تحریر

البقرة

آیات ۴۰ تا ۴۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

40-46

بنی اسرائیل کو دعوت

ویڈیو

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ وَ اِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۴۰﴾ وَ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪ وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۴۱﴾ وَ لَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۲﴾ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾ اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۴﴾ وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿٪۴۶﴾

تمہید

اب یہاں سے بنی اسرائیل سے خطاب شروع ہو رہا ہے۔ یہ خطاب پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک‘ مسلسل دس رکوعات پر محیط ہے۔ البتہ ان میں ایک تقسیم ہے۔ پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے‘ اور جب کسی گروہ کو دعوت دی جاتی ہے تو تشویق و ترغیب‘ دلجوئی اور نرمی کا انداز اختیار کیا جاتا ہے‘ جو دعوت کے اجزاءِ لاینفک ہیں۔ اس انداز کے بغیر دعوت مؤثر نہیں ہوتی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ سات آیات (پانچواں رکوع) ان دس رکوعوں کے لیے بمنزلۂ فاتحہ ہیں۔ بنی اسرائیل کی حیثیت سابقہ اُمتِ مسلمہ کی تھی‘ جن کو یہاں دعوت دی جا رہی ہے۔ وہ بھی مسلمان ہی تھے‘ لیکن محمد رسول اللہﷺ کا انکار کر کے کافر ہو گئے۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے‘ شریعت اُن کے پاس تھی‘ بڑے بڑے علماء اُن میں تھے‘ علم کا چرچا اُن میں تھا۔ غرضیکہ سب کچھ تھا۔ یہاں ان کو دعوت دی جا رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آج مسلمانوں میں ‘جو اپنی حقیقت کو بھول گئے ہیں‘ اپنے فرضِ منصبی سے غافل ہو گئے ہیں اور دنیا کی دیگر قوموں کی طرح ایک قوم بن کر رہ گئے ہیں‘ اگر کوئی ایک داعی گروہ کھڑا ہو تو ظاہر بات ہے سب سے پہلے اُسے اسی اُمت کو دعوت دینی ہو گی۔ اس لیے کہ دنیا تو اسلام کو اِسی اُمت کے حوالے سے پہچانے گی (Physician heals thyself)۔ پہلے یہ خود ٹھیک ہو اور صحیح اسلام کا نمونہ پیش کرے تو دنیا کو دعوت دے سکے گی کہ آئو دیکھو یہ ہے اسلام! چنانچہ ان کو دعوت دینے کا جو اسلوب ہونا چاہیے وہ اس اسلوب کا عکس ہو گا جو اِن سات آیات میں ہمارے سامنے آئے گا۔

آیت 40

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ

’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اُس انعام کو جو میں نے تم پر کیا‘‘

’’بنی اسرائیل‘‘کی ترکیب کو سمجھ لیجیے کہ یہ مرکب اضافی ہے۔ ’’اسر‘‘ کا معنی ہے بندہ یا غلام۔ اسی سے ’’اسیر‘‘ بنا ہے جو کسی کا قیدی ہوتا ہے۔ اور لفظ ’’ئیل‘‘ عبرانی میں اللہ کے لیے آتا ہے ۔چنانچہ اسرائیل کا ترجمہ ہو گا ’’عبداللہ‘‘ یعنی اللہ کا غلام‘ اللہ کی اطاعت کے قلادے کے اندر بندھا ہوا۔ ’’اسرائیل‘‘ لقب ہے حضرت یعقوب علیہ السلام کا۔ ان کے بارہ بیٹے تھے اور ان سے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل ہے۔ ان ہی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی اور انہیں تورات دی گئی۔ پھر یہ ایک بہت بڑی اُمت بنے۔ قرآن مجید کے نزول کے وقت تک ان پر عروج و زوال کے چار ادوار آ چکے تھے۔ دو مرتبہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارشیں ہوئیں اور انہیں عروج نصیب ہوا‘ جبکہ دو مرتبہ دنیا پرستی‘ شہوت پرستی اور اللہ کے احکام کو پسِ پشت ڈال دینے کی سزا میں ان پر اللہ کے عذاب کے کوڑے برسے۔ اس کا ذکر سورئہ بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں آئے گا۔ اُس وقت جبکہ قرآن نازل ہو رہا تھا وہ اپنے اس زوال کے دور میں تھے۔ حال یہ تھا کہ محمد رسول اللہﷺ کی بعثت سے پہلے ہی ان کا ’’معبدِ ثانی‘‘ (Second Temple) بھی منہدم کیا جا چکا تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے جو ہیکل سلیمانی بنایا تھا‘ جس کو یہ ’’معبدِ اوّل‘‘ (First Temple) کہتے ہیں‘ اسے بخت نصر (Nebukadnezar) نے حضرت مسیحؑ سے بھی چھ سو سال پہلے گرا دیا تھا۔ اسے انہوں نے دوبارہ تعمیر کیا تھا جو ’’معبدِ ثانی‘‘ کہلاتا تھا۔لیکن ۷۰عیسوی میں محمد عربیﷺ کی ولادت سے پانچ سو سال پہلے رومیوں نے حملہ کر کے یروشلم کو تباہ و برباد کر دیا ‘ یہودیوں کا قتلِ عام کیا اور جو ’’معبدِ ثانی‘‘ انہوں نے تعمیر کیا تھااُسے بھی مسمار کر دیا‘جو اب تک گرا پڑا ہے‘ صرف ایک دیوارِ گریہ (Wailing Wall) باقی ہے جس کے پاس جا کر یہودی ماتم اورگریہ وزاری کر لیتے ہیں‘ اور اب وہ اسے سہ بارہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کے ’’معبدِ ثالث‘‘ (Third Temple) کے نقشے بن چکے ہیں‘ اس کا ابتدائی خاکہ تیار ہو چکا ہے ۔بہرحال جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا اُس وقت یہ بہت ہی پستی میں تھے۔ اس وقت ان سے فرمایاگیا: ’’اے بنی اسرائیل! ذرا یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا تھا‘‘۔ وہ انعام کیا ہے؟ میں نے تم کو اپنی کتاب دی‘ نبوت سے سرفراز فرمایا‘ اپنی شریعت تمہیں عطا فرمائی۔ تمہارے اندر دائود اور سلیمان علیہ السلام جیسے بادشاہ اٹھائے‘ جو بادشاہ بھی تھے‘ نبی بھی تھے۔

وَ اَوۡفُوۡا بِعَہۡدِیۡۤ اُوۡفِ بِعَہۡدِکُمۡ ۚ

’’اور تم میرے وعدے کو پورا کرو تاکہ میں بھی تمہارے وعدے کو پورا کروں۔‘‘

بنی اسرائیل سے نبی آخر الزماںحضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ تورات میں کتابِ استثناء یا سفرِ استثناء (Deuteronomy) کے اٹھارہویں باب کی آیات ۱۸۔۱۹ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خطاب کر کے یہ الفاظ فرمائے:

’’میں اُن کے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا ‘نہ سنے تو میں اُن کا حساب اُس سے لوں گا۔‘‘

یہ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت کو بتایا جا رہا تھا کہ نبی آخر الزماں (ﷺ) آئیں گے اور تمہیں ان کی نبوت کو تسلیم کرنا ہے۔ قرآن مجید میں اس کا تفصیلی ذکر سورۃ الاعراف میں آئے گا۔ یہاں فرمایا کہ تم میرا عہد پورا کرو‘ میرے اس نبیؐ ‘کو تسلیم کرو ‘اُسؐ پر ایمان لاؤ ‘اس ؐکی صدا پر لبیک کہو تو میرے انعام و اکرام مزید بڑھتے چلے جائیں گے۔

وَ اِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۴۰﴾

’’اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘

آیت 41

وَ اٰمِنُوۡا بِمَاۤ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ

’’اور ایمان لاؤ اُس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اُس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے‘‘

ان الفاظ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایمان لاؤ اس قرآن پر جو تصدیق کرتا ہے تورات کی اور انجیل کی ۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ} (المائدۃ:۴۴) ’’ہم نے نازل کی تورات جس میں ہدایت اور روشنی تھی‘‘۔ {وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ فِیۡہِ ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۙ} (المائدۃ:۴۶) ’’اور ہم نے اُس (عیسیٰ علیہ السلام ) کو دی انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی‘‘۔ اور دوسرے یہ کہ قرآن اور محمد رسول اللہﷺ اُن پیشین گوئیوں کے مصداق بن کر آئے ہیں جو تورات میں تھیں۔ ورنہ وہ پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوتیں۔

وَ لَا تَکُوۡنُوۡۤا اَوَّلَ کَافِرٍۭ بِہٖ ۪

’’اور تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے نہ بن جاؤ۔‘‘

یعنی قرآن کی دیدہ ودانستہ تکذیب کرنے والوں میں اوّل مت ہو۔ تمہیں تو سب کچھ معلوم ہے۔ تم جانتے ہو کہ حضرت محمدﷺاللہ کے رسول ہیں اور یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ تم تو آخری نبیﷺ کے انتظار میں تھے اور اُن کے حوالے سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! اس نبی آخر الزماںﷺ کے واسطے سے ہماری مدد فرما اور کافروں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرما۔ (یہ مضمون آگے چل کر اسی سورۃ البقرۃ ہی میں آئے گا۔) لیکن اب تم ہی اس کے اوّلین منکر ہو گئے ہو اور تم ہی اس کے سب سے بڑھ کر دشمن ہو گئے ہو۔

وَ لَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫

’’اور میری آیات کے عوض حقیر سی قیمت قبول نہ کرو۔‘‘

یہ آیاتِ الٰہیہ ہیں اور تم ان کو صرف اس لیے ردّ کر رہے ہو کہ کہیں تمہاری حیثیت‘ تمہاری مسندوں اور تمہاری چودھراہٹوں پر کوئی آنچ نہ آ جائے۔ یہ تو حقیر سی چیزیں ہیں۔ یہ صرف اس دنیا کا سامان ہیں‘ اس کے سوا کچھ نہیں۔

وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۴۱﴾

’’اور صرف میرا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ مجھ ہی سے بچتے رہو !

آیت 42

وَ لَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’اور نہ گڈمڈ کرو حق کے ساتھ باطل کو اور نہ چھپائو حق کو درانحالیکہ تم جانتے ہو۔‘‘

یہ بات اچھی طرح نوٹ کر لیجیے کہ مغالطے میں غلط راہ پر پڑ جانا ضلالت اور گمراہی ہے‘ لیکن جانتے بوجھتے حق کو پہچان کر اُسے ردّ کرنا اور باطل کی روش اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ اسی سورۃ البقرۃ میں آگے چل کر آئے گا کہ علماءِ یہود محمد رسول اللہﷺ کو اور قرآن کو اس طرح پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے: {یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ} (آیت۱۴۶) لیکن اس کے باوجود انہوں نے محض اپنی دُنیوی مصلحتوں کے پیشِ نظر آپﷺ اور قرآن کی تکذیب کی۔

آیت 43

وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ

’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو‘‘

وَ ارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾

’’اور جھکو (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ‘‘۔

یعنی باجماعت نماز ادا کیا کرو۔

اوّل تو یہود نے رکوع کو اپنے ہاں سے خارج کر دیا تھا‘ ثانیاً باجماعت نماز ان کے ہاں ختم ہو گئی تھی۔ چنانچہ انہیں رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ گویا صراحت کی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماںﷺ پر صرف ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی نہیں‘ بلکہ تمام اصول میں آپؐ ‘کی پیروی ضروری ہے۔نماز بھی آپؐ کے طریقے پر پڑھو جس میں رکوع بھی ہو اور جوباجماعت ہو۔

آیت 44

اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ

’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟‘‘

ان آیات کے اصل مخاطب علماء یہود ہیں‘ جو لوگوں کو تقویٰ اور پارسائی کی تعلیم دیتے تھے لیکن ان کا اپنا کردار اس کے برعکس تھا۔ہمارے ہاں بھی علماء اور واعظین کا حال اکثر و بیشتر یہی ہے کہ اونچے سے اونچا وعظ کہیں گے‘ اعلیٰ سے اعلیٰ بات کہیں گے‘ لیکن ان کے اپنے کردار کو اُس بات سے کوئی مناسبت ہی نہیں ہوتی جس کی وہ لوگوں کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ یہی درحقیقت علماءِ یہود کا کردار بن چکا تھا۔ چنانچہ ان سے کہا گیا کہ ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو مگر خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟‘‘

وَ اَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ

’’حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔‘‘

تم یہ کچھ کر رہے ہو اس حال میں کہ تم اللہ کی کتاب بھی پڑھتے ہو ۔یعنی تورات پڑھتے ہو‘تم صاحبِ تورات ہو۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے علماء کا‘ جنہیں ہم علماءِ سوء کہتے ہیں‘ یہی حال ہو چکا ہے۔ بقول اقبال : ؎

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!

قرآن حکیم کے ترجمے میں ‘ اس کے مفہوم میں‘ اس کی تفسیر میں بڑی بڑی تحریفیں موجودہیں۔ الحمد للہ کہ اس کا متن بچا ہوا ہے۔ اس لیے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔

اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟‘‘

آیت 45

وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ

’’اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔‘‘

یہاں پر صبر کا لفظ بہت بامعنی ہے ۔ علماءِ سوء کیوں وجود میں آتے ہیں؟ جب وہ صبر اور قناعت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں تو حب مال ان کے دل میں گھر کر لیتی ہے اور وہ دنیاکے کتے بن جاتے ہیں۔ پھر وہ دین کو بدنام کرنے والے ہوتے ہیں۔ بظاہر دینی مراسم کے پابند نظر آتے ہیں لیکن دراصل ان کے پردے میں دنیاداری کا معاملہ ہوتا ہے۔ چنانچہ انہیں صبر کی تاکید کی جا رہی ہے۔ سورۃ المائدۃ میں یہود کے علماء و مشائخ پر بایں الفاظ تنقید کی گئی ہے: {لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ} (المائدۃ:۶۳) ’’کیوں نہیں روکتے انہیں ان کے علماء اور صوفیاء جھوٹ بولنے سے اور حرام کھانے سے؟‘‘اگر کوئی عالم یا پیر اپنے ارادت مندوں کو ان چیزوں سے روکے گا تو پھر اس کو نذرانے تو نہیں ملیں گے‘ اس کی خدمتیں تو نہیں ہوں گی۔ چنانچہ اگر تو دنیا میں صبر اختیار کرنا ہے‘ تب تو آپ حق بات کہہ سکتے ہیں‘ اور اگر دُنیوی خواہشات (ambitions) مقدم ہیں تو پھر آپ کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا (compromise) کرنا پڑے گا۔

صبر کے ساتھ جس دوسری شے کی تاکید کی گئی وہ نماز ہے۔ علماء یہود وضوحِ حق کے باوجود جومحمد رسول اللہﷺ پر ایمان نہ لاتے تھے اس کی بڑی وجہ حب مال اور حب جاہ تھی۔ یہاں دونوں کا علاج بتا دیا گیا کہ حب مال کا مداوا صبر سے ہو گا‘ جبکہ نماز سے عبودیت و تذلل پیدا ہو گا اور حب جاہ کا خاتمہ ہو گا۔

وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ

’’اور یقینایہ بہت بھاری شے ہے‘‘

عام طور پر یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اِنَّـہَا کی ضمیر صرف صلوٰۃ کے لیے ہے۔ یعنی نماز بہت بھاری اور مشکل کام ہے۔ لیکن ایک رائے یہ ہے کہ یہ درحقیقت اس پورے طرزِ عمل کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا کے شدائد اور ابتلاء ات کا مقابلہ صبر اور نماز کی مدد سے کیا جائے۔ مطلوب طرزِ عمل یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کے متعلقات میں کم سے کم پر قانع ہو جاؤ اور حق کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں آ جاؤ۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز کو اپنے معمولاتِ حیات کا محور بناؤ‘ جو کہ عماد الدّین ہے۔فرمایا کہ یہ روش یقینا بہت بھاری ہے ‘اور نماز بھی بہت بھاری ہے۔

اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

’’مگر اُن عاجزوں پر (بھاری نہیں ہے)۔‘‘

اُن خشوع رکھنے والوں پر‘ اُن ڈرنے والوں پر یہ روش بھاری نہیں ہے جن کے دل اللہ کے آگے جھک گئے ہیں۔

آیت 46

الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ

’’جنہیں یہ یقین ہے کہ وہ اپنے ربّ سے ملاقات کرنے والے ہیں‘‘

میں نے شروع میں {وَ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾} کے ذیل میں توجہ دلائی تھی کہ یہ ایمان بالآخرت ہی ہے جو انسان کو عمل کے میدان میں سیدھا رکھتا ہے۔

وَ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿٪۴۶﴾

’’اور(جنہیں یہ یقین ہے کہ) بالآخر انہیں اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘‘۔ انہیں ا س کے رُوبروحاضر ہونا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے