’’اور کون ہو گا جو ابراہیم ؑ کے طریقے سے منہ موڑے؟‘‘
رغبت کا لفظ عربی زبان میں دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ ’’رَغِبَ اِلٰی‘‘ کا مفہوم ہے کسی شے کی طرف رغبت ہونا‘ محبت ہونا‘ میلان ہونا‘ جبکہ ’’رَغِبَ عَنْ‘‘ کا مطلب ہے کسی شے سے متنفر ہونا‘ کسی شے سے اِباء کرنا ‘اس کو چھوڑ دینا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : حدیث((فَمَنْ رَّغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ))۱۵’’پس جسے میری سنت ناپسند ہو تو وہ مجھ سے نہیں ہے۔‘‘
اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفۡسَہٗ ؕ
’’سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو حماقت ہی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو!‘‘
اس کے سوا او ر کون ہو گا جو ابراہیم علیہ السلام کے طریقے سے منہ موڑے؟
وَ لَقَدِ اصۡطَفَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا ۚ
’’اور ہم نے تو انہیں دنیا میں بھی منتخب کر لیاتھا۔‘‘
’’جب بھی کہا اُس سے اُس کے پروردگار نے کہ مطیع فرمان ہو جاتو اُس نے کہا میں مطیع فرمان ہوں تمام جہانوں کے پروردگار کا۔‘‘
یہاں تک کہ اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم آیا تو اس پر بھی سرِتسلیم خم کر دیا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلۂ امتحانات کا آخری امتحان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کا سو برس کی عمر میں لیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ مانگ کر ستاسی برس کی عمر میں بیٹا (اسماعیل ؑ) لیا تھا اور اب وہ تیرہ برس کا ہو چکا تھا ‘ باپ کا دست و بازو بن گیا تھا۔اُس وقت اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا تو آپؑ فوراً تیار ہو گئے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ جب بھی ہم نے ابراہیم ؑ سے کہا کہ ہمارا حکم مانو تو اُسے حکم برداری کے لیے سراپا تیار پایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس طرزِ عمل کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
دیکھنا تمہیں موت نہ آنے پائے‘ مگر فرماں برداری کی حالت میں! یہی بات سورۂ آلِ عمران میں مسلمانوں سے خطاب کر کے فرمائی گئی: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾} ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اُس کے تقویٰ کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے‘ مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ اور فرمایا: {اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟} (آیت ۱۹) ’’یقینا دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے‘‘۔ مزید فرمایا: {وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ} (آیت ۸۵) ’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے تو اس سے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔‘‘
’’کیا تم اُس وقت موجود تھے جب آدھمکی یعقوب پر موت‘‘
یعنی جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا۔اُس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے سب بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے ذریعے مصر میں پہنچ چکے تھے۔ یہ سارا واقعہ سورئہ یوسف میں بیان ہوا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا انتقال مصر میں ہوا۔ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے اپنے بارہ کے بارہ بیٹوں کو جمع کیا۔
’’جب کہا اپنے بیٹوں سے کہ تم کس کی عبادت کرو گے میرے بعد؟‘‘
کس کی پوجا کرو گے؟ کس کی پرستش کروگے؟ یہ بات نہیں تھی کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ انہیں کس کی عبادت کرنی ہے‘ بلکہ آپؑ نے قول و قرار کو مزید پختہ کرنے کے لیے یہ انداز اختیار فرمایا۔
’’تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے‘‘۔تم سے تو یہی پوچھا جائے گا کہ تم کیا کر کے لائے ہو؟ تمہارا باپ سلطان ہو گا‘ لیکن تم اپنی بات کرو کہ تم کیا ہو؟
اس پس منظر میں اب یہود کی خباثت کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی وصیت تو یہ تھی‘ مگر اس وقت کے یہود و نصاریٰ کا کیا رویہ ہے۔ انہوں نے اللہ کے رسولﷺ کے خلاف متحدہ محاذ بنا رکھا ہے۔
’’اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف‘‘
وَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰی
’’اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ کو‘‘
وَ مَاۤ اُوۡتِیَ النَّبِیُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۚ
’’اور جو کچھ دیا گیا تمام نبیوں کو ان کے ربّ کی طرف سے۔ ‘‘
لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ ۫ۖ
’’ہم اُن میں سے کسی کے مابین تفریق نہیں کرتے۔‘‘
ہم سب کو مانتے ہیں ‘ کسی کا انکار نہیں کرتے۔ ایک بات سمجھ لیجیے کہ ایک ہے ’’تفضیل‘‘ یعنی کسی ایک کو دوسرے سے زیادہ افضل سمجھنا‘ یہ اور بات ہے‘ اس کی نفی نہیں ہے۔ سورۃ البقرۃ ہی میں الفاظ آئے ہیں: {تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ} (آیت ۲۵۳) ’’یہ سب رسول فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر‘‘۔جبکہ تفریق یہ ہے کہ ایک کو مانا جائے اور ایک کا انکار کر دیا جائے۔ اور رسولوں میں سے کسی ایک کا انکار گویا سب کاانکار ہے۔
وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾
’’اور ہم اُسی کے مطیع فرمان ہیں۔‘‘
ہم نے تو اُسی کی فرماں برداری کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیا ہے۔
آیت 137
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ
’’پھر (اے مسلمانو!) اگر وہ (یہودو نصاریٰ) بھی اُسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو‘‘
یعنی وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی روش ترک کر دیں اور ٹھیک ٹھیک وہی دین اور وہی راستہ اختیار کریں جو محمدرسول اللہﷺ کے ذریعہ سے تمہیں دیا گیا ہے۔
فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ
’’تب وہ ہدایت پر ہوں گے۔‘‘
وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا
’’اور اگر وہ پیٹھ موڑ لیں‘‘
فَاِنَّمَا ہُمۡ فِیۡ شِقَاقٍ ۚ
’’تو پھر وہی ہیں ضد پر۔‘‘
اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہٹ دھرمی اور ضدم ضدا میں مبتلاہوچکے ہیں اور دشمنی اور مخالفت پر اَڑے ہوئے ہیں۔
فَسَیَکۡفِیۡکَہُمُ اللّٰہُ ۚ
’’تو (اے نبیﷺ!) آپ کے لیے ان کے مقابلے میں اللہ کافی ہے۔‘‘
آپ فکر نہ کریں‘ آپؐ مداہنت (compromise) کی کسی دعوت کی طرف توجہ ہی نہ کریں‘ کچھ دو کچھ لو کا معاملہ آپ بالکل بھی نہ سوچیں۔ آپ ان کی مخالفتوں سے مرعوب نہ ہوں اور ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر نہ لیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی حمایت کے لیے ان سب کے مقابلے میں کافی رہے گا۔
وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ؕ۱۳۷﴾
’’اور وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
ایسا نہیں ہے کہ اُسے معلوم نہ ہو کہ آپؐ اس وقت کن حالات میں ہیں ‘ کیسی مشکلات میں ہیں‘ کس طرح کی نازک صورت حال ہے جو دن بدن شکل بدل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے حالات میں آپ کا محافظ اور مددگار ہے۔
[حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت قرآن حکیم کے جس نسخے پر تلاوت فرما رہے تھے اُس میں ان الفاظ پر خون کا دھبہّ آج بھی موجود ہے۔ باغیوں نے آپؓ‘ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کیا تھا۔ آپؓ کی زوجہ محترمہ نائلہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بچانا چاہا تو اُن کی انگلیاں کٹ گئیں اور خون ان الفاظ پر پڑا۔]
آیت 138
صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ
’’ہم نے تو اختیار کر لیا ہے اللہ کے رنگ کو۔‘‘
’’مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ‘‘ کی طرح ’’صِبْغَۃَ اللّٰہِ‘‘ میں بھی مضاف کی نصب بتا رہی ہے کہ یہ مرکب اضافی مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے۔
وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً ۫
’’اور اللہ کے رنگ سے بہتر اورکس کا رنگ ہوگا؟‘‘
وَّ نَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾
’’اور ہم تو بس اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ‘ہیں۔‘‘
آیت 139
قُلۡ اَتُحَآجُّوۡنَنَا فِی اللّٰہِ
’’(اے نبیﷺ اِن سے) کہیے کیا تم ہم سے جھگڑ رہے ہو (دلیل بازی کر رہے ہو) اللہ کے بارے میں؟‘‘
وَ ہُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ۚ
’’حالانکہ وہی ہمارا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔‘‘
ربّ بھی ایک ہے اور اس کا دین بھی ایک ہے‘ہاں شریعتوں میں فرق ضرور ہوا ہے ۔
وَ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ۚ
’’اور ہمارے لیے ہوں گے ہمارے عمل اور تمہارے لیے ہوں گے تمہارے عمل۔‘‘
وَ نَحۡنُ لَہٗ مُخۡلِصُوۡنَ ﴿ۙ۱۳۹﴾
’’اور ہم تو خالص اسی کے ہیں۔‘‘
ہم اُس کے لیے اپنے آپ کو اور اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں۔
یہاں پے در پے آنے والے تین الفاظ کو نوٹ کیجیے۔ یہ مقام میرے اور آپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آیت۱۳۶ ان الفاظ پر ختم ہوئی تھی: {وَ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۳۶﴾} ’’ہم اُسی کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہیں‘‘۔ ان میں تو ہم بھی شامل ہیں۔اس کے بعد آیت ۱۳۸ کے اختتام پر یہ الفاظ آئے: {وَّ نَحۡنُ لَہٗ عٰبِدُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾} ’’اور ہم اس ہی کی بندگی کرتے ہیں‘‘۔ صرف اسلام نہیں‘ عبادت یعنی پوری زندگی میں اُس کے ہر حکم کی پیروی اور اطاعت درکار ہے۔اس سے آگے یہ بات آئی : {وَ نَحۡنُ لَہٗ مُخۡلِصُوۡنَ ﴿ۙ۱۳۹﴾} یہ عبادت اگر اخلاص کے ساتھ نہیں ہے تو منافقت ہے۔ اس عبادت سے کوئی دُنیوی منفعت پیش نظر نہ ہو۔ ؏
’’سوداگری نہیں‘ یہ عبادت خدا کی ہے!‘‘
دین کو دنیا بنانے اور دنیا کمانے کا ذریعہ بنانے سے بڑھ کر گری ہوئی حرکت اور کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے :حدیث((مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ)) (مسند احمد) ’’جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا ‘ جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا‘ اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ و خیرات کیا اس نے شرک کیا۔‘‘
ان تینوں الفاظ کو حرزِ جان بنا لیجیے : نَحْنُ لَـہٗ مُسْلِمُوْنَ‘ نَحْنُ لَـہٗ عٰبِدُوْنَ‘ نَحْنُ لَـہٗ مُخْلِصُوْنَ -- اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ!!
’’کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم ‘ اسماعیل اسحاق‘ اور یعقوب اور ان کی اولاد سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟‘‘
تم جو کہتے ہو کہ یہودی ہو جائو یا نصرانی تب ہدایت پاؤ گے‘ تو کیا ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے یا نصرانی؟ اور اسحاق‘ یعقوب‘ یوسف ‘ موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام کون تھے؟ یہی بات آج مسلمانوں کو سوچنی چاہیے کہ محمد رسول اللہﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ دیوبندی تھے‘ بریلوی تھے‘ اہل حدیث تھے یا شیعہ تھے؟اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ ان تقسیموں سے بالاتر رہا جائے۔ ٹھیک ہے ایک شخص کسی فقہی مسلک کی پیروی کر رہا ہے‘ لیکن اس مسلک کو اپنی شناخت بنا لینا‘ اسے دین پر مقدم رکھنا‘ اس مسلک ہی کے لیے ہے ساری محنت و مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا‘ اور اُسی کی دعوت و تبلیغ کرنا‘ دین کی اصل حقیقت اور روح کے یکسر خلاف ہے۔