تحریر

آل عمران

آیات ۱۵۶ تا ۱۷۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

156-158

اللہ کے راستے کی دنیاوما فیھا سے بہتر ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَ مَا قُتِلُوۡا ۚ لِیَجۡعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسۡرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾ وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

آیت 156

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’اے اہل ایمان! تم اُن لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جنہوں نے کفر کیا‘‘

وَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَ مَا قُتِلُوۡا ۚ

’’اور جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں جبکہ وہ زمین میں سفر پر نکلے ہوئے تھے یا کسی جہاد میں شریک تھے (اور وہاں ان کا انتقال ہو گیا) کہا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔‘‘

ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر شخص کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے معین ہے۔ لہٰذا وہ اگر ان کی گود میں بھی بیٹھے ہوتے تب بھی موت انہیں آ لیتی۔ موت تو بہت مضبوط پہرے والے قلعوں میں بھی پہنچ جاتی ہے۔ تو انہیں اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یہ تو کافروں کے انداز کی باتیں ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے اور جنگ میں نہ جاتے تو بچ جاتے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((فَاِنَّ لَـوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ))۱’’کاش کا لفظ شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتاہے‘‘۔یعنی یہ کہنا کہ کاش ایسے ہو جاتا تو یوں ہو جاتا‘اس کلمہ ہی سے شیطان کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ جو ہوا اس لیے ہواکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا ہونا منظور تھا‘ اس کی حکمتیں اسے معلوم ہیں‘ ہم اس کی حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

لِیَجۡعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسۡرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ

’’(یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آتی ہے) تاکہ اللہ اس کو اُن کے دلوں میں حسرت کا باعث بنا دے۔‘‘

اس قسم کی باتوں سے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں حسرت کی آگ جلا دیتا ہے۔ یہ بھی گویا ان کے کفر کی سزاہے۔

وَ اللّٰہُ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ

’’اور دیکھو اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتاہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾

’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب القدر‘ باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز والاستعانۃ باللّٰہ۔ عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه۔

آیت 157

وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ

’’اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوجاؤ یا ویسے ہی تمہیں موت آ جائے‘‘

لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾

’’تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مغفرت اور رحمت تمہیں ملے گی وہ کہیں بہتر ہے اُن چیزوں سے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔‘‘

اگر تم دنیا میں دس پندرہ سال اور جی لیتے تو کیا کچھ جمع کر لیتے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں شہادت کی موت دے دی‘ تمہارے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو گی!

آیت 158

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

’’اور چاہے تم مرو یا قتل ہو ‘بہرحال اللہ ہی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے۔‘‘

چاہے تمہیں اپنے بستروں پر موت آئے اور چاہے تم قتل ہو‘ ہر حال میں تمہیں اللہ کی جناب میں حاضر کر دیا جائے گا۔ تمہاری آخری منزل تو وہی ہے خواہ تم بستر پر پڑے ہوئے دم توڑ دو یا میدانِ جنگ کے اندر جامِ شہادت نوش کرلو۔

159

میرِکارواں کے لیے ہدایت

ویڈیو

فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾

آیت 159

فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ

’’(اے نبیﷺ) یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے حق میں بہت نرم ہیں۔‘‘

اس سورئہ مبارکہ کی یہ آیت جماعتی نظم کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ جماعتی زندگی میں جو لوگ صاحب امر ہوں‘ جن کے پاس ذمہ داریاں ہوں انہیں یہ خیال رہنا چاہیے کہ ان کے یہ سب ساتھی آخر انسان ہیں‘ وہ جذبات اور احساسات بھی رکھتے ہیں‘ ان کی عزتِ نفس بھی ہے‘ اور یہ کہ وہ ملازم نہیں‘ بلکہ رضاکار (volunteers) ہیں اور دینی جذبے کے تحت اکٹھے ہوئے ہیں‘ لہٰذا اُمراء کو اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔ جماعتی زندگی کے اس پہلو کی اہمیت کو یہاں رسول اللہﷺ کی شخصیت کے حوالے سے واضح کیاجا رہا ہے کہ اے نبیؐ یہ اللہ کی رحمت کا مظہر ہے کہ آپؐ ان کے حق میں بہت نرم ہیں۔

وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪

’’اور اگر آپؐ ‘تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ ؐکے ارد گرد سے منتشرہو جاتے۔‘‘

کسی امیر‘ کمانڈر یا لیڈر کی تند خوئی اور سخت گیری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا نقشہ علامہ اقبال نے ان الفاظ میں کھینچا ہے : ؎

کوئی کارواں سے ٹوٹا ‘ کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی!

فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ

’’پس آپ ان سے درگزر کریں‘‘

اے نبیﷺ! اس جنگ میں آپؐ کے بعض ساتھیوں سے اگرچہ بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے آپ لوگوں کو بہت بڑا چرکا لگا ہے‘ لیکن اس کے باوجود بھی آپؐ اپنے ان ساتھیوں کے لیے اپنے دل میں میل مت آنے دیجیے۔ ان کی غلطی اور کوتاہی کو اللہ نے معاف کر دیا ہے تو آپؐ ‘بھی انہیں معاف کر دیں‘اورعام حالات میں بھی آپ انہیں معاف کرتے رہا کریں۔

وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ

’’اوران کے لیے مغفرت طلب کریں‘‘

ان سے جو بھی خطا ہو جائے اس پر ان کے لیے استغفار کیا کریں۔

وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ

’’اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں۔‘‘

ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کریں کہ آئندہ ان کی کوئی بات نہیں سننی‘ بلکہ ان کو بھی مشورے میں شامل رکھیے۔ واضح رہے کہ مشاورت کے عمل سے جماعت کے اندر باہمی اعتما دپیدا ہوتا ہے۔ اس سے لوگ اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ ہمارا امیر ہم سے مشورہ کرتا ہے‘ ہماری بات کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ چنانچہ مشاورت کے عمل کا تسلسل اجتماعی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔

ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ

’’پھر جب آپ ؐفیصلہ کر لیں تو اللہ پر توکل کریں۔‘‘

مشورے کے بعد جب آپؐ ‘کا دل کسی رائے پر مطمئن ہو جائے اور اس رائے کے مطابق آپؐ فیصلہ کر لیں تو اس کے بعد کسی شخص کی بات کی پروا نہ کریں‘ بلکہ فقط اللہ کی ذات پر توکل کریں۔ غزوئہ اُحد سے پہلے جب رسول اللہﷺ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا تھا‘ تواُس وقت اکثر لوگوں کی رائے وہی تھی جو آنحضورﷺ کی رائے تھی‘ یعنی یہ کہ مدینہ میں محصور ہو کر جنگ کی جائے۔لیکن کچھ لوگوں نے کہا ہم تو کھلے میدان میں جنگ کرنا چاہتے ہیں‘ ہمیں تو شہادت کی موت چاہیے ۔اس پر حضورﷺ نے ان کی رعایت کرتے ہوئے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس کے بعد جب آپﷺ تیار ہو کر حضرت عائشہؓ کے حجرے سے باہر تشریف لائے تو خلافِ معمول آپؐ نے زرہ پہنی ہوئی تھی اور ہتھیار لگائے ہوئے تھے ۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہو گیا کہ کچھ سخت معاملہ پیش آنے والا ہے ۔ چنانچہ متعلقہ لوگوں نے کہا کہ حضورﷺ ہم اپنی رائے واپس لیتے ہیں‘ جو آپؐ کی رائے ہے آپ اس کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں ‘اب یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔ نبی کو یہ زیبا نہیں کہ ہتھیار باندھنے کے بعد جنگ کیے بغیر انہیں اتار دے۔ چنانچہ یہ آیت گویا نبی اکرمﷺ کے اس طرزِ عمل کی توثیق میں نازل ہوئی کہ جب آپ ؐایک فیصلہ کر لیں تو پھر اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس پر استقامت اختیار کریں۔

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔‘‘

160

فیصلہ کن شےاللہ کی مدد ہے

ویڈیو

اِنۡ یَّنۡصُرۡکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّخۡذُلۡکُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾

آیت 160

اِنۡ یَّنۡصُرۡکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمۡ ۚ

’’(اے مسلمانو! دیکھو) اگر اللہ تمہاری مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔‘‘

وَ اِنۡ یَّخۡذُلۡکُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ

’’اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (تمہاری مدد سے دست کش ہو جائے) تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد؟‘‘

وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾

’’اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔‘‘

161-163

نبی ﷺ کی دیانتداری اخلاص مسلّم ہے

ویڈیو

وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶۲﴾ ہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾

آیت 161

وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ

’’اور کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے۔‘‘

غَلَّ یَغُلُّ غُلُوْلًا کے معنی ہیں خیانت کرنا ‘ جبکہ غَلَّ یَغِلُّ غِلاًّ کے معنی دل میں کینہ ہونا کے ہیں۔روایات میں آتا ہے کہ آنحضورﷺ پر منافقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپؐ نے مالِ غنیمت میں کوئی خیانت کی ہے (معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ!) یہ اس الزام کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کسی نبیؐ ‘کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کا ارتکاب کرے۔البتہ مولانا اصلاحی صاحب ؒنے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی رائے میں یہ دراصل منافقین کے ان الزامات کی تردید ہے جو انہوں نے اُحد کی شکست کے بعد رسول اللہﷺ پر لگا ئے تھے کہ ہم نے تو ان پر اعتماد کیا‘ ان کے ہاتھ پر بیعت کی‘ اپنے نیک و بد کا ان کو مالک بنایا‘ لیکن یہ ہمارے اس اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیںاور ہمارے جان و مال کواپنے ذاتی حوصلوں اور اُمنگوں کے لیے تباہ کر رہے ہیں۔ ان کا منصوبہ پورے عرب کو زیر نگیں کرنے کا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ہماری جانوں کو تختۂ مشق بنارکھا ہے۔ یہ صریحاً قوم کی بدخواہی اور اس کے ساتھ غداری و بے وفائی ہے ‘وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ قرآن نے منافقین کے ان الزامات کی تردید فرمائی کہ تمہارے یہ الزامات بالکل جھوٹ ہیں‘ کوئی نبی اپنی اُمت کے ساتھ کبھی بے وفائی اور بدعہدی نہیں کرتا ۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔

وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ

’’اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ اپنی خیانت کی ہوئی چیز سمیت حاضر ہو گا قیامت کے دن۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے قانونِ جزا و سزاسے ایک نبی سے بڑھ کر بھلا کون باخبر ہو گا؟

ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾

’’پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کچھ اُس نے کمایا ہو گا اور اُن پر کچھ ظلم نہ ہو گا۔‘‘

آیت ۵۵ کے حوالے سے نوٹ کیجیے ‘لفظ ’’ تُـوَفّٰی‘‘ یہاں بھی پور اپورا دیے جانے کے معنی میں آیا ہے۔

آیت 162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ

’’تو کیا بھلا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اُس کی مانندہو جائے گا جو اللہ کے غضب اور غصے کو کما کر لوٹا؟‘‘

وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ

’’اور اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘

وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶۲﴾

’’اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے پہنچنے کی۔‘‘

آیت 163

ہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ

’’ان کی درجہ بندیاں ہیں اللہ کے ہاں۔‘‘

جیسے اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکوکاروں کے درجے ہیں اسی طرح وہاں بدکاروں کے بھی درجے ہیں۔ سب بدکار برابر نہیں اور سب نیکوکار برابر نہیں۔

وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾

’’اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اسے دیکھ رہاہے۔‘‘

اگلی آیت کا مضمون قبل ازیں سورۃ البقرۃ میں دو مرتبہ آ چکا ہے۔ پہلی مرتبہ سورۃ البقرۃکے پندرہویں رکوع میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی دعا میں یہ مضمون بایں الفاظ آیا ہے: {رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ} (آیت ۱۲۹) پھر اٹھارہویں رکوع کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں : {کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیۡکُمۡ وَ یُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕۛ۱۵۱﴾} اب یہ مضمون تیسری مرتبہ یہاں آرہاہے :

164

نبی اکرمﷺنے صالحین کی جماعت کیسے تیار کی؟

ویڈیو

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾

آیت 164

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

’’درحقیقت اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے اہل ایمان پر‘‘

اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ

’’جب اُن میں اٹھایا ایک رسولؐ ان ہی میں سے‘‘

یعنی ان کی اپنی قوم میں سے۔

یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ

’’جو تلاوت کر کے انہیں سناتا ہے اس کی آیات‘‘

وَ یُزَکِّیۡہِمۡ

’’اور انہیں پاک کرتا ہے‘‘

وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ

’’اور تعلیم دیتا ہے انہیں کتاب و حکمت کی۔‘‘

یہ انقلابِ نبویؐ کے منہاج کے چار بنیادی عناصر ہیں ‘ جنہیں قرآن اسی ترتیب سے بیان کرتا ہے: تلاوتِ آیات‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت ۔ یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی‘ (اس دعا میں ’’تزکیہ‘‘ کا ذکرآخر میں تھا) اللہ نے اس ترتیب کو تبدیل کیا ہے۔ اس نکتے پر سورۃ البقرۃ آیت ۱۵۱ کے ذیل میں گفتگو ہو چکی ہے۔

وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾

’’اور یقینا اس سے پہلے (یعنی رسولﷺ کی آمد سے قبل) تووہ یقیناکھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘

165-168

احد میں شکست کی وجہ اور حکمت

ویڈیو

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَیۡہَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰی ہٰذَا ؕ قُلۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾ وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَ لِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۶﴾ وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚۖ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕقَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۱۶۷﴾ اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ وَ قَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾

آیت 165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَیۡہَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰی ہٰذَا ؕ

’’اور کیا جب تم پر ایک مصیبت آئی‘ جبکہ تم اس سے دگنی مصیبت اُن کو پہنچا چکے ہو تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ گئی؟‘‘

یعنی یہ کیوں ہو گیا؟ اللہ نے پہلے مدد کی تھی‘ اب کیوں نہیں کی؟

قُلۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے یہ تمہارے اپنے نفسوں (کی شرارت کی وجہ) سے ہوا ہے۔‘‘

غلطی تم نے کی تھی‘ امیر کے حکم کی خلاف ورزی تم نے کی تھی‘ جس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا۔

اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾

’’یقینا اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

گویا اسی مضمون کو یہاں دہرا کر لایا گیا ہے جو پیچھے آیت ۱۵۲ میں بیان ہو چکا ہے کہ اللہ تو اپنا وعدہ پورا کر چکا تھا اور تم دشمن پر غالب بھی آ چکے تھے‘ مگر تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔اللہ چاہتا تو تمہیں کوئی سزا نہ دیتا‘ بغیر سزادیے معاف کر دیتا‘ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ تمہیں سزا دی جائے۔ اس لیے کہ ابھی تو تمہاری اس تحریک کو بڑے بڑے مراحل سے گزرنا ہے۔ اگر تم اسی طرح نظم کو توڑتے رہے اور احکام کی خلاف ورزی کرتے رہے تو پھر تم ایک منظم جماعت کے بجائے ایک انبوہ اور ’’ہجومِ مؤمنین‘‘ بن کر رہ جائو گے ‘جبکہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ایک انتہائی منظم جماعت(حزب اللہ)درکار ہے۔

آیت 166

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ

’’اور جو بھی مصیبت تم پر آئی ہے اُس دن جب دونوں لشکر آپس میں بھڑ گئے تھے وہ اللہ کے اِذن سے آئی ہے‘‘

ظاہر ہے اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ تکلیف نہیں آ سکتی تھی۔

وَ لِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۶﴾

’’اور یہ اس لیے تھی کہ اللہ ظاہر کردے ایمان والوں کو۔‘‘

تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے حقیقی مؤمنین کون ہیں۔

آیت 167

وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚۖ

’’اور تاکہ ان لوگوں کو بھی ظاہر کر دے جنہوں نے منافقت اختیار کی۔‘‘

’’لِیَعْلَمَ‘‘ کا معنی ہے ’’تاکہ جان لے‘‘-- لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے لہٰذا ایسے مقامات پرترجمہ کیا جاتا ہے: ’’تاکہ اللہ ظاہر کر دے‘‘۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے واقعتا ظاہر کر دیا کہ کون مؤمن ہے اور کون منافق! عبداللہ بن اُبی جب اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر واپس چلا گیا تو ان کا نفاق سب پرظاہر ہو گیا۔ اس کے بعد اہل ایمان کے لیے ان پر اعتبار کرنے اور ان کی چکنی چپڑی باتیں کان لگا کر سننے کا جواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش کے ذریعے واضح کر دیا کہ : Who is who & what is what?۔

وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ

’’اور ان (منافقوں) سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا (کم از کم اپنے شہر کا)دفاع کرو۔‘‘

عبداللہ بن اُبی جب اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر واپس جا رہا تھا تو اس وقت ان سے کچھ لوگوں نے کہا ہوگا کہ بیوقوفو! کہاں جا رہے ہو؟ اس وقت تو قریش کا لشکر سامنے ہے۔ اگر ایک ہزار میں سے تین سو آدمی نکل جائیں گے تو باقی لوگوں کے دلوں میں بھی کچھ نہ کچھ کمزوری پیدا ہو گی۔اگر تم میدانِ جنگ میں دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو کم از کم مدینہ کے دفاع کے لیے تو کمربستہ ہو جاؤ۔ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو کیا ہو گا؟ اگر یہاں پر یہ لشکر شکست کھا گیا تو کیا دشمن تمہاری بہوبیٹیوں کو اپنی باندیاں بنا کر نہیں لے جائیں گے؟

قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ

’’انہوں نے کہا کہ اگر ہم سمجھتے کہ جنگ ہونی ہے تو ہم ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔‘‘

یعنی یہ تو درحقیقت نورا کشتی ہو رہی ہے‘ یہ حقیقت میں جنگ ہے ہی نہیں۔ یہ جو مکہ سے محمد(ﷺ) کے ساتھی (مہاجرین )آئے ہیں اور اب یہ جو مکہ ہی سے لشکر ہم پر چڑھائی کر کے آیا ہے یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور ہمارا ان سے کوئی سروکار نہیں۔

ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ

’’یہ لوگ اُس دن ایمان کی نسبت کفر سے قریب تر تھے۔‘‘

یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ

’’یہ اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۱۶۷﴾

’’اور اللہ اس چیز کو خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا رہے ہیں۔‘‘

آیت 168

اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ وَ قَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ؕ

’’یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اپنے (شہید ہوجانے والے) بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہوتے تو قتل نہ ہوتے۔‘‘

قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾

’’تو (اے نبیﷺ) ان سے کہیے کہ اگر تم (اپنے اس قول میں) سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا کر دکھا دو۔‘‘

کیا تم اپنے آپ سے موت کو ٹال لو گے؟ خود موت سے بچے رہو گے؟ کیا موت تمہیں اپنے گھروں میں نہیں آئے گي؟

169-171

شہداء کے لیے انعامات

ویڈیو

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿ۙ۱۶۹﴾ فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۘ۱۷۰﴾ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ٪ۛ۱۷۱﴾

آیت 169

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ

’’اور ہرگز نہ سمجھنا اُن لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔‘‘

یہ مضمون قبل ازیں سورۃ البقرۃ میں بھی آ چکا ہے : {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں(وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘

بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿ۙ۱۶۹﴾

’’بلکہ وہ تو زندہ ہیں ‘ اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں۔‘‘

آیت 170

فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ

’’شاداں و فرحاں ہیں اُس پر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے‘‘

وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ

’’اور بشارت حاصل کر رہے ہیں اُن لوگوں کے بارے میں جو ان کے پیچھے (دنیا میں) رہ گئے ہیں اور ابھی اُن سے نہیں ملے‘‘

اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۘ۱۷۰﴾

’’کہ نہ اُن پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘

آیت 171

یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ ۙ

’’وہ خوشیاں منا رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کی وجہ سے اور اس کے فضل کی بنا پر‘‘

وَّ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ٪ۛ۱۷۱﴾

’’اوراس بات پر کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

اب آگے جوآیات آ رہی ہیں ان کے بارے میں تاریخ و سیرت کی کتابوں میں دو قسم کی روایات ملتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفار کی فوج کے واپس چلے جانے کے بعد رسول اللہﷺ نے بعض ضروری امور نمٹائے اور شہداء کی تدفین کی۔ اس کے بعد آپﷺ کو اچانک خیال آیا کہ کفار چلے توگئے ہیں‘ لیکن ہو سکتا ہے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوکہ انہوں نے مسلمانوں کو بالکل ختم کیوں نہیں کر دیا اور اس احساس کی وجہ سے وہ کہیں دوبارہ پلٹ کر حملہ آور نہ ہو جائیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو قریش کے تعاقب کے لیے تیار ہو جانے کا حکم دیا‘ تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ہم نے ہمت نہیں ہاردی۔ اُس وقت مسلمان شدید صدمے سے دوچار تھے‘ ان کے جسم زخموں سے چور چور تھے ‘لیکن اس کے باوجود انہوں نے حضورﷺ کے اس حکم پر لبیک کہا۔ چنانچہ حضورﷺ جان نثاروں کی ایک جماعت کے ساتھ کفار کے تعاقب میں حمراء الاسد تک گئے جو کہ مکہ کے راستہ پر مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر ابوسفیان کو واقعتا اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ مقام روحاء پر اپنی فوج کی ازسرنوتنظیم میں مصروف تھا تاکہ پلٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہو سکے۔ اُس نے مدینہ کی طرف جانے والے ایک تاجر کو مسلمانوں کے لیے یہ پیغام بھی دیا کہ میں بہت بڑا لشکر لے کر دوبارہ آ رہا ہوں۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کے عزم و حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور وہ ان کے تعاقب میں آ رہے ہیں تو اس نے ارادہ بدل کر لشکرکو مکہ کی طرف کوچ کا حکم دے دیا۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ روایات میں یوں آتا ہے کہ ابوسفیان جاتے ہوئے مسلمانوں سے یہ کہہ گیا تھا کہ اگلے سال بدر میں پھر ہمارا مقابلہ ہو گا۔ یعنی ایک سال پہلے بدر میں جنگ ہوئی تھی‘ اب اُحد میں میدان لگا ۔ اس کے بعد اگلے سال ہمارے اور تمہارے درمیان تیسرا مقابلہ پھر بدر میں ہوگا۔ چنانچہ اگلے سال رسول اللہﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے کر بدر تک گئے۔ یہ مہم ’’بدرِصغریٰ‘‘ کہلاتی ہے۔ ادھر سے ابوسفیان بھی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ مکہ سے نکلا۔ اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے اہل ایمان میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی کہ لوگو! کیا کر رہے ہو؟ قریش تو بہت بڑا لشکر لے کر آ رہے ہیں‘تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکو گے! بہرحال اس پروپیگنڈا کے جواب میں مسلمانوں نے صبر و توکل کا مظاہرہ کیا اور وہ کلمات کہے جو آگےآیت ۱۷۳میں) آ رہے ہیں ۔ تو یہ آیات مذکورہ دونوں واقعات پر منطبق ہو سکتی ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے