تحریر

البقرة

آیات ۲۷۴ تا ۲۸۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

274-276

فاضل سرمایہ کا اعلی اور گھٹیا استعمال

ویڈیو

اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ؔ۲۷۴﴾ اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕ وَ اَمۡرُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾ یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾

تمہید

اب ہم اس سورۂ مبارکہ کا جو رکوع پڑھ رہے ہیں یہ آج کے حالات میں اہم ترین ہے۔ یہ رکوع سود کی حرمت اور شناعت پر قرآن حکیم کا انتہائی اہم مقام ہے۔ اِس دَور میں اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کی سب سے بڑی صورت تو غیر اللہ کی حاکمیت کا تصور ہے‘ جو سب سے بڑا شرک ہے۔ اگرچہ نفسیاتی او ر داخلی اعتبار سے سب سے بڑا شرک مادّے پر توکل ہے‘ لیکن خارجی اور واقعاتی دنیا میں اس وقت سب سے بڑا شرک غیر اللہ کی حاکمیت ہے‘ جو اَب ’’عوامی حاکمیت‘‘ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اس کے بعد اس وقت کے گناہوں اور بدعملی میں سب سے بڑا فتنہ اور فساد سود کی بنیاد پر ہے۔اِس وقت دنیا میں سب سے بڑی شیطنت جو یہودیوں کے ذریعے سے پورے کرئہ ارضی کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے بے تاب ہے ‘وہ یہی سود کا ہتھکنڈا ہے۔ یہاں اس کی حرمت دو ٹوک انداز میں بیان کر دی گئی۔ اس مقام پر میرے ذہن میں کبھی کبھی ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ اس رکوع کی پہلی آیت کا تعلق تو انفاق فی سبیل اللہ سے ہے ‘ لہٰذا اسے پچھلے رکوع کے ساتھ شامل ہونا چاہیے تھا‘ لیکن بعد میں یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی کہ اس آیت کو بڑی حکمت کے ساتھ اس رکوع کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ وہ حکمت مَیں بعد میں بیان کروں گا۔

آیت 274

اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ

’’جو لوگ اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں رات کو بھی اور دن میں بھی‘‘

سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً

’’خفیہ طور پر بھی اور علانیہ بھی‘‘

صدقاتِ واجبہ علانیہ اور صدقاتِ نافلہ خفیہ طور پر دیتے ہیں۔

فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ؔ۲۷۴﴾

’’اُن کے لیے ان کا اجر (محفوظ) ہے ان کے ربّ کے پاس‘ نہ تو اُن پر کوئی خوف طاری ہو گا اور نہ ہی وہ کسی حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘

اس کے برعکس معاملہ اُن کا ہے جو سودکھاتے ہیں ۔ وجہ کیا ہے؟ اصل مسئلہ ہے ’’قدرِ زائد‘‘ (surplus value) کا! آپ کا کوئی شغل ہے‘ کوئی کاروبار ہے یا ملازمت ہے‘ آپ کما رہے ہیں‘ اس سے آپ کا خرچ پورا ہو رہا ہے‘ کچھ بچت بھی ہو رہی ہے۔ اب اس بچت کا اصل مصرف کیا ہے؟ آیت ۲۱۹ میں ہم پڑھ آئے ہیں: {وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ } ’’لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو بھی زائد از ضرورت ہو!‘‘ چنانچہ اصل راستہ تو یہ ہے کہ اپنی بچت کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ یا محتاجوں کو دے دو یا اللہ کے دین کی نشرو اشاعت اور سربلندی میں لگا دو۔ لیکن سود خورانہ ذہنیت یہ ہے کہ اس بچت کو بھی مزید کمائی کاذریعہ بناؤ۔ لہٰذا اصل میں سود خوری انفاق فی سبیل اللہ کی ضد ہے ۔ یہ عقدہ مجھ پر اُس وقت کھلا جب میں نے ’’اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا‘‘ کے اصول کے تحت سورۃ الروم کی آیت ۳۹ کا مطالعہ کیا۔ وہاں بھی ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لایا گیا ہے‘ اللہ کی رضا جوئی کے لیے انفاق اور اس کے مقابلے میں ربا ‘ یعنی سود پر رقم دینا۔ فرمایا: {وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ } ’’اور جو مال تم دیتے ہو سود پر تاکہ لوگوں کے اموال میں (شامل ہو کر) بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا‘‘۔محنت کوئی کر رہا ہے اور آپ اس کی کمائی میں سے اپنے سرمائے کی وجہ سے وصول کر رہے ہیں تو آپ کا مال اس کے مال میں شامل ہو کر اس کی محنت سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں اس کی بڑھوتری نہیں ہوتی۔ {وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾} ’’اور وہ جو تم زکوٰۃ (اور صدقات) میں دے دیتے ہو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے تویہی لوگ (اپنے مال اللہ کے ہاں) بڑھا رہے ہیں‘‘۔ان کا مال مسلسل بڑھ رہاہے‘ اس کی بڑھوتری ہو رہی ہے۔ چنانچہ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقات و زکوٰۃ وغیرہ کا معاملہ سود کے بالمقابل اور اس کے برعکس ہے۔اپنے اس بچت کے مال کو یا تو کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا یا پھر سودی منافع حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے گا۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ آج کے بینکنگ کے نظام میں سب سے زیادہ زور بچت (saving) پر دیا جاتاہے اور اس کے لیے سیونگ اکاؤنٹ اور بہت سی پرکشش منافع بخش سکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔ ان کی طرف سے یہی ترغیب دی جاتی ہے کہ بچت کرو مزید کمانے کے لیے! بچت اس لیے نہیں کہ اپنا پیٹ کاٹو اور غرباء کی ضروریات پوری کرو‘ اپنا معیارِ زندگی کم کرو اور اللہ کے دین کے لیے خرچ کرو۔ نہیں‘ بلکہ اس لیے کہ جو کچھ تم بچاؤ وہ ہمیں دو‘ تاکہ وہ ہم زیادہ شرح سود پر دوسروں کو دیں اور تھوڑی شرح سود تمہیں دے دیں۔ چنانچہ انفاق اور سود ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فرمایا:

آیت 275

اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا

’’جو لوگ سود کھاتے ہیں ۔‘‘

لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ ؕ

’’وہ نہیں کھڑے ہوتے مگر اُس شخص کی طرح جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔‘‘

یہاں عام طو رپر یہ سمجھا گیا ہے کہ یہ قیامت کے دن کا نقشہ ہے۔ قیامت کے دن کا یہ نقشہ تو ہو گا ہی‘ اس دنیا میں بھی سود خوروں کا حال یہی ہوتا ہے‘ اور ان کا یہ نقشہ کسی سٹاک ایکسچینج میں جا کر بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔معلوم ہوگا گویا دیوانے ہیں‘ پاگل ہیں‘ جو چیخ رہے ہیں‘ دوڑ رہے ہیں‘ بھاگ رہے ہیں۔ وہ نارمل انسان نظرنہیں آتے‘ مخبوط الحواس لوگ نظر آتے ہیں جن پر گویا آسیب کاسایہ ہو۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَیۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا ۘ

’’اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔‘‘

کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میں نے سو روپے کا مال خریدا‘ ۱۱۰ روپے میں بیچ دیا‘ دس روپے بچ گئے‘ یہ ربح (منافع) ہے‘ جو جائز ہے‘ لیکن اگر سو روپے کسی کو دیے اور ۱۱۰ واپس لیے تو یہ ربا (سود) ہے‘ یہ حرام کیوں ہو گیا؟ایک شخص نے دس لاکھ کا مکان بنایا‘ چار ہزار روپے ماہانہ کرایے پر دے دیا تو جائز ہو گیا‘ اور دس لاکھ روپے کسی کو قرض دیے اور اُس سے چار ہزار روپے مہینہ لینا شروع کیے تو یہ سود ہو گیا ‘ حرام ہو گیا‘ ایسا کیوں ہے؟ عقلی طور پر اس طرح کی باتیں سود کے حامیوں کی طرف سے کہی جاتی ہیں ۔ (ربح اور ربا کا فرق سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۶ کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے۔)اس ظاہری مناسبت کی وجہ سے یہ مخبوط الحواس سود خور لوگ ان دونوں کے اندر کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کا عقلی جواب نہیں دیا‘ بلکہ فرمایا:

وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ

’’حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام ٹھہرایاہے۔‘‘

اب تم یہ بات کرو کہ اللہ کو مانتے ہو یا نہیں؟ رسول اللہﷺ کو مانتے ہو یا نہیں؟ قرآن کو مانتے ہو یا نہیں؟ یا محض اپنی عقل کو مانتے ہو؟ اگر تم مسلمان ہو ‘ مؤمن ہو تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرو: {وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ} (الحشر:۷) ’’جو کچھ رسولؐ تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ‘‘۔ یہ تو شریعت کا معاملہ ہے۔ ویسے معاشیات کے اعتبار سے اس میں یہ فرق واقع ہوتا ہے کہ ایک ہے fluid capital اور ایک ہے fixed capital۔ جہاں تک مکان کا معاملہ ہے تو وہ fixed capital ہے۔ دس لاکھ روپے کے مکان میں جو شخص رہ رہا ہے وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا؟ وہ اس میں رہائش اختیار کرے گا اور اس کے عوض ماہانہ کرایہ ادا کرے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ نے دس لاکھ روپے کسی کو نقد دے دیے تو وہ انہیں کسی کام میں لگائے گا۔ اس میں یہ بھی امکان ہے کہ دس لاکھ کے بارہ لاکھ یا پندرہ لاکھ بن جائیں اور یہ بھی کہ آٹھ لاکھ رہ جائیں۔ چنانچہ اس صورت میں اگر آپ نے پہلے سے طے شدہ (fix) منافع وصول کیا تو یہ حرام ہو جائے گا۔ تو ان دونوں میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے عقلی جواب نہیں دیا ۔ جواب دیا کہ ’’اللہ نے بیع کو حلال ٹھہرایا ہے اور ربا کو حرام۔‘‘

فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕ

’’تو جس شخص کے پاس اس کے ربّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہے۔‘‘

وہ اُس سے واپس نہیں لیا جائے گا۔ حساب کتاب نہیں کیا جائے گا کہ تم اتنا سود کھاچکے ہو‘ واپس کرو۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا۔

وَ اَمۡرُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ

’’اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ چاہے گا تو معاف کر دے گا اور چاہے گا تو پچھلے سود پر بھی سرزنش ہو گی۔

وَ مَنۡ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷۵﴾

’’اور جس نے (اس نصیحت کے آ جانے کے بعد بھی) دوبارہ یہ حرکت کی تو یہ لوگ جہنمی ہیں‘ وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

آیت 276

یَمۡحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرۡبِی الصَّدَقٰتِ ؕ

’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘

ہمارے زمانے میں شیخ محمود احمد (مرحوم)نے اپنی کتاب ’’Man & Money‘‘ میں ثابت کیا ہے کہ تین چیزیں سود کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ جتنا سود بڑھے گا اسی قدر بے روزگاری بڑھے گی‘ افراطِ زر (inflation) میں اضافہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں شرح سود (interest rate) بڑھے گا۔ شرح سود کے بڑھنے سے بے روزگاری مزید بڑھے گی اور افراطِ زر میں اور زیادہ اضافہ ہو گا۔ یہ ایک دائرئہ خبیثہ (vicious circle) ہے اور اس کے نتیجے میں کسی ملک کی معیشت بالکل تباہ ہو جاتی ہے۔ یہ تباہی ایک وقت تک پوشیدہ رہتی ہے‘ لیکن پھر یک دم اس کا ظہور بڑے بڑے بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ابھی جو کوریا کا حشر ہو رہاہے وہ آپ کے سامنے ہے۔اس سے پہلے روس کا جو حشر ہو چکا ہے وہ پوری دنیا کے لیے باعث عبرت ہے۔ سودی معیشت کا معاملہ تو گویا شیش محل کی طرح ہے‘ اس میں تو ایک پتھر آ کر لگے گا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔اس کے برعکس معاملہ صدقات کا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ پالتا ہے‘ بڑھاتا ہے‘ جیسا کہ سورۃ الروم کی آیت ۳۹ میں ارشاد ہوا۔

وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿۲۷۶﴾

’’اور اللہ کسی ناشکرے اور گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو وہ سب لوگ ہرگز پسند نہیں ہیں جو ناشکرے اور گناہگار ہیں۔

