اب جو دو رکوع آ رہے ہیں‘ ان کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ ہے‘ اور اس موضوع پر یہ قرآن مجید کا ذروۃ السنام (climax) ہے۔ان کے مطالعہ سے پہلے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے کے لیے دین میں کئی اصطلاحات ہیں۔ سب سے پہلی ’’اِطعامُ الطّعام‘‘ (کھانا کھلانا)ہے: {وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾} (الدھر) دوسری اصطلاح ایتائے مال ہے: {وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ…} الخ (البقرۃ:۱۷۷) پھر اس سے آگے صدقہ‘ زکوٰۃ‘ انفاق اور قرضِ حسنہ جیسی اصطلاحات آتی ہیں۔ یہ پانچ چھ اصطلاحات (terms) ہیں‘ لیکن ان کے اندر ایک تقسیم ذہن میں رکھیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی دو بڑی بڑی مدیں ہیں۔ ایک مدابنائے نوع پر خرچ کرنے کی ہے۔ یعنی قرابت دار‘ غربائ‘ یتامیٰ‘مساکین‘‘ محتاج اور بیوائوں پر خرچ کرنا۔ یہ آپ کے معاشرے کے اجزاء ہیں‘ آپ کے بھائی بند ہیں‘ آپ کے عزیز و اقرباء ہیں۔ ان کے لیے خرچ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس کا اجر ملے گا۔ یہ بھی گویا آپ نے اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خرچ کیا۔ جبکہ دوسری مد ہے عین اللہ کے دین کے لیے خرچ کرنا۔
قرآن حکیم میں انفاق اور قرضِ حسنہ کی اصطلاحیں اس دوسری مد کے لیے آتی ہیں اورپہلی مد کے لیے اطعام الطعام‘ ایتائے مال‘ صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی اصطلاحات ہیں۔ چنانچہ انفاقِ مال یا انفاق فی سبیل اللہ سے مراد ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا‘ اللہ کے دین کی دعوت کو عام کرنے اور اللہ کی کتاب کے پیغام کو عام کرنے کے لیے خرچ کرنا۔ اللہ کے دین کی دعوت کو اس طرح ابھارنا کہ باطل کے ساتھ زور آزمائی کرنے والی ایک طاقت پیدا ہو جائے‘ ایک جماعت وجود میں آئے۔ اس جماعت کے لیے ساز و سامان فراہم کرنا تاکہ غلبۂ دین کے ہر مرحلے کے جو تقاضے اور ضرورتیں ہیں وہ پوری ہو سکیں‘ اس کام میں جو مال صرف ہو گا وہ ہے انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے ذمہ قرضِ حسنہ۔ تو یہاں اصل میں اس انفاق کی بات ہو رہی ہے ۔ عام طور پر فی سبیل اللہ کا مفہوم بہت عام سمجھ لیا جاتا ہے اور پانی کی کوئی ’’سبیل‘‘ بنا کر اسے بھی ’’فی سبیل اللہ‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے‘ وہ بھی سبیل تو ہے‘ نیکی کا وہ بھی راستہ ہے‘ سبیل اللہ ہے‘ لیکن ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ کا مفہوم بالکل اور ہے۔ فقراء و مساکین اور اہل حاجت کے لیے صدقات و خیرات ہیں۔ زکوٰۃ بھی اصلاً غریبوں کا حق ہے‘ لیکن اس میں بھی ایک مد ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی رکھی گئی ہے۔ اگر آپ کے عزیز و اقارب اور قرب و جوار میں اہل حاجت ہیں‘ غرباء ہیں تو صدقہ و زکوٰۃ میں ان کا حق فائق ہے‘ پہلے ان کو دیجیے۔ اس کے بعد اس میں سے جو بھی ہے وہ دین کے کام کے لیے لگایئے۔ جب دین یتیمی کی حالت کو آ گیا ہو تو سب سے بڑایتیم دین ہے۔ اور آج واقعتا دین کی یہی حالت ہے۔ اب ہم ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں:
’’مثال ان کی جو اپنے مال اللہ کی راہ میں (اللہ کے دین کے لیے) خرچ کرتے ہیں ایسے ہے جیسے ایک دانہ کہ اُس سے سات بالیاں (خوشے) پیدا ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔‘‘
اس طرح ایک دانے سے سات سو دانے وجود میں آ گئے۔ یہ اُس اضافے کی مثال ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے مال کے اجر و ثواب میں ہو گا۔ جوکوئی بھی اللہ کے دین کے لیے اپنا مال خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے مال میں اضافہ کرے گا‘اس کو جزا دے گا اور اپنے یہاں اس اجر و ثواب کو بڑھاتا رہے گا۔
وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’اللہ جس کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔‘‘
یہ سات سو گنا اضافہ تو تمہیں تمثیلاً بتایا ہے‘ اللہ اس سے بھی زیادہ اضافہ کرے گا جس کے لیے چاہے گا۔ صرف سات سو گنا نہیں ‘اور بھی جتنا چاہے گا بڑھاتا چلا جائے گا۔
وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۶۱﴾
’’اور اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘
اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں اور اس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔
’’پھر جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں‘‘ ان کا طرزِ عمل یہ نہیں ہوتا کہ دیکھئے جی‘ میں نے اُس وقت اتنا چندہ دیا تھا‘ معلوم ہوا کہ میرا حق زیادہ ہے‘ ہم چندے زیادہ دیتے ہیں تو پھر بات بھی تو ہماری مانی جانی چاہیے! یا اگر کوئی شخص اللہ کے دین کے کام میں لگا ہوا ہے اور آپ اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ وہ فکرِ معاش سے آزاد ہو کر اپنا پورا وقت دین کی خدمت میں لگائے‘ لیکن اگر کہیں آپ نے اس کو جتا بھی دیا‘اس پر احسان بھی رکھ دیا‘ کوئی تکلیف دہ کلمہ کہہ دیا‘ کوئی دلآزاری کی بات کہہ دی تو آپ کا جو اجر و ثواب تھا وہ صفر ہو جائے گا۔
’’ان کا اجر اُن کے ربّ کے پاس محفوظ ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی وہ کسی رنج و غم سے دوچار ہوں گے۔‘‘
آیت 263
قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّ مَغۡفِرَۃٌ
’’بھلی بات کہنا اور درگزر کرنا‘‘
خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ؕ
’’بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد اذیت پہنچائی جائے۔‘‘
اگر آپ کے پاس کوئی ضرورت مند آ گیا ہے‘ کسی نے ہاتھ پھیلا دیا ہے تو اگر آپ اس کی مدد نہیں کر سکتے تو دلداری کا ایک کلمہ کہہ دیجیے‘ نرمی کے ساتھ جواب دے دیجیے‘ معذرت کر لیجیے۔ یا اگر کسی سائل نے آپ کے ساتھ درشت رویہ اختیار کیا ہے تو پھر بھی اسے ڈانٹئے نہیں: {وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾} (الضحٰی) بلکہ درگزر سے کام لیجیے۔ یہ طرزِ عمل اس سے کہیں بہتر ہے کہ ضرورت مند کو کچھ دے تو دیالیکن اس کے بعد اسے دوچار جملے بھی سنا دیے‘ اس کی دلآزاری بھی کر دی۔ تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیۡمٌ ﴿۲۶۳﴾
’’اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حلیم ہے۔‘‘
وہ بے نیاز بھی ہے اور بردبار بھی۔ اگر تم کسی کو کچھ دے رہے ہو تو اصل میں اللہ کو دے رہے ہو۔ اس ضمن میں ایک حدیث قدسی میں بڑی وضاحت آئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری تیمار داری نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری تیمارداری کیسے کرتا جبکہ تو ربّ العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تو نے اس کی تیمار داری نہیں کی؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی تیمارداری کرتا تو مجھے اس کے پاس موجود پاتا! اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا‘ تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ وہ کہے گا : اے میرے ربّ! میں تجھ کو کھانا کیسے کھلاتا جبکہ تو ربّ العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا‘ تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا ؟ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کھانے کو میرے پاس موجود پاتا! اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا‘ تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ وہ کہے گا: پروردگار! میں تجھ کو کیسے پانی پلاتا جبکہ تو تو ربّ العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تھا‘ تو نے اس کو پانی نہیں پلایاتھا‘کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر تو اس کو پانی پلادیتا تو اپنے اس عمل کو میرے پاس موجود پاتا!‘‘ ۳۴
چنانچہ یاد رکھو کہ جو کچھ تم کسی ضرورت مند کو دے رہے ہو وہ درحقیقت اللہ کو دے رہے ہو‘ جو غنی ہے‘ جس نے تمہیں سب کچھ عطا کیا ہے۔ اور تمہارے طرزِ عمل کے باوجود بھی اگر وہ تم سے درگزر کررہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حلیم ہے‘ بردبار ہے۔ اگر تم اپنے دل سے اُتری ہوئی شے اللہ کے نام پر دیتے ہو‘ کوئی بے کار اور ردّی چیز اللہ کے نام پر دے دیتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی غیرت اگر اسی وقت جوش میں آجائے تو تمہیں ہر نعمت سے محروم کر دے۔ وہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے‘ لیکن نہیں کرتا‘ اس لیے کہ وہ حلیم ہے۔
(۳۴)صحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب فضل عیادۃ المریض۔
’’اے اہلِ ایمان! اپنے صدقات کو باطل نہ کرلو احسان جتلا کر اور کوئی اذیت بخش بات کہہ کر‘‘
کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ
’’اُس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لیے‘‘
اگرچہ اپنا مال خرچ کر رہا ہے‘ لوگوں کو صدقات دے رہا ہے‘ بڑے بڑے خیراتی ادارے قائم کر دیے ہیں‘ لیکن یہ سب کچھ ریاکاری کے لیے‘ سرکار دربار میں رسائی کے لیے‘ کچھ اپنے ٹیکس بچانے کے لیے اور کچھ اپنی ناموری کے لیے ہے۔ یہ سارے کام جو ہوتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ ان میں کس کی کیا نیت ہے۔
وَ لَا یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ
’’اور وہ ایمان نہیں رکھتا اللہ اور یومِ آخرت پر۔‘‘
جو کوئی ریاکاری کر رہا ہے وہ حقیقت میں اللہ پر اوریومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ ریا اور ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں‘ جیسا کہ یہ حدیث ہم متعدد بار پڑھ چکے ہیں:
’’جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اُس نے شرک کیا‘ جس نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اُس نے شرک کیا‘ اور جس نے دکھاوے کے لیے لوگوں کو صدقہ و خیرات دیا اُس نے شرک کیا۔‘‘
فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَیۡہِ تُرَابٌ
’’تو اس کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر کچھ مٹی (جم گئی) ہو‘‘
اگر کسی چٹان پر مٹی کی تھوڑی سی تہہ جم گئی ہو اور وہاں آپ نے کچھ بیج ڈال دیے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ وہاں کوئی فصل بھی اُگ آئے‘ لیکن وہ انتہائی ناپائیدار ہو گی۔
فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلۡدًا ؕ
’’پھر اس پر زوردار بارش پڑے تو وہ اس کو بالکل صاف پتھر چھوڑ دے۔‘‘
بارش کے ایک ہی زوردار چھینٹے میں چٹان کے اُوپر جمی ہوئی مٹی کی تہہ بھی بہہ گئی‘آپ کی محنت بھی ضائع ہو گئی‘ آپ کا بیج بھی اکارت گیا اور آپ کی فصل بھی گئی۔ بارش سے دھل کر وہ چٹان اندر سے بالکل صاف اور چٹیل نکل آئی۔ یعنی سب کچھ گیا اور کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاکاری کا یہی انجام ہوتا ہے کہ ہاتھ سے مال بھی دیا اور حاصل کچھ نہ ہوا۔ اللہ کے ہاں کسی اجر و ثواب کا سوال ہی نہیں۔
لَا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّمَّا کَسَبُوۡا ؕ
’’ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آئے‘گا۔‘‘
ایسے لوگ اپنے تئیں صدقہ و خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔
’’اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘
وہ ناشکروں اور منکرینِ نعمت کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا اور انہیں بامراد نہیں کرتا۔
اگلی آیت میں فوری تقابل (simultaneous contrast) کے طور پر ان لوگوں کے لیے بھی مثال بیان کی جا رہی ہے جو واقعتا اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے خلوص و اخلاص سے خرچ کرتے ہیں۔
’’اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی رضاجوئی کے لیے‘‘
وَ تَثۡبِیۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ
’’اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے‘‘
کَمَثَلِ جَنَّۃٍۭ بِرَبۡوَۃٍ
’’اُس باغ کی مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو‘‘
جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ قدرتی باغ کا یہی تصور ہوتا تھا کہ ذرا اونچائی پر واقع ہے‘ اس کے دامن میں کوئی ندی بہہ رہی ہے جس سے خود بخود آب پاشی ہو رہی ہے اور وہ سیراب ہو رہا ہے۔
[قادیانیوں نے اسی لفظ ’’ربوہ‘‘ کے نام پر پاکستان میں اپنا شہر بنایا۔ ]
اَصَابَہَا وَابِلٌ
’’اب اگر اس باغ کے اوپر زوردار بارش برسے‘‘
فَاٰتَتۡ اُکُلَہَا ضِعۡفَیۡنِ ۚ
’’تو دوگنا پھل لائے۔‘‘
فَاِنۡ لَّمۡ یُصِبۡہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ
’’اور اگر زوردار بارش نہ بھی برسے تو ہلکی سی پھوار (ہی اس کے لیے کافی ہوجائے)۔‘‘
وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۶۵﴾
’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
لہٰذا تم دروں بینی (intro spection) کرتے رہا کرو کہ تم جو یہ مال خرچ کر رہے ہو واقعتا خلوصِ دل اور اخلاصِ نیت کے ساتھ اللہ ہی کے لیے کر رہے ہو۔کہیں غیر شعوری طور پر تمہارا کوئی اور جذبہ اس میں شامل نہ ہو جائے۔ چنانچہ اپنے گریبانوں میں جھانکتے رہو۔
’’اور عین اُس وقت اُس باغ پر ایک ایسا بگولا پھر جائے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جھلس کر رہ جائے؟‘‘
یعنی ایک انسان ساری عمر یہ سمجھتا رہا کہ میں نے تو نیکیوں کے انبار لگائے ہیں‘ میں نے خیراتی ادارے قائم کیے‘ میں نے فاؤنڈیشن بنائی‘ میں نے مدرسہ قائم کیا‘ میں نے یتیم خانہ بنادیا‘ لیکن جب اُس کا نامۂ اعمال پیش ہو گا تو اچانک اسے معلوم ہوگا کہ یہ تو کچھ بھی نہ تھا۔؏
’’جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا!‘‘
بس بادِ سموم کا ایک بگولا آیا اور سب کچھ جلا گیا۔ اس لیے کہ اس میں اخلاص تھا ہی نہیں‘ نیت میں کھوٹ تھا‘ اس میں ریاکاری تھی‘ لوگوں کو دکھانا مقصود تھا۔ پھر اس کا حال وہی ہو گا جس طرح کہ وہ بوڑھا اب کفِ افسوس مل رہا ہے جس کا باغ جل کر خاک ہو گیا اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہیں۔ وہ خود بوڑھا ہو چکا ہے اور اب دوبارہ باغ نہیں لگا سکتا۔ اس شخص کی مہلت عمر بھی ختم ہو چکی ہو گی اور سوائے کفِ افسوس ملنے کے اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہو گا۔
’’اے ایمان والو! اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو۔‘‘
اللہ کے دین کے لیے خرچ کرنا ہے‘ اللہ کے نام پر دینا ہے تو جو کچھ تم نے کمایا ہے اس میں سے اچھی چیز‘ پاکیزہ چیز‘ بہتر چیز نکالو۔
وَ مِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۪
’’اوراس میں سے خرچ کرو جو کچھ ہم نے نکالا ہے تمہارے لیے زمین سے۔‘‘
ظاہر بات ہے کہ زمین سے جو بھی نباتات باہر آ رہی ہیں ان کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ چاہے کوئی چراگاہ ہے تو اس کے اندر جو ہریاول ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کی ہے ۔ کھیت کے اندر آپ نے محنت کی ہے‘ ہل چلایا ہے‘ بیج ڈالے ہیں‘ لیکن فصل کا اُگانا تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے‘ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ع ’’پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون؟‘‘چنانچہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اُس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرو!
’’اور اس میں سے ردّی مال کا ارادہ نہ کرو کہ اسے خرچ کر دو!‘‘
ایسا نہ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ردّی اور ناکارہ مال چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو۔ مثلاً بھیڑ بکریوں کا گلہ ہے‘ اس میں سے تمہیں زکوٰۃ کے لیے بھیڑیں اور بکریاں نکالنی ہیں تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ جو کمزور ہیں‘ ذرا لاغر ہیں‘ بیمار ہیں‘ نقص والی ہیں انہیں نکال کر گنتی پوری کر دو۔ اسی طرح عشر نکالنا ہے تو ایسا نہ کرو کہ گندم کے جس حصے پر بارش پڑ گئی تھی وہ نکال دو۔ تیمم کے معنی قصد اور ارادہ کرنے کے ہیں۔
’’اور تم ہرگز نہیں ہو گے اس کو لینے والے (اگر وہ شے تم کو دی جائے) الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔‘‘
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم محتاج ہو جائو اور تمہیں ضرورت پڑ جائے‘ پھر اگر تمہیں کوئی ایسی چیز دے گا تو تم قبول نہیں کرو گے‘ اِلا یہ کہ چشم پوشی کرنے پر مجبور ہو جائو۔ احتیاج اس درجے کی ہو کہ نفیس یا خبیث جو شے بھی مل جائے چشم پوشی کرتے ہوئے اسے قبول کر لو۔ورنہ آدمی اپنے طیبِ خاطر کے ساتھ ردّی شے قبول نہیں کر سکتا۔
’’اور خوب جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور حمید ہے۔‘‘
یہاں ’’غنی‘‘ کا لفظ دوبارہ آیا ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ تم کسی محتاج اور ضرورت مند کو دے رہے ہو‘ بلکہ یوں سمجھو کہ اللہ کو دے رہے ہو‘ جو غنی ہے ‘سب کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے اور حمید ہے‘ یعنی اپنی ذات میں خود محمود ہے۔ ایک تو کسی شے کی اچھائی یا حسن یا کمال ایسا ہوتا ہے کہ جسے ظاہر کیا جائے کہ بھئی دیکھو اس میں یہ خوبصورتی ہے۔ اور ایک وہ خوبصورتی ہوتی ہے جو ازخود ظاہر ہو۔ ؏
’’حاجتِ مشاطہ نیست روئے دل آرام را!‘‘
تو اللہ تعالیٰ اتنا ستودہ صفات ہے کہ وہ اپنی ذات میں از خود محمود ہے‘ اسے کسی حمد کی حاجت نہیں ہے۔
’’اور اللہ وعدہ کر رہا ہے تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا۔‘‘
اب دیکھ لو‘ تمہیں کون سا طرزِ عمل اختیار کرنا ہے: ؎
رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے!
شیطان تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے کہ اس طرح تمہارا مال کم ہو جائے گا اور تم فقر و فاقہ میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ اب اگر واقعی تم یہ خوف رکھتے ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر فقر آ جائے‘ لہٰذا مجھے اپنا مال سنبھال سنبھال کر‘ سینت سینت کر رکھنا چاہیے تو تم شیطان کے جال میں پھنس چکے ہو‘ تم اس کی پیروی کر رہے ہو۔ اور اگرتم نے اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے کہ وہ میری ساری حاجتیں آج بھی پوری کر رہا ہے‘ کل بھی پوری کرے گا (اِن شاء اللہ) تو اللہ کی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔
وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۖۙ۲۶۸﴾
’’اللہ بہت وسعت والا ہے‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘
تم اس کے خزانوں کی محدودیت کا کوئی تصور اپنے ذہن میں نہ رکھو۔
آیت 269
یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ
’’وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے۔‘‘
یہ حکمت کی باتیں ہیں‘ جن کا سمجھنا ہر کس و ناکس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک چیزوں کا ظاہر ہے اور ایک باطن ہے‘ جو حکمت سے نظر آتا ہے۔ ظاہر تو سب کو نظر آ رہا ہے‘ لیکن کسی شے کی حقیقت کیا ہے‘ یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے: ؎
اے اہلِ نظر ! ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا؟
جس کسی پر یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے وہ حکیم ہے۔ اور حکمت اصل میں انسان کی عقل اور شعور کی پختگی کا نام ہے۔ استحکام اسی ’’حکمت‘‘ سے ہی بنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ عقل و فہم اور شعور کی یہ پختگی اور حقائق تک پہنچ جانے کی صلاحیت جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔
’’اور نہیں نصیحت حاصل کر سکتے مگر وہی لوگ جو ہوش مند ہیں۔‘‘
ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو اولوالالباب ہیں‘ عقل مند ہیں۔ لیکن جو دنیا پر ریجھ گئے ہیں ‘ جن کا سارا دلی اطمینان اپنے مال و زر‘ جائیداد‘ اثاثہ جات اور بینک بیلنس پر ہے تو ظاہر بات ہے کہ وہ اولو الالباب(عقل مند) نہیں ہیں۔
’’اور جو کچھ بھی تم خرچ کرتے ہو(صدقہ و خیرات دیتے ہو) یا جو بھی تم (اللہ کے نام پر) منت مانتے ہو‘ تو یقینا اللہ تعالیٰ اس سب کو جانتا ہے۔‘‘
وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۲۷۰﴾
’’اور(یاد رکھو کہ) ظالموں کا کوئی مددگارنہیں ہو گا۔‘‘
آیت 271
اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ
’’اگر تم صدقات کو علانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے۔‘‘
خاص طور پر زکوٰۃ کا معاملہ تو علانیہ ہی ہے۔ تو اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی ٹھیک ہے۔اس لیے کہ کم سے کم فقراء کا حق تو ادا ہو گیا‘ کسی کی ضرورت تو پوری ہو گئی۔
’’اور اگر تم انہیں چھپائو اور چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘
یاد رہے کہ یہ بات صدقاتِ نافلہ کے لیے ہے۔ لیکن جو صدقات واجبہ ہیں‘ جو لازماً دینے ہیں‘ مثلاً زکوٰۃ اور عشر‘ ان کے لیے اخفاء نہیں ہے۔ یہ دین کی حکمت ہے‘ اس کو ذہن میں رکھیے کہ فرض عبادات علانیہ ادا کی جائیں گی۔ یہ وسوسہ بھی شیطان بہت سوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے کہ کیا پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنے سے لوگوں پر اپنے تقویٰ کا رعب ڈالنا چاہتے ہو؟ گھر میں پڑھ لیا کرو! یا داڑھی اس لیے رکھو گے کہ لوگ تمہیں سمجھیں کہ بڑا متقی ہے؟ ایسے وساوسِ شیطانی کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جو چیز فرض و واجب ہے‘ وہ علی الاعلان کرنی چاہیے‘ اس کے اظہار میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ ہاں جو نفلی عبادات ہیں‘ صدقاتِ نافلہ ہیں یا نفل نماز ہے اسے چھپا کر کرنا چاہیے۔ نفل عبادت کا اظہار بہت بڑا فتنہ ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ اگر تم اپنے صدقات چھپا کر چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو وہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔
وَ یُکَفِّرُ عَنۡکُمۡ مِّنۡ سَیِّاٰتِکُمۡ ؕ
’’اور اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری برائیوں کو دور کر دے گا۔‘‘
وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۷۱﴾
’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔‘‘
آیت 272
لَیۡسَ عَلَیۡکَ ہُدٰىہُمۡ
’’(اے نبیﷺ!) آپ کے ذمہ نہیں ہے کہ ان کو ہدایت دے دیں‘‘
ان کو ہدایت دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے‘ آپؐ پر ذمہ داری تبلیغ کی ہے۔ ہم نے آپ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ
’’بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘
وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَلِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ
’’اور جو بھی مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے لیے بہتر ہے۔‘‘
اس کا اجر و ثواب بڑھا چڑھا کر تم ہی کو دیا جائے گا‘ سات سو گنا ‘چودہ سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔
’’یہ ان ضرورت مندوں کے لیے ہے جوگھر کر رہ گئے ہیں اللہ کی راہ میں‘‘
جیسے رسول اللہﷺ کے دور میں اصحابِ صفہ تھے کہ مسجد نبویؐ میں آ کر بیٹھے ہوئے ہیں اوراپنا وقت تلاشِ معاش میں صرف نہیں کر رہے‘ آنحضورﷺ سے علم سیکھ رہے ہیں اور جہاں جہاں سے مطالبہ آرہا ہے کہ معلمین اور مبلغین کی ضرورت ہے وہاں ان کو بھیجا جا رہا ہے۔ اگر وہ معاش کی جدوجہد کرتے تو یہ تعلیم کیسے حاصل کرتے؟ اسی طرح دین کی کسی خدمت کے لیے کچھ لوگ اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہیں تو وہ اس کا مصداق ہوں گے۔ آپ نے دین کی دعوت و تبلیغ اور نشر واشاعت کے لیے کوئی تحریک اٹھائی ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ہمہ وقتی کارکن درکار ہوں گے۔ ان کارکنوں کی معاش کا مسئلہ ہو گا۔ وہ آٹھ آٹھ گھنٹے دفتروں میں جا کر کام کریں اور وہاں افسروں کی ڈانٹ ڈپٹ بھی سنیں‘ آنے جانے میں بھی دو دو گھنٹے لگائیں تو اب وہ دین کے کام کے لیے کون سا وقت نکالیں گے اور کیا کام کریں گے؟ لہٰذا کچھ لوگ تو ہونے چاہئیں جو اس کام میں ہمہ وقت لگ جائیں۔ لیکن پیٹ تو ان کے ساتھ بھی ہیں‘ اولاد تو ان کی بھی ہو گی۔
لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِی الۡاَرۡضِ ۫
’’وہ (اپنے کسب معاش کے لیے) زمین میں دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔‘‘
زمین کے اندر گھوم پھر کر تجارت کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔
’’ناواقف آدمی ان کو خوشحال خیال کرتا ہے ان کی خود داری کے سبب۔‘‘
یہ اس طرح کے فقیر تو ہیں نہیں جو لپٹ کر مانگتے ہوں۔ ان کی خود داری کی وجہ سے عام طورپر جو ناواقف شخص ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ غنی ہیں‘ خوشحال ہیں‘ انہیں کوئی ضرورت ہی نہیں‘ انہوں نے کبھی مانگا ہی نہیں۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس طرح کے سوالی نہیں ہیں‘ وہ فقیر نہیں ہیں‘ انہوں نے تو اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے اپنے آپ کو لگا دیا ہے۔ یہ تمہارا کام ہے کہ انہیں تلاش کرو اور ان کی ضروریات پوری کرو۔
تَعۡرِفُہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ
’’تم پہچان لو گے انہیں ان کے چہروں سے۔‘‘
ظاہربات ہے کہ فقر و احتیاج کا اثر چہرے پر تو آجاتا ہے۔ اگر کسی کو صحیح غذا نہیں مل رہی ہے تو چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو گا۔
لَا یَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ؕ
’’وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔‘‘
وہ ان سائلوں کی طرح نہیں ہیں جو اصل میں اپنی محنت کا صلہ وصول کرتے ہیں کہ آپ کے سر ہو کر آپ سے زبردستی کچھ نہ کچھ نکلوا لیتے ہیں۔ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ اقامتِ دین کی جدوجہد میں جو لوگ ہمہ وقت لگ جائیں ‘ آخر ان کے لیے ذریعۂ معاش کیا ہو؟ اس وقت اس پر تفصیل سے گفتگو ممکن نہیں۔ بہرحال یہ سمجھ لیجیے کہ یہ دو رکوع انفاق کے موضوع پر قرآن حکیم کا نقطۂ عروج ہیں اور یہ آخری آیت ان میں اہم ترین ہے۔
’’اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔‘‘
یہ نہ سمجھنا کہ تمہارا انفاق اللہ کے علم میں نہیں ہے۔ تم خاموشی کے ساتھ‘ اخفا کے ساتھ لوگوں کے ساتھ تعاون کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بھرپور بدلہ دے گا۔