سورۃ البقرۃ کے تیسرے رکوع میں قرآن کی دعوت کا خلاصہ آ گیا ہے کہ قرآن اپنے مخاطَب کو کیا ماننے کی دعوت دیتا ہے اور اُس کی پکار کیا ہے۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں‘ سورۃ البقرۃ کے نزول سے قبل دو تہائی قرآن نازل ہو چکا تھا۔ ترتیبِ مصحف کے اعتبار سے وہ قرآن بعد میں آئے گا‘ لیکن ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے وہ پس منظر میں موجود ہے۔ لہٰذا سورۃ البقرۃ کے پہلے دو ‘رکوعوں میں مکی قرآن کے مباحث کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے اور تیسرے رکوع میں قرآن مجید کی دعوت کا خلاصہ اور لبِ لباب آ گیا ہے‘ جبکہ قرآن مجید کا فلسفہ اور بعض نہایت اہم موضوعات و مسائل کا خلاصہ چوتھے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ اب ہم تیسرے رکوع کا مطالعہ کر رہے ہیں:
’’اے لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ(مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو۔‘‘
یہ قرآن کی دعوت کا خلاصہ ہے اور یہی تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام کی دعوت تھی۔سورۃ الاعراف اور سورۂ ہود میں ایک ایک رسول کا نام لے کر اس کی دعوت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: {یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ} ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو‘ تمہارا کوئی اور الٰہ اُس کے سوا نہیں ہے‘‘۔ سورۃ الشعراء میں رسولوں کی دعوت کے ضمن میں باربار یہ الفاظ آئے ہیں : {فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿﴾} ’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو‘‘۔ سورۂ نوح میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت ان الفاظ میں بیان ہوئی: {اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ۙ﴿۳﴾} ’’کہ اللہ کی بندگی کرو‘ اس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو!‘‘
پھر ازروئے قرآن یہی عبادتِ ربّ انسان کی غایتِ تخلیق ہے: {وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾} (الذّٰریٰت) ’’اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی صرف اس لیے کیا ہے کہ ہماری بندگی کریں‘‘۔چنانچہ تمام رسولوں کی دعوت یہی ’’عبادتِ ربّ‘‘ ہے اور محمد رسول اللہﷺ کی دعوت بھی یہی ہے‘لیکن یہاں ایک بہت بڑا فرق واقع ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہ باقی تمام رسولوں کی دعوت کے ضمن میں صیغۂ خطاب ’’یٰــقَوْمِ‘‘ ہے۔ یعنی ’’اے میری قوم کے لوگو!‘‘ جبکہ یہاں صیغۂ خطاب ہے : ’’یٰٓـــاَیـُّھَا النَّاسُ‘‘ یعنی ’’اے بنی نوعِ انسان!‘‘ معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہﷺ سے پہلے تمام رسول علیہم السلام صرف اپنی اپنی قوموں کی طرف آئے‘ جبکہ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہﷺاللہ تعالیٰ کے آخری اور کامل رسول ہیں جن کی دعوت آفاقی ہے۔
عام طور پر لوگ جو غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں اُس پر اِس دلیل سے جمے رہتے ہیں کہ ہمارے آباء و اَجداد کا راستہ یہی تھا ۔ {الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ} کے الفاظ میں اس دلیل کا ردّ بھی موجود ہے کہ جیسے تم مخلوق ہو ویسے ہی تمہارے آباء و اجداد بھی مخلوق تھے‘ جیسے تم خطا کر سکتے ہو اسی طرح وہ بھی تو خطا کر سکتے تھے۔ لہٰذا یہ نہ دیکھو کہ آباء و اجداد کا راستہ کیا تھا‘ بلکہ یہ دیکھو کہ حق کیا ہے۔
لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾
’’تاکہ تم بچ سکو۔‘‘
یعنی دنیا میں افراط و تفریط کے دھکوں سے بچ سکو اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچ سکو۔ ان دونوں سے اگر بچنا ہے تو اللہ کی بندگی کی روش اختیار کرو۔
’’تو ہرگز اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہرائو جانتے ‘بوجھتے۔‘‘
وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب تم بھی مانتے ہو کہ اس کائنات کا خالق اللہ کے سوا کوئی نہیں‘ تو پھر اس کے شریک کیوں ٹھہراتے ہو؟ اہل عرب یہ بات مانتے تھے کہ کائنات کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے‘ البتہ جو اُن کے دیوی دیوتا تھے انہیں وہ سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کے اَوتار ہیں یا اللہ کے ہاں بہت پسندیدہ ہیں‘ اُس کے محبوب ہیں‘ اُس کے اولیاء ہیں‘ اُس کی بیٹیاں ہیں‘ لہٰذا یہ شفاعت کریں گے تو ہمارا بیڑا پار ہو جائے گا۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب تم یہ مانتے ہو کہ کائنات کا خالق ایک اللہ ہے‘ وہی اس کا مدبر ہے تو اب کسی کو اس کا مدمقابل نہ بناؤ۔
اَنْدَاد ’’نِدّ‘‘ کی جمع ہے‘ اس کا معنی مدمقابل ہے۔ خطبۂ جمعہ میں آپ نے یہ الفاظ سنے ہوں گے : ’’لَا ضِدَّ لَـہٗ وَلَا نِدَّ لَـہٗ ‘‘ ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا:اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: حدیث((اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَھُوَ خَلَقَکَ))۱’’یہ کہ تو اس کا کوئی مدمقابل ٹھہرائے حالانکہ اُس نے تجھے پیدا کیا ہے‘‘۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کسی درجے میں کوئی شریک یا مدمقابل نہیں ہے۔ اس ضمن میں رسول اللہﷺ اُمت کو اس درجے توحید کی باریکیوں تک پہنچا کر گئے ہیں کہ ایسے تصورات کی بالکل جڑ کٹ جاتی ہے۔ ایک صحابیؓ نے آپﷺ کے سامنے ایسے ہی کہہ دیا: ’’ مَاشَائَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ‘‘ یعنی جو اللہ چاہے اور جو آپؐ چاہیں۔ آپﷺ نے انہیں فوراً ٹوک دیا اور فرمایا: حدیث((اَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا؟ مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ))’’کیا تو نے مجھے اللہ کا مدمقابل بنا دیا ہے؟(بلکہ وہی ہو گا) جو تنہا اللہ چاہے۔‘‘۲ اس کائنات میں مشیت صرف ایک ہستی کی چلتی ہے۔ کسی اور کی مشیت اس کی مشیت کے تابع پوری ہو جائے تو ہو جائے‘ لیکن مشیتِ مطلقہ صرف اُس کی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن حکیم میں رسول اللہﷺ سے فرمایا گیا:
’’(اے نبیﷺ!) یقیناآپ جسے چاہیں اُسے ہدایت نہیں دے سکتے‘ بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘
اگر ہدایت کا معاملہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں ہوتا تو ابوطالب دنیا سے ایمان لائے بغیر رخصت نہ ہوتے۔
ان دو آیتوں میں توحید کے دونوں پہلو بیان ہو گئے‘ توحید نظری بھی اور توحید عملی بھی۔توحید عملی یہ ہے کہ بندگی صرف اُسی کی ہے۔ اب اگلی آیت میں ایمان بالرسالت کا بیان آرہا ہے۔
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ تعالیٰ: {فَــلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ}۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب کون الشرک اقبح الذنوب… الخ۔
(۲) ان الفاظ میں یہ حدیث علامہ محمد بن عبدالوہاب نے ’’کتاب التوحید‘‘ میں نسائی کے حوالے سے درج کی ہے۔مسند احمد میں الفاظ وارد ہوئے ہیں :((اَجَعَلْتَنِیْ وَاللّٰہَ عَدْلًا؟))کیا تو نے مجھے اور اللہ کو برابر کر دیا؟‘‘ (مرتب)
’’اور اگرتم واقعتا شک میں ہو اس کلام کے بارے میں جو ہم نے اتارا اپنے بندے پر (کہ یہ ہمارا نازل کردہ ہے یا نہیں)‘‘
فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪
’’تو لے آئو ایک ہی سورت اِس جیسی۔‘‘
’’تعارفِ قرآن‘‘ میں یہ بات تفصیل سے بیان کی گئی تھی کہ قرآن حکیم میں ایسے پانچ مقامات ہیں جہاں پر یہ چیلنج موجود ہے کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ کلام محمد(ﷺ )کی اختراع ہے تو تم بھی مقابلے میں ایسا ہی کلام پیش کرو۔ سورۃ الطور کی آیات ۳۳‘۳۴ میں ارشاد ہوا: ’’کیا ان کا یہ کہنا ہے کہ اسے محمد(ﷺ) نے خود گھڑ لیا ہے؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ماننے کو تیار نہیں۔ پھر چاہیے کہ وہ اسی طرح کا کوئی کلام پیش کریں اگر وہ سچے ہیں‘‘۔ سورئہ بنی اسراء یل (آیت ۸۸) میں فرمایا گیا کہ ’’اگر تمام جن و انس جمع ہو کر بھی اس قرآن جیسی کتاب پیش کرنا چاہیں تو ہرگز نہیں کر سکیں گے‘ چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔ پھر سورۂ ہود (آیت ۱۳) میں فرمایا گیاکہ ’’(اے نبیؐ)ان سے کہہ دیجیے (اگرپورے قرآن کی نظیر نہیں لا سکتے) تو ایسی دس سورتیں ہی گھڑ کر لے آؤ!‘‘ اس کے بعد مزید نیچے اتر کر ‘ جسے برسبیلِ تنزل کہا جاتا ہے‘ سورۂ یونس (آیت ۳۸) میں اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لے آنے کا چیلنج دیا گیا۔ مذکورہ بالا تمام مقامات مکی سورتوں میں ہیں۔ پہلی مدنی سورۃ ’’البقرۃ‘‘ کی آیت زیر مطالعہ میں یہی بات بڑے اہتمام کے ساتھ فرمائی گئی کہ اگر تم لوگوں کو اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے (کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے)تو اس جیسی ایک سورت تم بھی موزوں کر کے لے آؤ! یہ ایک سورت سورۃ العصر کے مساوی بھی ہو سکتی تھی‘ سورۃ الکوثر کے مساوی بھی ہو سکتی تھی۔
’’اور بلا لو اپنے سارے مددگاروں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔‘‘
قریش کا خیال یہ تھا کہ شعراء کے پاس جن ہوتے ہیں‘ جو انہیں شعر سکھاتے ہیں‘ ورنہ عام آدمی تو شعر نہیں کہہ سکتا۔ چنانچہ فرمایا کہ جو بھی تمہارے مددگار ہوں ‘ایک اللہ کو چھوڑ کر جس کی بھی تم مدد حاصل کر سکتے ہو‘ جنات ہوں یا انسان ہوں ‘ خطیب ہوں ‘ شعراء ہوں یا ادیب ہوں‘ ان سب کو جمع کر لو اور اس قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا کر لے آؤ‘ اگر تم سچے ہو۔
قرآن کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ یہاں گویا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہا جا رہا ہے کہ حقیقت میں تمہیں اس قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے‘ یہ تو تم محض بات بنا رہے ہو۔ اگر تمہیں واقعتا شک ہے‘ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو آئو میدان میں اور اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاؤ!
آیت 24
فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ لَنۡ تَفۡعَلُوۡا
’’پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو‘ اور ہرگز نہ کرسکوگے!‘‘
ذرا انداز دیکھئے‘ کیسا تحدی اور چیلنج کا ہے! اور یہ چیلنج اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ یہ انداز دنیا کی کسی کتاب کا نہیں ہے ‘یہ دعویٰ صرف قرآن کا ہے ۔کیسا دو ٹوک انداز ہے:’’پھر اگر تم نہ کر پاؤ ‘اور تم ہرگز نہیں کر پاؤ گے۔‘‘
’’تو پھر بچو اُس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر۔‘‘
جہنم کے ایندھن کے طور پر پتھروں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ اس کے دو امکانات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ کو معلوم ہے پتھر کے کوئلے کی آگ عام لکڑی کے کوئلے کے مقابلے میں بڑی سخت ہوتی ہے۔ لہٰذا جہنم کی آگ بہت بڑے بڑے پتھروں سے دہکائی جائے گی۔دوسرے یہ کہ مشرکین نے جو معبود تراش رکھے تھے وہ پتھر کے ہوتے تھے۔ مشرکین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تمہارے ساتھ تمہارے ان معبودوں کو بھی جہنم میں جھونکا جائے گا تاکہ تمہاری حسرت کے اندر اضافہ ہو کہ یہ ہیں وہ معبودانِ باطل جن سے ہم دعائیں مانگاکرتے تھے‘ جن کے سامنے ماتھے ٹیکتے تھے‘ جن کے سامنے ڈنڈوت کرتے تھے‘ جن کو چڑھاوے چڑھاتے تھے!
اُعِدَّتۡ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۴﴾
’’تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔‘‘
یہ جہنم منکرینِ حق کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اب یہاں گویا ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت کے بعد ایمان بالآخرت کا ذکر آ گیا۔
’’کہ اُن کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔‘‘
یہ لفظی ترجمہ ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔اس لیے کہ فطری باغ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جس میں ذرا اُونچائی پر درخت لگے ہوئے ہیں اور دامن میں ندی بہہ رہی ہے‘ جس سے خود بخود آب پاشی ہو رہی ہے اور درختوں کی جڑوں تک پانی پہنچ رہا ہے۔
’’جب بھی انہیں دیا جائے گا وہاں کا کوئی پھل رزق کے طور پر (یعنی کھانے کے لیے)‘‘
قَالُوۡا ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ
’’وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی ملتا تھا‘‘
وَ اُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہًا ؕ
’’اور دیے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے۔‘‘
اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جنت میں اہل جنت کی جو ابتدائی دعوت یا ابتدائی ضیافت (نُزُل) ہو گی اس میں انہیں وہی پھل پیش کیے جائیں گے جو دنیا میں معروف ہیں ‘مثلاً انار‘ انگور‘سیب‘ کھجور وغیرہ۔ اہل جنت انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو ہم دنیا میں کھاتے آئے ہیں‘ لیکن جب انہیں چکھیں گے تو ظاہری مشابہت کے باوجود ذائقے میں زمین و آسمان کا فرق پائیں گے۔اور ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ اہل جنت کو جنت میں بھی وہی پھل ملتے رہیں گے‘ لیکن ہر بار اُن کا ذائقہ بدلتا رہے گا۔ ان کی شکل و صورت وہی رہے گی‘ لیکن ذائقہ وہ نہیں رہے گا۔ لہٰذا یہ دنیا والا معاملہ نہیں ہو گا کہ ایک ہی شے کو کھاتے کھاتے انسان کی طبیعت بھر جاتی ہے۔
وَ لَہُمۡ فِیۡہَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ ٭ۙ
’’اور ان کے لیے اُس (جنت) میں نہایت پاکباز بیویاں ہوں گی۔‘‘
وَّ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۵﴾
’’اور وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘
ان پانچ آیات (۲۱ تا ۲۵) میں ایمانیات ثلاثہ یعنی ایمان باللہ‘ ایمان بالرسول اور ایمان بالآخرۃ کی دعوت آ گئی۔ اب آگے کچھ ضمنی مسائل زیربحث آئیں گے۔
’’یقینااللہ اس سے نہیں شرماتاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اُس چیز کی جو اس سے بڑھ کرہے۔‘‘
کفار کی طرف سے قرآن کے بارے میں کئی اعتراضات اٹھائے جاتے تھے۔ وہ کبھی بھی اُس چیلنج کا مقابلہ تو نہ کر سکے جو قرآن نے انہیں {فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪} کے الفاظ میں دیا تھا ‘لیکن خواہ مخواہ کے اعتراضات اٹھاتے رہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے کسی مصور کی تصویر پر اعتراض کرنے والے تو بہت تھے لیکن جب کہا گیا کہ یہ برش لیجیے اور ذرا اس کو ٹھیک کر دیجیے تو سب پیچھے ہٹ گئے۔ قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت لانا تو ان کے لیے ممکن نہیں تھا لیکن اِدھر اُدھر سے اعتراضات کرنے کے لیے ان کی زبانیں کھلتی تھیں۔ اُن میں سے ان کا ایک اعتراض یہاں نقل کیا جا رہا ہے کہ قرآن مجید میں مکھی کی تشبیہہ آئی ہے‘ یہ تو بہت حقیر سی شے ہے۔ کوئی اعلیٰ متکلم اپنے اعلیٰ کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا تذکرہ نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں مکڑی جیسی حقیر شے کا بھی ذکر ہے‘ چنانچہ یہ کوئی اعلیٰ کلام نہیں ہے۔ یہاں اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ دراصل تشبیہہ اور تمثیل کے اندر ممثل لہٗ اور ممثل بہٖ میں مناسبت اور مطابقت ہونی چاہیے۔ یعنی کوئی تمثیل یا تشبیہہ بیان کرنی ہو تو جس شے کے لیے تشبیہہ دی جا رہی ہے اُس سے مطابقت اور مناسبت رکھنے والی شے سے تشبیہہ دی جانی چاہیے۔ کوئی شے اگر بہت حقیر ہے تو اسے کسی عظمت والی شے سے آخر کیسے تشبیہہ دی جائے گی؟ اسے تو کسی حقیر شے ہی سے تشبیہہ دی جائے گی تو تشبیہہ کا اصل مقصد پورا ہو گا۔چنانچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی شرم یا عار کی بات نہیں ہے کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ لفظ ’’فَوْقَھَا‘‘ (اس سے اوپر) میں دونوں معنی موجود ہیں۔ یعنی کمتر اور حقیر ہونے میں اس سے بھی بڑھ کر یا یہ کہ اُس سے اوپر کی کوئی شے ۔ اس لیے کہ مکھی یا مکڑی بہرحال مچھر سے ذرا بڑی شے ہے۔
