یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ
’’اے اہلِ ایمان! جب بھی تم قرض کا کوئی معاملہ کرو ایک وقت معین تک کے لیے تو اس کو لکھ لیا کرو۔‘‘
آیت کے اس ٹکڑے سے دو حکم معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرض کا وقت معین ہونا چاہیے کہ یہ کب واپس ہو گا اور دوسرے یہ کہ اسے لکھ لیا جائے۔ فَاکْتُـبُوْہُ فعل امر ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتاہے۔
وَ لۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪
’’اور چاہیے کہ اس کو لکھے کوئی لکھنے والا تمہارے مابین عدل کے ساتھ۔‘‘
لکھنے والا کوئی ڈنڈی نہ مار جائے‘ اسے چاہیے کہ وہ صحیح صحیح لکھے۔
وَ لَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ
’’اور جو لکھنا جانتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے‘ جس طرح اللہ نے اس کو سکھایا ہے‘ پس چاہیے کہ وہ لکھ دے۔‘‘
یہ ہدایت تاکید کے ساتھ کی گئی‘ اس لیے کہ اس معاشرے میں پڑھے لکھے لوگ بہت کم ہوتے تھے۔ اب بھی مالی معاملات اور معاہدات بالعموم وثیقہ نویس تحریر کرتے ہیں۔
وَ لۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ
’’اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے‘‘
یعنی جس نے قرض لیا ہے وہ دستاویز لکھوائے کہ میں کیا ذمہ داری لے رہا ہوں‘ جس کامال ہے وہ نہ لکھوائے۔
وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ
’’اور وہ اللہ سے ڈرتا رہے اپنے ربّ سے‘‘
وَ لَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ
’’اور (لکھواتے ہوئے) اس میں سے کوئی شے کم نہ کر دے ۔‘‘
فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا
’’پھر اگر وہ شخص جس پر حق عائد ہوتا ہے ‘ ناسمجھ یا ضعیف ہو‘‘
اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ
’’یااس کے اندر اتنی صلاحیت نہ ہو کہ اِملا کرواسکے ‘‘
فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ
’’تو جو اُس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔‘‘
اگر قرض لینے والا ناسمجھ ہو‘ ضعیف ہو یا دستاویز نہ لکھوا سکتا ہو تو اُس کا کوئی ولی ‘ کوئی وکیل یا مختار (attorney) اُس کی طرف سے انصاف کے ساتھ دستاویز تحریر کرائے۔ یہاں ’’اِملال‘‘ اِملا کے معنی میں آیا ہے۔
وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ
’’اور اس پر گواہ بنالیاکرو اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو۔‘‘
فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ
’’پھراگر دو مرد دستیاب نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ہوں‘‘
مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ
’’یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں‘‘
جن کی گواہی ہر دو فریق کے نزدیک مقبول ہو اور ان پر دونوں کو اعتماد ہو۔ اگر مذکورہ صفات کے دو مرد دستیاب نہ ہو سکیں تو گواہی کے لیے ایک مرد اور دو عورتوں کا انتخاب کر لیا جائے۔ یعنی گواہوں میں ایک مرد کا ہونا لازم ہے‘ محض عورت کی گواہی نہیں چلے گی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہر قسم کے معاملات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یا یہ معاملہ صرف قرض اور مالی معاملات میں دستاویز تحریر کرتے وقت کا ہے‘ اس کی تفصیل فقہاء کے ہاں ملتی ہے۔
اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ
’’تاکہ ان میں سے کوئی ایک بھول جائے دوسری یاد کروا دے۔‘‘
یہاں عقلی سوال پیدا ہو گیا کہ کیا مرد نہیں بھول سکتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ واقعتا اللہ تعالیٰ نے عورت کے اندر نسیان کا مادّہ زیادہ رکھا ہے ۔ {اَلَا یَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿٪۱۴﴾} (الملک) ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ وہ بڑا باریک بین اور ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے‘‘۔ جس نے پیدا کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کس میں کون سا مادّہ زیادہ ہے۔ عورت میں نسیان کا مادّہ کیوں زیادہ رکھا گیا ہے ‘ یہ بھی سمجھ لیجیے۔ یہ بڑی عقلی اور منطقی بات ہے ۔ دراصل عورت کو مرد کے تابع رہنا ہوتا ہے‘ لہٰذا اُس کے احساسات کو کبھی ٹھیس پہنچ سکتی ہے‘ اُس کے جذبات کے اوپر کبھی کوئی کدورت آتی ہے۔ اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر بھول جانے کا مادہ ’’سیفٹی والو‘‘ کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ ورنہ تو ان کا معاملہ اس شعر کے مصداق ہو جائے ؎
یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا!
چنانچہ یہ نسیان بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے‘ ورنہ تو کوئی صدمہ دل سے اترنے ہی نہ پائے‘ کوئی غصہ کبھی ختم ہی نہ ہو۔ بہرحال خواہ کسی حکم کی علت یا حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے‘ اللہ کا حکم تو بہرصورت ماننا ہے۔
وَ لَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡا ؕ
’’اورنہ انکار کریں گواہ جبکہ ان کو بلایا جائے ۔‘‘
گواہوں کو جب گواہی کے لیے بلایا جائے تو آکر گواہی دیں‘ اس سے انکار نہ کریں۔ اسی سورۂ مبارکہ کی آیت ۱۴۰ میں ہم پڑھ آئے ہیں: {وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ } ’’اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک شہادت موجود ہو اور وہ اسے چھپائے؟‘‘
وَ لَا تَسۡـَٔمُوۡۤا اَنۡ تَکۡتُبُوۡہُ صَغِیۡرًا اَوۡ کَبِیۡرًا اِلٰۤی اَجَلِہٖ ؕ
’’اور تساہل مت کرو اس کے لکھنے میں‘ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس کی معین مدت کے لیے۔‘‘
قرض خواہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ اس کی دستاویز تحریر ہونی چاہیے کہ میں اتنی رقم لے رہا ہوں اور اتنے وقت میں اسے لوٹا دوں گا۔ اس کے بعد قرض خواہ اس مدت کو بڑھا بھی سکتا ہے‘ مزیدمہلت دے سکتا ہے‘ بلکہ معاف بھی کر سکتا ہے۔ لیکن قرض دیتے وقت اس کی مدت معین ہونی چاہیے۔
ذٰلِکُمۡ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِ
’’یہ اللہ کے نزدیک بھی زیادہ ‘مبنی بر انصاف ہے‘‘
وَ اَقۡوَمُ لِلشَّہَادَۃِ
’’اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے‘‘
معاملہ ضبط تحریر میں آ جائے گا تو بہت واضح رہے گا‘ ورنہ زبانی یادداشت کے اندر تو کہیں تعبیر ہی میں فرق ہو جاتا ہے۔
وَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَرۡتَابُوۡۤا
’’اور یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ تم شبہ میں نہیں پڑو گے‘‘
اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیۡرُوۡنَہَا بَیۡنَکُمۡ
’’الا یہ کہ کوئی تجارتی لین دین ہو جو تم دست بدست کرتے ہو‘‘ مثلاً آپ کسی دکاندار سے کوئی شے خریدتے ہیں اور نقد پیسے ادا کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ اس کا کیش میمو بھی لیں۔ اگر آپ چاہیں تو دکاندار سے کیش میمو طلب کر سکتے ہیں۔
فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَلَّا تَکۡتُبُوۡہَا ؕ
’’تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اسے نہ لکھو۔‘‘
وَ اَشۡہِدُوۡۤا اِذَا تَبَایَعۡتُمۡ ۪
’’اور گواہ بنا لیا کرو جب کوئی (مستقبل کا) سودا کرو۔‘‘
’’بیع سلم‘‘ جو ہوتی ہے یہ مستقبل کا سودا ہے‘ اور یہ بھی ایک طرح کا قرض ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی زمیندار سے طے کرتے ہیں کہ آئندہ فصل کے موقع پر آپ اس سے اتنے روپے فی من کے حساب سے پانچ سو من گندم خریدیں گے۔ یہ بیع سلم کہلاتی ہے اور اس میں لازم ہے کہ آپ پوری قیمت ابھی ادا کردیں اور آپ کو گندم فصل کے موقع پر ملے گی۔ اس طرح کا لین دین بھی باقاعدہ تحریر میں آجانا چاہیے اور اس پر دو گواہ مقرر ہونے چاہئیں۔
وَ لَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّ لَا شَہِیۡدٌ ۬ؕ
’’اورنہ نقصان پہنچایا جائے کسی لکھنے والے کو اور گواہ کو۔ اور نہ نقصان پہنچائے کوئی لکھنے والا اور گواہ۔‘‘
’’یُضَآرَّ‘‘ میں یہ دونوںمفہوم موجود ہیں۔ اس لیے کہ یہ معروف بھی ہے اور مجہول بھی۔
وَ اِنۡ تَفۡعَلُوۡا فَاِنَّہٗ فُسُوۡقٌۢ بِکُمۡ ؕ
’’اور اگر تم ایسا کرو گے (نقصان پہنچائو گے) تو یہ تمہارے حق میں گناہ کی بات ہو گی۔‘‘
وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ
’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘
وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ؕ
’’اوراللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے۔‘‘
وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۲۸۲﴾
’’اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
یہ ایک آیت مکمل ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آخری پارے کی چار پانچ چھوٹی سورتیں جمع کر لیں تو ان کا حجم اس ایک آیت کے برابر ہو گا۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ آیات کی تعیین توقیفی ہے۔ اس کا ہمارے حساب کتاب سے ‘ گرامر سے‘ منطق سے اور علمِ بیان سے کوئی تعلق نہیں۔
وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمۡ تَجِدُوۡا کَاتِبًا
’’اور اگر تم سفر پر ہو اورکوئی لکھنے والا نہ پائو‘‘
اگر دورانِ سفر کوئی لین دین کا یا قرض کا معاملہ ہو جائے اور کوئی کاتب نہ مل سکے ۔
فَرِہٰنٌ مَّقۡبُوۡضَۃٌ ؕ
’’تو کوئی شے گروی رکھ لو قبضے میں۔‘‘
قرض لینے والا اپنی کوئی شے قرض دینے والے کے حوالے کر دے کہ میری یہ شے آپ کے قبضے میں رہے گی‘ آپ اتنے پیسے مجھے دے دیجیے‘ میں جب یہ واپس کر دوں گا آپ میری چیز مجھے لوٹا دیجیے گا۔ یہ رہن بالقبضہ ہے۔ لیکن رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز سے کوئی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے‘ وہ سود ہو جائے گا۔ مثلاً اگر مکان رہن رکھا گیا ہے تو اس پر قبضہ تو قرض دینے والا کا ہو گا‘ لیکن وہ اس سے استفادہ نہیں کر سکتا‘ اس کا کرایہ نہیں لے سکتا‘ کرایہ مالک کو جائے گا۔
فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا
’’پھر اگر تم میںسے ایک دوسرے پر اعتماد کرے‘‘
یعنی ایک شخص دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے بغیر رہن کے اسے قرض دے دیتا ہے۔
فَلۡیُؤَدِّ الَّذِی اؤۡتُمِنَ اَمَانَتَہٗ
’’تو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے اُس کو چاہیے کہ وہ اس کی امانت واپس کرے‘‘
ایک شخص کے پاس رہن دینے کو کچھ نہیں تھا یا یہ کہ دوسرے بھائی نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے اُس سے کوئی شے رہن نہیں لی اور اس کو قرض دے دیا تو یہ مال جو اُس نے قرض لیا ہے یہ اس کے پاس قرض دینے والے کی امانت ہے‘ جس کا واپس لوٹانا اس کے ذمے فرض ہے۔
وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ؕ
’’اور اللہ سے ڈرے جو اس کا ربّ ہے۔‘‘
وَ لَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ
’’اور گواہی کو چھپایا نہ کرو۔‘‘
وَ مَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ ؕ
’’اور جو کوئی گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہو گا۔‘‘
بعض گناہوں کا اثر انسان کے ظاہری اعضاء تک محدود ہوتا ہے‘ جبکہ بعض کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ شہادت کا چھپانا بھی اسی نوعیت کا گناہ ہے۔ اور اگر کسی کا دل داغ دار ہو گیا تو باقی کیا رہ گیا؟
وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ ﴿٪۲۸۳﴾
’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