تھے ۔ اُس نے سپاہیوں سے کہا تھا کہ میں اندر جائوں گا ‘جس شخص کو میں کہوں ’’اے ہمارے استاد‘‘ بس اسی کو پکڑ لینا‘ وہی مسیحؑ ہیں۔ ظاہر ہے رومیوں کو کیا پتا تھا کہ مسیحؑ کون ہیں؟ یہ شخص جیسے ہی کوٹھڑی کے اندر داخل ہوا اُسی وقت کوٹھڑی کی چھت پھٹی اور چار فرشتے نازل ہوئے ‘ جو حضرت مسیحؑ کو لے کر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی شکل تبدیل کر کے حضرت مسیحؑ والی شکل بنا دی۔ اب یہ گھبرا کر باہر نکلا تو دوسرے حواریوں نے اُس سے کہا ’’اے ہمارے استاد!‘‘ یہ سنتے ہی سپاہیوں نے اسے قابو کر لیا اور اصل میں یہی شخص سولی چڑھا ہے‘ نہ کہ حضرت مسیحؑ ۔یہ ساری تفاصیل انجیل برنباس میں موجود ہیں ۔یہ شہادت درحقیقت نصاریٰ ہی کے گھر سے ہمیں ملی ہے اور قرآن کا جو بیان ہے اس میں یہ پوری طرح فٹ بیٹھتی ہے کہ ’’انہوں نے اپنی سی چالیں چلیں اور اللہ نے اپنی چال چلی۔‘‘

وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾

’’اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔‘‘

55-58

حضرت عیسی علیہ السلام کا رفعِ آسمانی

ویڈیو

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۷﴾ ذٰلِکَ نَتۡلُوۡہُ عَلَیۡکَ مِنَ الۡاٰیٰتِ وَ الذِّکۡرِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۵۸﴾

آیت 55

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ

’’یاد کرو جب اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ ؑ اب میں تمہیں لے جانے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں‘‘

لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کو قادیانیوں نے اپنے اس غلط عقیدے کے لیے بہت بڑی بنیاد بنایا ہے کہ حضرت مسیحؑ کی وفات ہو چکی ہے۔ لہٰذا اس لفظ کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ وَفٰی کے معنی ہیں پورا کرنا۔ اردو میں بھی کہا جاتا ہے وعدہ وفا کرو۔ اسی سے باب تفعیل میں وَفّٰی ۔ یُوَفِّیْ ۔ تَوْفِیَۃً کا مطلب ہے کسی کو پورا دینا۔جیسا کہ اسی سورت کی آیت ۲۵ میں ہم پڑھ آئے ہیں: {فَکَیۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰہُمۡ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ۟ وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾} ’’تو کیا حال ہو گا جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اُس دن جس کے بارے میں کوئی شک نہیں! اور ہر جان کو پورا پورا بدلہ اس کے اعمال کا دے دیا جائے گااور ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی‘‘۔باب تفعّل میں تَوَفّٰی یَتَوَفّٰی کامعنی ہو گا کسی کو پورا پورا لے لینا۔ اور یہ لفظ گویابتمام و کمال منطبق ہوتا ہے حضرت مسیحؑ پر کہ جن کو اللہ تعالیٰ ان کے جسم اور جان سمیت دُنیا سے لے گیا۔ واضح رہے کہ ہم جب کہتے ہیں کہ کوئی شخص وفات پا گیا تو یہ استعارتاً کہتے ہیں۔ اس لیے کہ مرنے والے کا جسم تو یہیں رہ جاتا ہے ‘صرف جان جاتی ہے۔ پھر یہی لفظ قرآن مجید میں نیند کے لیے بھی آیا ہے : {اَاَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۚ} (الزمر:۴۲) ’’وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کر لیتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے‘‘۔ اس لیے کہ نیند میں بھی انسان سے خود شعوری نکل جاتی ہے‘ اگرچہ وہ زندہ ہوتا ہے۔روح کا تعلق خود شعوری کے ساتھ ہے۔ پھر جب انسان مرتا ہے تو روح اور جان دونوں چلی جاتی ہیں اور پیچھے صرف جسم رہ جاتا ہے ۔ قرآن حکیم نے ان دونوں حالتوں (نیند اور موت) کے لیے توفّی کا لفظ استعمال کیا ہے۔اور سب سے زیادہ مکمل تَوَفّی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیحؑ کو ان کے جسم‘ جان اور روح تینوں سمیت‘جوں کا توں‘ زندہ سلامت لے گیا۔حضرت مسیحؑ کے رفع سماوی کا یہ عقیدہ مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ ہے‘ اور جہاں تک لفظ ’’تَوَفّی‘‘ کے لغوی مفہوم کا تعلق ہے اُس میں قطعاً کوئی ایسا پیچیدہ نکتہ نہیں ہے جس سے کوئی شخص آپؑ کی موت کی دلیل پکڑ سکے۔البتہ اس معاملے میں ان لوگوں کو بہکانا آسان ہے جنہیں عربی زبان کی گرامر سے واقفیت نہیں ہے ۔اس لیے کہ عام لوگ تو ایک ہی وفات کے بارے میں جانتے ہیں ‘ جبکہ ازروئے قرآن تین قسم کی ’’وفات ‘‘ثابت ہوتی ہے‘ جیسے کہ اوپر وضاحت کی گئی ہے ۔ اب آیت زیر مطالعہ کے متذکرہ بالا ٹکڑے کا ترجمہ پھر کر لیجیے : ’’یاد کرو جب اللہ نے کہا کہ اے عیسٰی ؑ میں تمہیں لے جانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں۔‘‘

وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں ان لوگوں سے جنہوں نے (تمہارے ساتھ) کفر کیا ہے‘‘

وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ

’’اور غالب کرنے والا ہوں ان لوگوں کو جو تمہاری پیروی کریں گے قیامت تک ان لوگوں پر جو تمہارا انکار کر رہے ہیں۔‘‘

یہود جنہوں نے حضرت مسیحؑ کا انکار کیا تھا اُس وقت سے لے کر موجودہ زمانے تک حضرت مسیحؑ کے پیروکاروں سے مار کھاتے رہے ہیں۔ حضرت مسیحؑ ۳۰ ء یا ۳۳ء میں آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے اور اس کے بعد سے یہود پر عیسائیوں کے ہاتھوں مسلسل عذاب کے کوڑے برستے رہے ہیں۔حضرت مسیحؑ کے رفع سماوی کے چالیس برس بعد ۷۰ء میں ٹائٹس رومی کے ہاتھوں ہیکل سلیمانی مسمار ہوا اور یروشلم میں ایک لاکھ بیس ہزار یا ایک لاکھ تینتیس ہزار یہودی ایک دن میں قتل کیے گئے۔ اُس وقت سے لے کر اب تک دو ہزار برس ہونے کو ہیں ان کا کعبہ گرا پڑا ہے۔ اس کی صرف ایک دیوار (دیوارِ گریہ) باقی ہے جس پر جا کر یہ رو دھو لیتے ہیں۔

ہیکل سلیمانی اوّلاً بخت نصر نے چھٹی صدی قبل مسیح میں مسمار کیا تھا ۔ اس حملے میں اس نے پورے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ‘لاکھوں یہودی تہ تیغ کر دیے اور لاکھوں کو قیدی بنا کر وہ اپنے ساتھ بابل لے گیا ۔یہ ان کا اُسارت (Captivity کا دور کہلاتا ہے۔ حضرت عزیر علیہ السلام کے زمانے میں یہ لوگ دوبارہ فلسطین واپس آئے اور ’’معبد ثانی‘‘ تعمیر کیا ‘ جو ۷۰ء میں پھر منہدم کر دیا گیا اور انہیں پھر فلسطین سے نکال دیا گیا۔اس کے بعد یہ مختلف ملکوں میں منتشر ہو گئے۔ کچھ روس‘ کچھ ہندوستان‘ کچھ مصر اور کچھ یورپ چلے گئے۔ اس طرح یہ پوری دنیا میں پھیل گئے۔ یہ ان کا دورِ انتشار (Diaspora) کہلاتا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب عیسائیوں نے ایک معاہدے کے تحت یروشلم مسلمانوں کے حوالے کر دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کھلا شہر (open city) قرار دے دیا کہ یہاں مسلمان‘ عیسائی اور یہودی سب آ سکتے ہیں۔اس طرح ان کی یروشلم میں آمد و رفت شروع ہو گئی۔ البتہ عیسائیوں نے اس معاہدے میں یہ شرط بھی لکھوائی تھی کہ یہودیوں کو یہاں آباد ہونے یا جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے خلافت عثمانیہ کے دور تک اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا رہا اور یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے لیے انہوں نے عثمانی خلفاء کو بڑی بڑی رشوتوں کی پیشکش کی‘ لیکن انہیں اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ بالآخر انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کو ختم کروادیا۔ اسی دوران (۱۹۱۷ء میں) انہوں نے برطانوی وزیر بالفور (Balfor) کے ذریعے ’’بالفور ڈیکلریشن‘‘ منظور کرایا‘ جس میں ان کو یہ حق دیا گیا کہ وہ فلسطین میں آکر جائیداد بھی خرید سکتے ہیں اور آباد بھی ہو سکتے ہیں۔ اس ڈیکلریشن کی منظوری کے ۳۱ برس بعد اسرائیل کی ریاست وجود میں آ گئی ۔

اب صورت حال یہ ہے کہ یہودی دنیا بھر میں سیاست اور اقتدار پر چھائے ہوئے ہیں‘ تعداد میں ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ہونے کے باوجود اس وقت دنیا کی معیشت کا بڑا حصہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ عیسائیوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ہے۔ اگر عیسائی ان کی مدد نہ کریں تو عرب ایک دن میں ان کے ٹکڑے اڑا کر رکھ دیں۔ اِس وقت پوری امریکی حکومت ان کی پشت پر ہے‘ بلکہ یعنی امریکہ اور برطانیہ تو گویا ان کے زرخرید ہیں۔ دوسرے عیسائی ممالک بھی ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ بہرحال اب بھی صورت حال یہ ہے کہ اوپر تو عیسائی ہی ہیں اور یہ معنوی طور پر سازشی انداز میں نیچے سے انہیں کنٹرول کر رہے ہیں۔

ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾

’’پھر میری طرف ہی تم سب کا لوٹنا ہو گا اور میں فیصلہ کر دوں گا تمہارے مابین ان باتوں میں جن میں تم اختلاف کر رہے تھے۔‘‘

آیت 56

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫

’’تو وہ لوگ جو کفر کی روش اختیار کریں گے میں انہیں عذاب دوں گا بہت سخت عذاب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘

وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿۵۶﴾

’’اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی مددگار۔‘‘

آیت 57

وَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

’’اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے‘‘

فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ

’’تو وہ ان کو ان کا پورا اجر دے گا۔‘‘

دیکھئے یہاں پھر وفیّ یُوَفِّی آیا ہے۔ یعنی پورا پورا دے دینا۔

وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اوراللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘

آیت 58

ذٰلِکَ نَتۡلُوۡہُ عَلَیۡکَ مِنَ الۡاٰیٰتِ وَ الذِّکۡرِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۵۸﴾

’’یہ ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں آیاتِ الٰہیہ اور پرحکمت یاد دہانی میں سے۔‘‘

یہاں بھی گویا پس منظر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جو اللہ کی آیات اور ذکر حکیم نبی اکرمﷺ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

59-63

حضرت عیسی علیہ السلام کی مثال حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہے

ویڈیو

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾ اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾ فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾

آیت 59

اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ

’’بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدمؑ کی سی ہے۔‘‘

خَلَقَہٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۵۹﴾

’’اُس کو مٹی سے بنایا ‘پھر کہا ہوجا تو وہ ہو گیا۔‘‘

قرآن مجید کی یہ آیت ان لوگوں کے حق میں دلیل ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی خصوصی تخلیق (special creation) کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت آدمؑ کا چناؤ ارتقاء (evolution) کے نتیجے میں کسی نوع (species) کے وجود میں آنے کے بعد اس کے ایک فرد کی حیثیت سے نہیں ہوا ‘بلکہ آپؑ براہِ راست مٹی سے تخلیق کیے گئے۔ تخلیق آدمؑ کے ضمن میں یہ دونوں نظریے ملتے ہیں اور دونوں کے بارے میں دلائل بھی موجود ہیں۔ ابھی یہ کوئی طے شدہ حقائق نہیں ہیں۔ ہم غور و فکر کر سکتے ہیں کہ قرآن مجید کے کس مقام پر کس نظریے کے لیے کوئی تائید یا توثیق ملتی ہے۔ یہاں فرمایا کہ’’اللہ کے نزدیک تو عیسٰی ؑ کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آدمؑ کی ۔اسے مٹی سے بنایا اور کہا ہو جا تو وہ ہو گیا‘‘۔تو اب اگر آدمؑ کا معاملہ خصوصی تخلیق کا ہے کہ بغیر باپ کے اور بغیر ماں کے پیدا ہو گئے تو کیا وہ ’’الٰہ‘‘ بن گئے؟ ان کا خالق تو اللہ ہے۔ اسی طرح حضرت عیسٰی ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو خدا کیسے بن گئے؟ ان کی والدہ کو حمل ہوا ‘ نو مہینے ماں کے پیٹ میں رہے ‘ پھر ان کی پیدائش ہوئی ۔ تو تخلیق میں ان کا معاملہ اعجاز کے اعتبار سے حضرت آدمؑ سے تو کم ہی رہا ہے۔ اور اس سے کم تر معاملہ حضرت یحییٰ ؑ کا ہے کہ انتہائی بڑھاپے کو پہنچے ہوئے حضرت زکریاؑ اور ان کی اہلیہ جو ساری عمر بانجھ رہیں‘ اللہ نے ان کو اولاد دے دی۔ تو یہ سارے معجزات ہیں ‘اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ اس میں کسی کی الوہیت کی دلیل نہیں نکلتی۔

آیت 60

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾

’’یہ حق ہے آپؐ کے ربّ کی طرف سے‘ تو ہرگز نہ ہو جانا شک کرنے والوں میں سے۔‘‘

یعنی حضرت مسیحؑ کے بارے میں اصل حقیقت یہی ہے جو قرآن نے واضح کر دی ہے‘ باقی سب نصاریٰ کی افسانہ طرازی ہے ۔اور یہ جوفرمایا: {فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾} اس میں خطاب بظاہر رسول اللہﷺ سے ہے مگر روئے سخن مخاطبین سے ہے۔

آیت 61

فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ

’’تو (اے نبیﷺ) جو بھی اس معاملے میں آپؐ سے حجت بازی کرے اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے‘‘

آپؐ کے پاس تو ’’العلم‘‘ آ چکا ہے‘ آپؐجوبات کہہ رہے ہیں علیٰ وجہ البصیرۃ کہہ رہے ہیں۔ اس ساری وضاحت کے بعد بھی اگر نصاریٰ آپؐ سے حجت بازی کر یں اور بحث و مناظرہ سے کنارہ کش ہونے کو تیار نہ ہوں تو ان کو آخری چیلنج دے دیجیے کہ وہ آپؐ کے ساتھ ’’مباہلہ‘‘ کر لیں۔ نجران سے نصاریٰ کا ۷۰ افراد پر مشتمل جو وفد ابوحارثہ اور ابن علقمہ جیسے بڑے بڑے پادریوں کی سرکردگی میں مدینہ آیا تھا‘ اس سے دعوت و تبلیغ اور تذکیر و تفہیم کا معاملہ کئی دن تک چلتا رہا۔ یہاں دراصل اس وفد کے بارے میں رسول اللہﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ اس قدر سمجھانے پر بھی قائل نہیں ہوتے تو انہیں مباہلے کی دعوت دے دیجیے۔

فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ

’’پس آپ ان سے کہہ دیجیے کہ آؤ‘ ہم بلاتے ہیں اپنے بیٹوں کو اور تم بلاؤ اپنے بیٹوں کو‘‘

وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ

’’اورہم (بلا لیتے ہیں) اپنی عورتوں کو اور تم (بلاؤ) اپنی عورتوں کو‘‘

وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟

’’اور ہم بھی آ جاتے ہیں اور تم بھی آ جاؤ!‘‘

ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾

’’پھر ہم سب مل کر دعا کریں اور لعنت کریں اللہ کی اُن پر کہ جو جھوٹے ہیں۔‘‘

ہم سب جمع ہو کر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کریں اور کہیں کہ اے اللہ! جو ہم میں سے جھوٹا ہو‘ اُس پر لعنت کر دے۔ یہ مباہلہ ہے ۔اور مباہلے کی دعوت اس وقت دی جاتی ہے جبکہ احقاقِ حق ہو چکے‘ بات پوری طرح واضح کر دی جائے۔ آپ کو یقین ہو جائے کہ میرا مخاطب بات پوری طرح سمجھ گیا ہے اور اب صرف ضد پر اڑا ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ مباہلہ آخری تدبیر ہوتی ہے تاکہ حق کا حق ہونا ظاہر ہوجائے۔ چنانچہ اگر تو مخالف کو اپنے موقف کی صداقت کا یقین ہوگا تو وہ مباہلہ کا چیلنج قبول کر لے گا‘ اور اگر اس کے دل میں چور ہے اور وہ جانتا ہے کہ حق بات تو یہی ہے جو واضح ہو چکی ہے تو پھر وہ مباہلہ سے راہِ فرار اختیار کرے گا۔ چنانچہ یہی ہوا ۔مباہلہ کی دعوت سن کر وفد نجران نے مہلت مانگی کہ ہم مشورہ کر کے جواب دیں گے۔ مجلس مشاورت میں ان کے بڑوں نے ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے کہا: ’’اے گروہِ نصاریٰ! تم یقینا دلوں میں سمجھ چکے ہو کہ محمد(ﷺ) نبی مرسل ہیں اور حضرت مسیحؑ کے متعلق انہوں نے صاف صاف فیصلہ کن باتیں کہی ہیں۔ تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں نبی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ بعید نہیں یہ وہی نبی ہوں۔ پس ایک نبی سے مباہلہ و ملاعنہ کرنے کا نتیجہ کسی قوم کے حق میں یہی نکل سکتا ہے کہ ان کا کوئی چھوٹا بڑا ہلاکت یا عذابِ الٰہی سے نہ بچے اور پیغمبر کی لعنت کا اثر نسلوں تک پہنچ کر رہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان سے صلح کر کے اپنی بستیوں کی طرف روانہ ہو جائیں‘ کیونکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینے کی طاقت ہم میں نہیں۔

چنانچہ انہوں نے مقابلہ چھوڑ کر سالانہ جزیہ دینا قبول کیا اور صلح کر کے واپس چلے گئے۔

آیت 62

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ

’’یقینا یہی بالکل صحیح سرگزشت ہے۔‘‘

وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ؕ

’’اور نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا۔‘‘

وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾

’’اور یقینا اللہ تعالیٰ ہی زبردست اور کمالِ حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 63

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾

’’پھر اگر وہ پیٹھ موڑ لیں تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے مفسدوں کو۔‘‘

یہاں آ کر اس سورۂ مبارکہ کے نصف اول کا پہلا اور دوسرا حصہ مکمل ہو گیا‘ جو ۳۲+۳۱=۶۳ آیات پر مشتمل ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے