’’جن لوگوں نے لبیک کہی اللہ اور رسولؐ کی پکار پر اس کے بعد کہ ان کو چرکا لگ چکا تھا۔‘‘
یہ آیت سابقہ آیات کے تسلسل میں آئی ہے۔ یعنی اس اجر عظیم کے مستحق وہ لوگ ٹھہریں گے جن کے عزم و ایمان میں اُحد کی شکست کا زخم کھانے کے بعد بھی کوئی کمی نہ آئی اور جونہی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے انہیں ایک تازہ مہم کے لیے پکارا گیا وہ فوراً تیار ہو گئے۔
’’اور انہوں نے کہا اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘
اُسی کا سہارا ہمارے لیے سب سے اچھا سہارا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ بے خوف ہو کر مقابلے کے لیے نکلے۔
آیت 174
فَانۡقَلَبُوۡا بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ
’’پس وہ لوٹ آئے اللہ کی نعمت اور اُس کے فضل کے ساتھ‘‘
ابوسفیان کو جب پتا چلا کہ محمدﷺ ہمارے تعاقب میں آ رہے ہیں تو اس نے عافیت اسی میں سمجھی کہ سیدھا مکہ مکرمہ کی طرف رخ کر لیا جائے۔ ’’بدرِ صغریٰ‘‘ کی مہم میں بھی یہی ہو ا کہ جب اس نے سنا کہ محمدرسول اللہﷺ تو اپنے پورے ساتھیوں کے ساتھ مقابلے پر آگئے ہیں تو وہ کنی کترا کر اور طرح دے کر نکل گیا اور مقابلے میں نہیں آیا۔
لَّمۡ یَمۡسَسۡہُمۡ سُوۡٓءٌ
’’ان کو کسی قسم کا بھی ضرر نہ پہنچا‘‘
انہیں اس مہم میں کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی جس میں وہ پورے اُترے۔
وَّ اتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰہِ ؕ
’’اورانہوں نے تو اللہ کی رضا کی پیروی کی۔‘‘
انہیں اللہ کی رضا و خوشنودی پر چلنے کا شرف حاصل ہو گیا۔
’’(اے مسلمانو!) یہ شیطان ہے جو تمہیں ڈراتا ہے اپنے ساتھیوں سے‘‘
وہ تو چاہتا ہے کہ اپنے ساتھیوںیعنی حزب الشیطان کا خوف تم پر طاری کر دے ۔ اس کے ایک معنی یہ بھی لیے گئے ہیں کہ شیطان اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔ یعنی شیطان کی اس تخویف کا اثر انہی پر ہوتا ہے جو اس کے ولی ہوتے ہیں‘ جبکہ اولیاء اللہ پر شیطان کی طرف سے اس قسم کی وسوسہ اندازی کا اثر نہیں ہوتا۔
’’اور (اے نبیﷺ) یہ لوگ آپ کے لیے باعثِ غم نہ بنیں جو کفر کے معاملے میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔‘‘
مدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین ہر وقت مسلمانوں کے خلاف ساز باز میں مصروف رہتے تھے۔ کبھی یہودیوں کا کوئی وفد سردارانِ مکہ کے پاس جاکر کہتا کہ تم مسلمانوں پر چڑھائی کرو‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔ کبھی قریش اسی طرح کی کسی پیشکش کے ساتھ یہودیوں سے رابطہ کرتے۔ گویا آج کل کی اصطلاح میں ان کے مابین یہ Diplomatic Activity مسلسل جاری رہتی تھی۔ ان حالات میں یہاں رسول اللہﷺ اور آپؐ کی وساطت سے اہل ایمان کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ ان کی سرگرمیوں سے رنجیدہ نہ ہوں‘ ان کی ساری ریشہ دوانیوں کی حیثیت محض سیلاب کے اوپر آجانے والے جھاگ کی سی ہے۔
اِنَّہُمۡ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ
’’وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔‘‘
’’اور مت سمجھیں یہ کافر کہ ہم انہیں جو مہلت دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے۔‘‘
کافروں کو مہلت اس لیے ملتی ہے کہ وہ اپنے کفر میں اور بڑھ جائیں تاکہ اپنے آپ کو برے سے برے عذاب کا مستحق بنا لیں۔چنانچہ اگر اللہ ان کو ڈھیل دے رہا ہے تو وہ اس پر خوش نہ ہوں۔
’’اللہ وہ نہیں کہ چھوڑے رکھے مسلمانوں کو اس حالت میں جس پر تم ہو‘‘
حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ
’’یہاں تک کہ وہ خبیث کو طیب سے ممیز کر دے۔‘‘
یہ آیت بھی فلسفۂ آزمائش کے ضمن میں بہت اہم ہے ۔اس میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور صالح بندوں کو تکالیف میں کیوں ڈالتا ہے‘ حالانکہ وہ تو قادرِ مطلق ہے‘ وہ آنِ واحد میں جو چاہے کر سکتا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بات اللہ کی حکمت کے مطابق نہیں ہے کہ وہ تمہیں اسی حال میں چھوڑے رکھے جس پر تم ہو۔ابھی تمہاری صفوں میں کمزور اور پختہ ایمان والے گڈمڈ ہیں‘ بلکہ ابھی تو منافق اور مؤمن بھی گڈمڈ ہیں۔ تو جب تک تمہاری اجتماعیت سے یہ تمام ناپاک عناصر نکال نہ دیے جائیں اُس وقت تک تم آئندہ پیش آنے والے مشکل اور کٹھن حالات کے لیے تیار نہیں ہو سکتے۔ ابھی توتم اپنی قوم کے لوگوں سے نبرد آزما ہو۔ مستقبل میں تمہیں سلطنتِ کسریٰ سے ٹکر لینی ہے‘ سلطنت روما کے مقابلے کے لیے نکلنا ہے۔ ان آزمائشوں کا مقصد یہ ہے کہ تمہاری اجتماعیت کی تطہیر ‘(purge)‘ ہوتی رہے‘ یہاں تک کہ منافقین اور صادق الایمان لوگ بالکل نکھر کر علیحدہ ہو جائیں۔
’’لیکن (اس کام کے لیے) اللہ منتخب کر لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔‘‘
وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے غیب کے حالات بھی بتاتا ہے۔ رسولوں کو غیب از خود معلوم نہیں ہو تا‘اللہ کے بتانے سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی ان آزمائشوں میں کیا حکمتیں ہیں اور ان میں تمہارے لیے کیا خیر پنہاں ہے‘ ہر چیز ہر ایک کو نہیں بتائی جائے گی ‘البتہ یہ چیزیں ہم اپنے رسولوں کو بتا دیتے ہیں۔
فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ
’’پس ایمان پختہ رکھو اللہ پر اور اس کے رسولوںؑ پر۔‘‘
’’اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کر رہے ہیں اُس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے اپنے فضل میں سے کہ یہ بخل ان کے حق میں بہتر ہے۔‘‘
ظاہر بات ہے جب جنگ اُحد کے لیے تیاری ہو رہی ہو گی تو حضورﷺ نے مسلمانوں کو انفاقِ مال کی دعوت دی ہو گی تاکہ اسبابِ جنگ فراہم کیے جاسکیں۔ اُس وقت جن لوگوں نے دولت مند ہونے کے باوجود بخل کیا ‘ یہ اشارہ ان کی طرف ہے کہ انہوں نے بخل کر کے جو اپنا مال بچا لیا وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے کوئی اچھا کام کیا ہے۔ یہ مال اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا تھا‘ اس میں بخل سے کام لے کر انہوں نے اچھا نہیں کیا۔
’’اسی مال کے طوق بنا کر ان کی گردنوں میں پہنائے جائیں گے جس میں انہوں نے بخل کیا تھا‘ قیامت کے دن۔‘‘
وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ
’’اور آسمانوں اور زمین کی وراثت بالآخر اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘
دنیا کا مال و اسباب آج تمہارے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا اور بالآخر سب کچھ اللہ کے لیے رہ جائے گا۔ ظاہر ہے آسمانوں اور زمین کی میراث کا حقیقی وارث تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۸۰﴾
’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔‘‘
یہاں وہ چھ رکوع مکمل ہو گئے ہیں جو غزوۂ اُحد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل تھے۔ اس سورۂ مبارکہ کے آخری دو رکوعوں کے کلام کی نوعیت ’’حاصل کلام ‘‘ (concluding remarks) کی ہے۔