تحریر

البقرة

آیات ۴۷ تا ۷۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

47-48

نجاتِ اخروی کے لیے جھوٹے شروں کی نفی

ویڈیو

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

تمہید

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے‘سورۃ البقرۃ کے پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک‘ بلکہ پندرہویں رکوع کی پہلی دو آیات بھی شامل کر لیجیے‘ یہ دس رکوعوں سے دو آیات زائد ہیں کہ جن میں خطاب کل کا کل بنی اسرائیل سے ہے۔ البتہ ان میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے‘ جس میں انہیں نبی کریمﷺ پر ایمان لانے کی پرزور دعوت دی گئی ہے‘ جبکہ بقیہ نو رکوع اُس فردِ قراردادِ جرم پر مشتمل ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ احسان و اکرام کیا‘تم پر یہ فضل کیا‘ تم پر یہ کرم کیا‘ تمہیں یہ حیثیت دی‘ تمہیں یہ مقام دیا اور تم نے اس اس طور سے اپنے اس مشن کی خلاف ورزی کی جو تمہارے سپرد کیا گیا تھا اور اپنے مقام و مرتبہ کو چھوڑ کر دُنیا پرستی کی روش اختیار کی۔ ان نو رکوعوں میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا تو ایک بہت بڑا حصہ اُس کے خدوخال (features) سمیت آ گیا ہے‘ لیکن اصل میں یہ اُمتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک پیشگی تنبیہہ ہے کہ کوئی مسلمان اُمت جب بگڑتی ہے تو اُس میں یہ اور یہ خرابیاں آ جاتی ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں رسول اللہﷺ کی احادیث بھی موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((لَـیَاْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِ یْلَ حَذْوَ النَّعْلَ بِالنَّعْلِ)) ۷

’’میری اُمت پر بھی وہ سب حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے‘بالکل ایسے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں جو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہﷺ کا ارشاد نقل ہوا ہے:

حدیث((لَـتَـتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَـکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَــوْ سَلَـکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَـکْتُمُوْہُ)) قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْـیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ : ((فَمَنْ؟)) ۸

’’تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے‘‘۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! یہود و نصاریٰ کی؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تو اور کس کی؟‘‘

ترمذی کی مذکورہ بالا حدیث میں تو یہاں تک الفاظ آتے ہیں کہ: حدیث((حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَّنْ اَتٰی اُمَّــہٗ عَلَانِیَۃً لَــکَانَ فِیْ اُمَّتِیْ مَنْ یَصْنَعُ ذٰلِکَ)) یعنی اگر اُن میں کوئی بدبخت ایسا اٹھا ہو گا جس نے اپنی ماں سے علی الاعلان زنا کیا تھا تو تم میں سے بھی کوئی شقی ایسا ضرور اٹھے گا جو یہ حرکت کرے گا۔ اس اعتبار سے اِن رکوعوں کو پڑھتے ہوئے یہ نہ سمجھئے کہ یہ محض اَگلوں کی داستان ہے‘ بلکہ : ؎

’’خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں

گفتہ آید در حدیث دیگراں‘‘

کے مصداق یہ ہمارے لیے ایک آئینہ ہے اور ہمیں ہر مرحلے پر سوچنا ہو گا‘ دروں بینی کرنی ہو گی کہ کہیں اسی گمراہی میں ہم بھی تو مبتلا نہیں؟

دوسرا اہم نکتہ پہلے سے ہی یہ سمجھ لیجیے کہ سورۃ البقرۃ کی آیات ۴۷۔۴۸ جن سے اس چھٹے رکوع کا آغاز ہو رہا ہے‘ یہ دو آیتیں بعینہٖ پندرہویں رکوع کے آغاز میں پھر آئیں گی۔ ان میں سے پہلی آیت میں تو شوشے بھر کا فرق بھی نہیں ہے‘ جبکہ دوسری آیت میں صرف الفاظ کی ترتیب بدلی ہے‘ مضمون وہی ہے۔یوں سمجھئے کہ یہ گویا دو بریکٹ ہیں اور نو (۹) رکوعوں کے مضامین ان دو بریکٹوں کے درمیان ہیں۔ اور سورۃ البقرۃ کا پانچواں رکوع جو اِن بریکٹوں سے باہر ہے‘ اس کے مضامین بریکٹوں کے اندر کے سارے مضامین سے ضرب کھا رہے ہیں۔ یہ حساب کا بہت ہی عام فہم سا قاعدہ ہے کہ بریکٹ کے باہر لکھی ہوئی رقم‘ جس کے بعد جمع یا تفریق وغیرہ کی کوئی علامت نہ ہو‘ وہ بریکٹ کے اندر موجود تمام اقدار (values) کے ساتھ ضرب کھائے گی۔ تو گویا اس پورے معاملے میں ہر ہر قدم پر رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کی دعوت موجود ہے۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اس حصے میں بعض آیات ایسی آ گئی ہیں جن سے کچھ لوگوں کو مغالطہ پیدا ہوا یا جن سے کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر فتنہ پیدا کیا کہ نجاتِ اُخروی کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان ضروری نہیں ہے۔اس فتنے نے ایک بار اکبر کے زمانے میں ’’دینِ الٰہی‘‘ کی شکل میں جنم لیا تھا کہ آخرت میں نجات کے لیے صرف خدا کو مان لینا ‘ آخرت کو مان لینا اور نیک اعمال کرنا کافی ہے‘ کسی رسول پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ یہ فتنہ صوفیاء میں بھی بہت بڑے پیمانے پر پھیلا اور ’’مسجد مندر ہکڑو نور‘‘ کے فلسفے کی تشہیر کی گئی۔ یعنی مسجد میں اور مندر میں ایک ہی نور ہے‘ سب مذاہب اصل میں ایک ہی ہیں‘ سارا فرق شریعتوں کا اور عبادات کی ظاہری شکل کا ہے۔ اور وہ رسولوں سے متعلق ہے۔ چنانچہ رسولوں کو بیچ میں سے نکال دیجیے تو یہ ’’دینِ الٰہی‘‘ (اللہ کا دین) رہ جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا جو ہندوستان میں اُس وقت اٹھا جب سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کا اقتدار چوٹی (climax) پر تھا۔ یہ فتنہ جس مسلمان حکمران کا اٹھایا ہوا تھا وہ ’’اکبر اعظم‘‘ اور ’’مغل اعظم‘‘ کہلاتا تھا۔ اس کے پیش کردہ ’’دین‘‘ کا فلسفہ یہ تھا کہ دینِ محمدیﷺ کا دَور ختم ہو گیا (نعوذ باللہ) ‘وہ ایک ہزار سال کے لیے تھا‘ اب دوسرا ہزار سال (الف ثانی) ہے اور اس کے لیے نیا دین ہے۔ اُسے ’’دینِ اکبری‘‘ بھی کہا گیا اور ’’دینِ الٰہی‘‘ بھی۔ سورۃ البقرۃ کے اس حصے میں ایک آیت آئے گی جس سے کچھ لوگوں نے اس ’’دینِ الٰہی‘‘ کے لیے استدلال کیا تھا۔

ہندوستان میں بیسویں صدی میں یہ فتنہ پھر اٹھا جب گاندھی جی نے ’’متحدہ وطنی قومیت‘‘ کا نظریہ پیش کیا۔ اس موقع پر مسلمانوں میں سے ایک بہت بڑا نابغہ (genius) انسان ابوالکلام آزاد بھی اس فتنے کا شکارہو گیا۔ گاندھی جی اپنی پرارتھنا میں کچھ قرآن کی تلاوت بھی کرواتے‘ کچھ گیتا بھی پڑھواتے‘ کچھ اُپنشدوں سے‘ کچھ بائبل سے اور کچھ گُروگرنتھ سے بھی استفادہ کیا جاتا۔ متحدہ وطنی قومیت کا تصور یہ تھا کہ ایک وطن کے رہنے والے لوگ ایک قوم ہیں‘ لہٰذا ان سب کو ایک ہونا چاہیے‘ مذہب تو انفرادی معاملہ ہے‘ کوئی مسجد میں چلا جائے‘ کوئی مندر میں چلا جائے‘ کوئی گُردوارے میں چلا جائے‘ کوئی کلیسا‘ سنیگاگ یا چرچ میں چلا جائے تو اس سے کیا فرق واقع ہوتا ہے؟ اس طرح کے نظریات اور تصورات کا توڑ یہی ہے کہ یوں سمجھ لیجیے کہ پانچویں رکوع کی سات آیات بریکٹ کے باہر ہیں اور یہ بریکٹوں کے اندر کے مضمون سے مسلسل ضرب کھا رہی ہیں۔ چنانچہ ان بریکٹوں کے درمیان جتنا بھی مضمون آ رہا ہے وہ ان کے تابع ہو گا۔ گویا جہاں تک محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کا معاملہ ہے وہ ہر مرحلے پر مقدر (understood) سمجھا جائے گا۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔

(۷) سنن الترمذی‘ کتاب الایمان‘ باب ما جاء فی افتراق ھذہ الامۃ۔

(۸) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل۔ وصحیح مسلم‘ کتاب العلم‘ باب اتباع سنن الیھود والنصاریٰ۔

آیت 47

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ

’’اے یعقوب کی اولاد! یاد کرو میرے اُس انعام کو جو میں نے تم پرکیا‘‘

اس کی وضاحت گزشتہ رکوع میں ہو چکی ہے‘ لیکن یہاں آگے جو الفاظ آ رہے ہیں بہت زوردار ہیں:

وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾

’’اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام جہانوں پر۔‘‘

عربی نحو کا یہ قاعدہ ہے کہ کہیں ظرف کا تذکرہ ہوتا ہے (یعنی جس میں کوئی شے ہے) لیکن اس سے مراد مظروف ہوتا ہے (یعنی ظرف کے اندر جو شے ہے)۔ یہاں بھی ظرف کی جمع لائی گئی ہے لیکن اس سے مظروف کی جمع مراد ہے۔ ’’تما م جہانوں پر فضیلت‘‘ سے مراد ’’جہان والوں پر فضیلت‘‘ ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں تمام اقوامِ عالم پر فضیلت عطا کی۔ عالمِ انسانیت کے اندر جتنے بھی مختلف گروہ ‘ نسلیں اور طبقات ہیں اُن میں فضیلت عطاکی۔

آیت 48

وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا

’’اور ڈرو اُس دن سے کہ جس دن کام نہ آ سکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی‘‘

قبل ازیں یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ انسان کے عمل کے اعتبار سے سب سے مؤثر شے ایمان بالآخرۃ ہے۔ محاسبۂ آخرت اگر مستحضر رہے گا تو انسان سیدھا رہے گا‘ اور اگر اس میں ضعف آ جائے تو ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت بھی نمعلوم کیا کیا شکلیں اختیار کر لیں۔ اس آیت کے اندر چار اعتبارات سے محاسبۂ اُخروی پر زور دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے فرمایا کہ ڈرو اُس دن سے جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی کام نہ آسکے گی۔

وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ

’’اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی‘‘

وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ

’’اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا‘‘

وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔‘‘

ایمان بالآخرۃ کے ضمن میں لوگوں نے طرح طرح کے عقیدے گھڑ رکھے ہیں‘ جن میں شفاعتِ باطلہ کا تصور بھی ہے۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے لات‘ منات اور عزیٰ وغیرہ کے نام سے اُن کے بت بنا رکھے تھے‘ جنہیں وہ پوجتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی یہ لاڈلی بیٹیاں ہمیں اپنے ’’اباجان‘‘ سے چھڑا لیں گی۔ (نعوذ باللّٰہ من ذٰلک!) ہمارے ہاں بھی شفاعتِ باطلہ کا تصور موجود ہے کہ اولیاء اللہ ہمیں چھڑالیں گے۔ خود رسول اللہﷺ کی شفاعت کے بارے میں غلط تصورات موجود ہیں۔ ایک شفاعت حقہ ہے‘ جو برحق ہے‘ اس کی وضاحت کا یہ موقع نہیں ہے۔اسی سورۂ مبارکہ میں جب ہم آیت الکرسی کا مطالعہ کریں گے تو اِن شاء اللہ اس کی وضاحت بھی ہو گی۔ یہ سارے تصورات اور خیالات جو ہم نے گھڑ رکھے ہیں‘ ان کی نفی اس آیت کے اندر دوٹوک انداز میں کر دی گئی ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل پر جو احسانات و انعامات ہوئے اور ان کی طرف سے جو ناشکریاں ہوئیں ا ن کا تذکرہ بڑی تیزی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعات کئی سو برس پر محیط ہیں اور ان کی تفصیل مکی سورتوں میں آ گئی ہے۔ ان واقعات کی سب سے زیادہ تفصیل سورۃ الاعراف میں موجودہے۔ یہاں پر تو واقعات کا پے بہ پے تذکرہ کیا جا رہا ہے‘ جیسے کسی ملزم پر فردِ قراردادِ جرم عائد کی جاتی ہے تو اُس میں سب کچھ گنوایا جاتا ہے کہ تم نے یہ کیا‘ یہ کیا اور یہ کیا۔

49-61

بنی اسرائیل کے لیے ملامت

ویڈیو

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۴۹﴾ وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾ وَ اِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰۤی اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۱﴾ ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۲﴾ وَ اِذۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ الۡفُرۡقَانَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۵۳﴾ وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنَّکُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِکُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمۡ فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ عِنۡدَ بَارِئِکُمۡ ؕ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۴﴾ وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۵﴾ ثُمَّ بَعَثۡنٰکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۶﴾ وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۵۷﴾ وَ اِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾ فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾ وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۰﴾ وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَ قِثَّآئِہَا وَ فُوۡمِہَا وَ عَدَسِہَا وَ بَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿٪۶۱﴾

آیت 49

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ

’’اور ذرا یاد کرو جب کہ ہم نے تمہیں نجات دی تھی فرعون کی قوم سے‘‘

یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ

’’وہ تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیے ہوئے تھے‘‘

یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ

’’تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔‘‘

فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اُس کو قتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جا سکے اور انہیں لونڈیاں بنایا جا سکے۔بنی اسرائیل کے ساتھ یہ معاملہ دو مواقع پر ہوا ہے۔ اس کی تفصیل اِن شاء اللہ بعد میں آئے گی۔

وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۴۹﴾

’’اور اس میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے لیے بڑی آزمائش تھی۔‘‘

آیت 50

وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ

’’اور یاد کرو جبکہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو (یا دریا کو) پھاڑدیا‘‘

یہ ایک مختلف فیہ بات ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا آنے کے لیے کس سمندر یا دریا کو عبور کیا تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریائے نیل کو عبور کر کے گئے تھے‘ لیکن یہ بات اس اعتبار سے غلط ہے کہ دریائے نیل تو مصر کے اندر بہتا ہے‘ وہ کبھی بھی مصر کی حد نہیں بنا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ بحیرۂ قلزم (Red Sea) اوپر جا کر دو کھاڑیوں میں تبدیل ہو جاتا ہے‘ مشرق کی طرف خلیج عقبہ اور مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور ان کے درمیان جزیرہ نمائے سینا (Sinai Peninsula) ہے۔ یہ اسی طرح کی تکون ہے جیسے جزیرہ نمائے ہند (Indian Peninsula) ہے۔ خلیج سویز اور بحیرئہ روم کے درمیان کئی بڑی بڑی جھیلیں تھیں‘ جن کو باہم جوڑ جوڑ کر‘ درمیان میں حائل خشکی کو کاٹ کر نہر سویز بنائی گئی ہے‘ جو اَب ایک مسلسل رابطہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑاور بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ مجھے خود بھی اسی رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ کوہِ طور اس جزیرہ نمائے سیناکی نوک (tip) پر واقع ہے‘ جہاں حضرت موسٰی علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے بلایا گیا اور پھر انہیں تورات دی گئی۔ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو اس طرح عبور کیا کہ حضرت موسٰی ؑ کے عصا کی ایک ضرب سے سمندر پھٹ گیا۔ ازروئے الفاظِ قرآنی : {فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۶۳﴾} (الشُّعراء) ’’پس سمندر پھٹ گیا اور ہو گیاہر حصہ جیسے بڑا پہاڑ‘‘۔ سمندر کا پانی دونوں طرف پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا اور بنی اسرائیل اس کے درمیان میں سے نکل گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے جب فرعون اپنا لشکر لے کر آیا تو اُس نے سوچا کہ ہم بھی ایسے ہی نکل جائیں گے ‘ لیکن وہ غرق ہو گئے۔ اس لیے کہ دونوں طرف کا پانی آپس میں مل گیا۔ یہ ایک معجزانہ کیفیت تھی اور یہ بات فطرت (nature) کے قوانین کے مطابق نہیں تھی۔

فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾

’’پھر تمہیں تو نجات دے دی اور فرعون کے لوگوں کو غرق کر دیا جبکہ تم دیکھ رہے تھے۔‘‘

تمہاری نگاہوں کے سامنے فرعون کے لائو لشکر کو غرق کر دیا۔ بنی اسرائیل خلیج سویز سے گزر چکے تھے اور دوسری جانب کھڑے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ اِدھر سے فرعون اور اس کا لائو لشکر سمندر میں داخل ہوا تو پانی دونوں طرف سے آ کر مل گیا اور یہ سب غرق ہو گئے۔

آیت 51

وَ اِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰۤی اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً

’’اور یاد کرو جب ہم نے وعدہ کیا موسیٰ ؑسے چالیس رات کا‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا فرمانے کے لیے چالیس دن رات کے لیے کوہِ طور پربلایا ۔

ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ

’’پھر تم نے بنا لیا بچھڑے کو (معبود) اُس کے بعد‘‘

بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں بچھڑے کی پرستش شروع کر دی اور اسے معبودبنا لیا۔

وَ اَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۵۱﴾

’’اور تم ظالم تھے۔‘‘

بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ الفاظِ قرآنی : {اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿﴾} کے مصداق عظیم ترین ظلم جو ہے وہ شرک ہے‘ اور بنی اسرائیل نے شرکِ جلی کی یہ مکروہ ترین شکل اختیار کی کہ بچھڑے کی پرستش شروع کر دی!

آیت 52

ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ

’’ پھر ہم نے تمہیں اس کے بعد بھی معاف کیا‘‘ یہ ہمارا کرم رہا ہے ‘ ہماری رحمت رہی ہے۔

لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۲﴾

’’تاکہ تم شکر کرو۔‘‘

آیت 53

وَ اِذۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ الۡفُرۡقَانَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۵۳﴾

’’اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ ؑکتاب اور فرقان عطا فرمائی تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘

’’فرقان‘‘ سے مراد حق اور باطل کے درمیان فرق کر دینے والی چیز ہے اور کتاب کا لفظ عام طور پر شریعت کے لیے آتا ہے۔

آیت 54

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ

’’اور یاد کرو جبکہ کہا تھا موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے‘‘

یٰقَوۡمِ اِنَّکُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِکُمُ الۡعِجۡلَ

’’اے میری قوم کے لوگو! یقینا تم نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے بچھڑے کو معبود بنا کر‘‘

فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمۡ

’’پس اب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی جناب میں‘‘

فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ

’’تو قتل کرو اپنے آپ کو۔‘‘

یہ واقعہ تورات میں تفصیل سے آیا ہے‘ قرآن میں اس کی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ بہت سے واقعات جن کا قرآن میں اجمالاً ذکر ہے ان کی تفصیل کے لیے ہمیں تورات سے رجوع کرنا پڑتا ہے‘ ورنہ بعض آیات کا صحیح صحیح مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یہاں الفاظ آئے ہیں : {فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ} ’’مار ڈالو اپنی جانیں‘‘ یا ’’قتل کرو اپنے آپ کو ‘‘۔ اس کے کیا معنی ہیں؟یہ دراصل قتلِ مرتد کی سزا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگوں نے یہ کفر اور شرک کیا کہ بچھڑے کو معبود بنا لیا‘ باقی لوگوں نے ایسا نہیں کیا۔ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ ہر قبیلے کے وہ لوگ جو اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے اپنے اپنے قبیلے کے ان لوگوں کو قتل کریں جو اس کفر و شرک کے مرتکب ہوئے۔ ’’فَاقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے قبیلے کے لوگوں کو قتل کرو۔ اس لیے کہ قبائلی زندگی بڑی حساس ہوتی ہے اور کسی دوسرے قبیلے کی مداخلت سے قبائلی عصبیت بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس حکم پر عمل درآمد کے نتیجے میں ستر ہزار یہودی قتل ہوئے۔ اس سے بڑی توبہ اور اس سے بڑی تطہیر (purge) ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی نظریاتی جماعت کے اندر تزکیہ اور تطہیر کا عمل بہت ضروری ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ایک نظریے کو قبول کرکے جماعت سے وابستہ ہو جاتے ہیں‘ لیکن رفتہ رفتہ نظریہ اوجھل ہو جاتا ہے اور اپنے مفادات اور چودھراہٹیں مقدم ہو جاتی ہیں۔ اسی سے جماعتیں خراب ہوتی ہیں اور غلط راستے پر پڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ نظریاتی جماعتوں میں یہ عمل بہت ضروری ہوتا ہے کہ جو افراد نظریے سے منحرف ہو جائیں ان کو جماعت سے کاٹ کر علیحدہ کردیاجائے۔

قرآن حکیم کے اس مقام سے قتلِ مرتد کی سزا ثابت ہوتی ہے‘ جبکہ قتلِ مرتد کا واضح حکم حدیثِ نبویؐ میں موجود ہے۔ہمارے بعض جدید دانشور اسلام میں قتل مرتد کی حد کو تسلیم نہیں کرتے‘ لیکن میرے نزدیک یہ شریعت موسوی ؑ کا تسلسل ہے۔ شریعت موسوی ؑکے جن احکام کے بارے میں صراحتاً یہ معلوم نہیں کہ انہیں تبدیل کر دیا گیا ہے وہ شریعت محمدیﷺ کا جزو بن گئے ہیں۔ شادی شدہ زانی پر حدِ رجم کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن مجید میں

حدِ رجم کی کوئی صریح آیت موجود نہیں ہے‘ لیکن احادیث میں یہ سزا موجود ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں مرتد کے قتل کی کوئی صریح آیت موجود نہیں ہے‘ لیکن یہ حدیث اور سنت سے ثابت ہے۔ البتہ ان دونوں سزاؤں کا منبع اور ماخذ دراصل تورات ہے۔ اس اعتبار سے قرآن حکیم کا یہ مقام بہت اہم ہے‘ لیکن اکثر لوگ یہاں سے بہت سرسری طور پر گزر جاتے ہیں۔

بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ تھی ۔ جزیرہ نمائے سینا پہنچنے کے بعد ان کی تعداد مزید بڑھ گئی ہو گی۔ اُن میں سے ستر ہزار افراد کو شرک کی پاداش میں قتل کیا گیا‘ اور ہر قبیلے نے جو اپنے مرتد تھے ان کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔

ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ عِنۡدَ بَارِئِکُمۡ ؕ

’’یہی تمہارے لیے تمہارے ربّ کے نزدیک بہتر بات ہے۔‘‘

فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ ؕ

’’تو (اللہ نے) تمہاری توبہ قبول کر لی۔‘‘

بنی اسرائیل کی توبہ اس طرح قبول ہوئی کہ اُمت کا تزکیہ ہوا اور ان میں سے جن لوگوں نے اتنی بڑی غلط حرکت کی تھی ان کو ذبح کر کے ‘ قتل کرکے اُمت سے کاٹ کر پھینک دیاگیا۔

اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۴﴾

’’یقینا وہ تو ہے ہی توبہ کا بہت قبول فرمانے والا‘ بہت رحم فرمانے والا ۔‘‘

آیت 55

وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً

’’اور یاد کرو جبکہ تم نے کہا تھا اے موسٰی ؑ! ہم تمہارا ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم اللہ کو سامنے نہ دیکھ لیں‘‘

اٰمَنَ یُؤْمِنُ کے بعد ’’بِ‘‘ کا صلہ ہو تو اس کے معنی ایمان لانے کے ہوتے ہیں‘ جبکہ ’’لِ‘‘ کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی صرف تصدیق کے ہوتے ہیں۔بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہم آپ کی بات کی تصدیق نہیں کریں گے جب تک ہم اپنی آنکھوں سے اللہ کو آپ سے کلام کرتے نہ دیکھ لیں۔ ہم کیسے یقین کر لیں کہ اللہ نے یہ کتاب آپ کو دی ہے؟ آپؑ تو ہمارے سامنے پتھر کی کچھ تختیاں لے کر آ گئے ہیں جن پر کچھ لکھا ہوا ہے ۔ ہمیں کیا پتا کہ یہ کس نے لکھا ہے؟ دیکھئے‘ ایک خواہش حضرت موسٰی علیہ السلام کی بھی تھی کہ {رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ } (الاعراف:۱۴۳) ’’اے میرے ربّ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھ کو دیکھوں‘‘۔ وہ کچھ اور شے تھی‘ وہ ؏

’’تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ!‘‘

کی کیفیت تھی‘ لیکن یہ تخریبی ذہن کی سوچ ہے کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمیں معلوم ہو کہ واقعی اُس نے آپ کو یہ کتاب دی ہے ۔

فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۵﴾

’’تو تمہیں آ پکڑا ایک بہت بڑی کڑک نے اور تم دیکھ رہے تھے‘‘۔

تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک بہت بڑی کڑک نے تمہیں آلیا اور تم سب کے سب مردہ ہوگئے۔

آیت 56

ثُمَّ بَعَثۡنٰکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِکُمۡ

’’پھر ہم نے تمہیں دوبارہ اٹھایا تمہاری موت کے بعد‘‘

بعض لوگ اس کی ایک تاویل کرتے ہیں کہ یہ موت نہیں تھی‘ بلکہ زبردست کڑک کی وجہ سے سب کے سب بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے‘ لیکن میرے نزدیک یہاں تاویل کی ضرورت نہیں ہے‘ بعث بعد الموت اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ { مِّنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِکُمۡ} کے الفاظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے بالکل صریح ہیں‘ انہیں خواہ مخواہ کوئی اور معنی پہنانا درست نہیں ہے۔

لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۵۶﴾

’’تاکہ تم (اس احسان پر ہمارا) شکر کرو۔‘‘

آیت 57

وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ

’’اور ہم نے تم پر اَبر کا سایہ کیا‘‘

جزیرہ نمائے سینا کے لق و دق صحرا میں چھ لاکھ کا قافلہ چل رہا ہے ‘ کوئی اوٹ نہیں‘ کوئی سایہ نہیں‘ دھوپ کی تپش سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں۔ ان حالات میں ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ تمام دن ایک بادل ان پر سایہ کیے رہتا اور جہاں جہاں وہ جاتے وہ بادل ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔

وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ

’’اور اتارا تم پر مَنّ اور سلویٰ۔‘‘

صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا تو ان کے لیے مَنّ و سلویٰ نازل کیے گئے۔ ’’مَنّ‘‘رات کے وقت شبنم کے قطروں کی مانند اترتا تھا‘ جس میں شیرینی بھی ہوتی تھی‘ اور اس کے قطرے زمین پر آ کر جم جاتے تھے اور دانوں کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔یہ گویا ان کا اناج ہو گیا‘ جس سے کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت پوری ہو گئی۔’’سلویٰ‘‘ ایک خاص قسم کا بٹیر کی شکل کا پرندہ تھا۔ شام کے وقت ان پرندوں کے بڑے بڑے جھنڈ آتے اور جہاں بنی اسرائیل ڈیرہ ڈالے ہوتے اس کے گرد اتر آتے تھے۔ رات کی تاریکی میں یہ اُن پرندوں کو آسانی سے پکڑ لیتے تھے اور بھون کر کھاتے تھے۔ چنانچہ اُن کی پروٹین کی ضرورت بھی پوری ہو رہی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کو مکمل غذا فراہم کر دی تھی۔

کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ

’’(ہم نے کہا) کھائو ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں۔‘‘

وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا‘ بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘

ہر قدم پر نافرمانی اور ناشکری بنی اسرائیل کا وطیرہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے ’’مَنّ و سلویٰ‘‘ جیسی نعمت کی قدر بھی نہ کی اور ناشکری کی روش اپنائے رکھی۔ اس کا ذکر اگلی آیات میں آجائے گا۔

آیت 58

وَ اِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا

’’اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ داخل ہو جائو اس شہر میں اور پھر کھائو اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو جو چاہو‘‘

وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ

’’لیکن دیکھنا (بستی کے) دروازے میں داخل ہونا جھک کر اور کہتے رہنا مغفرت مغفرت‘ تو ہم تمہاری خطائوں سے درگزر فرمائیں گے۔‘‘

وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾

’’اور محسنین کو ہم مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔‘‘

بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں آنے اور تورات عطا کیے جانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کے زمانے میں انہیں جہاد اور قتال کا حکم ہوا‘ لیکن اس سے پوری قوم نے انکار کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ سزا مسلط کر دی کہ یہ چالیس برس تک اسی صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ ابھی جہاد اور قتال کرتے تو ہم پورا فلسطین ان کے ہاتھ سے ابھی فتح کرا دیتے‘ لیکن چونکہ انہوں نے بزدلی دکھائی ہے لہٰذا اب ان کی سزا یہ ہے : {فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیۡہِمۡ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۚ یَتِیۡہُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ} (المائدۃ:۲۶) یعنی ارضِ فلسطین جو ان کے لیے ارضِ موعود تھی وہ ان پر چالیس سال کے لیے حرام کر دی گئی ہے‘ اب یہ چالیس سال تک اسی صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ صحرا نوردی کے اس عرصے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی انتقال ہو گیا اور حضرت ہارون علیہ السلام کا بھی۔ اس عرصے میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی اور وہ نسل جو مصر سے غلامی کا داغ اٹھائے ہوئے آئی تھی وہ پوری کی پوری ختم ہو گئی۔ غلامی کا یہ اثر ہوتا ہے کہ غلام قوم کے اندر اخلاق و کردار کی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ صحرا نوردی کے زمانے میں جو نسل پیدا ہوئی اور صحرا ہی میں پروان چڑھی وہ ایک آزاد نسل تھی جو اُن کمزوریوں سے پاک تھی اور ان میں ایک جذبہ تھا۔ بنی اسرائیل کی اس نئی نسل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ یوشع بن نون [تورات میں ان کا نام یشوع (Joshua) آیا ہے] کی قیادت میں قتال کیا اور پہلا شہر جو فتح ہوا وہ ’’اریحا‘‘ تھا۔ یہ شہر آج بھی جریکو (Jericho) کے نام سے موجود ہے۔

یہاں پر اس فتح کے بعد کا تذکرہ ہو رہا ہے کہ یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ اس شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہو جاؤ اور پھر جو کچھ نعمتیں یہاں ہیں ان سے متمتع ہو‘ خوب کھاؤ پیو‘ لیکن شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔مراد یہ ہے کہ جھک کر‘ سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے داخل ہونا۔ ایسا نہ ہو کہ تکبر کی وجہ سے تمہاری گردنیں اکڑ جائیں۔ اللہ کا احسان مانتے ہوئے گردنیں جھکا کر داخل ہونا۔ یہ نہ سمجھنا کہ یہ فتح تم نے بزورِ بازو حاصل کی ہے۔ اس کا نقشہ ہمیں محمد رسول اللہﷺ کی شخصیت میں نظر آتا ہے کہ جب فتح مکہ کے موقع پر آپؐ مکہ میں داخل ہوئے تو جس سواری پر آپﷺ بیٹھے ہوئے تھے آپؐ کی پیشانی مبارک اس کی گردن کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ یہ وقت ہوتا ہے جبکہ ایک فاتح تکبر اور تعلّی کا مظاہرہ کرتا ہے‘ لیکن بندئہ مؤمن کے لیے یہی وقت تواضع کا اور جھکنے کا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہیں حکم دیا گیا : {وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ} ’’اور کہتے جاؤ مغفرت مغفرت‘‘۔ حِطَّۃٌ کا وزن فِعْلَۃٌ اور مادہ ’’ح ط ط ‘‘ ہے۔ حَطَّ یَحُطُّ حَطًّا کے متعدد معنی ہیں‘ جن میں سے ایک’’پتے جھاڑنا‘‘ ہے۔ مثلاً کہیں گے حَطَّ وَرَقَ الشَّجَرِ (اُس نے درخت کے پتے جھاڑ دیے) ۔ حِطَّـۃٌ کے معنی ’’استغفار‘ طلب مغفرت اور توبہ‘‘ کے کیے جاتے ہیں۔ گویا اس میں گناہوں کو جھاڑ دینے اور خطاؤں کو معاف کر دینے کا مفہوم ہے۔ چنانچہ ’’وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ‘‘ کا مفہوم یہ ہو گا کہ مفتوح بستی میں داخل ہوتے وقت جہاں تمہاری گردنیں عاجزی کے ساتھ جھکی ہونی چاہئیں وہیں تمہاری زبان پر بھی استغفار ہونا چاہیے کہ اے اللہ ہمارے گناہ جھاڑ دے‘ ہماری مغفرت فرما دے‘ ہماری خطائوں کو بخش دے!اگر تم ہمارے اس حکم پر عمل کرو گے تو ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے‘ اور تم میں جو محسن اور نیکوکار ہوں گے انہیں مزید فضل و کرم اور انعام و اکرام سے نوازیں گے۔

آیت 59

فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ

’’پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو اُن سے کہہ دی گئی تھی‘‘

ان میں سے جو ظالم تھے ‘بدکردار تھے انہوں نے ایک اور قول اختیار کر لیا اُس قول کی جگہ جو اُن سے کہا گیا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ ’’حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ‘‘ کہتے ہوئے داخل ہونا ‘ لیکن انہوں نے اس کی بجائے ’’حِنْطَۃٌ حِنْطَۃٌ‘‘ کہنا شروع کر دیا‘ یعنی ہمیں تو گیہوں چاہیے‘ گیہوں چاہیے! اگلے رکوع میں یہ بات آ جائے گی کہ مَنّ و سلویٰ کھاتے کھاتے بنی اسرائیل کی طبیعتیں بھر گئی تھیں‘ ایک ہی چیز کھا کھا کر وہ اُکتا گئے تھے اور اب وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں زمین کی روئیدگی اور پیداوار میں سے کوئی چیز کھانے کو ملنی چاہیے۔ اس خواہش کا اظہار اُن کی زبانوں پر ’’حِنْطَۃٌ حِنْطَۃٌ‘‘ کی صورت میں آ گیا۔ اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا استہزاء و تمسخر کیا جو انہیں ’’وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ‘‘ کے الفاظ میں دیا گیا تھا۔ اسی طرح شہر میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونے کی بجائے انہوں نے اپنے سرینوں پر پھسلنا شروع کیا۔

فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ

’’پھر ہم نے اتارا ظلم کرنے والوں پر ایک بڑا عذاب آسمان سے‘‘

جن ظالموں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا استہزاء و تمسخر کیا تھا اُن پر آسمان سے ایک بہت بڑا عذاب نازل ہوا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اریحا شہر میں پہنچنے کے بعد انہیں طاعون کی وبا نے آ لیا اور جنہوں نے یہ حرکت کی تھی وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔

بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾

’’بسبب اُس نافرمانی کے جو انہوں نے کی۔‘‘

یہ اُن نافرمانیوں اور حکم عدولیوں کی سزا تھی جو وہ کر رہے تھے۔

تمہید

اب یہاں پھر صحراءِ سینا کے واقعات بیان ہو رہے ہیں۔ ان واقعات میں ترتیبِ زمانی نہیں ہے۔ اریحا کی فتح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئی‘ جس کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا‘ لیکن‘اب یہاں پھراُس دَور کے واقعات آ رہے ہیں جب بنی اسرائیل صحرائے تیہہ میں بھٹک رہے تھے۔

آیت 60

وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ

’’اورجب پانی مانگا موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے کہا ضرب لگاؤ اپنے عصا سے چٹان پر۔‘‘

صحرائے سینا میں چھ لاکھ سے زائد بنی اسرائیل پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور وہاں پانی نہیں تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی طلب کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے پانی کی دُعا کی تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنے عصا سے چٹان پر ضرب لگائو۔

فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ

’’تو اُس سے بارہ چشمے پھوٹ بہے۔‘‘

’’فَجَرَ‘‘ کہتے ہیں کوئی چیز پھٹ کر اُس سے کسی چیز کا برآمد ہونا۔ فجر کے وقت کو فجراسی لیے کہتے ہیں کہ اُس وقت رات کی تاریکی کا پردہ چاک ہو تا ہے اور سپیدۂ سحر نمودار ہوتا ہے۔

قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ

’’ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ جان لیا (اور معین کرلیا)۔‘‘

بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے‘ اگر ان کے لیے علیحدہ علیحدہ گھاٹ نہ ہوتا تو ان میں باہم لڑائی جھگڑے کا معاملہ ہوتا۔ انہیں بارہ چشمے اسی لیے دیے گئے تھے کہ آپس میں لڑائی جھگڑا نہ ہو۔پانی تو بہت بڑی چیز ہے اور قبائلی زندگی میں اس کی بنیاد پر جنگ و جدل کا آغاز ہو سکتاہے۔ ؎

کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا

کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا

تو اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ سہولت مہیا کی کہ بارہ چشمے پھوٹ بہے اور ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معین کر لیا۔

کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ

’’(گویا ان سے یہ کہہ دیا گیا کہ) کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے‘‘

وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۰﴾

’’اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔‘‘

صحرا میں ان کے لیے پینے کو پانی بھی مہیا کردیا گیا اور کھانے کے لیے مَن و سلویٰ اتار دیا گیا ‘ لیکن انہوں نے ناشکری کا معاملہ کیا‘ جس کا ذکر ملاحظہ ہو۔

آیت 61

وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ

’’اور یاد کرو جب کہ تم نے کہا تھا اے موسیٰ! ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کر سکتے‘‘

من و سلویٰ کھا کھا کر اب ہم اُکتا گئے ہیں۔

فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ

’’تو ذرا اپنے ربّ سے ہمارے لیے دعا کرو‘‘

یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ

’’کہ نکالے ہمارے لیے اس سے کہ جو زمین اُگاتی ہے‘‘

یعنی زمین کی پیداوار میں سے‘ نباتاتِ ارضی میں سے ہمیں رزق دیا جائے۔

مِنۡۢ بَقۡلِہَا

’’اُس کی ترکاریاں‘‘

وَ قِثَّآئِہَا

’’اور ککڑیاں‘‘

یہ لفظ کھیرے اور ککڑی وغیرہ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

وَ فُوۡمِہَا

’’اور لہسن‘‘

فُوم کاایک ترجمہ گیہوں کیا گیا ہے‘ لیکن میرے نزدیک زیادہ صحیح ترجمہ لہسن ہے۔ عربی میں اس کے لیے بالعموم لفظ ’’ثُوم‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ لہسن کو فارسی میں توم اور پنجابی ‘ سرائیکی اور سندھی میں ’’تھوم‘‘ کہتے ہیں اور یہ فُوم اور ثُوم ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے‘ اس لیے کہ عربوں کی آمد کے باعث اُن کی زبان کے بہت سے الفاظ سندھی اور سرائیکی زبان میں شامل ہو گئے‘ جو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کافی تعداد میں اب بھی موجود ہیں۔

وَ عَدَسِہَا

’’اور مسور‘‘

وَ بَصَلِہَا ؕ

’’اور پیاز۔‘‘

اب جو سالن کے چٹخارے اِن چیزوں سے بنتے ہیں اُن کی زبانیں وہ چٹخارے مانگ رہی تھیں۔ بنی اسرائیل صحرائے سینا میں ایک ہی طرح کی غذا ’’مَنّ و سلویٰ‘‘ کھاتے کھاتے اُکتا گئے تھے‘ لہٰذا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمیں زمین سے اُگنے والی چٹخارے دار چیزیں چاہئیں۔

قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ

’’حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کیا :تم وہ شے لینا چاہتے ہو جو کم تر ہے اُس کے بدلے میں جوبہتر ہے ؟‘‘

مَن و سلویٰ نباتاتِ ارضی سے کہیں بہتر ہے جو اللہ کی طرف سے تمہیں دیا گیا ہے۔ تو اس سے تمہارا جی بھر گیا ہے اور اس کو ہاتھ سے دے کر چاہتے ہو کہ یہ ادنیٰ چیزیں تمہیں ملیں؟

اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ

’’اترو کسی شہر میں تو تم کو مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو۔‘‘

لفظ ’’اِہۡبِطُوۡا‘‘ پر آیت ۳۸ کے ذیل میں بات ہو چکی ہے کہ اس کا معنی بلندی سے اترنے کا ہے۔ ظاہر بات ہے یہاں یہ لفظ آسمان سے زمین پر اترنے کے لیے نہیں آیا‘ بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہو گا کہ کسی بستی میں جا کر آباد ہو جاؤ! (settle down somewhere) اگر تمہیں زمین کی پیداوار میں سے یہ چیزیں چاہئیں تو کہیں آباد (settle) ہو جاؤ اور کاشت کاری کرو‘ یہ ساری چیزیں تمہیں مل جائیں گی۔

وَ ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭

’’اور ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی‘گئی۔‘‘

وَ بَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ

’’اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔‘‘

وہ اللہ کے غضب میں گھرگئے۔

بنی اسرائیل وہ اُمت تھی جس کے بارے میں فرمایا گیا: {وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۷﴾} (البقرۃ) اسی اُمت کا پھر یہ حشر ہوا تو کیوں ہوا؟اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے! انہیں کتاب دی گئی تھی کہ اس کی پیروی کریں اور اسے قائم کریں۔ سورۃ المائدۃ میں فرمایاگیا:

دوسرے مقام کی آیت

وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىۃَ وَ الۡاِنۡجِیۡلَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِمۡ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ لَاَکَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ ؕ

(آیت ۶۶)

’’اگر یہ (اہل کتاب) تورات اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کرتے جو اُن کی جانب ان کے ربّ کی طرف سے اتاری گئیں تو کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے۔‘‘

یعنی ان کے سروں کے اوپر سے بھی نعمتوں کی بارش ہوتی اور زمین بھی ان کے لیے نعمتیں اُگلتی۔ لیکن انہوں نے اس کو چھوڑ کر اپنی خواہشات‘ اپنے نظریات‘ اپنے خیالات‘ اپنی عقل اور اپنی مصلحتوں کو مقدم کیا‘ اور اپنے تمرد‘ اپنی سرکشی اور اپنی حاکمیت کو بالاتر کیا۔جو قوم دنیا میں اللہ کے قانون‘ اللہ کی ہدایت اور اللہ کی کتاب کی امین ہوتی ہے وہ اللہ کی نمائندہ (representative) ہوتی ہے‘ اور اگر وہ اپنے عمل سے غلط نمائندگی (misrepresent) کرے تو وہ اللہ کے نزدیک کافروں سے بڑھ کر مغضوب اور مبغوض ہو جاتی ہے۔اس لیے کہ کافروں کو دین پہنچانا تو اِس مسلمان اُمت کے ذمہ تھا۔ اگر یہ خود ہی دین سے منحرف ہو گئے تو کسی اور کو کیا دین پہنچائیں گے؟ آج اس مقام پر موجودہ اُمتِ مسلمہ کھڑی ہے کہ تعداد میں سوا ارب یا ڈیڑھ ارب ہونے کے باوجود ان کے حصے میں عزت نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ دُنیا کے سارے معاملات G-7 اور G-15 ممالک کے ہاتھ میں ہیں۔ سکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان کو ویٹو کا حق حاصل ہے‘ لیکن کوئی مسلمان ملک نہ تو سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے اور نہ ہی G-7‘ G-9 یا G-15 میں شامل ہے۔ گویا ؏

’’کس نمی پُرسد کہ بھیا کیستی! ‘‘

ہماری اپنی پالیسیاں کہیں اور طے ہوتی ہیں‘ ہمارے اپنے بجٹ کہیں اور بنتے ہیں‘ ہماری صلح اورجنگ کسی اور کے اشارے سے ریموٹ کنٹرول انداز میں ہوتی ہیں۔ یہ ذلت اور مسکنت ہے جو آج ہم پر تھوپ دی گئی ہے۔ ہم کہتے ہیں کشمیر ہماری شہ رگ ہے‘ لیکن اس کے لیے جنگ کرنے کو ہم تیار نہیں ہیں۔ یہ خوف نہیں ہے تو کیا ہے؟ یہ مسکنت نہیں ہے توکیا ہے؟ اگر اللہ پر یقین ہے اور اپنے حق پر ہونے کا یقین ہے تو اپنی شہ رگ دشمن کے قبضے سے آزادکرانے کے لیے ہمت کرو۔ لیکن نہیں‘ ہم میں یہ ہمت موجود نہیں ہے۔ ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر خبریں آتی رہیں گی کہ قابض بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں اتنے کشمیریوں کو شہید کر دیا‘ اتنی مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کر دی‘ لیکن ہم یہاں اپنے اپنے دھندوں میں‘ اپنے اپنے کاروبار میں ‘ اپنی اپنی ملازمتوں میں اور اپنے اپنے کیریئرز میں مگن ہیں ۔ بہرحال متذکرہ بالا الفاظ اگرچہ بنی اسرائیل کے لیے آئے ہیں کہ ان پر ذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی مسلط کر دی گئی‘ لیکن اس میں آج کی اُمتِ مسلمہ کا نقشہ بھی موجود ہے ؎

خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں

گفتہ آید در حدیث دیگراں!

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ

’’یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے‘رہے‘‘

وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ

’’اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔‘‘

ہمارے ہاں بھی مجددینِ اُمت کو‘قتل بھی کیا گیا اور اُن میں سے کتنے ہیں جو جیلوں میں ڈالے گئے۔ متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سینکڑوں تابعین مستبد حکمرانوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ ائمۂ دین کو ایسی ایسی مار پڑی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کو بھی ایسی مار پڑے تو وہ برداشت نہ کر سکے۔ امام احمد بن حنبلؒ کے ساتھ کیا کچھ ہوا! امام ابوحنیفہؒ نے جیل میں انتقال کیا اور وہاں سے اُن کا جنازہ اٹھا ۔ امامِ دار الہجرت امام مالکؒ کے کندھے کھینچ دیے گئے اور منہ کالا کر کے انہیں اُونٹ پر بٹھا کر پھرایا گیا۔ حضرت مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندیؒ ‘کو پس دیوار زنداں ڈالا گیا۔ سید احمد بریلویؒ اور ان کے ساتھیوں کو خود مسلمانوں نے شہید کروا دیا۔ ہماری تاریخ ایسی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اب نبی تو کوئی نہیں آئے گا۔ اُن کے ہاں نبی تھے‘ ہمارے ہاں مجددین ہیں‘ علماء حق ہیں۔ انہوں نے جو کچھ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کیا وہی ہم نے مجددین کے ساتھ کیا ۔

ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿٪۶۱﴾

’’اور یہ اس لیے ہوا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘

ان کو یہ سزا اُن کی نافرمانیوں کی وجہ سے اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے دی گئی۔ اللہ تعالیٰ تو ظالم نہیں ہے (نعوذ باللہ )‘ اللہ تعالیٰ نے تو انہیں اُونچا مقام دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ’’خیرِ اُمت‘‘ قراردیا۔ ہم نے بھی جب اپنا مشن چھوڑ دیا تو ذلت اور مسکنت ہمارا مقدر بن گئی ۔اللہ کا قانون اور اللہ کا عدل بے لاگ ہے۔ یہ سب کے لیے ایک ہے‘ ہر اُمت کے لیے الگ الگ نہیں ہے۔ اللہ کی سنت بدلتی نہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی بداعمالیوں کے سبب ان کا جو حشر ہوا آج وہ ہمارا ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں میری کتاب ’’سابقہ اور موجودہ مسلمان اُمتوں کا ماضی‘ حال اور مستقبل‘‘ کے نام سے موجود ہے‘ اُس کا مطالعہ کیجیے!

62

کسی گروہ سے نسبت آخرت میں نجات کے لیے کافی نہیں

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾

تمہید

اب وہ آیت آ رہی ہے کہ جس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ نجاتِ اُخروی کے لیے ایمان بالرسالت ضروری نہیں ہے۔

آیت 62

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

’’یقینا جو لوگ ایمان لائے‘‘

اور اس سے مراد ہے جو ایمان لائے محمد رسول اللہﷺ پر۔

وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی

’’اور جو یہودی ہو گئے اور نصرانی‘‘

وَ الصّٰبِئِیۡنَ

’’اور صابی‘‘

صابی وہ لوگ تھے جو عراق کے علاقے میں رہتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ہم دینِ ابراہیمی پر ہیں۔ لیکن اُن کے ہاں بھی بہت کچھ بگڑ گیا تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل بگاڑکا شکار ہو گئی تھی اسی طرح وہ بھی بگڑ گئے تھے اور ان کے ہاں زیادہ تر ستارہ پرستی رواج پاگئی تھی۔

مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ

’’جو کوئی بھی ایمان لایا (ان میں سے) اللہ پر اور یومِ آخر پر‘‘

وَ عَمِلَ صَالِحًا

’’اور اُس نے اچھے عمل کیے‘‘

فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ

’’تو اُن کے لیے (محفوظ) ہے اُن کا اجر اُن کے ربّ کے پاس‘‘

وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾

’’اور نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ غمگین ہوں گے۔‘‘

ان لوگوں کو نہ تو کوئی خوف دامن گیر ہو گا اور نہ ہی وہ کسی حزن سے دوچار ہوں گے ۔ ظاہر الفاظ کے اعتبار سے دیکھیں تو یہاں ایمان بالرسالت کا ذکر نہیں ہے۔ اگر کوئی ا س سے غلط استدلال کرتا ہے تو اس کا پہلا اصولی جواب تو یہ ہے کہ بعض احادیث میں ایسے الفاظ بھی موجود ہیں : حدیث((مَنْ قَالَ لَا اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّـۃَ)) تو کیا اس کے یہ معانی ہیں کہ صرف لاالٰہ الاّ اللہ کہنے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے‘ کسی عمل کی ضرورت نہیں؟ بلکہ کسی حدیث کا مفہوم اَخذ کرنے کے لیے پورے قرآن کو اور پورے ذخیرۂ احادیث کو سامنے رکھنا ہو گا۔ کسی ایک جگہ سے کوئی نتیجہ نکال لینا صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس کے علاوہ چھٹے رکوع کے آغاز میں یہ اصولی بات بھی بیان کی جا چکی ہے کہ سورۃ البقرۃ کا پانچواں رکوع چھٹے رکوع سے شروع ہونے والے سارے مضامین سے ضرب کھا رہا ہے‘ جس میں محمد رسول اللہﷺ اورآپؐ پر نازل ہونے والے قرآن پر ایمان لانے کی پُرزور دعوت بایں الفاظ موجود ہے:

دوسرے مقام کی آیت

وَ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪

’’اور ایمان لائو اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے‘ جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کتاب کی جو تمہار ے پاس ہے ‘اور تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے نہ بن جاؤ۔‘‘

اب فصاحت اور بلاغت کا یہ تقاضا ہے کہ ایک بات بار بار نہ دہرائی جائے۔ البتہ یہ بات ہر جگہ مقدر (understood) سمجھی جائے گی۔ اس لیے کہ ساری گفتگو اسی کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے اب یوں سمجھئے کہ آیتِ زیر مطالعہ میں ’’فِیْ اَیَّامِھِمْ‘‘ یا ’’فِیْ اَزْمِنَتِھِمْ‘‘ (اپنے اپنے دَور میں) کے الفاظ محذوف مانے جائیں گے۔گویا:

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِئِیۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا [فِیْ اَ یَّامِھِمْ]فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۪ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۲﴾

یعنی نجاتِ اُخروی کے لیے اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان کے ساتھ ساتھ اپنے دَور کے نبی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئے تھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے جو بھی یہودی موجود تھے‘ جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے‘ آخرت کو مانتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے ان کی نجات ہو جائے گی۔ لیکن جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد اُنؑ کو نہیں مانا تو اب وہ کافرقرار پائے۔ محمد رسول اللہﷺ کی بعثت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام رسولوں پر ایمان نجاتِ اُخروی کے لیے کافی تھا‘ لیکن محمد رسول اللہﷺ کی بعثت کے بعد آپؐ پر ایمان نہ لانے والے کافر قرارپائیں گے۔

آیت زیر مطالعہ میں اصل زور اس بات پر ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ کسی گروہ میں شامل ہونے سے نجات پا جائو گے‘نجات کسی گروہ میں شامل ہونے کی وجہ سے نہیں ہے‘ بلکہ نجات کی بنیاد ایمان اور عمل صالح ہے۔ اپنے دَور کے رسول پر ایمان لانا تو لازم ہے‘ لیکن اس کے ساتھ اگر عمل صالح نہیں ہے تو نجات نہیں ہو گی۔ قرآن مجید کے ایک مقام پر آیا ہے : {وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ } (الاعراف:۳۴) ’’اورہر اُمت کے لیے ایک خاص معین مدت ہے‘‘۔ ہر اُمت اس معینہ مدت ہی کی مکلف ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ محمد رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے ان پر تو آپﷺ پر ایمان لانے کی کوئی ذمہ د اری نہیں تھی۔ بعثتِ نبویؐ سے قبل ایسے موحدین مکہ مکرمہ میں موجود تھے جو کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر یہ کہتے تھے کہ اے اللہ! ہم صرف تیری بندگی کرنا چاہتے ہیں ‘ لیکن جانتے نہیں کہ کیسے کریں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بہنوئی اور فاطمہؓ بنت خطاب کے شوہر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ(جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) کے والد زید کا یہی معاملہ تھا۔ وہ یہ کہتے ہوئے دنیا سے چلے گئے کہ: ’’اے اللہ! میں صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں‘ مگر نہیں جانتا کہ کیسے کروں۔‘‘

سورۃ الفاتحہ کے مطالعہ کے دوران میں نے کہا تھا کہ ایک سلیم الفطرت اور سلیم العقل انسان توحید تک پہنچ جاتا ہے‘ آخرت کو پہچان لیتا ہے‘ لیکن آگے وہ نہیں جانتا کہ اب کیاکرے۔ احکامِ شریعت کی تفصیل کے لیے وہ ’’ربّ العَالَمِین‘‘ اور ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ کے حضور دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہے کہ : {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿﴾} اُسی صراط‘مستقیم کی دعا کا جواب یہ قرآن حکیم ہے ‘اور اس میں سورۃ البقرۃ ہی سے احکامِ شریعت کاسلسلہ شروع کیا جا رہا ہے کہ یہ کرو‘ یہ نہ کرو‘ یہ فرض ہے‘ یہ تم پر لازم کیا گیا ہے اور یہ چیزیں حرام کی گئی ہیں۔

63-66

بنی اسرائیل کے لیےعبرتناک سزا۔

ویڈیو

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۴﴾ وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِیۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡکُمۡ فِی السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿ۚ۶۵﴾ فَجَعَلۡنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَ مَا خَلۡفَہَا وَ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۶۶﴾

آیت 63

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ ؕ

’’اور ذرایاد کروجب ہم نے تم سے قول و قرار لیا اور تمہارے اوپر اٹھا دیا کوہِ طور کو۔‘‘

بنی اسرائیل کو جب تورات دی گئی تو اُس وقت ان کے دلوں میں اللہ اوراس کی کتاب کی ہیبت ڈالنے اور خشیت پیدا کرنے کے لیے معجزانہ طور پر ایک ایسی کیفیت پیدا کی گئی کہ اُن کے اوپر کوہِ طور اٹھا کر معلق کر دیا گیا۔ اُس وقت ان سے کہا گیا:

خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ

’’پکڑو اس کو مضبوطی کے ساتھ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔‘‘

اس کتاب تورات کو اور اس میں بیان کردہ احکامِ شریعت کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔

وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ

’’اور یاد رکھو اسے جو کچھ کہ اس میں ہے‘‘

لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۳﴾

’’تاکہ تم بچ سکو۔‘‘

آیت 64

ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ۚ

’’پھر تم نے روگردانی کی اُس کے بعد۔‘‘

یعنی جو میثاقِ شریعت تم سے لیا گیا تھا اُس کو توڑ ڈالا۔

فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۴﴾

’’پھر اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم (اُسی وقت) خسارہ پانے والے ہوجاتے۔‘‘

اگراللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہاری دستگیری نہ کرتی رہتی‘ تمہیں بار بار معاف نہ کیا جاتا اور تمہیں بار بار مہلت نہ دی جاتی تو تم اُسی وقت تباہ ہوجاتے۔

آیت 65

وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِیۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡکُمۡ فِی السَّبۡتِ

’’اور تم انہیں خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں‘‘

تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم میں سے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سبت کے قانون کو توڑا تھا اور حد سے تجاوز کیا تھا۔ یہود کی شریعت میں ہفتہ کا روز عبادت کے لیے معین کر دیا گیا تھا اور اس روز دنیاوی کام کاج کی اجازت نہیں تھی۔آج بھی جو مذہبی یہودی (Practicing Jews) ہیں وہ اس کی پابندی بڑی شدت سے کرتے ہیں۔ لیکن ایک زمانے میں ان کے ایک خاص قبیلے نے ایک شرعی حیلہ ایجاد کر کے اس قانون کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ اس واقعہ کی تفصیل سورۃ الاعراف میں آئے گی۔

فَقُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿ۚ۶۵﴾

’’تو ہم نے کہہ دیا اُن سے کہ ہو جاؤ ذلیل بندر۔‘‘

ان کی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندروں کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا۔ تین دن کے بعد یہ سب مرگئے۔

آیت 66

فَجَعَلۡنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَ مَا خَلۡفَہَا

’’پھر ہم نے اس (واقعہ کو یا اس بستی) کو عبرت کا سامان بنا دیا ان کے لیے بھی جو سامنے موجود تھے (اس زمانے کے لوگ) اور ان کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے تھے‘‘

وَ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۶۶﴾

’’اور ایک نصیحت (اور سبق آموزی کی بات) بنا دیا اہلِ تقویٰ کے‘لیے۔‘‘

67-71

اللہ کے حکم پر بے چون و چرا عمل کرو۔

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰہِ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۶۷﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِکۡرٌ ؕ عَوَانٌۢ بَیۡنَ ذٰلِکَ ؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۸﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾ قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِیۡرُ الۡاَرۡضَ وَ لَا تَسۡقِی الۡحَرۡثَ ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیۡہَا ؕ قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ ؕ فَذَبَحُوۡہَا وَ مَا کَادُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾

تمہید

ان آیات کے مطالعے سے قبل ان کا پس منظر جان لیجیے ۔ بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک شخص قتل ہو گیا تھا اور قاتل کا پتا نہیں چل رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مردہ شخص کے جسم پر مارو تو وہ جی اُٹھے گا اور بتا دے گا کہ میرا قاتل کون ہے۔

بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہمیں معجزات کا عمل دخل بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہ بھی انہی معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ گائے کو ذبح کرانے کا ایک مقصدیہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے قلوب و اذہان میں گائے کا جو تقدس راسخ ہو چکا تھا اُس پر تلوار چلائی جائے۔ اور پھر انہیں یہ بھی دکھا دیا گیا کہ ایک مردہ آدمی زندہ بھی ہو سکتا ہے‘ اس طرح بعث بعد الموت کا ایک نقشہ انہیں اس دنیا میں دکھا دیا گیا۔ بنی اسرائیل کو جب گائے ذبح کرنے کا حکم ملا تو ان کے دلوں میں جو بچھڑے کی محبت اور گائے کی تقدیس جڑ پکڑ چکی تھی اس کے باعث انہوں نے اس حکم سے کسی طرح سے بچ نکلنے کے لیے مین میخ نکالنی شروع کی اورطرح طرح کے سوال کرنے لگے کہ وہ کیسی گائے ہو؟ اس کا کیا رنگ ہو؟ کس طرح کی ہو؟ کس عمر کی ہو؟ بالآخر جب ہر طرف سے اُن کا گھیراؤ ہو گیا اور سب چیزیں ان کے سامنے واضح کر دی گئیں تب انہوں نے چار و ناچار بادلِ نخواستہ اس حکم پر عمل کیا ۔ اب ہم ان آیات کا ایک رواں ترجمہ کر لیتے ہیں۔

آیت 67

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ

’’ اور یاد کرو جب موسٰی ؑ نے کہا اپنی قوم سے کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے کو ذبح کرو۔‘‘

قَالُوۡۤا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ؕ

’’انہوں نے کہا :کیا آپؑ ہم سے کچھ ٹھٹھا کر رہے ہیں؟‘‘

کیا آپ ؑیہ بات ہنسی مذاق میں کہہ رہے ہیں؟

قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰہِ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۶۷﴾

’’فرمایا :میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔‘‘

ہنسی مذاق اور تمسخر و استہزا تو جاہلوں کا کام ہے اور اللہ کے نبی سے یہ بعید ہے کہ وہ دین کے معاملات کے اندر اِن چیزوں کو شامل کر لے۔

آیت 68

قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ؕ

’’انہوں نے کہا (اچھا ایسی ہی‘بات ہے تو) ہمارے لیے ذرا اپنے ربّ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ کیسی ہو۔‘‘

قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِکۡرٌ ؕ

’’(حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بالکل بچھیا۔‘‘

عَوَانٌۢ بَیۡنَ ذٰلِکَ ؕ

’’بڑھاپے اور نوجوانی کے بین بین ہو۔‘‘

فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۸﴾

’’تو اب کر گزرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔‘‘

آیت 69

قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوۡنُہَا ؕ

’’اب انہوں نے کہا (ذراایک دفعہ پھر) ہمارے لیے دعا کیجیے اپنے ربّ سے کہ وہ ہمیں بتا دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔‘‘

قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفۡرَآءُ ۙ فَاقِعٌ لَّوۡنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾

’’فرمایا :اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ گائے ہونی چاہیے زرد رنگ کی‘ جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کو خوب اچھی لگے۔‘‘

یہ خوبیاں اُس گائے کی تھیں جو اُن کے ہاں زیادہ سے زیادہ مقدس سمجھی جاتی تھی۔ اگر پہلے ہی حکم پر وہ عمل پیرا ہو جاتے تو کسی بھی گائے کو ذبح کر سکتے تھے۔ لیکن یکے بعد دیگرے سوالات کے باعث رفتہ رفتہ اُن کا گھیراؤ ہوتا گیا کہ جس گائے کے تقدس کا تأثر ان کے ذہن میں زیادہ سے زیادہ تھا اُسی کو focus کر دیا گیا۔

آیت 70

قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا ہِیَ ۙ

’’انہوں نے کہا (ذرا پھر) اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو‘‘

اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیۡنَا ؕ

’’کیونکہ گائے کا معاملہ یقینا ہم پر کچھ مشتبہ ہو گیا ہے۔‘‘

ہمیں گائے کی تعیین میں اشتباہ ہو گیا ہے۔

وَ اِنَّاۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۷۰﴾

’’اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پالیں گے۔‘‘

آیت 71

قَالَ اِنَّہٗ یَقُوۡلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوۡلٌ تُثِیۡرُ الۡاَرۡضَ وَ لَا تَسۡقِی الۡحَرۡثَ ۚ

’’فرمایاکہ اللہ فرماتا ہے وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے کہ جس سے کوئی مشقت نہ لی جاتی ہو‘ نہ وہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو۔‘‘

مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیۡہَا ؕ

’’وہ صحیح سالم یک رنگ ہونی چاہیے‘ اُس میں (کسی دوسرے رنگ کا) کوئی داغ تک نہ ہو۔‘‘

قَالُوا الۡـٰٔنَ جِئۡتَ بِالۡحَقِّ ؕ

’’انہوں نے کہا اب آپ لائے ہیں ٹھیک بات۔‘‘

اب تو آپؑ نے بات پوری طرح واضح کر دی ہے۔

فَذَبَحُوۡہَا وَ مَا کَادُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾

’’تب انہوں نے اُس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔‘‘

اب وہ کیا کرتے‘ پے بہ پے سوالات کرتے کرتے وہ گھیراؤ میں آ چکے تھے‘ لہٰذا بادلِ نخواستہ وہ اپنی مقدس سنہری گائے کو ذبح کرنے پر مجبور ہو گئے۔

یہاں واقعہ کی ترتیب تورات سے مختلف ہے اور ذبح بقرہ کا جو سبب تھا وہ بعد میں بیان ہو رہا ہے‘ جبکہ تورات میں ترتیب دوسری ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے