قبل ازیں منافقین بنی اسرائیل کا ذکر ہوا تھا ‘ جن کا قول تھا : ’’سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا‘‘ ۔ اب یہاں اُن منافقین کا طرزِ عمل بیان ہو رہا ہے جو مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے اور یہود کے زیر اثر تھے۔ یہودی اور ان کے زیر اثر منافقین جب رسول اللہﷺ کی محفل میں بیٹھتے تھے تو اگر آپؐ ‘کی کوئی بات انہیں سنائی نہ دیتی یا سمجھ میں نہ آتی تو وہ رَاعِنَا کہتے تھے‘جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور(ﷺ!) ذرا ہماری رعایت کیجیے‘ بات کو دوبارہ دہرا دیجیے‘ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔اہلِ ایمان بھی یہ لفظ استعمال کرنے لگے تھے۔ لیکن یہود اور منافقین اپنے خبثِ باطن کا اظہار اس طرح کرتے کہ اس لفظ کو زبان دباکر کہتے تو ’’رَاعِیْنَا‘‘ ہو جاتا (یعنی اے ہمارے چرواہے!) اس پر دل ہی دل میں خوش ہوتے اور اس طرح اپنی خباثتِ نفس کو غذا مہیا کرتے۔ اگر کوئی ان کو ٹوک دیتا کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو تو جواب میں کہتے ہم نے تو رَاعِنَا کہا تھا‘معلوم ہوتا ہے آپ کی سماعت میں کوئی خلل پیدا ہو چکا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم اس لفظ ہی کو چھوڑ دو‘ اس کی جگہ کہا کرو: اُنْظُرْنَا۔ یعنی اے نبیؐ ہماری طرف توجہ فرمایئے! یا ہمیں مہلت دیجیے کہ ہم بات کو سمجھ لیں۔ اور دوسرے یہ کہ توجہ سے بات کو سنا کرو تاکہ دوبارہ پوچھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔
’’اور نہیں چاہتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے کہ نازل ہو تم پر کوئی بھی خیر تمہارے ربّ کی طرف سے۔‘‘
جن لوگوں نے دعوتِ حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ‘ خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکینِ مکہ میں سے‘ وہ اس بات پر حسد کی آگ میں جل رہے ہیں کہ یہ کلامِ پاک آپؐ پر کیوں نازل ہو گیا اور’’خاتم النبییّن‘‘ کا یہ منصب آپؐ‘ کو کیوں مل گیا۔ وہ نہیں چاہتے کہ اللہ کی طرف سے کوئی بھی خیر آپ کوملے۔
وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’اور اللہ خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہتا ہے۔‘‘
یہ تو اس کا اختیار اور اس کا فیصلہ ہے۔
وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۰۵﴾
’’اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔‘‘
آیت 106
مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا
’’جو بھی ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا اسے بھلا دیتے ہیں‘‘
ایک تو ہے نسخ یعنی کسی آیت کو منسوخ کر دینا اور ایک ہے حافظے سے ہی کسی شے کو محوکردینا۔
نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ
’’تو ہم (اُس کی جگہ پر) لے آتے ہیں اُس سے بہتر یا (کم از کم) ویسی ہی۔‘‘
’’کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے؟‘‘ اسے ہر شے کا اختیار حاصل ہے۔
اس آیت کا اصل مفہوم اور پس منظر سمجھ لیجیے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ کا دین آدم علیہ السلام سے لے کر ایں دم تک ایک ہی ہے۔ نوح علیہ السلام کا دین‘ موسیٰ علیہ السلام کا دین‘ عیسیٰ علیہ السلام کا دین اور محمدرسول اللہﷺ کا دین ایک ہی ہے ‘جبکہ شریعتوں میں فرق رہا ہے۔ اس فرق کا اصل سبب یہ ہے کہ نوعِ انسانی مختلف اعتبارات سے ارتقاء کے مراحل طے کر رہی تھی۔ذہنی پختگی‘ شعور کی پختگی اور پھر تمدنی ارتقاء (social evolution) مسلسل جاری تھا۔ لہٰذا اُس ارتقاء کے جس مرحلے میں رسول آئے اسی کی مناسبت سے ان کو تعلیمات دے دی گئیں۔ ان تعلیمات کے کچھ حصے ایسے تھے جو ابدی (eternal) ہیں‘ وہ ہمیشہ رہیں گے‘ جبکہ کچھ حصے زمانے کی مناسبت سے تھے۔ چنانچہ جب اگلا رسول آتا تو اُن میں سے کچھ چیزوں میں تغیر و تبدل ہو جاتا‘ کچھ چیزیں نئی آ جاتیں اور کچھ پرانی ساقط ہو جاتیں۔ یہ معاملہ نسخ کہلاتا ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ تعین کے ساتھ کسی حکم کو منسوخ فرما دیتے ہیں اور اس کی جگہ نیا حکم بھیج دیتے ہیں‘ یا کسی شے کو سرے سے لوگوں کے ذہنوں سے خارج کر دیتے ہیں۔ یہودی یہ اعتراض کر رہے تھے کہ اگر یہ دین وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کا تھا تو پھر شریعت پوری وہی ہونی چاہیے۔یہاں اس اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔
پھر ناسخ و منسوخ کا مسئلہ قرآن میں بھی ہے۔ قرآن میں بھی تدریج کے ساتھ شریعت کی تکمیل ہوئی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا‘ شریعت کا ابتدائی خاکہ (blue print) سورۃ البقرۃ میں مل جاتا ہے‘ لیکن شریعت کی تکمیل سورۃ المائدۃ میں ہوئی ہے۔ یہ جو تقریباً پانچ چھ سال کا عرصہ ہے اس میں کچھ احکام دیے گئے‘ پھر اُن میں ردّ و بدل کر کے نئے احکام دیے گئے اور پھر آخر میں یہ ارشاد فرمادیا گیا: {اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ} (المائدۃ:۳) ’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا ہے‘‘۔تو یہ ناسخ و منسوخ کا مسئلہ صرف سابقہ شریعتوں اور شریعتِ محمدیؐ کے مابین ہی نہیں ہے‘ بلکہ خود شریعتِ محمدی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں بھی زمانی اعتبار سے ارتقاء ہوا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے شراب کے بارے میں حکم دیا گیا کہ اس میں گناہ کا پہلو زیادہ ہے‘ اگرچہ کچھ فائدے بھی ہیں۔ اس کے بعد حکم آیا کہ اگر شراب کے نشے میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ۔ پھر سورۃ المائدۃ میں آخری حکم آ گیا اور اسے گندا شیطانی کام قرار دے کر فرمایا گیا: {فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾} ’’تو کیا اب بھی باز آتے ہویا نہیں؟‘‘ اس طرح تدریجاً احکام آئے اور آخری حکم میں شراب حرام کر دی گئی۔ یہاں فرمایا کہ اگر ہم کسی حکم کو منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اُس سے بہتر لے آتے ہیں یا کم از کم اُس جیسا دوسرا حکم لے آتے ہیں ۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے‘ اُس کا اختیار کامل ہے‘ وہ مالک الملک ہے‘ دین اُس کا ہے‘ اس میں وہ جس طرح چاہے تبدیلی کر سکتا ہے۔
’’کیا تم مسلمان بھی یہ چاہتے ہو کہ سوالات (اور مطالبے) کرو اپنے رسولؐ سے اُسی طرح جیسے اس سے پہلے موسٰی ؑ سے کیے جا چکے ہیں؟‘‘
مثلاً اُن سے کہا گیا کہ ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے جب تک کہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں۔ اسی طرح کے اور بہت سے مطالبے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیے جاتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اُس روش سے باز رہو‘ ایسی بات تمہارے اندر پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
’’اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر لے لے گا وہ تو بھٹک چکا سیدھی راہ سے۔‘‘
ظاہر ہے کہ جو منافقین اہلِ ایمان کی صفوں میں شامل تھے وہی ایسی حرکتیں کر رہے ہوں گے۔ اس لیے فرمایا کہ جو کوئی ایمان کو ہاتھ سے دے کر کفر کو اختیار کر لے گا وہ تو راہِ راست سے بھٹک گیا۔ منافق کا معاملہ دو طرفہ ہوتا ہے ‘ چنانچہ قرآن حکیم میں منافقین کے لیے ’’مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اب اس کا بھی امکان ہوتا ہے کہ وہ کفر کی طرف یکسو ہو جائے اور اس کا بھی امکان ہوتا ہے کہ بالآخرایمان کی طرف یکسو ہو جائے۔ جو شخص ایمان اور کفر کے درمیان معلق ہے اُس کے لیے یہ دونوں امکانات ہیں۔ جو کفر کی طرف جا کر مستقل طور پر اُدھر راغب ہو گیا یہاں اس کا ذکر ہے۔
’’اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں پھیر کر تمہارے ایمان کے بعد تمہیں پھر کافر بنادیں۔‘‘
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی بلی کی دُم کٹ جائے تو وہ یہ چاہے گی کہ ساری بلیوں کی دُمیں کٹ جائیں تاکہ وہ علیحدہ سے نمایاں نہ رہے۔ چنانچہ اہل کتاب یہ چاہتے تھے کہ اہل ایمان کو بھی واپس کفر میں لے آیا جائے۔
حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ
’’بسبب ان کے دلی حسد کے‘‘
ان کا یہ طرزِ عمل ان کے حسد کی وجہ سے ہے کہ یہ نعمت مسلمانوں کو کیوں دے دی گئی؟
مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ ۚ
’’اس کے بعد کہ اُن پر حق بالکل واضح ہوچکاہے۔‘‘
وہ حق کو جان چکے ہیں اور پہچان چکے ہیں‘ کسی مغالطے یا غلط فہمی میں نہیں ہیں۔
فَاعۡفُوۡا وَ اصۡفَحُوۡا
’’تو (اے مسلمانو!) تم معاف کرتے رہو اور صرفِ نظر سے کام لو‘‘
یہ بہت اہم مقام ہے۔ مسلمانوں کو باور کرایا جا رہا ہے کہ ابھی تو مدنی دَور کا آغاز ہو رہا ہے ‘ ابھی کشمکش‘ کشاکش اور مقابلہ و تصادم کے بڑے سخت مراحل آ رہے ہیں۔ چونکہ تمہارا سب سے پہلا محاذ کفارِ مکہ کے خلاف ہے اور وہی سب سے بڑھ کر تم پر حملے کریں گے اور ان سے تمہاری جنگیں ہوں گی‘ لہٰذا یہ جو آستین کے سانپ ہیں‘ یعنی یہود‘ ان کو ابھی مت چھیڑو۔ جب تک یہ خوابیدہ (dormant) پڑے رہیں انہیں پڑا رہنے دو۔ فی الحال ان کے طرزِ عمل کے بارے میں زیادہ توجہ نہ دو‘ بلکہ عفو ودرگزر اور چشم پوشی سے کام لیتے رہو۔
حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ
’’یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے۔‘‘
ایک وقت آئے گا جب اے مسلمانو تمہیں آخری غلبہ حاصل ہو جائے گا اور جب تم باہر کے دشمنوں سے نمٹ لو گے تو پھر اِن اندرونی دشمنوں کے خلاف بھی تمہیں آزادی دی جائے گی کہ ان کو بھی کیفرِ کردار تک پہنچادو۔
’’اور جو بھلائی بھی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے۔‘‘
جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کررہے ہو وہ اللہ کے بینک میں جمع (deposit) ہو جاتا ہے اور مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۰﴾
’’یقینا جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہاہے۔‘‘
’’اور یہ کہتے ہیں ہرگز داخل نہ ہو گا جنت میں مگر وہی جو یہودی ہو یا نصرانی ہو۔‘‘
جب یہ نئی اُمتِ مسلمہ تشکیل پا رہی تھی تو یہودی اور نصرانی‘ جو ایک دوسرے کے دشمن تھے‘ مسلمانوں کے مقابلے میں جمع ہو گئے۔ انہوں نے مل کر یہ کہنا شروع کیا کہ جنت میں کوئی ہرگز نہیں داخل ہو گا سوائے اس کے جو یا تو یہودی ہو یا نصرانی ہو۔ اس طرح کی مذہبی جتھے بندیاں ہمارے ہاں بھی بن جاتی ہیں۔ مثلاً اہل حدیث کے مقابلے میں بریلوی اور دیوبندی جمع ہو جائیں گے‘ اگرچہ اُن کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بیر اپنی جگہ ہے۔ جب ایک مشترکہ دشمن نظرآتا ہے تو پھر وہ لوگ جن کے اپنے اندر بڑے اختلافات ہوتے ہیں وہ بھی ایک متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کے اس مشترکہ بیان کے جواب میں فرمایا:
تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ
’’یہ ان کی تمنائیں ہیں۔‘‘
یہ ان کی خواہشات ہیں‘ من گھڑت خیالات ہیں‘ خوش نما آرزوئیں (wishful thinkings) ہیں۔
’’اُن سے کہو اپنی دلیل پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔‘‘
کسی آسمانی کتاب سے دلیل لائو۔ کہیں تورات میں لکھا ہو یا انجیل میں لکھا ہو تو ہمیں دکھا دو! اب یہاں پر پھر ایک عالمگیر صداقت (universal truth) بیان ہو رہی ہے:
’’کیوں نہیں‘ ہر وہ شخص جو اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ محسن ہو‘‘
اس کا سر تسلیم خم کر دینے کا رویہ صدق و سچائی اور حسن کردار پر مبنی ہو۔ سر کا جھکانا منافقانہ انداز میں نہ ہو‘ اس کی اطاعت جزوی نہ ہوکہ کچھ مانا کچھ نہیں مانا۔
فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪
’’تو اُس کے لیے اُس کا اجر محفوظ ہے اُس کے ربّ کے پاس۔‘‘
’’اور ایسے لوگوں کو نہ تو کوئی خوف لاحق ہو گا اور نہ ہی وہ کسی حزن و ملال سے دوچا رہوں گے۔‘‘
یہ دوسری آیت ہے کہ جس سے کچھ لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ نجاتِ اُخروی کے‘لیے ایمان بالرسالت ضروری نہیں ہے۔ اس کا جواب پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ مختصراًیہ کہ :
اوّلًا : قرآن حکیم میں ہر مقام پر ساری چیزیں بیان نہیں کی جاتیں۔ کوئی شے ایک جگہ بیان کی گئی ہے تو کوئی کہیں دوسری جگہ بیان کی گئی ہے۔ اس سے ہدایت حاصل کرنی ہے تو اس کو پورے کا پورا ایک کتاب کی حیثیت سے لینا ہو گا۔
ثانیاً: یہ سارا سلسلۂ کلام دو بریکٹوں کے درمیان آ رہا ہے اور اس سے پہلے یہ الفاظ واضح طو رپر آ چکے ہیں : {وَ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪} چنانچہ یہ عبارت ضرب کھا رہی ہے اس پورے کے پورے سلسلۂ مضامین سے جو اِن دو بریکٹوں کے درمیان آ رہاہے۔
’’اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں ہیں‘‘
اُن کی کوئی بنیاد نہیں ہے‘ یہ بے بنیاد لوگ ہیں‘ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ
’’حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں۔‘‘
عہد نامۂ قدیم (Old Testament) یہودیوں اور عیسائیوں میں مشترک ہے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے اور امریکہ میں جدید عیسائیت کی صورت میں ایک بہت بڑی طاقت جو اُبھر رہی ہے وہ عیسائیت کو یہودیت کے رنگ میں رنگ رہی ہے۔ رومن کیتھولک مذہب نے تو بائبل سے اپنارشتہ توڑ لیا تھا اور سارا اختیار پوپ کے ہاتھ میں آ گیا تھا‘ لیکن پروٹسٹنٹس (Protestants) نے پھر بائبل کو قبول کیا۔ اب اس کی منطقی انتہا یہ ہے کہ عہدٔ نامہ قدیم پر بھی ان کی توجہ ہو رہی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اسے بھی ہم اپنی کتاب مانتے ہیں اور اس میں جو کچھ لکھا ہے اسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔امریکہ میں ہم نے ایک سیمینار منعقد کیا تھا‘ جس میں ایک یہودی عالم نے کہا تھا کہ اس وقت اسرائیل کو سب سے بڑی نصرت و حمایت امریکہ کے اُن عیسائیوں سے مل رہی ہے جو Evengelists کہلاتے ہیں اور وہاں پر ایک بڑا فرقہ بن کر اُبھر رہے ہیں۔ بہرحال یہ اُن کا طرزِ عمل بیان ہوا ہے۔
’’پس اللہ تعالیٰ فیصلہ کر د ے گا ان کے مابین قیامت کے دن ان تمام باتوں کا جن میں یہ اختلاف کر رہے تھے۔‘‘
اب دیکھئے‘ اس سلسلۂ کلام کی بقیہ آیات میں بھی اگرچہ خطاب تو بنی اسرائیل ہی سے ہے‘ لیکن اب یہاں پر اہلِ مکہ سے کچھ تعریض شروع ہو گئی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ آئے گا ‘ پھر تحویلِ قبلہ کا ذکر آئے گا۔ بیت اللہ چونکہ اُس وقت مشرکین مکہ کے قبضے میں تھا‘ لہٰذا اس حوالے سے کچھ متعلقہ مضامین آ رہے ہیں اور تحویلِ قبلہ کی تمہید باندھی جا رہی ہے۔ ’’تحویلِ قبلہ‘‘ دراصل اس بات کی علامت تھی کہ اب وہ سابقہ اُمت مسلمہ معزول کی جا رہی ہے اور اس مقام پر ایک نئی اُمت ‘ اُمتِ محمدﷺ کی تقرری عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اسی حوالے سے {کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِہِمۡ ۚ} کے الفاظ میں مشرکین مکہ کی طرف اشارہ کیا گیا۔
’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں سے (لوگوں کو) روکے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے؟‘‘
مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں حاضری سے محروم کر دیا تھا اور ان کو وہاں جانے کی اجازت نہ تھی۔۶ ہجری میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ عمرے کے ارادے سے مکہ کا سفر فرمایا ‘لیکن مشرکین نے آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ اس موقع پر صلح حدیبیہ ہوئی اور آپؐ ‘کو عمرہ کیے بغیرواپس آنا پڑا۔ پھر اگلے برس ۷ ہجری میں آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ عمرہ ادا کیا۔ تو یہ سات برس محمد رسول اللہﷺ اور اہل ایمان پر بہت شاق گزرے ہیں۔ یہاں مشرکین مکہ کے اس ظلم کا ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے اہل ایمان کو مسجد حرام سے روک رکھا ہے۔
وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ
’’اور وہ ان کی تخریب کے درپے ہو؟‘‘
خراب اور تخریب کا مادۂ اصلی ایک ہی ہے۔ تخریب دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ظاہری تخریب کہ مسجد کو گرا دینا‘ اور ایک باطنی اور معنوی تخریب کہ اللہ کے گھر کو تو حید کی بجائے شرک کا اڈہ بنا دینا۔ مشرکین مکہ نے بیت اللہ کوبت کدہ بنا دیا تھا : ؎
دنیا کے بُت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا!
خانہ کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھ دیے گئے تھے‘ جسے ابراہیم علیہ السلام نے توحیدِ خالص کے لیے تعمیر کیا تھا۔ مساجد کے ساتھ لفظ ’’خراب‘‘ ایک حدیث میں بھی آیا ہے۔ یہ بڑی دلدوز حدیث ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے ذہن نشین کر لیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((یُوْشِکُ اَنْ یَاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ))’’اندیشہ ہے کہ لوگوں پر (یعنی میری اُمت پر) ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ‘‘حدیث((لَا یَـبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلاَّ اسْمُہٗ))’’اسلام میں سے اس کے نام کے سوا کچھ نہیں بچے گا‘‘حدیث((وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْــقُرْآنِ اِلاَّ رَسْمُہٗ))’’اور قرآن میں سے اس کے رسم الخط (الفاظ اور حروف) کے سوا کچھ نہیں بچے گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کی ضمانت دی ہے کہ قرآن حکیم کے الفاظ و حروف من وعن محفوظ رہیں گے۔ حدیث((مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی))’’ان کی مسجدیں آباد تو بہت ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہو جائیں گی‘‘۔ یہاں بھی لفظ ’’خراب‘‘ نوٹ کیجیے۔ گویا معنوی اعتبار سے یہ ویران ہو جائیں گی۔ حدیث((عُلَمَاؤُھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَائِ))’’ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے کے بدترین انسان ہوں گے‘‘۔حدیث((مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْـنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ))۱۳’’فتنہ اُن ہی کے اندر سے برآمد ہو گا اور انہی میں گھس جائے گا‘‘۔ یعنی ان کا کام ہی فتنہ انگیزی ‘ مخالفت اور جنگ و جدال ہو گا۔ اپنے اپنے فرقے کے لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتے رہنا اور مسلمانوں کے اندر اختلافات کو ہوا دینا ہی اُن کا کام رہ جائے گا۔
آج جن کو ہم علماء کہتے ہیں ان کی عظیم اکثریت اس کیفیت سے دوچار ہو چکی ہے۔ جب مذہب اور دین پیشہ بن جائے تو اس میں کوئی خیر باقی نہیں رہتا۔ دین اور مذہب پیشہ نہیں تھا‘ لیکن اسے پیشہ بنا لیا گیا۔ اسلام میں کوئی پیشوائیت نہیں‘ کوئی پاپائیت نہیں‘ کوئی برہمنیت نہیں۔ اسلام تو ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ہرشخص کتاب اللہ پڑھے‘ ہر شخص عربی سیکھے اور کتاب اللہ کو سمجھے۔ ہر شخص کو عبادات کے قابل ہوناچاہیے۔ ہر شخص اپنی بچی کا نکاح خود پڑھائے‘ اپنے والد کا جنازہ خود پڑھائے۔ ہم نے خود اسے پیشہ بنا دیا ہے اور عبادات کے معاملے میں ایک خاص طبقے کے محتاج ہو گئے ہیں۔ مرزا غالبؔ نے کہا تھا : ؏
پیشے میں عیب نہیں‘ رکھیے نہ فرہاد کو نام!
ایک چیز جب پیشہ بن جاتی ہے تو اس میں پیشہ ورانہ چشمکیں اور رقابتیں در آتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات واضح رہے کہ دنیا کبھی علماءِ حق سے خالی نہیں ہو گی۔ چنانچہ یہاں علمائِ حق بھی ہیں اور علمائِ سو بھی ہیں‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت کا حال وہی ہو چکا ہے جو حدیث میں بیان ہوا ہے‘ ورنہ اُمت کا یوں بیڑہ غرق نہ ہوتا ۔
’’ایسے لوگوں کو تو ان میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے مگر ڈرتے ہوئے۔‘‘
ان لوگوں کو لائق نہیں ہے کہ اللہ کی مسجدوں میں داخل ہوں‘ یہ اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔
لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ
’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے‘‘
وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾
’’اور آخرت میں ان کے لیے عذابِ عظیم ہے۔‘‘
اگلی آیت میں تحویل قبلہ کے لیے تمہید باندھی جا رہی ہے۔ قبلہ کی تبدیلی بڑا حساس معاملہ تھا۔ جن لوگوں کو یروشلم اور بیت المقدس کے ساتھ دلچسپی تھی ان کے دلوں میں اُس کی عقیدت جاگزیں تھی‘ جبکہ مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کے ساتھ جن کو دلچسپی تھی ان کے دلوں میں اس کی محبت و عقیدت تھی۔ تو اس حوالے سے قبلہ کی تبدیلی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ ہجرت کے بعد قبلہ دو دفعہ بدلا ہے۔ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ تھا۔ مدینے میں آ کر رسول اللہﷺ نے سولہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی اور پھر بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم آیا۔ اس طرح اہل ایمان کے کئی امتحان ہو گئے‘ ان کا ذکر آگے آجائے گا۔ لیکن یہاں اس کی تمہید بیان ہو رہی ہے۔ فرمایا:
(۱۳)رواہ البیھقی فی ’’شعب الایمان‘‘ وابن عدی فی ’’الکامل‘‘ وابو عمرو الدانی فی ’’السنن الواردۃ فی الفتن‘‘۔ بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب العلم‘ الفصل الثالث۔
آیت 115
وَ لِلّٰہِ الۡمَشۡرِقُ وَ الۡمَغۡرِبُ ٭
’’اور مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔‘‘
یعنی اگر ہم مغرب کی طرف رُخ کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ مغرب میں ہے (معاذ اللہ)۔ اللہ تو جہت اور مقام سے ماورا ہے ‘ وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔ یہ تو یکسانیت پیدا کرنے کے لیے اور اجتماعی رنگ دینے کے لیے ایک چیز کو قبلہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ تو ایک علامت ہے۔ غالبؔ نے کیا خوب کہا ہے: ؎
ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں!
قبلہ ہمارا مسجود تو نہیں ہے!
فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ ؕ
’’پس جدھر بھی تم رُخ کرو گے اُدھر ہی اللہ کا رُخ ہے۔‘‘
اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
’’یقینا اللہ بہت وسعت والا‘ سب کچھ جاننے والاہے۔‘‘
وہ بہت وسعت والا ہے‘ وہ کسی بھی سمت میں محدود نہیں ہے‘ اور ہر شے کا جاننے والاہے۔
تحویل قبلہ کی تمہید کے طور پر ایک آیت کہہ کر اب پھر اصل سلسلۂ کلام جوڑا جا رہا ہے:
’’اور ان (میں وہ بھی ہیں جن) کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ وہ تو ان باتوں سے پاک ہے۔‘‘
ظاہر بات ہے یہاں پھر اہل مکہ ہی کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جن کا یہ قول تھا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد اختیار کی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ نصاریٰ کہتے تھے کہ مسیح علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں‘ اور یہودیوں کا بھی ایک گروہ ایسا تھا جو حضرت عزیرعلیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتاتھا۔
بَلۡ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ
’’ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کی ملکیت‘ہے۔‘‘
سب مخلوق اور مملوک ہیں‘ خالق اور مالک صرف وہ ہے ۔
کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾
’’سب کے سب اسی کے مطیع فرمان ہیں۔‘‘
بڑے سے بڑا رسول ہو یا بڑے سے بڑا ولی یا بڑے سے بڑا فرشتہ یا بڑے بڑے اَجرامِ سماویہ‘ سب اسی کے حکم کے پابند ہیں۔
آیت 117
بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ
’’وہ نیا پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔‘‘
وہ بغیر کسی شے کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ’’ابداع‘‘ اور’’ خلق‘‘ میں فرق نوٹ کیجیے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ کے پہلے باب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال بنیادی طو رپر تین ہیں: ابداع‘ خلق اور تدبیر۔ ابداع سے مراد ہے عدمِ محض سے کسی چیز کو وجود میں لانا‘جسے انگریزی میں ’’creation ex nihilo‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جبکہ خلق ایک چیز سے دوسری چیز کا بنانا ہے ‘جیسے اللہ تعالیٰ نے گارے سے انسان بنایا‘ آگ سے جنات بنائے اور نور سے فرشتے بنائے‘ یہ تخلیق ہے۔ تو ’’بدیع‘‘ وہ ذات ہے جس نے کسی مادئہ تخلیق کے بغیر ایک نئی کائنات پیدا فرما دی۔ ہمارے ہاں ’’بدعت‘‘ وہ شے کہلاتی ہے جو دین میں نہیں تھی اور خواہ مخواہ لا کر شامل کر دی گئی۔ جس بات کی جڑ بنیاد دین میں نہیں ہے وہ بدعت ہے۔
’’کیوں نہیں بات کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آ جاتی ہمارے پاس کوئی نشانی؟‘‘
مشرکینِ مکہ کا رسول اللہﷺ سے بڑی شدت کے ساتھ یہ مطالبہ تھا کہ آپ کوئی ایسے معجزات ہی دکھا دیں جیسے آپ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے دکھائے تھے یا موسیٰ علیہ السلام نے دکھائے تھے۔ اگر آپ ہمارے یہ مطالبے پورے کر دیں تو ہم آپ کو اللہ کا رسول مان لیں گے۔ یہ مضمون تفصیل کے ساتھ سورۃ الانعام میں اور پھر سورۂ بنی اسرائیل میں آئے گا۔
’’(اے نبیؐ!) بے شک ہم نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر‘‘
آپؐ‘کی بنیادی حیثیت یہ ہے کہ آپؐ اہلِ حق کو جنت اور اس کی تمام تر نعمتوں کی بشارت دیں‘ اور جو غلط راستے پر چل پڑیں‘ کفر کریں‘ منافقت میں مبتلا ہوں‘ ملحد ہوں اور بدعملی کریں اُن کو آپؐ ‘خبردار کردیں کہ ان کے لیے جہنم تیار کر دی گئی ہے۔ آپؐ کا کام دعوت ‘ ابلاغ‘ تبلیغ اور نصیحت ہے۔
وَّ لَا تُسۡئَلُ عَنۡ اَصۡحٰبِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۹﴾
’’اور آپؐ سے سوال نہیں کیاجائے گا جہنمیوں کے بارے میں۔‘‘
جو لوگ اپنے طرزِ عمل کی بنا پر جہنم کے مستحق قرار پا گئے ہیں ان کے بارے میں آپؐ ذمہ دار نہیں ہیں۔ آپؐ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ کیوں جہنم میں پہنچ گئے؟آپؐ کے ہوتے ہوئے یہ جہنمی کیوں ہو گئے؟ نہیں‘یہ آپؐ‘ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ کون جنت میں جانا چاہتا ہے اور کون جہنم میں‘ یہ آدمی کا اپنا فیصلہ ہے۔ آپؐ کا کام حق کو واضح کر دینا ہے‘ اس کی وضاحت میں کمی نہ رہ جائے‘ حق واضح ہو جائے‘ کوئی اشتباہ باقی نہ رہے‘ بس یہ ذمہ داری آپؐ کی ہے ‘ اس سے زیادہ نہیں۔ انسان اگر اپنی اصل مسئولیت سے زیادہ ذمہ داری اپنے سر پر ڈال لے تو خواہ مخواہ مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کی بہت سی جماعتیں اسی طرح کی غلطیوں کی وجہ سے غلط راستے پر پڑ گئیں اور پوری کی پوری تحریکیں برباد ہو گئیں۔ رسول اللہﷺ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ علمائِ یہود ایمان لے آئیں اور جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ ان کے لیے آپﷺ نے اللہ کے حضور دعائیں کی ہوں گی۔ جیسے مکی دَور میں آپؐ دعائیں مانگتے تھے کہ اے اللہ! عمرو بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو تو میری جھولی میں ڈال دے اور اس کے ذریعے سے اسلام کو قوت عطا فرما!
’’اور(اے نبیؐ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپؐ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپؐ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی۔‘‘
لہٰذا آپ ان سے اُمید منقطع کر لیجیے۔ اس لیے کہ زیادہ اُمید ہو تو پھر مایوسی ہو جاتی ہے۔ اقبال نے بندۂ مؤمن کے بارے میں بہت خوب کہا ہے: ؏
اس کی اُمیدیں قلیل‘ اس کے مقاصد جلیل!
مقصد اونچا ہو‘ لیکن امید قلیل رہنی چاہیے۔ اللہ چاہے گا تو ہو جائے گا‘ نہیں چاہے گا تو نہیں ہو گا۔ بندۂ مؤمن کا کام اپنی حد تک اپنا فرض ادا کر دینا ہے۔ اس سے زیادہ کی خواہش اگر اپنے دل میں پالیں گے تو کسی عجلت پسندی میں گرفتار ہو جائیں گے اور کسی راہِ یسیر یا راہِ قصیر (short cut) کے ذریعے منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اپنے آپ کو بھی بربادکر لیں گے۔
’’اور (اے نبیﷺ!)اگر آپؐ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اُس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکاہے‘‘
اگر بفرضِ محال آپؐ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی کہ چلو کچھ لو کچھ دو کا معاملہ کر لو‘ کچھ ان کی بات مانوکچھ اپنی بات منوا لو‘ تویہ طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہ ہو گا۔ مکہ میں قریش کی طرف سے اس طرح کی پیشکش کی جاتی تھی کہ کچھ اپنی بات منوا لیجیے‘ کچھ ہماری مان لیجیے ‘ compromise کرلیجیے‘ اور اب مدینہ میں یہود کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ چنانچہ اس پر متنبہ کیا جا رہا ہے۔
’’تو نہیں ہو گا اللہ کے مقابلے میں آپؐ کے لیے کوئی مددگار اور نہ حمایتی۔‘‘ (معاذ اللہ!)
حق کی تلوار بالکل عریاں ہے۔ اللہ کا عدل ہر فرد کے لیے الگ نہیں ہے‘ یہ فرد سے فرد تک بدلتا نہیں ہے۔ ایسے ہی ہر قوم اور ہر اُمت کے لیے قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک قوم سے کوئی ایک معاملہ ہو اور دوسری قوم سے کوئی دوسرا معاملہ ۔ اللہ کے اُصول اور قوانین غیر مبدل ہیں۔ اس ضمن میں اس کی ایک سنت ہے جس کے بارے میں فرمایا: {فَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ۬ۚ وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحۡوِیۡلًا ﴿۴۳﴾} (فاطر) ’’پس تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائو گے ‘اور تم اللہ کے طریقے کو ہرگز ٹلتا ہوا نہیں پائو گے۔‘‘
’’وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔‘‘
اس پر میں نے اپنے کتابچے ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘میں بحث کی ہے کہ تلاوت کا اصل حق کیا ہے۔ ایک بات جان لیجیے کہ تلاوت کا لفظ ‘ جو قرآن نے اپنے لیے اختیار کیا ہے‘ بڑا جامع لفظ ہے ۔ ’’تَـلَا یَـتْلُوْ‘‘ کا معنی پڑھنا بھی ہے اور ’’تَــلَا یَـتْــلُوْ‘‘ کسی کے پیچھے پیچھے چلنے (to follow) کو بھی کہتے ہیں۔ سورۃ الشمس کی پہلی دو آیات ملاحظہ کیجیے: {وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾وَ الۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا ۪ۙ﴿۲﴾} ’’قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ اور قسم ہے چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آتاہے‘‘۔جب آپ کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو آپ اس کے متن (text) کے پیچھے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ جو زیادہ ماہر نہیں ہوتے‘ کتاب پڑھتے ہوئے اپنی انگلی ساتھ ساتھ چلاتے ہیں تاکہ نگاہ اِدھرسے اُدھر نہ ہو جائے‘ ایک سطر سے دوسری سطر پر نہ پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب کی تلاوت کا اصل حق یہ ہو گا کہ آپ اس کتاب کو follow کریں‘ اسے اپنا امام بنائیں‘ اس کے پیچھے چلیں‘ اس کا اتباع کریں‘ اس کی پیروی کریں‘ جس کی ہم دعا کرتے ہیں: وَاجْعَلْہُ لِیْ اِمَامًا وَّنُوْرًا وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً ’’اور اسے میرے لیے امام اور روشنی اور ہدایت اور رحمت بنا دے!‘‘اللہ تعالیٰ اس قرآن کو ہمارا امام اُسی وقت بنائے گاجب ہم فیصلہ کرلیں کہ ہم اس کتاب کے پیچھے چلیں گے۔
اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ
’’وہی ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
یعنی جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کریں اور اُس کی پیروی بھی کریں۔ اور جو نہ تو تلاوت کا حق ادا کریں اور نہ کتاب کی پیروی کریں‘ لیکن وہ دعویٰ کریں کہ ہمارا ایمان ہے اس کتاب پر تو یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ ازروئے حدیث نبویؐ : حدیث((مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَہٗ))۱۴’’جس شخص نے قرآن کی حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال کر لیا اس کا قرآن پر کوئی ایمان نہیں ہے‘‘۔
’’اور جو اس کا کفر کرے گا تو وہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے۔‘‘
اب یہود کے ساتھ اس سلسلۂ کلام کا اختتام ہو رہا ہے جس کا آغاز چھٹے رکوع سے ہوا تھا۔ اس سلسلۂ کلام کے آغاز میں جو دو آیات آئی تھیں انہیں میں نے بریکٹ سے تعبیر کیا تھا۔ وہی دو آیات یہاں دوبارہ آ رہی ہیں اور اس طرح گویا بریکٹ بند ہو رہی ہے۔ فرمایا:
(۱۴)سنن الترمذی‘ کتاب الفضائل عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من الاجر۔
’’اے اولادِ یعقوب! یاد کرو میرے اُس انعام کو جو میں نے تم پر کیا‘ اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی تھی اہل عالم پر۔‘‘
یہ آیت بعینہٖ ان الفاظ میں چھٹے رکوع کے آغاز میں آ چکی ہے۔ (آیت ۴۷) دوسری آیت بھی جوں کی توں آ رہی ہے‘ صرف الفاظ کی ترتیب تھوڑی سی بدلی ہے۔ عبارت کے شروع اور آخر والی بریکٹس ایک دوسرے کا عکس ہوتی ہیں۔ ایک کی گولائی دائیں طرف ہوتی ہے تو دوسری کی بائیں طرف۔ اسی طرح یہاں دوسری آیت کی ترتیب درمیان سے تھوڑی سی بدل دی گئی ہے۔ فرمایا: