تحریر

البقرة

آیات ۷۲ تا ۸۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

72-74

اللہ کی نشانی۔

ویڈیو

وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِیۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾ فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ کَذٰلِکَ یُحۡیِ اللّٰہُ الۡمَوۡتٰی ۙ وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۳﴾ ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕوَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾

آیت 72

وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِیۡہَا ؕ

’’اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا‘ اور اُس کا الزام تم ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔‘‘

چنانچہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ قاتل کون ہے۔

وَ اللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾

’’اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو کچھ تم چھپاتے تھے۔‘‘

اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا تھا کہ جو کچھ تم چھپا رہے ہو اسے نکال کر رہے گا اور واضح کردے گا۔

آیت 73

فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡہُ بِبَعۡضِہَا ؕ

’’تو ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اُس گائے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگاؤ۔‘‘

اس طرح وہ مردہ شخص بحکمِ الٰہی تھوڑی دیر کے لیے زندہ ہو گیا اور اُس نے اپنے قاتل کا نام بتا دیا۔

کَذٰلِکَ یُحۡیِ اللّٰہُ الۡمَوۡتٰی ۙ

’’دیکھو‘ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کر دے گا‘‘

وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۳﴾

’’اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں (اپنی قدرت کے نمونے) دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘

اب جو الفاظ آگے آ رہے ہیں بہت سخت ہیں۔ لیکن ان کو پڑھتے ہوئے دروں بینی ضرور کیجیے گا‘ اپنے اندر ضرور جھانکئے گا۔

آیت 74

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ

’’پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کے بعد‘‘

جب دین میں حیلے بہانے نکالے جانے لگیں اور حیلوں بہانوں سے شریعت کے احکام سے بچنے اور اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے تو اُس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دل کی سختی ہے۔

فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ

’’پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔‘‘

یہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی قرآن حکیم کا ایک بڑا عمدہ مقام ہے۔

وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ

’’اور پتھروں میں سے تو یقینا ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں۔‘‘

وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ

’’اور ان (پتھروں اور چٹانوں) میں سے بے شک ایسے بھی ہوتے ہیں جو شق ہو جاتے ہیں اور ان میں سے پانی برآمد ہو جاتاہے۔‘‘

وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ

’’اور ان میں سے یقینا وہ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔‘‘

وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۴﴾

’’اور اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے اُس سے کہ جو تم کر رہے ہو۔‘‘

قساوتِ قلبی کی یہ کیفیت اُس اُمت کے افراد کی بیان کی جا رہی ہے جسے کبھی اہلِ عالَم پر فضیلت عطا کی گئی تھی۔ اس اُمت پر چودہ سو برس ایسے گزرے کہ کوئی لمحہ ایسا نہ تھا کہ ان کے ہاں کوئی نبی موجود نہ ہو۔ انہیں تین کتابیں دی گئیں۔ لیکن یہ اپنی بدعملی کے باعث قعرِ مذلت میں جا گری۔ عقائد میں ملاوٹ‘ اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں مین میخ نکال کر اپنے آپ کو بچانے کے راستے نکالنے اور اعمال میں بھی’’ کتابُ الحِیَل‘‘ کے ذریعے سے اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے مبرا کر لینے کی روش کا نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس انجامِ بد سے بچائے۔ آمین!

75-82

بنی اسرائیل کے عوام اور علماء کے جرائم۔

ویڈیو

اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَا بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ قَالُوۡۤا اَتُحَدِّثُوۡنَہُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ لِیُحَآجُّوۡکُمۡ بِہٖ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾ اَ وَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾ وَ مِنۡہُمۡ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭ ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ لِیَشۡتَرُوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ وَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۷۹﴾ وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ؕ قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ عَہۡدًا فَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ عَہۡدَہٗۤ اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾ بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾

تمہید

اب تک ہم نے سورۃ البقرۃ کے آٹھ رکوع اور ان پر مستزاد تین آیات کا مطالعہ مکمل کیاہے۔ سابقہ اُمت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کے ساتھ خطاب کا سلسلہ سورۃ البقرۃ کے دس رکوعوں پر محیط ہے۔ یہ سلسلہ پانچویں رکوع سے شروع ہوا تھا اور پندرہویں رکوع کے آغاز تک چلے گا۔ اس سلسلۂ خطاب کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے اور وہ بہت فیصلہ کن ہے‘ جبکہ اگلے رکوع سے اسلوبِ کلام تبدیل ہو گیا ہے اور تہدید اور دھمکی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔میں نے عرض کیا تھا کہ پانچواں رکوع اس پورے سلسلۂ خطاب میں بمنزلۂ فاتحہ بہت اہم ہے اور جو بقیہ نو (۹) رکوع ہیں ان کے آغاز و اختتام پر بریکٹ کا اندازہے کہ دو آیتوں سے بریکٹ شروع ہوتی ہے اور انہی دو آیتوں پر بریکٹ ختم ہو تی ہے‘ جبکہ پانچویں رکوع کے مضامین اس پورے سلسلۂ خطاب سے ضرب کھا رہے ہیں ۔ ان رکوعوں میں بنی اسرائیل کے خلاف ایک مفصل فردِ قراردادِ جرم عائد کی گئی ہے‘ جس کے نتیجے میں وہ اُس منصب جلیلہ سے معزول کر دیے گئے جس پر دو ہزار برس سے فائز تھے اور ان کی جگہ پر اب نئی اُمتِ مسلمہ یعنی اُمتِ محمد(ﷺ) کا اس منصب پر تقرر عمل میں آیا اور اس مسند نشینی کی تقریب Installation Ceremony)) کے طور پر تحویلِ قبلہ کا معاملہ ہوا۔ یہ ربطِ کلام اگر سامنے نہ رہے تو انسان قرآ ن مجید کی طویل سورتوں کو پڑھتے ہوئے کھو جاتا ہے کہ بات کہاں سے چلی تھی اور اب کدھر جا رہی ہے۔

ان نو رکوعوں کے مضامین میں کچھ تو تاریخ بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ہیں کہ تم نے یہ کیا ‘تم نے یہ کیا! لیکن ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے بعض ایسے عظیم ابدی حقائق اور Universal Truths بیان ہوئے ہیں کہ اُن کا تعلق کسی وقت سے‘ کسی قوم سے یا کسی خاص گروہ سے نہیں ہے۔ وہ تو ایسے اصول ہیں جنہیں ہم سنت اللہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کائنات میں ایک تو قوانین طبیعیہ (Physical Laws) ہیں‘ جبکہ ایک Moral Laws ہیں جو اللہ کی طرف سے اس دنیا میں کارفرما ہیں۔ سورۃ البقرۃ کے زیر مطالعہ نو رکوعوں میں تاریخ بنی اسرائیل کے واقعات کے بیان کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایسی آیات آتی ہیں جو اس سلسلۂ کلام کے اندر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اُن میں درحقیقت موجودہ اُمتِ مسلمہ کے لیے راہنمائی پوشیدہ ہے۔مثال کے طور پر اس سلسلۂ خطاب کے دوران آیت ۶۱ میں وارد شدہ یہ الفاظ یاد کیجیے : {وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ} ’’اور ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے‘‘۔معلوم ہوا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان اُمت جس پر اللہ کے بڑے فضل ہوئے ہوں ‘اسے بڑے انعام و اکرام سے نوازا گیا ہو ‘ اور پھر وہ اپنی بے عملی یا بدعملی کے باعث اللہ تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہو جائے اور ذلت و مسکنت اُس پر تھوپ دی جائے۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے جو اِن الفاظ میں بیان ہو گئی۔ اُمتِ مسلمہ کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا آج ہم تو اُس مقام پر نہیں پہنچ گئے؟

دوسرا اسی طرح کا مقام گزشتہ آیت (۷۴) میں گزرا ہے‘ جہاں ایک عظیم ابدی حقیقت بیان ہوئی ہے : {ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ} ’’پھر تمہارے دل سخت ہو گئے اس سب کے بعد‘ پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی شدید تر ہیں‘‘۔ گویا اسی اُمتِ مسلمہ کا یہ حال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے دل اتنے سخت ہو جائیں کہ سختی میں پتھروں اور چٹانوں کو مات دے جائیں۔ حالانکہ یہ وہی اُمت ہے جس کے بارے میں فرمایا: {وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾} ؏

’’ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجا!‘‘

البتہ یہاں ایک بات واضح رہے کہ اس قساوتِ قلبی میں پوری اُمت مبتلا نہیں ہوا کرتی ‘ بلکہ اس کیفیت میں اُمت کے قائدین مبتلا ہو جاتے ہیں اور اُمت مسلمہ کے قائدین اُس کے علماء ہوتے ہیں۔ چنانچہ سب سے زیادہ شدت کے ساتھ یہ خرابی اُن میں دَرآتی ہے ۔ اس لیے کہ باقی لوگ تو پیروکار ہیں‘ ان کے پیچھے چلتے ہیں‘ ان پر اعتماد کرتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب کے پڑھنے والے اور اس کے جاننے والے ہیں۔ لیکن جو لوگ جان بوجھ کر اللہ کی کتاب میں تحریف کر رہے ہوں اورجانتے بوجھتے حق کو پہچان کر اُس کا انکار کر رہے ہوں انہیں تو پتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں! درحقیقت یہ سزا اُن پر آتی ہے۔ یہ بات ان آیات میں جو آج ہم پڑھنے چلے ہیں‘ بہت زیادہ واضح ہو جائے گی (اِن شاء اللہ)۔ فرمایا:

آیت 75

اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡا لَکُمۡ

’’تو کیا (اے مسلمانو!) تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے؟‘‘

عام مسلمانوں کو یہ توقع تھی کہ یہود دینِ اسلام کی مخالفت نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ مشرکین مکہ تو دینِ توحید سے بہت دُور تھے‘ رسالت کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا‘ کوئی کتاب ان کے پاس تھی ہی نہیں۔ جبکہ یہود تو اہلِ کتاب تھے‘ حاملینِ تورات تھے‘ موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے‘ توحید کے علمبردار تھے اور آخرت کا بھی اقرار کرتے تھے۔ چنانچہ عام مسلمانوں کا خیال تھا کہ انہیں تو محمد رسول اللہﷺ اور آپؐ‘ کی دعوت کو جھٹ پٹ مان لینا چاہیے۔ تو مسلمانوں کے دلوں میں یہود کے بارے میں جو حسنِ ظن تھا‘ یہاں اس کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمانو! تمہیں بڑی طمع ہے ‘ تمہاری یہ خواہش ہے‘ آرزو ہے‘ تمنا ہے‘ تمہیں توقع ہے کہ یہ تمہاری بات مان لیں گے۔

وَ قَدۡ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوۡنَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡہُ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۵﴾

’’جبکہ حال یہ ہے کہ ان میں ایک گروہ وہ بھی تھا کہ جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کرتا تھا۔‘‘

ظاہر بات ہے وہ گروہ ان کے علماء ہی کا تھا۔ عام آدمی تو اللہ کی کتاب میں تحریف نہیں کر سکتا۔

اب اگلی آیت میں بڑی عجیب بات سامنے آ رہی ہے۔ جس طرح مسلمانوں کے درمیان منافقین موجود تھے اسی طرح یہود میں بھی منافقین تھے۔ یہود میں سے کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب ان پر حق منکشف ہو گیا تو اب وہ اسلام کی طرف آنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے لیے اپنے خاندان کو‘ گھر بار کو‘ اپنے کاروبار کو اور اپنے قبیلے کو چھوڑنا بھی ممکن نہیں تھا‘ جبکہ قبیلوں کی سرداری اُن کے علماء کے پاس تھی۔ ایسے لوگوں کے دل کچھ کچھ اہل ایمان کے قریب آ چکے تھے۔ایسے لوگ جب اہل ایمان سے ملتے تھے تو کبھی کبھی وہ باتیں بھی بتا جاتے تھے جو انہوں نے علمائِ یہود سے نبی آخرالزمان ﷺ اور ان کی تعلیمات کے بارے میں سن رکھی تھیں کہ تورات ان کی گواہی دیتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ اپنے ’’شیاطین‘‘ یعنی علماء کے پاس جاتے تھے تو وہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے کہ بیوقوفو! یہ کیا کر رہے ہو؟ تم انہیں یہ باتیں بتا رہے ہو تاکہ اللہ کے ہاں جا کر وہ تم پر حجت قائم کریں کہ انہیں پتا تھا اور پھر بھی انہوں نے نہیں مانا!

آیت 76

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ

’’اور (ان میں سے کچھ لوگ ہیں کہ) جب ملتے ہیں اہل ایمان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔‘‘

وَ اِذَا خَلَا بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ

’’اور جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ‘‘

قَالُوۡۤا اَتُحَدِّثُوۡنَہُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ

’’تو کہتے ہیں کیا تم بتا رہے ہو ان کو وہ باتیں جو اللہ نے کھولی ہیں تم پر؟‘‘

لِیُحَآجُّوۡکُمۡ بِہٖ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ

’’تاکہ وہ ان کے ذریعے تم پر حجت قائم کریں تمہارے ربّ کے پاس!‘‘

اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۷۶﴾

’’کیا تمہیں عقل نہیں ہے؟‘‘

تم ذرا عقل سے کام لو اور یہ حقیقتیں جو تورات کے ذریعے سے ہمیں معلوم ہیں ‘ مسلمانوں کو مت بتاؤ۔ کیا تمہیں عقل نہیں ہے کہ ایسا بیوقوفی کا کام کر رہے ہو؟

ان کے اس مکالمے پر اللہ تعالیٰ کا تبصرہ یہ ہے :

آیت 77

اَ وَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۷﴾

’’اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو تو معلوم ہے وہ سب کچھ بھی جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھی جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔‘‘

تم چاہے یہ باتیں مسلمانوں کو بتائو یا نہ بتائو‘ اللہ کی طرف سے تو تمہارا محاسبہ ہو کر رہنا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔

آیت 78

وَ مِنۡہُمۡ اُمِّیُّوۡنَ

’’اور ان میں بعض اَن پڑھ ہیں‘‘

’’اُمی‘‘ کا لفظ قرآن مجید میں اصلاً تو مشرکینِ عرب کے لیے آتا ہے۔ اس لیے کہ اُن کے اندر پڑھنے لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا۔ کوئی آسمانی کتاب بھی اُن کے پاس نہیں تھی۔ لیکن یہاں یہود کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے بھی ایک طبقہ اَن پڑھ لوگوں پر مشتمل ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کا حال ہے کہ اکثر و بیشتر جاہل ہیں‘ ان میں سے بعض اگرچہ پی ایچ ڈی ہوں گے‘ لیکن انہیں قرآن کی ’’ا‘ ب‘ت‘‘ نہیں آتی‘ دین کے ’’مبادی‘‘ تک سے ناواقف ہیں۔ چنانچہ آج پڑھے لکھے مسلمانوں کی بھی عظیم اکثریت ’’پڑھے لکھے جاہلوں‘‘ پر مشتمل ہے۔ جبکہ ہماری اکثریت ویسے ہی بغیر پڑھی لکھی ہے۔ تو اب انہیں دین کاکیا پتا؟ وہ تو سارا اعتماد کریں گے علماء پر! کوئی بریلوی ہے تو بریلوی علماء پر اعتماد کرے گا‘ کوئی دیوبندی ہے تو دیوبندی علماء پر اعتماد کرے گا‘ کوئی اہل حدیث ہے تو اہل حدیث علماء پر اعتماد کرے گا۔ اب اُمیوں کا سہارا کیا ہوتا ہے؟ّ

لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ

’’وہ کتاب کا علم نہیں رکھتے‘ سوائے بے بنیاد آرزوئوں کے‘‘

ایسے لوگ کتاب سے تو واقف نہیں ہوتے‘ بس اپنی کچھ خواہشات اور آرزوئوں پر تکیہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان خواہشات کا ذکر آگے آ جائے گا۔یہود کو یہ زعم تھا کہ ہم تو اسرائیلی ہیں‘ ہم اللہ کے محبوب ہیں اور اس کے بیٹوں کی مانند چہیتے ہیں‘ ہماری تو شفاعت ہو ہی جائے گی۔ ہمیں تو جہنم میں داخل کیا بھی گیا تو تھوڑے سے عرصے کے لیے کیا جائے گا‘ پھر ہمیں نکال لیا جائے گا۔ یہ ان کی ’’اَمَانِیّ‘‘ ہیں۔ ’’اُمْنِیَّــۃٌ‘‘ کہتے ہیں بے بنیاد خواہش کو‘ اَمَانِیّ اس کی جمع ہے۔ اس کی صحیح تعبیر کے لیے انگریزی کا لفظ wishful thinkings ہے۔ یہ اپنی ان بے بنیاد خواہشات اور جھوٹی آرزوئوں کے سہارے جی رہے ہیں‘ کتاب کا علم ان کے پاس ہے ہی نہیں۔

وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾

’’اور وہ کچھ نہیں کر رہے مگر ظن و تخمین پر چلے جا رہے ہیں۔‘‘

ان کے پاس محض وہم و گمان اور ان کے اپنے من گھڑت خیالات ہیں۔

آیت 79

فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ یَکۡتُبُوۡنَ الۡکِتٰبَ بِاَیۡدِیۡہِمۡ ٭

’’پس ہلاکت اور بربادی ہے ان کے لیے جو کتاب لکھتے ہیں اپنے ہاتھ سے۔‘‘

’’وَیْل‘‘ کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ جہنم کا وہ طبقہ ہے جس سے خود جہنم پناہ مانگتی‘ہے۔

ثُمَّ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰذَا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ

’’پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘

لِیَشۡتَرُوۡا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ

’’تاکہ حاصل کرلیں اُس کے بدلے حقیر سی قیمت۔‘‘

یعنی لوگ علماءِ یہود سے شرعی مسائل دریافت کرتے تو وہ اپنے پاس سے مسئلے گھڑ کر فتویٰ لکھ دیتے اور لوگوں کو باور کراتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے‘ یہی دین کا تقاضا ہے۔ اب اس فتویٰ نویسی میں کتنی کچھ واقعتا انہوں نے صحیح بات کہی ‘ کتنی ہٹ دھرمی سے کام لیا اور کس قدر کسی رشوت پر مبنی کوئی رائے دی‘ اللہ‘کے حضور سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہو جائے گا۔ علامہ اقبال نے علمائے سوء کا نقشہ اِن الفاظ میں کھینچا ہے : ؎

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!

علماءِ یہود کا کردار اسی طرح کا تھا۔

فَوَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا کَتَبَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ

’’تو ہلاکت اور بربادی ہے ان کے لیے اس چیز سے کہ جو اُن کے ہاتھوں نے لکھی‘‘

وَ وَیۡلٌ لَّہُمۡ مِّمَّا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۷۹﴾

’’اور اُن کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے اس کمائی سے جو وہ کر رہے ہیں۔‘‘

یہ فتویٰ فروشی اور دین فروشی کا جو سارا دھندا ہے اس سے وہ اپنے لیے تباہی اور بربادی مول لے رہے ہیں‘ اس سے اُن کو اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔ اب آگے ان کی بعض ’’اَمَانِیّ‘‘ کا تذکرہ ہے۔

آیت 80

وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ؕ

’’اور وہ کہتے ہیں ہمیں تو آگ ہرگز چھو نہیں سکتی‘ مگر گنتی کے چند دن۔‘‘

گویاصرف دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہمیں چند دن کی سزا دے دی جائے گی کہ کوئی اعتراض نہ کردے کہ ’’اے اللہ! ہمیں آگ میں پھینکا جا رہا ہے اور انہیں نہیں پھینکا جا رہا‘ جبکہ یہ کردار میں ہم سے بھی بدتر تھے‘‘۔ چنانچہ اُن کا منہ بند کرنے کے لیے شاید ہمیں چند دن کے لیے آگ میں ڈال دیا جائے‘ پھر فوراً نکال لیا جائے گا۔

قُلۡ اَتَّخَذۡتُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ عَہۡدًا

’’ان سے کہیے کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے؟‘‘ کیا تمہارا اللہ سے کوئی قول و قرار ہو گیا ہے؟

فَلَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ عَہۡدَہٗۤ

’’کہ اب (تمہیں یہ یقین ہے کہ) اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا؟‘‘

اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۰﴾

’’یا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگا رہے ہو جنہیں تم نہیں جانتے؟‘‘

حقیقت یہی ہے کہ تم اللہ کی طرف اس بات کی نسبت کر رہے ہو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ہے۔

بنی اسرائیل کی فردِ قراردادِ جرم کے دوران گاہ بگاہ جو اہم ترین ابدی حقائق بیان ہو رہے ہیں‘ ان میں سے ایک عظیم حقیقت اگلی آیت میں آ رہی ہے ۔ فرمایا:

آیت 81

بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً

’’کیوں نہیں‘ جس شخص نے جان بوجھ کر ایک گناہ کمایا‘‘ لیکن اس سے مراد کبیرہ گناہ ہے‘ صغیرہ نہیں۔ سَیِّئَۃً کی تنکیر ’’تفخیم‘‘ کا فائدہ بھی دے رہی ہے۔

وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ

’’اور اس کا گھیرائو کر لیا اس کے گناہ نے‘‘

مثلاً ایک شخص سود خوری سے باز نہیں آرہا‘ باقی وہ نماز کا بھی پابند ہے اور تہجد کا بھی التزام کر رہا ہے تو اس ایک گناہ کی برائی اس کے گرد اس طرح چھا جائے گی کہ پھر اُس کی یہ ساری نیکیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ گناہ کے احاطہ کر لینے سے مراد یہ ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کر لیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو ‘ حتیٰ کہ دل سے ایمان و تصدیق رخصت ہو جائے۔ علماء کے ہاں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ ’’اَلْمَعَاصِیْ بَرِیْدُ الْـکُفْرِ‘‘ یعنی گناہ تو کفر کی ڈاک ہوتے ہیں۔گناہ پر مداومت کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ دل سے ایمان رخصت ہو جاتا ہے۔ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے‘ لیکن اندر سے ایمان ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی دروازے کی چوکھٹ کو دیمک چاٹ جاتی ہے اور اوپر لکڑی کا ایک باریک پرت (veneer) چھوڑ جاتی ہے۔

فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ

’’پس یہی ہیں آگ والے‘‘

ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾

’’وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

آیت 82

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ

’’اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں‘‘

اب نیک عمل کے بارے میں ہر شخص نے اپنا ایک تصور اور نظریہ بنا رکھا ہے ۔جبکہ نیک عمل سے قرآن مجید کی مراد دین کے سارے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ محض کوئی خیراتی ادارہ یا کوئی یتیم خانہ کھول دینا یا بیوائوں کی فلاح و بہبود کا انتظام کر دینا اور خود سودی لین دین اور دھوکہ فریب پر مبنی کاروبار ترک نہ کرنا نیکی کا مسخ شدہ تصور ہے۔ جبکہ نیکی کا جامع تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ تمام فرائض کی بجاآوری ہو‘ دین کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں‘ اپنے مال او رجان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد اور مجاہدہ کیا جائے اور اس کے دین کو قائم اور سربلند کرنے کی جدوجہد کی جائے۔

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ

’’یہی ہیں جنت والے‘‘

ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾

’’وہ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

83-84

بنی اسرائیل کااللہ سے عہد اور عہد شکنی۔

ویڈیو

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی ‌الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾ وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ لَا تَسۡفِکُوۡنَ دِمَآءَکُمۡ وَ لَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۸۴﴾

آیت 83

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟

’’اور یادکروجب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے۔‘‘

وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا

’’اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے‘‘

اللہ کے حق کے فوراً بعد والدین کے حق کا ذکر قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک مقام یہ ہے ۔

وَّ ذِی ‌الۡقُرۡبٰی

’’اور قرابت داروں کے ساتھ بھی (نیک سلوک کرو گے)‘‘

وَ الۡیَتٰمٰی

’’اور یتیموں کے ساتھ بھی‘‘

وَ الۡمَسٰکِیۡنِ

’’اور محتاجوں کے ساتھ بھی‘‘

وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا

’’اور لوگوں سے اچھی بات کہو‘‘

امر بالمعروف کر تے رہو۔ نیکی کی دعوت دیتے رہو۔

وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ؕ

’’اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘

یہ بنی اسرائیل سے معاہدہ ہو رہا ہے ۔

ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡکُمۡ

’’پھر تم (اس سے) پھر گئے سوائے تم میں سے تھوڑے سے لوگوں کے ‘‘

وَ اَنۡتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۸۳﴾

’’اور تم ہو ہی پھر جانے والے۔‘‘

تمہاری یہ عادت گویا طبیعتِ ثانیہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کے علاوہ ایک اور عہد بھی لیا تھا ‘ جس کا ذکر بایں الفاظ کیا جارہا ہے:

آیت 84

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ

’’اور جب ہم نے تم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ‘‘

لَا تَسۡفِکُوۡنَ دِمَآءَکُمۡ

’’تم اپنا خون نہیں بہائو گے‘‘

یعنی آپس میں جنگ نہیں کرو گے‘ باہم خون ریزی نہیں کروگے۔ تم بنی اسرائیل ایک وحدت بن کر رہو گے‘ تم سب بھائی بھائی بن کر رہو گے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے: {اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ} (الحُجُرٰت:۱۰)

وَ لَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ

’’اور نہ ہی تم نکالو گے اپنے لوگوں کو اُن کے گھروں سے‘‘

ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَشۡہَدُوۡنَ ﴿۸۴﴾

’’پھر تم نے اس کا اقرار کیا تھا مانتے ہوئے۔‘‘

یعنی تم نے اس قول و قرار کو پورے شعور کے ساتھ مانا تھا۔

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین کو فتح کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلا شہر اریحا (Jericko) فتح کیا گیا۔ اس کے بعد جب سارا فلسطین فتح کر لیا تو انہوں نے ایک مرکزی حکومت قائم نہیں کی‘ بلکہ بارہ قبیلوں نے اپنی اپنی بارہ حکومتیں بنا لیں۔ ان حکومتوں کی باہمی آویزش کے نتیجے میں ان کی آپس میں جنگیں ہوتی تھیں اور یہ ایک دوسرے پر حملہ کر کے وہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرتے تھے‘ انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ لیکن اگر ان میں سے کچھ لوگ فرار ہو کر کسی کافر ملک میں چلے جاتے اور کفار انہیں غلام یا قیدی بنا لیتے اوریہ اس حالت میں ان کے سامنے لائے جاتے تو فدیہ دے کر انہیں چھڑا لیتے کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ تمہارا اسرائیلی بھائی اگر کبھی اسیر ہو جائے تو اس کو فدیہ دے کر چھڑا لو۔ یہ ان کا جزوی اطاعت کا طرزِ عمل تھا کہ ایک حکم کو تو مانا نہیں اور دوسرے پر عمل ہو رہا ہے۔ اصل حکم تو یہ تھا کہ آپس میں خونریزی مت کرو اور اپنے بھائی بندوں کو ان کے گھروں سے مت نکالو۔ اس حکم کی تو پروا نہیں کی اور اسے توڑ دیا ‘لیکن اس وجہ سے جو اسرائیلی غلام بن گئے یا اسیر ہو گئے اب ان کو بڑے متقیانہ انداز میں چھڑا رہے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے‘ شریعت کا حکم ہے۔ یہ ہے وہ تضاد جو مسلمان اُمتوں کے اندر پیدا ہو جاتا ہے۔

85-86

شریعت پر جزوی عمل کی سزا۔

ویڈیو

ثُمَّ اَنۡتُمۡ ہٰۤـؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تُخۡرِجُوۡنَ فَرِیۡقًا مِّنۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِہِمۡ ۫ تَظٰہَرُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ؕ وَ اِنۡ یَّاۡتُوۡکُمۡ اُسٰرٰی تُفٰدُوۡہُمۡ وَ ہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیۡکُمۡ اِخۡرَاجُہُمۡ ؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫ فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿٪۸۶﴾

آیت 85

ثُمَّ اَنۡتُمۡ ہٰۤـؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ

’’پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے ہی لوگوں کو قتل بھی کرتے ہو‘‘

وَ تُخۡرِجُوۡنَ فَرِیۡقًا مِّنۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِہِمۡ ۫

’’اور اپنے ہی لوگوں میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہو‘‘

تَظٰہَرُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ؕ

’’اُن پر چڑھائی کرتے ہو گناہ اور ظلم و زیادتی کے‘ساتھ۔‘‘

وَ اِنۡ یَّاۡتُوۡکُمۡ اُسٰرٰی تُفٰدُوۡہُمۡ

’’اور اگر وہ قیدی بن کر تمہارے پاس آئیں تو تم فدیہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو‘‘

وَ ہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیۡکُمۡ اِخۡرَاجُہُمۡ ؕ

’’حالانکہ ان کا نکال دیناہی تم پرحرام کیاگیا تھا۔‘‘

اب دیکھئے اس واقعہ سے جو اخلاقی سبق (moral lesson) دیا جا رہا ہے وہ ابدی ہے ۔اور جہاں بھی یہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے گا تاویلِ عام کے اعتبار سے یہ آیت اس پر منطبق ہو گی۔

اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ

’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟‘‘

فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ

’’تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے‘‘

اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ

’’سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں۔‘‘

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ

’’اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔‘‘

یہ ایک بہت بڑی آفاقی سچائی (universal truth) بیان کر دی گئی ہے‘ جو آج اُمتِ مسلمہ پر صد فی صد منطبق ہو رہی ہے۔ آج ہمارا طرزِ عمل بھی یہی ہے کہ ہم پورے دین پر چلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہم میں سے ہر گروہ نے کوئی ایک شے اپنے لیے حلال کر لی ہے۔ ملازمت پیشہ طبقہ رشوت کو اس بنیاد پر حلال سمجھے بیٹھا ہے کہ کیا کریں‘ اس کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ کاروباری طبقہ کے نزدیک سود حلال ہے کہ اس کے بغیر کاروبار نہیں چلتا۔ یہاں تک کہ یہ جو طوائفیں ’’بازارِ حسن‘‘ سجا کر بیٹھی ہیں وہ بھی کہتی ہیں کہ کیا کریں‘ ہمارا یہ دھندا ہے‘ ہم بھی محنت کرتی ہیں‘ مشقت کرتی ہیں۔ ان کے ہاں بھی نیکی کا ایک تصور موجود ہے۔ چنانچہ محرم کے دنوں میں یہ اپنا دھندا بند کر دیتی ہیں ‘ سیاہ کپڑے پہنتی ہیں اور ماتمی جلوسوں کے ساتھ بھی نکلتی ہیں۔ ان میں سے بعض مزاروں پر دھمال بھی ڈالتی ہیں۔ ان کے ہاں اس طرح کے کام نیکی شمار ہوتے ہیں اور جسم فروشی کو یہ اپنی کاروباری مجبوری سمجھتی ہیں۔ چنانچہ ہمارے ہاں ہر طبقے میں نیکی اور بدی کا ایک امتزاج ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ کلی اطاعت کا ہے ‘ جزوی اطاعت اس کے ہاں قبول نہیں کی جاتی ‘بلکہ الٹا منہ پر دے ماری جاتی ہے۔ آج اُمتِ مسلمہ عالمی سطح پر جس ذلت و رسوائی کا شکار ہے اس کی وجہ یہی جزوی اطاعت ہے کہ دین کے ایک حصے کو مانا جاتا ہے اور ایک حصے کو پائوں تلے روند دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کی پاداش میں آج ہم ’’ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ‘‘ کا مصداق بن گئے ہیں اور ذلت و مسکنت ہم پر تھوپ دی گئی ہے۔ باقی رہ گیا قیامت کا معاملہ تو وہاں شدید ترین عذاب کی وعید ہے۔ اپنے طرزِ عمل سے تو ہم اُس کے مستحق ہو گئے ہیں‘ تاہم اللہ تعالیٰ کی رحمت دست گیری فرما لے تو اُس کا اختیار ہے۔

آیت کے آخر میں فرمایا:

وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾

’’اور اللہ غافل نہیں ہے اُس سے جو تم کر رہے ہو۔‘‘

سیٹھ صاحب ہر سال عمرہ فرما کر آ رہے ہیں‘ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ یہ عمر ے حلال کمائی سے کیے جا رہے ہیں یا حرام سے! وہ تو سمجھتے ہیں کہ ہم نہا دھو کر آ گئے ہیں اور سال بھر جو بھی حرام کمائی کی تھی سب پاک ہو گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں سے ناواقف نہیں ہے۔ وہ تمہاری داڑھیوں سے ‘ تمہارے عماموں سے اور تمہاری عبا اور قبا سے دھوکہ نہیں کھائے گا۔ وہ تمہارے اعمال کا احتساب کر کے رہے گا۔

آیت 86

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا بِالۡاٰخِرَۃِ ۫

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی اختیار کر لی ہے آخرت کو چھوڑ کر۔‘‘

فَلَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿٪۸۶﴾

’’سو اَب نہ تو اُن سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی اُن کی کوئی مدد کی جائے گی۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے