تحریر

آل عمران

آیات ۱۰ تا ۲۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-13

کفار کے لیے وعید

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾ کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۱﴾ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَ تُحۡشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۲﴾ قَدۡ کَانَ لَکُمۡ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الۡتَقَتَا ؕ فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اُخۡرٰی کَافِرَۃٌ یَّرَوۡنَہُمۡ مِّثۡلَیۡہِمۡ رَاۡیَ الۡعَیۡنِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۱۳﴾

آیت 10

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ

’’یقینا جن‘لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہرگز نہ بچا سکیں گے انہیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ سے کچھ‘بھی۔‘‘

اب یہ ذرا تحدی اور چیلنج کا انداز ہے۔ زمانۂ نزول کے اعتبار سے آپ نے نوٹ کر لیا کہ یہ سورئہ مبارکہ ۳ھ میں غزوئہ اُحد کے بعد نازل ہورہی ہے‘ لیکن یہ رکوع جو زیر مطالعہ ہے اس کے بارے میں گمانِ غالب ہے کہ یہ غزوئہ بدر کے بعد نازل ہوا۔ غزوئہ بدر میں مسلمانوں کو بڑی زبردست فتح حاصل ہوئی تھی تو مسلمانوں کا morale بہت بلند تھا۔ لیکن ایسی روایات بھی ملتی ہیں کہ جب مسلمان بدر سے غازی بن کر ‘فتح یاب ہو کر واپس آئے تو مدینہ منورہ میں جو یہودی قبیلے تھے ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ مسلمانو! اتنا نہ اِترائو۔ یہ تو قریش کے کچھ ناتجربہ کار چھوکرے تھے جن سے تمہارا مقابلہ پیش آیا ہے‘ اگر کبھی ہم سے مقابلہ پیش آیا تو دن میں تارے نظر آجائیں گے‘ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس پس منظر میں یہ الفاظ کہے جا رہے ہیں کہ صرف مشرکین مکہ پر موقوف نہیں‘ آخر کار تمام کفار اسی طرح سے زیر ہوں گے اور اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ { وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱﴾} (یوسف)

وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ وَقُوۡدُ النَّارِ ﴿ۙ۱۰﴾

’’اور وہ تو سب کے سب آگ کا ایندھن بنیں گے۔‘‘

آیت 11

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’(ان کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ ہو گا) جیسا کہ آلِ فرعون اور ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو اُن سے پہلے گزرے۔‘‘

تمہاری تو حیثیت ہی کیا ہے! کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ آلِ فرعون کا معاملہ یاد کرو‘ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ فرعون بہت بڑا شہنشاہ اور بڑے لائو لشکر والا تھا‘ لیکن اس کا کیا حال ہوا؟ اور اس سے پہلے عاد و ثمود جیسی زبردست قومیں اسی جزیرہ نمائے عرب میں رہی ہیں۔

کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ

’’انہوں نے بھی ہماری آیات کوجھٹلایا تھا۔‘‘

فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ

’’تو اللہ نے پکڑا ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں۔‘‘

وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۱﴾

’’اور اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

آیت 12

قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَتُغۡلَبُوۡنَ وَ تُحۡشَرُوۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو کفر کی روش اختیار کر رہے ہیں کہ تم سب کے سب(دُنیا میں) مغلوب ہو کر رہو گے اور (پھر آخرت میں) جہنم کی طرف گھیر کر لے جائے جاؤ گے۔‘‘

وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۲﴾

’’اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

آیت 13

قَدۡ کَانَ لَکُمۡ اٰیَۃٌ فِیۡ فِئَتَیۡنِ الۡتَقَتَا ؕ

’’تمہارے لیے ایک نشانی آ چکی ہے ان دو گروہوں میں جنہوں نے آپس میں جنگ کی۔‘‘

یعنی بدر کی جنگ میں ایک طرف مسلمان تھے اور دوسری طرف مشرکین مکہ تھے۔ اس میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے۔

فِئَۃٌ تُقَاتِلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اُخۡرٰی کَافِرَۃٌ

’’ایک گروہ اللہ کی راہ میں جنگ کر رہا تھا اور دوسرا کافر تھا‘‘

یَّرَوۡنَہُمۡ مِّثۡلَیۡہِمۡ رَاۡیَ الۡعَیۡنِ ؕ

’’وہ انہیں دیکھ رہے تھے اپنی آنکھوں سے کہ ان سے دوگنے ہیں۔‘‘

اس کے کئی معانی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کو تو کھلم کھلا نظر آ رہا تھا کہ ہمارے مقابل ہم سے دوگنی فوج ہے‘ جبکہ وہ تگنی تھی۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غزؤہ بدر میں کفار پر ایسا رُعب طاری کر دیا تھا کہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ مسلمان ہم سے دُگنے ہیں۔

وَ اللّٰہُ یُؤَیِّدُ بِنَصۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ

’’اور اللہ تعالیٰ تائید فرماتا ہے اپنی نصرت سے جس کی چاہتاہے۔‘‘

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۱۳﴾

’’اس میں یقینا ایک عبرت ہے آنکھیں رکھنے والوں کے لیے۔‘‘

یہ عبرت اور سبق آموزی صرف ان کے لیے ہوتی ہے جو آنکھیں رکھتے ہوں‘ جن کے اندر دیکھنے کی صلاحیت موجود ہو۔

اگلی آیت فطرتِ انسانی کے اعتبار سے بڑی اہم ہے۔ بعض لوگوں میں خاص طو رپر دنیا اور علائق دُنیوی کی محبت زیادہ شدید ہوتی ہے۔ یہاں اس کا اصل سبب بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا یہ شے فطرتِ انسانی میں رکھی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو قیامت تک آباد رکھنا ہے اور اس کی رونقیں بحال رکھنی ہیں۔ چنانچہ مرد اور عورت کی ایک دوسرے کے لیے کشش ہو گی تو اولاد پیدا ہو گی اور دنیا کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس طرح دنیا قائم رہے گی۔ دولت کی کوئی طلب ہو گی تو آدمی محنت و مشقت کرے گا اور دولت کمائے گا۔ اس لیے یہ چیزیں فطرتِ انسانی میں basic animal instincts کے طو رپر رکھ دی گئی ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جبلی تقاضوں کو دبا کر رکھا جائے‘ اللہ کی محبت اور اللہ کی شریعت کو اس سے بالاتر رکھا جائے۔ یہ مطلوب نہیں ہے کہ ان کو ختم کر دیا جائے ۔ تعذیبِ نفس اور نفس کشی (self annihilation) اسلام میں نہیں ہے۔ یہ تو رہبانیت ہے کہ اپنے نفس کو کچل دو‘ ختم کر دو۔ جبکہ اسلام تزکیۂ نفس اور self control کا درس دیتا ہے کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ نفسِ انسانی ایک منہ زور گھوڑا ہے۔ گھوڑا جتنا طاقت ور ہوتا ہے اتنا ہی سوار کے لیے اسے تیز دوڑانا آسان ہوتا ہے۔ لیکن منہ زور اور طاقتور گھوڑے کو قابو میں رکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ورنہ سوار اگر اس کے رحم و کرم پر آ گیا تو وہ جہاں چاہے گا اسے پٹخنی دے دے گا۔

14-17

دنیا بمقابلہ آخرت

ویڈیو

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ ﴿۱۴﴾ قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾ اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾ اَلصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡمُنۡفِقِیۡنَ وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ ﴿۱۷﴾

آیت 14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ

’’مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دنیا کی محبت جیسے عورتیں اور بیٹے‘‘

مرغوباتِ دنیا میں سے پہلی محبت عورتوں کی گنوائی گئی ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک بھی انسانی محرکات میں سب سے قوی اور زبردست محرک (potent motive) جنسی جذبہ ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ نے بھی سب سے پہلے اُسی کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے پیٹ کا مسئلہ فوقیت اختیار کر جاتا ہے اور معاشی ضرورت جنسی جذبے سے بھی شدید تر ہو جاتی ہے‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرد و عورت کے مابین کشش انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا ہے :

حدیث((مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ)) ۱

’’میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنے سے زیادہ ضرر رساں فتنہ اور کوئی نہیں چھوڑا۔‘‘

ان کی محبت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے ۔ بلعام بن باعورہ یہودمیں سے ایک بہت بڑا عالم اور فاضل شخص تھا‘ مگر ایک عورت کے چکر میں آ کر وہ شیطان کا پیرو بن گیا۔ اس کا قصہ سورۃ الاعراف میں بیان ہوا ہے۔ بہرحال عورتوں کی محبت انسانی فطرت کے اندر رکھ دی گئی ہے۔ پھر انسان کو بیٹے بہت پسند ہیں کہ اس کی نسل اور اس کا نام چلتا رہے ‘ وہ بڑھاپے کا سہارا بنیں۔

وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ

’’اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے کے اور چاندی کے‘‘

وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ

’’اور نشان زدہ گھوڑے‘‘

عمدہ نسل کے گھوڑے جنہیں چن کر ان پر نشان لگائے جاتے ہیں۔

وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ

’’اور مال مویشی اور کھیتی۔‘‘

پنجاب اور سرائیکی علاقہ میں چوپاؤں کو مال کہا جاتا ہے۔ یہ جانور ان کے مالکوں کے لیے مال کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ذٰلِکَ مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ

’’یہ سب دُنیوی زندگی کا سروسامان ہے۔‘‘

بس نقطۂ اعتدال یہ ہے کہ جان لو یہ ساری چیزیں اس دنیا کی چند روزہ زندگی کاسازوسامان ہیں۔ اس زندگی کے لیے ضروریات کی حد تک ان سے فائدہ اٹھانا کوئی بری بات نہیں ہے۔

وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ ﴿۱۴﴾

’’لیکن اللہ کے پاس ہے اچھا لوٹنا۔‘‘

وہ جو اللہ کے پاس ہے اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ایمان بالآخرت موجود ہے تو پھر انسان ان تمام مرغوبات کو ‘ اپنے تمام جذبات اور میلانات کو ایک حد کے اندر رکھے گا‘ اس سے آگے نہیں بڑھنے دے گا۔ لیکن اگر ان میں سے کسی ایک شے کی محبت بھی اتنی زوردار ہو گئی کہ آپ کے دل کے اوپر اس کا قبضہ ہو گیا تو بس آپ اس کے غلام ہو گئے‘ اب وہی آپ کا معبود ہے‘ چاہے وہ دولت ہو یا کوئی اور شے ہو۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب النکاح‘ باب ما یتقی من شئوم المرأۃ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب اکثر اھل الجنۃ الفقراء واکثر اھل النار النساء۔

آیت 15

قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ

’’ان سے کہیے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں ان تمام چیزوں سے بہتر شے کون سی ہے؟‘‘

لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ

’’جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے ربّ کے پاس ایسے باغات ہیں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی‘‘

تقویٰ یہی ہے کہ تم پر اپنے نفس کا بھی حق ہے جو تمہیں ادا کرنا ہے‘ لیکن ناجائز راستے سے نہیں۔ تمہارے پیٹ کا بھی حق ہے ‘وہ بھی ادا کرو‘ لیکن اکلِ حلال سے۔ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد کے بھی تم پر حقوق ہیں‘ جو تمہیں جائز طریقوں سے ادا کرنے ہیں۔ تمہارے جوملاقاتی آنے والے ہیں ان کا بھی تم پر حق ہے۔رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماسے ارشاد فرمایا تھا:

حدیث ((فَاِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَقًّا‘ وَاِنَّ لِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَقًّا‘ وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقًّا‘ وَاِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَیْکَ حَقًّا))

’’یقینا تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے‘ تمہاری آنکھ کابھی تم پر حق ہے‘ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے‘ اور تمہارے ملاقاتی کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘

ان سب کے حقوق ادا کرو‘ لیکن اللہ سے اوپر کسی حق کو فائق نہ کردینا۔ بس یہ ہے اصل بات ؏’’گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی!‘‘اگر یہ حفظِ مراتب نہیں ہو گا تو گویا آپ کا دین بھی گیا اور دنیا بھی گئی۔

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا

’’ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘

وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ

’’اور ان کے لیے بڑی ہی پاک عورتیں ہوں گی‘‘

وَّ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ

’’اور(سب سے بڑھ کر) اللہ کی خوشنودی ہو گی۔‘‘

وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾

’’اور اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہاہے۔‘‘

آیت 16

اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا

’’جو یہ کہتے رہتے ہیں پروردگار! ہم ایمان لے آئے‘‘

فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا

’’پس ہمارے گناہوں کو بخش دے‘‘

وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾

’’اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

آگے ان کی مدح میں الفاظ استعمال ہو رہے ہیں کہ جو یہ دعائیں کرتے ہیں ان کے یہ اوصاف ہیں ۔ اس میں گویا تلقین ہے کہ اگر اللہ سے یہ دعا کرنا چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب حق الجسم فی الصوم۔وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب النھی عن صوم الدھر …

آیت 17

اَلصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰدِقِیۡنَ

’’صبر کرنے والے اور راست باز‘‘

راست بازی میں راست گوئی بھی شامل ہے اور راست کرداری بھی۔ یعنی آپ کا عمل بھی صحیح اور درست ہو اور قول بھی صحیح اور درست ہو۔

وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡمُنۡفِقِیۡنَ

’’اور فرماں برداراور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے‘‘

وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ ﴿۱۷﴾

’’اور اوقاتِ سحر میں مغفرت چاہنے والے۔‘‘

وہ جو سحر کا وقت ہے (small hours of the morning) اُس وقت اللہ کے حضور استغفار کرنے والے ۔ایک تو پنج وقتہ نمازیں ہیں‘ اور ایک خاص وقت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہر رات جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : ((ھَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطٰی؟ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لَـہٗ؟ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُغْفَرُلَـہٗ؟)) ۱ ’’ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اسے معاف کر دیا جائے؟ ‘‘گویا: ؎

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے راہ روِ منزل ہی نہیں!

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب الترغیب فی الدعاء والذکر فی آخر اللیل… اس مضمون کی متعدد احادیث مختلف الفاظ میں صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث میں موجودہیں۔ (مرتب)

18

اللہ کی شان خاص . . . . . قیامِ عدل

ویڈیو

شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾

آیت 18

شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ

’’اللہ خود گواہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے‘‘

سب سے بڑی گواہی تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے‘جو کتب سماویہ سے بھی ظاہر ہے اور مظاہر فطرت سے بھی۔

وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ

’’اور سارے فرشتے (گواہ ہیں)‘‘

وَ اُولُوا الۡعِلۡمِ

’’اور اہل علم بھی (اس پر گواہ ہیں)‘‘

اولوالعلم وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن کہیں اولوالالباب قرار دیتا ہے اور کہیں ان کے لیے ’’الَّذِیْنَ یَعْقِلُوْنَ‘‘ جیسے الفاظ آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آیاتِ آفاقی کے حوالے سے اللہ کو پہچان لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ وہی معبودِ برحق ہے۔ سورۃ البقرۃ کے بیسویں رکوع کی پہلی آیت ہم نے پڑھی تھی جسے میں ’ ’آیت الآیات‘ ‘قرار دیتا ہوں۔ اس میں بہت سے مظاہر فطرت بیان کر کے فرمایا گیا: {لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾} ’’(ان میں) یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں‘‘۔ تو یہ جو ’ ’قَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ‘ ہیں ‘جو اولوالالباب ہیں‘ اولوالعلم ہیں‘ وہ بھی گواہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ

’’وہ عدل وقسط کا قائم کرنے والا ہے۔‘‘

یہ اس آیت مبارکہ کے اہم ترین الفاظ ہیں۔ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ عدل قائم کرتا ہے اور عدل کرے گا‘ البتہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ کہنا سوءِ ادب ہے کہ اللہ پر عدل کرنا واجب ہے۔ اللہ پر کسی شے کا وجوب نہیں ہے۔ اللہ کو عدل پسند ہے اور وہ عدل کرنے والوں سے محبت رکھتاہے۔ {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۹﴾} (الحجرات)ا اور اللہ خود بھی عدل فرمائے گا۔

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿ؕ۱۸﴾

’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ زبردست ہے‘ کمال حکمت والا ہے‘‘۔

19

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے

ویڈیو

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹﴾

آیت 19

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟

’’یقینا دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔‘‘

اللہ کا پسندیدہ اور اللہ کے ہاں منظور شدہ دین ایک ہی ہے اور وہ ’’اسلام‘‘ ہے۔ سورۃ البقرۃ اور سورۂ آل عمران کی نسبت زوجیت کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیجیے کہ سورۃ البقرۃ میں ایمان پر زیادہ زور ہے اور سورۂ آل عمران میں اسلام پر۔ سورۃ البقرۃ کے آغاز میں بھی ایمانیات کا تذکرہ ہے‘ درمیان میں آیت البر میں بھی ایمانیات کا بیان ہے اور آخری آیات میں بھی ایمانیات کا ذکر ہے: {اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ} جبکہ اس سورۂ مبارکہ میں اسلام کو emphasize کیا گیا ہے۔ یہاں فرمایا: {اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ } آگے جا کر آیت آئے گی : {وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ} ’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول کرے گا وہ اس کی جانب سے اللہ کے ہاں منظور نہیں کیا جائے گا‘‘۔

وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’اور اہل کتاب نے اختلاف نہیں کیا اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا مگر باہمی ضدم ضدا کے سبب سے۔‘‘

یہ گویا سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۳ (آیت الاختلاف) کا خلاصہ ہے۔ دین اسلام تو حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ جن لوگوں نے اس میں اختلاف کیا‘ پگڈنڈیاں نکالیں اور غلط راستوں پر مڑ گئے‘ اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا ‘ ان کا اصلی روگ وہی ضدم ضدا کی روش اور غالب آنے کی اُمنگ (The urge to dominate) تھی۔

وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۹﴾

’’اور جو کوئی اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے تو (وہ یاد رکھے کہ) اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگے گی‘ وہ بڑی تیزی کے ساتھ حساب لے لے گا۔

20

اسلام کا راستہ ہی ہدایت کا راستہ ہے

ویڈیو

فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۲۰﴾

آیت 20

فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ

’’پھر (اے نبیﷺ) اگر وہ آپؐ سے حجت بازی کریں‘‘

دلیل بازی اور مناظرے کی روش اختیار کریں۔

فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ

’’تو آپ کہہ دیں کہ میں نے تو اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور انہوں نے بھی جو میرا اتباع کر رہے ہیں۔‘‘

آپؐ ان سے دو ٹوک انداز میں یہ آخری بات کہہ دیں کہ ہم نے تو اللہ کے آگے سراطاعت خم کر دیا ہے۔ ہم نے ایک راستہ اختیار کر لیا ہے۔ تم جدھر جانا چاہتے ہو جاؤ‘ جس پگڈنڈی پر مڑنا چاہتے ہو مڑ جاؤ‘ جس کھائی میں گرنا چاہتے ہو گر جاؤ۔ {لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ ٪﴿۶﴾} (الکافرون) ’’اب تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔‘‘

وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے اُن سے بھی کہ جنہیں کتاب دی گئی تھی(یعنی یہود اور نصاریٰ) اور اُمّییّن سے بھی کہ کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو؟‘‘

کیا تم بھی سرتسلیم خم کرتے ہو یا نہیں؟ تابع ہوتے ہو یا نہیں؟ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہویا نہیں؟

فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ

’’پس اگر وہ بھی اسی طرح اسلام لے آئیں تو ہدایت پر ہو جائیں گے۔‘‘

وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ

’’اور اگر وہ منہ موڑ لیں تو (اے نبیﷺ!) آپؐ پر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے۔‘‘

آپؐ نے ہمارا پیغام ان تک پہنچا دیا‘ ہماری دعوت اُن تک پہنچا دی‘ ہماری آیات انہیں پڑھ کر سنا دیں‘ اب قبول کرنا یا نہ کرنا ان کا اپنا اختیار (choice) ہے۔ آپؐ پر ذمہ داری نہیں ہے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ سورۃ البقرۃ میں ہم یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں: {وَّ لَا تُسۡئَلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۹﴾} ’’اور آپؐ سے سوال نہیں کیا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں۔‘‘

وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۲۰﴾

’’اوراللہ اپنے بندوں کے حال کو دیکھ رہا ہے۔‘‘

وہ اُن سے حساب کتاب کر لے گا اور ان سے نمٹ لے گا۔ آپؐ کے ذمہ جو فرض ہے آپ اُس کو ادا کرتے رہیے۔

یوٹیوب پر دیکھیے