یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا
’’اے اہل ایمان! تم اُن لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جنہوں نے کفر کیا‘‘
وَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ کَانُوۡا غُزًّی لَّوۡ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَ مَا قُتِلُوۡا ۚ
’’اور جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں جبکہ وہ زمین میں سفر پر نکلے ہوئے تھے یا کسی جہاد میں شریک تھے (اور وہاں ان کا انتقال ہو گیا) کہا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔‘‘
ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر شخص کی موت کا وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے معین ہے۔ لہٰذا وہ اگر ان کی گود میں بھی بیٹھے ہوتے تب بھی موت انہیں آ لیتی۔ موت تو بہت مضبوط پہرے والے قلعوں میں بھی پہنچ جاتی ہے۔ تو انہیں اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یہ تو کافروں کے انداز کی باتیں ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے اور جنگ میں نہ جاتے تو بچ جاتے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((فَاِنَّ لَـوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ))۱’’کاش کا لفظ شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتاہے‘‘۔یعنی یہ کہنا کہ کاش ایسے ہو جاتا تو یوں ہو جاتا‘اس کلمہ ہی سے شیطان کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ جو ہوا اس لیے ہواکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا ہونا منظور تھا‘ اس کی حکمتیں اسے معلوم ہیں‘ ہم اس کی حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتے۔
لِیَجۡعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسۡرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ
’’(یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آتی ہے) تاکہ اللہ اس کو اُن کے دلوں میں حسرت کا باعث بنا دے۔‘‘
اس قسم کی باتوں سے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں حسرت کی آگ جلا دیتا ہے۔ یہ بھی گویا ان کے کفر کی سزاہے۔
وَ اللّٰہُ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ
’’اور دیکھو اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتاہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾
’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب القدر‘ باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز والاستعانۃ باللّٰہ۔ عن ابی ھریرۃ رضي الله عنه۔