’’اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔‘‘
خلیفہ درحقیقت نائب کو کہتے ہیں ۔ عام طور پر لوگوں کو مغالطہ لاحق ہو تا ہے کہ خلیفہ اور جانشین کسی کی موت کے بعد مقرر ہوتا ہے‘ زندگی میں نہیں ہوتا۔ لیکن اس دنیا میں انسان کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے وائسرائے کا تصور ذہن میں رکھیے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے ہم انگریز کے غلام تھے۔ ہمارا اصل حاکم (بادشاہ یا ملکہ) انگلستان میں تھا‘ جبکہ دہلی میں وائسرائے ہوتا تھا۔ وائسرائے کا کام یہ تھا کہ His Majesty یا Her Majesty کی حکومت کا جو بھی حکم موصول ہو اُسے بلا چون و چرا بغیر کسی تغیر اور تبدل کے نافذ کرے۔ البتہ وائسرائے کو اختیار حاصل تھا کہ اگر کسی معاملے میں انگلستان سے حکم نہ آئے تو وہ یہاں کے حالات کے مطابق اپنی بہترین رائے قائم کرے۔ وہ غور و فکر کرے کہ یہاں کی مصلحتیں کیا ہیں اور جو چیز بھی سلطنت کی مصلحت میں ہو اُس کے مطابق فیصلہ کرے۔ بعینہٖ یہی رشتہ کائنات کے اصل حاکم اور زمین پر اُس کے خلیفہ کے مابین ہے۔ کائنات کا اصل حاکم اور مالک اللہ تعالیٰ ہے‘ لیکن اُس نے اپنے آپ کو غیب کے پردے میں چھپا لیا ہے۔ زمین پر انسان اس کا خلیفہ ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ جو ہدایت اللہ کی طرف سے آ رہی ہے اس پر تو بے چون و چرا عمل کرے اور جس معاملے میں کوئی واضح ہدایت نہیں ہے وہاں غور و فکر اور سوچ بچار کرے اور استنباط و اجتہاد سے کام لیتے ہوئے جو بات روحِ دین سے زیادہ سے زیادہ مطابقت رکھنے والی ہو اسے اختیار کرے۔ یہی درحقیقت رشتۂ خلافت ہے جو اللہ اور انسان کے مابین ہے۔
یہ حیثیت تمام انسانوں کو دی گئی ہے اور بالقوۃ (potentially) ہر انسان اللہ کا خلیفہ ہے‘ لیکن جو اللہ کا باغی ہو جائے‘ جو خود حاکمیت کا مدعی ہو جائے تو وہ اس خلافت کے حق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بادشاہ کا ولی عہد اپنے باپ کی زندگی ہی میں بغاوت کر دے اور حکومت حاصل کرنا چاہے تو اب وہ واجب القتل ہے۔ اسی طرح جو لوگ بھی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کے منکر ہو کر خود حاکمیت کے مدعی ہو گئے اگرچہ وہ واجب القتل ہیں ‘ لیکن دنیا میں انہیں مہلت دی گئی ہے۔ اس لیے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ انہیں فوراً ختم نہیں کرتا۔ ازروئے الفاظ قرآنی : {وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ} (الشوریٰ:۱۴) ’’اور اگر ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی ایک وقتِ معین تک تمہارے ربّ کی طرف سے تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا‘‘۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک وقتِ معین تک کے لیے مہلت دی ہے لہٰذا انہیں فوری طور پر ختم نہیں کیا جاتا‘ لیکن کم از کم اتنی سزا ضرور ملتی ہے کہ اب وہ خلافت کے حق سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ گویا کہ اب دنیا میں خلافت صرف خلافت المسلمین ہو گی۔ صرف وہ شخص جو اللہ کو اپنا حاکمِ مطلق مانے‘وہی خلافت کا اہل ہے۔ تو یہ چند باتیں خلافت کی اصل حقیقت کے ضمن میں یہیں پر سمجھ لیجیے ۔ {وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ } ’’اور یاد کرو جب تمہارے ربّ نے کہا تھا فرشتوں سے کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘
’’اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘
قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۰﴾
’’فرمایا :میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔‘‘
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کو انسان کے بارے میں یہ گمان یا یہ خیال کیسے ہوا؟ اس کے ضمن میں دو آراء ہیں۔ ایک تو یہ کہ انسان کی تخلیق سے پہلے اس زمین پر جنات موجود تھے اور انہیں بھی اللہ نے کچھ تھوڑا سا اختیار دیا تھا اور انہوں نے یہاں فساد برپا کر رکھاتھا۔ ان ہی پر قیاس کرتے ہوئے فرشتوں نے سمجھا کہ انسان بھی زمین میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا ۔ ایک دوسری اُصولی بات یہ کہی گئی ہے کہ جب خلافت کا لفظ استعمال ہوا تو فرشتے سمجھ گئے کہ انسان کو زمین میں کوئی نہ کوئی اختیار بھی ملے گا۔ جنات کے بارے میں خلافت کا لفظ کہیں نہیں آیا‘ یہ صرف انسان کے بارے میں آ رہا ہے۔ اور خلیفہ بالکل بے اختیار نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا جہاں واضح حکم ہے اس کا کام اس کی تنفیذ ہے اور جہاں نہیں ہے وہاں اپنے غور و فکر اور سوچ بچار کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اسے بہتر سے بہتر رائے قائم کرنا ہوتی ہے۔ ظاہر بات ہے جہاں اختیار ہو گا وہاں اس کے صحیح استعمال کا بھی امکان ہے اور غلط کا بھی۔ پولٹیکل سائنس کا تو یہ مسلمہ اصول (axiom) ہے :
"Authority tends to corrupt and absolute authority corrupts absolutely."
چنانچہ اختیار کے اندر بدعنوانی کا رُجحان موجود ہے۔ اس بنا پر انہوں نے قیاس کیا کہ انسان کو زمین میں اختیار ملے گا تو یہاں فساد ہو گا‘ خون ریزی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی حکمتوں سے مَیں خود واقف ہوں۔ میں انسان کو خلیفہ کیوں بنا رہا ہوں‘ یہ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔
آیت 31
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا
’’اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو تمام کے تمام‘نام‘‘
مفسر ین کا تقریباً اجماع ہے کہ اس سے مراد تمام اشیاء کے نام ہیں اور تمام اشیاء کے ناموں سے مراد اُن کی حقیقت کا علم ہے۔ آپ انسانی علم (Human Knowledge) کا تجزیہ کریں تو وہ یہی ہے کہ انسان ایک چیز کو پہچانتا ہے‘ پھر اس کا ایک نام رکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اصطلاح (term) قائم کرتا ہے۔ وہ اُس نام اور اُس اصطلاح کے حوالے سے اُس چیز کے بارے میں بہت سے حقائق کو اپنے ذہن میں محفوظ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام نام سکھا دیے۔ گویا کل مادّی کائنات کے اندر جو کچھ وجود میں آنے والا تھا‘ ان سب کی حقیقت سے حضرت آدم ؑکو امکانی طور پر (potentially) آگاہ کر دیا۔ یہ انسان کااکتسابی علم (Acquired Knowledge) ہے جو اسے سمع و بصر اور عقل و دماغ سے حاصل ہوتا ہے۔
انسان کو حاصل ہونے والے علم کے دو حصے ہیں۔ ایک الہامی علم (Revealed Knowledge) ہے جو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے بھیجتا ہے‘ جبکہ ایک علم بالحواس یا اکتسابی علم (Acquired Knowledge) ہے جو انسان خود حاصل کرتا ہے۔ اُس نے آنکھوں سے دیکھا‘ کانوں سے سنا‘ نتیجہ نکالا اور دماغ کے کمپیوٹر نے اُس کو پراسیس کر کے اُس نتیجے کو کہیں حافظے (memory) کے اندر محفوظ کر لیا۔ پھر کچھ اور دیکھا‘ کچھ اور سنا‘ کچھ چھو کر‘ کچھ چکھ کر‘ کچھ سونگھ کر معلوم ہوا اور کچھ اور نتیجہ نکلا تو اسے سابقہ یادداشت کے ساتھ tally کر کے نتیجہ نکالا۔ ازروئے الفاظ قرآنی: { اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾} (بنی اسراءیل) انسان کو یہ اکتسابی علم (Acquired Knowledge) تین چیزوں سے حاصل ہورہا ہے: سماعت‘ بصارت اور عقل۔عقل اُس تمام sense data کو جو اسے مہیا ہوتا ہے ‘حواس (sense organs) کے ذریعے سے پراسیس کرتی ہے اور فائدہ اخذ کرتی ہے۔ یہ علم ہے جوبالقوۃ (potentially) حضرت آدم علیہ السلام کو دے دیا گیا۔ اب اس کی exfoliation ہو رہی ہے اور درجہ بدرجہ وہ علم پھیل رہا ہے‘ بڑھ رہا ہے۔ بڑھتے بڑھتے یہ کہاں تک پہنچے گا‘ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انسان کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے! اس نصف صدی میں علمِ انسانی میں جو explosion ہوا ہے میں اور آپ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ اکثر بڑے بڑے سائنس دانوں کو بھی اس کا ادراک و شعور نہیں ہے کہ انسانی علم نے کتنی بڑی زقند لگائی ہے۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی لائن کے بارے میں تو جانتا ہے کہ اس میں کیا کچھ ہو گیا۔ مثلاً ایک سائنس دان صرف فزکس یا اس کی بھی کسی شاخ کے بارے میں جانتا ہے‘ باقی دوسری شاخوں کے بارے میں اسے کچھ معلوم نہیں۔ یہ دَور سپیشلائزیشن کا دَور ہے ‘لہٰذا علم کے میدان میں جو بڑا دھماکہ (explosion) ہوا ہے اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ ایک چیز جو آج ایجاد ہوتی ہے چند دنوں کے اندر اندر اُس کا نیا version آ جاتا ہے اور یہ چیز متروک (outdated) ہو جاتی ہے۔ ابلاغ اور مواصلات (communications) کے اندر انقلابِ عظیم برپاہوا ہے۔ آپ یہ سمجھئے کہ اقبال نے جو یہ شعر کبھی کہا تھا ‘اس کی تعبیر قریب سے قریب تر آ رہی ہے ؎
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے!
اور یہ ’’مہ کامل‘‘ اُس وقت بنے گا جب دجّال کی شکل اختیار کرے گا۔ دجّال وہ شخص ہو گا جو ان تمام قواعدِ طبیعیہ (Physical Laws) کے اوپر قابو پا لے گا ۔ جب چاہے گا‘ جہاں چاہے گا بارش برسائے گا۔ وہ رزق کے تمام خزانے اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور اعلان کر دے گا کہ جو اُس پر ایمان لائے گا اُسی کو رزق ملے گا‘ کسی اور کو نہیں ملے گا۔ اُس کی آواز پوری دنیا میں سنائی دے گی۔ وہ چند دنوں کے اندر پوری دنیا کا چکر لگا لے گا۔ یہ ساری باتیں حدیث میں دجال کے بارے میں آئی ہیں۔ وہ آدم کے اس اکتسابی علم (Acquired Knowledge) کی اس حد کو پہنچ جائے گا کہ فطرت کے تمام اسرار (mysteries) اس پر منکشف ہو جائیں اور اسے قواعدِ طبیعیہ پر تصرف حاصل ہو جائے‘ وہ انہیں harness کرلے‘ قابو میں لے آئے اور انہیں استعمال کرے۔
انسان نے جو سب سے پہلا ذریعہ توانائی (source of energy) دریافت کیا وہ آگ تھا۔ آج سے ہزاروں سال پہلے ہمارے کسی جد امجد نے دیکھا کہ کوئی چٹان اوپر سے گری‘ پتھر سے پتھر ٹکرایا تو اس میں سے آگ کا شعلہ نکلا۔ اُس کا یہ مشاہدہ آگ پیدا کرنے کے لیے کافی ہو گیا کہ پتھروں کو آپس میں ٹکراؤ اور آگ پیدا کر لو۔ چنانچہ آگ اُس دَور کی سب سے بڑی ایجاد اور اوّلین ذریعۂ توانائی تھی۔ اب وہ توانائی (energy) کہاں سے کہاں پہنچی! پہلے اُس آگ نے بھاپ کی شکل اختیار کی‘ پھر ہم نے بجلی ایجاد کی اور اب ایٹمی توانائی (Atomic Energy) حاصل کر لی ہے اور ابھی نمعلوم اورکیا کیا حاصل ہونا ہے۔ واللہ اعلم! ان تمام چیزوں کا تعلق خلافت ارضی کے ساتھ ہے۔ لہٰذا فرشتوں کو بتایا گیا کہ آدم کو صرف اختیار ہی نہیں‘ علم بھی دیا جا رہا ہے۔
ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ
’’پھر اُن (تمام اشیاء) کو پیش کیا فرشتوں کے‘سامنے‘‘
’’اور فرمایا کہ بتاؤ مجھے ان چیزوں کے نام اگر تم سچے ہو۔‘‘
اگر تمہارا یہ خیال صحیح ہے کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے زمین کا انتظام بگڑ جائے گا۔
آیت 32
قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ
’’انہوں نے کہا (پروردگار!) نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے‘‘
آپ ہر نقص سے ‘ ہر عیب سے ‘ہر ضعف سے‘ ہر احتیاج سے مبرا اور منزہ ہیں‘ اعلیٰ اور ارفع ہیں۔
لَا عِلۡمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ
’’ہمیں کوئی علم حاصل نہیں سوائے اُس کے جو آپ نے ہمیں سکھادیا ہے۔‘‘
اس کی یہی تعبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس کائناتی حکومت میں ملائکہ کی حیثیت درحقیقت اس کے کارندوں (یا civil servants) کی ہے۔ چنانچہ ہر ایک کو صرف اس کے شعبے کے مطابق علم دیا گیا ہے‘ ان کا علم جامع نہیں ہے اور ان کے پاس تمام چیزوں کا مجموعی علم حاصل کرنے کی استعداد نہیں ہے۔ مثلاً کوئی فرشتہ بارش کے انتظام پر مامورٔ ہے ‘ کوئی پہاڑوں پر مامور ہے‘ جس کا ذکر سیرت میں آتا ہے کہ جب طائف میں رسول اللہﷺ پر پتھراؤ ہوا تو اس کے بعد ایک فرشتہ حاضر ہوا کہ میں مَلکُ الجبال ہوں‘ اللہ نے مجھے پہاڑوں پر مامور کیا ہوا ہے‘ اگر آپؐ فرمائیں تو میں اِن دو پہاڑوں کو آپس میں ٹکرا دوں جن کے درمیان طائف کی یہ وادی واقع ہے اور اس طرح اہل طائف پس کر سرمہ بن جائیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں‘ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں کو ہدایت دے دے۔ توفرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف خدمات پر مامور ہیں اور ان کو جو علم دیا گیا ہے وہ صرف اُن کے اپنے فرائضِ منصبی اور اُن کے اپنے اپنے شعبے سے متعلق دیا گیا ہے‘ جبکہ حضرت آدم ؑکو علم کی جامعیت بالقوۃ (potentially) دے دی گئی‘ جو بڑھتے بڑھتے اب ایک بہت تناور درخت بن چکاہے۔
اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳۲﴾
’’یقینا آپ ہی ہیں جو سب کچھ جاننے والے کامل حکمت والے ہیں۔‘‘
آپ ہی کی ذات ہے جو کل کے کل علم کی مالک ہے اور جس کی حکمت بھی کامل ہے۔ باقی تو مخلوق میں سے ہر ایک کا علم ناقص ہے۔
آیت 33
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۚ
’’اللہ نے فرمایا کہ اے آدم ‘ ان کو بتائو ان چیزوں کے‘نام!‘‘
’’اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے تھے اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے۔‘‘
ان الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ فرشتوں کی خواہش یہ تھی کہ خلافت ہمیں ملے‘ ہم خدامِ ادب ہیں‘ ہر وقت تسبیح و تحمید اور تقدیس میں مصروف ہیں‘ جو حکم ملتا ہے بجا لاتے ہیں‘ تو یہ خلافت کسی اور مخلوق کو کیوں دی جا رہی ہے۔
اب آگے چونکہ تیسری مخلوق کا ذکر بھی آئے گا لہٰذا یہاں نوٹ کر لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی تین مخلوقات ایسی ہیں جو صاحبِ تشخص اور صاحبِ شعور ہیں اور جن میں ’’اَنَا‘‘ (میں) کا شعور ہے۔ ایک ملائکہ ہیں‘ ان کی تخلیق نور سے ہوئی ہے۔ دوسرے انسان ہیں‘ جن کی تخلیق گارے سے ہوئی ہے اور تیسرے جنات ہیں‘ جن کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے۔ باقی حیوانات ہیں‘ اُن میں شعور (consciousness) تو ہے‘ خود شعوری (self consciousness) نہیں ہے۔ انسان جب دیکھتا ہے تو اس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں‘ جبکہ کتا یا بلا دیکھتا ہے تو اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔ حیوانات میں ’’میں‘‘ کا شعور نہیں ہے۔ یہ اَنَا ‘ Self یا Ego صرف فرشتوں میں‘ انسان میں اور جنات میں ہے۔ان میں سے ایک نوری مخلوق ہے‘ ایک ناری مخلوق ہے اور ایک خاکی ہے‘ جو زمین کے اس قشر (crust) میں مٹی اور پانی کے ملغوبے یعنی گارے سے وجود میں آئی ہے۔
’’اور یاد کرو جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدے میں گر پڑے سوائے ابلیس کے۔‘‘
یہاں ایک بات تو یہ سمجھئے کہ آدم ؑ‘ کو تمام ملائکہ کے سجدے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا یہ صرف تعظیماً تھا؟ اور اگر تعظیماً تھا تو کیا آدمِ خاکی کی تعظیم مقصود تھی یا کسی اور شے کی تعظیم تھی؟ مکی سورتوں میں یہ بات دو جگہ بایں الفاظ واضح کی گئی ہے : {فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿﴾} (الحجر:۲۹ و صٓ:۷۲) ’’پھر جب میں اس (آدم) کی تخلیق مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تب گر پڑنا اُس کے سامنے سجدے میں‘‘۔چنانچہ تعظیم اگر ہے تو آدمِ خاکی کی نہیں ہے‘ اس کے اندر موجود ’’روحِ ر بانی‘‘ کی ہے‘ جو ایک Divine Element یا Divine Spark ہے‘ جسے خود خالق نے ’’مِنْ رُّوْحِیْ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔
دوسرے یہ کہ اس سجدے کی حکمت کیا ہے؟ اس کی عِلت اور غرض و غایت کیا ہے؟ جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘ اس کائنات یعنی اس آفاقی حکومت کے کارندے تو فرشتے ہیں اور خلیفہ بنایا جا رہا ہے انسان کو ۔ لہٰذا جب تک یہ ساری سول سروس اس کے تابع نہ ہو وہ خلافت کیسے کرے گا! جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں اور کوئی فعل کرنا چاہتے ہیں تو اس فعل کے پورا ہونے میں‘ اُس کے ظہور پذیر ہونے میں نمعلوم کون کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور فطرت کی کون کون سی قوتیں (forces) ہمارے ساتھ موافقت کرتی ہیں تو ہم وہ کام کر سکتے ہیں ‘اور ان سب پر فرشتے مأمور ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اقلیم (domain) ہے۔ اگر وہ انسان کے تابع نہ ہوں تو خلافت کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔ اسے خلافت دی گئی ہے‘ یہ جدھر جانا چاہتا ہے جانے دو‘ یہ نماز کے لیے مسجد میں جانا چاہتا ہے جانے دو‘ یہ چوری کے لیے نکلا ہے نکلنے دو۔ انسان کو جو اختیار دیا گیا ہے اس کے استعمال میں یہ تمام قوتیں اس کے ساتھ موافقت کرتی ہیں تب ہی اُس کا کوئی ارادہ ‘ خواہ اچھا ہو یا برا ‘ پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ اس موافقت کی علامت کے طور پر تمام فرشتوں کو انسان کے آگے جھکا دیا گیا۔
اس آیت میں ’’اِلَّآ اِبْلِیْسَ‘‘ (سوائے ابلیس کے) سے یہ مغالطہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شاید ابلیس بھی فرشتہ تھا۔ اس لیے کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا۔ اس مغالطے کا ازالہ سورۃ الکہف میں کر دیا گیا جو سورۃ البقرۃ سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی۔ وہاں الفاظ آئے ہیں: {کَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہٖ ؕ} (آیت۵۰) ’’وہ جنوں میں سے تھا‘ پس اس نے سرکشی کی اپنے ربّ کے حکم سے‘‘۔فرشتوں میں سے ہوتا تو نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ فرشتوں کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کر سکتے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾} (التحریم) ’’وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں‘‘۔جنات بھی انسانوں کی طرح ایک ذی اختیار مخلوق ہے جسے ایمان و کفر اور طاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی گئی ہے۔ چنانچہ جنات میں نیک بھی ہیں بد بھی ہیں‘ اعلیٰ بھی ہیں ادنیٰ بھی ہیں‘جیسے انسانوں میں ہیں۔ لیکن یہ ’’عزازیل‘‘ جو جن تھا ‘علم اور عبادت دونوں کے اعتبار سے بہت بلند ہو گیا تھا اور فرشتوں کا ہم نشین تھا۔ یہ فرشتوں کے ساتھ اس طور پر شامل تھا جیسے بہت سے انسان بھی اگر اپنی بندگی میں‘ زُہد میں‘ نیکی میں ترقی کریں تو اُن کا عالمِ ارواح کے ساتھ‘ عالمِ ملائکہ کے ساتھ اور ملأ اعلیٰ کے ساتھ ایک رابطہ قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح عزازیل بھی جن ہونے کے باوجود اپنی نیکی‘ عبادت‘ پارسائی اور اپنے علم میں فرشتوں سے بہت آگے تھا‘ اس لیے ’’مُعَلِّمُ الْـمَلَـکوت‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا اور اسے اپنی اس حیثیت کا بڑازعم تھا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا‘ قرآن حکیم میں قصۂ آدم و ابلیس کے ضمن میں یہ بات سات مرتبہ آئی ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرو‘ سب جھک گئے مگر ابلیس نے سجدے سے انکار کر دیا۔ آیات زیر مطالعہ میں قصہ آدم و ابلیس ساتویں مرتبہ آ رہا ہے۔ اگرچہ مصحف میں یہ پہلی مرتبہ آرہا ہے لیکن ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے یہاں ساتویں مرتبہ آ رہا ہے۔ آدم و ابلیس کا یہ قصہ سورۃ البقرۃ کے بعد سورۃ الاعراف میں‘ پھر سورۃ الحجر میں‘ پھر سورئہ بنی اسرائیل میں ‘ پھرسورۃ الکہف میں‘ پھر سورۂ طٰہٰ میں اور پھر سورۂ صٓ میں آئے گا۔ یعنی یہ قصہ قرآن حکیم میں چھ مرتبہ مکی سورتوں میں آیا ہے اور ایک مرتبہ مدنی سورت سورۃ البقرۃ میں۔
ابلیس کا اصل نام ’’عزازیل‘‘ تھا‘ ابلیس اب اس کا صفاتی نام ہے۔ اس لیے کہ اَبْلَسَ‘ یُبْلِسُ کے معنی ہوتے ہیں مایوس ہو جانا۔ یہ اللہ کی رحمت سے بالکل مایوس ہے اور جو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائے وہ شیطان ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اب میرا تو چھٹکارا نہیں ہے‘ میری تو عاقبت خراب ہو ہی چکی ہے‘ لہٰذا میں اپنے ساتھ اور جتنوں کو برباد کر سکتا ہوں کر لوں ۔ ؏
’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے!‘‘
اب وہ شیطان اس معنی میں ہے کہ انسان کی عداوت اس کی گھٹی میں پڑ گئی۔ اُس نے اللہ سے اجازت بھی لے لی کہ مجھے مہلت دے دے قیامت کے دن تک کے لیے {اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴﴾} تو میں ثابت کر دوں گا کہ یہ آدم اُس رُتبے کا حق دار نہ تھا جو اسے دیا گیا۔
اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ ٭۫
’’اُس نے انکار کیا اور تکبر کیا۔‘‘
قرآن حکیم میں دوسرے مقامات پر اس کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: {اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿﴾} (الاعراف:۱۲ و صٓ:۷۶) ’’میں اس سے بہتر ہوں‘ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے گارے سے بنایا‘‘۔درحقیقت یہی وہ تکبر ہے جس نے اسے راندئہ درگاہِ حق کر دیا ؎
تکبر عزازیل را خوار کرد بزندانِ لعنت گرفتار کرد
وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾
’’اور ہو گیا وہ کافروں میں سے‘‘ ۔یا ’’اور تھا وہ کافروں میں سے۔‘‘
کَانَ عربی زبان میں دو طرح کا ہوتا ہے: ’’تامہ‘‘ اور ’’ناقصہ‘‘ ۔ کَانَ ناقصہ کے اعتبار سے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ اپنے اس استکبار اور انکار کی وجہ سے وہ کافروں میں سے ہو گیا۔ جبکہ کَانَ تامہ کے اعتبار سے یہ معنی ہوں گے کہ وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ یعنی اس کے اندر سرکشی چھپی ہوئی تھی ‘ اب ظاہر ہو گئی۔ ایسا معاملہ کبھی ہمارے مشاہدے میں بھی آتا ہے کہ کسی شخص کی بدنیتی پر نیکی اور زُہد کے پردے پڑے رہتے ہیں اور کسی خاص وقت میں آ کر وہ ننگا ہو جاتا ہے اور اس کی باطنی حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
’’اور ہم نے کہا اے آدم! رہو تم اور تمہاری بیوی جنت میں‘‘
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جنت کون سی ہے؟اکثر حضرات کے نزدیک یہ جنت کہیں آسمان ہی میں تھی اور آسمان ہی میں حضرت آدمؑ کی تخلیق ہوئی۔ البتہ یہ سب مانتے ہیں کہ یہ وہ جنت الفردوس نہیں تھی جس میں جانے کے بعد نکلنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس جنت میں تو آخرت میں لوگوں کو جا کر داخل ہونا ہے اور اس میں داخلے کے بعد پھر وہاں سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے ‘اور میرا رُجحان اسی رائے کی طرف ہے‘ کہ تخلیق آدم ؑ اسی زمین پر ہوئی ہے۔ وہ تخلیق جن مراحل سے گزری وہ اِس وقت ہمارا موضوعِ بحث نہیں ہے۔ بائیولوجی اور وحی دونوں اس پر متفق ہیں کہ قشرِ ارض (Crust of the Earth) یعنی مٹی سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے ۔اس کے بعد کسی اونچے مقام پر کسی سرسبز و شاداب علاقے میں حضرت آدمؑ کو رکھا گیا‘ جہاں ہر قسم کے میوے تھے‘ ہر شے بافراغت میسر تھی۔ ازروئے الفاظ قرآنی: {اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِیۡہَا وَ لَا تَعۡرٰی ﴿ۙ۱۱۸﴾وَ اَنَّکَ لَا تَظۡمَؤُا فِیۡہَا وَ لَا تَضۡحٰی ﴿۱۱۹﴾} (طٰہٰ) ’’یہاں تمہارے لیے یہ آسائشیں موجود ہیں کہ نہ تمہیں اس میں بھوک لگے گی نہ عریانی لاحق ہو گی۔ اور یہ کہ نہ تمہیں اس میں پیاس تنگ کرے گی نہ دھوپ ستائے گی‘‘۔ حضرت آدمؑ اور ان کی بیوی کو وہاں ہر طرح کی آسائشیں حاصل تھیں۔ البتہ یہ جنت صرف ایک demonstration کے لیے تھی کہ انہیں نظر آ جائے کہ شیطان ان کا اور اُن کی اولاد کا ازلی دشمن ہے‘ وہ انہیں ورغلائے گا اور طرح طرح سے وسوسہ اندازی کرے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ کسی شخص کا انتخاب تو ہو گیا اوروہ CSP cadre میں آ گیا‘ لیکن اس کی تعیناتی (posting) سے پہلے اسے سول سروس اکیڈمی میں زیرتربیت رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں جو لفظ ہبوط (اُترنا) آ رہا ہے وہ صرف اسی ایک معنی میں نہیں آتا‘ اس کے دوسرے معانی بھی ہیں۔ یہ چیزیں پھر متشابہات میں سے رہیں گی۔ اس لیے ان کے بارے میں غور و فکر سے کوئی ایک یا دوسری رائے اختیار کی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم!
وَ کُلَا مِنۡہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئۡتُمَا ۪
’’اور کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو۔‘‘
یہاں ہر طرح کے پھل موجود ہیں‘ جو چاہو بلاروک ٹوک کھاؤ۔
وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ
’’مگر اس درخت کے قریب مت جانا۔‘‘
یہاں پر اس درخت کا نام نہیں لیا گیا‘ اشارہ کر دیا گیا کہ اس درخت کے قریب بھی مت‘جانا۔
فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۵﴾
’’ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘
تم حد سے گزرنے والوں میں شمار ہو گے۔
اب اس کی بھی حکمت سمجھئے کہ یہ اس demonstration کا حصہ ہے کہ دنیا میں کھانے پینے کی ہزاروں چیزیں مباح ہیں‘ صرف چند چیزیں حرام ہیں۔ اب اگر تم ہزاروں مباح چیزوں کو چھوڑ کر حرام میں منہ مارتے ہو تو یہ نافرمانی شمار ہو گی۔ اللہ نے مباحات کا دائرہ بہت وسیع رکھا ہے ۔ چند رشتے ہیں جو بیان کر دیے گئے کہ یہ حرام ہیں‘ محرماتِ ابدیہ ہیں‘ ان سے تو شادی نہیں ہو سکتی‘ باقی ایک مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے دنیا کے کسی بھی کونے میں شادی کر سکتا ہے‘ اس کے لیے کروڑوں options کھلے ہیں۔پھر ایک نہیں ‘ دو دو‘ تین تین ‘ چار چار تک عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے باوجود انسان شادی نہ کرے اورزنا کرے‘ تو یہ گویا اس کی اپنی خباثتِ نفس ہے۔ چنانچہ آدم و حوا ( علیہما السلام)کو بتا دیا گیا کہ یہ پورا باغ تمہارے لیے مباح ہے‘ بس یہ ایک درخت ہے ‘ اس کے پاس نہ جانا۔ درخت کا نام لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ تو صرف ایک آزمائش اور اس کی demonstration تھی۔
آیت 36
فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ عَنۡہَا
’’پھر پھسلا دیا اُن دونوں کو شیطان نے اُس درخت کے بارے‘میں‘‘
اس کی تفصیل سورئہ طٰـہٰ میں آئی ہے کہ شیطان نے انہیں کس کس طریقے سے پھسلایا اور انہیں اس درخت کا پھل چکھنے پر آمادہ کیا۔
فَاَخۡرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیۡہِ ۪
’’تو نکلوا دیا ان دونوں کو اُس کیفیت میں سے جس میں وہ‘تھے۔‘‘
وہ کیا کیفیت تھی کہ نہ کوئی مشقت ہے ‘نہ کوئی محنت ہے اور انسان کو ہر طرح کا اچھے سے اچھا پھل مل رہا ہے‘ تمام ضروریات فراہم ہیں اور خاص خلعت فاخرہ سے بھی نوازا گیا ہے‘ جنت کا خاص لباس عطا کیا گیا ہے۔ لیکن ان کیفیات سے نکال کر انہیں کہا گیا کہ اچھا اب جائو اور زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرو۔ یاد رکھنا کہ شیطان تمہارا اور تمہاری نسل کا دشمن ہے اور وہ تمہیں پھسلائے گا جیسے آج پھسلایا ہے‘ تم اس کی شرارتوں سے ہوشیار رہنا: {اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ} (فاطر:۶) ’’یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے‘ اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو‘‘۔ لیکن اگر کچھ لوگ اسے اپنا دوست بنا لیں اور اس کے ایجنٹ اور کارندے بن جائیں تو یہ اُن کا اختیار ہے جس کی سزا انہیں ملے گی۔
’’اور ہم نے کہا تم سب اترو‘ تم ایک دوسر ے کے دشمن ہو گے۔‘‘
نوٹ کیجیے یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ تو ایک دشمنی تو شیطان اور آدم اور ذریتِ آدم کی ہے‘ جبکہ ایک اور دشمنی انسانوں میں مرد اور عورت کے مابین ہے۔ عورت مرد کو پھسلاتی ہے اور غلط راستے پر ڈالتی ہے اور مرد عورتوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ وَ اَوۡلَادِکُمۡ عَدُوًّا لَّکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُمۡ ۚ} (التغابن:۱۴) ’’اے اہل ایمان!یقینا تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں‘ ان سے ہوشیار رہو۔‘‘کہیں ان کی محبت تمہیں راہِ حق سے منحرف نہ کر دے۔ شوہر ایک اچھا کام کرنا چاہتا ہے لیکن بیوی رکاوٹ بن گئی یا بیوی کوئی اچھا کام کرنا چاہتی ہے او رشوہر رکاوٹ بن گیا تو یہ محبت نہیں عداوت ہے۔
’’اور تمہارے لیے اب زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک خاص وقت تک۔‘‘
اب زمین تمہاری جائے قیام ہے اور یہاں ضرورت کی تمام چیزیں ہم نے فراہم کر دی ہیں‘ لیکن یہ ایک وقتِ معین تک کے لیے ہے‘ یہ ابدی نہیں ہے‘ ایک وقت آئے گا کہ ہم یہ بساط لپیٹ دیں گے۔ {یَوۡمَ نَطۡوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلۡکُتُبِ ؕ} (الانبیائ:۱۰۴) ’’جس دن کہ ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے اوراق کا طومار لپیٹ لیا جاتا ہے۔‘‘یہ تخلیق ابدی نہیں ہے ’’ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی‘‘ ہے ’’اِلٰی حِیْنٍ‘‘ ہے۔
’’پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے ربّ سے چند کلمات‘ تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کر لی۔‘‘
اس کی وضاحت سورۃ الاعراف میں ہے۔ جب حضرت آدم ؑ نے اللہ تعالیٰ کا حکمِ عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آ گئے تو سخت پشیمانی اور ندامت پیدا ہوئی کہ یہ میں نے کیا کیا‘ مجھ سے کیسی خطا سرزد ہو گئی کہ میں نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ لیکن ان کے پاس توبہ و استغفار کے لیے الفاظ نہیں تھے ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں۔ اللہ کی رحمت یہ ہوئی کہ اُس نے الفاظ انہیں خود تلقین فرما دیے۔ یہ اللہ کی شانِ رحیمی ہے۔ توبہ کی اصل حقیقت انسان کے اندر گناہ پر ندامت کا پیدا ہو جانا ہے۔ اقبال نے عنفوانِ شباب میں جو اشعار کہے تھے ان میں سے ایک شعر کو سن کر اُس وقت کے اساتذہ بھی پھڑک اُٹھے تھے ؎
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے
یعنی شرمندگی کے باعث میری پیشانی پر پسینے کے جو قطرے نمودار ہو گئے میرے پروردگار کو وہ اتنے عزیز ہوئے کہ اُس نے انہیں موتیوں کی طرح چن لیا۔حضرات آدم و حوا علیہما السلام کو جب اپنی غلطی پر ندامت ہوئی تو وہ گریہ و زاری میں مشغول ہو گئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں چند کلمات اِلقا فرمائے جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ وہ کلمات سورۃ الاعراف میں بیان ہوئے ہیں: {رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾} ’’اے ہمارے ربّ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے‘ اور اگر تو نے ہمیں بخش نہ دیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے۔‘‘ تباہ و برباد ہو جائیں گے۔
اس مقام پر شیطنت اور آدمیت کا فوری تقابل موجود ہے۔ غلطی ابلیس سے بھی ہوئی ‘ اللہ کے حکم سے سرتابی ہوئی‘ لیکن اُسے اس پر ندامت نہیں ہوئی بلکہ وہ تکبر کی بنا پر مزید اکڑ گیا کہ ’’اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ‘‘ اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔دوسری طرف غلطی آدم سے بھی ہوئی‘ نافرمانی ہوئی‘ لیکن وہ اس پر پشیمان ہوئے اور توبہ کی۔ وہ طرزِعمل شیطنت ہے اور یہ آدمیت ہے۔ ورنہ کوئی انسان گناہ سے اور معصیت سے مبرا نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ہے:
حدیث((کُلُّ بَـنِیْ آدَمَ خَطَّائٌ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ)) ۵
’’آدمؑ کی تمام اولاد خطاکار ہے‘ اور اِن خطاکاروں میں بہتر وہ ہیں جو توبہ کرلیں۔‘‘
حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی۔ انہیں اس پر ندامت ہوئی‘ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۳۷﴾
’’یقینا وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا‘ بہت رحم فرمانے ‘والا۔‘‘
توبہ کا لفظ دونوں طرف سے آتا ہے۔ بندہ بھی توّاب ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿۲۲۲﴾} (البقرۃ) جبکہ توّاب اللہ تعالیٰ بھی ہے۔ اس کی اصل حقیقت سمجھ لیجیے۔ بندے نے خطا کی اور اللہ سے دور ہو گیا تو اللہ نے اپنی رحمت کی نگاہ اُس سے پھیر لی ۔ بندے نے توبہ کی تو اللہ پھر اپنی رحمت کے ساتھ اُس کی طرف متوجہ ہو گیا۔ توبہ کے معنی ہیں پلٹنا۔ بندہ معصیت سے توبہ کر کے اپنی اصلاح کی طرف‘ بندگی کی طرف‘ اطاعت کی طرف پلٹ آیا‘ اور اللہ نے جو اپنی نظرِ رحمت بندے سے پھیر لی تھی‘ پھر اپنی شانِ غفاری اور رحیمی کے ساتھ بندے کی طرف توجہ فرمالی۔اس کے لیے حدیث میں الفاظ آتے ہیں :
’’…اور اگر وہ (میرا بندہ) بالشت بھر میری طرف آتا ہے تو میں ہاتھ بھر اُس کی طرف آتا ہوں‘ اور اگر وہ ہاتھ بھر میری طرف آتا ہے تو میں دو ہاتھ اُس کی طرف آتاہوں‘ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔‘‘
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے راہ رَوِ منزل ہی نہیں!
وہ تو توّاب ہے۔بس فرق یہ ہے کہ ’’تَابَ‘‘بندے کے لیے آئے گا تو ’’اِلٰی‘‘ کے صلہ کے ساتھ آئے گا۔ جیسے {اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ } اور جب اللہ کے لیے آئے گا تو ’’عَلٰی‘‘ کے صلہ کے ساتھ ’’تَابَ عَلٰی‘‘ آئے گا‘ جیسے آیت زیر مطالعہ میں آیا: {فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ } اللہ کی شان بہت بلند ہے۔ انسان توبہ کرتا ہے تو اُس کی طرف توبہ کرتا ہے‘ جبکہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ بندے پر توبہ کرتا ہے۔
(۵)سنن ابن ماجہ‘ کتاب الزھد۔ وسنن الترمذی‘ کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع۔ (الفاظ ابن ماجہ کے‘ہیں)
(۶)صحیح البخاری‘ کتاب التوحید‘باب ذکر النبی وروایتہ عن ربہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب فضل الذکر والدعاء والتقرب الی اللہ تعالیٰ۔
اب یہاں لفظ ’’اِھْبِطُوْا‘‘ آیا ہے جو اِس سے پہلے بھی آیا ہے۔ جو حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ تخلیقِ آدمؑ آسمانوں پر ہوئی ہے اور وہ جنت بھی آسمانوں پر ہی تھی جہاں حضرت آدم ؑ آزمائش یا تربیت کے لیے رکھے گئے تھے وہ ’’ اِھْبِطُوْا‘‘ کا ترجمہ کریں گے کہ انہیں آسمان سے زمین پر اترنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن جو لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کو زمین پر ہی کسی بلند مقام پر رکھا گیا تھا وہ کہتے ہیں کہ ’’اِھْبِطُوْا‘‘ سے مراد بلند جگہ سے نیچے اترنا ہے نہ کہ آسمان سے زمین پر اترنا۔ وہ آزمائشی جنت کسی اونچی سطح مرتفع پر تھی۔ وہاں پر حکم دیا گیا کہ نیچے اترو اور جاؤ‘ اب تمہیں زمین میں ہل چلانا پڑے گا اور روٹی حاصل کرنے کے لیے محنت کرنا پڑے گی۔یہ نعمتوں کے دستر خوان جو یہاں بچھے ہوئے تھے اب تمہارے لیے نہیں ہیں۔ اس معنی میں اس لفظ کا استعمال اسی سورۃ البقرۃ کے ساتویں رکوع میں ہوا ہے : {اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ} (آیت۶۱)
’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘
یہ ہے علمِ انسانی کا دوسرا گوشہ ‘ یعنی علم بالوحی (Revealed Knowledge)۔ اس چوتھے رکوع کا حسن ملاحظہ کیجیے کہ اس کے شروع میں علم بالحواس یا اکتسابی علم (Acquired Knowledge) کا ذکر ہے جو بالقو ۃ (potentially) حضرت آدمؑ میں رکھ دیا گیا اور جسے انسان نے پھر اپنی محنت سے‘ اپنے حواس اور عقل کے ذریعے سے آگے بڑھایا۔ یہ علم مسلسل ترقی پذیر ہے اور آج مغربی اقوام اس میں ہم سے بہت آگے ہیں۔کبھی ایک زمانے میں مسلمان بہت آگے نکل گئے تھے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ اس دنیا میں عروج تو انہی کو ہو گا جنہیں سب سے زیادہ اس کی آگہی حاصل ہو گی۔ البتہ وہ علم جو آسمان سے نازل ہوتاہے وہ عطائی (given) ہے ‘جو وحی پر مبنی ہے۔ اور انسان کے مقامِ خلافت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام اس کے پاس آئیں‘ وہ جو ہدایات بھی بھیجے ان کی پورے پورے طور پر پیروی کرے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا۔
آیت 39
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا
’’اور جو کفر کریں گے‘‘
ہماری اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کریں گے‘ ناشکری کریں گے۔
’’وہ آگ والے (جہنمی) ہوں گے‘ اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘
یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوع انسانی کو ابدی منشور (charter) عطا کر دیا گیا جب زمین پر خلیفہ کی حیثیت سے انسان کا تقرر کیا گیا۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے‘ سورۃ البقرۃ کے یہ ابتدائی چار رکوع قرآن کی دعوت اور قرآن کے بنیادی فلسفہ پر مشتمل ہیں ‘اور ان میں مکی سورتوں کے مضامین کا خلاصہ آ گیاہے۔