سورۃ البقرۃ کے ابتدائی اٹھارہ رکوعوں میں روئے سخن مجموعی طور پر سابقہ اُمتِ مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کی جانب ہے۔ ابتدائی چار رکوع اگرچہ عمومی نوعیت کے حامل ہیں‘ لیکن ان میں بھی یہود کی طرف روئے سخن کے اشارے موجود ہیں۔ چوتھے رکوع کے آغاز سے پندرہویں رکوع کی ابتدائی دو آیات تک‘ ان دس رکوعوں میں ساری گفتگو صراحت کے ساتھ بنی اسرائیل ہی سے ہے‘ اِلّا یہ کہ ایک جگہ اہلِ ایمان سے خطاب کیا گیا اور کچھ مشرکینِ مکہ کا بھی تعریض کے اسلوب میں تذکرہ ہو گیا۔
اس کے بعد اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکی نسل سے بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل دوشاخیں ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہ سے اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے‘ جو بڑے تھے‘ جبکہ دوسری بیوی حضرت سارہ سے اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ان کے بیٹے یعقوب علیہ السلام تھے‘ جن کا لقب اسرائیل تھا۔ ان کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے۔ حضرت اسماعیل ؑ کوحضرت ابراہیم ؑ نے خانہ کعبہ کے پاس‘ وادیٔ غیر ذی زرع میں آباد کیا تھا‘ جن سے ایک نسل بنی اسماعیل چلی۔حضرت ابراہیم ؑ کے بعد نبوت حضرت اسماعیل ؑ کو تو ملی‘ لیکن اُس کے بعد تقریباً تین ہزار سال کا فصل ہے کہ اس شاخ میں کوئی نبوت نہیں آئی۔ نبوت کا سلسلہ دوسری شاخ میں چلا۔ حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب اور ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہم السلام سب نبی تھے۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام تک چودہ سو برس مسلسل ایسے ہیں کہ بنی اسرائیل میں نبوت کا تار ٹوٹا ہی نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ایک تیسری شاخ بنی قطورہ بھی تھی۔ یہ آپؑ کی تیسری اہلیہ قطورہ سے تھی۔ ان ہی میں سے بنی مدین (یا بنی مدیان) تھے‘ جن میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت ہوئی تھی۔ اس طرح حضرت شعیبؑ بھی حضرت ابراہیم ؑ کی نسل میں سے ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا گیا‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد بنی اسماعیل میں نبوت کا سلسلہ منقطع رہا۔ یہاں تک کہ تقریباً تین ہزار سال بعد محمد عربیﷺ کی بعثت ہوئی۔ آپؐ کی بعثت کے بعد امامت الناس سابقہ اُمتِ مسلمہ (بنی اسرائیل) سے موجودہ اُمتِ مسلمہ (اُمتِ محمد علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام) کو منتقل ہو گئی۔ اس انتقالِ امامت کے وقت بنی اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے ان کے اور بنی اسماعیل کے مابین قدر مشترک کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے لیے بات کا سمجھنا آسان ہو جائے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے جدامجد بھی ابراہیم علیہ السلام ہی تھے اور یہ دوسری نسل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی کی ہے۔ اس حوالے سے یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اور اب اسے اہل توحید کا مرکز بنایا جا رہا ہے‘چنانچہ پندرہویں رکوع سے اٹھارہویں رکوع تک یہ ساری گفتگو جو ہو رہی ہے اس کا اصل مضمون ’’تحویلِ قبلہ‘‘ ہے۔
’’اور ذرا یاد کرو جب ابراہیم ؑ کو آزمایا اُس کے رب نے بہت سی باتوں میں تواس نے ان سب کو پورا کردکھایا۔‘‘
’’عید الاضحی اور فلسفۂ قربانی‘‘ کے عنوان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت پر میرا ایک کتابچہ ہے جو میری ایک تقریر اور ایک تحریر پر مشتمل ہے۔ تحریر کا عنوان ہے : ’’حج اور عید الاضحی اور اُن کی اصل روح‘‘۔ اپنی یہ تحریر مجھے بہت پسند ہے۔ اس میں مَیں نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتحانات اور آزمائشوں کا ذکر کیا ہے۔ آپؑ کے طویل سفر حیات کا خلاصہ اور لب لباب ہی ’’امتحان و آزمائش‘‘ ہے‘ جس کے لیے قرآن کی اصطلاح ’’ابتلائ‘‘ ہے۔ اس آیت مبارکہ میں ان کی پوری داستانِ ابتلا کو چند الفاظ میں سمو دیا گیا ہے‘ اور ’’فَاَتَمَّہُنَّ‘‘ کا لفظ ان تمام امتحانات کا نتیجہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ ان سب میں پورا اُترے‘ ان سب میں پاس ہو گئے‘ ہر امتحان میں نمایاں حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔
قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ
’’تب فرمایا: (اے ابراہیم ؑ!) اب میں تمہیں نوعِ انسانی کا امام بنانے والا ہوں!‘‘
قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ
’’انہوں نے کہا : اور میری اولاد میں سے بھی!‘‘
یعنی میری نسل کے بارے میں بھی یہ وعدہ ہے یا نہیں؟
قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾
’’فرمایا: میرا یہ عہد ظالموں سے متعلق نہیں ہو گا۔‘‘
یعنی تمہاری نسل میں سے جو صاحب ایمان ہوں گے ‘ نیک ہوں گے‘ سیدھے راستے پر چلیں گے‘ اُن سے متعلق ہمارا یہ وعدہ ہے۔ لیکن یہ عہد نسلیت کی بنیاد پر نہیں ہے کہ جو بھی تمہاری نسل سے ہو وہ اس کا مصداق بن جائے۔
’’اور (ہم نے حکم دیا کہ) مقامِ ابراہیم ؑ کو اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔‘‘
دورِجدید کے بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مقامِ ابراہیم ؑ سے مراد کوئی خاص پتھر نہیں ہے‘ بلکہ اصل میں وہ پوری جگہ ہی ’’مقامِ ابراہیم ‘‘ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام آباد ہوئے تھے۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہمارے سلف سے چلی آ رہی ہے اور اس کے بارے میں پختہ روایات ہیں کہ جس طرح حجر اسود جنت سے آیا تھا ایسے ہی یہ بھی ایک پتھر تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جنت سے لایا گیا تھا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران آپؑ اس پر کھڑے ہوتے تھے اور جیسے جیسے تعمیر اُوپر جا رہی تھی اُس کے لیے یہ پتھر خود بخود اُونچا ہوتا جاتا تھا۔ اس پتھر پر آپؑ کے قدموں کا نشان ہے۔ یہی پتھر ’’مقامِ ابراہیم ‘‘ ہے جو اَب بھی محفوظ ہے۔ بیت اللہ کا طواف مکمل کر کے اس کے قریب دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے۔
’’اور ہم نے حکم کیا تھا ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو کہ تم دونوں میرے اس گھر کو پاک رکھو طواف کرنے والوں‘ اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔‘‘
اس سے دونوں طرح کی تطہیر مراد ہے۔ ظاہری صفائی بھی ہو‘ گندگی نہ ہو‘ تاکہ زائرین آئیں تو ان کے دلوں میں کدورت پیدا نہ ہو‘ انہیں کوفت نہ ہو۔ اور تطہیرِ باطنی کا بھی اہتمام ہو کہ وہاں توحید کا چرچا ہو‘ کسی طرح کا کوئی کفر و شرک در نہ آنے پائے۔
’’اور یہاں آباد ہونے والوں (یعنی بنی اسماعیل ؑ) کو پھلوں کا رزق عطا کر‘ جو کوئی ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور یوم آخر پر۔‘‘
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود ہی احتیاط برتی اور اپنی ساری اولاد کے لیے یہ دعا نہیں کی‘ بلکہ صرف ان کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ پہلی دعا میں ’’وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ‘‘ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا: {لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾} لیکن یہاں معاملہ مختلف نظر آتا ہے۔
قَالَ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا
’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اور (تمہاری اولاد میں سے) جو کفر کرے گا تو اُس کو بھی میں دُنیاکی چند روزہ زندگی کا ساز و سامان تو دوں گا‘‘
جو لوگ ایمان سے محروم ہوں گے انہیں میں امامت میں شامل نہیں کروں گا‘ لیکن بہرحال دُنیوی زندگی کا مال و متاع تو میں اُن کو بھی دوں گا۔
ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ
’’پھر اُسے کشاں کشاں لے آؤں گا جہنم کے عذاب کی طرف۔‘‘
’’اور یاد کرو جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ ہمارے گھر کی بنیادوں کو اٹھا رہے تھے۔‘‘
باپ بیٹا دونوں بیت اللہ کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے۔ یہاں لفظ ’’قَوَاعِدَ‘‘ جو آیا ہے اسے نوٹ کیجیے‘یہ ’’قاعدہ‘‘ کی جمع ہے اور بنیادوں کو کہا جاتا ہے ۔اس لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کے اصل معمار اور بانی نہیں ہیں۔کعبہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ سورۂ آل عمران (آیت ۹۶) میں الفاظ آئے ہیں: {اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ} ’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا یہی ہے جو مکہ میں ہے‘‘۔اب یہ کیسے ممکن تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام تک‘ کم و بیش چار ہزار برس کے دوران‘ روئے ارضی پر کوئی مسجد تعمیر نہ ہوئی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا سب سے پہلا گھر یہی کعبہ تھا۔ امتدادِ زمانہ سے اس کی صرف بنیادیں باقی رہ گئی تھیں‘ اور چونکہ یہ وادی میں واقع تھا جو سیلاب کا راستہ تھا‘ لہٰذا سیلاب کی وجہ سے اس کی سب دیواریں بہہ گئی تھیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام نے ان بنیادوں کو پھر سے اٹھایا۔ سورۃ الحج میں یہ مضمون تفصیل سے آیا ہے۔
جب وہ ان بنیادوں کو اٹھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے تھے :
رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ
’’اے ہمارے ربّ! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے۔‘‘
ہماری اس کوشش اور ہماری اس محنت و مشقت کو قبول فرما! جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کر رہے تھے اُس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر لگ بھگ تیرہ برس تھی‘ آپؑ اس کام میں اپنے والد محترم کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔
اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۲۷﴾
’’یقینا تو سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
آیت 128
رَبَّنَا وَ اجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَکَ
’’اور اے ہمارے رب! ہمیں اپنا مطیع فرمان بنائے رکھ‘‘ نوٹ کیجیے ‘ یہ دعا ابراہیم علیہ السلام کر رہے ہیں ۔تو میں اور آپ اگر اپنے بارے میں مطمئن ہو جائیں کہ میری موت لازماً حق پر ہو گی‘ اسلام پر ہو گی تو یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ چنانچہ ڈرتے رہنا چاہیے اور اللہ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہیے۔
’’اور ہم دونوں کی نسل سے ایک اُمت اٹھائیو جو تیری فرماں بردار ہو۔‘‘
وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا
’’اور ہمیں حج کرنے کے قاعدے بتلا دے‘‘
اے پروردگار! تیرا یہ گھر تو ہم نے بنا دیا‘ اب اس کی زیارت سے متعلق جو رسومات ہیں‘ جو مناسکِ حج ہیں وہ ہمیں سکھا دے۔
وَ تُبۡ عَلَیۡنَا ۚ
’’اور ہم پر اپنی توجہ فرما‘‘۔ ہم پر اپنی شفقت کی نظر فرما۔
اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۲۸﴾
’’یقینا تو ہی ہے بہت زیادہ توبہ کا قبول فرمانے والا (اور شفقت کے ساتھ رجوع کرنے والا) اور رحم فرمانے والا۔‘‘
آیت 129
رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ
’’اور اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں میں اٹھائیو ایک رسول خود انہی میں سے‘‘
فِیْہِمْ سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی نسل یعنی بنی اسماعیل مرادہے۔ وہ دونوں دعا کر رہے تھے کہ پروردگار! ہماری اس نسل میں ایک رسول مبعوث فرما نا جو انہی میں سے ہو‘ باہر کا نہ ہو‘ تاکہ ان کے اور اس کے درمیان مغائرت اور اجنبیت کا کوئی پردہ حائل نہ ہو۔
یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ
’’جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے‘‘
وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ
’’اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے‘‘
کتاب کا صرف پڑھ کر سنا دینا تو بہت آسان کام ہے۔ اس کے بعد کتاب اور اس میں موجود حکمت کی تعلیم دینا اور اسے دلوں میں بٹھانا اہم ترہے۔
وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ
’’اور ان کو پاک کرے۔‘‘
اُن کا تزکیہ کر ے اور اُن کے دلوں میں تیری محبت اور آخرت کی طلب کے سوا کوئی طلب باقی نہ رہنے دے۔