277

نماز اور زکوۃ معمالات کی درستگی کا ذریعہ

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۷﴾

آیت 277

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ

’’ہاں جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ان کے لیے ان کا اجر اُن کے ربّ کے پاس محفوظ ہے۔‘‘

نیک عمل میں ظاہر بات ہے جو شے حرام ہے اس کا چھوڑ دینا بھی لازم ہے۔

وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۷﴾

’’اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

278-280

عملی اعتبار سے بد ترین گناہ سود

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷۸﴾ فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُبۡتُمۡ فَلَکُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِکُمۡ ۚ لَا تَظۡلِمُوۡنَ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۹﴾ وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾

آیت 278

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوۡا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا

’’اے ایمان والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اُسے چھوڑ دو‘‘

آج فیصلہ کر لو کہ جو کچھ بھی تم نے کسی کو قرض دیا تھا اب اس کا سود چھوڑ دینا ہے۔

اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۷۸﴾

’’اگر تم واقعی مؤمن ہو۔‘‘

آیت 279

فَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلُوۡا فَاۡذَنُوۡا بِحَرۡبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ۚ

’’پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہو جائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘‘

سود خوری سے با زنہ آنے پر یہ الٹی میٹم ہے۔ قرآن و حدیث میں کسی اور گناہ پر یہ بات نہیں آئی ہے۔ یہ واحد گناہ ہے جس پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔

وَ اِنۡ تُبۡتُمۡ فَلَکُمۡ رُءُوۡسُ اَمۡوَالِکُمۡ ۚ

’’اور اگر تم توبہ کر لو تو پھر اصل اموال تمہارے ہی ہیں۔‘‘

تمہارے جو اصل رأس المال ہیں وہ تمہیں لوٹا دیے جائیں گے۔ چنانچہ سود چھوڑ دو اور اپنے رأس المال واپس لے لو۔

لَا تَظۡلِمُوۡنَ وَ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷۹﴾

’’نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘

نہ تم کسی پر ظلم کرو کہ اس سے سود وصول کرو اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے کہ تمہارا رأس المال بھی دبا دیا جائے ۔

آیت 280

وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡ عُسۡرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ

’’اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی حاصل ہونے تک اسے مہلت دو۔‘‘

اسے مہلت دو کہ اس کے ہاں کشادگی پیدا ہو جائے تاکہ وہ آسانی سے آپ کا قرض آپ کو واپس کر سکے۔

وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ

’’اور اگر تم صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے‘‘

تمہارا بھائی غریب تھا‘ اس کو تم نے قرض دیا تھا ‘ اس پر کچھ سود لے کر کھا بھی چکے ہو‘ باقی سود کو تو چھوڑا ہی ہے‘ اگر اپنا رأس المال بھی اس کو بخش دو تو یہ انفاق ہو جائے گا‘ یہ اللہ کو قرضِ حسنہ ہو جائے گا اور تمہارے لیے ذخیرئہ آخرت بن جائے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کہ آپ کی جو بچت ہے‘ جسے میں نے قدرِ زائد (surplus value) کہا تھا‘ اسلامی معیشت کے اندر اُس کا سب سے اونچا مصرف انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو‘ صدقہ کر دو۔ اس سے کم تر ’’قرضِ حسنہ‘‘ ہے۔ آپ کے کسی بھائی کا کاروبار رُک گیا ہے‘ اس کو قرض دے دو‘ اس کا کاروبار چل پڑے گا اور پھر وہ تمہیں تمہاری اصل رقم واپس کر دے گا۔ یہ قرضِ حسنہ ہے‘ اس کا درجہ انفاق سے کم تر ہے۔ تیسرا درجہ مضاربت کا ہے‘ جو جائز تو ہے مگر پسندیدہ نہیں ہے۔ اگر تم زیادہ ہی خسیس ہو تو چلو اپنا سرمایہ اپنے کسی بھائی کو مضاربت پر دے دو۔ اور مضاربت یہ ہے کہ رقم تمہاری ہو گی اور کام وہ کرے گا۔ اگر بچت ہو جائے تو اس میں تمہارا بھی حصہ ہو گا‘ لیکن اگر نقصان ہو جائے تو وہ کل کا کل تمہارا ہو گا‘ تم اس سے کوئی تاوان نہیں لے سکتے۔ اس کے بعد ان تین درجوں سے بھی نیچے اتر کر اگر تم کہو کہ میں یہ رقم تمہیں دے رہا ہوں‘ اس پر اتنے فیصد منافع تو تم نے بہرحال دینا ہی دینا ہے‘تو اس سے بڑھ کر حرام شے کوئی نہیں ہے۔

اس آیت میں ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر تمہارا مقروض تنگی میں ہے تو پھر ا نتظار کرو‘ اُسے اس کی کشائش اور فراخی تک مہلت دے دو۔ اور اگر تم صدقہ ہی کر دو‘ خیرات کر دو‘ بخش دو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔

اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸۰﴾

’’اگر تم جانتے ہو۔‘‘

اگر تمہیں اللہ نے حکمت عطا کر دی ہے‘ اگر تم اولوالالباب ہو‘ اگر تم سمجھ دار ہو تو تم اُس بچت کے امیدوار بنو جو اللہ کے ہاں اجر و ثواب کی صورت میں تمہیں ملے گی۔ اس کے مقابلے میں اس رقم کی کوئی حیثیت نہیں جو تمہیں مقروض سے واپس ملنی ہے۔

اگلی آیت نزول کے اعتبار سے قرآن مجید کی آخری آیت ہے۔

281

آخرت میں جواب دہی کا احساس۔۔۔عمل کی اصلاح کا ذریعہ

ویڈیو

وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِیۡہِ اِلَی اللّٰہِ ٭۟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۸۱﴾

آیت 281

وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِیۡہِ اِلَی اللّٰہِ ٭۟

’’اور ڈرو اُس دن سے کہ جس دن تم لوٹا دیے جائو گے اللہ کی طرف۔‘‘

یہاں وہ آیت یاد کیجیے جو سورۃ البقرۃ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ دوبار آچکی ہے : {وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۸﴾} ’’اور ڈرو اُس دن سے کہ جس دن کام نہ آ سکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ وصول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی‘‘۔اور {وَ اتَّقُوۡا یَوۡمًا لَّا تَجۡزِیۡ نَفۡسٌ عَنۡ نَّفۡسٍ شَیۡئًا وَّ لَا یُقۡبَلُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَّ لَا تَنۡفَعُہَا شَفَاعَۃٌ وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾} ’’اور ڈرو اُس دن سے کہ جس دن کام نہ آ سکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔‘‘

ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ

’’پھر ہر جان کو پورا پورا دے دیا جائے گا جو کمائی اس نے کی ہوگی۔‘‘

وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿٪۲۸۱﴾

’’اور اُن پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔‘‘

282-283

قرض کے بارے میں ہدایت - کنٹراکٹس کی اہمیت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ وَ لۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪ وَ لَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ وَ لۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ وَ لَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ وَ لَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ وَ لَا تَسۡـَٔمُوۡۤا اَنۡ تَکۡتُبُوۡہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ اَقۡوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمۡ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَکۡتُبُوۡہَا ؕ وَ اَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ ۪ وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَہِیۡدٌ ۬ؕ وَ اِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمۡ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۲﴾ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمۡ تَجِدُوۡا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقۡبُوۡضَۃٌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا فَلۡیُؤَدِّ الَّذِی اؤۡتُمِنَ اَمَانَتَہٗ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ؕ وَ لَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿٪۲۸۳﴾

تمہید

آیت ۲۸۲‘ جوزیر مطالعہ ہے‘ قرآن حکیم کی طویل ترین آیت ہے اور اسے ’’آیتِ دَین‘‘ یا ’’آیت مُدَایَـنَـۃ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی قرض کا باہم لین دین ہو یا آپس میں کاروباری معاملہ ہو تو اسے باقاعدہ طور پر لکھ لیا جائے اور اس پر دو گواہ مقرر کیے جائیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر اس قرآنی ہدایت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور کسی بھائی‘ دوست یا عزیز کو قرض دیتے ہوئے یا کوئی کاروباری معاملہ کرتے ہوئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے کیا لکھوانا ہے‘ وہ کہے گا کہ انہیں مجھ پر اعتماد نہیں ہے۔ چنانچہ تمام معاملات زبانی طے کر لیے جاتے ہیں‘ اور بعد میں جب معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے توپھر لوگ شکو ہ وشکایت اور چیخ و پکار کرتے ہیں۔ اگر شروع ہی میں قرآنی ہدایات کے مطابق مالی معاملات کو تحریر کر لیا جائے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچے گی۔ حدیث نبویؐ کا مفہوم ہے کہ جو شخص قرض دیتے ہوئے یا کوئی مالی معاملہ کرتے ہوئے لکھواتا نہیں ہے‘ اگر اس کا مال ضائع ہوجاتا ہے تو اسے اس پر کوئی اجر نہیں ملتا‘ اور اگر وہ مقروض کے حق میں بددعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی فریاد نہیں سنتا‘ کیونکہ اُس نے اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

آیت 282

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ

’’اے اہلِ ایمان! جب بھی تم قرض کا کوئی معاملہ کرو ایک وقت معین تک کے لیے تو اس کو لکھ لیا کرو۔‘‘

آیت کے اس ٹکڑے سے دو حکم معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرض کا وقت معین ہونا چاہیے کہ یہ کب واپس ہو گا اور دوسرے یہ کہ اسے لکھ لیا جائے۔ فَاکْتُـبُوْہُ فعل امر ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتاہے۔

وَ لۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪

’’اور چاہیے کہ اس کو لکھے کوئی لکھنے والا تمہارے مابین عدل کے ساتھ۔‘‘

لکھنے والا کوئی ڈنڈی نہ مار جائے‘ اسے چاہیے کہ وہ صحیح صحیح لکھے۔

وَ لَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ

’’اور جو لکھنا جانتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے‘ جس طرح اللہ نے اس کو سکھایا ہے‘ پس چاہیے کہ وہ لکھ دے۔‘‘

یہ ہدایت تاکید کے ساتھ کی گئی‘ اس لیے کہ اس معاشرے میں پڑھے لکھے لوگ بہت کم ہوتے تھے۔ اب بھی مالی معاملات اور معاہدات بالعموم وثیقہ نویس تحریر کرتے ہیں۔

وَ لۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ

’’اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے‘‘

یعنی جس نے قرض لیا ہے وہ دستاویز لکھوائے کہ میں کیا ذمہ داری لے رہا ہوں‘ جس کامال ہے وہ نہ لکھوائے۔

وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ

’’اور وہ اللہ سے ڈرتا رہے اپنے ربّ سے‘‘

وَ لَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ

’’اور (لکھواتے ہوئے) اس میں سے کوئی شے کم نہ کر دے ۔‘‘

فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا

’’پھر اگر وہ شخص جس پر حق عائد ہوتا ہے ‘ ناسمجھ یا ضعیف ہو‘‘

اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ

’’یااس کے اندر اتنی صلاحیت نہ ہو کہ اِملا کرواسکے ‘‘

فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ

’’تو جو اُس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔‘‘

اگر قرض لینے والا ناسمجھ ہو‘ ضعیف ہو یا دستاویز نہ لکھوا سکتا ہو تو اُس کا کوئی ولی ‘ کوئی وکیل یا مختار (attorney) اُس کی طرف سے انصاف کے ساتھ دستاویز تحریر کرائے۔ یہاں ’’اِملال‘‘ اِملا کے معنی میں آیا ہے۔

وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ

’’اور اس پر گواہ بنالیاکرو اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو۔‘‘

فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ

’’پھراگر دو مرد دستیاب نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ہوں‘‘

مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ

’’یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں‘‘

جن کی گواہی ہر دو فریق کے نزدیک مقبول ہو اور ان پر دونوں کو اعتماد ہو۔ اگر مذکورہ صفات کے دو مرد دستیاب نہ ہو سکیں تو گواہی کے لیے ایک مرد اور دو عورتوں کا انتخاب کر لیا جائے۔ یعنی گواہوں میں ایک مرد کا ہونا لازم ہے‘ محض عورت کی گواہی نہیں چلے گی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہر قسم کے معاملات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یا یہ معاملہ صرف قرض اور مالی معاملات میں دستاویز تحریر کرتے وقت کا ہے‘ اس کی تفصیل فقہاء کے ہاں ملتی ہے۔

اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ

’’تاکہ ان میں سے کوئی ایک بھول جائے دوسری یاد کروا دے۔‘‘

یہاں عقلی سوال پیدا ہو گیا کہ کیا مرد نہیں بھول سکتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ واقعتا اللہ تعالیٰ نے عورت کے اندر نسیان کا مادّہ زیادہ رکھا ہے ۔ {اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾} (الملک) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ وہ بڑا باریک بین اور ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے‘‘۔ جس نے پیدا کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کس میں کون سا مادّہ زیادہ ہے۔ عورت میں نسیان کا مادّہ کیوں زیادہ رکھا گیا ہے ‘ یہ بھی سمجھ لیجیے۔ یہ بڑی عقلی اور منطقی بات ہے ۔ دراصل عورت کو مرد کے تابع رہنا ہوتا ہے‘ لہٰذا اُس کے احساسات کو کبھی ٹھیس پہنچ سکتی ہے‘ اُس کے جذبات کے اوپر کبھی کوئی کدورت آتی ہے۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بھول جانے کا مادہ ’’سیفٹی والو‘‘ کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ ورنہ تو ان کا معاملہ اس شعر کے مصداق ہو جائے ؎

یادِ ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا!

چنانچہ یہ نسیان بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے‘ ورنہ تو کوئی صدمہ دل سے اترنے ہی نہ پائے‘ کوئی غصہ کبھی ختم ہی نہ ہو۔ بہرحال خواہ کسی حکم کی علت یا حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے‘ اللہ کا حکم تو بہرصورت ماننا ہے۔

وَ لَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ

’’اورنہ انکار کریں گواہ جبکہ ان کو بلایا جائے ۔‘‘

گواہوں کو جب گواہی کے لیے بلایا جائے تو آکر گواہی دیں‘ اس سے انکار نہ کریں۔ اسی سورۂ مبارکہ کی آیت ۱۴۰ میں ہم پڑھ آئے ہیں: {وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ } ’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک شہادت موجود ہو اور وہ اسے چھپائے؟‘‘

وَ لَا تَسۡـَٔمُوۡۤا اَنۡ تَکۡتُبُوۡہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ

’’اور تساہل مت کرو اس کے لکھنے میں‘ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس کی معین مدت کے لیے۔‘‘

قرض خواہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس کی دستاویز تحریر ہونی چاہیے کہ میں اتنی رقم لے رہا ہوں اور اتنے وقت میں اسے لوٹا دوں گا۔ اس کے بعد قرض خواہ اس مدت کو بڑھا بھی سکتا ہے‘ مزیدمہلت دے سکتا ہے‘ بلکہ معاف بھی کر سکتا ہے۔ لیکن قرض دیتے وقت اس کی مدت معین ہونی چاہیے۔

ذٰلِکُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ

’’یہ اللہ کے نزدیک بھی زیادہ ‘مبنی بر انصاف ہے‘‘

وَ اَقۡوَمُ لِلشَّہَادَۃِ

’’اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے‘‘

معاملہ ضبط تحریر میں آ جائے گا تو بہت واضح رہے گا‘ ورنہ زبانی یادداشت کے اندر تو کہیں تعبیر ہی میں فرق ہو جاتا ہے۔

وَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا

’’اور یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ تم شبہ میں نہیں پڑو گے‘‘

اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمۡ

’’الا یہ کہ کوئی تجارتی لین دین ہو جو تم دست بدست کرتے ہو‘‘ مثلاً آپ کسی دکاندار سے کوئی شے خریدتے ہیں اور نقد پیسے ادا کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ اس کا کیش میمو بھی لیں۔ اگر آپ چاہیں تو دکاندار سے کیش میمو طلب کر سکتے ہیں۔

فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَکۡتُبُوۡہَا ؕ

’’تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اسے نہ لکھو۔‘‘

وَ اَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ ۪

’’اور گواہ بنا لیا کرو جب کوئی (مستقبل کا) سودا کرو۔‘‘

’’بیع سلم‘‘ جو ہوتی ہے یہ مستقبل کا سودا ہے‘ اور یہ بھی ایک طرح کا قرض ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی زمیندار سے طے کرتے ہیں کہ آئندہ فصل کے موقع پر آپ اس سے اتنے روپے فی من کے حساب سے پانچ سو من گندم خریدیں گے۔ یہ بیع سلم کہلاتی ہے اور اس میں لازم ہے کہ آپ پوری قیمت ابھی ادا کردیں اور آپ کو گندم فصل کے موقع پر ملے گی۔ اس طرح کا لین دین بھی باقاعدہ تحریر میں آجانا چاہیے اور اس پر دو گواہ مقرر ہونے چاہئیں۔

وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَہِیۡدٌ ۬ؕ

’’اورنہ نقصان پہنچایا جائے کسی لکھنے والے کو اور گواہ کو۔ اور نہ نقصان پہنچائے کوئی لکھنے والا اور گواہ۔‘‘

’’یُضَآرَّ‘‘ میں یہ دونوںمفہوم موجود ہیں۔ اس لیے کہ یہ معروف بھی ہے اور مجہول بھی۔

وَ اِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمۡ ؕ

’’اور اگر تم ایسا کرو گے (نقصان پہنچائو گے) تو یہ تمہارے حق میں گناہ کی بات ہو گی۔‘‘

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ

’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘

وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ؕ

’’اوراللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۲﴾

’’اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

یہ ایک آیت مکمل ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آخری پارے کی چار پانچ چھوٹی سورتیں جمع کر لیں تو ان کا حجم اس ایک آیت کے برابر ہو گا۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ آیات کی تعیین توقیفی ہے۔ اس کا ہمارے حساب کتاب سے ‘ گرامر سے‘ منطق سے اور علمِ بیان سے کوئی تعلق نہیں۔

آیت 283

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمۡ تَجِدُوۡا کَاتِبًا

’’اور اگر تم سفر پر ہو اورکوئی لکھنے والا نہ پائو‘‘

اگر دورانِ سفر کوئی لین دین کا یا قرض کا معاملہ ہو جائے اور کوئی کاتب نہ مل سکے ۔

فَرِہٰنٌ مَّقۡبُوۡضَۃٌ ؕ

’’تو کوئی شے گروی رکھ لو قبضے میں۔‘‘

قرض لینے والا اپنی کوئی شے قرض دینے والے کے حوالے کر دے کہ میری یہ شے آپ کے قبضے میں رہے گی‘ آپ اتنے پیسے مجھے دے دیجیے‘ میں جب یہ واپس کر دوں گا آپ میری چیز مجھے لوٹا دیجیے گا۔ یہ رہن بالقبضہ ہے۔ لیکن رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز سے کوئی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے‘ وہ سود ہو جائے گا۔ مثلاً اگر مکان رہن رکھا گیا ہے تو اس پر قبضہ تو قرض دینے والا کا ہو گا‘ لیکن وہ اس سے استفادہ نہیں کر سکتا‘ اس کا کرایہ نہیں لے سکتا‘ کرایہ مالک کو جائے گا۔

فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا

’’پھر اگر تم میںسے ایک دوسرے پر اعتماد کرے‘‘

یعنی ایک شخص دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے بغیر رہن کے اسے قرض دے دیتا ہے۔

فَلۡیُؤَدِّ الَّذِی اؤۡتُمِنَ اَمَانَتَہٗ

’’تو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے اُس کو چاہیے کہ وہ اس کی امانت واپس کرے‘‘

ایک شخص کے پاس رہن دینے کو کچھ نہیں تھا یا یہ کہ دوسرے بھائی نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے اُس سے کوئی شے رہن نہیں لی اور اس کو قرض دے دیا تو یہ مال جو اُس نے قرض لیا ہے یہ اس کے پاس قرض دینے والے کی امانت ہے‘ جس کا واپس لوٹانا اس کے ذمے فرض ہے۔

وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ؕ

’’اور اللہ سے ڈرے جو اس کا ربّ ہے۔‘‘

وَ لَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ

’’اور گواہی کو چھپایا نہ کرو۔‘‘

وَ مَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ ؕ

’’اور جو کوئی گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہو گا۔‘‘

بعض گناہوں کا اثر انسان کے ظاہری اعضاء تک محدود ہوتا ہے‘ جبکہ بعض کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ شہادت کا چھپانا بھی اسی نوعیت کا گناہ ہے۔ اور اگر کسی کا دل داغ دار ہو گیا تو باقی کیا رہ گیا؟

وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿٪۲۸۳﴾

’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے