تحریر

البقرة

آیات ۸۷ تا ۱۰۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

87-93

بنی اسرائیل کا نبی اکرم ﷺ سے حسد۔

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ قَفَّیۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫ وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴿۸۷﴾ وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾ وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚۖ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾ بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بَغۡیًا اَنۡ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ۚ فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۹۰﴾ وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا وَ یَکۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَہٗ ٭ وَ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمۡ ؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡۢبِیَآءَ اللّٰہِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۱﴾ وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۹۲﴾ وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اسۡمَعُوۡا ؕ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا ٭ وَ اُشۡرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡعِجۡلَ بِکُفۡرِہِمۡ ؕ قُلۡ بِئۡسَمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِہٖۤ اِیۡمَانُکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۳﴾

آیت 87

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ

’’اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی‘‘(یعنی تورات )

وَ قَفَّیۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫

’’اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔‘‘

ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ یہاں لفظ ’’الرُّسُل‘‘ انبیاء کے معنی میں آیا ہے۔ نبی اور رسول میں کچھ فرق ہے‘ اسے اختصار کے ساتھ سمجھ لیجیے۔ قرآن مجید کی اصطلاحات کے تین جوڑے ایسے ہیں کہ وہ تینوں مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوجاتے ہیں اور اپنا علیحدہ علیحدہ مفہوم بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ضمن میں علماء کرام نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ ’’اِذَا اجْتَمَعَا تَفَرَّقَا وَاِذَا تَفَرَّقَا اجْتَمَعَا‘‘ یعنی جب (ایک جوڑے کے) دونوں لفظ اکٹھے استعمال ہوں گے تو دونوں کا مفہوم مختلف ہو گا ‘ اور جب یہ دونوں الگ الگ استعمال ہوں گے تو ایک معنی میں استعمال ہو جائیں گے۔ ان میں سے ایک جوڑا ’’اسلام‘‘ اور ’’ایمان‘‘ یا ’’مسلم‘‘ اور ’’مؤمن‘‘ کا ہے۔عام طور پر مسلم کی جگہ مؤمن اور مؤمن کی جگہ مسلم استعمال ہو جاتا ہے‘ لیکن سورۃ الحجرات میں یہ دونوں الفاظ اکٹھے استعمال ہوئے ہیں تو ان کا فرق واضح ہو گیا ہے۔ فرمایا: {قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا …} (آیت ۱۴) ’’بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ ان سے کہیے کہ تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو‘ البتہ یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے…‘‘ اسی طرح ’’ـجہاد‘‘ اور ’’قتال‘‘ کا معاملہ ہے۔ یہ دو مختلف الفاظ ہیں‘ جن کا مفہوم جدا بھی ہے لیکن ایک دوسرے کی جگہ بھی آ جاتے ہیں۔

اس ضمن میں تیسرا جوڑا ’’نبی ‘‘ اور ’’رسول‘‘ کا ہے۔ یہ دونوں لفظ بھی اکثر ایک دوسرے کی جگہ آ جاتے ہیں‘ لیکن ان میں فرق بھی ہے۔ ہر نبی رسول نہیں ہوتا‘ البتہ ہر رسول لازماً نبی ہوتا ہے ۔یعنی نبی عام ہے رسول خاص ہے۔ نبی کو جب کسی خاص قوم کی طرف معین طور پر بھیج دیا جاتا ہے تب اس کی حیثیت رسول کی ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے اُس کی حیثیت انتہائی اعلیٰ مرتبہ پر فائز ایک ولی اللہ کی ہے ‘ جس پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ عام ولی اللہ میں اور نبی میں فرق یہی ہے کہ نبی پر وحی آتی ہے‘ ولی پر وحی نہیں آتی۔ لیکن کسی نبی کو جب کسی معین قوم کی طرف مبعوث کر دیا جاتا تھا تو پھر وہ رسول ہوتا تھا۔ جیسے حضرت موسیٰاور حضرت ہارون علیہما السلام کو حکم دیا گیا: {اِذۡہَبَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿ۚۖ۴۳﴾} (طٰہٰ) ’’تم دونوں فرعون کی طرف جائو‘ یقینا وہ سرکشی پر اتر آیا ہے‘‘۔ اسی طرح دوسرے رسولوں کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے تھے۔ مثلاً {وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ} (الاعراف:۸۵) ’’اور مدین کی طرف بھیجا ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو‘‘۔یہ فرق ہے نبی اور رسول کا۔ محض سمجھانے کے لیے بطور مثال عرض کر رہا ہوں کہ جیسے آپ کے یہاں خصوصی تربیت یافتہ افراد پر مشتمل CSP cadre ہے‘ ان میں سے کوئی ڈپٹی کمشنر لگا دیا جاتا ہے‘کسی کو جائنٹ سکریٹری کی ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے‘ تو کوئی بطور O.S.D خدمات انجام دیتا ہے‘ لیکن اس کا کا ڈر (CSP) برقرار رہتا ہے۔ اسی اعتبار سے ہر نبی ہر حال میں نبی ہوتا تھا‘ لیکن اُسے ’’رسول‘‘ کی حیثیت سے ایک اضافی ذمہ داری اور اضافی مرتبہ عطا کیا جاتا تھا۔

نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں ایک بات یہ نوٹ کر لیجیے کہ نبیوں کو قتل بھی کیا گیا ہے‘ جبکہ رسول قتل نہیں ہو سکتے۔ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ {لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ} (المُجادلۃ:۲۱) ’’لازماً غالب رہیں گے میں اور میرے رسول‘‘۔ چنانچہ جب بھی کسی قوم نے کسی رسول ؑ کی جان لینے کی کوشش کی تو اس قوم کو ہلاک کر دیا گیا اور رسول ؑ اور اُس کے ساتھیوں کو بچا لیا گیا۔ لیکن یہ معاملہ نبیوں کے ساتھ نہیں ہوا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نبی تھے‘ قتل کر دیے گئے‘ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول تھے‘ لہٰذا قتل نہیں کیے جا سکتے تھے‘ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ‘ جو قیامت سے قبل دوبارہ زمین پر نزول فرمائیں گے۔محمد رسول اللہﷺ کو اللہ کے راستے میں شہید ہونے کی شدید تمنا تھی۔

آپؐ نے اپنی اس تمنا اور آرزو کا اظہار اِن الفاظ میں فرمایا ہے:

حدیث((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَـوَدِدْتُ اَنْ اُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَاُقْـتَـلَ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْـتَلَ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْـتَلَ )) ۹

’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میری بڑی خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کروں تو اس میں قتل کر دیا جاؤں ‘ پھر میں زندہ کیا جاؤں‘ پھر قتل کیا جاؤں‘ پھر میں زندہ کیا جاؤں‘ پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں‘ پھر میں زندہ کیا جاؤں‘ پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں!‘‘

لیکن اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی یہ خواہش پوری نہیں کی۔ اس لیے کہ آپؐ اللہ کے رسول تھے۔آیت زیر مطالعہ میں نوٹ کیجیے کہ اگر چہ یہاں لفظ رسول آ گیا ہے لیکن یہ نبی کے معنی میں آیا ہے: {وَ قَفَّیۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ بِالرُّسُلِ ۫} ’’اور ہم نے موسٰی ؑ کے بعد لگاتار پیغمبر بھیجے‘‘۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد رسول تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں‘ درمیان میں جو پیغمبر (prophets) ہیں یہ سب انبیاء ہیں۔

وَ اٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ

’’اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑی واضح نشانیاں دیں‘‘

حسِّی معجزات جس قدر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیے گئے ویسے اور کسی نبی کو نہیں دیے گئے۔ ان کا تذکرہ آگے چل کر سورۂ آل عمران میں آئے گا۔

وَ اَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ؕ

’’اور ہم نے مدد کی ان کی روح القدس کے ساتھ۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت جبرائیل ؑ کی خاص تائید و نصرت حاصل تھی۔ معجزات کا ظہور کسی نبی یا رسول کی اپنی طاقت سے نہیں ہوتا‘ اسی طرح کرامت کسی ولی اللہ کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی‘ یہ معاملہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا ظہور فرشتوں کے ذریعے سے ہوتا ہے۔

اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ

’’پھر بھلا کیا جب بھی آیا تمہارے پاس کوئی رسول وہ چیز لے کر جو تمہاری خواہشاتِ نفس کے خلاف تھی تو تم نے تکبر کیا۔‘‘

ا نبیاء و رُسل علیہم السلام کے ساتھ یہودنے جو طرزِ عمل روا رکھا‘ خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ کیا‘ یہاں اس پر تبصرہ ہو رہا ہے کہ جب بھی کبھی تمہارے پاس کوئی رسول تمہاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر آیا تو تمہاری روش یہی رہی کہ تم نے استکبار کیا اور سرکشی کی ‘وہی استکبار اور سرکشی جس کے باعث عزازیل ابلیس بن گیا تھا۔

فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ ﴿۸۷﴾

’’پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر دیا۔‘‘

اللہ کے رسول چونکہ قتل نہیں ہو سکتے لہٰذا یہاں نبیوں کا قتل مراد ہے۔ مزید برآں ایک رائے یہ بھی دی گئی ہے کہ یہاں ماضی کا صیغہ ’’قَـتَلْتُمْ‘‘ نہیں آیا ‘ بلکہ فعل مضارع ’’تَقْتُلُوْنَ‘‘ آیا ہے اور مضارع کے اندر فعل جاری رہنے کی خاصیت ہوتی ہے۔ گویا تم ان کو قتل کرنے کی کوشش کرتے رہے‘ بعض رسولوں کی تو جان کے درپے ہوگئے۔

(۹) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب تمنی الشھادۃ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب فضل الجھاد والخروج فی سبیل اللہ ۔ ومسند احمد واللفظ لہ۔

آیت 88

وَ قَالُوۡا قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ

’’اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دل تو غلافوں میں بندہیں۔‘‘

ان کے اس جواب کو آیت ۷۵ کے ساتھ ملایئے جو ہم پڑھ آئے ہیں۔ وہاں الفاظ آئے ہیں: {اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ} ’’تو اے مسلمانو !کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے؟‘‘ بعض مسلمانوں کی اس خواہش کے جواب میں یہود کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ ہمارے دل تو غلافوں میں محفوظ ہیں‘ تمہاری بات ہم پر اثر نہیں کر سکتی۔ اس طرح کے الفاظ آپ کو آج بھی سننے کو مل جائیں گے کہ ہمارے دل بڑے محفوظ ہیں‘ بڑے مضبوط اور مستحکم ہیں‘ تمہاری بات ان میں گھر کر ہی نہیں سکتی۔

بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ

’’بلکہ (حقیقت میں تو) اُن پر لعنت ہو چکی ہے اللہ کی طرف سے ان کے کفر کی وجہ سے‘‘

یہ ان کے اس قول پر تبصرہ ہے کہ ہمارے دل محفوظ ہیں اور غلافوں میں بند ہیں۔

فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾

’’پس اب کم ہی (ہوں گے ان میں سے جو) ایمان لائیں گے۔‘‘

آیت 89

وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ

’’اور جب آ گئی ان کے پاس ایک کتاب (یعنی قرآن) اللہ کے پاس سے‘‘

مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ

’’جو اُس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اُن کے پاس (پہلے سے موجود) ہے‘‘

یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تورات اور انجیل کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف وہ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کرآیاہے۔

وَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚۖ

’’اور وہ پہلے سے کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔‘‘

ان کا حال یہ تھا کہ وہ اس کی آمد سے پہلے اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبیﷺ کے حوالے اور واسطے سے اللہ تعالیٰ سے کافروں کے خلاف فتح و نصرت کی دعائیں کیا کرتے تھے۔یہود کے تین قبائل بنو قینقاع‘ بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔ وہاں اوس اور خزرج کے قبائل بھی آباد تھے جو یمن سے آئے تھے اور اصل عرب قبائل تھے۔ پھر آس پاس کے قبائل بھی تھے۔ وہ سب اُمیین میں سے تھے‘ اُن کے پاس نہ کوئی کتاب تھی‘ نہ کوئی شریعت اور نہ وہ کسی نبوت سے آگاہ تھے۔ ان کی جب آپس میں لڑائیاں ہوتی تھیں تو یہودی چونکہ سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے بزدل تھے لہٰذا ہمیشہ مار کھاتے تھے۔ اس پر وہ کہا کرتے تھے کہ ابھی تو تم ہمیں مار لیتے ہو‘ دبا لیتے ہو‘ نبی آخر الزمان(ﷺ) کے آنے کا وقت آ چکا ہے جو نئی کتاب لے کر آئیں گے۔ جب وہ آئیں گے اور ہم ان کے ساتھ ہو کر جب تم سے جنگ کریں گے تو تم ہمیں شکست نہیں دے سکو گے‘ ہمیں فتح پر فتح حاصل ہو گی۔ وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! اس نبی آخر الزمان کا ظہور جلدی ہو تاکہ اُس کے واسطے سے اور اُس کے صدقے ہمیں فتح مل سکے۔

خزرج اور اوس کے قبائل نے یہود کی یہ دعائیں اور ان کی زبان سے نبی آخر الزمانﷺ کی آمد کی پیشین گوئیاں سن رکھی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ ۱۱ نبوی کے حج کے موقع پر جب مدینہ سے جانے والے خزرج کے چھ افراد کو رسول اللہﷺ نے اپنی دعوت پیش کی تو انہوں نے کن انکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا کہ معلوم ہوتا ہے یہ وہی نبی ؐ ہیں جن کا یہودی ذکر کرتے ہیں‘ تو اس سے پہلے کہ یہود ان پر ایمان لائیں ‘تم ایمان لے آؤ! اس طرح وہ علم جو بالواسطہ طور پر ان تک پہنچا تھا ان کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور ذریعۂ ‘ نجات بن گیا۔ مگر وہی یہودی جو آنے والے نبی کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے تھے‘ آپﷺ کی آمد پر اپنے تعصب اور تکبر کی وجہ سے آپؐ کے سب سے بڑ ھ کر مخالف بن گئے۔

فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫

’’پھر جب ان کے پاس آ گئی وہ چیز جسے انہوں نے پہچان لیا تو وہ اس کے منکر ہو گئے۔‘‘

فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۹﴾

’’پس اللہ کی لعنت ہے ان منکرین پر۔‘‘

آیت 90

بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ

’’بہت بری شے ہے جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو فروخت کر دیا‘‘

یعنی دنیا کا حقیر سا فائدہ‘ یہاں کی حقیر سی منفعتیں‘ یہاں کی مسندیں اور چودھراہٹیں ان کے پائوں کی زنجیر بن گئی ہیں اور وہ اپنی فلاح و سعادت اور نجات کی خاطر ان حقیر سی چیزوں کی قربانی دینے کو تیار نہیں ہیں۔

اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ

’’کہ وہ انکار کر رہے ہیں اُس ہدایت کا جو اللہ نے نازل کی ہے‘‘

بَغۡیًا اَنۡ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ۚ

’’صرف اس ضد کی بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اپنے فضل (وحی و رسالت) میں سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘

یہود اس امید میں تھے کہ آخری نبی بھی اسرائیلی ہی ہو گا‘ اس لیے کہ چودہ سو برس تک نبوت ہمارے پاس رہی ہے‘ یہ ’’فترۃ‘‘ کا زمانہ ہے‘ جسے چھ سو برس گزر گئے‘ اب آخری نبی آنے والے ہیں۔ ان کو یہ گمان تھا کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے ہوں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور یہ فضل بنی اسماعیل پر ہو گیا۔ اس ضدم ضدا کی وجہ سے یہود عناد اور سرکشی پر اتر آئے۔ اس ’’بَغْیًا‘‘ کے لفظ کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔دین میں جو اختلاف ہوتا ہے اس کا اصل سبب یہی ضدم ضدا والا رویہ ہوتا ہے‘ جسے قرآن مجید میں ’’بَغْیًا‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں کئی بار آیا ہے ۔

عہدِ حاضر میں علمِ نفسیات (Psychology) میں ایڈلر کے مکتبۂ فکر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان کے جبلی افعال (instincts) اور محرکات (motives) میں ایک نہایت طاقتور محرک غالب ہونے کی طلب (Urge to dominate) ہے۔ چنانچہ کسی دوسرے کی بات ماننا نفسِ انسانی پر بہت گراں گزرتا ہے‘ وہ چاہتا ہے کہ میری بات مانی جائے! ’’بَغْیًا‘‘ کے معنی بھی حد سے بڑھنے اور تجاوز کرنے کے ہیں۔ دوسروں پر غالب ہونے کی خواہش میں انسان اپنی حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہی معاملہ یہود کا تھا کہ انہوں نے دوسروں پر رعب گانٹھنے کے لیے ضدام ضدا کی روش اختیار کی‘ محض اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے ایک شخص محمد عربی ﷺ کو اپنے فضل سے نواز دیا۔

فَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍ ؕ

’’تو وہ لوٹے غضب پر غضب لے کر۔‘‘

یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے غضب بالائے غضب کے مستحق ہو گئے۔

وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۹۰﴾

’’اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلت آمیز عذاب ہے۔‘‘

’’مُھِیْنٌ‘‘ اہانت سے بنا ہے ۔ان کی اس روش کی وجہ سے ان کے لیے اہانت آمیز عذاب مقررہے۔

آیت 91

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ

’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ ا س پر جو اللہ نے نازل فرمایا ہے‘‘

قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا

’’تو کہتے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں اُس پر جو ہم پر نازل ہوا‘‘

وَ یَکۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَہٗ ٭

’’اور وہ کفر کر رہے ہیں اس کا جو اس کے پیچھے ہے۔‘‘

چنانچہ انہوں نے پہلے انجیل کا کفر کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو نہیں مانا‘ اور اب انہوں نے محمدﷺ کا کفر کیا ہے اور قرآن کو نہیں مانا۔

وَ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمۡ ؕ

’’حالانکہ وہ حق ہے‘ تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اس کی جو اُن کے پاس ہے۔‘‘

قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡۢبِیَآءَ اللّٰہِ مِنۡ قَبۡلُ

’’(اے نبیؐ!ان سے ) کہیے : تو پھر تم کیوں قتل کرتے رہے ہو اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے؟‘‘

اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۱﴾

’’اگر تم واقعتا ایمان رکھنے والے ہو!‘‘

اگر تم ایسے ہی حق پرست ہو اور جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان رکھنے والے ہو تو تم اُن پیغمبروں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے؟ تم نے زکریا علیہ السلام کو کیوں قتل کیا؟ یحییٰ علیہ السلام کو کیوں قتل کیا؟ عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی پلاننگ کیوں کی؟ تمہارے تو ہاتھ نبیوں کے خون سے آلودہ ہیں اور تم دعوے دار ہو ایمان کے!

آیت 92

وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ

’’اور آ چکے تمہارے پاس موسٰی ؑ صریح معجزے اور واضح تعلیمات لے کر‘‘

ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ

’’پھر تم نے اُس کی غیر حاضری میں بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا‘‘

وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۹۲﴾

’’اور تم ظالم ہو۔‘‘

آیت 93

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ

’’اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر کوہِ طور کو معلق کر دیا تھا۔‘‘

خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اسۡمَعُوۡا ؕ

’’پکڑو اس کو جو ہم نے تم کو دیا ہے مضبوطی کے ساتھ اور سنو!‘‘

ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کرسنو۔

قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا ٭

’’انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔‘‘

یعنی ہم نے سن تو لیا ہے‘ مگر مانیں گے نہیں! قومِ یہود کی یہ بھی ایک دیرینہ بیماری تھی کہ زبان کو ذرا سا مروڑ کر الفاظ کو اس طرح بدل دیتے تھے کہ بات کا مفہوم ہی یکسر بدل جائے۔ چنانچہ ’’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘‘ کے بجائے ’’سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا‘‘ کہتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو منافقین تھے ان کا بھی یہی وطیرہ تھا۔ ان کی جب سرزنش کی جاتی تو کہتے تھے کہ ہم نے تو کہا تھا ’’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘‘ آپ کی اپنی سماعت میں کوئی خلل ہو گا۔

وَ اُشۡرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡعِجۡلَ بِکُفۡرِہِمۡ ؕ

’’اور پلا دی گئی ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت ان کے اس کفر کی پاداش میں۔‘‘

قُلۡ بِئۡسَمَا یَاۡمُرُکُمۡ بِہٖۤ اِیۡمَانُکُمۡ

’’کہیے : بہت ہی بری ہیں یہ باتیں جن کا حکم دے رہا ہے تمہیں تمہارا ایمان‘‘

اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۳﴾

’’اگر تم مؤمن ہو!‘‘

یہ عجیب ایمان ہے جو تمہیں ایسی بری حرکات کا حکم دیتا ہے۔ کیا ایمان کے ساتھ ایسی حرکتیں ممکن ہوتی ہیں؟

آگے پھر ایک بہت اہم آفاقی سچائی (universal truth) کا بیان ہو رہا ہے‘ جس کو پڑھتے ہوئے خود ‘دروں بینی (introspection) کی ضرورت ہے۔ یہود کو یہ زعم تھا کہ ہم تو اللہ کے بڑے چہیتے ہیں‘ لاڈلے ہیں‘ اس کے بیٹوں کی مانند ہیں‘ ہم اولیاء اللہ ہیں‘ ہم اس کے پسندیدہ اور چنیدہ لوگ ہیں‘ لہٰذا آخرت کا گھر ہمارے ہی لیے ہے۔ چنانچہ ان کے سامنے ایک لٹمس ٹیسٹ (litmus test) رکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ٹیسٹ میرے اور آپ کے لیے بھی ہے ۔

94-96

اللہ کے محبوب ہو تو موت کی آرزو کرو۔

ویڈیو

قُلۡ اِنۡ کَانَتۡ لَکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۴﴾ وَ لَنۡ یَّتَمَنَّوۡہُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۹۵﴾ وَ لَتَجِدَنَّہُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ۚۛ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚۛ یَوَدُّ اَحَدُہُمۡ لَوۡ یُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَۃٍ ۚ وَ مَا ہُوَ بِمُزَحۡزِحِہٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ یُّعَمَّرَ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۹۶﴾

آیت 94

قُلۡ اِنۡ کَانَتۡ لَکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ

’’(اے نبیؐ!ان سے) کہیے : اگر تمہارے لیے آخرت کا گھر اللہ کے پاس خالص کر دیا گیا ہے دوسرے لوگوں کوچھوڑ کر‘‘

یعنی تمہارے لیے جنت مخصوص (reserve) ہو چکی ہے اور تم مرتے ہی جنت میں پہنچا دیے جائوگے۔

فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۹۴﴾

’’تب تو تمہیں موت کی تمنا کرنی چاہیے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو۔‘‘

اگر تمہیں جنت میں داخل ہونے کا اتنا ہی یقین ہے پھر تودنیا میں رہنا تم پر گراں ہوناچاہیے۔ یہاں تو بہت سی کلفتیں ہیں‘یہاں تو انسان کو بڑی مشقت اور شدید کوفت اٹھانی پڑ جاتی ہے ۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ اس دنیا کے بعد آخرت کی زندگی ہے اور وہاں میرامقام جنت میں ہے تو اسے یہ زندگی اثاثہ (asset) نہیں‘ ذمہ داری (liability) معلوم ہونی چاہیے۔ اسے تو دنیا قید خانہ نظر آنی چاہیے‘ جیسے حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: حدیث((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ))۱۰’’دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافرکے لیے جنت ہے‘‘۔ اگر کسی شخص کا آخرت پر ایمان ہے اور اللہ کے ساتھ اس کا معاملہ خلوص پر مبنی ہے نہ کہ دھوکہ بازی پر تو اس کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ اسے دنیا میں زیادہ دیر تک زندہ رہنے کی آرزو تو نہ ہو۔ اس کا جائزہ ہر شخص خود لگا سکتا ہے‘ ازروئے الفاظِ قرآنی : {بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾} (القیٰمۃ) ’’بلکہ آدمی اپنے لیے آپ دلیل ہے‘‘۔ ہر انسان کو خوب معلوم ہے کہ میں کہاںکھڑا ہوں۔ آپ کا دل آپ کو بتادے گا کہ آپ اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں یا آپ کا معاملہ خلوص و اخلاص پر مبنی ہے۔ اگر واقعتا خلوص اور اخلاص والا معاملہ ہے تو پھر تو یہ کیفیت ہونی چاہیے جس کا نقشہ اس حدیث نبویؐ میں کھینچا گیا ہے : حدیث((کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ))۱۱’’دنیا میں اس طرح رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر ہو‘‘۔ پھر تو یہ دنیا باغ نہیں قید خانہ نظر آنی چاہیے‘ جس میں انسان مجبوراً رہتا ہے۔ پھر زاویۂ نگاہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ نے مجھے یہاں بھیجا ہے‘ لہٰذا ایک معین مدت کے لیے یہاں رہنا ہے اور جو جو ذمہ داریاں اس کی طرف عائد کی گئی ہیں وہ ادا کرنی ہیں۔ لیکن اگر یہاں رہنے کی خواہش دل میں موجود ہے توپھر یا تو آخرت پر ایمان نہیں یا اپنا معاملہ اللہ کے ساتھ خلوص و اخلاص پر مبنی نہیں۔ یہ گویالٹمس ٹیسٹ ہے۔

(۱۰) صحیح مسلم‘ کتاب الزھد والرقائق‘ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ۔

(۱۱) صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب قول النبی ﷺ کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل۔وسنن الترمذی‘ کتاب الزھد‘ باب ما جاء فی قصر الأمل۔

آیت 95

وَ لَنۡ یَّتَمَنَّوۡہُ اَبَدًۢا

’’اور یہ ہرگز آرزو نہیں کریں گے موت کی‘‘

بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ

’’بسبب اُن کرتوتوں کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہوئے‘ ہیں۔‘‘

ہر شخص کو خود معلوم ہے کہ میں نے کیا کمائی کی ہے‘ کیا آگے بھیجی ہے۔

وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۹۵﴾

’’اور اللہ ان ظالموں سے بخوبی واقف ہے۔‘‘

آیت 96

وَ لَتَجِدَنَّہُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ۚۛ

’’اور تم انہیں پائو گے تمام انسانوں سے زیادہ حریص اس (دنیا کی) زندگی پر۔‘‘

وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚۛ

’’حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی زیادہ حریص۔‘‘

یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ مشرکین نے اہل ایمان کے ساتھ مقابلہ کیا تو کھل کر کیا‘ میدان میں آ کر ڈٹ کر کیا‘ اپنی جانیں اپنے باطل معبودوں کے لیے قربان کیں‘ جبکہ یہودیوں میں یہ ہمت و جرأت قطعاً نہیں تھی کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں آ سکیں۔ ان کے بارے میں سورۃ الحشر میں الفاظ وارد ہوئے ہیں : {لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ} (آیت ۱۴) ’’یہ سب مل کر بھی تم سے جنگ نہ کر سکیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی اوٹ سے‘‘۔ چنانچہ یہودکبھی بھی سامنے آ کر مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ اس لیے کہ انہیں اپنی جانیں بہت عزیزتھیں۔

یَوَدُّ اَحَدُہُمۡ لَوۡ یُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَۃٍ ۚ

’’ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح اس کی عمر ہزار برس ہو جائے۔‘‘

وَ مَا ہُوَ بِمُزَحۡزِحِہٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ یُّعَمَّرَ ؕ

’’حالانکہ نہیں ہے اس کو بچانے والا عذاب سے اس قدر جینا۔‘‘

اگر ان کو ان کی خواہش کے مطابق طویل زندگی دے بھی دی جائے تو یہ انہیں عذاب سے تو چھٹکارا نہیں دلا سکے گی۔آخرت تو بالآخر آنی ہے اور انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا مل کر رہنی ہے ۔

وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۹۶﴾

’’اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔‘‘

97-101

حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دشمنی-

ویڈیو

قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۷﴾ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰىلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۹۸﴾ وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾ اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا نَّبَذَہٗ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾ وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۫۱۰۱﴾

تمہید

جیسا کہ قبل ازیں عرض کیا جا چکا ہے ‘ محمد رسول اللہﷺ کی بعثت یہود کے لیے بہت بڑی آزمائش ثابت ہوئی۔ اُن کا خیال تھا کہ آخری نبوت کا وقت قریب ہے اور یہ نبی بھی حسب سابق بنی اسرائیل میں سے مبعوث ہو گا۔ لیکن نبی آخر الزمانﷺ کی بعثت بنی اسماعیل میں سے ہو گئی۔ یہود جس احساسِ برتری کا شکار تھے اس کی رو سے وہ بنی اسماعیل کو حقیر سمجھتے تھے۔ ان کا کہناتھا کہ یہ اُمّی لوگ ہیں‘ اَن پڑھ ہیں‘ ان کے پاس نہ کوئی کتاب ہے نہ شریعت ہے اور نہ کوئی قانون اور ضابطہ ہے‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اُن میں سے ایک شخص کو کیسے چن لیا؟ ان کا خیال تھا کہ یہ سب جبرائیل کی ’’شرارت‘‘ ہے کہ وہ وحی لے کر محمد عربی (ﷺ) کے پاس چلا گیا۔ لہٰذا وہ حضرت جبرائیل کواپنا دشمن تصور کرتے تھے اور انہیں گالیاں دیتے تھے۔

یہ بات شاید آپ کو بڑی عجیب لگے کہ اہل تشیع میں سے فرقہ ’’غرابیہ‘‘ کا عقیدہ بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔ حضرت مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندیؒ نے اپنے مکاتیب میں اس فرقے کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت محمدﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں کی ارواح ایک دوسرے کے بالکل ایسے مشابہ تھیں جیسے ایک غراب (کو ا) دوسرے غراب کے مشابہ ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت جبرائیل ؑ دھوکہ کھا گئے۔ اللہ نے تو وحی بھیجی تھی حضرت علیؓ کے پاس ‘ لیکن وہ لے گئے حضرت محمدﷺ کے پاس۔ یہود کے ہاں یہ عقیدہ موجود تھا کہ اللہ نے توجبرائیل(علیہ السلام) کو بنی اسرائیل میں سے کسی کے پاس بھیجا تھا‘ لیکن وہ محمد (ﷺ) کے پاس چلے گئے‘ اور یہی مفروضہ ان کی حضرت جبرائیل ؑ سے دشمنی کی بنیاد تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: حدیث((لَـیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِ یْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ))۱۲ ’’میری اُمت پر بھی وہ تمام احوال لازماً وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوئے تھے‘ جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے مشابہ ہوتا ہے‘‘۔ چنانچہ اُمتِ مسلمہ میں سے کسی فرقے کا اس طرح کے عقائد اپنا لینا کچھ بعید نہیں ہے۔ اس سے اس حدیث کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔

(۱۲) سنن الترمذی‘ کتاب الایمان عن رسول اللہﷺ‘ باب ما جاء فی افتراق ھذہ الامۃ۔

آیت 97

قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ

’’(اے نبیؐ !)‘کہہ دیجیے جو کوئی بھی دشمن ہو جبرائیل‘ؑکا‘‘

فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ

’’تو (وہ یہ جان لے کہ) اُس نے تو نازل کیا ہے اس قرآن کو آپؐ کے دل پر اللہ کے حکم سے‘‘

اس معاملے میں جبرائیل ؑکوتو کچھ اختیار حاصل نہیں۔فرشتے جو کچھ کرتے ہیں اللہ کے حکم سے کرتے ہیں‘ اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرتے۔

مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ

’’یہ تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے اُس کلام کی جو اس کے سامنے موجودہے‘‘

وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۷﴾

’’اور ہدایت اور بشارت ہے اہل ایمان کے لیے ۔‘‘

اس کے بعد اب فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ‘ اس کے رسولؐ اور اُس کے ملائکہ سب ایک حیاتیاتی وحدت (organic whole) کی حیثیت رکھتے ہیں‘ یہ ایک جماعت ہیں‘ ان میں کوئی اختلاف یا افتراق نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی جبرائیل ؑ کا دشمن ہے تو وہ اللہ کا دشمن ہے ‘ اور اگر کوئی اللہ کے سچے رسولؐ کا دشمن ہے تو وہ اللہ کا بھی دشمن ہے اور جبرائیل ؑ کا بھی دشمن ہے۔

آیت 98

مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰىلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۹۸﴾

’’(تو کان کھول کر سن لو) جو کوئی بھی دشمن ہے اللہ کا اور اُس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اعلان ہے کہ) اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے۔‘‘

آیت 99

وَ لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ) ہم نے آپؐ ‘کی طرف نازل کر دی ہیں روشن آیات۔‘‘

وَ مَا یَکۡفُرُ بِہَاۤ اِلَّا الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۹۹﴾

’’اور انکار نہیں کرتے ان کا مگر وہی جو سرکش ہیں۔‘‘

یاد کیجیے سورۃ البقرۃ کے تیسرے رکوع میں یہ الفاظ آئے تھے : {وَ مَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾} ’’اور وہ گمراہ نہیں کرتا اس کے ذریعے سے مگر فاسقوں کو۔‘‘

آیت 100

اَوَ کُلَّمَا عٰہَدُوۡا عَہۡدًا

’’تو کیا( ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ) جب کبھی بھی انہوں نے کوئی عہد کیا‘‘

اللہ سے کوئی میثاق کیا یا اللہ کے رسولوں سے کوئی عہد کیا ۔

نَّبَذَہٗ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ ؕ

’’ان میں سے ایک گروہ نے اسے اٹھا کر پھینک دیا۔‘‘

بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

’’بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو یقین نہیں رکھتے۔‘‘

ان کی اکثریت ایمان و یقین کی دولت سے تہی دامن ہے۔

یہی حال آج اُمتِ مسلمہ کا ہے کہ مسلمان توسب ہیں‘ لیکن ایمانِ حقیقی‘ ایمانِ قلبی یعنی یقین والا ایمان کتنے لوگوں کو حاصل ہے؟ ؏

’’ڈھونڈ اب ان کو چراغِ رُخ زیبا لے کر!‘‘

آیت 101

وَ لَمَّا جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ

’’اور جب آیا اُن کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول (یعنی محمدﷺ)‘‘

مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ

’’تصدیق کرنے والا اُس کتاب کی جو ان کے پاس موجودہے‘‘

نَبَذَ فَرِیۡقٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ ٭ۙ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ

’’تو اہلِ کتاب میں سے ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا‘‘

کَاَنَّہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۫۱۰۱﴾

’’گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں۔‘‘

علماءِ یہود نے نبی آخر الزمانﷺ کی آمد کی پیشین گوئیاں چھپانے کی خاطر خود تورات کو پسِ پشت ڈال دیا اور بالکل انجانے سے ہو کر رہ گئے۔ ان کے عوام پوچھتے ہوں گے کہ کیا یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم کیا کرتے تھے؟ لیکن یہ جواب میں کہتے کہ یقین سے نہیں کہہ سکتے‘ ابھی تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو! انہوں نے ایسا رویہ اپنا لیا جیسے انہیں کچھ علم نہیں ہے۔

اب ایک اور حقیقت نوٹ کیجیے۔ جب کسی مسلمان اُمت میں دین کی اصل حقیقت اور اصل تعلیمات سے بعد پیدا ہوتا ہے تو لوگوں کا رجحان جادو‘ ٹونے‘ ٹوٹکے‘ تعویذ اور عملیات وغیرہ کی طرف ہو جاتا ہے۔ اللہ کی کتاب تو ہدایت کا سرچشمہ بن کر اُتری تھی‘ لیکن یہ اُس کو اپنی دُنیوی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بناتے ہیں۔ چنانچہ دشمن کو زیر کرنے اور محبوب کو قدموں میں گرانے کے لیے ’’عملیاتِ قرآنی‘‘ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ دھندے ہمارے ہاں بھی خوب چل رہے ہیں اور شاید سب سے زیادہ منفعت بخش کاروبار یہی ہے‘ جس میں نہ تو کوئی محنت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی سرمایہ کاری کی۔ بنی اسرائیل کا بھی یہی حال تھا کہ وہ دین کی اصل حقیقت کو چھوڑ کر جادو کے پیچھے چل پڑے تھے۔ فرمایا:

102-103

جادو کا عمل کفر ہے۔

ویڈیو

وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ وَ لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۰۳﴾

آیت 102

وَ اتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّیٰطِیۡنُ عَلٰی مُلۡکِ سُلَیۡمٰنَ ۚ

’’انہوں نے پیروی کی اُس علم کی جو شیاطین پڑھا کرتے تھے سلیمانؑ کی بادشاہت کے وقت‘‘

اللہ تعالیٰ نے جنات کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا۔ اُس وقت چونکہ ان کا انسانوں کے ساتھ زیادہ میل جول رہتا تھا ‘لہٰذا یہ انسانوں کو جادو وغیرہ سکھاتے رہتے تھے۔

وَ مَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’اور سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا‘ بلکہ یہ تو شیاطین تھے جو کفر کرتے تھے‘‘

یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ ٭

’’وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔‘‘

جادو کفر ہے‘ لیکن آپ کو آج بھی ’’نقشِ سلیمانی‘‘ کی اصطلاح سننے کو ملے گی۔ اس طرح بعض مسلمان بھی ان چیزوں کو حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کر رہے ہیں اور وہ ظلم اب بھی جاری ہے۔

وَ مَاۤ اُنۡزِلَ عَلَی الۡمَلَکَیۡنِ بِبَابِلَ ہَارُوۡتَ وَ مَارُوۡتَ ؕ

’’اور (وہ اُس علم کے پیچھے پڑے) جو نازل کیا گیا دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر بابل میں۔‘‘

بابل (Babylonia) عراق کا پرانا نام تھا۔ یروشلم پر حملہ کرنے والا بخت نصر (Nebuchadnezzar) بھی یہیں کا بادشاہ تھا اور نمرود بھی بابل ہی کا بادشاہ تھا۔ نمرود عراق کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا‘ جس کی جمع ’’نماردۃ‘‘ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں جنات اور انسانوں کا باہم میل جول ہونے کی وجہ سے جنات لوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی آخری آزمائش کے لیے دو فرشتوں کو زمین پر اتارا جو انسانی شکل و صورت میں لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ وہ خود ہی یہ واضح کر دیتے تھے کہ دیکھو جادو کفر ہے‘ ہم سے نہ سیکھو۔ لیکن اس کے باوجود لوگ سیکھتے تھے۔ گویا اُن پر اتمامِ حجت ہو گیا کہ اب ان کے اندر خباثت پورے طریقے سے گھر کر چکی ہے ۔

وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ

’’اور وہ نہیں سکھاتے تھے کسی کو بھی‘‘

حَتّٰی یَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَۃٌ فَلَا تَکۡفُرۡ ؕ

’’یہاں تک کہ وہ کہہ دیتے تھے کہ دیکھو ہم تو آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہیں‘ پس تم کفر مت کرو۔‘‘

فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِہٖ ؕ

’’پھر وہ سیکھتے تھے اُن دونوں سے وہ شے جن کے ذریعے سے آدمی اور اُس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے تھے۔‘‘

شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا اور لوگوں کے گھروں میں فساد ڈالنا ‘ اس طرح کے کام اب بھی بعض عورتیں بڑی سرگرمی سے سرانجام دیتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے تعویذ‘ گنڈے ‘ دھاگے اور نہ جانے کیا کچھ ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔

وَ مَا ہُمۡ بِضَآرِّیۡنَ بِہٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’اور نہیں تھے وہ ضرر پہنچانے والے اس کے ذریعے کسی کو بھی اللہ کے اِذن کے بغیر ۔‘‘

ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندئہ مؤمن کو یہ یقین ہو کہ اللہ کے اِذن کے بغیر نہ کوئی چیز فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی نقصان۔ چاہے کوئی دوا ہو وہ بھی باذنِ ربّ کام کرے گی ورنہ نہیں۔ جو کوئی بھی اسبابِ طبیعیہ ہیں ان کے اثرات تبھی ظاہر ہوں گے اگر اللہ چاہے گا‘ اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ جادو کا اثر بھی اگرہو گا تو اللہ کے اِذن سے ہو گا۔ چنانچہ بندۂ مؤمن کو اللہ کے بھروسے پر ڈٹے رہنا چاہیے اور مصائب و مشکلات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

وَ یَتَعَلَّمُوۡنَ مَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ ؕ

’’اور وہ سیکھتے تھے وہ چیزیں جو خود اُن کو بھی ضرر پہنچانے والی تھیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتی تھیں۔‘‘

وَ لَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰىہُ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ ۟ؕ

’’حالانکہ وہ خوب جان چکے تھے کہ جو بھی اس چیز کا خریدار بنا (یعنی جادو سیکھا) اُس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

وَ لَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِہٖۤ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ

’’اور بہت ہی بری تھی وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کر دیا۔‘‘

لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾

’’کاش انہیں علم ہوتا!‘‘

آیت 103

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا

’’اور اگر وہ ایمان رکھتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے‘‘

لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ

’’تو بدلہ پاتے اللہ کی طرف سے بہت ہی اچھا۔‘‘

لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۰۳﴾

’’کاش اُن کو معلوم ہوتا!‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے