’’اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں (یا قتل کرتے ہیں) جو انسانوں میں سے عدل و قسط کا حکم دیتے ہیں‘‘
اس لیے کہ انصاف کی بات تو بالعموم کسی کو پسند نہیں ہوتی۔ ’’اَلْحَقُّ مُـرٌّ (حق بات کڑوی ہوتی ہے)۔بہت سے مواقع پر کسی حق گو انسان کو حق گوئی کی پاداش میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں ۔ یہاں پھر عدل و قسط کا معاملہ آیا ہے ۔ اللہ خود ’’ قَــآئِمًا بِالْقِسْطِ‘‘ ہے اور اللہ کے محبوب بندے وہی ہیں جو عدل کا حکم دیں‘ انصاف کا ڈنکا بجانے کی کوشش کریں۔ تو فرمایا کہ جو ایسے لوگوں کو قتل کریں…
فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
’’تو (اے نبیﷺ) انہیں بشارت سنا دیجیے دردناک عذاب کی۔‘‘
لفظ ’’بشارت‘‘ یہاں طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت ہو گئے۔‘‘
جیسے قریش کو یہ زعم تھا کہ ہم خدامِ کعبہ ہیں اور ہمارے پاس جو یہ لوگ حج کرنے آتے ہیں ہم ان کو کھانا کھلاتے ہیں‘ پانی پلاتے ہیں‘ ہماری ان خدمات کے عوض ہمیں بخش دیا جائے گا۔ فرمایا وہ سارے اعمال حبط ہو جائیں گے۔ اگر تو صحیح صحیح پورے دین کو اختیار کرو گے تو ٹھیک ہے‘ ورنہ چاہے خیرات اور بھلائی کے بڑے سے بڑے کام کیے ہوں‘ لوگوں کی فلاح و بہبود کے ادارے قائم کر دیے ہوں‘ اللہ کی نگاہ میں ان کی کوئی حیثیت
’’یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو جہنم کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر گنتی کے چند دن۔‘‘
یہ مضمون سورۃ البقرۃ میں بھی آ چکا ہے۔ ان کی ڈھٹائی کا اصل سبب ان کے من گھڑت عقائد ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم کتاب پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر عمل کیوں نہیں کر رہے؟ اس میں تو لکھا ہے کہ سود حرام ہے اور تم سود خوری پر کمربستہ ہو‘ اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام کیوں نہیں جانتے؟ تو اس کے جواب میں وہ اپنا یہ من گھڑت عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ہمیں تو جہنم کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر گنتی کے چند دن‘‘۔ جب یہ عقیدہ ہے تو پھر انسان کاہے کو دنیا کا نقصان برداشت کرے ع ’’بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘۔ پھر تو حلال سے ‘ حرام سے‘ جائز سے‘ ناجائز سے‘ جیسے بھی عیش دنیا حاصل کیا جا سکتا ہو حاصل کرنا چاہیے۔ یہ عقیدہ درحقیقت ایمان بالآخرۃ کی نفی کر دیتا ہے۔
’’اور انہیں دھوکے میں مبتلا کر دیا ہے ان کے دین کے بارے میں ان چیزوں نے جو یہ گھڑتے رہے ہیں۔‘‘
اس طرح کے جو عقائد ونظریات انہوں نے گھڑ لیے ہیں ان کے باعث یہ دین کے معاملے میں گمراہی کاشکار ہو گئے ہیں۔ اللہ نے تو ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔ تورات لاؤ‘ انجیل لاؤ‘ کہیں ایسی ضمانت نہیں ہے۔ یہ تو تمہارا من گھڑت عقیدہ ہے اور اسی کی وجہ سے اب تم دین کے اندر بددین یا بے دین ہو گئے ہو۔
’’تو کیا حال ہو گا جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اُس دن جس کے بارے میں کوئی شک نہیں!‘‘
اِس وقت تو یہ بڑھ چڑھ کر باتیں بنا رہے ہیں ‘ زبان درازیاں کر رہے ہیں ۔ لیکن جب ہم انہیں ایک ایسے دن میں جمع کریں گے جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ‘تو اس دن ان کا کیا حال ہو گا!
وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ
’’اور ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کچھ اس نے کمائی کی ہو گی‘‘
وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾
’’اور ان پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔‘‘
اس کے بعد اب پھر ایک بہت عظیم دعا آ رہی ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں بہت سی دعائیں ہیں۔ یہ بھی ایک عظیم دعا ہے‘ جس کی باقاعدہ تلقین کر کے کہا گیا ہے کہ یوں کہا کرو۔
اس کے دونوں معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کل خیر و خوبی تیرے ہاتھ میں ہے اور دوسرے یہ کہ تیرے ہاتھ میں خیر ہی خیر ہے۔ بسا اوقات انسان جسے اپنے لیے شر سمجھ بیٹھتا ہے وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔ سورۃ البقرۃ (آیت ۲۱۶) میں ہم پڑھ چکے ہیں {وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ} ’’اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی شے کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔‘‘
اِنَّكَ عَلٰى کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶
’’یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
آیت 27
تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ
’’تو رات کو لے آتا ہے دن میں پرو کر‘‘
وَ تُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۫
’’اور پھر دن کو نکال لاتا ہے رات میں سے پرو کر۔‘‘
وَ تُخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ
’’اور تو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے‘‘
وَ تُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ ۫
’’اور تو نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے۔‘‘
اس کی بہترین مثال مرغی اور انڈا ہے۔ انڈے میں جان نہیں ہے لیکن اسی میں سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے اور مرغی سے انڈا برآمد ہوتا ہے۔
وَ تَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۲۷
’’اور تو دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حد و حساب۔‘‘
328
مومن کافروں کو مومنین کے مقابلہ میں دوست نہ بنائیں
’’اہل ایمان نہ بنائیں کافروں کو اپنے دوست اہل ایمان کو چھوڑ کر۔‘‘
’’اولیائ‘‘ ایسے قلبی دوست ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے رازدار بھی بن جائیں اور ایک دوسرے کے پشت پناہ بھی ہوں۔ یہ تعلق کفار کے ساتھ اختیار کر نے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ ‘ظاہری مدارات اور تہذیب و شائستگی سے بات چیت تواور بات ہے‘ لیکن دلی محبت‘ قلبی رشتہ‘ جذباتی تعلق‘ باہمی نصرت و تعاون اور ایک دوسرے کے پشت پناہ ہونے کا رشتہ قائم کر لینے کی اجازت نہیں ہے۔ کفار کے ساتھ اس طرح کے تعلقات اللہ تعالیٰ کو ہرگزپسند نہیں ہیں۔
’’اور جو کوئی بھی یہ حرکت کرے گا تو پھر اللہ کے ساتھ اس کاکوئی تعلق نہیں رہے گا‘‘
اگر اللہ کے دشمنوں کے ساتھ تمہاری دوستی ہے تو ظاہر ہے پھر تمہارا اللہ کے ساتھ کوئی رشتہ و تعلق نہیں رہاہے ۔
اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ
’’سوائے یہ کہ تم ان سے بچنے کے لیے اپنا بچائو کرناچاہو۔‘‘
بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ کھلے مقابلے کا ابھی موقع نہیں ہوتا تو آپ دشمن کو طرح دیتے ہیں اور اس طرح گویا وقت حاصل کرتے ہیں (you are buying time) تو اس دوران اگر ظاہری خاطر مدارات کا معاملہ بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے‘ لیکن مستقل طور پر کفار سے قلبی محبت قائم کر لینا ہرگز جائز نہیں ہے۔ قرآن کے انہی الفاظ کو ہمارے ہاں اہل تشیع نے تقیہ کی بنیادبنا لیا ہے۔ لیکن انہوں نے اسے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ وہ جھوٹ بولنا اور اپنے عقائد کو چھپا لینا بھی روا سمجھتے ہیں اور اس کے لیے دلیل یہاں سے لاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بالکل دوسری شکل ہے اور یہ صرف ظاہری مدارات کی حد تک ہے۔ جیسے کہ ہم سورۃ البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ اگرچہ تمہارے خلاف یہود کے دلوں میں حسد کی آگ بھری ہوئی ہے لیکن {فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا} (آیت ۱۰۹) ابھی ذرا درگزر کرتے رہواورچشم پوشی سے کام لو۔ ابھی فوری طور پران کے ساتھ مقابلہ شروع کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس حد تک مصلحت بینی تو صحیح ہے‘لیکن یہ نہیں کہ جھوٹ بولا جائے‘ معاذ اللہ!
وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ
’’اور اللہ تمہیں ڈراتا ہے اپنے آپ سے۔‘‘
اللہ سے ڈرو۔ یعنی کسی اور سے خواہ مخواہ ڈر کر صرف خاطر مدارات کر لینا بھی صحیح نہیں ہے۔کسی وقت مصلحت کا تقاضا ہو تو ایسا کر لو‘ لیکن تمہارے دل میں خوف صرف اللہ کا رہناچاہیے۔
’’کہہ دیجیے(اے نبیﷺ!) کہ اگر تم چھپائو جو کچھ کہ تمہارے سینوں میں ہے یا اسے ظاہر کر دو اللہ اسے جانتا ہے۔‘‘
تم اپنے سینوں میں مخفی باتیں ایک دوسرے سے تو چھپا سکتے ہو‘ اللہ تعالیٰ سے نہیں۔ سورۃ البقرۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں : {وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْـکُمْ بِہِ اللّٰہُ} ’ ’’اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو خواہ چھپائو اللہ تم سے اس کا محاسبہ کر لے گا۔‘‘
’’(اُس دن کا تصور کرو) جس دن ہر جان اپنے سامنے موجود پائے گی ہر نیکی جو اُس نے کی ہو گی‘‘
وَّ مَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ ۚۛ
’’اور ہر برائی جو اُس نے کمائی ہو گی۔‘‘
اس کا نقشہ سورۃ الزلزال میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے : {فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾} ’’تو جس نے ایک ذرے کے ہم وزن نیکی کی ہو گی وہ اس کو (بچشم خود) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرے کے ہم وزن برائی کی ہو گی وہ اُس کو(بچشم خود) دیکھ لے گا‘‘۔
’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو‘‘
یہ آیت بہت معروف ہے اور مسلمانوں کو بہت پسند بھی ہے۔ ہمارے ہاں مواعظ و خطابات میں یہ بہت کثرت سے بیان ہوتی ہے۔ فرمایا کہ اے نبیﷺ اہل ایمان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو‘ میرا اتباع کرو!اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ:
’’پھر اگر وہ پیٹھ موڑ لیں تو (یاد رکھیں کہ) اللہ کو ایسے کافر پسند نہیں ہیں۔‘‘
یہ دو آیتیں اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں رسو ل اللہﷺ کے لیے دو الفاظ آئے ہیں ’’اطاعت‘‘ اور ’’اتباع‘‘۔اطاعت اگر نہیں ہے تو یہ کفر ہے۔ چنانچہ اطاعت تو لازم ہے اور وہ بھی دلی آمادگی سے‘ مارے باندھے کی اطاعت نہیں۔ لیکن اطاعت کس چیز میں ہوتی ہے؟ جو حکم دیا گیا ہے کہ یہ کرو وہ آپ کو کرنا ہے۔ اتباع اس سے بلند تر شے ہے۔ انسان خود تلاش کرے کہ آنحضورﷺ کے اعمال کیا تھے اور ان پر عمل پیرا ہو جائے ‘ خواہ آپﷺ نے ان کا حکم نہ دیا ہو۔ گویا اتباع کا دائرہ اطاعت سے وسیع تر ہے۔ انسان کو جس کسی سے محبت ہوتی ہے وہ اُس سے ہر طرح سے ایک مناسبت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے لباس جیسا لباس پہننا پسند کرتا ہے‘ جو چیزیں اس کو کھانے میں پسند ہیں وہی چیزیں خود بھی کھانا پسند کرتا ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا حکم نہیں دیا گیا لیکن ان کا التزام پسندیدہ ہے۔ ایک صحابیؓ ‘کا واقعہ آتا ہے کہ وہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ آپﷺ کے کرتے کے بٹن نہیں لگے ہوئے تھے اور آپؐ کا گریبان کھلا تھا۔ اس کے بعد ان صحابیؓ نے پھر ساری عمر اپنے کرتے کے بٹن نہیں لگائے ۔حالانکہ حضورﷺ نے تو انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا۔یہ صحابیؓ کہیں دور دراز سے آئے ہوں گے اور ایک ہی مرتبہ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ہوں گے‘ لیکن انہوں نے اُس وقت جناب محمد رسول اللہﷺ کو جس شان میں دیکھا اس کو پھر اپنے اوپر لازم کر لیا۔
اتباع کے ضمن میں یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ اگرچہ دین کے کچھ تقاضے ایسے ہیں کہ انہیں جس درجے میں حضرت محمد رسول اللہﷺ نے پورا فرمایا اس درجے میں پورا کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے ‘ لیکن پھر بھی اس کی کوشش کرتے رہنا اتباع کا تقاضا ہے۔ مثلاً رسول اللہﷺ نے کوئی مکان نہیں بنایا‘ کوئی جائیداد نہیں بنائی‘ جیسے ہی وحی کا آغاز ہوا‘ اس کے بعد آپؐ نے کوئی دُنیوی کام نہیں کیا‘ کوئی تجارت نہیں کی۔ آپﷺ نے اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اور اپنی توانائی کی ایک ایک رمق اللہ کے دین کی دعوت اور اس کی اقامت میں لگا دی۔ سب کے لیے تو اس مقام تک پہنچنا یقینامشکل ہے‘ لیکن بہرحال بندئہ مؤمن کا آئیڈیل یہ رہے اور وہ اسی کی طرف چلنے کی کوشش کرتا رہے‘ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اور زیادہ سے زیادہ وسائل فارغ کرے اور اس کام کے اندر لگائے تو ’’اتباع‘‘ کا کم سے کم تقاضا پورا ہو گا۔ البتہ جہاں تک ’’اطاعت‘‘ کا تعلق ہے اس میں کوتاہی قابل قبول نہیں۔ جہاں حکم دے دیا گیا کہ یہ حلال ہے‘ یہ حرام ہے‘ یہ فر ض‘ ہے یہ واجب ہے‘ وہاں حکم عدولی کی گنجائش نہیں۔ اگر اطاعت ہی سے انکار ہے تو اسے قرآن کفر قرار دے رہا ہے۔
اتباع کا معاملہ یہ ہے کہ نبیﷺ کا اتباع کرنے والا اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا کہ اے نبیﷺ! اہل ایمان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو‘ میری پیروی کرو۔ دیکھو‘ میرے شب و روز کیا ہیں؟ میری توانائیاں کن کاموں پر لگ رہی ہیں؟ دنیا کے اندر میری دلچسپیاں کیا ہیں؟ ان معاملات میں تم میری پیروی کرو۔ اس کے نتیجے میں تم اللہ تعالیٰ کے ’’محب‘‘ سے بڑھ کر ’’محبوب‘‘ بن جاؤ گے اور اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ وہ یقینا غفوراور رحیم ہے۔ باقی اطاعت تو اللہ اور اس کے رسولؐ ‘کی بہرصورت کرنی ہے۔ اگر یہ اس اطاعت سے بھی منہ موڑیں تو اللہ تعالیٰ کو ایسے کافر پسند نہیں ہیں۔ کیونکہ اطاعت رسولﷺ کا انکار تو کفر ہو گیا۔
یہاں سورۂ آل عمران کے نصفِ اوّل کا ثلث اوّل مکمل ہو گیا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اس سورۂ مبارکہ کی پہلی ۳۲ آیات تمہیدی اور عمومی نوعیت کی ہیں۔ ان میں دین کے بڑے گہرے اصول بیان ہوئے ہیں‘ نہایت جامع دعائیں تلقین کی گئی ہیں اور محکمات اور متشابہات کا فرق واضح کیا گیا ہے۔