’’گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اسی کے ذریعے سے بہتوں کو۔‘‘
اِن مثالوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ بہت سوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہت سوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔معلوم ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کا دار و مدار انسان کی اپنی داخلی کیفیت (subjective condition) پر ہے۔ آپ کے دل میں خیر ہے‘ بھلائی ہے‘ آپ کی نیت طلبِ ہدایت اور طلبِ علم کی ہے تو آپ کو اس قرآن سے ہدایت مل جائے گی‘ اور اگر دل میں زیغ ہے‘ کجی ہے‘ نیت میں ٹیڑھ اور فساد ہے تو اسی کے ذریعے سے اللہ آپ کی گمراہی میں اضافہ کر دے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی کو ہدایت دینا اور کسی کو گمراہی میں مبتلا کر دینا الل ٹپ نہیں ہے‘ کسی قاعدے اور قانون کے بغیر نہیں ہے۔
وَ مَا یُضِلُّ بِہٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
’’اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔‘‘
اس سے گمراہی میں وہ صرف انہی کو مبتلا کرتا ہے جن میں سرکشی ہے‘ تعدی ہے‘ تکبر ہے۔ اگلی آیت میں اُن کے اوصاف بیان کر دیے گئے۔
’’جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد۔‘‘
اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سب سے بڑا عہد ’’عہدِ الست‘‘ ہے‘ جس کا ذکر سورۃ الاعراف میں آئے گا۔یہ عہد عالمِ ارواح میں تمام ارواحِ انسانیہ نے کیا تھا‘ ان میں مَیں بھی تھا‘ آپ بھی تھے‘ سب تھے۔ الغرض تمام کے تمام انسان جتنے آج تک دنیا میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک ابھی آنے والے ہیں ‘ اس عہد کے وقت موجود تھے‘ لیکن صرف ارواح کی شکل میں تھے‘ جسم موجود نہیں تھے۔ اور یہ بات یاد رکھیے کہ انسان کا روحانی وجود مکمل وجود ہے اور اوّلاً تخلیق اُسی کی ہوئی تھی۔ ’’عہدالست‘‘ میں تمام بنی آدم سے اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟) سب نے ایک ہی جواب دیا : بَلٰی (کیوں نہیں!) تو یہ جو فاسق ہیں‘ نافرمان ہیں‘ سرکش ہیں‘ انہوں نے اس عہد کو توڑااور اللہ کو اپنامالک‘ اپنا خالق اور اپنا حاکم ماننے کی بجائے خود حاکم بن کر بیٹھ گئے اور اس طرح کے دعوے کیے : {اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ} ’’کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے؟‘‘غیر اللہ کی حاکمیت (sovereignty) کو تسلیم کرنا سب سے بڑی بغاوت‘ سرکشی‘ فسق اور نافرمانی ہے‘ خواہ وہ ملوکیت کی صورت میں ہو یا عوامی حاکمیت (popular sovereignty) کی صورت میں۔
’’اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیاہے‘‘
اللہ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے‘ یہ قطع رحمی کرتے ہیں۔ مال کی طلب میں‘ اُس کے مال کو ہتھیانے کے لیے بھائی بھائی کو ختم کر دیتا ہے۔ انسان اپنی ذاتی اغراض کے لیے ‘ اپنے تکبر اور تعلّی کی خاطر تمام اخلاقی حدود کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ ہماری شریعت کا فلسفہ یہ ہے کہ ہمیں دو طرح کے تعلقات جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک تعلق ہے بندے کا اللہ کے ساتھ۔ اس کا تعلق ’’حقوق اللہ‘‘ سے ہے۔ جبکہ ایک تعلق ہے بندوں کا بندوں کے ساتھ۔یہ ’’حقوق العباد‘‘ سے متعلق ہے۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ اُسے حاکم اور مالک سمجھو اور خود اُس کے بندے بنو۔ جبکہ انسانوں کا حق یہ ہے کہ : حدیث((کُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا))۳’’سب آپس میں بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ۔‘‘ اس ضمن میں اہم ترین رحمی رشتہ ہے ‘یعنی سگے بہن بھائی ۔ پھر دادا دادی کی اولاد میں تمام چچا زاد وغیرہ (cousins) آجائیں گے۔ اس کے اوپر پرداداپردادی کی اولاد کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ اسی طرح اوپر چلتے جائیں یہاں تک کہ آدم و حوا پر تمام انسان جمع ہو جائیں گے ۔تو رحمی رشتہ کی بڑی اہمیت ہے۔ یہاں فاسقین کی دو صفات بیان کر دی گئیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہ انہیں قطع کرتے ہیں۔
وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ
’’اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘
متذکرہ بالا دونوں چیزوں کے نتیجے میں زمین میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ انسان اللہ کی اطاعت سے باغی ہو جائیں یاآپس میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگیں تو اس کا نتیجہ فساد فی الارض کی صورت میں نکلتا ہے۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾
’’یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘
یہی لوگ ہیں جو بالآخر آخری اور دائمی خسارے میں رہنے والے ہیں۔
(۳)صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب ما ینھی عن التحاسد والتدابر وباب الھجرۃ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب تحریم التحاسد والتباغض والتدابر۔
’’پھر وہ تمہیں مارے گا‘ پھر جلائے گا‘ پھر تم اُسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘
اس مقا م پر ایک بڑی گہری حکمت اور فلسفے کی بات بیان کی گئی ہے جو آج نگاہوں سے بالکل اوجھل ہو چکی ہے۔ وہ یہ کہ ہم دنیا میں آنے سے پہلے مردہ تھے (کُنْتُمْ اَمْوَاتًا)۔ اس کے کیا معنی ہیں؟
یہ مضمون سورۂ غافر؍سورۃ المؤمن میں زیادہ وضاحت سے آیا ہے‘ جو سورۃ البقرۃ سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ لہٰذا یہاں اجمالی تذکرہ ہے۔ وہاں اہل جہنم کا قول بایں الفاظ نقل ہوا ہے: {قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾} ’’اے ہمارے ربّ! تو نے دو مرتبہ ہم پر موت وارد کی اور دو مرتبہ ہمیں زندہ کیا‘ اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے‘ تو اب یہاں سے نکلنے کا بھی کوئی راستہ ہے؟‘‘ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ انسان کی تخلیقِ اوّل عالمِ ارواح میں صرف ارواح کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ احادیث میں الفاظ وارد ہوئے ہیں : حدیث((اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ)) [متفق علیہ]یعنی ارواح جمع شدہ لشکروں کی صورت میں تھیں۔ ان ارواح سے وہ عہد لیا گیا جو ’’عہدِ الست‘‘ کہلاتا ہے۔ پھر انہیں سلا دیا گیا۔ یہ گویا پہلی موت تھی جو ہم گزار آئے ہیں۔ (آپ جانتے ہیں کہ مردہ معدوم نہیں ہوتا‘ بے جان ہوتا ہے‘ ایک طرح سے سویا ہوا ہوتا ہے۔ قرآن حکیم میں موت اور نیند کو باہم تشبیہہ دی گئی ہے۔) پھر دنیا میں عالمِ خلق کا مرحلہ آیا‘ جس میں تناسل کے ذریعے سے اجسادِ انسانیہ کی تخلیق ہوتی ہے اور اُن میں ارواح پھونکی جاتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی متفق علیہ حدیث کے مطابق رحمِ مادر میں جنین جب چار ماہ کا ہو جاتا ہے تو اُس میں وہ روح لا کر پھونک دی جاتی ہے۔ یہ گویا پہلی مرتبہ کا زندہ کیا جانا ہو گیا۔ ہم اِس دنیا میں اپنے جسد کے ساتھ زندہ ہو گئے‘ ہمیں پہلی موت کی نیند سے جگادیا گیا۔ اب ہمیں جو موت آئے گی وہ ہماری دوسری موت ہو گی اور اس کے نتیجے میں ہمارا جسد وہیں چلا جائے گا جہاں سے آیا تھا (یعنی مٹی میں) اور ہماری روح بھی جہاں سے آئی تھی وہیں واپس چلی جائے گی۔ یہ فلسفہ و حکمتِ قرآنی کا بہت گہرا نکتہ ہے۔
’’وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ بھی زمین میں ہے۔‘‘
اس آیت میں خلافت کا مضمون شروع ہو گیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے : حدیث((اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَــکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَۃِ))۴’’یہ دنیا تمہارے لیے بنائی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے بنائے گئے ہو۔‘‘اگلی آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافتِ ارضی کا ذکر ہے۔ گویا زمین میں جو کچھ بھی پیدا کیا گیا ہے وہ انسان کی خلافت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